Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    ریاض: سعودی عرب کی جانب سے یوکرین کو انسانی بنیادوں پر 40 کروڑ ڈالر کی امداد دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدے اور مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دست خط کیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب جنگ زدہ ملک کو انسانی امداد کے طورپر40 کروڑڈالرنقدی یا مصنوعات کی شکل میں مہیّا کرے گا۔

    دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ اور سمجھوتا اتوارکوسعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے یوکرینی دارالحکومت کیف کے دورے کے موقع پر طے پایا ہے ان کی قیادت میں سعودی وفد نے یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی سے کیف میں ان کی صدارتی رہائش گاہ پرملاقات کی۔

    سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امورکے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع پرتبادلہ خیال کیا۔

    سعودی میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا مقصد یوکرین کے بحران کوپُرامن طریقے سے حل کرنا اور یوکرین اور اس کے عوام کوجنگ کے سماجی اور معاشی منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مدد مہیاکرنا ہے۔

    دست خط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق سعودی فنڈ برائے ترقی یوکرین کی 30 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات کی شکل میں مالی اعانت کرے گا اور اس پر فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان عبدالرحمٰن المرشد نے دست خط کیے تھے۔

    اس امدادی پیکج کا اعلان سب سے پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال اکتوبر میں یوکرین کے صدر سے فون پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔ولی عہد نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے پرآمادگی کا اظہار کیا تھا۔

  • کالے جادو کے توڑ کیلئے قبر سے کھوپڑی نکالنے والاشخص گرفتار

    کالے جادو کے توڑ کیلئے قبر سے کھوپڑی نکالنے والاشخص گرفتار

    بھارت میں ایک باپ نے اپنی بیمار بیٹی کا علاج کروانے کیلئے قبر کھود کر انسانی کھوپڑی نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اڑیسہ کے ضلع بالاسور میں ایک باپ نے تانترک کے کہنے پر قبر کھود کر انسانی کھوپڑی نکالنے کی کوشش کی –

    بھارتی پولیس کے مطابق بیٹی کے مسلسل بیمار رہنے پر ایک شخص نے تانترک سے رجوع کیا جس نے اسے بتایا کہ بیٹی پر کالا جادو ہوگیا ہے اور اسے ختم کرنے کیلئے انسانی کھوپڑی کی ضرورت ہے۔

    تانترک کے کہنے پر شخص دوست کے ساتھ مل کر اپنے گاؤں کے ایک قبرستان میں گیا اور رات کے اندھیرے میں قبر کھودنے کی کوشش کی جسے مقامی لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔

    قبل ازیں پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ناراض بیوی کو منانے کے لیے کالا جادو کرانے والے شوہر سے 25 لاکھ مالیت کا مبینہ فراڈ ہوگیامتاثرہ شہری نے جعلی عامل گروہ کے خلاف پولیس کو درخواست دی تھی-

    محسن شہزاد نامی متاثرہ شہری نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اشتہار کے ذریعے عامل سے رابطہ کیا تھا جعل ساز گروہ نے کالے جادو کے ماہر عامل بن کر سوا 8 لاکھ روپے نقد لیے جب کہ ملزمان نے عملیات کے لیے 15 تولے زیورات بھی ہتھیالیے، ملزمان نے 3 لاکھ 75 ہزار آن لائن، 5 لاکھ نقدی اور زیورات خود وصول کیے۔

    پولیس نے تھانہ ڈجکوٹ میں باپ بیٹوں اور 2 خواتین سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا-

  • ترکی میں ایک بارپھر 5.6 شدت کا زلزلہ، ایک شخص ہلا،69 زخمی

    ترکی میں ایک بارپھر 5.6 شدت کا زلزلہ، ایک شخص ہلا،69 زخمی

    ترکی ایک بار پھر زلزلے سے لرز اٹھا، جس میں ایک شخص ہلاک، 69 دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ پہلے سے ہی تباہ شدہ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں –

    باغی ٹی وی: ترکی تباہ کن زلزلےجس میں 48000 ہلاکتیں ہوئیں کے تین ہفتےبعد ایک بار پھر زلزلے سے لراٹھاملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے بتایا کہ 5.6 شدت کے زلزلے کا مرکز جنوبی ترکی کے صوبہ ملاتیا کے یسلیورٹ قصبے میں آیا-

    یسیلیورٹ کے میئر مہمت سینار نے ہیبر ترک ٹیلی ویژن کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے چار منزلہ عمارت کے ملبے کے نیچے ایک باپ اور بیٹی کئ پھنس جانے کی اطلاع ہے باپ بیٹی سامان اکٹھا کرنے کے لیے تباہ شدہ عمارت میں داخل ہو-

    انہوں نے رپورٹ کیا کہ ملاتیا میں ریسکیو کا کام جاری تھا کہ ایک بار پھر زلزلے کی وجہ سے پہلے سے تباہ شدہ عمارتیں منہدم ہو گئیں-

    ملاتیا ترکی کے ان 11 صوبوں میں شامل تھا جو 6 فروری کو 7.8 شدت کے زلزلے سے شدید متاثر ہوئے تھے جس نے جنوبی ترکی اور شمالی شام کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 48,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور ساتھ ہی 173,000 عمارتیں منہدم یا شدید نقصان پہنچا تھیں۔

    ترکی کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) کے سربراہ یونس سیزر نے آج ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ملاتیا میں پانچ عمارتوں میں تلاش اور بچاؤ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔

    ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والےزلزلوں میں اموات کی تعداد 44 ہزار 374 تک پہنچ گئی، ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی نے 21 ہزار منہدم عمارات میں سرچ اور ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا، اب تک زلزلوں کے آفٹر شاکس کی تعداد 9 ہزار 900 ہو گئی ہے-

    گزشتہ ہفتے پیر کو ترکی کے صوبہ ہاتائے میں 6.4 شدت کا زلزلہ آیا، جو 6 فروری کو آنے والے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ تھا۔

    ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، اے ایف اے ڈی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے زلزلے میں چھ افراد ہلاک اور 294 زخمی ہوئے، جن میں سے 18 کی حالت تشویشناک ہے۔

    دریں اثنا، ترک پولیس نے 6 فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلے میں عمارتوں کے منہدم ہونے کے الزام میں 184 افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں 48,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ایک وزیر نے ہفتے کے روز کہا کہ منہدم ہونے والی عمارتوں کا ذمہ دار کون ہے اس بارے میں تحقیقات کا دائرہ بڑھا رہے ہیں، کیونکہ بہت سے لوگوں کا غصہ عمارتوں کے کرپٹ طریقوں کے طور پر دیکھنے میں آتا ہے۔

    وزیر انصاف بکیر بوزدگ نے کہا کہ منہدم عمارتوں کے سلسلے میں 600 سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی ہے، انہوں نے جنوب مشرقی شہر دیار باقر میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تباہی سے متاثرہ 10 صوبوں میں شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو باضابطہ طور پر گرفتار کر کے ریمانڈ پر رکھا گیا ہے ان میں 79 تعمیراتی ٹھیکیدار، 74 افراد جو عمارتوں کی قانونی ذمہ داری اٹھاتے ہیں، 13 جائیداد کے مالکان اور 18 افراد جنہوں نے عمارتوں میں ردوبدل کیا تھا۔

    صدر طیب اردوان، جنہیں جون تک ہونے والے انتخابات میں اپنی دو دہائیوں کی حکمرانی کے سب سے بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے، نے احتساب کا وعدہ کیا ہے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی اور دیگر میڈیا نے رپورٹ کیا کہ صوبہ غازیانتپ میں، ضلع نوردگی کے میئرجو اردوان کی حکمراں اے کے پارٹی سے ہیں منہدم عمارتوں کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیے جانے والوں میں شامل تھے۔

    تباہی کے تقریباً تین ہفتے بعد ترکی میں ہلاکتوں کی کوئی حتمی تعداد نہیں ہے اور حکام نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ملبے تلے اب بھی کتنی لاشیں پھنسی ہوئی ہیں۔

  • انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات از خود نوٹس کیس بنچ میں سینئر ججز کی عدم شمولیت پر اعتراض اٹھادیا۔

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ انتخابات از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ سے 4 جج الگ ہوگئے ہیں فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ شامل ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میرے پاس بینچ سے الگ ہونے کا کوئی قانونی جواز نہیں، اپنے خدشات کو منظرعام پر لانا چاہتا ہوں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل ایک جج کی آڈیو لیکس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جج سے متعلق الزامات کا کسی فورم پر جواب نہیں دیا گیا، بار کونسلز نے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کردیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل جج پر اعتراض کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر ججز کی بنچ پر عدم شمولیت پر بھی اعتراض کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2 سینئر جج صاحبان کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، عدلیہ پر عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ اس کی شفافیت برقرار رہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ غلام ڈوگر کیس سے متعلق آڈیو سنجیدہ معاملہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی الیکشن سے متعلق پہلے ہی اپنا ذہن واضح کرچکے ہیں۔

    انہوں نے نوٹ میں کہا کہ دونوں ججز کا موقف ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہونے چاہیے، دونوں ججز نے رائے دیتے وقت آڑٹیکل 10 اے پر غور نہیں کیا ان حالات میں چیف جسٹس کا از خود نوٹس لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ عام انتخابات کا معاملہ پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل باقی 5 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی، تو چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے بتایا کہ 4 معزز ممبرز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحیی آفریدی نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے، اور اب عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، اطہر من اللہ اور یحیی آفریدی نے کیس کے حوالے سے اپنا ذہن واضح کر دیا تھا، انہوں نے خود کو بنچ سے الگ کیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی، آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے کل ہی ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا، مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو، جسٹس جمال خان مندوخیل کے نوٹ کو حکم میں شامل ہونے سے پہلے پبلک ہونا غیر مناسب ہے، عدالتی احکامات پہلے ویب سائٹ پر آتے ہیں پھر پبلک ہوتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی وکیل علی ظفر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں، آگاہ کیا جائے عدالت یہ مقدمہ سن سکتی ہے یا نہیں، کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ کی درخواست بھی سن کرنمٹائی جائے گی، علی ظفر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نےاسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنرکوارسال کی۔

    سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ گورنر پنجاب نے کہا میں نے اسمبلی توڑنے کی سمری دستخط نہیں کی، دستخط نہ کرنے کی وجہ سے الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتا، گورنر نے اپنے جواب میں الیکشن کمشنر کوتاریخ دینے کا کہہ دیا، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن ذمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ کیا الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو سکتی ہے؟وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن میں ایک گھنٹے کی بھی تاخیر نہیں ہو سکتی، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن زمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر ، صدر مملکت نے معاملے پر دو خطوط لکھے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر مملکت کا خط ہائیکورٹ حکم کے متضاد ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے تو اپنے جواب میں خود لکھا کہ گورنر سے مشاورت آئین میں نہیں، اگر مشاورت نہیں تو کمیشن پھر خود الیکشن کی تاریخ دے دیتا، الیکشن کمیشن اگر خود تاریخ دیدے تو کیا یہ توہین عدالت ہو گی؟

    علی ظفر نے دلائل دیئے کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال مختلف ہے، خیبرپختونخوا میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر دستخط کیے ، خیبرپختونخوا میں گورنر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کیس کی اگلی سماعت کل ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کو پشاور ہائیکورٹ میں 21 دن جواب جمع کرانے کے لیے دیے ، پشاور ہائیکورٹ نے 21 دن کا نوٹس کیوں دیا فریقین کو؟ قانونی نقطہ طے کرنا ہے یہ کوئی دیوانی مقدمہ تو نہیں جو اتنا وقت دیا گیا۔

    چیف جسٹس نے آج ہی گورنر خیبرپختونخوا کے سیکرٹری کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیدھا سادھا کیس ہے 18 جنوری سے گورنر تاریخ دینے میں ناکام ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے جائزہ لینا ہے کہ کیا لا اینڈ آڈر یا کسی اور وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ 218(3)فری فیئر شفاف انتخابات کا کہتا ہے، الیکشن کمیشن کو شفاف الیکشن کروانے ہیں، کیا گورنر کی مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے، سیکشن 57 کے تحت تاریخ دینے کیلئے الیکشن کمیشن کا کردار مشاورت کا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن بے بسی ظاہر کرے تو عدالت کو ایکشن لینا چاہیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا ذمہ داری کس کی ہے؟۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن کی تاریخ کے تعین کا سوال ہی عدالت کے سامنے ہے، پوری قوم کی نظریں عدلیہ پر ہیں قوم آپکی شکرگزار ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ 2018 کے انتخابات کی تاریخ صدر مملکت نے دی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ 2 ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سےالگ کردیں۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ ازخود نوٹس ایسے وقت میں لیا گیا جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیر کے روز یکطرفہ طور پر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر مشاورت کے لیے ان کی دعوت کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

    22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی درخواست پر لیے گئے از خود نوٹس میں کہا کہ ’عدالت کے دو رکنی بینچ کی جانب سے 16 فروری 2023 کو ایک کیس میں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی‘۔

    نوٹس میں کہا گیا کہ انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مزید درخواستیں بھی دائر کردی گئی ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجز بینچ تشکیل دیا ہے، جس میں سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود شامل نہیں ہیں۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھےدونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔

  • ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    بیلا روس کے دارالحکومت میں ایئربیس کےقریب ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا،ڈرون حملے کی ذمہ داری بیلاروس حکومت کی مخالف عسکریت پسند تنظیم نے قبول کرلی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیلاروس کے دارالحکومت منسک کے قریب ایک ہوائی اڈے پر بیلاروس میں نگرانی پر مامور روسی فوج طیارے A-50 کومچولیشچی ایئر بیس پر ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    روسی نگراں طیارے پر اس وقت حملہ کیا گیا ہے جب روس اور بیلاروس کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں اور روس نے یوکرین پر حملے کے لیے بیلاروس کے ایئر بیس سے اپنے طیارے بھیجے ہیں۔

    بیلا روس کے قانون نافذ کرنے والے سابق افسران کی ایک تنظیم BYPOL کے رہنما الیگزینڈر آزاروف نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ اور پولینڈ کے نیوز چینل پر بات کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

    عسکریت پسند تنظیم BYPOL بیلاروس کی حکومت کی مخالفت کرتی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی ہر قسم کی مدد کرتی ہیں جس پر حکومت نے تنظیم BYPOL کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

    اسی طرح حزب اختلاف کے رہنما سویٹلانا تسخانوسکایا کے قریبی مشیر فرانک ویاکورکا نے بھی اپنی ٹویٹ میں تنظیم BYPOL کی جانب سے نایاب روسی طیارے کو اڑانے کے لیے ایک کامیاب خصوصی آپریشن کی تصدیق کی ہے۔

    حزب اختلاف کے رہنما سویٹلانا تسخانوسکایا کے قریبی مشیر نے روسی طیارے پر حملے کو 2022 کے آغاز کے بعد سے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے تاہم روس اور بیلاروس کے حکام نے حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔

  • اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائیاں جاری،بیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوششیں ناکام

    اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائیاں جاری،بیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوششیں ناکام

    اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی کارروائیاں ملک بھر میں جاری ،اسلام آباد اور پشاورسے بیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنا دیں۔

    باغی ٹی وی: ترجمان اے این ایف کے مطابق اس سلسلے میں اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ سے فلائٹ نمبر کیو آر 633 کے ذریعے دوحہ جانے والے خیبر کے رہائشی ملزم سے 2 کلو 108 گرام آئس برآمد کرلی گئی، جو سوٹ کیس میں چھپائی گئی تھی۔

    اسلام آباد موٹر وے کے قریب کار سے 56 کلو 400 گرام چرس اور 8 کلو 400 گرام افیون برآمد کرکے سیالکوٹ کے رہائشی 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا-

    دوسری جانب باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ پشاور پر اے این ایف اور اے ایس ایف کی مشترکہ کارروائی میں فلائٹ نمبر پی کے 217 کے ذریعے ابوظبی جانے والے ملزم سے 123 گرام چرس برآمد کرلی گئی، جسے جوتوں میں چھپایا گیا تھا۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے تمام کارروائیوں میں گرفتار کیے گئے ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

  • شمالی وزیرستان: سیکورٹی فورسزکی کارروائی،2 سپاہی شہید،2 دہشتگرد ہلاک اور 2 گرفتار

    شمالی وزیرستان: سیکورٹی فورسزکی کارروائی،2 سپاہی شہید،2 دہشتگرد ہلاک اور 2 گرفتار

    راولپنڈی: شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں 2 سپاہی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:آئی ایس پی آر کیجانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کےخلاف کارروائی کی-

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلےمیں سپاہی عمران اللہ او رسپاہی افضل خان شہید ہوگئےسیکورٹی فورسزکےآپریشن میں 2 دہشتگرد بھی مارے گئےجبکہ 2 کو گرفتار کرلیا گیا دہشتگردوں کے قبضے سے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلئیرنس آپریشن جا رہی ہے۔

  • ہرنائی میں کان کنوں پر فائرنگ،4 کان کن ہلاک اور 3 زخمی،جنوبی وزیرستان میں بم دھماکہ،بچہ جاں بحق

    ہرنائی میں کان کنوں پر فائرنگ،4 کان کن ہلاک اور 3 زخمی،جنوبی وزیرستان میں بم دھماکہ،بچہ جاں بحق

    ڈی آئی خان: جنوبی وزیرستان بم دھماکے کے باعث بچہ جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:جنوبی وزیرستان میں یہ دھماکہ گاؤں دژہ غونڈئی میں ہوا،ابتدائی اطلاعات کے مطابق بم سڑک کے قریب نصب کیا گیا تھا تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہےزخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لے جایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں ہرنائی کے علاقے خوست کوئل مائنز ایریا میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 کان کن جاں بحق ہوگئے۔

    لیویز حکام کے مطابق فائرنگ سے تین افراد زخمی بھی ہوئے، واقعے میں جاں بحق کانکنوں کی لاشوں اور زخمیوں کو ہرنائی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے خوست میں کوئلہ کانکنوں پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز ہے، غریب اور بے قصور محنت کشوں کو مارنے والے انسان کہلانے کے لائق نہیں۔ دہشت گردی کے بد ترین واقعےمیں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروٴے کار لائے جائیں مائننگ ایریاز میں سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔

  • 27 فروری بھارت کیلئے بھیانک خواب بن گئی،دراندازی پر ایک اور ہمسایہ ملک سے شکست کا سامنا

    27 فروری بھارت کیلئے بھیانک خواب بن گئی،دراندازی پر ایک اور ہمسایہ ملک سے شکست کا سامنا

    27 فروری کی تاریخ میں ہزیمت اٹھانا بھارتی فوج اور مودی سرکار کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے، 27 فروری 2019 کوجہاں پاک فضائیہ نے منہ کے بل گرایا تھا جس سے بھارت دنیا بھر میں تماشہ اور مذاق بن کر رہ گیا تھا وہیں آج 27 فروری 2023 کو ایک اور پڑوسی ملک بنگال نے بھی بھارتی فوج کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 27 فروری 2019 کو پاک فضائیہ نے دراندازی کرنے والے بھارتی طیاروں کو مارگرایا تھا اور ایک پائلٹ کو حراست میں لے لیا تھا آج اس واقعے کے 4 سال مکمل ہونے پر بھارتی فوج کو بنگلادیش نے پسپائی پر مجبور کردیابھارتی بارڈر فوج کے دو اہلکار شدید زخمی ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کےمطابق بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بھارت-بنگلہ دیش سرحدپر بنگلہ دیشی کسانوں نے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)کے دو اہلکار وں کوشدید زخمی کردیا اور ان کے ہتھیار چھین لیے۔

    ہو کچھ یوں کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نےمغربی بنگال میں سرحدی خلاف ورزی کرتےہوئے بنگلادیش کے حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی بنگلادیشی فوج کے اہلکار اس دراندازی پر الرٹ ہوگئے اور جوابی کارروائی کی جس پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے اپنی روایات کے عین مطابق فرار ہوکر اپنی جان بچانے میں ہی عافیت جانی۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بنگلادیشی کسان اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے لیکن بھارتی بارڈر فورس نے اسے بھارتی سرزمین قرار دیا اور سرحد کے قریب ایک کھیت میں سو سے زائد بنگلہ دیشی کسانوں کو کام کرنے سے روک دیاجس پر بنگلادیشی کسان جو عرصہ دراز سےاس زمین پرکاشت کرتےآرہے ہیں بنگلہ دیشی کسانوں نے شدید احتجا کیا اور بھارتی فوج اور کسانوں میں جھڑپ بھی ہوئی تھی۔

    اسی موقع پر بنگلادیش کی سرحدی فورس کے اہلکار بھی پہنچ گئے اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو پیچھے دھکیل دیا۔

    دوسری جانب کولکتہ میں بی ایس ایف کے ترجمان نے دعویٰ کیاکہ بنگلہ دیش کے سو سے زائد کسان بھارتی علاقے میں داخل ہوئے اور بی ایس ایف کے اہلکاروں پر لاٹھیوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

    ترجمان کے مطابق ضلع مرشد آباد کے برہم پور سیکٹر میں ہونے والے اس حملے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آور فوجیوں کا اسلحہ چھین کر بنگلہ دیش فرار ہوگئے۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    لاہور: جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار رہنماؤں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر پنجاب حکومت نے گرفتاریاں دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی۔

    باغی ٹی وی: پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی، اسدعمر اور اعظم سواتی سمیت 9 رہنماؤں کو 30 روزکے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت نظربند کیا ہے۔

    پنجاب حکومت کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں77 لوگوں کو نظر بندکیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور نے نظر بندی کے احکامات جاری کیےپی ٹی آئی رہنماؤں کی دوسرےشہروں میں منتقلی کےخلاف درخواست ہےاعجاز چوہدری کی رہنماؤں کی بازیابی کی درخواست میں رپورٹ آگئی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل کو اگلی سماعت تک باقاعدہ جواب داخل کرانےکی ہدایت کرتے ہوئےکہا کہ ابھی رپورٹ عدالت کی فائل میں نہیں لگی، اس میں بھی رپورٹ جمع کرائیں، دونوں درخواستوں میں رپورٹ آنےکے بعد جمعےکو سماعت کریں گے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر، سینیٹر اعظم سواتی، سینیٹر ولید اقبال، عمر چیمہ، مراد راس، جان مدنی، اعطم نیازی اور احسان ڈوگر کی بازیابی کے لیے ایک سے زائد درخواستیں دائر کی گئیں تھیں-

    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے مشترکہ درخواست دائر کی تھی جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور سی سی پی او کو فریق بنایا گیا تھا-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئی جی اور سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے قائدین کو گرفتار کیا، پی ٹی آئی قائدین کو مال روڈ سے پکڑ کر پہلے کیمپ جیل پھر کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا،قائدین کو کھانا اور دوائیاں بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ادویات کی اجازت دی گئی اور انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے تاکہ ان کی شہرت اور ذات کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنائے جاسکیں۔

    درخواست کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں سینیٹر اعجاز چوہدری نے عدالت سے استدعا کی رہنماؤں کو بازیاب کرکے پولیس کو غیرقانونی اقدام سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔

    پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، ولید اقبال کی اہلیہ سیدہ نوریا، اعظم سواتی کے بیٹے عثمان علی سواتی نے الگ درخواستیں بھی دائر کیں، جس میں ان کی رہائی کی استدعا کی گئی-