Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق

    ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق

    ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی خریدنے پر آمادہ ہوگئی، او زی گروپ کو سابقہ پارٹنرز کی دستبرداری کے سبب مالی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

    پی سی بی نے گزشتہ ماہ پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم کنگز مین کو ایک ارب 75 کروڑ جبکہ آٹھویں ٹیم او زی گروپ کو ایک ارب 85کروڑ روپے میں فروخت کی تھی، امریکی کمپنی نے تو وقت پر واجبات ادا کر دیے، البتہ آسٹریلوی گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا رہا نیلامی کے وقت ہی جب بڈز بڑھتی رہیں تو اوز ی کے پارٹنرز کو تشویش ہوئی، درمیان میں وقفہ لے کر فون پر دونوں کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جب بڈ جیت لی تو سیالکوٹ اور سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے دونوں پارٹنرز نے رقم زیادہ ہونے کا جواز دے کر دستبرداری اختیار کر لی۔

    او زی گروپ نے خاصی تاخیر سے بینک گارنٹی جمع کرائی جس سے معاہدہ ختم ہونے سے بچ گیا، البتہ فیس کی ادائیگی میں اسے مشکلات کا سامنا رہا، ایسے میں ایک نئی پارٹی کو 75 فیصد شیئرز فروخت کرنے پر اتفاق ہوا، اس کے اونر محمد شاہد سے رقم لیے بغیر ہی لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنس کا انعقاد بھی کر لیا گیا لیکن کچھ بھی نہ ملنے پر پھر نئے پارٹنر کی تلاش شروع ہوئی، اس پر جس پارٹی سے پہلے بات ہوئی تھی اس نے سنگین الزامات بھی عائد کیے، صور تحال میں پی سی بی کے پاس بینک گارنٹی کیش کراتے ہوئے معاہدہ منسوخ کرنے کا آپشن موجود تھا، البتہ درمیانی راہ نکالنے کی کوشش جاری رہی۔

    ذرائع نے بتایا کہ بڈنگ میں ناکام رہنے والی ایک پارٹی 90 فیصد سے زائد شیئرز لینے پر آمادہ ہو چکی، اس سے اوزی گروپ کا انتظامی معاملات پر کنٹرول ختم ہو جائے گا قوانین کے تحت تین سال سے قبل 100 فیصد شیئرز کی منتقلی ممکن نہیں ہے، اسٹریٹیجک پارٹنر کی صورت میں نئی پارٹی آ سکے گی، جب پی سی بی نے اپنے طور پر مزید تحقیقات کیں تو ایک اونر کے ماضی میں دیوالیہ ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا، البتہ نئی پارٹی مالی طور پر مستحکم نظر آتی ہے، آئندہ ہفتے اس حوالے سے کوئی اعلان متوقع ہوگا-

    دوسری جانب، وسیم اکرم نے تصدیق کی کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر نہیں رہے، ان کے مطابق کوئی معاہدہ نہیں ہوا صرف زبانی بات چیت ہوئی تھی۔

  • کوئٹہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث  سب ایجنٹ افغان شہریوں سمیت گرفتار

    کوئٹہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث سب ایجنٹ افغان شہریوں سمیت گرفتار

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کوئٹہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک سب ایجنٹ کے ہمراہ افغان شہری بھی گرفتار کرلیے ہیں۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق سب ایجنٹ ڈرائیور عرفان کو گرفتار کیا، جس کے ساتھ 8 افغان باشندے بھی پکڑے گئے ہیں، اس ضمن میں مرکزی ملزمان گل بدین اور غمائی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے،دونوں مرکزی ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد ہوا، جس سے واٹس ایپ چیٹس، تصاویر اور دیگر ریکارڈ حاصل کیے گئے ہیں، جو انسانی اسمگلنگ میں اس کے ملوث ہونے کے واضح شواہد فراہم کرتے ہیں،اس کارروائی میں استعمال ہونے والی گاڑی اور رکشہ کو بھی ایف آئی اے نے تحویل میں لے لیا ہے گرفتار سب ایجنٹ کے براہِ راست افغانستان میں موجود ایجنٹ تاج محمد اور کامل کے ساتھ رابطے ہیں،ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • دریائے کابل اور سندھ کے کنارے سونے کی کان کنی پر پابندی میں توسیع

    دریائے کابل اور سندھ کے کنارے سونے کی کان کنی پر پابندی میں توسیع

    خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی مختلف ضلعی حدود میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلیسر سونے کی کان کنی پر پابندی آئندہ 2 ماہ کے لیے بڑھا دی ہے۔

    ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ایجنسیوں سے موصولہ قابل بھروسہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی پلیسر سونا نکالنے کی کوششوں کے قوی امکانات ہیں،معدنیات کی ترقی کے سیکریٹری نے سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک اور ان کے ملحقہ علاقوں میں دسمبر میں عائد کردہ پابندی کو عوامی مفاد میں بڑھانے کی درخواست کی تھی۔

    ڈیپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ اگر ایسی غیر مجاز اور غیر منظم کوششوں کو جاری رہنے دیا گیا تو اس سے دریا کے کناروں کی شدید خرابی، پانی کے وسائل کی آلودگی، مقامی ماحول اور منظرنامے کی تباہی اور عوامی صحت و سلامتی کو براہِ راست خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان کوششوں سے قانون و انتظام کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، جیسے مقامی گروہوں کے درمیان دشمنیاں، مواد کی غیر قانونی نقل و حمل، کان کنی کے آلات کے لیے ایندھن کی سمگلنگ اور امن و امان کے لیے دیگر خطرناک سرگرمیاں، غیر قانونی کان کنی میں ملوث بعض عناصر منظم انداز میں کام کرتے ہیں، ان کے پاس قابلِ ذکر مالی وسائل ہیں اور وہ انتظامی و پولیس افسران کی کارروائیوں کی مزاحمت کر سکتے ہیں، جس سے عوام اور اہلکاروں کی حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سیکشن 144 کے تحت، دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک کے اضلاع اور ملحقہ متاثرہ علاقوں میں پلیسر سونا نکالنے اور کان کنی کی تمام سرگرمیوں پر پابندی آئندہ 60 دن کے لیے نافذ کی جاتی ہے ضلعی انتظامیہ اور پولیس اس حکم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرنے کے مجاز ہیں، بشمول آلات، گاڑیوں، مشینری یا کسی بھی مواد کی ضبطی، اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو پاکستان کے فوجداری قانون کی دفعہ 188 کے تحت سزا دی جائے گی۔

  • لڑکی بن کر شہریوں کو چنگل میں پھنسانے والے ملزمان گرفتار

    لڑکی بن کر شہریوں کو چنگل میں پھنسانے والے ملزمان گرفتار

    لاہور میں ہنی ٹریپ کا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا ، لڑکی بن کر شہریوں کو چنگل میں پھنسانے والے ملزمان گرفتار کر لئے گئے-

    ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق چند روز قبل لیاقت آباد کے علاقے میں عمیر نامی شخص کو ملزمان نے ٹریپ کرکے لوٹا تھا ملزمان لڑکی بن کر معصوم شہریوں کو اپنے چنگل میں پھنساتے تھے، لیاقت آباد پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے کہا کہ ملزمان ملنے کے بہانے شہریوں کو بلا کر حبس بے جا میں رکھتے اور موٹی رقم کا مطالبہ کرتے تھے۔ اے ٹی ایم فوٹیج میں ایک ملزم کو متاثرہ شخص کے ساتھ رقم نکالتے دیکھا جا سکتا ہے، ملزمان اویس اور علی رضا سے لوٹی گئی رقم، گھڑی اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا ہے ، گروپ میں کتنے لوگ شامل ہیں اور کتنے شہریوں کو لوٹا جا چکا ہے اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے، عوام الناس کے جان و مال کی حفاظت اولین تر جیح ہے۔

  • عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

    ہفتے کے روز ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان مشکلات میں سے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے عالمی طاقتیں بزدلی کے ساتھ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جس طرح آپ مشکلات کے سامنے نہیں جھکے، ہم بھی ان مسائل کے آگے نہیں جھکیں گے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب خلیج میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں جنگی طیارے خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔

    ایران اور امریکا نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور بھی ہوااگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ سفارتی حل ہماری پہنچ میں ہے اور ایران اگلے 2 سے 3 دن میں معاہدے کا مسودہ حتمی شکل دے کر واشنگٹن کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے تھے، تاہم جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تو یہ عمل منقطع ہو گیابعد ازاں امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں حصہ لیاجنوری میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد ٹرمپ نے نئی فوجی دھمکیاں جاری کیں تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور خلیج کی تیل برآمدات کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خطے میں جمع کی جانے والی امریکی فضائی طاقت 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہےحالیہ دنوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 120 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ پہلے سے بحیرۂ عرب میں موجود یوایس ایس ابراہام لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے۔

    ایران نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا کہ اس فوجی اجتماع کو ’محض بیان بازی‘ نہ سمجھا جائےایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘ہوسپٹل شپ’ گرین لینڈ بھیجنے کا اعلان

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘ہوسپٹل شپ’ گرین لینڈ بھیجنے کا اعلان

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بیمار افراد کی دیکھ بھال کے لیے‘ہوسپٹل شپ’ گرین لینڈ بھیجنے کا اعلان کیا ہے-

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ لیویزینا کے گورنر جیف لینڈری کے ساتھ مل کر گرین لینڈ کو ایک خصوصی جہاز بھیج رہے ہیں جو بطور اسپتال استعمال ہوگایہ جہاز گرین لینڈ میں بیمار افراد کی دیکھ بھال کے لیے روانہ کیا گیا ہے ، یہ جہاز راستے میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی نیوی کے پاس دو ایسے جہاز ہیں جو بطور اسپتال استعمال ہوتے ہیں لیکن یہ دونوں لیویزینا میں نہیں ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ کون سا جہاز روانہ ہوگا جبکہ وائٹ ہاؤس یا گورنر لینڈری کے دفتر نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا ڈنمارک یا گرین لینڈ نے یہ جہاز طلب کیا ہے یا یہ کس مخصوص طبی ضرورت کے لیے بھیجا جا رہا ہے امریکی وزارت دفاع نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کا یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب ڈنمارک کے شاہ فریڈرک نے حال ہی میں گرین لینڈ کا دوسرا دورہ کیا، جس کا مقصد گرین لینڈ کے ساتھ اتحاد کا پیغام دینا تھا، جبکہ ٹرمپ نے ماضی میں گرین لینڈ خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

  • ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں-

    پاکستان نے افغانستان میں جو بڑی سرجیکل سٹرائیکس کی ہے ان میں ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈڑوں کی نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں افغان طالبان اگرچہ جواب میں وہی روایتی جذباتی حربے استعمال کر رہے ہیں کہ گھروں ، عورتوں بچوں کو نشانہ بنایا، مسجد کو نشانہ بنایا وغیرہ فیک تصاویر بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ گھسے پٹے حربے ہیں افغان طالبان کے پالے ہوئے ٹی ٹی پی دہشت گرد پاکستان میں مساجد پر حملے کریں، عام آدمیوں کو نشانہ بنائیں، خواتین، بچے شہید ہوں، جوان نشانہ بنیں مگر ان دین کے نام نہاد ٹھیکے داروں طالبان کو کوئی پروا نہیں۔ پاکستان نے سٹرائیک کی تو اب واویلا شروع کر دیا۔

    ترجمان طالبان حکومت کی جانب سے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب افغانستان کے مشرقی علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور کارروائیوں کے بارے میں متعدد مرتبہ دستاویزی شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تشویش ظاہر کی جا چکی ہے پاکستان نے بار بار افغان علاقے سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کیا اور طالبان حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور نیٹ ورکس کو ختم کرے، جیسا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا۔ متعدد سرکاری و رسمی انتباہات جاری کیے گئے اور سیکیورٹی تعاون کے مکینزم کی تجاویز دی گئیں اس سے قبل کہ کوئی کارروائی کی جا ئے، سفارتی چینلز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ثالثی کے تمام امکانات استعمال کیے گئے۔

    پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ کارروائیاں کیں اور اپنی دفاعی حق کو جواز بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا۔ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے اصولوں کے مطابق، جب غیر ریاستی عناصر غیر ملکی علاقے سے حملے کرتے ہیں اور میزبان حکومت کارروائی میں ناکام رہتی ہے تو خود دفاع کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے حکمرانی میں ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی اور کارروائی کا موقع ملا ہے، جو ان کی موجودگی کے عوامی انکار کے برعکس ہے دہشت گرد نیٹ ورکس کی مسلسل سرپرستی یا برداشت نے ان کے دوبارہ گروہ بندی اور بیرونی حملوں کو ممکن بنایا ہے۔

    طالبان حکومت نے جان بوجھ کر ٹی ٹی پی کو مقامی آبادی میں آباد کیا جب بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ نشانہ بنایا جاتا ہے، طالبان حکومت فوری شہری نقصا نا ت کے دعوے کرتی ہے، بغیر کسی شفاف اور آزاد تصدیق کے اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار طالبان حکومت ہے، جس نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو شہری آبادی میں قائم رہنے دیا،پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی محض بیانیہ یا بیانات سے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کی شفاف طور پر تحلیل اور سرحد پار سیکیورٹی تعاون کے منظم اقدامات پر منحصر ہے۔

  • برمنگھم : مسجد کے باہر 18 سالہ مسلمان نوجوان کا چاقو  سےقتل ،2 زخمی

    برمنگھم : مسجد کے باہر 18 سالہ مسلمان نوجوان کا چاقو سےقتل ،2 زخمی

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں چاقو کے حملے میں 18 سالہ برٹش پاکستانی نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ جمعے کی شب نمازِ تراویح کے وقت اولڈبری جامع مسجد کی کار پارکنگ میں پیش آیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں حملے میں 19 اور 22 سال کے دو نوجوان زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ 18 سالہ نوجوان ذیشان افضل جانبر نہ ہو سکا –

    پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کو رات تقریباً 9 بجے سے کچھ پہلے سینڈویل کے سمیتھ وِک روڈ پر واقع جامع مسجد کے باہر جھگڑے کی اطلاع ملی،اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں،واقعے کے وقت رمضان المبارک کے باعث مسجد میں عشا کی نماز کی ادائیگی کے لیے اچھا خاصا رش تھا۔

    موقع پر متعدد ایمبولینسیں، ایک پیرا میڈک افسر اور ایئر ایمبولینس کی گاڑی بمعہ کریٹیکل کیئر پیرا میڈکس بھی موجود تھے ویسٹ مڈلینڈ پولیس نے واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے پولیس نے عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ معلومات فراہم کریں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے کو مذہبی یا نسلی بنیاد پر کیا گیا حملہ قرار نہیں دیا جا رہا سمیتھ وِک میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد قتل کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور علاقے میں دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • تیز رفتار ٹریلر اور پولیس وین میں تصادم، 5 پولیس اہلکار ہلاک  3 شدید زخمی

    تیز رفتار ٹریلر اور پولیس وین میں تصادم، 5 پولیس اہلکار ہلاک 3 شدید زخمی

    بھارتی ریاست اوڑیسہ کے جھارسوگڑا میں ایک تیز رفتار ٹریلر کے پولیس وین سے ٹکر مارنے کے واقعے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔

    حادثہ ادارش ویدیالا جھارسوگڑا کے سامنے، صدر پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا، پولیس اہلکار وین میں ڈیوٹی پر تھے کہ مخالف سمت سے آنے والے بھاری ٹریلر نے ان سے ٹکرا دیا،ہلاک ہونے والوں کی شناخت کشی رام بھوئی اور دیب ادوتا سا، نیرنجن کجور، لنگراج دھروہ اور بھکتابندھو مرڈھا کے طور پر کی گئی ہے۔

    مقامی افراد زخمیوں کو فوری طور پر امداد کے لیے اسپتال لے گئے 5 اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 3 زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ،ز خمیوں میں سے 2 کی حالت بگڑنے پر انہیں ویمسار میڈیکل کالج، بورلا اور بعد میں پرائیویٹ اسپتال، بارگارہ منتقل کیا گیا زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    حادثے کے دوران ٹریلر کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا اور اسے جھارسوگڑا کے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہےجھارسوگڑا کے ایڈیشنل ایس پی مدھوسکتا مشرا نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور سینئر پولیس افسران نے حادثہ گاہ کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔