Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ڈونلڈ ٹرمپ پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان

    ڈونلڈ ٹرمپ پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان

    نیویارک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اداکارہ کو رقم دینے کے معاملے پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فرد جرم عائد کی جائے گی مین ہیٹن کی عدالت کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کیے گئے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر حامیوں کو احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    واضح رہے کہ کسی بھی سابق امریکی صدر پر مجرمانہ الزام کا امریکی تاریخ کا یہ پہلا کیس ہو گا ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کارکنوں کے نام ایک پوسٹ میں اپنی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کر رکھی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں 2016 میں فحش فلموں کی اداکارہ اسٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ ڈالر کی رقم ادائیگی کی تحقیقات کے نتیجے میں منگل کو گرفتار کیا جائے گا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق نیویارک عدالت کی گرینڈ جیوری کی جانب سے سابق صدر ٹرمپ پر پیر یا بدھ کو فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے، مین ہیٹن کی عدالت کے اطراف سکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے۔

    نیویارک میئرایرک ایڈمز کا کہنا ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر تبصروں کی نگرانی کر رہے ہیں، محکمہ پولیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا معمول کا کردار ادا کر رہا ہے کہ شہر میں کوئی نامناسب کارروائی نہ ہو، ہمیں یقین ہے کہ ہم ایسا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

    چینی صدر روس کے دورے پر ماسکو پہنچ گئے

    فرد جرم عائد ہونے کی صورت میں ٹرمپ کا کیس کسی بھی موجودہ یا سابق امریکی صدر پر مجرمانہ الزام لگنے کا امریکی تاریخ کا یہ پہلا کیس ہوگا ٹرمپ کے وکلا کے مطابق اگر سابق امریکی صدر پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے تو ان کی گرفتاری کے لیے چند طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔

    فرد جرم عائد ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا میں واقع اپنے گھر سے نیویارک سٹی کورٹ ہاؤس میں پیشی کے لیے روانہ ہوں گے اس کے بعد ممکنہ طور پر ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اور ٹرمپ کی ٹیم کے درمیان بات چیت ہوگی،ایک بار جب مقدمہ درج اورجج کا انتخاب ہوجائے گا تو دیگر تفصیلات جیسے کہ مقدمے کا وقت اور ممکنہ سفری پابندیاں اور ضمانت کے طریقے سامنے آ جائیں گی۔

    علاوہ ازیں فرد جرم کے بعد ٹرمپ پر جرمانہ ہوسکتا ہے جبکہ اگر ٹرمپ کو سزا سنائی گئی تو انہیں زیادہ سے زیادہ 4 سال قید کا سامنا کرنا پڑے گا، حالانکہ کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمانے کا زیادہ امکان ہے۔

    دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟

  • انسداد دہشت گردی:عمران خان  کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    انسداد دہشت گردی:عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی: اے ٹی سی اسلام آباد میں عمران خان کی تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،جج راجہ جواد عباس نے درخواست کی سماعت کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست اے ٹی سی اسلام آباد میں دائرکر دی –

    عمران خان کےخلاف پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری

    دوران سمات وکیل نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گزشتہ پیشی سب کے سامنے ہے-

    جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ پوری قوم نے دیکھا لیکن ہم نے نہیں دیکھا ہماری کیبل نہیں چل رہی تھی، وکیل نے کہا کہ عمران خان نے آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے،عمران خان نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ ہزاروں کارکنان نکل آتے ہیں،عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار لوگ نکل آتے اور ان پر مقدمات درج ہوجاتے ہیں-وکیل نے کہا کہ عمران خان نے آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار لوگ نکل آتے اور ان پر مقدمات درج ہوجاتے ہیں-پراسیکیوٹر نے عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کر دی-

    پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیئے کہ عمران خان کا برتاؤ دیکھ لیں، جب ضمانت میں توسیع چاہیے تو عدالت پیش ہونا پڑتاہے۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ہائیکورٹ اسلام آباد سے 400 میٹر دُور ہے، کیسے پیش ہوں گے-

    رواں برس کیلئے زکوۃ کا نصاب جاری

    عدالت نے کہا کہ اگر عمران خان ساڑھے 3 بجے تک لاہور ہائیکورٹ پیش ہوگئے تو ٹھیک ورنہ فیصلہ کردیاجائےگا جج نے استفسار کیا کہ اگر آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور ہوجاتی ہے تو کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ سماعت پر پیش ہوں گے؟ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عمران خان کو اب تک طلب نہیں کیا، ضمانت کی درخواستیں آپ خود دے رہے ہیں۔

    وکیل نےعدالت میں کہا کہ عمران خان قانون کے تحت چلتےہیں زندہ رہے تو ضرور عدالتوں میں پیش ہوں گےجج نے استفسار کیا کہ عمران خان کو اگر عدالت آنا ہےتو وہ تاریخ ہمیں بتا دیں۔ بعض اوقات بارات بڑی ہوتی ہے، آپ کو معلوم ہے پوٹھوہار میں استقبال کیسا ہوتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو اب سنا دیا گیا ہے، عمران خان کی تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں عبوری ضمانت میں 4 اپریل تک توسیع کر دی گئی انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی عمران خان آج لاہور ہائیکورٹ پیشی کے باعث پیش نہیں ہوئے تھے

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

  • عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟ عدالت

    عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟ عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی: ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پنجاب میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو2 مقدمات میں ڈسچارج کیا جا چکا ہے جبکہ 4 مقدمات میں تفتیش زیر التوا ہے-

    عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا

    پنجاب پولیس کے مطابق عمران خان کیخلاف تھانہ سرور روڈ اور ریس کورس میں تفتیش جاری ہے،عمران خان کیخلاف مدینہ ٹاون اور نیوائیر پورٹ راولپنڈی میں مقدمات خارج کیے جا چکے ہیں-

    عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب میں عمران خان کے خلاف 6مقدمات درج ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کی تفصیلات کون سی تاریخ تک ہیں؟ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس لیے پوچھا آپ روز عمران خان کے خلاف نئے مقدمات درج کرتے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ جو رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی یہ مقدمات 20 مارچ تک کی رپورٹ ہے، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کا مکمل چارٹ طلب کر لیا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے بھی مکمل رپورٹ فائل کرے،عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟آج کل تو واٹس ایپ کا زمانہ ہے ایک منٹ میں سب کچھ مل جاتا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں عمران خان کی قتل کی سازش، بربریت، ریاستی دہشتگردی واقعات کی تحقیقات کی استدعاکی ہے۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    عمران خان نے خط میں کہاہے کہ خود پر 90 سے زائد مقدمات میں مسلسل ویڈیو لنک سے پیروی کی درخواست کر رہاہوں ،حکومت میری سلامتی سے متعلق غیر سنجیدہ، سکیورٹی کی فراہمی سے گریزاں ہے،وزیرآباد میں ایک مہلک قاتلانہ حملے کا شکار ہو چکا ہوں ، حملے میں بچ جانے کے بعد عدالتی پیشیوں پر میری زندگی مسلسل خطرے میں ہے۔

    اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

  • قطرمیں کھیلی گئی لیجنڈ لیگ  کا ٹائٹل شاہد آفریدی کی ایشیا الیون نےاپنے نام کر لیا

    قطرمیں کھیلی گئی لیجنڈ لیگ کا ٹائٹل شاہد آفریدی کی ایشیا الیون نےاپنے نام کر لیا

    قطر میں جاری لیجنڈز لیگ کے فائنل میں شاہد آفریدی کی ایشیا الیون نے ورلڈ جائنٹس کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : دوحا کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں ورلڈ جائنٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 147 رنز اسکور کیے، لنڈل سمنز 17، کپتان شین واٹسن اور مورن وین ویک صفر جبکہ روس ٹیلر 32 رنز بناکر نمایاں رہے جیک کیلس 78 رنز بناکر ناقابل شکست رہے-

    شاہد آفریدی کی بھارتی پرچم پر مداح کو آٹو گراف دینے کی ویڈیو وائرل


    ہدف کے تعاقب میں ایشیا لائنز کو اوپل تھرنگا اور دلشان نے 115 رنز کا آغاز فراہم کیا، دونوں اوپنرز بالترتیب 57 اور 58 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، اوپننگ اسٹینڈ کے دوران تھرنگا اور دلشان نے 13 چوکے اور 3 چھکے لگائے۔

    ورلڈ جائنٹس کی جانب سے بریٹ لی اور سمت پٹیل نے ایک ایک وکٹ لی-

    انشا آفریدی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پر کیوں؟

  • رواں برس کیلئے زکوۃ کا نصاب جاری

    رواں برس کیلئے زکوۃ کا نصاب جاری

    اسلام آباد: حکومت نے رواں برس کے لیے زکوۃ کا نصاب جاری کردیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزارت برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ نے سال 2023ء کے لیے زکوٰۃ کا نصاب جاری کردیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق سیونگ اکاؤنٹ میں کم از کم ایک لاکھ تین ہزار روپےرکھنے والے صارفین سے زکٰوة کی کٹوتی ہوگی اس سے کم رقم رکھنے والے افراد زکوۃ کٹوتی سے مستثنی ہوں گے۔

    دوسری جانب جامعہ نعیمیہ لاہور نے رمضان المبارک میں صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی شرح کا اعلان کردیا۔ جامعہ نعیمیہ کے مطابق گندم استعمال کرنے والوں کو صدقہ فطر 300 روپے فی کس اداکرنا ہوگا جبکہ جو کے حساب سے یہ شرح 450 روپے، کھجورکے تناسب سے 1600 روپے، کشمش کے مطابق 2500 روپے اور منقیٰ کے حساب سے 5 ہزار روپے اداکرنا ہوں گے۔

    اسی طرح 30 روزوں کا فدیہ گندم کے تناسب سے 9 ہزار روپے،جو کے حساب سے 13 ہزار500 روپے، کھجورکے مطابق 48 ہزارروپے، کشمش کے حساب سے 75 ہزار جبکہ منقی کے حساب سے ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرنا ہوگا،کفارہ صوم کیلئے60 روزے یا 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلایاجائےسرکاری سبسڈی والاآٹااستعمال کرنے والے صدقہ فطر وفدیہ صوم150ادا کرسکتے ہیں۔

    لاہور کے علاوہ دیگر شہروں میں رہنے والے متعلقہ اجناس کی مقامی قیمت کی مناسبت سے صدقہ فطر اورفدیہ صوم اداکریں۔گندم کانصاب آدھاصاع ہے جو ایک کلو9سوگرام ہے۔جبکہ جو ایک صاع ہے جوکہ 3کلو840گرام ہے۔مخیر حضرات اپنی مالی حیثیت کے مطابق صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کریں۔

  • جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر دیئے

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر دیئے

    کورونا کی ابتدا کہاں سےہوئی؟ امریکی صدرجوبائیڈن نے امریکی انٹیلی جنس کی خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر دیئے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے "اے پی” کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون پر دستخط کرنے پر خوش ہیں ہمیں تہہ تک جانے کی ضرورت ہے کہ کووڈ 19 کی ابتدا کہاں سے ہوئی، جس میں ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے ممکنہ روابط بھی شامل ہیں۔

    بل کو ایوان اور سینیٹ دونوں سے اختلاف رائے کے بغیر منظور کیا، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر کو ہدایت کی کہ وہ چین کے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے متعلق انٹیلی جنس کو ظاہر کرے۔ اس میں وہاں کی گئی تحقیق اورکوویڈ 19 کے پھیلنے کے درمیان "ممکنہ روابط” کا حوالہ دیا گیا ہےجسے عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ 2020 کو وبائی مرض قرار دیا تھا۔

    بائیڈن نے کہا کہ 2021 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے انٹیلی جنس کمیونٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ تحقیقات کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر ٹول استعمال کرے یہ کام اب بھی جاری ہے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچا ئے بغیر جس قدر ممکن ہے معلومات جاری کی جا ئے گی ۔

    امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا لیب کا رساؤ یا جانوروں سے پھیلنا مہلک وائرس کا ممکنہ ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض کی اصل اصلیت، جس نے امریکہ میں 1.1 ملین سے زیادہ اور پوری دنیا میں لاکھوں افراد کو ہلاک کیا ہے، شاید کئی سالوں تک معلوم نہ ہوسکے –

    واضح رہے کہ کورونا وبا سے دنیا بھر میں 70لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے،وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا تھاکہ امریکی محکمہ توانائی کی جانب سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے اہم ارکان کو پیش کردہ رپورٹ کےمطابق کورونا وائرس ممکنہ طورپر چین کی کسی لیب سے غلطی سے لیک ہوا تھا۔

    قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ اس معاملے پر انٹیلی جنس کمیونٹی میں مختلف آراء ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ حد تک معلومات نہیں ہیں۔

  • اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

    اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق بارش برسانے والا نیا سسٹم آج سے ملک میں داخل ہو گا جو کل تک ملک کے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج سے جمعہ کے روز تک اسلام آباد ،سندھ ، پنجاب، بلوچستان ،خیبر پختو نخوا،کشمیر اور گلگت بلتستان کے اکثر علاقوں میں تیزبارش کا امکان ہے ۔

    محکمہ موسمیات کےمطابق اسلام آبادمیں گرج چمک کےساتھ مزید بارش کا امکان ہے،خیبرپختونخوابالائی پنجاب اوربلوچستان میں بارش متوقع ہے، آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں بھی بارش کاامکان ہے،پنجگور،کیچ،گوادر،پسنی،جیوانی،لسبیلہ اوردالبندین میں بارش متوقع ہے،قلات،خضدار،تربت،آواران اور مکران میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق مری،گلیات،خطہ پوٹھوہار،گوجرانوالہ اورمنڈی بہاؤالدین میں بارش متوقع ہے،ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد،جھنگ،خوشاب،بہاولنگراورقصورمیں کاامکان ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کےمطابق اوکاڑہ،شیخوپورہ،حافظ آباد،لاہور،قصور،گجرات اور نارووال میں بھی بارش متوقع جبکہ سیالکوٹ،میانوالی اورسرگودھا میں چند مقامات پر بارش کاامکان ہے سوات،دیر،مالاکنڈ، مانسہرہ،ایبٹ آباد ،بالاکوٹ میں بار ش کا امکان ہے کوہاٹ،کوہستان،پشاور،مردان،کرم،وزیرستان میں بھی تیزہواوں کےساتھ بارش متوقع ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ملک میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

  • بھارتی معروف گلوکارہ  الکا یاگنک

    بھارتی معروف گلوکارہ الکا یاگنک

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    گلوکارہ الکا یاگنک

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف گلوکارہ الکا یاگنک 23 مارچ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی ماں شوبھا یاگنک ایک کلاسیکل گلوکارہ تھی اسی وجہ سے الکا کو بچپن میں ہی گھر میں موسیقی کا ماحول ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 6 سال کی عمر میں ہی آل انڈیا ریڈیو کے آکاشوانی اسٹیشن سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کر دیا ۔ ان کی ماں نے ان کی بھرپور فنی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب گلوکارہ بن گئیں ۔

    الکا نے پہلا فلمی گیت 14 سال کی عمر میں 1980 میں فلم پائل کی جھنکار کیلئے گایا جبکہ 1988 میں فلم تیزاب کیلئے انہوں نے ” ایک دو تین ” گانا گایا جس سے ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی جس کیلئے ان کو فیمیل پلے بیک سنگر نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ۔ الکا یاگنک اب تک 7 فلم فیئر ایوارڈز اور دو نیشنل فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔

    الکا یاگنک کو 2019 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سشیشما کپورہےشادی کے بعد 8 سال بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ عرصے کیلئے علیحدگی ہو گئی لیکن بعدازں دونوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق الکا یاگنک 2022 دنیا میں یوٹیوب پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنی گئی۔

    ٹائمز آف انڈیا نے الکا یاگنک کوشہد کی آواز کی گلوکارہ Honey Vioce Singer جبکہ ہندوستان ٹائمز نے انہیں جادوئی آواز کی گلوکارہ Magical Vioced Singer کے خطاب سے نوازا ہے۔ الکا یاگنک مہدی حسن کی بہت بڑی مداح ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بیت بڑے گلوکار تھے میں ان کی غزلیں سن کر بڑی ہوئی ہوں۔

    الکا یاگنک کی آواز میں گائے گئے چند گیتوں کے بول

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    یہ دعا ہے میری رب سے تجھے دوستوں میں سب سے میری دوستی پسندآئے

    تم سے بڑھ کر دنیا میں نہ دیکھا کوئی

  • اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    افتخارحسین عارف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، سابق صدر نشین مقتدرہ قومی زبان، سابق چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، سابق سربراہ اردو مرکز لندن،تہران میں ایکو (ECO) کے ثقافی ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراس وقت مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کے عہدہ پر فائز ہیں۔

    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کی اصل تاریخ پیدائش 21 مارچ 1944ء ہے جبکہ کاغذات میں 1943ء درج ہے سو اسی نسبت سے آپ کے بارے لکھا جاتا ہے کہ آپ 21 مارچ، 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا۔ اپنی علمی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں بحیثیت نیوز کاسٹر کیا۔ پھر پی ٹی وی سے منسلک ہو گئے۔ اس دور میں ان کا پروگرام کسوٹی بہت زیادہ مقبول ہوا۔

    بی سی سی آئی بینک کے تعاون سے چلنے والے ادارے "اردو مرکز” کو جوائن کرنے کے بعد آپ انگلینڈ تشریف لے گئے۔ انگلینڈ سے واپس آنے کے بعد مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین بنے۔ اس کے بعد اکادمی ادبیات کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ جبکہ نومبر 2008ء سے مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے کے بعد آج کل اسلامی جمہوریہ ایران کے دار الحکومت تہران میں ایکو تنظیم کے ثقافتی شعبے کو سبنھالے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران میں ہونی والی ادبی اور علمی محفلوں کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں افتخارعارف صاحب کی شرکت تقریبا ایک لازمی امر بن گئی ہے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کا اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ اپنے مواد اور فن دونوں میں ایک ایسی پختگی کا اظہار کرتے ہیں جو دوسروں میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ وہ عام شعراءکی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کی نزاکتوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ اسے سمیٹتے ہیں۔

    اپنے مواد پر ان کی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے اور یہ سب باتیں مل کر ظاہر کرتی ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سوچنا، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے جب کہ اس کے ہمعصروں میں بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ سوچ نہیں سکتے یا وہ محسوس نہیں کر سکتے اورسوچ اور احساس سے کام لے سکتے ہیں تو بولنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان کی ان خصوصیات کی بنا پر جب میں ان کے کلام کو ہم دیکھتے ہیں تو یہ احساس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ افتخار عارف کی آواز جدید اردو شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔ ایک ایسی آواز جو ہمارے دل و دماغ دونوں کو بیک وقت اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمیں ایک ایسی آسودگی بخشتی ہے جو عارف کے سوا شاید ہی کسی ایک آدھ شاعر میں مل سکے۔

    شعری مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارہواں کھلاڑی
    ۔ (2)مہر دو نیم
    ۔ (3)حرفِ باریاب
    ۔ (4)جہان معلوم
    ۔ (5)شہر علم کے دروازے پر
    ۔ (6)کتاب دل و دنیا کلیات
    ۔ (7)Writen in the
    ۔ Season of Fear
    ۔ (8)مکالمہ
    ۔ (9)در کلوندہ
    ۔ (10)افتخار عارف جی نظمن جو سندھی ترجمو

    اہم اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔ Faiz International Award 1988
    ۔۔۔۔۔۔ Waseeqa-e-eEtraaf 1994
    ۔۔۔۔۔۔ Baba-e-Urdu Award 1995
    ۔۔۔۔۔۔ Naqoosh Award 1994
    ۔۔۔۔۔۔ تمغا حسن کارکردگی1989
    ۔۔۔۔۔۔ ستارۂ امتیاز1999
    ۔۔۔۔۔۔ ہلال امتیاز2005

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
    ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

    دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
    آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

    خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
    پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
    جان بہت شرمندہ ہیں

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
    کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

    بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
    اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

    ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
    اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

    گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
    شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

    کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں
    سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

    بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت
    وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

    وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
    میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

    وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں
    سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

    امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
    ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

    وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار
    جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

    راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
    اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

    زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے
    میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں

    میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
    جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

    دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ
    اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
    اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

    ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے
    یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

    گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
    ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

    ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
    دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

    میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی
    ہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے

    جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی
    پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

    بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
    عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

    کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
    عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

    در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں
    خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
    جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

    دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
    ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

    یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
    یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

    سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
    کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

    اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا
    اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا

    ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں
    ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

    عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
    کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

    رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں
    کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

    خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے
    اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

    عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے
    وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

    غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے
    وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

    روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
    زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے

    یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
    یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

    شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
    سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

    مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا
    مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

    اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
    دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

    ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
    ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

    وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل
    نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

    میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
    مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

    تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
    سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

    ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال
    جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں

    میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
    عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

    عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق
    بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

    دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
    کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

    پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
    ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

    شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں
    مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے

    زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
    اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

    جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
    جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے

    وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
    اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

    بس ایک خواب کی صورت کہیں ہے گھر میرا
    مکاں کے ہوتے ہوئے لا مکاں کے ہوتے ہوئے

    کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے
    عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں

    سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
    اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

    کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
    نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

    یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے
    یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

    منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال
    ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے

    اسی کو بات نہ پہنچے جسے پہنچنی ہو
    یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

    تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
    کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا

    یہ ساری جنتیں یہ جہنم عذاب و اجر
    ساری قیامتیں اسی دنیا کے دم سے ہیں

    وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود
    کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں
    دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

    سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے
    میں اتنی دور ہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے

    ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
    زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

    کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
    اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

    دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ
    ایسے عالم میں عبادت نہیں ہوگی ہم سے

    یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی
    وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

    منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں
    تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں

    میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا
    مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا

    میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا
    اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے

    یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن
    جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے

    کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
    بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے

    روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
    رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

    کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
    کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے

    وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
    گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

    رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
    پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    مرے سارے حرف تمام حرف عذاب تھے
    مرے کم سخن نے سخن کیا تو خبر ہوئی

    اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
    اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

    ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
    ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

    وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا
    مری زمین پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو

    دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ
    یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

    مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی
    یوں ہو تو یہ زنجیر یہ زنداں بھی مرا ہے

    جب میرؔ و میرزاؔ کے سخن رائیگاں گئے
    اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا

    حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
    ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

    ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش
    صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے

    ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
    تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

    خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
    ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ

    یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
    اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

    سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
    کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

    عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
    نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی

    ہر اک سے پوچھتے پھرتے ہیں تیرے خانہ بدوش
    عذاب دربدری کس کے گھر میں رکھا جائے

    ہمیں بھی عافیت جاں کا ہے خیال بہت
    ہمیں بھی حلقۂ نا معتبر میں رکھا جائے

    یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ
    اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے

    کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
    جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا

    صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
    راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے

    جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گم نامی
    ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے

    مآل عزت سادات عشق دیکھ کے ہم
    بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا

    عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ
    دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

  • جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں

    جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں

    جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں
    تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

    نام سید وحید الدین، تخلص بیخودؔ ۔ پہلا تخلص نادرؔ تھا۔ 21مارچ 1863ء کو بھرت پور میں پید اہوئے۔ دہلی ان کا مولد ومسکن تھا۔ بیخودؔ نے دہلی میں اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا حالیؔ سے ’’مہرنیم روز‘‘ اور اساتذہ کے دواوین پڑھے۔ حالیؔ ہی کے ایما سے داغؔ کے شاگرد ہوئے۔ شاعری بیخودؔ کو ورثے میں ملی تھی۔ شاعری میں دلی ٹکسالی زبان،محاورات اور روز مرہ کا استعمال جس خوبی سے بیخود کرتے تھے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی وجہ سے تمام اساتذۂ فن نے انھیں داغؔ کا صحیح جانشین تسلیم کیا ہے۔

    بیخودؔ خوش پوشاک اور خوش خوراک ہونے کے علاوہ شاہ خرچ بھی تھے۔ 1948ء میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کچھ وظیفہ مقرر کردیا تھا۔ 150 روپیہ ماہوار وزارت تعلیم حکومت ہند سے ملتا تھا جس کے سربراہ مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ ان کے دو دیوان’’گفتار بیخود‘‘ اور ’’شہوار بیخود‘‘ طبع ہوچکے ہیں ۔02اکتوبر 1955ء کو دہلی میں انتقال ہوا۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی
    دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

    آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے
    مل گیا حسن بے مثال ہمیں

    راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے
    آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

    نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو
    تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

    وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا
    جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

    بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد
    جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے

    دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ
    اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

    دل تو لیتے ہو مگر یہ بھی رہے یاد تمہیں
    جو ہمارا نہ ہوا کب وہ تمہارا ہوگا

    سن کے ساری داستان رنج و غم
    کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

    قیامت ہے تری اٹھتی جوانی
    غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

    دل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت
    ایسی چیزوں کے کہیں دام دیے جاتے ہیں

    مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند
    دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

    بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو
    مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو

    جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں
    ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

    نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو
    مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں

    منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر
    جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

    تکیہ ہٹتا نہیں پہلو سے یہ کیا ہے بیخودؔ
    کوئی بوتل تو نہیں تم نے چھپا رکھی ہے

    رقیبوں کے لیے اچھا ٹھکانا ہو گیا پیدا
    خدا آباد رکھے میں تو کہتا ہوں جہنم کو

    سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے
    ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

    اب آپ کوئی کام سکھا دیجئے ہم کو
    معلوم ہوا عشق کے قابل تو نہیں ہم

    بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں
    کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

    انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے
    کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

    میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ
    میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

    پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل
    وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

    جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
    تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

    غم میں ڈوبے ہی رہے دم نہ ہمارا نکلا
    بحر ہستی کا بہت دور کنارا نکلا

    تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
    تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

    محفل وہی مکان وہی آدمی وہی
    یا ہم نئے ہیں یا تری عادت بدل گئی

    بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے
    اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند

    بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا
    ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی

    یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو
    مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

    تمہاری یاد میرا دل یہ دونوں چلتے پرزے ہیں
    جو ان میں سے کوئی مٹتا مجھے پہلے مٹا جاتا

    دی قسم وصل میں اس بت کو خدا کی تو کہا
    تجھ کو آتا ہے خدا یاد ہمارے ہوتے

    دشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا
    یہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے

    منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
    اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے

    ہمیں اسلام اسے اتنا تعلق ہے ابھی باقی
    بتوں سے جب بگڑتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں

    ہو لیے جس کے ہو لیے بیخودؔ
    یار اپنا تو یہ حساب رہا

    تیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
    ہم تو دشمن کو بھی آرام دیے جاتے ہیں

    کیا کہہ دیا یہ آپ نے چپکے سے کان میں
    دل کا سنبھالنا مجھے دشوار ہو گیا

    زمانہ ہم نے ظالم چھان مارا
    نہیں ملتیں ترے ملنے کی راہیں

    دل چرا کر لے گیا تھا کوئی شخص
    پوچھنے سے فائدہ، تھا کوئی شخص

    محبت اور مجنوں ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
    فدا لیلیٰ پہ تھا آنکھوں کا اندھا اس کو کہتے ہیں

    نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے
    کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

    حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کی
    یاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی

    نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں
    جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا

    سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے
    مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

    سخت جاں ہوں مجھے اک وار سے کیا ہوتا ہے
    ایسی چوٹیں کوئی دو چار تو آنے دیجے

    چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں
    ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

    موت آ رہی ہے وعدے پہ یا آ رہے ہو تم
    کم ہو رہا ہے درد دل بے قرار کا

    ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ
    اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی

    آپ ہوں ہم ہوں مئے ناب ہو تنہائی ہو
    دل میں رہ رہ کے یہ ارمان چلے آتے ہیں

    آئنہ دیکھ کے خورشید پہ کرتے ہیں نظر
    پھر چھپا لیتے ہیں وہ چہرۂ انور اپنا

    اے شیخ آدمی کے بھی درجے ہیں مختلف
    انسان ہیں ضرور مگر واجبی سے آپ

    دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں
    میرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیں

    کوئی اس طرح سے ملنے کا مزا ملتا ہے
    اوپری دل سے وہ ملتا ہے تو کیا ملتا ہے

    رند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ
    پی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے

    بیخودؔ ضرور رات کو سوئے ہو پی کے تم
    یہ تو کہو نماز پڑھی یا قضا ہوئی

    جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے
    اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

    چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی
    سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

    نامہ بر یہ تو کہی بات پتے کی تو نے
    ذکر اس بزم میں رہتا تو ہے اکثر اپنا

    دل وہ کافر ہے کہ مجھ کو نہ دیا چین کبھی
    بے وفا تو بھی اسے لے کے پشیماں ہوگا

    آپ شرما کے نہ فرمائیں ہمیں یاد نہیں
    غیر کا ذکر ہے یہ آپ کی روداد نہیں

    زاہدوں سے نہ بنی حشر کے دن بھی یارب
    وہ کھڑے ہیں تری رحمت کے طلب گار جدا

    اپنے جلوے کا وہ خود آپ تماشائی ہے
    آئینے اس نے لگا رکھے ہیں دیواروں میں

    تمہارے ہاتھ خالی جیب خالی زلف خالی تھی
    نہ تھے تم چور دل کے لو ادھر دیکھو یہ کیا نکلا

    ان کے آتے ہی ہوا حسرت و ارماں کا ہجوم
    آج مہمان پہ مہمان چلے آتے ہیں

    ملا کے خاک میں سرمایۂ دل بیخودؔ
    وہ پوچھتے ہیں بتاؤ یہ مال کس کا تھا

    آپ کو رنج ہوا آپ کے دشمن روئے
    میں پشیمان ہوا حال سنا کر اپنا

    وفا کا نام تو پیچھے لیا ہے
    کہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا

    اجازت مانگتی ہے دخت رز محفل میں آنے کی
    مزا ہو شیخ صاحب کہہ اٹھیں بے اختیار آئے

    اس جبین عرق افشاں پہ نہ چنئے افشاں
    یہ ستارے کہیں مل جائیں نہ سیاروں میں

    کچھ طرح رندوں نے دی کچھ محتسب بھی دب گیا
    چھیڑ آپس میں سر بازار ہو کر رہ گئی