Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • گجرات میں سی سی ڈی اہلکار ملزمان کی فائرنگ سے شہید

    گجرات میں سی سی ڈی اہلکار ملزمان کی فائرنگ سے شہید

    گجرات میں خطرناک ملزمان کی فائرنگ سے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار فیاض حسین شہید ہوگئے۔

    سی سی ڈی ترجمان کے مطابق گجرات میں خطرناک ملزمان کی جانب سے ریکی کے دوران اہلکار فیاض حسین پر فائرنگ کی گئی، ملزمان کی فائرنگ سے اہلکار شدید زخمی ہوگئے،سی سی ڈی اہلکار فیاض حسین کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، پولیس کی بھاری نفری اسپتال اور موقع پر پہنچ گئی، بعد ازاں شہید اہلکار کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئی ہے،سی سی ڈی فائرنگ میں ملوث ملزمان کا تعاقب کر رہی ہے۔

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار اور اسرائیلی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان ملاقاتیں جمعرات اور جمعے کو ہوں گی، جن کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گزشتہ روز بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئندہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت ہوگی۔

    صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ایک تاریخی ملاقات کرانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں تاہم لبنانی صدر نے اسرائیلی حملوں کے دوران نیتن یاہو سے براہِ راست ملاقات پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے پیر کو کہا تھا کہ مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں اور یہ عمل تمام لبنانی عوام کے مفاد میں ہے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی تھی تاہم اس دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور اسرائیلی افواج پر حزب اللہ کی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے جنگ بندی معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہے بدھ کے روز اسرائیل نے بیروت میں جنگ بندی کے بعد پہلا حملہ بھی کیا، جس کے بعد امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت میں حزب اللہ کے خلاف حالیہ حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دشمنوں کے لیے کہیں بھی کوئی ‘استثنیٰ نہیں ہے،حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط یہ سمجھتے تھے کہ وہ بیروت میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے حملوں کی ہدایت دے سکتے ہیں، لیکن اب وہ محفوظ نہیں رہے۔

    یاد رہے کہ رواں برس 2 مارچ کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا، جس کے بعد 16 اپریل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بڑے مذاکراتی عمل سے قبل موجودہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔

  • ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدہ آئندہ ہفتے طے پا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

    فوکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں تاہم اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے،دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران ایک محدود اور عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں استحکام اور مزید مذا کرا ت کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے جن میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان، آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے اقدامات اور30 روزہ مذاکراتی دور (جس میں بڑے تنازعات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی) شامل ہیں۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران اپنا باضابطہ ردعمل جمعرات کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھیج سکتا ہے۔

    پاکستان حالیہ سفارتی کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا،اگر معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو یہ ملک کے لیے اعزاز ہوگانائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت مختلف علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے، ایران نے پاکستان کے “تعمیر ی اور ثالثی کردار” کو سراہا ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔

  • پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشقیں ‘شیک ہینڈز ٹو’ اختتام پذیر

    پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشقیں ‘شیک ہینڈز ٹو’ اختتام پذیر

    پاکستان اور سری لنکا کی افواج کے درمیان انسدادِ دہشتگردی کے شعبے میں ہونے والی مشترکہ مشقیں’شیک ہینڈز2‘ تربیلہ میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 2 ہفتوں پر محیط ان مشقوں کا آغاز 27 اپریل 2026 کو ہوا تھا، جن میں پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) اور سری لنکن اسپیشل فورسز کے دستوں نے شرکت کی ، مشقوں کی اختتامی تقریب میں جی او سی اسپیشل سروسز گروپ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اس موقع پر سری لنکا سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل اجیت ابے وردھنا بھی موجود تھے، جنہوں نے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور تربیت کے اعلیٰ معیار کا مشاہدہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ان مشقوں کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشتگردی کے آپریشنز میں استعمال ہونے والی تکنیکوں، طریقہ کار اور ڈرلز کو مزید بہتر بنانا تھا مشتر کہ تربیت کے اس عمل سے نہ صرف دونوں دوست ممالک کے درمیان تاریخی فوجی تعلقات کو مزید تقویت ملی بلکہ دونوں افواج کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی فراہم ہوا،اختتامی تقریب کے دوران دستوں نے پیشہ ورانہ عمدگی کے بلند ترین معیار کا مظاہرہ کیا، جسے دونوں ممالک کی قیادت نے سراہا۔

  • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے-

    لیویٹ نے اپنی بیٹی کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے، ان کی نومولود بیٹی کا نام ویویانا (Viviana) رکھا گیا ہے جسے گھر میں پیار سے ’ویوی‘ کہا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کیرولین لیویٹ نے کہا کہ یکم مئی کو ان کی بیٹی نے خاندان میں خوشیوں کا اضافہ کیا بچی مکمل طور پر صحت مند اور تندرست ہے،ہم اس خوشی کے نئے مرحلے کو بھرپور انداز میں انجوائے کر رہے ہیں اور ہمارا بیٹا اپنی نئی بہن کے ساتھ خوشی سے ایڈجسٹ ہو رہا ہے،ہمارا گھر اس وقت محبت اور خوشیوں سے بھرپور ہے۔

    یہ کیرولین لیویٹ اور ان کے شوہر نکولس ریکیو کے ہاں دوسری اولاد ہے۔ ان کا پہلا بیٹا نکولس (عرف نکو) جولائی 2024 میں پیدا ہوا تھا،رپورٹس کے مطابق 28 سالہ کیرولین لیویٹ پہلی وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری ہیں جنہوں نے دوران عہدہ حمل اور زچگی کا تجربہ کیا وہ اس وقت زچگی کی چھٹی پر ہیں اور توقع ہے کہ رواں سال کے آخر میں دوبارہ صحافتی بریفنگز شروع کریں گی،ان کی آخری پریس بریفنگ 27 اپریل کو ہوئی تھی جس کے بعد وہ عارضی طور پر ذمہ داریوں سے الگ ہو گئی تھیں،اس دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے مختلف حکومتی عہدیدار باری باری میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔

  • ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل  سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور گروہوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے-

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے مبینہ تعلقات رکھنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے مطابق علی معارج البہادلی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئےعراقی تیل کو ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے فائدے کے لیے منتقل کرنے میں معاونت کرتے رہے ہیں۔

    واشنگٹن نے عراق میں ایران سے منسلک گروہوں کے تین سینئر عہدیداروں اور چار عراقی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں ان افراد میں مصطفیٰ ہاشم لازم البہادلی، احمد خدیر مکسوس اور محمد عیسیٰ کاظم الشوائلی شامل ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس وقت خاموش نہیں بیٹھے گا جب ایران عراق کے تیل کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے شراکت داروں کے خلاف سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کر رہا ہو۔ یہ کارروائیاں ایران کے تیل اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھانے کی وسیع حکمت عملی ’اکانومک فیوری‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو مالی وسائل تک رسائی سے روکنا ہے امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورکس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر رسمی مالی نیٹ ورکس استعمال کرتا ہے، اسی تناظر میں عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی امریکا ایک اہم سیکیورٹی اور سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن ماضی میں بغداد کی حکومتی شخصیات اور اداروں پر بھی متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

  • وزیر خارجہ  اسحاق ڈار سے ایرانی  ہم منصب کا  ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ چین اور وہاں علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہونے والی مشاورت کے حوالے سے اعتماد میں لیا گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ایرانی وزیر خارجہ نے قبضے میں لیے گئے بحری جہازوں سے ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس ضمن میں پاکستان کی مسلسل سفارتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی حمایت کو سراہا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو کی دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری حالیہ پیش رفت اور بدلتی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیادونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے، گفتگو کے دوران علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جب کہ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج کسی بھی وقت ثالثوں کے ذریعے امریکی امن تجویز پر اپنا جواب جمع کرا سکتا ہے۔

  • اسرائیلی حملے میں حماس  رہنما خلیل الحیہ کا  ایک اور بیٹا شہید

    اسرائیلی حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ کا ایک اور بیٹا شہید

    حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

    حماس عہدیدار باسم نعیم نے عزام الحیہ کے غزہ سٹی پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، یہ خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے تھے جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔

    خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت میں اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، وہ متعدد بار اسرائیلی حملوں اور مبینہ قاتلانہ کوششوں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم ہر بار محفوظ رہےگزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحا میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک حملے میں بھی ان کے ایک بیٹے کی شہادت ہوئی تھی جبکہ خلیل الحیہ اس حملے میں بچ گئے تھے اس سے قبل 2008 اور 2014 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران بھی ان کے دو بیٹے شہید چکے ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی اور غزہ میں مسلسل فضائی حملوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، غزہ میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد رہائشی علاقوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے کے دوران 21.293 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،جس کے بعد ملک کے کل زرمبادلہ ذخائر 21 ارب 29 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر 15.850 ارب ڈالر رہے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر 5.442 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جس کے بعد مجموعی ملکی ذخائر 21.293 ارب ڈالر ہو گئے زیر جائزہ ہفتے کے دوران اس کے ذخائر میں 23 ملین ڈالر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جس سے مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 5.850 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری اور استحکام کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

  • آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرلینڈ کے سابق اور موجودہ فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات نے اسرائیل کے خلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق “آئرش اسپورٹ فار فلسطین” نامی مہم کے تحت فٹبالرز، موسیقاروں اور سماجی شخصیات نے فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف یوئیفا نیشنز لیگ میچز کھیلنے سے انکار کرےمہم میں شامل شخصیات کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی حقوق کی صورتحال کے باعث اسرائیل کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات ختم کیے جائیں۔

    اس مہم کی حمایت کرنے والوں میں سابق آئرش فٹبال کوچبریان کیئر، سابق انٹرنیشنل فٹبالر لوئس قوئن اور متعدد لیگز کے کھلاڑی شامل ہیں جبکہ آئرش موسیقاروں اور مشہور بینڈز نے بھی اس مطالبے کی تائید کی ہے۔

    دوسری جانب آئرش فٹبال ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ یوئیفا قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت میچز کھیلنے کی پابند ہے۔

    یاد رہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے خلاف کھیلوں کے بائیکاٹ کی آوازیں دنیا کے مختلف ممالک میں شدت اختیار کر چکی ہیں اور متعدد تنظیمیں اسرائیل کے خلاف میچز کی معطلی کا مطالبہ کر رہی ہیں،قبل ازیں آئر لینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے یوئیفا سے اسرائیلی ٹیم پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا