Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • عثمان قادر  کا پاکستان کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    عثمان قادر کا پاکستان کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    لاہور: لیگ اسپنرعثمان قادر نے پاکستان کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا، ٹیم سے مسلسل نظرانداز ہونے پر عثمان دل برداشتہ تھے۔

    باغی ٹی وی : ٹی20 اور ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے لیگ اسپنر عثمان قادر نے پاکستان کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کردیا،پاکستانی لیگ اسپنر عبدالقادر کے بیٹے عثمان قادر نے پاکستان کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان ایکس پر اپنی ایک پوسٹ کے ذریعہ کیا، جس میں انہوں نے ایک نوٹ شیئر کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب میں اپنے اس ناقابل یقین سفر پر غور کرتا ہوں تو میں دلی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ایک بہت بڑا اعزاز رہا ہے اور میں اپنے کوچز اور ساتھی ساتھیوں کی حمایت کا شکر گزار ہوں جو ہر قدم پر میرے ساتھ رہے ہیں،ناقابل فراموش فتوحات سے لے کر چیلنجوں تک، جن کا انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سامنا کیا، ہر لمحے نے ان کے کیریئر کو تشکیل دیا اور ان کی زندگی کو تقویت بخشی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے ان پرجوش مداحوں کی قدر کرتا ہوں جو ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں، آپ کی غیر متزلزل حمایت کا مطلب دنیا ہے، اس نئے باب میں قدم رکھتے ہوئے کرکٹ سے اپنی محبت اور اپنے والد کے سکھائے ہوئے سبق دونوں کو عزیز تر جانوں گا اور والد کی میراث کو جاری رکھوں گا۔‘

    عثمان قادر نے اپنے ساتھی کرکٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اپنے ساتھ پاکستانی کرکٹ کا جوش و جذبہ اور مشترکہ خوبصورت یادیں لے کر جائیں گے۔ ’ہر چیز کے لیے آپ کا شکریہ، تشکر کے ساتھ، عثمان قادر۔‘

    واضح رہے کہ 31 سالہ عثمان قادر نے 26 انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی، جس میں ایک ون ڈے اور 25 ٹی ٹوئنٹی میچز شامل ہیں اپنے ٹی 20 کرکٹ کریئر میں 31 وکٹیں حاصل کیں ، عثمان قادر ڈومیسٹک کرکٹ میں پشاور زلمی کی جانب سے کھیلتے رہے ہیں-

  • آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے

    آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی گزشتہ روز کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : حکم نامے میں کہا گیا کہ نظرثانی کی درخواست 3 روز زائد المیعاد ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک نے زائد المیعاد ہونے کی مخالفت نہیں کی جبکہ علی ظفر کی جانب سے نظرثانی درخواست زائد المیعاد ہونے پر اس کی مخالفت کی گئی،یہ واضح ہے کہ فیصلے کی وجوہات کے بغیر نظرثانی نہیں مانگی جا سکتی کیونکہ تفصیلی فیصلہ جاری ہونے پر ہی غلطی کی وجوہات سامنے آسکتی ہیں لیکن 63 اے کی نظرثانی تین ماہ اور 21 دن تفصیلی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے دائر کی گئی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو متعدد متفرق درخواستوں پر دلائل کی اجازت دی گئی، علی ظفر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مانگی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ملاقات کے لیے عدالتی ہدایات جاری کی گئیں۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 19 مارچ کو سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے، عدالتی آرڈر کے بعد صدر عارف علوی نے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا، صدارتی ریفرنس اور 184 کی درخواستیں یکجا کر کے سنی گئیں، سابق چیف جسٹس نے 24 مارچ کو سماعت کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا، 14 اپریل کو بانی پی ٹی آئی نے بابر اعوان کے ذریعے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی، بابر اعوان نے نشاندہی نہیں کی کہ 11 سال سے زیر التواء بھٹو ریفرنس پر پہلے سماعت کی جائے، ڈاکٹر بابر اعوان بھٹو ریفرنس کیس میں بھی وکیل تھے۔

    سپریم کورٹ کے حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ صدر وفاق کے اتحاد کی علامت اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، آئین یا قانون میں صدارتی ریفرنس میں تمام شہریوں کو نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ، عمران خان کے وکیل کے اعتراضات قابل جواز نہیں، نظرثانی درخواست آؤٹ آف ٹرن مقرر ہونے کا جواز درست نہیں، اس لیے مسترد کیا جاتا ہے، بینچ کی تشکیل پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے اعتراض اٹھایا، چیف جسٹس نے اپنے جوابی خط میں بینچ تشکیل سے متعلق وضاحت کی حالانکہ چیف جسٹس قانونی طور پر وضاحت دینے کے پابند نہیں، جسٹس منیب اختر نے بینچ میں شامل ہونے پر اپنی عدم دستیابی سے آگاہ کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے بھی بینچ میں شامل ہونے سے انکار کیا، جسٹس منصور کے انکار کے بعد جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ میں شامل کیا گیا ، بینچ کی دوبارہ تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجز قانون کے مطابق ہے، سپریم کورٹ، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی یا چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، یہ اعتراض بھی مسترد کیا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے صدارتی آرڈیننس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا، چیلنج کرنے کے ساتھ علی ظفر نے آرڈیننس کے تحت عدالتی کاروائی کی ریکارڈنگ اور ٹراسکرپٹ تیار کرنے کا بھی کہا۔

  • چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی،درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی،درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف درخواست گزار اکرم باری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار اکرم باری اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

    وکیل درخواست گزار نے دلائل میں کہا کہ سکندر سلطان راجہ جب تعینات ہوئے تب حاضر سروس بیوروکریٹ تھے اور سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق سینیئر سول سرونٹ کو تعینات نہیں کیا جا سکتا، گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسران کو تعینات کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کا موجودہ یا سابق جج بھی تعینات ہو سکتا تھا، پھر ترمیم کر دی گئی، 2016 میں ترمیم ہوئی اور اس کے بعد ریٹائرڈ افسر تعینات ہوا، وہ اس لیے کہ ریٹائرڈ افسر کسی کے ماتحت نہیں ہوتا، چیف الیکشن کمشنر حاضر سروس ملازم ہیں۔

    عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری …

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس میں کچھ لگایا آپ نے کیا، آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ ایسا ہی ہوا؟ جس پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ یہ ان کی ویب سائٹ پر ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ مجھے مطمئن کریں اور کچھ ثابت کریں، سیٹی کی آواز آئے گی تو میں آگے بھی اطلاع دوں گا نا، جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مجھے وقت دے دیں، میں بریف کر دوں گا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل بغیر نوٹس روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میرے پاس چیف الیکشن کمشنر بننے سے قبل ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن ہے، جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بلایا ہی نہیں اور نہ نوٹس ہوئے ابھی، لگتا ہے آپ کو بہت جلدی ہے۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ 24 جنوری 2020 کو چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا جبکہ وہ نومبر 2019 ریٹائرڈ ہو چکے تھے، جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھ لیں وہ تو ریٹائرڈ ہو چکے تھے، اوکے شکریہ، اس کو دیکھ لیتے ہیں۔

    بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آرٹیکل 63 اے تشریح نظرِ ثانی کیس کی عدالتی کارروئی سے علیحدہ ہو گئی-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ میں شامل ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی ہے، ملاقات میں پولیس افسران بھی ہمراہ بیٹھے رہے، ملاقات کوئی وکیل اور کلائنٹ کی ملاقات نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی نے خود ویڈیو لنک پر پیش ہونے کی استدعا کی ہے، پہلے معلوم ہو جائے کہ بانی پی ٹی آئی کو خود دلائل کی اجازت ملتی ہے یا نہیں، ان سے ملاقات آزادانہ نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کون سی خفیہ باتیں کرنا تھیں، آپ نے صرف آئینی معاملے پر بات کرنا تھی، علی ظفر صاحب، آپ بلا جواز قسم کی استدعا کر رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں باںی پی ٹی آئی کی ہی بات کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ افسر آف کورٹ ہیں، 5 منٹ ضائع ہو چکے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے بینچ کی تشکیل درست نہیں، حصہ نہیں بنیں گے، اگر بانی پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دیں گے تو پیش نہیں ہوں گے، حکومت کچھ ترامیم لانا چاہتی ہے، بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لیے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے بات کرنی ہے تو آج سے نہیں بلکہ شروع سے کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں جو بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ آپ کرنے نہیں دے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی گفتگو کر رہے ہیں تاکہ کل سرخی لگے، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آج بھی اخبار کی ایک سرخی ہے کہ آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے قبل لازمی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں، حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور تاثر ہے عدالت ہارس ٹریڈنگ کی اجازت دے گی، ہم اس بات پر آپ پر توہین عدالت لگا سکتے ہیں، کل آپ نے ایک طریقہ اپنایا، آج دوسرا طریقہ اپنا رہے ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہماری عزت کریں، ہارس ٹریڈنگ کا کہہ کر بہت بھاری بیان دے رہے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟ آپ کو ہم بتائیں تو آپ کو شرمندگی ہو گی، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ ہارس ٹریڈنگ کو روکتا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتوں کا مذاق بنانا بند کریں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے 63 اے پر اپنی رائے دی تھی کوئی فیصلہ نہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں اگلے 7 منٹ میں کمرۂ عدالت سے باہر ہوں گا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویری گُڈ، ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ اگر کیس کا فیصلہ دیتے ہیں تو مفادات کا ٹکراؤ ہو گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو بول رہے ہیں اسے نہ سنیں گے نہ ریکارڈ کاحصہ بنائیں گے، کیا آپ بطور وکیل یا عدالتی معاون ہمیں دلائل دے سکتے ہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ بطور عدالتی معاون دلائل دے سکتا ہوں، جس کے بعد سپریم کورٹ نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

    سپریم کورٹ بار اور پیپلزپارٹی نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا، چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ کے دلائل سے مستفید ہونا چاہتے تھےعلی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں، اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لئے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ نہیں رائے ہے تو اس پر عملدرآمد کیسے ہو رہا ہے؟ کیا صدر نے کہا تھا یہ رائے آگئی ہے، اب ایک حکومت کو گرا دو؟چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کو یاد ہے حاصل بزنجو نے ایک سینیٹ الیکشن پر کیا کہا تھا، سینیٹ جیسے ادارے میں الیکشن کے دوران کیمرے لگائے گئے، علی ظفر صاحب آپ کیوں ایک فیصلے سے گھبرا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ دلائل دیں شاید ہم یہ نظر ثانی درخواست مسترد بھی کر سکتے ہیں جس پر علی ظفر نے بطور عدالتی معاون دلائل کا آغاز کر دیا،علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے حوالے سے صدر نے ایک رائے مانگی تھی، اس رائے کے خلاف نظرثانی دائر نہیں ہو سکتی، صرف صدر پاکستان ہی اگر مزید وضاحت درکار ہوتی تو رجوع کر سکتے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک درخواست آپ نے بھی اس کیس میں دائر کی تھی جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ہم نے فلور کراسنگ پر تاحیات نااہلی مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا آپ اس پر پارلیمان میں قانون سازی کر سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا 63 اے کا فیصلہ دینے والے اکثریتی ججز نے رائے کا لفظ لکھا یا فیصلے کا لفظ استعمال کیا؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ یہ تو اس عدالت نے طے کرنا ہے کہ وہ رائے تھی یا فیصلہ، چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب آپ اس حد تک نظر ثانی کی حمایت کرتے ہیں کہ لفظ فیصلے کی جگہ رائے لکھا جائے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں اور جسٹس میاں خیل پہلے والے بنچ کا بھی حصہ تھے، ہم دونوں ججز پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، علی ظفر نے جواب دیا کہ اعتراض کسی کی ذات پر نہیں بلکہ بنچ کی تشکیل پر ہے۔

    علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ بار کی اصل درخواست تحریک عدم اعتماد میں ووٹنگ سے متعلق تھی، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں کو غلط طور پر ایک ساتھ یکجا کیا، عدالت نے آئینی درخواستیں یہ کہہ کر نمٹا دیں کہ ریفرنس پر رائے دے چکے ہیں، نظر ثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی آئین یا سزائے موت سے ناخوش ہوسکتا ہے لیکن عملدرآمد کرنے کے سب پابند ہوتے ہیں، کیا کوئی جج حلف اٹھا کر کہ سکتا ہے آئین کی اس شق سے خوش نہیں ہوں، ہر ڈکٹیٹر کہتا ہے تمام کرپٹ ارکان، اسمبلی اور ایوان کو ختم کر دوں گا، سب لوگ ملٹری رجیم کو جوائن کر لیتے ہیں، پھر جمہوریت کا راگ شروع ہو جاتا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں دیئے گئے حق زندگی کے اصول کو کافی آگے بڑھا چکی ہے، کسی بنیادی حق کے اصول کو آگے بڑھانا آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں ہوتا، آئین میں سیاسی جماعت بنانے کا حق ہے، یہ نہیں لکھا کہ جماعت الیکشن بھی لڑ سکتی ہےعدالتوں نے تشریح کر کے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کا اہل قرار دیا، بعد میں اس حوالے سے قانون سازی بھی ہوئی لیکن عدالتی تشریح پہلے تھی، عدالت کی اس تشریح کو آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں کہا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جج کون ہوتا ہے یہ کہنے والا کہ کوئی رکن منحرف ہوا ہے؟ پارٹی سربراہ کا اختیار ہے وہ کسی کو منحرف ہونے کا ڈیکلیئریشن دے یا نہ دے، ارکان اسمبلی یا سیاسی جماعتیں کسی جج یا چیف جسٹس کے ماتحت نہیں ہوتیں، سیاسی جماعتیں اپنے سربراہ کے ماتحت ہوتی ہیں۔

    جسٹس امین الدین خان نے استفسارکیا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کا انتخاب کون کرتا ہے؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ ارکان پارلیمان اپنے پارلیمانی لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ کرنے کا حق تو رکن پارلیمنٹ کا ہے، یہ حق سیاسی جماعت کا حق کیسے کہا جا سکتا ہے جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ارکان اسمبلی کو ووٹ دینے یا نہ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دیتی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر پارٹی سربراہ نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس حساب سے تو پارٹی کیخلاف ووٹ دینا خودکش حملہ ہے، ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا اور نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا، اگر کوئی پارٹی پالیسی سے متفق نہ ہو تو مستعفی ہو سکتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ یہ امید ہوتی ہے کہ شاید ڈی سیٹ نہ کیا جائے اور نشست بچ جائے، عدالت نے قرار دیا کہ کسی کو ووٹ کے حق کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تشریح جمہوری ہے؟ ججز منتخب نہیں ہوتے انہیں اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے، آپ تو جمہوریت کے بالکل خلاف بات کر رہے ہیں، تاریخ یہ ہے کہ مارشل لاء لگے تو سب ربڑ سٹیمپ بن جاتے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملکی تاریخ کو مدنظر رکھ کر بات کرتے ہیں، اسی مقصد کیلئے پارلیمانی پارٹی بنائی جاتی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک پارٹی سربراہ کا اختیار ایک جج استعمال کرے تو کیا یہ جمہوری ہوگا؟ جج تو منتخب نہیں ہوتے، انحراف کے بعد کوئی رکن معا فی مانگے تو ممکن ہے پارٹی سربراہ معاف کردے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تاریخ میں تو یہ ہے کہ آمریت آئے تو سب 10 سال چپ کر کے بیٹھ جاتے ہیں، جیسے ہی جمہوریت آتی ہے، سب شروع ہو جاتے ہیں، میگنا کارٹا کے بعد برطانوی جمہوریت سے آج تک وہاں کئی لوگ ناخوش ہیں، اس کے باوجود وہاں جمہوریت چل رہی ہے، یہاں بھی جمہوریت چلنے دیں۔

    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے فیصلے میں لکھا ہے ہارس ٹریڈنگ کینسر ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ غلط الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، جج صرف یہ طے کر سکتا ہے کوئی چیز آئینی و قانونی ہے یا نہیں، یہ کوئی میڈیکل افسر ہی بتا سکتا ہے کینسر ہے یا نہیں۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ووٹ نہ گنے جانے کے حوالے سے قانون سازی کیوں نہ کی؟ تحریک عدم اعتماد آنے والی تھی، اس وقت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا گیا، اس وقت پارلیمنٹ کی جگہ سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، ریفرنس دائر کرنے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد اڑا دی، یہاں چیف جسٹس سے کچھ ججز نے رابطہ کیا تو سوموٹو لیا گیا۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 63 اے کا فیصلہ صرف ایک جج کے مارجن سے اکثریتی فیصلہ ہے، کیا ایک شخص کی رائے پوری منتخب پارلیمان پر حاوی ہے؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ پارلیمان کو اگر یہ تشریح پسند نہ ہو تو وہ کوئی دوسری قانون سازی کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک بندہ سوچتا رہے میں فلاں فلاں کو قتل کروں گا مگر کرے نہ تو کیا سزا ہوگی؟ کیا میں سرخ اشارہ محض توڑنے کا سوچوں تو کیا میرا چالان ہو سکتا ہے؟جمہوریت اس لئے ڈی ریل ہوتی رہی کہ یہ عدالت غلط اقدامات کی توثیق کرتی رہی، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ کل یہاں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ دے کر دیکھیں، کیا ایسے ڈرا دھمکا کر فیصلہ لیں گے،سوشل میڈیا پر چل رہا ہوتا ہے فلاں جج نے ایک ٹھاہ کر دیا، فلاں نے وہ ٹھا کر دیا، اداروں کو اہم بنائیں، شخصیات کو نہیں۔

    علی طفر نے کہا کہ جو کچھ باہر چل رہا ہے اس پر میں آنکھیں بند نہیں کر سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ میں اندر کی بات بتا رہا ہوں، اندر کچھ نہیں چل رہا، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ میرا مشورہ ہوگا آپ تمام ججز آپس میں مل کر بیٹھیں، ججز رولز بنا لیں، سکون ہو جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ادارہ ٹوٹ گیا ہے،آپ ہمیں مفت کا مشورہ دے رہے ہیں تو ایک مفت کا مشورہ ہمارا بھی ہے، آپ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر معاملات طے کر لیں، پھر کہہ دیا جائے گا آپ نے مشورہ دیا ہے، ہم صرف ساتھ بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں، بیٹھ کر جو مرضی کریں۔

    علی ظفر نے کہا کہ میں نے ساڑھے 11 بجے کے بعد جو بھی گفتگو کی وہ بطور عدالتی معاون کی، بطور وکیل بانی پی ٹی آئی میں کیس کی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں،اس کے ساتھ ہی عدالتی معاون علی ظفر نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

    عدالت نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا ’آپ نے باعزت طریقے سے دلائل دیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کے مشورے پر انشاء اللہ غور کریں گے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ نیو گینی میں منحرف رکن کا ووٹ نہ گنے جانے کا قانون بنایا گیا تھا، نیو گینی میں عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں کسی جمہوری ملک میں ووٹ نہ گننے کا قانون نہیں، امید ہے ایک دن ہم بھی میچیور جمہوریت بن جائیں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےپیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا صدر مملکت نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی اکثریتی رائے سے متفق ہیں یا اقلیتی سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ صدر مملکت کی جانب سے ریکارڈ پر کچھ نہیں آیا کہ کس سے متفق ہیں کس سے نہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت معاملہ صدر مملکت کو بھیج دیں کہ وہ فیصلہ کریں کس رائے سے متفق ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے معاملہ صدر مملکت کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواستیں بھی ریفرنس کے ساتھ ہی نمٹائی گئی ہیں، آئینی درخواستیں نمٹانے کا معاملہ صدر مملکت کو نہیں بھیجا جا سکتا، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ریفرنس پر آنے والے رائے کی ریاست پابند ہوگی، ریاست سپریم کورٹ کی رائے کی پابند ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر کوئی رکن ووٹ نہ ڈالے تو وہ بھی نااہل ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے جماعت کا سربراہ رکن کے نہ پہنچنے کی وجہ تسلیم کر لے، آرٹیکل 63 اے واضح ہے تو اس کی تشریح کی کیا ضرورت ہے، سپریم کورٹ میں منحرف اراکین کی اپیلیں بھی آنی ہوتی ہیں، اگر عدالتی فیصلہ ہی نااہلی کا باعث بنے تو اپیل غیر موثر ہو جائے گی۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تحریری صورت میں ہی تصور کی جائے گی، حسبہ بل کیس کے مطابق ریفرنس پر رائے جس نے مانگی اس پر رائے کی پابندی لازم ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر صدر مملکت رائے پر عمل نہ کرے تو کیا ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ عدالت صدر مملکت کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔

    فاروق ایچ نائیک نے منحرف رکن سے متعلق پی ٹی آئی کی عائشہ گلالئی کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے نام غلط لیا، شاید آپ کو ان سے پبلکلی معافی مانگنی پڑ جائے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ گلالئی پشتو کا لفظ ہے جس کا مطلب بھی دیکھ لیں۔

    بعد ازاں عدالت نے آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاسپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، فیصلہ پانچوں ججز نے متفقہ طور پر سنایا ہے۔

    بعدازاں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو نہ سنے جانے پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ہے، عمران خان کو موجودہ بینچ پر اعتراض ہے، ہمارا موقف واضح ہے کہ بینچ کو قانون کے مطابق تشکیل نہیں دیا گیا۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022ء کو اُس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکن لارجر نے صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر تین دو کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا۔

    ججز نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں کیا کیا جائے گا اور پارلیمنٹ ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے پانچ رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

  • ملائیشین وزیراعظم کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر  پیش کیا گیا

    ملائیشین وزیراعظم کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

    اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملائیشیا کے ہم منصب داتو انور ابراہیم نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: ملائیشیا کے وزیراعظم داتو انور ابراہیم 3 روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، جمعرات کے روز ملائیشین ہم منصب وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم شہباز شریف نے مرکزی دروازے پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیااس موقع پر پاکستان اور ملائشیا کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ ملائیشیا کے وزیراعظم کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

    وزیراعظم نے معزز مہمان سے وفاقی کابینہ کاتعارف کرایا جبکہ ملائیشین وزیراعظم نے محمد شہباز شریف سے اپنے وفد کا تعارف کرایااس موقع پر داتو سری انور ابراہیم نے وزیراعظم ہاؤس میں پودا لگایا۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    بعدازاں دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات کے ساتھ ساتھ وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس کے ساتھ ساتھ پاکستان ملائیشیا دوطرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں کا تبادلہ ہوا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر ملائیشیا کے وزیر اعظم پاکستان کا 3 روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں،ملائیشیا کے وزیر اعظم کے ہمراہ اعلی سطح کا کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں کا وفد بھی پاکستان آیا ہے، وفد پاکستانی کاروباری شخصیات و سرمایہ کارو ں سے ملاقات کرے گا جس سے دونوں ممالک کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، دونوں ممالک کے مابین تجار ت و سرمایہ کاری میں تعاون کے لیے ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان-ملائیشیا بزنس فورم میں شرکت بھی کریں گے۔

    عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری …

  • گزشتہ 10 برس سے بھارت میں مقیم مبینہ پاکستانی خاندان گرفتار

    گزشتہ 10 برس سے بھارت میں مقیم مبینہ پاکستانی خاندان گرفتار

    بنگلور: بھارت میں گزشتہ 10 برس سے جعلی دستاویزات پر مقیم مبینہ پاکستانی خاندان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے شہر بنگلور کی پولیس نے مبینہ طور پر پاکستان کے چار شہریوں کو گرفتار کیا ہے، پولیس کے مطابق وہ شہر کے نواحی علاقے میں ہندو ناموں اور شناخت کے ساتھ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تھے، 48 سالہ راشد علی صدیقی، ان کی 38 سالہ اہلیہ ‏عائشہ حنیف، ان کی والدہ روبینہ اور والد محمد حنیف کو بنگلور کے علاقے راجہ پورہ میں غیر قانونی طور پر رہنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ خاندان راجپورہ گاؤں میں شنکر شرما، آشا رانی، رام بابو شرما اور رانی شرما کے فرضی ناموں کے ساتھ رہ رہا تھا ان چاروں کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ، فریب، فرضی دستاویزات بنانے اور مختلف دیگر معاملات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،گذشتہ اتوار کی شب جب پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خاندان کے گھر پر چھاپہ مارا تو راشد نے اپنا نام شنکر شرما بتایا لیکن گھر کی دیواروں پر لکھی تحریر دیکھ کر پولیس کو شک ہوا، جس میں لکھا تھا مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل اور جشن یونس۔

    پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    پولیس کے مطابق راشد صدیقی نے بتایا کہ وہ بنگلور کے نواحی علاقے میں 2018 سے رہ رہا ہےان کے پاس بھارت پاسپورٹ سمیت آدھار شناختی کارڈ بھی موجود تھا اس کے علاوہ دیگر اہلخانہ کے افراد کے تینوں افراد کے پاس بھی ہندو ناموں کے پاسپورٹ اور آدھار کارڈ موجود تھے،ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار کیا گیا خاندان بھارت آنے سے پہلے بنگلہ دیش میں مقیم تھا جبکہ جوڑے کی شادی بھی وہیں ڈھاکہ میں ہوئی تھی۔

    عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری …

    رپورٹ کے مطابق راشد صدیقی کراچی کے علاقے لیاقت آباد کا رہائشی ہے جبکہ ان کی اہلیہ، ساس اور سسر کا تعلق لاہور سے بتایا گیا ہے راشد سمیت دیگر خاندان کی گرفتاری اس طرح ہوئی کہ جب چنئی کے ایک امیگریشن افسر نے 24 ستمبر کو بنگلہ دیشی شہریوں کو حراست میں لیا جو جعلی دستاویزات کے ذریعے حاصل کیے گئے بھارتی پاسپورٹ کا استعمال کر رہے تھےدورانِ تفتیش ان کےپاس سے بعض مذہبی مبلغین کی تصاویر بھی ملیں، راشد اور ان کی بیوی اور دیگر افراد ریاض گوہر شاہی ( ایک روحانی پیشوا ،جنھیں ان کے پیروکار ’امام مہدی‘ کہتے ہیں) کے پیروکار بتائے جاتے ہیں۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

  • بار ایسوسی ایشنز کا  آئینی پیکج کے خلاف  آل پاکستان وکلا کنونشن کرانے کا اعلان

    بار ایسوسی ایشنز کا آئینی پیکج کے خلاف آل پاکستان وکلا کنونشن کرانے کا اعلان

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار، اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل نے وفاقی حکومت کے مجوزہ آئینی پیکیج کے حوالےسےبڑا فیصلہ کر لیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ بار، اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، اسلام آباد بار کونسل کے علیم عباسی نے دیگر عہداروں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی،جس میں تینوں نمائندہ بار ایسوسی ایشنز نے آئینی پیکج کو مسترد کر دیا اور آئینی پیکج کے خلاف 7 اکتوبر کو دن 11 بجے آل پاکستان وکلا کنونشن کرانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    اسلام آباد بار کونسل کے علیم عباسی نے کہا کہ ہم صرف مسترد نہیں کرتے بلکہ ان کو روکنے کے لیے مزاحمت بھی کریں گے ، مخصوص شخصیات ، مخصوص سیاسی جماعتوں اور بدنیتی پر مبنی ترامیم کی جارہی ہیں، ان ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کے پاس سیشن جج سے زیادہ کا اختیار نہیں ہو گا ، 6 ججز کا خط پسند نہیں آیا تو ان کو ٹھکانے لگانے کے لیے بھی ترمیم کی جارہی ہے۔

    اسلام آباد کی تینوں وکلاء تنظیموں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے 63 اے نظرثانی درخواست فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

    عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری …

  • عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری

    عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری

    اسلام آباد: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے آزادی مارچ کے حوالے سے درج مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری کردیا –

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف آزادی مارچ کے حوالے سے کیس کی سماعت کی،سابق وزیراعظم عمران خان کے وکلا عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ خرم نواز، عامر محمود کیانی اور جمشید مغل بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے،وکیل تنویر حسین نے علی نواز اعوان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔

    جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ اسد عمر کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ اسد عمر اس مقدمے سے ڈسچارج ہو چکے ہیں، جج نے ریمارکس دیے کہ تنویر حسین کا میڈیکل سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ لگا دیں، عمران خان کی حاضری کے حوالے سے رپورٹ آئی ہے جس میں کہا گیا انٹر نیٹ میسر نہیں، آن لائن حاضری نہیں ہو سکتی، گزشتہ روز بھی یہی رپورٹ آئی تھی شو کاز نوٹس جاری کیا تھا، آج بھی نوٹس جاری کر رہا ہوں، لکھوں گا نیٹ نہیں تو ذاتی حیثیت میں پیش کریں۔

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

  • پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر کا نام پی سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی،درخواست گزاروں کی جانب سے ابوذر سلمان خان نیازی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے، دوران سماعت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ ان کے صاحبزادے راسخ الہی اور بہو زارا الہیٰ کا نام پی سی ایل سے نکال دیا گیا ہے،عدالت نے چوہدری پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے چوہدری پرویز الہٰی، اور بیٹے راسخ الہٰی، ان کی اہلیہ زارا الہٰی کا پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے بھی نام نکالنے کا حکم دے دیا۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    واضح رہے کہ 28 جون کو وفاقی حکومت نے صدر تحریک انصاف پرویز الہٰی کا نام پی سی ایل میں ڈال دیا تھا، پرویز الہیٰ سمیت دیگر نے پی سی ایل سے اپنا نام نکالنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

  • عمران خان کی 6  اور  بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری ضمانت میں توسیع

    عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی 6 اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

    باغی ٹی وی: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج افضل مجوکا نے سابق وزیراعظم عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی ،عمران خان کے وکیل زاہد بشیر عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل زاہد بشیر نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ سینئر کونسل لاہور میں دیگر کیسز میں مصروف ہیں، سلمان صفدر آج عدالت پیش نہیں ہو سکتے لہذا عدالت سماعت ملتوی کر دے، عدالت نے عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمےمیں عبوری ضمانت میں 21 اکتوبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی-

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    دوسری جانب دوسری جانب تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، واثق قیوم کے وارنٹ گرفتاری بر قرار رکھے جبکہ راشد حفیظ کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف احتجاج توڑ پھوڑ کیس میں شبلی فرازکی جانب سے حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی جبکہ مراد سعید ،دانیال احمد ،حماد اظہر ،حسان نیازی ،علی نواز ،شبلی فراز پیش نہ ہوئے،بعدازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے مزید کیسز کی سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف