Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کی پیشگوئی

    مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کی پیشگوئی

    ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ”ایل نینو“ نامی موسمی نظام مئی کے اوائل میں دوبارہ ظاہر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور موسم کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔

    ایل نینو دراصل بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمی چکر ہے جو ہر دو سے سات سال کے درمیان سامنے آتا ہےیہ نظام ایل نینو اور لا نینا کے مراحل کے درمیان گھومتا رہتا ہے ایل نینو کے دوران سمندر کے پانی کا درجہ حرارت خاص طور پر وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں بڑھ جاتا ہے، جس سے ہواؤں کا نظام متاثر ہوتا ہے اور دنیا بھر میں بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن بدل جاتے ہیں۔

    عالمی موسمیاتی ادارے کی جانب سے 21 اپریل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کے بننے کے امکانات واضح ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ایک مضبوط ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے، جس کی شدت آنے والے مہینوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق سال کے آغاز میں موسم نسبتاً متوازن تھا، لیکن اب موسمی ماڈلز ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس سے ایل نینو کے آغاز پر اعتماد بڑھ گیا ہے اس کے اثرات نہ صرف درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نظام کو بھی متاثر کریں گے۔

    اس سے قبل ایل نینو مئی 2023 سے مارچ 2024 تک جاری رہا تھا، جس نے 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا، نئی رپورٹ کے مطابق آئندہ مئی، جون اور جولائی میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر جنوبی شمالی امریکا، وسطی امریکا، کیریبین، یورپ اور شمالی افریقہ میں، بارشوں کے حوالے سے صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے کچھ علاقوں میں بارشیں زیادہ ہو سکتی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے، جس کی وجہ سے حتمی پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔

    امریکی موسمیاتی ادارے نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جون سے اگست کے درمیان ایل نینو کے بننے کے امکانات ساٹھ فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ مئی سے جولائی کے دوران اس کے ظاہر ہونے اور سال کے باقی حصے میں جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے، مزید یہ کہ سال کے آخر میں ایک انتہائی مضبوط ایل نینو بننے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں مزید ڈیٹا آنے کے بعد پیشگوئی کو مزید واضح کیا جائے گا، جبکہ عالمی موسمیاتی ادارہ مئی کے آخر میں اس حوالے سے تازہ رپورٹ جاری کرے گا-

  • آبنائےہرمز  میں ایران کے زیر قبضہ  جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    آبنائےہرمز میں ایران کے زیر قبضہ جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    ایران کی جانب سے آبنائےہرمز سے قبضے میں لیے گئے جہاز کے مناظر سامنے آگئے۔

    ایرانی پریس ٹی وی کے صحافی نے زیرقبضہ جہا ز سے خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں جہاز پر لدے کنٹینرز دکھائے گئے ایرانی پریس ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں جہاز کےاندرونی مناظربھی دیکھے جاسکتےہیں ایرانی صحافی کےمطابق اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ پر ایران کامکمل کنٹرول ہے۔

    دوسری جانب ترکیے نے امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا، ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔

  • ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    امریکا میں ایک نئے عوامی جائزے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت اکثریت کر رہی ہے-

    امریکی میگزین ’نیوز ویک‘ کے مطابق امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں اس کے عملی امکانات اب بھی محدود ہیں ایک حالیہ عوامی جائزے کے مطابق 55 فی صد افراد صدر کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 37 فی صد اس کی مخالفت کرتے ہیں آزاد حیثیت کے ووٹرز میں بھی 50 فیصد نے مواخذے کی حمایت کی، جبکہ 28 فیصد اس کے خلاف رہے۔

    جائزے میں شامل حکمران جماعت کے حامیوں میں سے 21 فی صد نے مواخذے کی حمایت کی، تاہم 72 فی صد نے اس کی مخالفت کی یہ سروے اپریل 2026 کے وسط میں 1514 افراد سے کیا گیا جس میں آزاد حیثیت رکھنے والے ووٹرز کی بڑی تعداد نے بھی مواخذے کی حمایت کی۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق عوامی سطح پر عدم اطمینان کے باوجود مواخذہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور اس جماعت کے کسی رکن نے مواخذے کی حمایت کا عندیہ نہیں دیا عوام سیاسی کشمکش سے تھک چکے ہیں اور مواخذے کا عمل ایوان نمائندگان سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے سینیٹ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔

    پیشگوئی کرنے والے مالیاتی اندازوں کے مطابق 2027 سے پہلے صدر کے مواخذے کا امکان تقریباً 13 فی صد ہے، جب کہ 2028 سے پہلے اس امکان میں اضافہ ہو کر تقریباً دو تہائی تک جا سکتا ہے تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں یہ معاملہ اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً اگر ڈیموکریٹک جماعت کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اگرچہ ڈیموکریٹک جماعت کے اندر مواخذے کے لیے دباؤ موجود ہے، تاہم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کیے بغیر صدر کو عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف جماعت طویل عرصے سے مواخذے کی بات کر رہی ہے، تاہم اس کے لیے درکار سیاسی حمایت موجود نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ مواخذے کی مسلسل بحث آئندہ انتخابات میں سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے اور جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 2 ہزار 300 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 162 روپے ہو گئی اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 1 ہزار 971 روپے بڑھنے کے بعد 4 لاکھ 22 ہزار 806 روپے ہو گئی جبکہ عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونے کا بھاؤ 23 ڈالرز اضافے سے 4708 ڈالرز فی اونس ہو گیا گزشتہ روز سونے کی قیمت میں 2900 روپے کی کمی ہوئی تھی۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 92 روپے مہنگی ہو کر 8 ہزار 49 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 79 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 75 اعشاریہ 65 ڈالر پر ٹریڈ کر رہی ہے، جو قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

  • اسحاق ڈار کا ترک وزیرِ خارجہ سے رابطہ

    اسحاق ڈار کا ترک وزیرِ خارجہ سے رابطہ

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فودان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب کو پاکستان کی جاری سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل رابطہ، مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے،گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار کا مصر کے وزیرِ خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، جس میں اہم علاقائی امور پر گفتگو کی گئی۔

  • چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

    دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کو 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود چرنوبل نیوکلئیر پاور پلانٹ ایک بار پھر عالمی خطرے کا مرکز بن گیا ہے یوکرین پر روسی حملے اور حالیہ ڈرون حملوں نے اس حساس مقام کی حفاظت پر مامور ‘نیو سیف کنفائنمنٹ’ نامی دیوہیکل حفاظتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے تابکاری کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون نے اس ڈھانچے کی چھت کو نشانہ بنایا، جس سے 15 مربع میٹر کا سوراخ ہو گیا، یہ ڈھانچہ، جو ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا، سنہ 1986 کے دھماکے سے تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے گرد بنائے گئے عارضی کنکریٹ کے تابوت (سارکوفیگس) کو ڈھانپنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پلانٹ کے ڈائریکٹر جنرل سرہی تاراکانوف کے مطابق، اس حملے سے ڈھانچے کے اندر نمی کنٹرول کرنے والا نظام تباہ ہوگیا ہے، جو اسٹیل کے اس ڈھا نچے کو زنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے اگر یہ ڈھانچہ کمزور ہو کر گرتا ہے، تو اس کے اندر موجود 180 ٹن سے زائد ایٹمی ایندھن اور تابکار گرد فضا میں شا مل ہوسکتی ہے، جو ایک بار پھر عالمی تباہی کا سبب بنے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے4 سالوں میں اس کی مکمل مرمت ضروری ہے، بصورتِ دیگر اس ڈھانچے کی 100 سالہ زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکے گی اس مرمت کے لیے تقریباً 50 کروڑ یورو درکار ہیں، جو جنگ زدہ یوکرین کے لیے ایک بھاری بوجھ ہےمرمت کا کام انتہائی خطرناک ہے کیونکہ متاثرہ مقام پر تابکاری کی سطح اتنی بلند ہے کہ ایک مزدور سال بھر میں وہاں صرف چند گھنٹے ہی کام کرسکتا ہے اس پیچیدہ کام کے لیے 100 سے زیادہ ماہر تعمیراتی عملے کی ضرورت ہے جو مختصر دورانیے کے لیے باری باری کام کرسکیں،روسی افواج نے 2022 کے حملے کے آغاز میں ہی اس مقام پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں خندقیں کھودیں، جس سے تابکار مٹی فضا میں بکھرنے کا خطرہ پیدا ہوا۔

    اگرچہ بعد ازاں روسی فوج وہاں سے نکل گئی، لیکن اب بھی روسی میزائل اور ڈرون اس علاقے کے قریب سے گزرتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثاتی یا دانستہ طور پر پلانٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں،اکتوبر 2024 سے اب تک بجلی کے گرڈ پر حملوں کی وجہ سے پلانٹ 4 بار مکمل بلیک آؤٹ کا شکار ہوچکا ہے، جس کے دوران ایٹمی فضلے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑا۔

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

  • پوڈ کاسٹ میں نامناسب سوالات، میرا انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلی گئیں

    پوڈ کاسٹ میں نامناسب سوالات، میرا انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلی گئیں

    پاکستانی اداکارہ میرا پوڈ کاسٹ میں پوچھے گئے ذاتی نوعیت کے سوالات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلی گئیں۔

    پاکستانی اداکارہ میرا ان دنوں اپنی آنے والی فلم سائیکو کی تشہیر میں مصروف ہیں جو عیدالاضحیٰ پر ریلیز کی جائے گی جبکہ فلم میں شان شاہد مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں فلم کی پروموشن کے سلسلے میں وہ مختلف انٹرویوز اور پوڈکاسٹس میں شرکت کر رہی ہیں حال ہی میں وہ سینئر صحافی و تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئیں، جہاں ان سے ذاتی اور متنازع سوالات کیے گئے۔

    رپورٹس کے مطابق میزبان کی جانب سے ماضی کی ذاتی زندگی اور افواہوں سے متعلق سوالات بار بار دہرائے گئے جس پر میرا نے گفتگو کو فلم کی طرف موڑ نے کی کوشش کی،تاہم میزبان نے حساس موضوعات کو جاری رکھاصورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب میزبان نے طنزیہ انداز اختیار کیا، جس پر میرا نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا۔

  • حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ایران سے متعلق تنازع کے حل سے الگ رکھا جانا چاہیے، حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے-

    صدرعون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ مذاکرات کسی بھی دیگر مذاکرات سے الگ ہوں گے کیونکہ لبنان کے سامنے دو راستے ہیں یا تو جنگ کا تسلسل، جس کے انسانی، سماجی، معاشی اور خودمختاری پر سنگین اثرات ہوں گے، یا پھر مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ اور پائید ار استحکام کا حصول۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ایران نے دونوں تنازعات کو آپس میں جوڑتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملے بند کرے، جسے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی شرط قرار دیا گیا ہےمیں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہوں گے۔

    لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کا مقصد مخالفانہ کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا اختتام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک لبنانی فوج کی تعیناتی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا اور مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کی جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطے جاری رہیں گے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ اسی ہفتے جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی ابتدائی مرحلہ سفیروں کی سطح پر ہوگا جب کہ دوسرے مرحلے میں سفیر سائمن کرم کی قیادت میں ایک وفد مذاکرات کرے گا۔

    دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ ہفتے پاکستانی ثالثوں کو بتایا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جامع جنگ بندی طے پاتی ہے تو اس میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے سرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنز سے دستبردار نہیں ہوگی، جب کہ 10 روزہ جنگ بندی اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے۔

  • بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار

    بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار

    وزارتِ توانائی اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے درمیان ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز کا معاہدہ طے پا گیا، جس کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

    سرکاری میڈیا رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں قریباً ایک کروڑ بجلی صارفین کو اسمارٹ میٹرز فراہم کیے جائیں گے،حکام کے مطابق اس اقدام سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے جبکہ توانائی کے شعبے کو ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو پاور سیکٹر اصلاحات کا حصہ ہے، ان اصلاحات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، بجلی چوری میں کمی لانا اور بلنگ میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مسابقتی عمل کے ذریعے اسمارٹ میٹرز کی لاگت میں قریباً 40 فیصد کمی حاصل کی گئی ہے نئے بجلی کنکشنز کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ روایتی میٹرز کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔

    حکام کے مطابق موجودہ تھری فیز، کمرشل اور صنعتی کنکشنز کو بھی مرحلہ وار اسمارٹ میٹرز میں تبدیل کیا جائے گا نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی منظوری کے بعد خراب میٹروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کو مزید تیز کردیا گیا ہےاسمارٹ میٹرز کے اجرا سےریکوری میں بہتری، لائن لا سز میں کمی اور مجموعی کارکردگی میں اضافہ متوقع ہے،یہ اقدام پاور سیکٹر کی مالی صورتحال کو مستحکم کرنے اور شفافیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • امریکا ایران مذاکرات: اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع موخر

    امریکا ایران مذاکرات: اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع موخر

    ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے،اس حوالے سے رائیونڈ کی شوریٰ کے اراکین اور بزرگوں نے ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشاورت کی،مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اجتماع کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کیا جائے،اب یہ اجتماع یکم، 2 اور 3 مئی کو جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز مسجد ابو القاسم، اسلام آباد میں منعقد ہوگا،اس سے قبل یہ اجتماع 24،25 اور 26 اپریل کو منعقد ہونا تھا۔