Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • آئی سی سی نے راولپنڈی وکٹ کا ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا

    آئی سی سی نے راولپنڈی وکٹ کا ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے راولپنڈی کی وکٹ سے متعلق پاکستان کا مؤقف مان لیا اورڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا-

    باغی ٹی وی : آئی سی سی نے پاکستان اور انگلینڈ ٹیسٹ کے بعد راولپنڈی پچ کو ڈی میرٹ پوائنٹ دیا تھا تاہم نجم سیٹھی نےعہدہ سنبھالنے کے بعد آئی سی سی کے فیصلے پر اپیل کی تھی۔

    آئی سی سی بھی آن لائن فراڈ کا شکار ہو گیا

    تاہم اب آئی سی سی نے راولپنڈی وکٹ کا ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا اور کہا کہ اپیل پر جائزے کے بعد طے ہوا کہ وکٹ ’بیلو ایوریج‘ نہیں تھی آئی سی سی کا کہنا تھاکہ میچ کا نتیجہ نکلا، 39 میں سے37 وکٹیں لی گئیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ راولپنڈی ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پہلے دن 500 سے زیادہ رنز بنائے تھے جب کہ اس ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دی جبکہ گز شتہ برس آسٹریلیاکے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران بھی پنڈی کی پچ کو ڈی میرٹ پوائنٹ ملا تھا۔

    ون ڈے رینکنگ: نیوزی لینڈ سےنمبر ون پوزیشن چھن گئی،پاکستان پانچویں نمبر

  • ریاست کو نقصان پہنچانے والوں کو عبرت کانشان بناکر نواز شریف کو لانا ہو گا،جاوید لطیف

    ریاست کو نقصان پہنچانے والوں کو عبرت کانشان بناکر نواز شریف کو لانا ہو گا،جاوید لطیف

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ 2017 میں ہم کہتے تھے ٹرتھ کمیشن بنایا جائے، جب اقبال جرم کر لیا تو ٹرتھ کمیشن کیسا-

    باغی ٹی وی : لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ 2017 میں ہم کہتے تھے ٹرتھ کمیشن بنایا جائے، جب اقبال جرم کر لیا تو ٹرتھ کمیشن کیسا، اور کیا دیکھنا ہے، نومبر 2022 تک کھلے عام سرپرستی کی جاتی رہی-

    جاوید لطیف نے سوالات اٹھائے کہ کیا سازشی خط کا اس وقت کے اسٹیبلشمنٹ چیف کو پتا نہیں تھا کہ یہ جھوٹا ہے؟کیا انہیں پنکی اور فرح گوگی کی کرپشن کا پتانہیں تھا؟کیا صادق و امین کا سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے ثاقب نثار کو پتا نہیں تھا کہ وہ پلے بوائے ہے؟20 ضمنی نشستوں پر بھی سہولت کاری ہو رہی تھی، روز ساڑھے تین گھنٹے جھوٹ بولے گئے، کیا اسے سہولت کاری نہیں کہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2017 کے کرداروں کی جیب سے پیسا نکالا جائے، 5 کرداروں نے ریاست کو سفارتی، معاشی اور مالی طور پر نقصان پہنچایا-

    آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے،اسوقت ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے،شاہد…

    وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف نے ذات کی تکلیفیں بھلا کر آگے بڑھنے کی بات کی، نواز شریف نے گارنٹی نہیں لی اور نہ آج چاہتے ہیں، کیا نوازشریف بار بار قربانی دیتا رہے گا؟، نوازشریف کو بار بار احتساب، میڈیا ٹرائل سے گزارا گیا نواز شریف نے ریاست کے لیے بہت قربانیاں دیں لیکن نواز شریف کی قربانیوں کو ضائع کیا گیا، اب نواز شریف مزید قربانیاں نہیں دے گا-

    ان کا کہنا تھا اس شخص یعنی عمران خان کو آج بھی مقبول رکھنا کس کی ضرورت ہے، ریاست کو نقصان پہنچانے والوں کو عبرت کانشان بناکر نواز شریف کو لانا ہو گا، نوازشریف سے معافی مانگ کر انہیں واپس پاکستان لانا ہو گا۔

  • مداریوں سے عوام تنگ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مداریوں سے عوام تنگ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی ایسے مسائل ہیں جن کو اعتدادل پر لائے بغیر ملک کی سالمیت اور بقاء ناممکن ہے مقتدر حلقوں اور قومی سلامتی کے ضامن اداروں کو بغیر وقت ضائع کئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے بے معنی تنازعات کو دفن کرنے کا فیصلہ صادر کرنا چاہئے اور معاشی سدھار پیدا کر لے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔گزشتہ ادوار کا اگر جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ نوازشریف کے دور اقتدار میں سی پیک، توانائی اور صنعتی ترقی کے اقدامات کے بل بوتے پر پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طورپر ترقی کے راستے پر گامزن تھا ۔

    ترقی کے سفر میں ناعاقبت اندیش رختہ ڈال کر نہ جانے کیوں وطن عزیز کو نہ ختم ہونے والے عدم استحکام کا شکار کر دیا گیا اور اب نہ جانے کون سے پوشیدہ ہاتھ ہیں جو ملک کی سیاسی قوتوں کو منتشر رکھ کر اپنے نادیدہ عزائم کی تکمیل پر بضد ہیں۔ چند دن قبل وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے پریشر کو زائل کرنے کے لئے قومی سطح پر کفایت شعاری کا اعلان کیا لیکن ان پر عمل ہوا یا ہوتا نظر آرہا ہے؟ کیا کابینہ کے براتی حجم کو کم کرنے کا سوچا؟ –

    کیا ہم نے اعلیٰ افسران کی نازبرداریوں کے اخراجات کو کم کے اقدامات کئے؟ کیا ہم نے پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیوں کا سفر کم کیا؟ کیا ہم نے پی آئی اے، سٹیل ملزم، حتیٰ کے اسمبلیوں میں من پسند عزیزوں کی غیر ضروری بھرتیوں کو روکا؟ نہیں بالکل نہیں حکومت کی بدانتظامی اور بے خبری کا یہ عالم ہے کہ ہم سفارش اور رشوت کی کشش میں دیہی علاقوں کے کالجوں میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کو نظرانداز کر دیا سرکاری کالج ویران ہو گئے کفایت شعاری اور انتظامی صلاحیت کیا باقی رہ گئی ہے؟-

    مقتدر حلقوں کو نیوٹرل نیوٹرل کی گردان سے نکل کر بدانتظامی اور عدم استحکام کے گرداب میں پھنسے وطن عزیز کو ترقی کی منزل کی جانب گامزن کرنا ہوگا خواہ اس کے لئے قومی حکومت کا حربہ ہی کیوں نہ آزمانا پڑے ملک میں اس وقت صرف سیاسی بیانات کا طوفان اور واقعات کا ایک ریلا ہے ان حالات میں کچھ بھی آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ عوام جعلی نعرے سن سن کر تھک چکے ہیں داخلی معاملات ہوں یا خارجہ پالیسی دونوں فکر انگیز ہیں۔ عوام ان مداریوں سے تنگ آچکے ہیں۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

  • دوسروں پر چوری کا الزام خود خیراتی پیسوں کی چوری کا اعتراف، مریم اورنگزیب کی عمران خان پر تنقید

    دوسروں پر چوری کا الزام خود خیراتی پیسوں کی چوری کا اعتراف، مریم اورنگزیب کی عمران خان پر تنقید

    وفاقی وز یراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان کو خواجہ آصف پر ہتک عزت کیس کی سماعت کے دوران دیئے گئے ان کے بیان پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی: مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ثاقب نثارکے صادق و امین نےشوکت خانم کے 3 ملین ڈالر خیراتی فنڈ ہاؤسنگ سوسائٹی میں لگانے کا اعتراف کیا، دوسروں پر چوری کا الزام اور خود خیرات کے پیسوں کی چوری کا اعترافِ جرم۔


    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے آپ کو شوکت خانم کے لیے زکوٰۃ کے پیسے دیے، ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے نہیں دیے تھے، لاکھوں ڈالر کا خیراتی پیسہ لگاتے ہوئے شوکت خانم کے بورڈ سے منظوری بھی نہ لی۔

    دشمن مرے تے خوشی نا کریے ہوے سجنا وی مر جانا،صوفی شاعر میاں محمد بخش

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ کہ جھوٹا، فراڈیہ، توشہ خانہ اور زکوٰۃ چورکہتا ہے توشہ خانہ میں چوری کی تو کیا ہوا، ریاست کے 190 ملین پاؤنڈ کھا گیاتو کیا ہوا، 5 قیراط کا ہیرا ہی تو لیا ہے، فارن فنڈنگ کرکے ملک کے خلاف دشمنی کی تو کیا ہوا، زکوٰۃ کے پیسے ہی تو چوری کیے ہیں تو کیا ہوا، ٹرسٹ کا پیسہ ہی تو کھایا ہے تو کیا ہوا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ القادرٹرسٹ کے نام پر 458 کنال اراضی رشوت پر لی تو کیا ہوا، بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کرپنجاب کی ہر نوکری، ہرعہدہ بیچا تو کیا ہوا جن کو چور کہتے ہیں، پاکستان کیا برطانیہ کی بھی کسی عدالت میں جھوٹے الزام ثابت نہیں کر سکے، عمران خان اِسی لیے عدالت پیش نہیں ہوتے کیونکہ اگر ہوئے تو تمام جرائم کا اعتراف کرنا پڑے گا۔

    آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے،اسوقت ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے،شاہد…

  • حکومت نے پچھلےچارماہ میں جو فیصلےنہیں کیےاس سےملک کو نقصان ہوا،مفتاح اسماعیل

    حکومت نے پچھلےچارماہ میں جو فیصلےنہیں کیےاس سےملک کو نقصان ہوا،مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی عروج پر ہے اور حکومتی ادارے اربوں کا نقصان کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: کوئٹہ پریس کلب میں مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور لشکری رئیسانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو واپس لائے تو ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا۔

    آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے،اسوقت ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے،شاہد…

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہےاس وقت مشکل معاشی حالات ہیں۔ حکومت نے پچھلے چار ماہ میں جو فیصلے نہیں کیے اس سے ملک کو نقصان ہوا۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کےدوران انہوں نے کہا ہےکہ 20 برسوں میں قرض بڑھتا جارہا ہےپاکستان کا قرض بڑھ کر51ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے بات چیت کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں ۔ امید ہے اب معاشی مسائل حل ہوں گے اس سال پاکستان کو 21 ارب ڈالر واپس کرنا ہیں۔

    توانائی کےشعبےکےمسائل سمیت گردشی قرضے کو ختم کیا جائے،اسحاق ڈار

    مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، حکومت تعلیم اور صحت کے بجائے قرض کی قسط ادا کرے گی، قسطیں ادا کرنے کے لیے لوگوں کے مزید پیٹ کاٹنے کی گنجائش نہیں ہے، وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو حقوق دیے جائیں، پاکستان اس لیےنہیں بنایاتھا کہ لوگ غربت میں زندگی گزاریں،

    دوران پریس کانفرنس سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں 80 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، برآمدات بڑھانا ہوں گی، زراعت بہتر بنانا ہوگی،حکومت نے چار مہینے فیصلے نہیں کیے،جس سے معیشت کو نقصان ہوا۔

    اے این ایف کی کاروائی کے دوران اسمگلرز کی فائرنگ سے اہلکار زخمی ملزمان فرار

  • سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی ،وزیراعظم شہباز شریف کی  شدید الفاظ میں مذمت

    سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی ،وزیراعظم شہباز شریف کی شدید الفاظ میں مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ سویڈن میں دائیں بازو کے انتہاپسند کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے گھناؤنے فعل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    توانائی کےشعبےکےمسائل سمیت گردشی قرضے کو ختم کیا جائے،اسحاق ڈار


    انہوں نے مزید کہا کہ آزادی اظہار کے لبادے کو دنیا بھر میں بسنے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا،سویڈن میں دائیں بازو کے انتہا پسند کی جانب سے کیا گیا شرمناک فعل ناقابل قبول ہے۔


    قبل ازیں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قرآن پاک کی بےحرمتی سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اظہار رائے کی آزادی میں نہیں آتا، انسانی حقوق کے علمبردار نفرت انگیز عمل کی روک تھام کی ذمہ داری نبھائیں، انسانی حقوق کے علمبردار لوگوں کو تشدد پر نہ اکسانے کی ذمہ داری نبھائیں، اسلام امن کا مذہب ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان تمام مذاہب کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔

    مریم نواز 28 جنوری کو وطن واپس پہنچیں گی،رانا ثناء اللہ

    واضح رہے کہ سوئیڈن اور ترکیہ کے درمیان نیٹو کی رکنیت کو لے کر کشیدگی چل رہی ہے۔ سوئیڈن نیٹو میں شمولیت کا خواہاں ہے لیکن ترکیہ گزشتہ برس مئی سے اس کی مخالفت کر رہا ہےترکیہ کا کہنا ہے کہ پہلے سوئیڈن ترک صدر طیب اردگان کے ناقدین اور کرد رہنماؤں کو ڈی پورٹ کرے لیکن سوئیڈن یہ مطالبات تسلیم نہیں کر رہا۔

    اسی اثناء میں سوئیڈن کی انتہائی دائیں بازو کی شدت پسند جماعت کے رہنما راسموس پلودن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہفتے کو اسٹاک ہوم میں ترک سفارتخانے کے باہر احتجاج کرے گا اور اس دوران وہ قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے سوئیڈش حکام نے راسموس کو قرآن کی بے حرمتی کی اجازت دے دی تھی جس پر ترکیہ نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا جبکہ دو روز میں سوئیڈن کے سفیر کو دو بار طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کراچکا ہے۔

    ترکیہ نے نیٹو رکنیت کے معاملے پر بات چیت کیلئے سوئیڈش وزیر دفاع کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کردیا ہے اور کہا ہے کہ اب مذاکرات کا کوئی مقصد باقی نہیں رہاسوئیڈن کے وزیر دفاع پال جانسن نے کہا ہے کہ ترکیہ کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکیں۔

    اے این ایف کی کاروائی کے دوران اسمگلرز کی فائرنگ سے اہلکار زخمی ملزمان فرار

    خیال رہےکہ راسموس پلودن اور اس کی پارٹی کی جانب سے اس سے قبل بھی اسلام مخالف حرکات کی جاتی رہی ہیں، 2022 اور 2020 میں بھی پلودن نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قرآن پاک کو نذر آتش کرنےکی تقریب کے انعقاد کی کوشش کی تھی جس کے بعد سوئیڈن میں بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

  • دشمن مرے تے خوشی نا کریے ہوے سجنا وی مر جانا،صوفی شاعر میاں محمد بخش

    دشمن مرے تے خوشی نا کریے ہوے سجنا وی مر جانا،صوفی شاعر میاں محمد بخش

    دشمن مرے تے خوشی نی کریے ہوے سجناں وی مرجانا

    صوفي شاعر میان محمد بخش 1830ء کھڑے شریف میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے اور 22 جنوري 1907ءمیں ان کی وفات ہوئی ان کا پنجاب کے گجر قبیلے سے تعلق تھا ان کا شجرہ حسب نسب پیر شاھ غازي المعروف پیر دمڑی والا سے ملتا ہے ، انہوں نے غلام حسین سموالوي اور شیخ احمد ولي ڪشميري سے فیض حاصل کیا میان غلام محمد ڪلروڑی کی بیعت کی انہوں نے شادی نہی کی ان کی شائع شدہ تصانیف میں (سیف الملوک، تحفہ میراں کرامات غوث اعظم، تحفہ رسولیہ معجزات جناب سرور کائنات، ہدایت المسلمین، گلزار فقیر، نیرنگ عشق، سخی خواص خان، سوہنی میہنوال، قصہ مرزا صاحباں، سی حرفی سسی پنوں، قصہ شیخ صنعان، نیرنگ شاہ منصور، تذکرہ مقیمی، پنج گنج) وغیرہ شامل ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اول حمد ثنا الہی تے جو مالک ہر ہر دا
    اس دا نام چتارن والا کسے وی میدان نا ہردا

    روح درود گھنن سب جاسن آپو اپنے گھر نوں
    تیرا روح محمد بخشا تکسی کیڑے در نوں

    نیچاں دی اشنائ کولوں فیض کسے نہ پایا
    ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا

    خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
    مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی

    باغ بہاراں تے گلزاراں بن یاراں کس کاری
    یار ملے دکھ جان ہزاراں شکر کہاں لکھ واری

    اچی جائ نیوں لگایا بنڑی مصیبت بھاری
    یاراں باجھ محمد بخشا، کون کرے غمخواری

    لوئے لوئے بھر لے کُڑیے، جے ددھ بھانڈا بھرناں
    شام پئی بِن شام محمد، گھر جاندی نیں ڈرناں

    مرنا مرنا ہر کوئی آکھے ، میں وی آکھاں مرنا
    جس مرنے وِچ یار نئی راضی، اُس مرنے دا کی کرنا​

    بیلی بیلی ہر کوئی آکھے تے میں وی آکھاں بیلی
    اس ویلے دا کوئی نہ بیلی جدوں نکلے جان اکیلی

    پھس گئی جان شکنجے اندر جیوں ویلن وچ گنا
    رو نوں کہو ہن رہو محمد جے ہن رہوے تے مناں

    ربّا توں بیلی تے سب جگ بیلی ان بیلی وی بیلی
    سجناں باجھ محمد بخشا سُنجی پئی حویلی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دشمن مرے تے خوشی نی کریے ہوے سجنا وی مر جانا
    ای گر تے دن ھویا محمد تے اوڑک نو ڈوب جانا

    کام تمام میسر ھوندے ہو تے نام اودا چت دھریاں
    رحم سکے ساوے کردا قہر ساڑے ھریاں

    بادشاہا تھیں بھیک منگاوے تے تخت بھاوے کایی
    کج پرواہ نی گھر اس دے تے دایم بے پروایی

    اپ مکانوں خالی اس تھیں کویی مکان نا خالی
    ہر ویلے ہر چیز محمد تے رکھدا نت سنمبھالی

    ہر در توں ترکارن ھندا جو اس در تھیں مڑیا
    اوسے دا اس شان ودایا جو اس پاسے اڑیا

    واہ کریم امت دا والی ہو تے مھر شفاعت کردا
    جبراییل جے جسدے چاکر تے نبیاں دا سرکردا

    او محبوب حبیب ربانی تے حامی روز حشردا
    اپ یتیم یتیم داییں ہتھ سرے پر تردا

    تے حسن بازار اودے سو یوسف پردے ھون پکاندے
    ذولقرنین سلیمان جیسے خدمت گار کہاندے

    موسی خضر نقیب اناں دے اگے پجن راہی
    تے او سلطان محمد والی مرسل ہور سپاہی

    تے جیون جیون جھوٹا ماواں موت کھلی سر اتے
    لاکھ کڑوڑ تیرے تھیں سونے خاک اندر چل ستے

    بن ایی جند نکلے ناہیں ہوتے کویی جہان نا چلدا
    کعبے دے ہتھ قلم محمد تے ھور نی کج چلدا

    کیتی بے فرمانی تیری پلا پھرے اس راہوں
    تے نام اللہ بخشش بے ادبی تے ناکر پکڑ گناہوں

    چل چل پار نا ہاریں ہمت تو ہک دن بھرسیں پاسا
    بھکا منگن چڑے محمد اوڑک بھر د کاسا

    جس دل اندر ہوے پایی ہک رتی چنگاری
    اے قصہ بل بل بھامبڑ بندا نال ربے دی یاری

    جس دل اندر عشق نا رچیا ہوتے کتے اس تو چنگے
    خاوند دے گھر راکھی کردے سب پھکے ننگے

    جناں دکھاں وچ دل بھر راضی تے اناں تو سکھ وارے
    دکھ قبول محمد بخشا تے راضی رہن پیارے

    راتیں زاری کر کر رویں اوتے نیند اکھیں دی کھوندے
    فجر او گنہگار کہلاون ہر تھیں نیویں ھوندے

    ھسن کھڈن نال لگ اوں ھو سٹ کے ڈونگیاں فکراں
    تے پاٹی لیر پرانی وانگوں ٹنگ گیاں وچ ککراں

    جناں تنا عشق سمانا ہو تے رونا کم اناں
    ملدے دے رونا بچھڑے رونا تے رونا ٹردے راہاں

    جس تنمبے نال گڑتی دیندے اوس تنمبے نال پانی
    تے جیڑے اے میر محمد اوھو اے مکانی

    ریت وجود تیرے وچ سونا تے اویں نطر نا اویں
    ھنجوں دا ہتھ پانی دوھویں تے ریت مٹی ڑوڑ جاوے

    جس دل اندر عشق سمانا ہو تے اوس نی فر جانا
    بڑے سونے ملن ہزاراں اساں نی او یار وٹانا

    عشق کیا میں بن بن کھڑیاں دودھ تھیں پلیاں پلیاں
    ماھی بابل پٹ پٹ تھکے تے واہاں مول نا چلیاں

    الوداع اٹھ چلیں ساتھی ہو ڈٹھی گور اڈاراں
    نت اداسیں تے کرلاسیں کر کر یاد کتاراں

    ہاے افسوس نا دوش کسے تے لکھی قلم ربانی
    سجنا نال محمد بخشا زہر ھوی زندگانی

    ٹنڈاں پانی بھر بھر ڈولن تے وانگ دکھیاں نال
    مڑ جاون خالی گھر نو جو دوڑ بھراواں بھیناں

    ہک بلبل ایس واقعے اندر ہو تے ال نا ریی سمندی
    اجے نی چڑھیا نی کوڑھ محمد تے اڑ گی اے کرلاندی

    مالی دا کم پانی دینا اوتے بھر بھر مشقاں پاوے
    مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے یا نا لاوے

    تے بس اساں دا وس نی چلدا کی اس ساڈا کھونا
    لسے دا کی زور محمد تے نس جانا یا رونا

    میں اندھاں تے تلکن رستہ او کیوں کر روییں سمبھالا
    دکھے دیون والے بوتے تے او ہتھ پکڑن والا

    مان نا کریو روپ گھنے دا تے وارث کون حسن دا
    سدا نا رہسن شاخن ہریاں تے سدا ناں پھل چمن دا

    سدا نا تابش سورج والی تے جیوں کر وقت دوپہراں
    بےوفایی رسم، محمد تے سدا اسے وچ تیراں

    سدا نی ہتھ مھندی رتے تے سدا نی چھنکن ونگاں
    سدا نی چوپے جا محمد سدا نی رل مل بینا

    سدا نی مرغایاں بینا تے سدا نا سر پانی
    او سدا نا سیاں سیس بلاون او سدا نا سرخی لانی

    مگر شکاری کرے تیاری ہو تے بار چریں دیاں ہرناں
    جو چڑھیاں اس بینا اوڑک تے جو جمیاں اس مرنا

    لاکھ ہزار بازار حسن دی تے اندر خاک سمانی
    لا پریت اجی محمد تے جگ وچ روے کہانی

    سدا نا باغی بلبل بولے تے سدا نا باغ بہاراں
    سدا نا حسن جوانی قایم سدا نا صحبت یاراں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آ سجنا منہ دس کدائیں جان تیرے توں واری
    تونہیں جان ایمان دلے دا تدھّ بن میں کس کاری
    حوراں تے گلمان بہشتی چاہے خلقت ساری
    تیرے باجھ محمد مینوں نہ کوئی چیز پیاری

    دم دم جان لباں پر آوے چھوڑِ حویلی تن دی
    کھلی اڈیکے مت ہن آوے کدھروں وا سجن دی
    آویں آویں نہ چر لاویں دسیں جھات حسن دی
    آئے بھور محمد بخشا کر کے آس چمن دی

    سدا نہ روپ گلاباں اتے سدا نہ باغ بہاراں
    سدا نہ بھج بھجِ پھیرے کرسن طوطے بھور ہزاراں
    چار دہاڑے حسن جوانی مان کیا دلداراں
    سکدے اسیں محمد بخشا کیوں پرواہ نہ یاراں

    ربا کس نوں پھولِ سناواں درد دلے دا سارا
    کون ہووے اج ساتھی میرا دکھ ونڈاون-ہاراون
    جس دے نال محبت لائی چا لیا غم-کھارا
    سو منہ دسدا نہیں محمد کی میرا ہن چارہ ؟

    آدم پریاں کس بنائے اکو سرجن-ہاران
    حسن عشقَ دو نام رکھائیوسُ نور اکو منڈھ سارا
    مہبوباں دی صورتَ اتے اسے دا چمکارا
    عاشق دے دل عشقَ محمد اوہو سر-نیارا

    سرو برابر کد تیرے دے مول کھلو نہ سکدا
    پھل گلاب تے باغ-ارم دا صورتَ تک تکِ جھکدا
    یاسمین ہووے شرمندہ بدن-صفائی تکدا
    ارغوان ڈبا وچ لہو چہرہ ویکھ چمکدا

    کجھ وساہ نہ ساہ آئے دا مان کیہا پھر کرنا
    جس جسے نوں چھنڈ چھنڈِ رکھیں خاک اندر وننجِ دھرنا
    لوئِ لوئِ بھر لے کڑیئے جے تدھِ بھانڈا بھرنا
    شام پئی بن شام محمد گھرِ جاندی نے ڈرنا

    کستوری نے زلف تیری تھیں بو اجائب پائی
    منہ تیرے تھیں پھلّ گلاباں لدھا رنگ صفائی
    مہر تیری دی گرمی کولوں مہرِ تریلی آئی
    لسا ہویا چن محمد حسنِ محبت لائی

    طلب تیری تھیں مڑساں ناہیں جب لگ مطلب ہوندا
    یا تن نال تساڈے ملسی یا روح ٹرسی روندا
    قبر میری پٹِ دیکھیں سجنا جاں مر چکو سو بھوندا
    کولے ہوسی کفن محمد عشقَ ہوسی اگ ڈھوندا

    لمی رات وچھوڑے والی عاشق دکھیئے بھانے
    قیمت جانن نین اساڈے سکھیا قدر نہ جانے
    جے ہن دلبر نظریں آوے دھمیں سبہُ دھننانے
    وچھڑے یار محمد بخشا ربّ کویں اج آنے

    جے مہبوب میرے متلوبا ! توں سردار کہایا
    میں فریادی تیں تے آیا درد فراقَ ستایا
    اک دیدار تیرے نوں سکدا روح لباں پر آیا
    آ مل یار محمد بخشا جاندا وقت وہایا

    اک تگادا عشقَ تیرے دا دوجی بری جدائی
    دور وسنیاں سجناں مینوں سخت مصیبت آئی
    وس نہیں ہن رہا جیؤڑا درداں ہوش بھلائی
    ہتھوں چھٹی ڈور محمد گڈی واؤ اڈائی

    کر کرِ یاد سجن نوں روواں مول آرام نہ کوئی
    ڈھونڈ تھکا جگ دیس تمامی رہا مقام نہ کوئی
    رٹھا یار مناوے میرا کون وسیلہ ہوئی
    لائِ سبون محبت والا داغ غماں دے دھوئی

    جگّ پر جیون باجھ پیارے ہویا محال اسانوں
    بھل گئی سدھ بدھ جاں لگا عشقَ کمال اسانوں
    باغ تماشے کھیڈن ہسن ہوئے خواب اسانوں
    جاون دخ محمد جس دن ہوئے جمال اسانوں

    کی گل آکھِ سناواں سجنا ! درد فراقَ ستم دی
    آیا حرف لباں پر جس دم پھٹ گئی جیبھ قلم دی
    چٹا کاغذ داغی ہویا پھری سیاہی غم دی
    دکھاں کیتا زور محمد لئیں خبر اس دم دی

    پریئے ! خوف خدا توں ڈریئے کریئے مان نہ ماسہ
    جوبن حسن نہ توڑ نباہو کی اس دا بھرواسا
    ایہناں مونہاں تے مٹی پوسی خاک نمانی واسا
    میں مر چکا تیرے بھانے اجے محمد ہاسہ

    جو باطن اسِ نام محبت ظاہر حسن کہاوے
    حسن محبت مہرم توڑوں کیوں مہرم شرماوے
    مہرم نال ملے جد مہرم انگ نسنگ لگاوے
    حسن عشقَ اک ذات محمد توڑے کوئی سداوے

    کون کہے نہ جنس ایہناں نوں ؟ اکسے ماں پیو-جائے
    اکو ذات ایہناں دی توڑوں اگوں رنگ وٹائے
    اک کالے اک سبز کبوتر اک چٹے بنِ آئے
    چٹے کالے ملن محمد نہ بنِ بہن پرائے

    حسن محبت سبھ ذاتاں تھیں اچی ذات نیاری
    نہ ایہہ آبی نہ ایہہ بادی نہ خاکی نہ ناری
    حسن محبت ذات الٰہی کیا چبّ کیا چمیاری
    عشقَ بے-شرم محمد بخشا پچھِ نہ لاندا یاری

    جنس-کو-جنس محبت میلے نہیں سیانپ کردی
    سورج نال لگائے یاری کت گن نیلوفر دی
    بلبل نال گلے اشنائی خاروں مول نہ ڈردی
    جنس-کو-جنس محمد کتھے عاشق تے دلبر دی

    ہے سلطان حسن دی نگری راج سلامت تیرا
    میں پردیسی ہاں فریادی عدل کریں کجھ میرا
    تدھ بن جان لباں پر آئی جھلیا درد بتیرا
    دے دیدار اج وقت محمد جگّ پر ہکو پھیرا

    عشقَ فراقَ بے ترس سپاہی مگر پئے ہر ویلے
    پٹے-بندھ سٹے وچ پیراں وانگر ہاتھی پیلے
    صبر تحمل کرن نہ دندے ظالم برے مریلے
    تدھ بن ایویں جان محمد جیوں دیوا بن تیلے

    بستر نامرادی اتے میں بیمار پئے نوں
    دارو درد تساڈا سجنا! لے آزار پئے نوں
    ذکر خیال تیرا ہر ویلے درداں مار لئے نوں
    ہے غمخار ہکلی جائی بیغمخار پئے نوں

    چنتا فکر اندیسے آون بنھ بنھ صفاں قطاراں
    وسّ نہیں کجھ چلدا میرا قسمت ہتھ مہاراں
    پاسے پاسے چلی جوانی پاس نہ سدیا یاراں
    ساتھی کون محمد بخشا درد ونڈے غمخاراں

    مان نہ کیجے روپ گھنے دا وارث کون حسن دا
    سدا نہ رہسن شاخاں ہریاں سدا نہ پھلّ چمن دا
    سدا نہ بھور ہزاراں پھرسن سدا نہ وقت امن دا
    مالی حکم نہ دیئ محمد کیوں اج سیر کرن دا

    سدا نہ رست بازاریں وکسی سدا نہ رونق شہراں
    سدا نہ موج جوانی والی سدا نہ ندیئے لہراں
    سدا نہ تابش سورج والی جیوں کر وقت دپہراں
    بے وفائی رسم محمد سدا ایہو وچّ دہراں

    سدا نہ لاٹ چراغاں والی سدا نہ سوز پتنگاں
    سدا اڈاراں نال قطاراں رہسن کد کلنگاں
    سدا نہیں ہتھ مہندی رتے سدا نہ چھنکن ونگاں
    سدا نہ چھوپے پا محمد رلمل بہنا سنگاں

    حسن مہمان نہیں گھر باری کی اس دا کر ماناں
    راتیں لتھا آن ستھوئی فجری کوچ بلاناں
    سنگ دے ساتھی لدی جاندے اساں بھی ساتھ لداناں
    ہتھ نہ آوے پھیر محمد جاں ایہہ وقت وہاناں

    سدا نہیں مرگائیاں بہناں سدا نہیں سر پانی
    سدا نہ سئیاں سیس گنداون سدا نہ سرخی لانی
    لکھ ہزار بہار حسن دی خاکو وچ سمانی
    لا پریت محمد جس تھیں جگّ وچ رہے کہانی

  • نیوزی لینڈ کی ایک ائیر لائن نے سلیپنگ پوڈ متعارف کرا دیئے

    نیوزی لینڈ کی ایک ائیر لائن نے سلیپنگ پوڈ متعارف کرا دیئے

    نیوزی لینڈ کی ایک ائیر لائن نے سلیپنگ پوڈ متعارف کرا دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : طویل ہوائی سفر کرنے والے مسافر اب ٹرین کی طرح ہوائی جہاز میں بھی اضافی رقم دے کر پرتعیش بستر حاصل کر سکتے ہیں نیوزی لینڈ کی ائیر لائن نے اگلے سال سے طویل فاصلوں کی پروازوں میں اکانومی اور پریمیئر اکانومی کلاس کےمسافر کے لیے یہ پرتعیش سہولت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    کورونا پابندیوں کے خاتمہ: چین کے اسپتالوں میں مریضوں کا رش لگ گیا

    ائیر لائن نے پرائیویسی اور سونے کے لیے آئیڈیل ماحول کے ساتھ تیار سلیپنگ پوڈ کو "اسکائی نیسٹ” کا نام دیا ہے، مسافر اکانومی کلاس میں سیٹ کی بکنگ کراتے وقت سلیپنگ پوڈ بک کراسکیں گےمسافرمخصوص وقت کے لیے”اسکائی نیسٹ” کرائے پر لینے کے لیے عملے سے رابطہ کر سکیں گے۔
    airpode

    عالمی مالیاتی بحران میں شدت: امریکی بینکوں میں بڑے پیمانے میں برطرفیوں کی تیاریاں

    اعلان کے مطابق نیوزی لینڈ کی ائیر لائن نئے ملنے والے ائیر لائن 787 ڈریم لائنر طیاروں میں سلیپنگ پوڈ انسٹال کرے گی، طیارے میں اکانومی کلاس کی 5 نشستیں ہٹا کر 6 افراد کے لیے سلیپنگ پوڈ لگائے جائیں گے، مسافر 2024 میں ائیرلائن کے ڈریم لائنر طیاروں میں اسکائی نیسٹ سے استفادہ کر سکیں گے۔

    ائیر لائن کے مطابق ضروری نہیں کہ مسافر پورے سفر کے لیے اسکائی نیسٹ سے استفادہ کرے، مسافر دو گھنٹے کے لیے بھی یہ بستر کرائے پر لے سکے گا۔

    ان نشستوں میں مکمل طور پر بند دروازہ اور کھانے کے لیے جگہ ہے، نئے ڈیزائن کردہ کیبن کا مقصد ہر ایک کے لیے زیادہ آرام دہ ماحول فراہم کرنا ہے، مسافروں کو پرسکون کرنے کے لیے خاص روشنی ڈیزائن کی گئی ہے جو نیند لانے والی چائے کے انتخاب سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں، کاروبار یا سیاحت کے لیے طویل دورانیہ کی فلائٹس کے مسافر اب یہ پرتعیش سفر کر سکیں گے۔

    برازیل میں پرتشدد مظاہرے:صدر نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا

  • امریکی ایئر لائن نے پاکستانی شہری کا نام اپنے جہاز پر لکھوا دیا

    امریکی ایئر لائن نے پاکستانی شہری کا نام اپنے جہاز پر لکھوا دیا

    شکاگو: امریکی ایئر لائن نے 35 سال تک ملازمت کرنے والے پاکستانی شہری کا نام اپنے جہاز پر لکھوا دیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی یونائیٹڈ ایئر لائن نے 35 سال تک ملازمت کرنیوالے پاکستانی شہری محمد ذہین کی خدمات کے اعتراف میں ان کا نام اپنے جہاز پر لکھوا دیا۔

    برازیل میں پرتشدد مظاہرے:صدر نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا

    پشاور شہر سے تعلق رکھنے والے محمد ذہین کو ڈیوٹی کی لگن اور وقت کی پابندی کے صلے میں یونائیٹڈ ایئر لائن کے ہوائی جہاز پران کا نام کنندہ کیا گیا، محمد ذہین کا انتخاب ایئر لائن کے 85,000 ملازمین میں سے کیا گیا ہے اور اسے پوری پاکستانی کمیونٹی اور پشاور شہر کے باسیوں کے لیے اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

    پشاور سے تعلق رکھنے والے محمد ذہین نے 10,000 امریکی ڈالر رقم، گفٹ کارڈ اور کسی ملک کی سیر کی پیش کش ٹھکرا دی اور اپنا نام جہاز پر لکھنے کا مطالبہ کیا-

    محمد ذہین نے بتایا کہ جب جہاز ان کے سامنے آیا تو اس پر ایک سفید پٹی لگی ہوئی تھی، انھوں نے سفید پٹی کو آہستہ آہستہ ہٹادیا تو اس پر پہلے محمد پھر ذہین لکھا ہوا نظر آیا، وہ ان کیلیے بہت خوش کن لمحات تھے کہ ان کی ایئرلائن نے ان کو کتنا بڑا اعزاز دیا ہے۔

    ون ڈے رینکنگ: نیوزی لینڈ سےنمبر ون پوزیشن چھن گئی،پاکستان پانچویں نمبر

    ہوائی جہاز پر اس کا نام ذہین نے اے پی پی کو بتایا کہ میرا نام محمد ہے اور میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آسمانوں پر اڑتے ہوئے اور جہاز میں سفر کرنے والے لوگوں کے علم میں آنا چاہتا تھا-

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ کمپنی کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ یونائیٹڈ ایئر لائنز کی تاریخ میں کبھی بھی جہاز پر کسی ملازم کا نام نہیں لکھا گیا لیکن آخر کار میرے سی ای او نے میری درخواست سے اتفاق کیا۔

    عالمی مالیاتی بحران میں شدت: امریکی بینکوں میں بڑے پیمانے میں برطرفیوں کی تیاریاں

  • فلور ملوں کے آٹے کی ایکس مل قیمت 95 روپے فی کلو مقرر،نوٹیفکیشن جاری

    فلور ملوں کے آٹے کی ایکس مل قیمت 95 روپے فی کلو مقرر،نوٹیفکیشن جاری

    کراچی: کمشنر کراچی نے فلور ملوں کے آٹے کی ایکس مل قیمت 95 روپے فی کلو مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی : کمشنر کراچی نے آٹے کی سرکاری قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق فلور ملوں کے آٹے کی ایکس مل قیمت 95 روپے فی کلو جبکہ خوردہ قیمت 98 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے-

    نوٹیفکیشن کے مطابق چھوٹی چکیوں کے لیے آٹے کی خوردہ قیمت 105 روپے فی کلو مقرر کردی گئی ہے-

    مارکیٹ میں گندم کی سپلائی بہتر ہونے سے آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے تاہم قیمتیں گزشتہ دو، تین ماہ کے مقابلے میں اب بھی زائد اور کم آمدن طبقہ کی پہنچ سے باہر ہیں شہر کے مختلف علاقوں میں چکی کا آٹا 125 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے جبکہ فائن آٹا 115 سے 120 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔

    مریم نواز 28 جنوری کو وطن واپس پہنچیں گی،رانا ثناء اللہ