Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور  وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا

    لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا

    مغربی افریقہ: لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف گلوریا مایا پر اپنی 29 سالہ بھتیجی کے بہیمانہ قتل کا الزام تھا یہ لائبیریا کی سب سے مشہور جج اور سیاستدان کے عروج سے زوال کی نشانی ہے،گلوریا مایا نے اپنی پہچان ملک میں خواتین کے حقوق کی چیمپئن کے طور پر بنائی تھی۔

    جیل میں قید 70 سالہ گلوریا مایا فیصلےکے خلاف اپیل کرنےکا ارادہ رکھتی ہیں اور انہیں امید ہےکہ انہیں ریلیف مل جائےگاگلوریا مایا نے فرد جرم سے انکار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی بھتیجی کو نامعلوم قاتل نے گھر میں گھس کر قتل کیا۔

    واضح رہے کہ گلوریا مایا نے لائبیریا کی وزیر انصاف کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر سینیئر جج منتخب ہوئیں جس کے بعد سپریم کورٹ کی چیف جسٹس بھی بنیں اور 2003 میں ریٹائرڈ ہوگئیں۔

    سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت

    تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

  • پرویز خٹک کی پارٹی نے اپنے 27 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا

    پرویز خٹک کی پارٹی نے اپنے 27 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز (پی ٹی آئی پی)کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے امن و امان کا قیام ضروری ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے اپنے 27 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا، جس میں امن، ترقی اور خوشحالی کو منشور کا بنیادی نکتہ قرار دیا گیا پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے منشور میں کہا گیا ہے کہ مستحق طلبہ کے لیے ایجوکیشن کارڈ لایا جائے گا منشور میں وہ چیزیں شامل کی گئی ہیں جو ہم پانچ سالوں میں مکمل کریں گے، اس میں زیادہ تر وہ چیزیں ہیں جن پر ساڑھے 8 سال کام کیا، ان کو ہم مزید مضبوط کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن، صحت اور پولیس کے محکموں کو مضبوط کریں گے، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو ایک ہی سطح پر لائیں گے، تمام تعلیمی بورڈز کو ایک کرکے باقی کو سب کیمپسز کریں گے، لڑکیوں کے لئے وظیفے میں اضافہ کریں گے، تعلیمی ادراوں میں سیاسی مداخلت ختم کرکے انہیں خودمختار بنائیں گے ہم نے پولیس میں ریفارمز کی ہیں لیکن مزید اصلاح کی ضرورت ہےپولیس قانون کے مطابق کسی کے گھر میں جا سکے گی۔

    سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹرز غزہ میں اپنی خدمات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں،ندیم جان

    انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئیز میں کام کرنے والے ملازمین کو ریگولر کریں گے اسپتالوں میں دوائیاں جنریٹک نام سے لکھی جائیں گی ریفریل سسٹم کو بہتر کریں گے نوزائیدہ بچوں کے لئے تین اسپتال اور ایک اور کارڈیالوجی اسپتال بنائیں گےگندم کی پیدوار بڑھانے کے لئے کام کریں گے، زرعی سامان رعایتی قیمتوں پر دیں گےسیاحتی علاقوں میں سہولیات دی جائیں گی ہم پالیسی دیں گے باور یوکریسی اس پر عمل کرے گی میرے دور میں تعلیمی نظام میں بہتری آئی، تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہےپہلے سسٹم ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا

    ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

  • بجلی کمپنیوں کی نگرانی  کیلئے پاک فوج کے حاضر افسران کی سربراہی میں پی ایم یوز کے قیام کا فیصلہ

    بجلی کمپنیوں کی نگرانی کیلئے پاک فوج کے حاضر افسران کی سربراہی میں پی ایم یوز کے قیام کا فیصلہ

    حکومت نے خسارے میں چلنے والی 5 پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لیے پاک فوج کے حاضر افسران کی سربراہی میں پرفارمنس مینجمنٹ یونٹس (پی ایم یوز) کے قیام کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی بزنس ریکارڈ کے مطابق نگراں وزیر توانائی و پٹرولیم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ خسارے میں چلنے والی پانچ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں پاک فوج کے حاضر سروس بریگیڈیئر کی سربراہی میں پرفارمنس مینجمنٹ یونٹس (پی ایم یوز) کے قیام کی منظوری دینے کے لیے تیار ہے ۔

    ذرائع نے بتایا کہ واپڈا کی بندش کے بعد پاکستان میں بجلی کی تقسیم کا کاروبار10 ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (سوائے کراچی کے جو ایک نجی کمپنی کر رہی ہے) کو سونپ دیا گیا وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کے تحت ان ڈسکوز میں چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز) کے طور پر موزوں افراد کی تقرری حکومت کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے۔

    حلقہ این اے 242 :ن لیگ اور ایم کیو ایم میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

    ماضی میں سی ای او ز کے عہدے پُر کرنے کی ایسی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں نتیجتا بجلی کا شعبہ بنیادی طور پر موثر قیادت کے فقدان کی وجہ سے نااہلیوں کا شکار ہے۔ اس کے نتیجے میں جون 2023 تک گردشی قرضہ 2.310 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، ڈسکوز کی وصولیوں میں بھی 1.786 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ شعبہ غیر پائیدارہو گیا ہے۔

    پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2023-24 کے دوران ڈسکوز کو تقریبا 589 ارب روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے جس میں انڈر ریکوری اور نیپرا کی حد سے زیادہ نقصان شامل ہےیہ کمپنیاں کارپوریٹائزیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم میں مزید نجکاری کے لئے بنائی گئی تھیں۔ تاہم بدانتظامی کی وجہ سے مزید اصلاحات کا عمل پٹڑی سے اتر چکا ہے اور نتیجتاً یہ ادارے اب قومی خزانے پر مستقل بوجھ ہیں۔

    راولپنڈی پولیس کا اہم اقدام ،ٹرانسجینڈرز کے لئے باقاعدہ سکول کلاسز کا آغاز

    پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کے شعبے میں نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے حکومت نے بجلی چوری اور نادہندگان سے وصولی کے خلاف مہم شروع کی ہےتاہم خدشہ موجود ہے کہ ڈسکوز کی کمزور قیادت مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوسکتی ہے. خاص طور پر حیسکو، سیپکو، پیسکو اور کیسکو کو انتظامی صلاحیت کی شدید کمی کا سامنا ہے اور انہیں اس حوالے سے انتظامی مدد کی ضرورت ہے۔

    4 اکتوبر 2023 کو ہونے والے ایس آئی ایف سی کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پر مشتمل انسداد چوری ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نمایاں نقصان اٹھانے والے ڈسکوز کیسکو، پیسکو، سیپکو، میپکو اور حیسکو کو کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ کیا گیا پائلٹ پروجیکٹ ہیسکو کے ساتھ شروع ہوگا اور ہیسکو میں پائلٹ مداخلت کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد دیگر ڈسکوز میں بھی ایسا کیا جائے گا۔

    توشہ خان کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف فرد جرم عائد

    وجوہات کی وضاحت کے بعد پاور ڈویژن نے کابینہ کی منظوری کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی ہیں: (1) ہر ڈسکو میں ایک پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ قائم کیا جائے۔ پائلٹ کے طور پر پہلا پی ایم یو حیسکو میں قائم کیا جائے گا جس میں پی اے ایس، ایف آئی اے اور انٹیلی جنس ایجنسی کے افسران شامل ہوں گے جس کی سربراہی پاک فوج کے بی ایس 20 افسر کریں گےیہ پرفارمنس منیجمنٹ (پی ایم یو) براہ راست سیکرٹری پاور ڈویژن کو رپورٹ کرے گا۔

    وزارت دفاع ہر ڈسکو کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیم اور متعلقہ عملے کے ساتھ پاک فوج کے ایک حاضر سروس بی ایس 20 افسر کو تعینات کر سکتی ہے۔ ابتدائی طور پر حیسکو کے لیے ایسی صرف ایک ٹیم کی ضرورت ہوگی وزارت دفاع ہر ڈسکو میں انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ایک افسر تعینات کر سکتی ہے۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا

    انسداد چوری مہم میں پولیس حکام کے ساتھ کوآرڈینیشن کے لیے متعلقہ صوبائی پولیس حکام کی طرف سے ہر ڈسکو میں بی ایس 18 کے حاضر سروس پولیس افسر کو تعینات کیا جاسکتا ہےنادرا/ آئی ایم پاس اور بینکوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ ان ڈیفالٹر افراد کے پاسپورٹ جاری یا تجدید نہ کریں یا بینک اکاؤنٹ نہ کھولیں، جن کی فہرستیں پاور ڈویژن پی ایم یو کی جانب سے فراہم کردہ ان پٹ کی بنیاد پر متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کرے گا۔

    پاور ڈویژن نے مزید کہا ہے کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے گریڈ 17 کے افسران کو تمام ڈسکوز میں تعینات کیا گیا ہے۔ گریڈ 17 یا 18 کے ایف آئی اے افسران کو سب سے پہلے تین ڈسکوز (حیسکو، سیپکو اور پیسکو) سے منسلک کیا گیا تھا تاکہ چوری اور ریکوری مہم میں ڈسکوزملازمین کے ساتھ مل کر کام کرنے والے ملازمین کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

    ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

    سیکریٹری خزانہ کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فنانس ڈویژن نے پاور ڈویژن کی جانب سے خسارے میں چلنے والی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں سینئر فوجی افسران (بریگیڈیئرز) کی سربراہی میں پرفارمنس مینجمنٹ یونٹس (پی ایم یوز) کے قیام کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ڈسکوز کے اندر گورننس مزید خراب ہوگی۔

    فنانس ڈویژن نے 10 نومبر 2023 کو وزارت توانائی (پاور ڈویژن) آفس میمورنڈم پر اپنے تبصرے میں کہا کہ وفاقی کابینہ کی سمری کے مسودے میں پی ایم یوز کے قیام کے حوالے سے تجویز کی توثیق نہیں کی گئی جس کی سربراہی پاک فوج کے بی ایس 20 افسر کریں گے اور جس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران تعینات ہوں گے۔

    ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

    فنانس ڈویژن نے اپنے تبصروں میں دلیل دی کہ چوری پر قابو پانا اور کارکردگی کا انتظام دو بالکل مختلف افعال ہیں، مجوزہ پی ایم یو کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) اور کلیدی کارکردگی انڈیکیٹرز (کے پی آئیز) کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔

    فنانس ڈویژن نے پاور ڈویژن سے ریمٹ پر تبصرہ کے لیے ٹی او آرز فراہم کرنے کا کہتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ، پی ایم یو کمپنی کا رسمی انتظام غیر متعلقہ بنا تے ہوئے ڈسکوز کے اندر گورننس کو مزید خراب کرے گا ۔ فنانس ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ نئے یونٹ کا دائرہ سختی سے انسداد چوری اقدامات اوربلوں کی وصولی تک محدود ہونا چاہئیے، اس تجویز سے ان کمپنیوں کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے ہی خسارے میں ہیں۔

    سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹرز غزہ میں اپنی خدمات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں،ندیم جان

  • سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا  علاج دریافت

    سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت

    ساؤ پاؤلو: سائنسدانوں نے سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے ایک ایسی قسم کے سانپ کا زہر دریافت کیا ہے جو انسان کو بلڈ پریشر کے مسائل میں مدد فراہم کر سکتا ہے جرنل بائیو کیمی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کو جنوبی امریکی سانپ کی ایک قسم بوتھروپس کوٹیارا کے زہر میں ایسا پروٹین ملا ہے جو اپنے اندر کم یا زیادہ بلڈ پریشر کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کے میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والے محققین نے سانپ کے زہر میں بی سی-7 اے نامی ایک پروٹین دریافت کیا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کر سکتا ہے یہ پروٹین بالکل انہی پروٹینز کی طرح کام کرتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے کی دوا کیپٹوپرل بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج …

    سائنسدانوں کے مطابق سانپ کے زہر میں موجود اس پروٹین کو اگر مناسب خوراکوں میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک دن مطبی علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا کیپٹوپرل اور دیگر ادویات اینجیوٹینسن-کنورٹنگ انزائم (اے سی ای) نامی خامروں کی سرگرمی روک کر کام کرتی ہیں، جو جسم میں خون کے دباؤ کو قابو کرنے کے لیے اہم ہوتا ہے۔

    بھارت کا شمسی خلائی مشن سورج کے مدار میں داخل

    تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلگزینڈر تاشیما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زہر ہمیں حیران کرنے سے کبھی نہیں چوکتے، اتنی معلومات کے باوجود تازہ دریافتیں ممکن ہیں تمام دستیاب ٹیکنالوجی کے باوجود ان زہروں میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا مطالعہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    ماہرین کے مطابق یہ دریافت اے سی ای سے بچانے والی نئی اقسام کی ادویات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتی ہیں سانپ کے زہر میں 197 قسم کے پروٹین دریافت ہوئے جن میں 189 پروٹینز پہلی بار دیکھے گئے ہیں۔

  • راولپنڈی پولیس کا اہم اقدام ،ٹرانسجینڈرز کے لئے باقاعدہ سکول کلاسز کا آغاز

    راولپنڈی پولیس کا اہم اقدام ،ٹرانسجینڈرز کے لئے باقاعدہ سکول کلاسز کا آغاز

    راولپنڈی : راولپنڈی پولیس کا اہم اقدام ،ٹرانسجینڈرز کے لئے باقاعدہ سکول کلاسز کا آغاز کر دیا-

    باغی ٹی وی : ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق ٹرانسجینڈرز کے لئے اسلامیہ ہائر سیکنڈری سکول لیاقت باغ میں خصوصی کلاسز کا آغاز کیا جا چکا ہے، ٹرانسجینڈرز سکول کے آغاز کے لئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم نے بھی معاونت فراہم کی ہےپاکستان میں پہلی مرتبہ ٹرانسجینڈرز کی تعلیم کے لئے موثر اقدام اٹھایا گیا ہے، تحفظ ٹرانسجینڈر سینٹر کی طرح پاکستان کا پہلا ٹرانسجینڈر سکول بھی راولپنڈی پولیس نے قائم کیا ہے-

    ترجمان کے مطابق ٹرانسجینڈرز افراد سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ابتدائی طور پر 52 ٹرانسجینڈرز سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں،سکول کا مقصد ٹرانسجینڈرز کو تعلیم کے بنیادی حق کی فراہمی ہے، سکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹرانسجینڈرز معاشرہ کے زیادہ کارآمد شہری بن سکیں گے، تعلیم سے معاشرہ اور مذہب کو سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا-

    ترجمان کے مطابق تعلیم حاصل کرنا باعزت روزگار کی جانب پہلا قدم ہو گا،ٹرانسجینڈرز باقاعدہ کلاسز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ٹرانسجینڈرز کے تحفظ اور حقوق کی فراہمی کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، تحفظ ٹرانسجینڈر سینٹر کے ذریعے 100 سے زائد ٹرانسجینڈرز کو نوکری اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جا چکے ہیں، راولپنڈی پولیس ٹرانسجینڈرز کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہمیشہ ایک قدم آگے رہی ہے-

  • توشہ خان کیس: عمران خان اور  بشریٰ بی بی کے خلاف فرد جرم عائد

    توشہ خان کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف فرد جرم عائد

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس میں آج فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل اور توشہ خانہ کیس کی سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کے وکلا اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل مظفرعباسی بھی ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کی گئی،جبکہ بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم کردی گئیں۔

    واضح رہے کہ پیر کو سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان میں توشہ خانہ مقدمے کی نقول تقسیم کر دی تھیں، تاہم شریک ملزمہ بشریٰ بی بی کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھیبشریٰ بی بی کے وکلا کی طرف سے ایک دن کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی تھی جو کہ منظور کرلی گئی تھی۔

    لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    بلوچستان :حساس پولنگ اسٹیشنوں پر کیمرے لگانے ،پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی خدمات حاصل …

  • عمران خان نے  شیر افضل مروت  سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا

    عمران خان نے شیر افضل مروت سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا

    راولپنڈی : بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے شیر افضل مروت سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا-

    باغی ٹی وی :پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق شیر افضل مروت اڈیالہ جیل کے باہر انتظار کرتے رہ گئے، ان کی عمران خان سے ملاقات طے تھی،عمران خان سے لطیف کھوسہ، بیرسٹر گوہر، شبلی فراز اور شعیب شاہین ہی ملاقات کرسکے ہیں، عمران خان سے ملاقات کے بعد شیرافضل مروت کی پریس کانفرنس بھی شیڈول تھی لیکن ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے پریس کانفرنس بھی منسوخ کردی گئی ،جبکہ کچھ دن قبل پی ٹی آئی نے شیرافضل کو پارٹی بارے بیان دینے سے بھی منع کیا تھا۔

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت کے این اے 32 پشاور سے کاغذات منظور کر لیے گئے ہیں کاغذات منظوری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شیر افضل مروت نے کہا کہ پنجاب میں جس طرح وکلاء کو ٹکٹ ملے ہیں، خبیر پختونخوا میں اس طرح نہیں ہوا، خیبر پختونخوا میں ٹکٹ کے معاملے پر وکلاء اور یوتھ کو نظر انداز کیا گیا ہے، آج بانی پی ٹی آئی سے ملنے جا رہا ہوں اور انہیں خیبر پختونخوا کے ٹکٹوں کے معاملے سے آگاہ کروں گا۔

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    انہوں نے کہا کہ عاطف خان کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں، وہ آڈیو گروپ میں شیئر نہیں کرنی چاہیے تھی اور میں کسی سے معافی نہیں مانگتا البتہ عاطف خان کو کال کرکے ان سے معذرت کی، مجھے صوبائی تنظیم سے نہیں مرکزی تنظیم سے مسئلہ ہے، مرکزی تنظیم شاید میری زبان اور پذیرائی کی وجہ سے پسند نہیں کرتے، میں ارباب شیر علی کو پسند نہیں وہ مسلسل میری مخالفت کر رہا ہے، میں پارٹی میں ہاں میں ہاں ملانے والا بندہ نہیں، کام کرنے والا بندہ ہوں۔

    ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری

    لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

  • ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

    ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

    کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی کے تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس رپورٹ آئی جو پورے پنجاب سے زیادہ ہے، ٹیکس ہم دیتے ہیں ریونیو ہم جنریٹ کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: حافظ نعیم نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر توانائی نے کل کے الیکٹرک کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت 10 ہزار میگاواٹ بجلی کراچی کو دی جائے گی کراچی کی ضرورت 3000 میگاواٹ ہے، ہم 7000 میگا واٹ کے اضافی پیسے دے رہے ہیں،کراچی میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی مونوپلی ٹوٹنی چاہئے کوئی بھی حکومت ہو وہ کے الیکٹرک کے ساتھ ملی ہوتی ہےساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کے تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس رپورٹ آئی جو پورے پنجاب سے زیادہ ہے، ٹیکس ہم دیتے ہیں ریونیو ہم جنریٹ کرتے ہیں 2018 سے کے الیکٹرک نے نیشنل گرڈ کو بجلی کے بدلے کتنے پیسےجمع کرائے؟ نیشنل گرڈ کے 62 ارب روپے اور گیس کے بھی پیسے ہیں، ان کو گیس بغیر معاہدے کے ملتی ہے کراچی کو اس فراڈ کمپنی کی ضرورت ہی نہیں، خراب پلانٹ چلا کر فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر پیسے لئے جاتے ہیں عدالتیں بھی اس میں کام نہیں کر رہیں۔

    لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

    واضح رہے کہ تنخواہ دار طبقے نے ٹیکس ادا کرنے میں دولتمند ایکسپورٹرز کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے،رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 38فیصد اضافے کے ساتھ 158ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا ہے، جو کہ ایکسپورٹرز کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کے مقابلے میں 243فیصد زیادہ ہے۔

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    دوسری طرف اس دوران ایکسپورٹرز نے 4.3ہزار ارب روپے کمائے ہیں، اور اس کا محض ایک فیصد یعنی46ارب روپے بطور ٹیکس جمع کرائے ہیں، جو کہ تنخواہ دار طبقے سے 243فیصد کم ہےاس طرح تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادا کرنے والا چوتھا بڑا طبقہ بن گیا ہے،جولائی تا دسمبر کے دوران گزشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس وصولیوں میں 38فیصد اضافہ ہوا ہے، 158کا 42فیصد یعنی66ارب روپے ٹیکس صوبہ سندھ میں رجسٹرڈ ملازمت پیشہ افراد نے ادا کیا ہے،تنخواہ دار طبقہ کنٹریکٹرز، بینک ڈپازیٹرز اور امپورٹرز کے بعد ٹیکس ادا کرنے والا چوتھا بڑا طبقہ بن چکا ہے، امید ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک تنخواہ دار طبقہ 300ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کرا دے گا۔

    سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹوں کے کاغذات نامزدگی منظور

  • سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹرز غزہ میں اپنی خدمات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں،ندیم جان

    سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹرز غزہ میں اپنی خدمات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں،ندیم جان

    اسلام آباد: نگران وفاقی وزیر برائے صحت ندیم جان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جلد ایک گلوبل ہیلتھ عالمی سربراہی کانفرنس ہورہی ہے، یہ کانفرنس لوگوں کی ہیلتھ کے بارے میں ہے،سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹرز غزہ میں اپنی خدمات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : وفاقی دارالحکومت میں نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ غزہ جانے کے لیے تیار ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خواہ ہم شہید ہو جائیں لیکن ہمیں غزہ بھجوا دیا جائے، جہاں ہم اہل غزہ کو اپنی خدمات پیش کر سکیں، غزہ کے معاملے پر پاکستان نے بھرپور آواز اٹھائی ہے میرے پاس 500 ڈاکٹر موجود ہیں جو غزہ میں خدمات دینے کو تیار ہیں ہمارے وزیراعظم نے بھی اس معاملے پر بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ پاکستان غزہ متاثرین کی بھرپور مدد کرے گا۔

    ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری

    وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ کل سے گلوبل ہیلتھ عالمی سربراہی کانفرنس اسلام آباد میں شروع ہورہی ہے، جس میں ستر سے زیادہ مندوبین اس میں شرکت کریں گےگلوبل ہیلتھ سمٹ پہلی بار ہو رہی ہے، جو کہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے،کانفرنس بلانے کا مقصد دنیا کو ہیلتھ سیکورٹی کے حوالے سے محفوظ کرنا ہے اس کانفرنس میں غزہ کے موضوع پر بات کی جائے گی، ہم نے غزہ کے تناظر میں بھی کہا تھا کہ صحت کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے، ہر مریض اور ہر زخمی کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا بنیادی حق ہے۔

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہمارے ہیلتھ پلان میں بھی بہت خامیاں ہیں، پاکستان ویکسین پر کام شروع کرنا چاہتا ہے، تاہم ابھی ویکسین بنانے کی ہماری کپیسٹی نہیں ہے لوگوں کے حقیقی مسائل صحت کے حوالے ہی سے ہیں، کورونا سے پہلے پبلک ہیلتھ سسٹم میں انویسٹ کرنے کی بات چل رہی تھی، کورونا سے 7 ٹریلین سے زائد کا نقصان ہوا ویکسین ایکوئٹی کی ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے، ہم پاکستان اور پوری دنیا میں سسٹم کی اپ گریڈیشن چاہتے ہیں۔

    لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

  • تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    خالدہ ادیب خانم

    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے، خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں، آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں، 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا، دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی، ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی، خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترقی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے، خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی، 1935 میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں، اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا، علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا.

    خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ