Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ظل شاہ کی والدہ نے پی ٹی آئی کو بیٹے کا قاتل قرار دے دیا

    ظل شاہ کی والدہ نے پی ٹی آئی کو بیٹے کا قاتل قرار دے دیا

    لاہور: ظل شاہ کی والدہ نے پاکستان تحریک انصاف کو اپنے بیٹے کا قاتل قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ظل شاہ کی والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا عمران خان پر قربان ہو گیا جب سے عمران خان کو چوٹ لگی میرا بیٹا دن رات وہیں بیٹھا رہتا تھا ان کو چاہیئے تھا اس کی حفاظت کرتے انہوں نے کیا کیا اتنا کچھ ہو گیا مار دیا ڈالے گھمائے یاسمین راشد نے انہیں کال کی بجائے ان کو کال کرنے کے یاسمین راشد اسپتال جاتی-

    ظل شاہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ اپنے ان کے بچے حفاظت سے ہیں میرا بچہ ان کے لئے قربان ہو گیا جب سے عمران خان کو چوٹ لگی میرا بیٹا گھر نہیں آتا تھا کہتا تھا میرے ووٹ سے جیتے گا اس کو میری وجہ سے آرام آئے گاہمیں انصاف چاہیئے ہمیں ہمارا بیٹا چاہیئے بس میرا انہیں پیغام پہنچا دیں-

    جاں بحق کارکن کی والدہ نے کہا کہ مجھے تسلی نہیں ہے اس قدر بے دردی سے میرے بیٹے کا قتل کیا یہ سب سازش کے تحت ہوا ہے اس وقت سب کچھ اکٹھا ہو گیا اتنے لوگ مرتے ہیں کسی کا پتہ نہیں ہوتا میرے بیٹے کا انہوں نے سب کچھ بائیو ڈیٹا نکال لیا وہاں مر گیا اسپتال میں چلا گیا دس پندرہ منٹ میں میرے میاں کو بھی پتہ چل گیا یہ اتنا سب کچھ تحریک انصاف والوں نے کیا مجھے بس عمران خان سے یہی کہنا ہے کہ مجھے میرا بیٹا دے دے اس کی بڑی مہربانی ہو گی-

    انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا اس کی حفاظت کے لئےگیا لیکن انہوں نے میرے بچے کی کوئی حفاظت نہیں کی آپ خود ہی دیکھ لیں آپ خود دیکھ لیں میرے بچے کی کون سی حفاظت کی انہوں نےمجھ سےمیرا جوان بچہ چھین لیا میں اپنےبچےکو کہتی ہوتی تھی بلال نہ جاؤ کہتا نہیں امی میں اپنے گھر کے لئے جا رہا ہوں آپ مجھے مت روکو میرے ووٹ سے وہ وزیراعظم بنے گا اتنا یقین تھا ا س کامیں اسے ڈانٹ بھی دیتی تھی اور ایک دو مرتبہ اسے تھپڑ بھی مارا س اسے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گی بس اسے (عمران خان) کہیں میرا بیٹا لادے-

  • ہنگامی لینڈنگ کرنیوالاغیر ملکی طیارہ 2 روز بعد کراچی سے دبئی روانہ

    ہنگامی لینڈنگ کرنیوالاغیر ملکی طیارہ 2 روز بعد کراچی سے دبئی روانہ

    کراچی ائیرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے والے غیر ملکی ائیرلائن کے طیارے کو نقص دور کرکے دبئی روانہ کردیا گیا،فنی خرابی کا شکار طیارہ 52 گھنٹے کراچی ائیرپورٹ پر موجود رہا۔

    باغی ٹی وی : ایوی ایشن ذرائع کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 334 جناح ائیرپورٹ سے 10 مارچ کی صبح 10:07 بجے دبئی کیلئے روانہ ہوئی تو اڑان کے چند سیکنڈ بعد ہی طیارے کے ایک انجن سے شدید غڑغڑاہٹ کی آوازیں آنے پر پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرول کو ہنگامی صورتحال سے آگاہ کیا۔

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    ائیر ٹریفک کنٹرول کی ہدایت پر روانگی کے ٹھیک 11 منٹ بعد پائلٹ نے طیارے کو جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی پر 10:18 بجے بحفاظت اتار لیا تھا۔ جہاز میں سوار تمام 168 مسافر محفوظ رہے جنہیں 9 گھنٹے بعد متبادل پرواز سے منزل کی جانب روانہ کیا گیا تھا۔

    ایوی ایشن حکام کے مطابق بوئنگ 737 طیارے کے انجن کے پنکھے کے تین بلیڈ ٹیڑھے ہوگئے تھے جن کی مرمت کا کام گزشتہ روز مکمل کرلیا گیا تھا۔

    پاکستان مخالف بیانیہ؛ میجر (ر) عادل راجہ کی پنشن مکمل طور پر روک دی گئی

    رجسٹریشن OK-TVX کا حامل 17 سال پرانا یہ طیارہ پرواز ایف زیڈ 8088 کے طور پر اتوار کی دوپہر 2:08 بجے کراچی سے دبئی کیلئے روانہ ہوگیا۔

  • ضمیر بیچ کر پارلیمان میں آنے والے کس طرح مسائل حل کریں گے،شاہد خاقان،اگر عدلیہ اور فوج اپنا کام کرے تو سیاست میں میچورٹی آسکتی ہے،مفتاح اسماعیل

    ضمیر بیچ کر پارلیمان میں آنے والے کس طرح مسائل حل کریں گے،شاہد خاقان،اگر عدلیہ اور فوج اپنا کام کرے تو سیاست میں میچورٹی آسکتی ہے،مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے اگر عدلیہ اور فوج اپنا کام کرے تو سیاست میں میچورٹی آسکتی ہے ،سابق وزیر اعظم اور سینئیر رہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے معیشت کا تو نہیں معلوم لیکن سیاست کا دیوالیہ نکل چکا ہے-

    باغی ٹی وی: کراچی میں نیشنل ڈائيلاگ آن ری امیجنگ پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا عدلیہ آئین کے حساب سے نہیں اپنی منشا کےحساب سے کام کرتی ہے، کبھی آئین کی پاسداربن جاتی ہے، کبھی ڈاکٹرائن اور کبھی ججز ہم خیال ہو جاتے ہیں حکومت کا کام پولیس اسٹیشن اور کورٹ چلانا ہے پیٹرول پمپس چلانا نہیں۔

    میری گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے،عمران خان

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ہر شخص سوال کررہا ہے کہ مسائل کا حل کیسے نکلے گا، مجھے معیشت کا تو نہیں معلوم لیکن سیاست کا دیوالیہ نکل چکا ہے، یہ جو کچھ ہورہا ہے صرف اس حکومت یا پچھلی حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فیصلوں کے تسلسل آئین شکنی کا نتیجہ ہے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کا نوجوان مایوس ہے اور یہ سب سے خطرناک بات ہے، ہم معیشت کو مل کر بہتر کرلیں گے مگر اس کے لیے سب کو آگے بڑھنا اور ساتھ چلنا ہوگا، میں بھی اس نظام کا حصہ رہا 35 سال خود کو بھی ملزم سمجھتا ہوں، اس نہج پر پہنچے ہیں تو صفائی دینے کے بجائے قبول کریں سب اس میں شریک ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ آئین اس سال 50 سال کا ہوجائے گا، کون سی شق ہے جو ہم نے نہ توڑی ہو، جتنا مفصل آئین پاکستان کا ہے کسی ملک کا نہیں، اس کے باوجود ہر وقت اس کی تشریح کرتے رہتے ہیں، ہر آئینی عہدے کا حلف بھی آئین میں تحریر ہے۔ اس موقع پر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس حلف کی پاسداری کی ؟-

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے …

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہمارے یہاں فہرستیں بنتی ہیں اور واضح کیا جاتا ہے کہ جو حکم مانے گا وہ پارلیمنٹ کا رکن ہوگا، ضمیر بیچ کر پارلیمان میں آنے والے کس طرح مسائل حل کریں گے، پارلیمان کو کرپٹ کردیا تو کس سے توقع کریں کہ مسائل حل کرے گا، ہم تو خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں، ملک کے مسائل حل کرنے والو کو پارلیمان جانے سے روکیں تو مسائل کیسے حل ہوں گے-

    انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے احتساب کے لیے آمروں نے ادارہ بنایا مگر اُن کے کسی ایک آدمی کا احتساب نہیں ہوا، نیب کی وجہ سے کوئی افسر کام کرنے کو تیار نہیں، جو دو ادارے نیب سے مستشنیٰ ہیں اُن کے ہی ریٹائرڈ لوگوں کو قومی احتساب بیورو کا سربراہ لگایا جاتا ہے۔

    شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ ’ہر رکن پارلیمان بتائے اُس خرچہ کہاں سے پورا ہوتا ہے، جب سیاست دان خود ٹیکس ادا نہیں کرتے تو وہ دوسروں پر ٹیکس نافذ کرنے کی ہمت کیسے کرسکتے ہیں جبکہ ہر شناختی کارڈ کا حامل پوٹینشل ٹیکس گزار ہےملک میں صرف نوکری پیشہ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں اور کوئی نہیں کرتا ملک کو بہتر کرنے کے لیے کوئی معجزہ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں فیصلے کرنے ہوں گے اور سب سے پہلا فیصلہ آئین کی پاسداری، ٹیکس ادائیگی کا ہونا چاہیے، اس کے بعد پانی کی قلت سمیت دیگراہم مسائل پر بھی غور کرنا چاہیے-

    پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ملک میں معاشی بحران ہے، ہم سری لنکا نہیں ہیں، ملک ڈیفالٹ ہوا تو یہاں لوگ آگ لگائیں گے، یہاں سب کے پاس مسلح جھتے ہیں، ہمیں ملک سے نفرتیں ختم کرنی ہیں-

  • میری  گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار  ہے،عمران خان

    میری گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے،عمران خان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے۔

    عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ویسے تو ملکی مسائل کا واحد حل فوری اور شفاف انتخابات ہیں اگر الیکشن کے علاوہ بھی ملک کو دلدل سے نکالنے کا کوئی راستہ ہے تو وہ بتا دیں ملک میں اس وقت خوف کا نظام قائم ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کس نےفیصلہ کیا کہ عمران خان کو نہیں آنے دینا، ملک میں ایک ہی وفاقی پارٹی رہ گئی ہے ، آپ مجھے ختم کریں گے تو ملک کو اکٹھا کون کرے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے …

    ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ جنہوں نے این آر او لیا ان کو مجھ سے خطرہ تو ہونا ہی ہے، ملک کا کوئی قانون ہے یا اسے ملکہ کے حکم پر چلانا ہے؟ اختلاف کرتے ہیں تو اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اداروں سے لڑائی کریں گے، مجھے نظر آرہا ہے کہ صرف عدلیہ ہی ملک کو تباہی سے بچا سکتی ہے-

    ان کا کہنا تھا کہ جام پورکے الیکشن سے ان کی کانپیں ٹانگنے لگی ہیں، ان کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کسی طرح الیکشن سے نکلو، ان کا پلان تھا ہم سب کو باہر کرکے الیکشن کراتے، آج جتنے لوگ تھے مجھے خوف ہوا کہ نکلے تو خون خرابہ ہو گا، ہم عدالت کے پاس جا رہے ہیں کہ ہمیں عدلیہ سے آر اوز چاہئیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں کوئی قانون ہے یا ملکہ کے حکم پر چلنا ہے، میرا بھی لندن میں فلیٹ تھا اُس پر نواز شریف مجھے عدالت لے گیا ، میں نے اپنے فلیٹ سے متعلق ایک ایک دستاویز پیش کیے۔

    پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آزاد آدمی ہوں اور کسی کا غلام نہیں بن سکتا اگر یہ ہم سے بہتر معیشت چلاتے تو میں چپ کرکے الیکشن کا انتظار کرتا ان کے پاس جو غیر قانونی دولت ہے اس کا ابھی تک جواب نہیں دیا، جو ملک کا پیسے چوری کر کے باہر لے گئے وہ کیسے ملک ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مریم نواز کو جلسوں کی اجازت ہے ہمیں نہیں، کیا یہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہے؟ ن لیگ کا بیڑا غرق میری وجہ سے نہیں ہو رہا بلکہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی کو اوپر بٹھا دیا ہے، ن لیگ کے پرانے لوگ اس خاتون سے آرڈر لیں گے جس نے ایک گھنٹہ کام نہیں کیا، وہ ہر دوسرے روز ایسی بات کر دیتی ہے جو ہمارا فائدہ کراتی ہے گرفتاری کی صورت میں پلاننگ تیار ہے، وقت پر بتائیں گے-

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا میں نے کبھی نہیں کہا کہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو آرمی چیف بناؤ، یہ گیم اپنا کھیل رہے تھے اور مجھے استعمال کیا جا رہا تھا یہ لیول پلئینگ فیلڈ اسے کہتے ہیں کہ دوسرے کے ہاتھ باندھ دو اور اگلے کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دو۔

    سستی روٹی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

  • وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    اسلام آباد:حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کر دیا-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ریکارڈ اپلوڈ کردیا وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002ء سے 2023ء تک کا 466 صفحات پرمشتمل ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردیا تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

    ریکارڈ کے مطابق سابق صدر مملکت پرویز مشرف، سابق وزرائے اعظم شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، نوازشریف، راجہ پرویز اشرف اور عمران خان سمیت دیگر کے نام شامل ہیں جبکہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپلوڈ کیا گیا ہے۔

    وزرائے اعظم کے علاوہ وفاقی وزرا، اعلی حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔ کم مالیت کے بیشترتحائف وصول کنندگان نے قانون کےمطابق بغیر ادائیگی کےہی رکھ لیے کیونکہ 2022ء میں 10 ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا۔

    علاوہ ازیں 10 ہزار سے 4 لاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فیصد رقم کی ادائیگی کے ساتھ رکھنے کی اجازت تھی جبکہ 4 لاکھ سے زائد مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کیا اجازت تھی۔

    رواں سال 2023 میں موجودہ حکومت نے 59 تحائف وصول کیے ہیں ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال 2022 میں توشہ خانہ میں 224 تحائف موصول ہوئے، 2021 میں 116 تحائف، 2018 میں 175 تحائف اور 2014 میں 91 جبکہ 2015 میں 177 تحائف حکومتی ذمہ داران نے وصول کیے۔

    جنرل (ر) پرویز مشرف

    ریکارڈ کے مطابق 2004 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، 2005 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورجیولری بکس ملے جو انہوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔

    سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو 6 اپریل 2006ء کو ساڑھے16 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ اگست2007 کو بیگم صہبا مشرف کو ملنےو الے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ 3 اپریل 2007 کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو 14 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔

    شوکت عزیز

    سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو 2005 میں ساڑھے 8 لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو 3 لاکھ 55 ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انہوں نے سینکڑوں تحائف 10 ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائیگی رکھ لیے تھے۔

    شوکت عزیز کو 27 ستمبر 2007 کو ملنے والی گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی، بیس دسمبر دوہزار چھ کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے جو رکھ لئے گئے جبکہ 2006ء میں انہوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں دے دیے۔ اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006ء کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006ء کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو18 لاکھ روپے کے تحائف بھی ملے24 فروری 2010 کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی۔

    اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005ء میں گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔

    ظفر اللہ خان جمالی

    سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں نصب کروایا جبکہ ظفر اللہ خان جمالی کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 26 لاکھ 34 ہزار 3 سو ستاسی روپے لگائی گئی۔

    ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2006ء کو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو تحائف ملے جو انہوں نے 10 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیے جبکہ مئی 2006 میں سابق وزیرخزانہ عمر ایوب نے ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں دی 16 اگست 2006 کو جہانگیر ترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروایا۔

    آصف علی زرداری

    ریکارڈ کے مطابق دودسمبر 2008 کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ مالیت کی گھڑی کی ادائیگی کرکے خود رکھ لی جبکہ 26 جنوری2009 کو سابق صدرآصف علی زرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

    آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں 2 کروڑ 2 لاکھ روپے سے زائد ادا کر کے خود رکھ لیں۔ 28 اکتوبر2011 کو آصف زرداری نے 16 لاکھ 15ہزار کے تحائف رکھ لیے جبکہ11 مارچ 2011 کو آصف زرداری کوملنے والے تحائف کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد لگائی گئی، 13 جون 2011 کو 16 لاکھ مالیتی تحائف ادائیگی کر کے رکھ لئے۔ اس کے علاوہ15 اگست 2011 کو آصف زرداری نے 847,000 روپے کے تحائف خود رکھ لیے۔

    یوسف رضا گیلانی

    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ۔ 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انہوں نے 6 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا جبکہ انہوں نے 21 لاکھ روپے ادائیگی کر کے جیولری باکس رکھ لیا۔

    یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفہ میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔ 17 اکتوبر2011 کو یوسف رضاگیلانی نے انیس لاکھ روپے کے تحائف خود رکھ لئے۔

    دستاویز کے مطابق سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو 29 فروری 2010 میں سات لاکھ کی گھڑی ملی جو انہوں نے توشہ خانہ میں دے دی،28 دسمبر2010 کو صحافی رئوف کلاسرا نے ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔ 5 ستمبر2011ء کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے20 ہزار کا کارپٹ توشہ خانہ میں جمع کروایا اور22 دسمبر2011 کو چودہری پرویز الہی نے چار لاکھ سے زائد کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے۔

    نواز شریف

    میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 42 لاکھ 55 ہزار 9 سو 19 روپے لگائی گئی تھی، 20 اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار6 لاکھ 36 ہزار 8 سو 88 روپے ادا کر کے رکھ لی-

    دستاویز کے مطابق نوازشریف نے43ہزار روپے کا گلاس سیٹ اور کارپٹ 6ہزارمیں رکھے، نوازشریف نے وزیراعظم ہوتے ہوئے12لاکھ کی گھڑی ،کف لنک 2 لاکھ 40 ہزار دے کر رکھے، توشہ خانہ سے نوازشریف نے 8 ہزار کا گلدان مفت میں رکھ لیا۔

    شہباز شریف

    وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو15 جولائی 2009ء میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ 10 جون 2010 کو سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے 40 ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں-

    شہباز شریف نے گائے کا ماڈل، صراحی، وال ہنگنگ، باؤل اور خنجر مفت میں رکھ لیے جبکہ گائے کا ماڈل 8ہزار، صراحی 25ہزار، وال ہنگنگ 17ہزار اور خنجر50ہزار روپے مالیت کے تھے۔

    دستاویز کے مطابق شہبازشریف نے بُک لیٹ 10ہزار، اسٹیڈیم ماڈل 15ہزار توشہ خانہ سے لے کر مفت میں رکھ لیا، شہبازشریف نے پلیٹ کے ساتھ صراحی22ہزار روپے اور آنکس پلیٹ جس کی مالیت 2200روپے تھی فری میں رکھ لی۔

    شہبازشریف نے گھوڑے کا 28ہزار روپے مالیت کا دھاتی مجسمہ فری میں رکھ لیا، شہباز شریف نے چاکلیٹ اور شہد 12ہزار، جار10ہزار روپے کا فری میں رکھ لیا، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے 4لاکھ روپے مالیت کا طلائی گلدان توشہ خانہ سے لیا، انہوں نے طلائی گلدان کیلئے ایک لاکھ 85 ہزار روپے ادائیگی کی، اس کے علاوہ انہوں نے2013 میں بطور وزیراعلیٰ 35ہزار کاڈیکوریشن پیس 5ہزار میں لیا۔

    دستاویز کے مطابق شہباز شریف نےکپ طشتری باؤل 10ہزار، قالین 30ہزارکافری میں رکھ لیاعربی کافی دان 26ہزار،عربی قہوہ دان26ہزار کا فری میں رکھ لیا، مریم نواز،کلثوم اور نوازشریف نے پائن ایپل کا باکس مفت میں رکھا۔

    شاہد خاقان عباسی

    ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انہوں نے 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    ریکارڈ کے مطابق 2018 میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ علاوہ ازیں 2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئیر وسیم کو20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انہوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کےقیمتی تحائف موصول ہوئے، سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک عدد ڈائمنڈ گولڈ گھڑی مالیت 8کروڑ 50 لاکھ تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی، کلف لنکس مالیت56 لاکھ 70 ہزار روپے، ایک عدد پین مالیت 15 لاکھ روپے، ایک عدد انگوٹھی جس کی مالیت87 لاکھ 5 ہزار ہے، یہ تمام چیزیں 2 کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے میں خریدیں۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے عود کی لکڑی سے تیارشدہ بکس اور2 پرفیوم مالیت 5 لاکھ روپے جو بغیر ادائیگی کے حاصل کیں۔ ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 15 لاکھ روپے صرف2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کی گئی۔

    دستاویز کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک رولیکس گھڑی مالیت9 لاکھ روپے ادا کیے، ایک اور لیڈیز رولیکس گھڑی مالیت 4 لاکھ، ایک آئی فون مالیت 2 لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے، عمران خان نے دو جینٹس سوٹس مالیت 30 ہزار،4 عدد پرفیوم مالیت 35 ہزار،30 ہزار،26ہزار،40 ہزارروپے دیے۔

    دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک پرس مالیت 6 ہزار،ایک لیڈیز پرس مالیت18 ہزار، ایک عدد بال پین مالیت28 ہزار روپے ہے، عمران خان نے صرف3 لاکھ 38 ہزار 600 روپے ادا کرکے حاصل کیے۔

    ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ 27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیئے تھے۔

    صدر عارف علوی

    صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں 1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انہوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔ اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔

    وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انہوں نے رقم ادائیگی کے بعد رکھ لی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے ملاقات

    لاہور: نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو شاباش دی-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق محسن نقوی سے پی ٹی آئی کاکرن ظل شاہ کی مورت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی ملاقات ہوئی ملاقات میں چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اورسی سی پی او بھی موجود تھے۔


    ملاقات میں وزیراعلیٰ نے پولیس ٹیم کی کارکردگی کوسراہا اورشاباش دی اور کہا کہ آپ نے محنت، پیشہ ورانہ انداز سے کم وقت میں اندھےکیس کا سراغ لگایا، حکومت آپ کی کارکردگی کو سراہتی ہے جاں بحق شہری کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی ہم سب کی ذمہ داری ہے، آپ نے پہلے بھی انصاف کے تقاضے پورے کیے، آئندہ بھی پورے کریں گے۔


    واضح رہے کہ لاہور میں جاں بحق ہونے والے کارکن سے متعلق پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہےکہ علی بلال کی موت پولیس کے تشدد سے ہوئی بعد ازاں پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کارکن علی بلال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ کارکن کی موت گاڑی کی ٹکر سے ہوئی۔

    لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کارکن علی بلال کی موت پولیس تشدد سے نہیں گاڑی کی ٹکر سے ہوئی، جس گاڑی میں اس کی لاش اسپتال لائی گئی اس کا مالک پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کا رکن راجا شکیل ہے، اسی نے یاسمین راشد کو معلومات دی کہ گاڑی سے بندہ ہٹ ہوا، یاسمین راشد نے راجا شکیل کو کہا آپ میرے ساتھ کل زمان پارک چلیں، ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، وہاں یہ سازش رچائی گئی۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، یاسمین راشدزمان پارک کےاندرگئیں اورباہر آکر راجاشکیل کوکہاکہ بے فکر ہوجائیں۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شہری لیاقت علی نے اپنے بیٹے علی بلال کی موت کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی ، فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس تشدد کے شواہد ملے تو مکمل کارروائی کی جائے گی سوشل میڈیا پر پھیلائی جانےوالے ویڈیو جعلی ہے، کالے رنگ کی گاڑی سروسز اسپتال آنے کی ویڈیو رپورٹ ہوئی ہے-

    انہوں نے کہا تھا کہ بلال کی لاش 6 بج کر 52 منٹ پر سروسز اسپتال میں چھوڑی گئی، گاڑی 31 کیمروں کی مدد سے جی پی ایس کی مدد سے وارث شاہ روڈ سے برآمد کی، گاڑی کے ڈرائیور کا نام جہانزیب اور مالک کا نام راجا شکیل ہے، اس شخص کو مارنے کی سازش نہیں تھی، ظل شاہ کے والد سے وعدہ ہےکہ انہیں تمام شواہد پیش کریں گے۔

  • پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    پاکستان تحریک انصاف نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز کے مطابق کل دوپہر 2 بجے زمان پارک سے داتا دربار تک ریلی نکالی جائے گی ریلی زمان پارک سے علامہ اقبال روڈ، ریلوے اسٹیشن سے داتا دربار پہنچے گی اور ریلی کی قیادت عمران خان کریں گے۔

     

    قومی اسمبلی؛37 نشستوں پر ضمنی انتخابات منسوخ کردیئے گئے

    خیال رہے کہ عمران خان نے آج لاہور میں ریلی کا اعلان کیا تھا عمران خان کی جانب سے آج ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ر ینجرز کو طلب کر لیا تھا۔

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانےکی آزادی ہے، ہم نے آج کے لیے ریلیاں اور سیاسی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔

    آئی فونز میں اردو نستعلیق کس نے شامل کروایا تھا؟

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ لاہور میں پی ایس ایل کرکٹ میچ، ٹیم کی نقل و حرکت اور میراتھن ہے، اس حوالے سے تمام منصوبہ بندی کی گئی تھی اور بہت پہلے اعلان کیا گیا تھا۔

    تاہم صوبائی نگران حکومت نے پی ایس ایل کی وجہ سے دفعہ 144 نافذ کی جس کے بعد آج کی ریلی ملتوی کی گئی۔

    ضلع خیبر؛ پہاڑی تودہ گرنے سے 3 مزدور جاں بحق

  • سستی روٹی  سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    سستی روٹی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    لاہور: سوشل میڈیا پر سستی روٹی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے #سستی-روٹی کے نام سے ٹرینڈ لانچ کیا گیا،جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے حصہ لیا –

    اس موقع پرسوشل میدیا صارفین نے مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے عملی اقدامات کر رہی ہے-

    صج پورے پاکستان میں مرکزی مسلم لیگ کے تحت سستی روٹی کے تندور لگا کر بغیر منافع کے سستی روٹی فراہم کی جارہی ہے ۔جو سفید پوش گھرانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا قدم ہے-

    سوشل میڈیا پر ایک عبداللہ نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سستی روٹی ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ اگر مرکزی مسلم لیگ جیسی ایک نئی سیاسی جماعت یہ کام کر سکتی ہے تو پھر سالوں پرانی سیاسی جماعتوں کیلئے عوام کیلئے ایسا کچھ کرنا تو کوئی مشکل ہی نہیں-جس کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #سستی-روٹی ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا-


    https://twitter.com/AmraButt11/status/1634940770166915075?s=20

  • لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کیخلاف پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرا دی

    لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کیخلاف پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرا دی

    لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد نے چیف الیکشن کمشنر کو درخواست دے دی۔

    باغی ٹی وی:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر بابر اعوان نے درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کر دی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں انتخابی شیڈول جاری کرچکا ہے۔ قانون کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کی اجازت ہوتی ہے-

    درخواست میں کہا کہ پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے دوسری مرتبہ دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا 8 مارچ کو پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے کارکنوں پر تشدد کیا گیا۔ پولیس تشدد کے باعث ظل شاہ کی شہید جبکہ کئی کارکنان زخمی ہوئے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت دفعہ 144 کا نفاذ کرکے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیرا 15 کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت پی ایس ایل میچ کو جواز بنا کر ریلی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    
    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نگران پنجاب حکومت کا ایسا رویہ بڑے سیاسی سانحے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔پی ٹی آئی کی ریلی 2 بجے جبکہ پی ایس ایل کا میچ 7 بجے ہوگا۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن دفعہ 144 کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دے۔پی ٹی آئی کو الیکشن مہم کیلئے ریلی نکالنے کی اجازت دی جائے۔

    الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کا بہانا بنا کر نگراں حکومت نے پابندی لگا دی جوکہ دو عدالتوں کی کھلی توہین ہے۔ سپریم کورٹ نے 90 دنوں میں انتخابات کا حکم دیا ہے لہٰذا الیکشن کمیشن انتخابات ممکن بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

    انہوں نے کہا کہ نگران حکومت انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پہلی ریلی میں ظل شاہ کی موت ہوئی، ظل شاہ اور ارشد شریف کے موت میں ایک ہی طریقہ واردات استعمال ہوا۔

  • مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریکیں چلانے والےآج کیوں خاموش ہیں،سراج الحق

    مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریکیں چلانے والےآج کیوں خاموش ہیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نےکہا ہےکہ مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریکیں چلانے والے پی ڈی ایم کے رہنما آج مہنگائی پرکیوں خاموش ہیں-

    باغی ٹی وی: کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئےسراج الحق کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھاکہ کپڑے بیچ دوں گا لیکن ان کے کپڑے تو سلامت ہیں آج قوم بے لباس ہو چکی ہے،مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریکیں چلانے والے پی ڈی ایم کے رہنما آج مہنگائی پرکیوں خاموش ہیں؟-

    عمران خان کا سینئیر امریکی رکن سے ٹیلیفونک رابطہ

    انہوں نےکہا کہ نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے آج عوام دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوگئے ہیں، لوگوں نے تو مسکرانا بھی چھوڑ دیا ہے رمضان کی آمد کے موقع پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نیب کے دفاتر موجود تو ہیں لیکن وہاں مکھیاں ما ری جا تی ہیں، بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضا فہ کرکے عوام کو جھٹکا دیا گیا ہے، تین افراد کے قتل میں ملوث سر دار کو تو ضمانت دے دی گئی لیکن مولانا ہدایت الرحمان کو رہا نہیں کیا جا رہا ہے-

    لاہور قلندرز کو بولنگ کی وجہ سے دوسری ٹیموں پر برتری حاصل ہے

    سراج الحق نے کہا کہ بلو چستان کا کوئی بلوچ بھی سی پیک کے خلاف نہیں بس وہ یہی کہتا ہے کہ سی پیک سے بلو چستان کو بھی فائد ہ حاصل ہو نا چاہیے۔