Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان "جامع اقتصادی شراکت داری” معاہدے کو ایک سال مکمل

    متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان "جامع اقتصادی شراکت داری” معاہدے کو ایک سال مکمل

    آج سے ٹھیک ایک سال پہلے، 18 فروری 2022 کو، متحدہ عرب امارات اور بھارت نے ہمارے طویل اور نتیجہ خیز تعلقات کے ایک دلچسپ نئے باب کا آغاز کیا۔

    باغی ٹی وی: "گلف نیوز” کے مطابق اس جمعہ کی شام نئی دہلی میں، عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان، متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران۔ اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نےانڈیا جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جو ہمارے ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے اور علاقائی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے پہلے دوطرفہ تجارتی معاہدے کے طور پر اور MENA خطے کے کسی ملک کے ساتھ ہندوستان کا پہلا، یہ ایک حقیقی سنگ میل تھا لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اقتصادی کشادگی اور انضمام کی طاقت میں ہمارے مشترکہ یقین کا عکاس ہے۔

    مصنوعات کی 80 فیصد سے زیادہ لائنوں پر ٹیرف کو ہٹا کر یا کم کر کے، خدمات کی برآمدات تک مارکیٹ تک رسائی کو بڑھا کر، ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنا کر، اور SMEs کو تعاون اور پیمانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر کے، ہم مواقع کے ایک نئے دور کا تصور کر رہے تھے۔ غیر یقینی دنیا.

    یو اے ای کے لیے، CEPA ہمارے برآمد کنندگان کو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت میں بغیر کسی رکاوٹ کے داخلے کی پیشکش کرے گا، ایک ایسی قوم جس میں تیزی سے ابھرتے ہوئے متوسط ​​طبقے اور ایک بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کا حامل ہے۔

    ہندوستان کے لیے، اس نے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک گیٹ وے، اور صنعتوں اور اختراع کاروں کے لیے ایک متحرک، کاروباری دوستانہ پلیٹ فارم کا وعدہ کیا۔

    ہم دونوں کے لیے، یہ سپلائی چینز کو محفوظ بنائے گا اور دہائی کے آخر تک سالانہ غیر تیل تجارت میں $100 بلین کا راستہ پیش کرے گا۔

    یہ قابل ذکر معلوم ہوتا ہے کہ اتنے دور رس اور مہتواکانکشی معاہدے پر تین ماہ سے بھی کم عرصے میں کامیابی سے بات چیت کی گئی۔ تاہم، یہ معاہدہ چند مہینوں میں نہیں بلکہ پانچ دہائیوں سے زیادہ کے اعتماد، تعاون اور تبادلے کے بعد طے پایا تھا۔

    یہ UAE-India CEPA ان دو ممالک کے لیے ایک منطقی اگلا قدم سے کم معاشی انقلاب تھا جن کی تاریخیں اس قدر جڑی ہوئی ہیں۔

    دستخط کے بعد کے سال میں، اور مکمل نفاذ کے بعد نو مہینوں میں، تمام میٹرکس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف خوش آئند تھا بلکہ، ایک چیلنجنگ معاشی ماحول میں، بہت ضروری تھا۔ 2022 میں، غیر تیل کی باہمی تجارت کی مالیت $49 بلین تک پہنچ گئی، جو کہ 2021 کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ اور ہمارے 2030 کے ہدف کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے لیے ہندوستان کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور دوبارہ برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ ایک اہم تجارتی معاون کے طور پر ہماری حیثیت کو واضح کرتا ہے۔

    دبئی چیمبر آف کامرس نے یہ بھی اطلاع دی کہ انہوں نے 2022 میں 11,000 نئی ہندوستانی کمپنیاں رجسٹر کیں، جس سے مجموعی تعداد 83,000 سے زیادہ ہوگئی، جو ہمارے درمیان اقتصادی اور ثقافتی بندھن کو مزید مضبوط کرے گی۔

    بلاشبہ، CEPA کی کامیابی میں اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے وفود کی قیادت ایک دوسرے کے ملک میں کی ہے تاکہ ان دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کیا جا سکے۔

    مارچ 2022 میں، جناب پیوش گوئل نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی، جس میں اعلیٰ سرکاری افسران، ہندوستانی برآمد کنندگان اور صنعت کاروں کے رہنما شامل تھے UAE گئے تاکہ اس وقت کے نئے قائم کردہ CEPA ایکو سسٹم کے تحت ہمارے کاروبار کو زیادہ سے زیادہ تعاون کی طرف راغب کریں۔

    ایک ہفتہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل، ایچ ای الزیودی نے حکام، کاروباری رہنماؤں اور صنعت کاروں کے ایک وفد کی قیادت بھارت کی، جس نے اس تعاون کے اتپریرک ہونے کے کافی ثبوت پیش کیے تھے۔

    بنگلورو میں، مثال کے طور پر، Ducab گروپ نے ایک نیا علاقائی دفتر شروع کیا، جو اسے اپنی مارکیٹ میں معروف کیبلز اور دھاتی مصنوعات کے ساتھ ہندوستانی توانائی اور تعمیراتی شعبوں کی بہتر خدمت کرنے کے قابل بنائے گا۔ پھر، یو اے ای کے وفد کے اتر پردیش میں گلوبل انوسٹر سمٹ کے دورے کے دوران، ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست میں قابل تجدید توانائی، لاجسٹکس، ریٹیل، اور فوڈ پروسیسنگ کے منصوبوں میں متحدہ عرب امارات کے نجی شعبے کی 2.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔ 20,000 ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت۔

    وہ مئی 2022 سے شروع کی گئی کئی دیگر اہم شراکتوں کی پیروی کرتے ہیں، جیسے کہ گجرات میں 300MW کا ہائبرڈ قابل تجدید توانائی پروجیکٹ اور پورے ہندوستان میں پائیدار فوڈ پارکس جو فضلہ کو کم کرنے اور پانی کو محفوظ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کریں گے۔ پچھلے سال، DP ورلڈ نے دبئی انکیوبیٹر سینٹر کا آغاز کیا، ایک ٹیکنالوجی ایکسلریٹر پلیٹ فارم جو انویسٹ انڈیا اور اسٹارٹ اپ کیرالہ مشن کے ساتھ شراکت میں قائم کیا گیا ہے تاکہ ہندوستان کے لاجسٹکس سیکٹر میں جدت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

    ہمارے تعلقات کی تعریفی نوعیت ابھی تک اپنی حقیقی صلاحیت تک نہیں پہنچی ہے۔ اگر UAE سے ہندوستان میں CEPA کے بعد کی کچھ حالیہ سرمایہ کاری کوئی رہنما ہے، تو آسمان، جیسا کہ وہ کہتے ہیں، ہمارے تعاون کی حد ہے۔ بہت سے ممکنہ طور پر راستے کو توڑنے والے اقدامات ہیں جو ابھرنے پر ہیں، خواہ وہ ‘ورچوئل ٹریڈ’ کوریڈور ہوں یا ہندوستانی ریاست گجرات کے گفٹ سٹی میں ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے دفاتر کا ممکنہ سیٹ اپ۔

    ہم صرف اپنے دونوں ممالک کے درمیان لامحدود امکانات اور جیتنے والے تعاون کے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

    اس قسم کے متحرک مشترکہ منصوبے ہمارے CEPA کی حقیقی صلاحیت کو مجسم بناتے ہیں: تمام قسم کے سرمائے کا امتزاج – انسانی، تکنیکی اور مالیاتی – ایسے حل تیار کرنے اور تعینات کرنے کے لیے جو حقیقی دنیا کو بدلتے ہوئے اثر ڈال سکتے ہیں۔

    تنقیدی طور پر، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کی شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہماری قومیں بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی نقشے سے فائدہ اٹھاسکیں – جو کہ ایشیا کے ساتھ ہمیشہ بدلتا ہوا منظر نامہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ اس سال عالمی ترقی کی قیادت کرے گا، جس میں متوقع جی ڈی پی میں 4.6 فیصد اضافہ ہوگا۔ اگلے پانچ سالوں کے دوران، چین کو چھوڑ کر آسیان اور جنوبی ایشیائی خطے برآمدات اور درآمدی ترقی دونوں میں دنیا کی قیادت کریں گے۔

    ایک سال قبل، مثبتیت اور امکان کے جذبے کے ساتھ، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان ان نئی حقیقتوں کو قبول کرنے اور ہماری قوموں کو زیادہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ UAE-India CEPA کو نہ صرف ہماری اقتصادی کہانیوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا، بلکہ سرحد پار تعاون کے لیے ایک دیرینہ ماڈل کے طور پر دیکھا جائے گا-

  • 22 سالہ لڑکی بچے کو جنم دینے کے بعد ایمبولینس میں بورڈ کا امتحان دینے سینٹر پہنچ گئی

    22 سالہ لڑکی بچے کو جنم دینے کے بعد ایمبولینس میں بورڈ کا امتحان دینے سینٹر پہنچ گئی

    22 سالہ لڑکی بیٹے کی پیدائش کے بعد فوری طور پر ایمبولینس میں دسویں جماعت کے بورڈ کا امتحان دینے سینٹر پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی :تعلیم یقیناً ہماری زندگی کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک ہے اور ہروالدین کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کا بچہ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی مناسب تعلیم حاصل کرے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ طالب علم کی زندگی ہماری زندگی کا بہترین وقت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امتحان کا وقت یقیناً مشکل ترین وقت ہوتا ہے کیونکہ طالب علم کے مستقبل کا انحصار امتحانات کے نتائج پر ہوتا ہے۔

    لڑکی شادی کا جوڑا پہن کر امتحان دینے پہنچ گئی

    اگرچہ وقت بہت بدل چکا ہے پھر بھی کچھ لڑکیاں ایسی بھی ہیں جنہیں اپنی پڑھائی درمیان میں چھوڑنی پڑتی ہے، بعض اوقات اپنی مرضی سے تو کبھی کبھار وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوتی ہیں لیکن ریاست بہار کی اس لڑکی نے سب پر واضح کر دیا کہ اس کے لیے تعلیم ہی سب سے ضروری ہے 22 سالہ لڑکی بیٹے کی پیدائش کے بعد فوری طور پر ایمبولینس میں دسویں جماعت کے بورڈ کا امتحان دینے سینٹر پہنچ گئی-

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست بہار میں پیش آیا جہاں رُکمنی کماری ضلع بانکا کے گورنمنٹ اسکول کی طالبہ تھیں، بدھ کی صبح انہوں نے ایک بچے کو جنم دیا، جس کے تین گھنٹےبعد ڈاکٹروں اوراہلخانہ کے منع کرنےکے باوجود وہ سائنس کا پرچہ دینے سینٹر پہنچ گئیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رُکمنی کماری کا کہنا تھا کہ منگل کے روز میرا ریاضی کا پرچہ تھا، پرچہ دینے کے دوران مجھے تکلیف ہو رہی تھی، گھر آکر بھی تکلیف کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی جس کے بعد رات گئے مجھے اسپتال لے جایا گیا جہاں بدھ کی صبح 6 بجے میرے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

    ڈاکٹرز نے بتایا کہ رُکمنی نے ہم سے درخواست کی کہ اسے بورڈ کا امتحان لازمی دینا ہے، جس کے بعد ہم نے ایمبولینس کے ساتھ دو نرسیں اس کے ہمراہ بھیجیں، تاہم اب بچے اور ماں دونوں کی صحت ٹھیک ہے۔

  • بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

    اسلام آباد: کراچی کے علاوہ ملک کے تمام صارفین کے لیے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز دے دی ہے۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1روپے17 پیسے اضافے کی درخواست نیپرا میں دائر کر دی گئی۔

    سی پی پی اے نے جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا میں جمع کروائی ہے۔ نیپرا کی جانب سے سی پی پی اے کی درخواست پر 28 فروری کو سماعت کی جائے گی۔

    سی پی پی اے کی درخواست کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔

  • کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس:دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار

    کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس:دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار

    کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے گلستان جوہر کے علاقے میں کارروائی اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو حراست میں لے لیادہشت گردوں کے سہولت کار سے تفتیش کی جاری ہے۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    قبل ازیں کراچی پولیس آفس پر حملے کے معاملے پرکاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیم سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر جامشورو پہنچ گئی، سہولت کاروں کے حوالے سے ٹیکنیکل بنیادوں سے ملنے والی معلومات پر جامشورو میں کارروائی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملے کے دوران مارے گئے مزید 2 دہشت گردوں کے خاندانوں کی تلاش شروع کردی گئی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دونوں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، دونوں دہشت گردوں کا اسٹیٹس آئی ڈی پیز کا ہے-

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گرد زالے نور کا تعلق مداخیل تحصیل دتہ خیل، شمالی وزیرستان سے تھا، خودکش حملہ آور مجید نظامی کا تعلق بھی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل سے تھا، پولیس آفس حملے میں ہلاک تیسرے دہشت گرد کفایت اللہ کا تعلق لکی مروت سےتھا۔

    دریں اثنا آپریشن میں ہلاک دہشت گرد کفایت اللہ کے لکی مروت میں واقع گھر پر چھاپا مارا گیا تھا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وانڈا امیر خان تھانہ صدر کی حدود میں چھاپا مارا اور کفایت اللہ سے متعلق تفتیش کی۔

    دہشتگرد کفایت اللہ کے اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ کفایت اللہ کو گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔کفایت اللہ گھر سے 5 ماہ قبل فرار ہوگیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ کفایت اللہ افغانستان فرار ہوا ہے، حملےکے بعد پتہ چلا کہ کفایت اللہ پاکستان میں ہی تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کفایت اللہ کی عمر 22 سے23 سال تھی، دہشتگرد کفایت اللہ تربیت یافتہ اورافغانستان آتا جاتا رہا، کفایت اللہ افغانستان میں بھی لڑتا رہا، ہلاک دہشتگرد کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپوگل گروپ سے تھا، کفایت اللہ خیبرپختونخوا میں بھی پولیس پرحملوں میں ملوث تھا۔

    واضح رہے کہ جمعہ 17 فروری کو کراچی میں پولیس چیف آفس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوئے جبکہ جوابی فائرنگ حملے میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئےسیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے جبکہ ایک خود کش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہواڈی ایس پی ایس ایس یو سمیت 19 زخمی ہوئے، جن میں 7 رینجرز اہلکار اور ایک ایدھی کا رضاکار بھی شامل ہے۔

  • برطانوی اخبار نے مودی حکومت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا

    برطانوی اخبار نے مودی حکومت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا

    مودی سرکار نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے نہرو حکومت میں کیے گئے سیز فائر اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے وعدوں پر مشتمل دستاویز Bucher Papers کو منظر عام پر آنے سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی: برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا گیا۔

    دی گارڈین نےاپنی رپورٹ میں کہا کہ بُچرپیپرزجواہر لال نہرو اورسابق بھارتی آرمی چیف کے مابین کشمیر اور سیز فائر کے معاملے پر ہونے والی خط و کتابت پر مشتمل ہیں بھارتی حکومت کشمیر سے متعلق بُچرپیپرزکو منظرِ عام پر آنے سے روکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، رائے بُچرنے بھارتی سینا کے گرتے مورال کے باعث نہرو کو مسئلہ کشمیر اقوام ِ متحدہ لے جانے کا مشورہ دیا تھا-

    بھارت مسئلہ کشمیر کو پُرامن تصفیہ کیلئے خود اقوامِ متحدہ لے کر گیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ غاصبانہ انضمام کر لیا، 1952میں نہرو نے بھارتی لوک سبھا میں بیان دیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری خود کریں گےہم کشمیریوں پر بندوق کی نوک پر اپنی مرضی مُسلط نہیں کریں گے-

    گارڈین کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نہرو میوزیم کے نگراں نریندر مشرہ نے مودی سرکار سے Bucher Papers کو تحقیقی مقاصد کے لیے منظر عام پر لانے کی درخواست اکتوبر 2022 کو تھی۔

    تاہم مودی سرکار نے Bucher Papers کو پبلک کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس دستاویز کے منظر عام پر آنے سے بھارت کو شدید سیاسی اور خارجی مضمرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ نےکہاکہ بُچرپیپرز کو پبلک کرنےسے بھارت کو شدید سیاسی اور خارجی مضمرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بھارت عمومی طور پر25سال بعد سرکاری خط و کتابت اور دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کر دیتا ہےماضی میں بھی کئی بار صحافتی تنظیموں اور کارکنوں کی طرف سےبُچرپیپرز پبلک کرنے کی کاوشیں کی جا چکی ہیں دہلی کے نہرو میوزیم میں رکھے گئےبُچرپیپرز مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی تائید کرتے ہیں

    کیا مُودی سرکار نے آرٹیکل370کی معطلی سے بھارت کے کشمیریوں سے سابقہ وعدوں کی خلاف ورزی کی؟کیا بھارت طاقت کے زور پر کشمیریوں سے اُن کا حقِ خود ارادیت چھیننا چاہتا ہے؟آخر عالمی میڈیا اور اقوامِ عالم کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر کب تک خاموش رہیں گی؟-

    خیال رہے کہ اس دستاویز میں 1952 میں کشمیر میں کیے گئے سیز فائر کے بعد اُس وقت وزیر اعظم نہرو کا لوک سبھا میں دیا گیا پالیسی بیان شامل ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری خود کریں گے۔ ہم کشمیریوں پر بندوق کی نوک پر اپنی مرضی مُسلط نہیں کریں گے۔

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ سیز فائر اور نہرو کے اس بیان کے بعد بھارتی فوج اور حکومت کا مورال پست ہوگیا تھا جس پر اس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل بوچر رائے نے نہرو کو مسئلہ کشمیر اقوام ِ متحدہ میں لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔

    آرمی چیف کے مشورے پر بھارت مسئلہ کشمیر کے پُرامن تصفیہ کے لئے اقوامِ متحدہ گیا لیکن وہاں بھی منہ کھانی پڑی اور فیصلہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر آیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بھارت نے غاصبانہ طور پر کشمیر کا اپنے ساتھ انضمام کرلیا۔

    ویسے تو بھارت ہر 25 سال بعد سرکاری خط و کتابت اور دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کردیتا ہے لیکن پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور آرمی چیف جنرل رائے بوچر کے درمیان کشمیر اور سیز فائر پر ہونے والی سرکاری خط و کتابت پر مشتمل دستاویز Bucher Papers کو دبائے بیٹھا ہے۔

    ماضی میں بھی کئی بار صحافتی تنظیموں اور کارکنوں کی طرف سے Bucher Papers کو پبلک کرنے کی کاوشیں کی جا چکی ہیں۔

  • کوئٹہ:گرفتارخودکش حملہ آور خاتون سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

    کوئٹہ:گرفتارخودکش حملہ آور خاتون سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

    کوئٹہ: گزشتہ روز پولیس نے سیٹلائٹ ٹاؤن لیڈیز پارک سے خودکش حملہ آور خاتون کو گرفتار کیا تھا جس سے متعلق تہلکہ خیزانکشافات سامنے آئے ہیں ملزمہ کا شوہر اور سسر بھی بلوچ عسکریت پسندوں میں شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق خودکش حملہ آور خاتون ماہل بلوچ کے شوہر بیباگار بلوچ عرف ندیم کا تعلق بھی بی ایل ایف (بلوچ لبریشن فرنٹ) کے عسکری ونگ سے جبکہ سسر ماسٹر محمد حسین کا تعلق بی این ایم کی مرکزی کمیٹی سے ہے بیباگاربلوچ اور اس کا بھاٸی بی ایل ایف کمانڈر وں کے قریب ترین ساتھیوں میں شامل ہیں۔

    ان کمانڈروں میں واحد بخش قمبربی ایل ایف کابانی ڈاکٹر اللہ نذر،دلیپ شکاری اوربی این ایم کا چٸیرمین غلام نبی ہیبتان شامل ہیں سال 2016ء میں بیباگار اور اس کا بھاٸی نوکب آپس میں پیسے اور ہتھیاروں کے تنازع پر لڑاٸی کے نتیجے میں مارے گٸے۔

    ملزمہ ماہل کی بہن کی شادی بھی ڈاکٹر اللہ نذر کے بھتیجے یوسف سے ہوٸی جو بلوچ حقوق کی تنظیم کا چٸیرمین ہے ماہل کو استعمال کر کے زور دیا گیا کہ وہ بی ایل ایف کے عسکری ونگ کو سپورٹ کرے۔

  • اسلام آباد یونائیٹڈ کا ملتان سلطانز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا ملتان سلطانز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ

    ملتان: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں ایڈیشن کے ساتویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی :ملتان میں کھیلے جارہے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی سلطانز کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دیکر پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کریں۔

    پنجاب میں بڑے پیمانے پر پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں ،نوٹیفیکیشن جاری

    ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے کہا کہ ٹیم کمبنیشن اچھا ہے بڑا ٹارگٹ دیکر میچ میں کامیابی سمیٹنا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان سپر لیگ میں دوسرے میچ میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز میدان میں اتریں گی لاہور قلندرز نے ایک میچ کھیلا جس میں فتح سمیٹی ہے جبکہ کراچی کنگز کو مسلسل تین میچزمیں شکست کا سامنا رہا-

  • نادرا کی درخواست پرگوگل پلے اسٹور سے 14 ایپلیکیشنز ہٹا دی گئیں

    نادرا کی درخواست پرگوگل پلے اسٹور سے 14 ایپلیکیشنز ہٹا دی گئیں

    اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی درخواست پر گوگل نے اپنے پلے اسٹور سے 14 ایپلیکیشنز ہٹا دیں۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹ کے مطابق نادرا نے پاکستانی شہریوں کی معلومات کی خلاف ورزی کا معاملہ الفابیٹ کی زیر ملکیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ اٹھایا تھا نادرا نے’گوگل پلے اسٹورز پر موجود ایپلیکیشنز کی جانب سے شہریوں کی ذاتی معلومات اور ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر‘ گوگل کو خط لکھا۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    خط میں کہا کہ پاکستانی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا آپ کے پلیٹ فارم اور گوگل پلے سٹور پر دستیاب مختلف ایپلی کیشنز کے ذریعے غیر قانونی طور پر فروخت یا شیئر کیا جا رہا ہے،جس سے پاکستان کے باشندوں کی رازداری کو نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ ڈیٹا چوری ہو رہا ہے جو پاکستان کی وفاقی حکومت کا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ یہ ایپلیکیشنز نادرا کے نام اور پروڈکٹس کو غیر قانونی اور دھوکا دہی سے استعمال کر کے صارفین کو یہ تاثر دے کر فریب دے رہی ہیں کہ ایپیلیکشنز کسی نہ کسی طریقے سے نادرا سے باضابطہ طور پر منسلک، مجاز یا آپریٹ ہو رہی ہیں۔

    ملکی مسائل کے حل کی کوئی بات کوئی نہیں کررہا،ایک دوسرے پر الزامات لگانے پر مصروف ہیں،شاہد خاقان

    یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ گوگل کی نقالی سے متعلق پالیسی صارفین کو کسی اور کی نقالی کرنے کی اجازت نہیں دیتی، نادرا نے کمپنی کو آگاہ کیا کہ ’کچھ ایپس نادرا کی نقالی کر رہی ہیں یا یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنے صارفین کو نادرا کی مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے کی اجازت رکھتی ہیں‘ اور یوں پاکستانی شہریوں سے ذاتی معلومات حاصل کررہی ہیں،ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے، جس سے پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی مضمرات ہو سکتے ہیں-

    چیئرمین نادرا طارق ملک نے بتایا کہ نادرا کے خط کے جواب میں گوگل نے ایپ سٹور سے 14 ایپلیکیشنز کو ہٹا دیا ہے،2021 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے رضاکارانہ طور پر شہریوں کے ذاتی ڈیٹا تک ’سپر رسائی‘ کو ترک کر دیا تھا اور اسے نادرا کے ملازمین کے لیے بھی ناقابل رسائی بنا دیا تھا۔

    پنجاب میں بڑے پیمانے پر پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں ،نوٹیفیکیشن جاری

    انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا بیس اتھارٹی نے اپنے انفارمیشن سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو بھی بحال کردیا تھا، جو اس سے قبل 2014 میں ان کے ادارہ چھوڑنے کے بعد غیر فعال کر دیا گیا تھا۔

    دوسری جانب نادرا کے اعلامیہ کے مطابق اتھارٹی نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کیلیے صارفین کا موبائل نمبر ریکارڈ میں لازمی شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا-

  • کراچی پولیس چیف آفس حملےمیں جاں بحق اجمل مسیح کی پورےاعزاز کےساتھ تدفین

    کراچی پولیس چیف آفس حملےمیں جاں بحق اجمل مسیح کی پورےاعزاز کےساتھ تدفین

    فیصل آباد:کراچی پولیس چیف آفس حملے میں جاں بحق اجمل مسیح کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں-

    باغی ٹی وی:اجمل مسیح کا تعلق فیصل آباد کے نواحی گاوں ککڑاں سے تھا،اجمل مسیح سندھ پولیس میں سینیٹری ورکر کے عہدے پر کام کر رہا تھا،اجمل مسیح کی آخری رسومات بھی پولیس ہیڈ آفس میں ادا کی گئیں جس کے بعد جسد خاکی پنجاب روانہ کردیا گیا اجمل مسیح آخری رسومات میں شہریوں اور پولیس ملازمین کی بڑی تعداد شریک ہوئی-

    ملکی مسائل کے حل کی کوئی بات کوئی نہیں کررہا،ایک دوسرے پر الزامات لگانے پر مصروف ہیں،شاہد خاقان

    پولیس کے دستوں نے اجمل مسیح کو آخری سلامی بھی پیش کی،اجمل مسیح کی پورے اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی-

    کراچی پولیس آفس حملے میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاںبحق ہونے والےاجمل مسیح کے سوگوار خاندان میں بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں جبکہ ان کی بیٹی مونیکا اور بیٹا آکاش نویں جماعت کے طالبعلم ہیں، دس سالہ بیٹا وقاص چوتھی، 7 سالہ نقاش پریپ میں زیر تعلیم ہیں۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    بیوہ روبینہ نے بتایا تھا کہ اجمل نے کرسمس خاندان کے ساتھ گاؤں میں گزاری وہ وہ ایک ماہ کی چھٹی کے بعد 20 جنوری کو واپس کراچی آگئے تھے جمعہ کی سہ پہر اجمل نے ویڈیو کال پر بات کی تھی وہ فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کی وجہ سے بہت خوش تھے وہ اکثر ویڈیو کال پر دفتر دکھاتے رہے تھے ان کا آفس چوتھے فلور پر تھا۔

    اجمل کے سسر پاسٹر رزاق نے بتایا تھا کہ اجمل کے والدین بچپن میں ہی وفات پاگئے تھے وہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور انتہائی ملنسار اور فرمانبردار تھا۔

    کراچی:دہشت گردوں کی تعداد 5 تھی،3 گاڑی میں سوار ہو کر آئے:مقدمہ درج ہوگیا

  • 30اپریل تک عمران خان پر ایک اور حملہ ہوسکتا ہے،شیخ رشید کادعویٰ

    30اپریل تک عمران خان پر ایک اور حملہ ہوسکتا ہے،شیخ رشید کادعویٰ

    راولپنڈی: سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ 30اپریل تک عمران خان پر ایک اور حملہ ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : شیخ رشید نے کہا کہ یہ عمران خان کے ساتھ الیکشن لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں،صدر مملکت الیکشن کی تاریخ دینے کااختیار رکھتے ہیں،صدر علوی کو کہتا ہوں پیر کو الیکشن کی تاریخ دیں یا استعفیٰ دیں-

    شیخ رشید نے کہا کہ خواجہ آصف نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کوبحران میں دھکیلنے میں الیکشن کمیشن نے عزت ہیں کمائی ملک ڈیفالٹ ہوچکا ہے، یہ کہتے تھے اسٹیٹ کو ڈیفالٹ کہنے والا غدار ہے، مریم نواز نے کہا یہ میری حکومت نہیں ہے، تو بتائیں کس کی حکومت ہے؟-

    سربراہ عوامی لیگ کا کہنا تھا کہ آدھا سامان جیل مین چھوڑ کر آیا ہوں، عمران خان کہے گا تو سب سے پہلے گرفتاری دوں گا،20سے 30 تاریخ تک فیصلہ ہوجائےگا،پہلے ایف آئی آر لکھوائی ہے کہ آصف زرداری سمیت 5 میرے مجرم ہوں گے،گرفتاری اور ضمانت کے بعد ایک نیا شیخ رشید سامنے آیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ ان قیمتوں کو بڑھانے پر آئی ایم ایف خوش نہیں ،انہیں علم ہے یہ سب چور ہیں،قوم سے پوچھتا ہوں 10ماہ گزر گئے نوازشریف کیوں وطن واپس نہیں آرہے-

    سابق وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ صوبوں اور مرکز کے انتخابات اکٹھے ہوں گے-