Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • وفاقی کابینہ نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ کا فوری اجلاس طلب کیا گیا جس میں 26 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی گئی-

    باغی ٹی وی: وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم چیمبر میں ہوا ،وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا وفاقی کابینہ نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں وزیراعظم کے چیمبر میں ہوا اجلاس میں وفاقی وزرا نے شرکت کی کابینہ اجلاس کے دوران 26 ویں آئینی ترمیم پیش کی گئی کابینہ نے آئینی ترمیم کی منظوری دے دی، وزیراعظم شہباز شریف اور اٹارنی جنرل منصور عثمان، اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ اور محسن نقوی بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھے۔

    کابینہ سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم آج قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کی جائے گی دونوں ایوانوں سے آئینی ترمیم کی منظوری کا امکان ہے مولانا فضل الرحمان بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے تو وہیں اپوزیشن کے اراکین بھی ووٹ دیں گے بیرسٹر گوہر بھی تصدیق کر چکے کہ دو اراکین ہمارے سینیٹر ووٹ دیں گے-

    دوسری جانب سینیٹ کا اجلاس آج بارہ بجے تک لیے ملتوی کیا گیا ہے جب کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے،سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے اجلاس کے دوران اپوزیشن کے 2 ارکان بھی ایوان میں پہنچے۔ جن میں ایم ڈبلیو ایم کے سینیٹر راجہ ناصر عباس اور نیشنل پارٹی کے جان بولیدی شامل ہیں۔

    اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہونے کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی نے وقفہ سوالات موخر کرنے کی قرارداد پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا گیا جبکہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلامی بینکنگ کی سپورٹ کے لیے لیگل فریم ورک کو زیادہ مستحکم بنایا گیا ہے۔ اور اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری رول کو مستحکم کیا گیا۔ 2008 میں عالمی معاشی بحران میں کئی کمپنیاں ڈوب گئیں خدانخواستہ کوئی فنانشل ادارہ مشکل میں جاتا ہے تو اس حوالے سے اصلاحات کی گئی ہیں۔ اور بنکنگ محتسب کے پاس شکایات کے لیے آسانی پیدا کی گئی ہے۔

  • فوجی اپنی جنگی صلاحیت میں اضافہ کریں جو پارٹی اور عوام کے مفاد میں ہے،چینی صدر

    فوجی اپنی جنگی صلاحیت میں اضافہ کریں جو پارٹی اور عوام کے مفاد میں ہے،چینی صدر

    بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید جنگی صورت حال اور طریقہ کار میں تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے نئے سازوسامان، نئی مہارتوں اور نئی حکمت عملی سے متعلق تربیت کو مضبوط بنایا جائے۔

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطا بق صدر شی جن پنگ نے چین کی راکٹ فورس کے ایک بریگیڈ کے معائنہ کے دوران ہتھیاروں اور سازوسامان کی تکنیکی اور ٹیکٹیکل کارکردگی پر بریفنگ کی سماعت کی اور افسران اور فوجیوں کے آپریشنل اور تربیتی امور کا جائزہ لیا اور گفتگو کے دوران فوجیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی جنگی صلاحیت میں اضافہ کریں جو پارٹی اور عوام کے مفاد میں ہے۔

    انہوں نے بریگیڈ کی ورک رپورٹ کی سماعت کی اور اہم خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فوجی تربیت، جنگی تیاری اور فوجیوں کی جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور ملک کی اسٹریٹجک سلامتی اور مرکزی مفادات کا بھرپور تحفظ کرنا اہم ہےضرورت اس بات کی ہے کہ جدید جنگی صورت حال اور طریقہ کار میں تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے نئے سازوسامان، نئی مہارتوں اور نئی حکمت عملی سے متعلق تربیت کو مضبوط بنایا جائے فوجیوں کی جنگی صلاحیت مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ درکار معاون سہولیات کی تعمیر کو مضبوط بنانا اور حقیقی جنگی صلاحیت کے لیے ایک نظام وضع کرنا ضروری ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ دے دیا گیا

  • کل تک کا انتظار ، جو صورتحال سامنے آئے گی قوم کو آگاہ کریں گے، مولانا فضل الرحمان

    کل تک کا انتظار ، جو صورتحال سامنے آئے گی قوم کو آگاہ کریں گے، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیا، ان سے مشاورت جاری رہی-

    باغی ٹی وی : جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی،اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ پی پی اور جے یو آئی نے آئینی ترمیم پراتفاق رائے حاصل کیا تھا، لاہور میں ن لیگ کی قیادت کے ساتھ اس پر مزید مشاورت ہوئی اور ہم نے جن نکات پر اعتراض کیا حکومت اس سےدستبردار ہونے پر راضی ہوئی، ‏ہمارے اور پیپلز پارٹی کے درمیان بل کےحوالے کوئی بڑا تنازعہ باقی نہیں رہا

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیا، ان سے مشاورت جاری رہی، پی ٹی آئی کی قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی تائید سے منظوری کو مشروط کیا، مجھ تک بانی پی ٹی آئی کے مثبت رویے کا پیغام پہنچایا گیا، پی ٹی آئی کو اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ اپنے سینئر پارلیمنٹیرین اور اعلیٰ ذمہ داران سے مشاورت کریں،

    انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے ابتدائی مسودے کو ہم نے مسترد کردیا تھا،جتنے حصوں پر ہم نے اعتراض کیا حکومت اُن تمام حصوں سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہوئی تو اتفاق رائے ہوسکا۔ اس وقت ہمارے درمیان کوئی بڑا متنازع نقطہ موجود نہیں ، اکثر اختلافی معاملات حل ہوچکے ہیں۔

    سینیٹ اجلاس اتوار ساڑھے بارہ بجے، قومی اسمبلی اجلاس اتوار 11 بجے تک ملتوی

    انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم نے مسلسل ایک ماہ سے زائد پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیا اور مشاورت جاری رہی، حکومت کے ساتھ مذاکرات سے بھی انہیں آگاہ رکھا۔ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ ہماری طرف سے مکمل ہوا، جس کے بعد آخری ڈرافٹ تیار کیا تو پی ٹی آئی کی اسلام آباد میں موجود قیادت نے عمران خان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تاکہ اتفاق رائے پر اُن کی تائید حاصل ہوسکے، آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت سے اب زیادہ شکوے نہیں ہیں پارلیمنٹ کے اجلاسوں کا تعین ہوجائے گا تو پھر ہم اُس میں اتفاق رائے سے یہ بل پیش کریں گے اور اس معاملے پر پیشرفت سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ دے دیا گیا

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کی ٹیم نے ملکر جو کام کیے وہ آپ کے سامنے ہیں، آئینی اصلاحات کا جو معاہدہ ہے اُس کی تمام جماعتوں نے تائید کی ہے، مولانا فضل الرحمان نے تمام جماعتوں کو صبح تک کا وقت دیا ہے، مجھے یقین ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مثبت انداز میں جواب دیں گی کیونکہ اُن کی تمام شکایات کو آئینی ترمیم سے دور کرلیا گیا ہے، مجھے یقین ہے کہ مولانا انہیں قائل کرلیں گے، جیسے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوگا اُس میں میری خواہش ہے کہ وہ بل جے یو آئی پیش کرے، حکومت کی اتحادی اور اپوزیشن جماعتیں بل کی حمایت کریں، جیسے ہم نے اٹھارویں ترمیم کثرت رائے سے منظور کروائی ویسے ہی خواہش ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم بھی منظور کروائی جائے۔

    وینا ملک کی انسٹا گرام بائیو تبدیل، خود کو شہریا ر کی بندی قرار دے …

  • ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی : حکومت نے آئندہ ہفتے 18 آئی پی پیز  کو طلب کرلیا

    ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی : حکومت نے آئندہ ہفتے 18 آئی پی پیز کو طلب کرلیا

    اسلام آباد: حکومت پاور جنریشن پالیسیز 1994 اور 2002 کے تحت قائم 18 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی-

    باغی ٹی وی: بزنس ریکارڈر نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ توقع ہے حکومت پاور جنریشن پالیسیز 1994 اور 2002 کے تحت قائم 18 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ”ٹیک یا پے“ سے ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں تبدیل کرنے کا آپشن پیش کیا جاسکے۔

    بزنس ریکارڈر کے مطابق حکومت نے پانچ آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) ختم کرکے 411 ارب روپے کی بچت کا دعویٰ کیا ہے کابینہ نے 10 اکتوبر 2024 کو پی پی اے کے خاتمے اور حتمی تصفیے کے معاہدے کی منظوری دی تھی لیکن حتمی دستاویزات پر ابھی تک دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

    وہ آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) جنہیں ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں تبدیل کیا جانا ہے، وہ ممکنہ مالیاتی اثرات سے متعلق اپنی اندرونی تیاری مکمل کر چکے ہیں اور اس پوزیشن کو حتمی شکل دے رہے ہیں جو وہ وزیر برائے توانائی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اختیار کریں گے۔ لیکن حقیقت میں کچھ دیگر کلیدی افراد معاملات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

    کچھ آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) کی میعاد، جنہیں ’باہمی اور باعزت مشاورت‘ کے بعد ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں منتقل کرنے کا ہدف ہے، 15 سال سے زیادہ باقی ہے۔

    بزنس ریکارڈر کے مطابق مختلف پلانٹس کے ساتھ مذاکرات کے مالی اثرات 3 سے 3.50 روپے فی یونٹ ہوں گے، ری پروفائلنگ کا اثر 3.75 روپے فی یونٹ ہوگا، الیکٹریسٹی ڈیوٹی سے چھوٹ یعنی صوبائی لیوی 0.65 روپے فی یونٹ، پی ٹی وی فری 0.16 روپے فی یونٹ اور سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں کمی سے ٹیرف میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ قلیل مدتی ریلیف ملے گا۔

    وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے مطابق ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) میں کمی اور حکومت کے اپنے پاور پلانٹس کے منافع میں کمی کا اثر ڈیڑھ روپے فی یونٹ تک ہوگا۔

    2002ء کی پالیسی کے تحت قائم آئی پی پیز اور ان کے پی پی اے کی میعاد ختم ہونے کی تاریخوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

    (1) اینگرو پاورجن 215.516 میگاواٹ، بقیہ مدت 10.6 سال

    (2) فاؤنڈیشن پاور کمپنی ڈہرکی لمیٹڈ، 173.772 میگاواٹ، بقیہ مدت 11.8 سال

    (3) اوچ ٹو پاور (پرائیوٹ) لمیٹڈ 359.34 میگاواٹ، بقیہ مدت 14.7 سال

    (4) ہالمور پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ 200.021 میگاواٹ، بقیہ مدت 17.6 سال

    (5) اورینٹ پاور کمپنی (پرائیویٹ لمیٹڈ) 208.453 میگاواٹ، بقیہ مدت 16.4 سال

    (6) سیف پاور لمیٹڈ، 204.369 میگاواٹ، بقیہ مدت 15.8 سال

    (7) سفیر الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ، 206.48 میگاواٹ، بقیہ مدت 16.3 سال

    (8) لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ 196. 139 میگاواٹ، باقی 9.6 میگاواٹ سال

    (9) حبکو نارووال انرجی لمیٹڈ 213.82 میگاواٹ، بقیہ مدت 11.9 میگاواٹ

    (10) اٹک جین لمیٹڈ 156.181 میگاواٹ، بقیہ مدت 9.6 سال

    (11) نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، 196.722 میگاواٹ، بقیہ مدت، 11.2 سال

    (12) نشاط پاور لمیٹڈ 195.305 میگاواٹ، 11 سال

    (13) نیو بونگ لاریب ہائیڈرو 84 میگاواٹ ریمنگ ٹرم 14 سال

    (14) اوچ ٹو پاور 404 میگاواٹ، بقیہ مدت 6 سال

    (15) فوجی کبیر والا 170 میگاواٹ، باقی 6 سال

    (16) کوہ نور انرجی، 124 میگاواٹ، بقیہ مدت 3 سال

    (17) پاکجن پاور 365 میگاواٹ، بقیہ مدت 4 سال

    (18) اور لبرٹی ڈہرکی پاور 235 میگاواٹ، بقیہ مدت 2 سال ہے

    پاور جنریشن پالیسی 2002 کے تحت قائم ہونے والے آئی پی پیز کے معاہدوں پر ڈیڑھ روپے فی یونٹ کا اثر پڑے گا۔

    10 اکتوبر 2024 کو وزیر اعظم شہباز شریف نے پانچ آئی پی پیز معاہدوں کو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پوری حکومتی ٹیم کی سخت اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہےانہوں نے اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں کی حمایت کو بھی تسلیم کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ذکر کیا جنہوں نے اس پورے معاملے میں ذاتی دلچسپی لی، وزیر اعظم نے ترقی کو ایک سفر کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی عوام کی ترقی اور خوشحالی میں تبدیل ہوگی۔

  • وینا ملک کی انسٹا گرام بائیو تبدیل، خود کو شہریا ر کی بندی قرار دے دیا

    وینا ملک کی انسٹا گرام بائیو تبدیل، خود کو شہریا ر کی بندی قرار دے دیا

    اسلام آباد: معروف پاکستانی اداکارہ و میزبان وینا ملک نے سوشل میڈیا پر خود کو شہریا ر کی بندی قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام پر بائیو میں وینا ملک نےنام تبدیل کرتے ہوئے شہریار کی بندی لکھا ، وینا ملک کی جانب سے خود کو شہریار کی بندی قرار دیئے جانے کے بعد اداکارہ کی دوسری شادی کی چہ میگوئیاں زور پکڑ گئیں، چند ہفتوں سےسوشل میڈیا پر افواہیں زیر گردش ہیں کہ وینا ملک جلد دوسری شادی کرنے جارہی ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں نے اپنے مسٹری مین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وینا ملک کا کہنا تھا کہ شہریار چودھری میرے نئے جیون ساتھی ہیں جن کے بارے میں مداحوں کو شادی والے دن معلوم ہو جائے گا، شہریار کا تعلق بھی میری طرح اسلام آباد سے ہی ہے، ہماری چند ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان ملاقاتوں میں شہریار چودھری کو خوبصورت انسان پایا، شہریار کا گاڑیوں اور پراپرٹیز کا کاروبار ہے وہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور حافظ قرآن بھی ہیں۔

  • شوٹنگ مقابلہ،وفاقی وزیرنے دوسری پوزیشن حاصل کرلی

    شوٹنگ مقابلہ،وفاقی وزیرنے دوسری پوزیشن حاصل کرلی

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں پولیس کے زیر اہتمام ٹیکٹیکل پسٹل شوٹنگ 2024 کے مقابلے میں وفاقی وزیر تجارت نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔

    باغی ٹی وی : وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد پولیس کے زیر اہتمام ٹیکٹیکل پسٹل شوٹنگ مقابلہ 2024 میں 47 پیشہ ور شوٹرز نے حصہ لیا،ٹیکٹیکل پسٹل شوٹنگ 2024 کے مقابلے میں نعمان علی نے پہلی پوزیشن اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے دوسری پوزیشن حاصل کر لی، تیسری پوزیشن خرم عدیل کے نام رہی،ایس ایم جی کیٹیگری میں پہلی پوزیشن عرفان جان، دوسری خوشاب خان اور تیسری زاہد اقبال کے نام رہی۔

    بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر جام کمال خان نے شوٹنگ مقابلے میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور مقابلے میں حصہ لے کر دوسری پوزیشن بھی اپنے نام کی جہاں ڈی آئی جی پولیس عنایت علی نے پوزیشن حاصل کرنے والوں میں ٹرافیاں اور میڈلز تقسیم کیے،تقریب میں وفاقی وزیرجام کمال خان کے بیٹے جام محمد خان نے اپنے والد کی طرف سے ایوارڈ وصول کیا۔

    مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ دے دیا گیا

    کینیڈا کا مزید بھارتی سفارتکاروں کو بھی نکل جانے کا نوٹس

    ایف آئی اے نے زائد المعیاد اورممنوعہ ادویات کا بڑا ذخیرہ تحویل میں لے لیا

  • سینیٹ اجلاس  اتوار ساڑھے بارہ بجے، قومی اسمبلی اجلاس اتوار 11 بجے تک ملتوی

    سینیٹ اجلاس اتوار ساڑھے بارہ بجے، قومی اسمبلی اجلاس اتوار 11 بجے تک ملتوی

    اسلام آباد: سینیٹ کا چار مرتبہ ملتوی ہونے والا اجلاس رات کو 8 بجے شروع ہونا تھا –

    باغی ٹی وی : مقررہ وقت پر عملے نے اجلاس کے پیش نظر گھنٹیاں بجائیں تاہم ڈیڑھ گھنٹے میں صرف 9 سینیٹر ایوان پہنچ سکے جبکہ اس دوران چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین بھی چیمبر سے غائب رہے،مسلم لیگ ن کے سینیٹر مصدق ملک 8 منٹ تاخیر سے پہنچے دوسرے دروازے سے نکل گئے جبکہ پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان بھی ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے سے واپس روانہ ہوگئیں۔

    اس کے بعد ن لیگ کے سینیٹر ساجد میر پہنچے اور وہ بھی دوسرے دروازے سے روانہ ہوگئے بعد ازاں 20 منٹ کی تاخیر کے بعد پیپلز پارٹی کی پلوشہ رحمان، شہادت اعوان، ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب ایوان میں پہنچیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک گھنٹہ تاخیر کے بعد ایوان میں پہنچے۔

    بعد ازاں سینیٹ اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہواجس میں صرف 37 اراکین شریک ہوئے جو اجلاس کے دوران بڑھ کر 51 ہو گئی۔ جس میں سے پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی ارکان کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ چیئرمین سینیٹ کی فائل بھی ایوان میں پہنچا دی گئی۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ارکان ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے 2 ارکان بھی ایوان میں پہنچے۔ جن میں ایم ڈبلیو ایم کے سینیٹر راجہ ناصر عباس اور نیشنل پارٹی کے جان بولیدی شامل ہیں۔

    اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہونے کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی نے وقفہ سوالات موخر کرنے کی قرارداد پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا گیا جبکہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلامی بینکنگ کی سپورٹ کے لیے لیگل فریم ورک کو زیادہ مستحکم بنایا گیا ہے۔ اور اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری رول کو مستحکم کیا گیا۔ 2008 میں عالمی معاشی بحران میں کئی کمپنیاں ڈوب گئیں خدانخواستہ کوئی فنانشل ادارہ مشکل میں جاتا ہے تو اس حوالے سے اصلاحات کی گئی ہیں۔ اور بنکنگ محتسب کے پاس شکایات کے لیے آسانی پیدا کی گئی ہے۔

    بعد ازاں بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ 6 لاکھ سالانہ انکم پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اور یہ واحد ملک ہے جس میں نان فائلر کی اختراع ہے لیکن نان فائلرز کی اختراع ختم کرنا ہو گی نان فائلر سے متعلق قانون سازی لانے والے ہیں۔ جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں ٹیکس نہ دیں تو ووٹ نہیں دے سکتے۔ اب مجھ سے بھی ذرائع آمدن اور کاروبار کے اضافی سوال ہوں گےسیاسی لوگوں کو بینکنگ کی کسی سہولت سے انکار نہیں ہونا چاہیئے۔ میں خود بھی ایک سیاسی آدمی ہوں اور بینکوں کو سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی کاروبار کرنا چاہیئے۔

    سینیٹر دنیش کمار نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے بات کرنے کی اجازت مانگی،دنیش کمار کو اجازت ملی تو انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ آج 6دن ہوچکے ہیں ہم مسلسل آرہے ہیں،آج ترامیم پیش کی جائیں، انہوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی کہ فون آرہے ہیں کہ کیا بناترامیم کا،اب ہمارا نام ترامیم والے سینیٹرز رکھ دیا گیا ہے،جواب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا اس کو دیکھیں گے اگر آپ عوامی مفاد میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں۔

    دوسری جانب رات گئے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا جو بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دیا گیا۔

  • مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ دے دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ دے دیا گیا

    اسلام آباد :جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ دے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے آئینی ترامیم پر مشاورت کی کوششیں جاری ہیں اور مولانا فضل الرحمان سے آئینی ترامیم پر حتمی مشاورت ہوگی بلاول بھٹو 24 گھنٹوں میں چوتھی بار مولانا کے گھر پہنچ گئے، اس کے علاوہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، محسن نقوی اور اعظم نذیر تارڑ بھی ان کے گھر موجود ہیں۔

    ذرائع نے بتایاکہ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پرموجود حکومتی قانونی ٹیم سے رابطہ کیا اور اہم سیاسی امور پر مشاورت کی وزیراعظم نے آئینی ترامیم پر معاملات پر پیشرفت کا جائزہ لیا جبکہ حکومتی قانونی ٹیم نےمولانا فضل الرحمان سےبات چیت سےمتعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس تاحال شروع نہ ہوسکے۔ سینیٹ کا اجلاس رات 8بجے اور قومی اسمبلی کا اجلاس رات ساڑھے نو بجے طلب کیا گیا تھاسینیٹ کا اجلاس شروع ہونے میں دو گھنٹے اور قومی اسمبلی کا اجلاس بھی شروع ہونے میں ایک گھنٹے کی تاخیر ہے۔

    واضح رہے کہ آئینی ترمیم کے معاملے میں سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے،جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا گھرسیاسی رابطوں اور سرگرمیوں کامرکز بن گیا۔ سیاسی صورتحال سمیت مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تبادلہ خیال کا سلسلہ گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد سے پہلے پیپلز پارٹی کے وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور مشاورت کی بعدازاں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچے جہاں ان کی ملاقات بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کےسربراہ اختر مینگل سے بھی ہوئی۔

    بلاول بھٹو کے ہمراہ نوید قمر، مرتضیٰ وہاب اور شیری رحمان تھیں جبکہ پی ٹی آئی وفد میں بیرسٹرگوہر،سلیمان اکرم راجہ اوراسد قیصر سمیت دیگر شامل تھے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا بھی وفد کے ہمراہ تھے، اس سے قبل شہباز شریف بغیر پروٹوکول کے مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے تھے لیکن مذاکرات ناکام ہوئے اور اس کے بعد مولانا کا سخت ردعمل بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا تو مشاورت کا عمل روک دیں گے۔

  • کینیڈا کا مزید بھارتی سفارتکاروں کو بھی نکل جانے کا نوٹس

    کینیڈا کا مزید بھارتی سفارتکاروں کو بھی نکل جانے کا نوٹس

    ٹورنٹو: کینیڈین وزیرِخارجہ میلینی جولی نے کہا کہ بھارت کے 6 سفارت کاروں کو نکالا جاچکا ہے اور جو رہ گئے ہیں وہ نوٹس پر ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈین وزیرِخارجہ میلینی جولی نے کہا کہ بھارت کے 6 سفارت کاروں کو نکالا جاچکا ہے اور جو رہ گئے ہیں وہ نوٹس پر ہیں۔

    میلینی جولی نے کہا کہ جو کچھ بھی کینیڈا کر رہا ہے وہ جنیوا کنونش کے مطابق ہے یعنی سلامتی کے معاملے میں کسی نوع کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا جن بھارتی سفارت کاروں کو نوٹس پر رکھا گیا ہے ان کا تعلق ٹورنٹو اور وینکوور سے ہے نیوا کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب کوئی بھی سفارت کار کینیڈا کی سرزمین پر برداشت نہیں کیا جائے گا، جس کے باعث مقامی سطح پر لوگوں کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہو۔

    آئینی ترمیم حکومت کا بل ، ایوان میں لائے گی تو پھر دیکھیں گے،یوسف …

    واضح رہے کہ گزشتہ برس برٹش کولمبیا میں سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی سفارت کاروں اور دیگر افراد کے ملوث ہونے کا معاملہ وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے ستمبر میں کینیڈا کی پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا۔ بھارت نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

    تاہم تین دن قبل بھارت اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات کو اچانک بڑا دھچکا اس وقت لگا تھا جب کینیڈا کے تفتیش کاروں نے گزشتہ برس کینیڈین صوبے برٹش کولمبیا میں خالصتان نواز سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے حوالے سے 6 بھارتی سفارت کاروں کو پرسنز آف انٹریسٹ قرار دیتے ہوئے اُن سے تفتیش کا عندیہ دیا تھا ان میں بھارتی ہائی کمشنر سنجے کمار ورما بھی شامل تھے۔

    26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے جارہی ہے،اگرآجائیں گے توعزت بچ جائے گی،فیصل واوڈا

    بھارت نے کینیڈین حکومت کے اقدام پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ہائی کمشنر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا اس پر کینیڈین حکومت نے سنجے کمار ورما کو نکل جانے کا حکم دیا اس کے بعد بھارت نے بھی چند کینیڈین سفارت کاروں کو نکل جانے کا حکم دیا تب سے اب تک دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

  • ہمارے دو سینیٹرز حکومتی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    ہمارے دو سینیٹرز حکومتی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہمارے دو سینیٹرز ان کی طرف ہیں جن کی ہم مذمت کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : آئینی ترمیم کے معاملے میں سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے،26 ویں آئینی ترامیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے مشاورت کا عمل تیز ہوگیا ہے،پی ٹی آئی کا وفد مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچا جہاں انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا پیغام مولانا تک پہنچایا-

    بعد ازاں چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈرافٹ ہمارے پاس آیا ہے اس پر اتفاق رائے نہیں ہوا، مولانا صاحب کے ساتھ ہمارا بڑا اچھا وقت گزرا ہے، بانی چیئرمین نے مولانا کے کردار کو سراہا ہے، مولانا نے ہمارے ساتھ میٹنگز کی ہیں اور یہی جمہوری عمل ہوتا ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی سرزنش والی بات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی بانی چیئرمین کے غصے کی بات کی غلط کی، بانی چیئرمین نے ایک لفظ نہیں کہا سب جھوٹ ہے، بانی چیئرمین نے کوئی احتجاج کی کال نہیں دی، بانی کبھی بھی اپنی ذات کا ذکر نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں عوام کی توجہ ہٹ جائے گی۔

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پریس کلب پریحییٰ السنوار کی غائبانہ نمازجنازہ ادا

    بیرسٹر گوہر نے انکشاف کیا کہ ہمارے دو سینیٹرز ان کی طرف ہیں جن کی ہم مذمت کرتے ہیں، اگر لوگوں کو ایسے اٹھانا ہے تو یہ جمہوریت نہیں ہے، ایسے لوگوں کو اٹھانا ہے تو وزیراعظم کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہمارے پارلیمانی نمائندے پارلیمان میں آئیں گے، توقع کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوں گے،ہمارے دو سینیٹرز حکومت کے حق میں ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں، ڈاکٹر زرقا تیمور اور فیصل رحمان حکومتی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا گھرسیاسی رابطوں اور سرگرمیوں کامرکز بن گیا سیاسی صورتحال سمیت مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تبادلہ خیال کا سلسلہ گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔

    صدرمملکت کی فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد متوقع