Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ  کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، کشیدہ صورتِحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، کشیدہ صورتِحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ کشیدہ صورتِحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے ایران کی اندرونی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور باہمی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گےدونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاک ایران سفارتی روابط اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ بدلتی ہوئی صورتحال پر بروقت رابطہ ممکن رہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ رابطے کے ذرائع مکمل طور پر بند نہیں ہوئےان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہ راست رابطے کھلے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دونوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے روایتی ثالث کے طور پر سوئٹزرلینڈ کے ذریعے بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے بعض معاملات پر بات کی گئی اور کچھ عمومی خیالات کا اظہار کیا گیا، تاہم ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے عمل سے پیچھے ہٹنے کا مؤقف اختیار نہیں کیا،اس وقت امریکا کی جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے بات چیت کے عمل پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

  • ایران کے سابق جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا خاندانی پس منظر

    ایران کے سابق جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا خاندانی پس منظر

    رضا پہلوی جو سابقہ ایرانی سامراجی ریاست کے ولی عہد اور جلا وطن کیے گئے پہلوی خاندان کے سربراہ ہیں وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی اور ملکہ فرح دیبا کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔

    رضا نکالے گئے ایک خود ساختہ مخالف گروہ، قومی مجلس ایران کے بانی اور سابق لیڈر اور ایران کی اسلامی جمہوری حکومت کے بڑے حریف ہیں بطور ولی عہد، رضا نے لابوک، ٹیکساس کے نزدیک ریز ایئر فورس بیس میں فضائی فوجی تربیت کے لیے سنہ 1977ء میں انقلاب ایران سے دو سال پہلے ایران چھوڑ دیا وہ اُس وقت کے بعد سے ایران واپس کبھی نہیں آئے۔

    فارسی شاونزم کے سب سے اونچے پیڈلرز کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی ابتدا فارسی نہیں تھی رضا شاہ کے والد پالانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مازندرانی تھے، ان کی والدہ ایروملو ترک یریوان کے علاقے سے تھیں محمد رضا شاہ پہلوی کی والدہ، تاج الملوک، دوبارہ ایروملو تھیں، اس بار اس کی جڑیں باکو میں تھیں۔

    لہٰذا نام نہاد فارسی ولی عہد اور ان کا پورا گھر مازندرانی اور کاکیشین ترکوں کے ذخیرے کی پیداوار ہیں، پھر بھی وہ کچھ تخیل شدہ "خالص فارسی” نسب کے سرپرست کے طور پر اپنا روپ دھارتے ہیں ایک قوم پرست افسانہ جو خون کی لکیروں پر بنا ہے جو ہر موڑ پر اس سے متصادم رکھتے ہیں-

    محمد رضا شاہ پہلوی پوری دنیا اسے شاہ ایران کے نام سے جانتی تھی۔ وہ ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا دوست تھا‘ یورپی پریس اسے ’’امریکن گورنر‘‘ کہتا تھا‘ وہ امریکی وفاداری میں بہت آگے چلا گیا‘ امریکہ نے اسے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا حکم دیا اور اس نے ایران میں داڑھی اور پردہ پر پابندی لگا دی۔ اس کے دور میں کوئی باپردہ عورت گھر سے نکلتی تھی تو پولیس سرے عام اس کا برقع پھاڑ دیتی تھی‘ شاہ ایران نے تمام زنانہ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ کو یونیفارم بنا دیا‘ شراب نوشی‘ رقص اورزنا فیشن بن گیا۔

    شاہ کے دور میں ایران دنیا کا واحد ملک تھا جس میں کالجوں میں شراب کی دکانیں تھیں‘ یونیورسٹیوں میں خواتین کی سودے بازی ہوتی تھی اور اس مکروہ کاروبار کو قانونی حیثیت حاصل تھی‘ شاہ کے زمانے میں دو جرنیلوں کے ہم جنس پرست بیٹوں نے آپس میں شادی کی‘ سرکاری سطح پر نہ صرف ان کی دعوت ولیمہ ہوئی بلکہ شاہ اور اس کی کابینہ نے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کی۔ شاہ نے امریکہ کی محبت میں ایران میں موجود 42ہزار امریکیوں کو سفارتی حیثیت دے دی ‘ امریکہ نے شاہ ایران کے دفتر میں ’’گرین فون‘‘ لگا رکھا تھا اور اسے امریکہ سے جو ہدایات ملتی تھیں ‘ وہ ان پر فوری عملدرآمد کراتا تھا لیکن پھر شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں پر بغاوت ہوئی ‘ یہ بغاوت تین سال تک چلتی رہی‘ شاہ نے 12شہروں میں مارشل لاء لگا دیا‘ عوام نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا-

    شاہ نے حکومت شاہ پور بختیار کے حوالے کی اور ملک سے فرار ہو گیا‘ اس کا خیال تھا امریکہ اب اس کی وفاداریوں کا بدلہ دے گا لیکن جوں ہی شاہ ایران کا طیارہ ایران کی حدود سے نکلا‘ امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں‘ شاہ پہلے مصر گیا‘ پھرمراکش‘ پھر بہا ماس اور پھر میکسیکو‘ وہ اس دوران امریکہ سے مسلسل مدد مانگتا رہا لیکن وائٹ ہاؤس اس کا ٹیلی فون تک نہیں سنتا تھا شاہ ایران سواسال تک مارا مارا پھرتا رہا لیکن کسی نے اس کی مدد نہ کی‘ امریکہ نے اس کے اکاؤنٹس تک ’’سیز‘‘ کر دئیے‘آخر میں انورالسادات کام آیا اوراس نے اسے پناہ دے دی ۔

    جولائی 1980ء میں قاہرہ میں اس کاانتقال ہوا‘ انتقال کے وقت اس کے پاس اس کی تیسری بیوی کے سوا کوئی نہ تھا‘لوگ اس کا جنازہ تک پڑھنے نہ آئے چنانچہ اسے اس کے بیڈ روم ہی میں امانتاً دفن کردیا گیا-

    بعدازا ں اس کے بیٹےرضا شاہ پہلوی نے گزشتہ 40 سال سے ایرانی سیاسی منظرنامے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے، اور بغیر کسی عوامی حمایت یا قانونی جواز کے بارہا ایران کے دشمن ممالک کا سہارا لیا ہے، جو ان کے عزائم میں موجود مایوسی اور سیاسی موقع پرستی کو ظاہر کرتا ہےحالیہ مظاہروں میں جہاں کچھ اپوزیشن جماعتیں ایران کے اندر سرگرم ہیں جب کہ کئی جلاوطن رہنما بیرونِ ملک سے اپنی آواز ملا رہے ہیں۔

    ایران، یورپ اور امریکا میں مقیم ایرانی تارکینِ وطن نے حالیہ مظاہروں کے حق میں برلن، لندن اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں. ایران کے سابق بادشاہ کے واحد ولی عہد رضا پہلوی اس وقت امریکا میں جلاوطن ہیں وہ ایران کے معزول بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں۔

    رضا پہلوی ’’ایران نیشنل کونسل‘‘ نامی پلیٹ فارم سے ایک سیکولر اور جمہوری نظام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کی بحالی کے بجائے ریفرنڈم کے ذریعے نظام کے تعین کے حامی ہیں، انھیں ایرانی تارکینِ وطن اور کچھ نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم بائیں بازو اور جمہوری ریپبلکن حلقے ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

    ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی کے پاس ایران کے اندر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔

  • پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر

    پنجاب کی سیاست میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث نام وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی حکومت کو اگر کسی ایک بنیاد پر پرکھا جائے تو وہ ہے عام آدمی کے مسائل کا براہِ راست نوٹس اور فوری اقدامات۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے شہری و دیہی علاقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت آخر کہاں تک جا پہنچی ہے؟ گزشتہ چند ماہ میں پنجاب حکومت نے جن شعبوں پر توجہ مرکوز کی، ان میں صحت، تعلیم، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، مہنگائی کنٹرول، اور بیوروکریسی کی جوابدہی نمایاں ہیں۔ خاص طور پر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ میں متحرک کرنے، کھلی کچہریوں اور عوامی شکایات کے فوری ازالے نے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں۔

    مریم نواز کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ کاغذی فائلوں کے بجائے زمینی حقائق پر یقین رکھتی دکھائی دیتی ہیں۔ تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں ہوں یا سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات اور سہولیات کی فراہمی، ان اقدامات نے عام شہری کو یہ احساس دلایا کہ حکومت واقعی اس کی دہلیز تک پہنچی ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز کی مقبولیت اس وقت پنجاب کے شہری متوسط طبقے، سرکاری ملازمین اور کمزور طبقات میں خاصی مضبوط ہو چکی ہے۔ وہ طبقہ جو ماضی میں حکومتی دعووں سے مایوس تھا، اب عملی اقدامات کی وجہ سے محتاط امید کا اظہار کر رہا ہے۔ البتہ دیہی علاقوں میں یہ مقبولیت بتدریج بڑھ رہی ہے، جہاں مسائل کی نوعیت زیادہ گہری اور دیرینہ ہے۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبولیت کا اصل امتحان تسلسل میں ہوتا ہے۔ اگر موجودہ اصلاحاتی عمل برقرار رہا، بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے بغیر عوامی خدمت پر مجبور رکھا گیا اور مہنگائی و روزگار جیسے بنیادی مسائل پر ٹھوس پیش رفت ہوئی تو مریم نواز کی مقبولیت محض وقتی نہیں بلکہ دیرپا سیاسی سرمایہ بن سکتی ہے۔ پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت اس مرحلے پر ہے جہاں اعتماد بنتا ہوا نظر آ رہا ہے، مگر فیصلہ ابھی باقی ہے۔ عوام نے انہیں موقع دیا ہے، اب یہ ان کی حکمرانی کے تسلسل اور نتائج پر منحصر ہے کہ یہ مقبولیت عروج تک پہنچتی ہے یا محض ایک مضبوط آغاز تک محدود رہتی ہے۔

  • قوانین کی خلاف ورزیاں:امریکا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ

    قوانین کی خلاف ورزیاں:امریکا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ

    واشنگٹن: امریکا نے ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جن میں ہزاروں غیر ملکی طلبہ اور روزگار کے لیے آنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے پہلے سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کیے گئے۔ ان میں کاروبار اور سیاحت کے ویزے رکھنے والے وہ افراد بھی شامل تھے جو مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام پذیر رہے،جن افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے ان میں 8 ہزار طلبہ اور 2 ہزار 500 روزگار کے لیے آنے والے افراد شامل ہیں-

    محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں افراد کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ یا قانونی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود تھے شراب نوشی کے دوران گاڑی چلانے، تشدد، چوری، بچوں سے بدسلوکی، منشیات کی تقسیم اور مالی بدعنوانی جیسے الزامات کی بنیاد پر بھی ویزے منسوخ کیے گئےامریکا کو محفوظ بنانے کے لیے ویزا منسوخی اور ملک بدری کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے 55 ملین ویزا ہولڈرز کے ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

  • حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    غزہ:فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے،تنظیم نے غزہ کے تمام اداروں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مکمل اختیارات آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کو منتقل کر دیں۔

    خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق حازم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے کا فیصلہ حتمی اور غیر مبہم ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی اتھارٹی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے،اختیارات کی یہ منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی اس منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق واضح نکات شامل ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان اس سے قبل بھی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی یہ اتفاق 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی اجلاس میں طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے بھی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حماس انتظامی کردار سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے۔

  • امریکا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت

    امریکا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت

    ایران بھر میں جاری احتجاجات دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں اور حالات “پرتشدد” ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے،جس کے باعث امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے-

    امریکی سفارتخانے کی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجات کے باعث گرفتاریاں، زخمی ہونے، سیکیورٹی اقدامات، سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ معطل اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے حالات ہیں، جن سے امریکی شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے امریکی شہری اگر محفوظ ہو سکے تو زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے پیشِ نظر رابطے کے متبادل انتظامات بنائے جائیں۔

    دوھری شہریت رکھنے والے امریکی ایرانی شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ایران دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ان کو اپنے ایرانی پاسپورٹ سے ہی ایران چھوڑنا چاہیے وہ لوگ جو اب بھی ایران میں ہیں، احتجاجات سے دور رہیں، عوامی اجتماعات میں شامل نہ ہوں اور اپنے آپ کو محفوظ مقامات پر رکھیں۔

  • ٹرمپ کی دھمکیاں ، کیوبا کا امریکا کیساتھ بات چیت کرنے سے انکار

    ٹرمپ کی دھمکیاں ، کیوبا کا امریکا کیساتھ بات چیت کرنے سے انکار

    کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میگوئل دیاز کانیل نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ سوائے امیگریشن کے تکنیکی مسائل کے علاوہ کسی بھی معاملے پر بات چیت نہیں ہو رہی،صدر کانیل کا یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے اور دھمکی دینے کے بعد سامنے آیا۔

    صدر کانیل نے کہاکہ امریکی حکومت کے ساتھ مہاجرین کے سوا کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ان کا یہ ردعمل اس بیان کے بعد آیا جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا اور کیوبا کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

    ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    ٹرمپ نے الزام عائد کیاکہ کیوبا نے برسوں تک وینزویلا سے حاصل ہونے والے تیل اور مالی وسائل پر گزارا کیا اور اس کے بدلے وینزویلا کے دو رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کی انہوں نے خبردار کیاکہ اب امریکا کی طاقتور فوج وینزویلا کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور کیوبا کو مزید تیل یا مالی مدد نہیں ملے گی، اس لیے فوری معاہدہ کرنا ضروری ہے ورنہ دیر ہو جائے گی۔

    صدر ٹرمپ کی دھمکی پر گزشتہ کیوبا کے صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کوئی بھی ملک یا رہنما انہیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔

    وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

  • ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    لاہور: مولانا فضل الرحمان نےکہا ہے کہ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے۔

    لاہور میں کنونشن سے خطاب میں جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے،پاکستان اور افغانستان کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ اب کوئی مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے، مسلح گروہوں کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، سیاست اور نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اور موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں منتخب نہیں ہیں گالیوں کی سیاست بدبودار اور بدنام ہو چکی ہے،انہوں نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا وزیرستان میں گزشتہ ایک سال میں 3 علما کے قتل کی بھی نشاندہی کی اور کہاکہ ہم سفاک قاتلوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

    مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ طلبہ کو تعلیم اور رہائش کے ساتھ فراہم کرتے ہیں، جبکہ حکومت آج اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو حالیہ غیر منطقی اقدامات ہو رہے ہیں وہ دین اسلام کے خلاف ہیں، جب کوئی تنقید کرتا ہے تو میں اپنی کمزوری کو تلاش کرتا ہوں اور اسے سنجیدگی سے لیتا ہوں۔

    قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتار ی،مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات

  • وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ حجاج کرام کی سہولت کے لیے اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جائے۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت این آئی ٹی بی کے امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔

    جس میں انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں کے لیے حکومتی سہولیات تک رسائی کو مزید آسان بنایا جائے،حجاج کرام کی سہولت کے لیے اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جائے،ا نہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ وزارتوں کی طرف سے اسلام آباد میں آسان خدمت مرکز کے قیام کے لیے بھرپور تیاریوں کو سراہا،وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کیو آر بیسڈ فیڈ بیک سسٹم کا جلد جائزہ لینے کا بھی اعلان کیا۔

    قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتار ی،مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ این آئی ٹی بی کے نئے سی ای او کی تعیناتی کے بعد ادارے کے پورے ڈھانچے کو عصری تقاضوں کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں شہریوں کے لیے آسان خدمت مرکز کھولنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری شعبے کے تمام اداروں کے لیے ایک محفوظ نئے ایپ کا جلد اجرا کیا جائے گا اسپتالوں میں سروس کی بروقت اور بہتر فراہمی کے لیے ’ون پیشنٹ ون آئی ڈی‘ کا مربوط نظام تیاری کے آخری مراحل میں ہے، جس سے اسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور مریضو ں کی بہتر دیکھ بھال ممکن ہوگی، بگ ڈیٹا کے استعمال سے عدلیہ کے لیے انالیٹکس ڈیش بورڈ بھی جلد تیار کیا جا رہا ہے این آئی ٹی بی اس وقت 145 سے زائد سرکاری ویب سائٹس، 126 سے زیادہ پورٹلز اور 31 سے زائد موبائل فون ایپلی کیشنز چلا رہا ہے۔

    سعودی عرب کے معمر ترین شخص انتقال کر گئے

  • قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتار ی،مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات

    قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتار ی،مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات

    دوحہ: قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے،جس کے بعد مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    مودی حکومت کو مبینہ بدعنوانی کو خفیہ رکھنے میں ناکامی پر عالمی اور تاریخی رسوائی کا سامنا ہے، جبکہ قطر میں ایک سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتاری نے بھارت میں ہلچل مچا دی، بھارتی وزارت خارجہ نے سابق نیوی افسر پورنیندو تیواری کی قطر میں گرفتاری کی تصدیق کر دی اس سے قبل بھی قطر میں جاسوسی کے الزامات کے تحت 8 سابق بھارتی نیوی افسران کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے بھی گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ کہا کہ اکتوبر 2023 میں قطری عدالت نے ان نیوی افسران کو سزائے موت سنائی تھی، جس کے بعد بھارت میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا، مودی حکومت بھرپور سفارتی کوششوں کے باوجود ان افسران کو وطن واپس لانے میں ناکام رہی، یہ کیس بھارتی فوج کی عالمی سطح پر بدنامی اور ہزیمت کا باعث بنا جبکہ مودی حکومت اس حساس معاملےکو مؤثر سفارتی حکمت عملی کے تحت عالمی سطح پر سنبھا لنے میں ناکام رہی۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی عسکری تربیت غیر پیشہ ورانہ بنیادوں پر کی گئی ہے اور ادارے کے اندر موجود بدعنوانی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو فوج کے پیشہ ورانہ دعووں اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہےداخلی کرپشن بھارتی فوج کی مجموعی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔