Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • کےپی میں گزشتہ ماہ پولیس و سیکورٹی فورسزکے 13 آپریشنزمیں40دہشتگردہلاک

    کےپی میں گزشتہ ماہ پولیس و سیکورٹی فورسزکے 13 آپریشنزمیں40دہشتگردہلاک

    خیبر پختونخوا میں گزشتہ ماہ فروری پولیس و سیکورٹی فورسز نے 13 آپریشنز کیے جس دوران 40 دہشت گرد مارے گئے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے پولیس کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق فروری میں کے پی پولیس وسکیورٹی فورسز نے 13 آپریشنز کے دوران 40 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جبکہ آپریشنز کے دوران 2 اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوئے۔

    دستاویز کے مطابق مشترکہ آپریشنز صوبے کے 7 اضلاع لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان، پشاور، صوابی ، نوشہرہ اور بنوں میں کیے گئے جن میں سے شمالی وزیرستان میں 9 اور لکی مروت میں 24 دہشت گرد مارے گئے جب کہ آپریشنز کے دوران 21 دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا۔

    سی ٹی ڈی نے کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے ،2ملزمان کو گرفتارکرکے،اسلحہ برآمد کیا ہے-

    سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق اسلحہ دہشت گردی کی واردات میں استعمال ہونے کا اندیشہ تھا،کلاشنکوف،17 نائن ایم ایم پستول اور 6ہزار سے زائد گولیاں شامل ہے،ملزمان کے خلاف مقدمہ درجکر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے-

  • کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے،نجم سیٹھی

    کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے،نجم سیٹھی

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے-

    باغی ٹی وی: یہ اعلان انہوں نےاس وقت کیا جب وہ لاہور اور یو کے میڈیا کے درمیان میچ کے موقع پر چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے

    نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے چیف سکریٹری پنجاب کو خط لکھ دیا ہے کہ ہوٹل کےلیے زمین کی نشاندہی کردیں تاکہ اس پر کام شروع کیا جاسکے۔

    اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ میڈیا کے نمائندوں کو کھیلتا دیکھ کر دل کر رہا ہے کہ میں بھی کھیلوں۔نجم سیٹھی نے کہا کہ اس قسم کے ایونٹس ہی سے کھیل کو فروغ ملتا ہے۔

    نجم سیٹھی نے کہا کہ اس قسم کے ایونٹس ہی سے کھیل کو فروغ ملتا ہے لاہوریوں نے پی ایس ایل کے میچز میں رنگ بھر دیے ہیں، شائقین کرکٹ کے بڑی تعداد میں آنے سے اسٹیڈیم چھوٹے پڑگئے ہیں پی ایس ایل نے ہمیشہ ہی پاکستان کو اچھا ٹیلنٹ دیا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نے بتایا کہ آئی سی سی اور اے سی سی اجلاسوں میں ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پر غور ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹس اور ریجنز کے انتخابات کروا کر گورننگ بورڈ مکمل کردیں گے، آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے لیے ڈیپارٹمنٹس نے ہامی بھر لی۔

  • پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ نے پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات تاخیر ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ فیصلہ آج 11 بجے سنایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس میں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل تھے۔

    ابتدائی طور پر 22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا تاہم 24 فروری کو 9 رکنی لارجربینچ سے 4 اراکین کے خود الگ ہونے کے بعد 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے سماعت سے معذرت کرلی تھی۔

    عدالت عظمیٰ کا آج سامنے آنے والا فیصلہ طے کرے گا کہ صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی صورت میں صدر مملکت، گورنر، یا الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سے کس آئینی ادارے کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے۔

    گزشتہ روز پورے دن جاری رہنے والی سماعت کے بعد بینچ نے تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر مختصر حکم سنانے کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں فیصلہ آج بروز بدھ تک محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانے کا اختیار نہیں، ٹھوس وجوہات کا جائزہ لیکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے، الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا، حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے، پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینر کھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ہے۔

    اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آکر کہا کہ میں دلائل دینے کے لیے تیار ہوں ۔ اور اعتراض اٹھایا کہ عدالتی حکم میں سے سپریم کورٹ بار کے صدر کا نام نکال دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو ادارے کے طور پر جانتے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو عدالت میں لکھوایا جاتا ہے وہ عدالتی حکمنامہ نہیں ہوتا۔ جب ججز دستخط کردیں تو وہ حکمنامہ بنتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر عابد زبیری نے دلائل شروع کیے تو جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوے دن کا وقت اسمبلی تحلیل کیساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کیا نگران وزیراعلی الیکشن کی تاریخ دینے کی ایڈوائس گورنر کو دے سکتا ہے؟ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کر سکتا ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے وزیر اعلی کا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ عابد زبیری درخواست گذار کے وکیل ہیں بار کی نمائندگی نہیں کرسکتے، جس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا وکیل ہوں کسی سیاسی جماعت کا نہیں، سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں،

    عابد زبیری وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ سیف اللہ کیس میں 12 ججز نے انتخاب کے عمل کو لازمی قرار دیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ صدر کا ہر عمل اور اقدام حکومت کی سفارش پر ہوگا، آیا موجودہ حکومت یا سابقہ حکومت انتخابات کے اعلان کا کہے گی؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے مطابق الیکشن کی تاریخ دینا ایڈوائس پر ہوگا۔

    عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اسمبلی کی تحلیل کے چار طریقے بتائے گئے ہیں۔ جسٹس منیب نے کہا کہ نگران حکومت تو 7 روز بعد بنتی ہے، آئین کی مختلف شقوں کی آپس میں ہم آہنگی ہونا ضروری ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پنجاب کے کیس میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا گورنر نے نہیں۔ عابد زبیری نے کہا آئین کے آرٹیکل 112 کے مطابق عدم اعتماد ایڈوائس پر یا پھر 48 گھنٹوں میں حکومت ختم ہوسکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق آج بھی حکومت گورنر سے انتخاب کا کہہ سکتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر حکومت کی تاریخ کے حوالے سے ایڈوائس آجائے تو گورنر کیسے انکار کرسکتا ہے۔

    عابد زبیری نے کہا کہ پنجاب میں 22 جنوری کو نگران حکومت آئی تھی، نگران حکومت کا اختیار روزمرہ کے امور چلانا ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر اور گورنر معاملہ میں کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں، کیا الیکشن کی تاریخ صدر اور گورنرز اپنے طور پر دے سکتے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نگران حکومت کی تعیناتی اور الیکشن کی تاریخ پر گورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر بولے کہ جہاں صوابدیدی اختیار ہو وہاں کسی ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن کون کرے گا؟

    عابد زبیری نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن سیکرٹری قانون نے جاری کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گورنر کہہ رہا ہے کہ اسمبلی میں نے تحلیل نہیں کی۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ تاریخ دینے کی بات کا ذکر صرف آئین کے آرٹیکل 105 (3) میں ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حکومت کے انتخاب کی تاریخ دینے پر کوئی پابندی نہیں۔ عابد زبیری نے کہا کہ اتنے دنوں سے اعلان نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی؟ نوے روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے، اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں۔ عابد زبیری نے دلائل دیے کہ وقت کے دبائو میں اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو صدر مملکت تاریخ دے گا، میرا موقف ہے کہ انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مشاورت میں وسائل اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر الیکشن کمیشن انتحابات کرانے سے معذوری ظاہر کرے کیا پھر بھی گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے پاس تاریخ نہ دینے کا کوئی اختیار نہیں، گورنر الیکشن کمشن کے انتطامات مدنظر رکھ کر تاریخ دے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے کیا صدر کابینہ کی ایڈوائس کے بغیر کوئی فیصلہ کرسکتا ہے؟۔

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ صدر کے اختیارات آئین میں واضح ہیں۔ صدر ہر کام کے لیے ایڈوائس کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ صدر مملکت ہر کام کے لیے ایڈوائس کے پابند نہیں۔ صدر ہر وہ اختیار استعمال کرسکتے ہیں جو قانون میں دیا ہوا ہو۔ انتحابات کی تاریخ پر صدر اور گورنر صرف الیکشن کمیشن سے مشاورت کے پابند ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر بطور سربراہ مملکت ایڈوائس پر ہی فیصلے کرسکتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائے گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر کے اختیارات برارہ راست آئین نے نہیں بتائے، آئین میں اختیارات نہیں تو پھر قانون کے تحت اقدام ہوگا، قانون بھی تو آئین کے تحت ہی ہوگا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اب تو آپ ہم سے پوچھنے لگ گئے ہیں کہ کرنا کیا ہے، صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں؟۔

    عابد زبیری نے جواب دیا کہ صدر مملکت نے مشاورت کیلئے خط لکھے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں تو کہیں مشاورت کا ذکر نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات 90 روز سے آگے کون لیکر جا سکتا ہے یہ الگ بات ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمشن گورنر کی تاریخ کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اگر 85 ویں دن الیکشن کا کہے تو الیکشن کمیشن 89 دن کا کہہ سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر کو اسی وجہ سے الیکشن کمیشن سے مشاورت کا پابند کیا گیا ہے، صدر ہو یا گورنر سب ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر دے سکتے ہیں، دوسری صورت میں ملک بھر میں انتخابات ہوں تو ہی صدر تاریخ دے سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کے صوابدیدی اور ایڈوائس پر استعمال کرنے والے اختیارات میں فرق ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اسمبلی تحلیل کے اگلے دن انتخابات کا کہہ دے تو الیکشن کمیشن نہیں مانے گا۔ جسٹس منیب اختر بولے کہ گورنر نے الیکشن ایکٹ کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اپنایا کہا الیکشن 90 روز میں ہی ہونے چاہئے اور الیکشنز کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے، گورنر پنجاب کا موقف ہے الیکشن کمیشن خود تاریخ دے، گورنر نے انٹرا کورٹ اپیل میں کہا ہے کہ ان سے مشاورت کی ضرورت نہیں اور الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا ہائیکورٹ میں 14 دن کا وقت کیوں مانگا گیا؟۔ بطور اٹارنی جنرل آپ کیس شروع ہوتے ہی مکمل تیار تھے، ایسے کون سے نکات تھے جس کی تیاری کیلئے وکلا کو 14 دن درکار تھے، ہائیکورٹ میں تو مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ صدر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون کا استعمال کیا ہے اگر صدر کا اختیار نہیں تو سیکشن 57 ون غیر موثر ہے،اگر سیکشن 57 ون غیر موثر ہے تو قانون سے نکال دیں-

    اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دو یا چار دن اوپر ہونے پر آرٹیکل 254 لگ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ استفسار کیا کہالیکشن کمیشن کی انتخابات کی تیاری کیا ہے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا انتخابی مہم کا دورانیہ کم نہیں کیا جاسکتا،وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کوبتایا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے وقت درکار ہوتا،انتخابی مہم کا دورانیہ دو ہفتے تک کیا جاسکتا ہے-

    جسٹس منیب نے کہا کہ آئین پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے اٹارنی جنرل نے کہااگر انتخابات 90 دن میں ہی ہونا لازمی ہیں تو 1988 کا الیکشن مشکوک ہوگا؟2008کا الیکشن بھی مقررہ مدت کے بعد ہوا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی-

    جسٹس منیب اختر نے کہاآپ بطور اٹارنی جنرل قانون کا دفاع کرنے کی بجائے اس کے خلاف بول رہے ہیںجسٹس محمد علی مظہر بولے کہ سیکشن 57 ون ختم کردیں تو الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن انتخاب تاریخ کا اعلان کرے الیکشن کمیشن کہہ سکتا ہے 14 اپریل تک الیکشن ممکن نہیں،ٹھوس وجوہات کے ساتھ الیکشن کمیشن فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کسی نے ابھی تک تاریخ ہی نہیں دی سب کچھ ہوا میں ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس 90 روز سے تاخیر کا اختیار کہاں سے آیا؟ جھگڑا ہی سارا 90 روز کے اندر الیکشنز کرانے کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹھوس وجوہات پر آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ تاریخ کا اعلان کئے بغیر آرٹیکل 254 کا سہارا کیسے لئے جاسکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا قانون واضح نہیں تو کیسے کہیں الیکشن کمشن غلطی کررہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوے دن سے تاخیر پر عدالت اجازت دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ نہ سمجھیں عدالت کسی غیر آئینی کام کی توسیع کرے گی، آرٹیکل 254 کا جہاں اطلاق بنتا ہوا وہاں ہی کریں گے۔سپریم کورٹ میں ایک موقع پر سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ پر مشاورت کیلئے بھی کہا گیا۔ چیف جسٹس نے شیری رحمن اور فواد چودھری کو روسٹرم پر بھی بلایا اور استفسار کیا کہ کیا ان کی جماعتیں مشاورت پر تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ 20 فروری کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھے دونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔

  • جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا معاملہ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا-

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پولیس کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمہ میں عمران خان، مراد سعید، علی نواز اعوان، فرخ حبیب، شبلی فراز کو نامزد کیا گیا-

    ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ میں حسان نیازی، عامر کیانی، شہزاد وسیم، راجہ بشارت، واثق قیوم، میاں اسلم اقبال، غلام سرور خان، حماد اظہر و دیگر قائدین کو بھی نامزد کیا گیا ہجوم میں سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ سمیت ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔ 25 افراد گرفتار کرلیے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے لئے مختلف صوبوں میں پولیس ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ سیاسی جماعت کے رہنماء ہجوم کی قیادت کررہے تھے جنہوں نے عوام کو اکسایا اور توڑ پھوڑ کے لئے آمادہ کیا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس نے حکمت عملی سے ہائی کورٹ میں ایسے کسی ممکنہ اقدام کو روکا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر شدید بدنظمی دیکھی گئی، پی ٹی آئی کارکنان نے عمارت کا دروازہ توڑ دیا۔ سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیئےکھل کر حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ بھاری نفری کے باوجود جوڈیشل کمپلیکس پر سیکیورٹی کے انتظامات درہم برہم ہوگئے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان پیشی کیلئے ریلی کی صورت میں زمان پاک لاہور سے بذریعہ موٹروے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے موٹروے پر جگہ جگہ چیئرمین تحریک انصاف کا استقبال کیا گیا۔ زیروپوائنٹ سے کارکنوں کی ایک بڑی ریلی ٹول پلازہ اسلام آباد پہنچی جہاں سابق ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے اپنے لیڈر کو خوش آمدید کہا ریلی میں شامل گاڑیوں پر گل پاشی بھی کی۔

    عمران خان کی انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔ پارٹی رہنما بھی استقبال کیلئے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید عمران خان کی گاڑی کی چھت پر سوار رہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد حفاظتی حصار توڑ کر عدالتی احاطے میں داخل ہوگئی، پارٹی کارکنوں کی جانب سے کمپلیکس کے اندرونی حصے میں ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی بدترین بدنظمی ہوئی جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات اور علاقہ سیل کرنے کے باوجود وکلاء ہائی کورٹ کا دروازہ زبردستی کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس نے میڈیا کو داخلے سے روک دیا-

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، عدلیہ کی توہین کی، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی جس پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا، توشہ خانہ کیس میں بھی عدالت نے بار بار طلبی کے باوجود عدم پیشی پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدبخت عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر حملہ کیا، گیٹ توڑ کر داخل ہوئے، سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے، جوڈیشل کمپلیکس میں غنڈہ گردی کی گئی ہے اور جوڈیشل کمپلیکس کی بطور ادارے کی توہین کی گئی ہے لہٰذا توڑ پھوڑ کرنے، عدلیہ کی عزت و تکریم کو سبوتاژ کرنے پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جو بھی اس میں ملوث ہے اس کو گرفتار کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے، پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں کا وقت ملزم خود مقرر کر رہا ہے، دوسری طرف ایک عام آدمی چند منٹ تاخیر پر پہنچے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آج توشہ خانہ کیس میں پہلے 9 بجے، پھر 11 بجے اور پھر عمران خان پیش ہی نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔قانون کا احترام نہ کرنے، غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے جا رہے ہیں، اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

    ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

    آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

    بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

    جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

    اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

  • خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد

    خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد

    کوئٹہ : خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی-

    باغی ٹی وی : ایس ایچ او سول لائن مٹھا خان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سول لائن تھانے کے علاقوں جناح روڈ ،کوئلہ پھاٹک اور دیگر مقامات پر خواجہ سرا رات بھر پھرتے نظر آتے ہیں ، جس کی وجہ سے کافی مسائل جنم لے رہے ہیں۔

    ایس ایچ او سول لائن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سول لائن تھانے کی حدود میں خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے نکلنے پر پابندی عائدکردی گئی  ہے۔

    اعلامیے کے مطابق 12 بجے کے بعد شہر میں پھرنے والے خواجہ سراؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ خواجہ سرا ؤں کوبے نظیر کفالت پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ خواجہ سراؤں کو ہر سہ ماہی میں 7000 روپے دیے جائیں گے۔

    اس موقع پر کراچی آرٹس کونسل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شازیہ عطا مری نے کہا تھا کہ خواجہ سرا ملک کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رہنما آواز اٹھانے پر تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سرا نادرا میں اپنا رجسٹریشن کروائیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں ۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ خواجہ سراؤں کیلئے بلدیات میں نشستیں مختص کیں۔ خواجہ سرا لوکل گورنمنٹ کا حصہ ہوں گے سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کا کوٹہ بڑھایا گیا ہے-

  • اسلام آباد ہائیکورٹ :عمران خان کی گاڑی کواحاطے کےاندر جانے کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ :عمران خان کی گاڑی کواحاطے کےاندر جانے کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی گاڑی کواحاطے کےاندر جانے کی اجازت مل گئی-

    باغی ٹی وی: رجسٹرار ہائیکورٹ نے عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت دی،عمران خان نے بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا،عمران خان خان کورٹ روم نمبر ون کی جانب روانہ ہو گئے-

    واضح رہے کہ توشہ خانہ ریفرنس کے فوجداری کارروائی کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔

    عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سیشن کورٹ پیش نہیں ہوئے، جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ عمران خان کو عدالت نے آج طلب کر رکھا تھا۔

    سیشن جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کو بار بار موقع دیا لیکن وہ پیش نہ ہوئے، لہٰذا وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیا جائے۔ کیس کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی گی۔

  • نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دیدی

    نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دیدی

    کراچی: کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی ایک روپے 71 پیسے اور دیگر صارفین کے لیے 48 بپیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: نیپرانے کے الیکٹر ک صارفین کے لیے بجلی مہنگی کرنے کی منظور ی دے دی۔ نیہرا کے مطابق کے الیکٹر ک صارفین کے لیے ایک روپیہ 71پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کی گئی۔

    اس کا اطلاق صرف مارچ کے بلوں میں ہو گا۔ اطلاق کے الیکٹرک صارفین ماسوائے لائف لائن اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر ہوگا۔

    نیپرا نے سی پی پی اے کی جنوری کیلئے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر بھی سماعت مکمل کرلی۔نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 48 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دیدی۔

    نیپرا کے مطابق بجلی جنوری کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی۔بجلی مہنگی کرنے سے بجلی کے صارفین پر 9.2 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    نیپرا ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کریگا۔سی پی پی اے نے بجلی ایک روپے17 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی۔
    https://twitter.com/ZayanHasan1/status/1630294234400948224?s=20
    دوسری جانب لیاری کے مکینوں نے لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر پیپلزپارٹی کے دفتر پر ہلہ بول دیا لیاری میں بجلی گیس لوڈشیڈنگ پر شہری مشتعل ہوگئے ۔ بجلی گیس لوڈشیڈنگ کےستائےشہریوں نے پیپلز پارٹی آفس پر دھاوا بول دیا اس موقع پر مظاہرین نے خوب نعرے بازی کی مشتعل افراد نے پیپلزپارٹی کےلیاری کےدفتر میں توڑ پھوڑ کی۔

    دوسری جانب اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کی سمری حکومت کو بھجوا دی۔ پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 60 پیسے تک اضافے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں سے متعلق دو تجاویز بحھجوائیں جس میں پیٹرول اور ڈیزل پر دو سے 5 فیصد فی لیٹر جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویزبھی شامل ہے۔

    2 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے پر پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے جبکہ 5 فیصد جی ایس ٹی عائد ہونے کی صورت میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 13 روپے 60 پیسے تک اضافے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیزل پر 5 سے 10 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے اور ڈیزل کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی تجویز بھی بھجوائی گئی ہے۔

    اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کی بھی تجوز دی ہے۔ گزشتہ 15 روز میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہےاس دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل تک رہی۔عالمی منڈیوں کے تناسب سے ٹیکس عائد کر کے بھی قیمتیں برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد کریں گے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12بجے تک ہونے کا امکان ہے۔

  • حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے،پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے لیکن پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانےکا اختیار نہیں ہےٹھوس وجوہات کا جائزہ لےکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ معاشی مشکلات کا ذکر1988 کے صدارتی ریفرنس میں بھی تھا آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے، مگر لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو، قدرتی آفات یا جنگ ہو تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن بروقت نہ ہوئےتواستحکام نہیں آئےگا،حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہےآج صرف تاریخ طے کرنے کا معاملہ دیکھنا ہے، اگر نوے روز سے تاخیر والی تاریخ آئی تو کوئی چیلنج کردےگا لیکن پہلی بارایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ۔

    عدالت نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ کربھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت سے ہدایت لینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔

    فاروق ایچ ناٸیک نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کرنی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں ،عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

    عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

  • توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےگئے۔

    باغی ٹی وی : توشہ خانہ مقدمہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی۔سیشن کورٹ اسلام آباد نے وشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ فیصلہ سنادیا،ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کارکن سیشن کورٹ کے باہر جمع ہونے لگے ہیں –

    قبل ازیں عمران خان کے وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔ سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل نے پیشی کے لیے پانچ دن کی مہلت دینے کی استدعا کی تھی۔

    دوران سماعت، وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وکیل علی بخاری نےکہا کہ آپ الیکشن کمیشن کے وکیل ہیں اور وکیل ہی رہیں، ترجمان نہ بنیں،عمران خان کچھ دیر پہلے لاہور سے نکل پڑے ہیں عمران خان نےجوڈیشل کمپلیکس کی دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے اس لیے عمران خان آج اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ عدالت کا مسئلہ نہیں عمران خان کہاں سے آرہے ہیں، یہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہونا چاہتے لیکن ہم اس کیس پر ہر دن سماعت کے لیے تیار ہیں، عمران خان دوسری عدالتوں میں پیش ہو رہے تو اس عدالت میں کیوں نہیں؟

    وکیل عمران خان نے کہا کہ میں آج عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کے قابل نہیں ہوں، اگر عمران خان عدالتی وقت میں جوڈیشل کمپلیکس سے نکل آئے تو ہم پیش ہو جائیں گے۔

    جج ظفر اقبال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسا طریقہ ہے کہ عمران خان ادھر پیش نہیں ہوسکتے اور جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوجائیں گے، ادھر کے لے وقت نہیں بچے گا یہ کونسا طریقہ ہے۔ یہاں فرد جرم عائد ہونا ہے اس لیے ادھر آجائیں اور جب فرد جرم عائد ہوجائے تو پھر چلے جائیں۔

    عدالت نے عمران خان کی حاضری ضروری قرار دی تھی۔

    واضح رہے کہ آج 4 مختلف کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیشی تھی جب کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی پیش ہونا ہے۔

    عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے جہاں ان کی ضمانتیں منظور کرلی گئیں۔

  • مخلوق خدا کے لیے ہی مذاکرات کریں، تجزیہ :شہزادقریشی

    مخلوق خدا کے لیے ہی مذاکرات کریں، تجزیہ :شہزادقریشی

    ملک کی اگر تمام سیاسی جماعتیں ، بیورو کریسی ، اعلیٰ عہدوں پر فائز انتظامی افسران ،صنعت کار ، بڑے بڑے تاجر ، اشرافیہ میں شامل ملک کے تمام ادارے اگر پارسائی کے دعویدار ہیں توو پھر اس قائد کے ملک کو کنگال کس نے کیا ہے ؟ سڑکوں چوراہوں پر بیٹھے دیہاڑی دار مزدوروںنے ؟ ملک بھر کے عام آدمی جو غربت سے خودکشی کرتا ہے ؟ جو دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے کیا اس عام آدمی نے ملک کو کنگال کیا ہے ؟ ملک کی معاشی صورت حال ملک کے تمام سیاستدانوں کے پارسائی کے دعوے پر بھی کہا جا سکتا ہے کہ

    کہاں میں اور کہاں یہ آب کوثر سے دھلی خلقت
    میراتو دم گھٹ رہا ہے ان پارسائوں میں

    مقام افسوس ہے کہ عام آدمی کا جینا مشکل ہی نہیں مشکل ترین ہو چکا ہے ۔ پاکستان بطور ریاست معاشی بحران کا شکار ہے ۔ دہشت گردی کے سائے منڈلا رہے ہیں سرحدوں پر جوان شہید ہو رہے ہیں ملک کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے جانوں کانذرانہ دیا جا رہاہے۔ دوسری طرف حزب اقتدار اور حزب اختلاف جو جمہوریت میں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔

    جمہوریت کی یہ خوبی ہوتی ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف جو جمہوریت میں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔ جمہوریت کی یہ خوبی ہوتی ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں مضبوط بھی ہوتی ہیں جمہور اور ریاست کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ آج کے دور کی سیاست تعمیری نہیں تخریبی سیاست کا روپ دھار چکی ہے۔

    معاشرے میں عدم استحکام مایوسی اورعدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے آج کی تخریبی سیاست کے اثرات بالخصوص پاکستان کے مستقبل نوجوانوں پر منفی اثرات پڑر ہے ہیں۔ خدا کی پناہ آڈیو اور ویڈیو کا گندہ کھیل کھیلا جا رہا ہے ذرا سوچئے اگر سیاستدانوں نے تخریبی سیاست کا راستہ جاری رکھا تو اس کے اثرات ملک اور آنے والی نسل پر کیا پڑیں گی؟ –

    موجودہ آڈیو وڈیو والے سیاستدانوں ۔ ٹویٹی سیاستدانوں ،سوشل میڈیا والے سیاستدانوں کو اس ملک اور اس کی بے بس اورلاچار عوام پر ترس کیوں نہیں آتا ایک ذات اوپر بھی ہے جو بے رحم لوگوں پر رحم نہیں کرتا بلکہ غرور خدا کی زمین پر اکثر کر چلنے والے کیوں بھول رہے ہیں کہ خدا کی مخلوق پر رحم نہ کرنے والوں پر رحم نہیں کیا جاتافراخدلی کا مظاہرہ کریں مخلوق خدا کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے سیاسی وجود کی بقا کے لئے نہیں ملک اور عوام کی بقا کے لئے ۔

    (تجزیہ شہزادقریشی)