Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان کی جانب سے خالدہ ضیا کی نمازجنازہ میں ایاز صادق شرکت کریں گے

    پاکستان کی جانب سے خالدہ ضیا کی نمازجنازہ میں ایاز صادق شرکت کریں گے

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق آج ڈھاکہ روانہ ہوں گےجہاں وہ بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔

    سردار ایاز صادق وزیراعظم شہبازشریف کی خصوصی ہدایت پر ڈھاکہ جارہے ہیں اسپیکر ایاز صادق خالدہ ضیا کے اہلخانہ سے حکومت پاکستان اور عوام کی طرف سے تعزیت کریں گے،اسپیکر ایاز صادق بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سردار ایاز صادق بیگم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

    یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    علاوہ ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے انتقال پراظہار افسوس کیااپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خالدہ ضیا کی ترقی اوراستحکام کیلئے کوششیں یاد رکھی جائیں گی،سابق بنگلا دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا پاکستان کی مخلص دوست تھیں،حکومت اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ ہیں۔

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد انتقال کرگئی ہیں، جن کی نماز جنازہ آج بروز بدھ نماز ظہر کے بعد ادا کی جائےگی،بیگم خالدہ ضیا بنگلہ دیش نہ صرف بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ان خواتین رہنماؤں میں شامل تھیں جنہوں نے سیاست میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

  • یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    سعودی کابینہ کا کہنا ہے کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، شرکا نے کہا کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،امید ہے عرب امارات یمنی گروہ کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی معاونت نہیں دے گا،دانشمندی، برادرانہ اصول غالب آئیں گے۔

    علاوہ ازیں سعودی کابینہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان بھی مسترد کر دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات (uae)نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں تعینات اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلا رہا ہے،یہ پیش رفت سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا پر فضائی حملے کے فوراً بعد ہوئی۔

    سعودی عرب کے مطابق اس حملے میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک ہتھیاروں پر مشتمل تھی اور یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی یہ کارروائی ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے-

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    ایک وقت میں خطے کے دو مضبوط سیکیورٹی ستون سمجھے جانے والے سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات حالیہ برسوں میں تیزی سے مختلف ہوتے چلے گئے ہیں۔ اختلافات کی وجوہات میں تیل کی پیداوار کے کوٹے، علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔

    سعودی عرب نے منگل کے روز اپنی قومی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ایسے عسکری اقدامات پر اکسایا جو سعودی سرحدوں تک جا پہنچے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران ریاض کی جانب سے اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔

    یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور بعد ازاں یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کے ذریعے یمن میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

    امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    دوسری جانب یو اے ای نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کھیپ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ہتھیار شامل نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کے لیے تھی امارات نے زور دیا کہ حالیہ صورتحال کو ذمہ داری سے اور باہمی رابطے کے تحت حل کیا جانا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

    ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

  • گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے ایف بی آر کی وضاحت

    گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے ایف بی آر کی وضاحت

    گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وضاحت جاری کردی۔

    ایف بی آر کے مطابق ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک جامع اور مضبوط نظام وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک کے دیگر حصوں میں تاجروں اور کاروباری برادری کے مفادات متاثر نہیں ہوں گےگلگت بلتستان کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 گلگت بلتستان میں لاگو نہیں کیے گئے ہیں۔

    ایف بی آر کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے درآمد کی جانے والی صرف وہی اشیا ٹیکس استثنیٰ کی حقدار ہوں گی جو گلگت بلتستان کی حدود میں استعمال کی جائیں گی، جبکہ گلگت بلتستان کے لیے درآمد کی جانے والی اشیا کی سالانہ ٹیکس استثنیٰ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے،اس پالیسی کو شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تاسیس،لاہور،کراچی ،پشاور،کوئٹہ سمیت اضلاع کی سطح پر پروگرام

    ایف بی آر کے مطابق حکومت گلگت بلتستان ٹیکس فری اشیا کے استعمال کے لیے ہر تاجر کا کوٹہ مقرر کرے گی اور یہ تمام کوٹے مجموعی طور پر 4 ارب روپے کی سالانہ حد سے تجاوز نہیں کریں گےپاکستان کسٹمز (ویب بی او سی) سسٹم کے ذریعے ان کوٹہ جات کی نگرانی خودکار ماڈل کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ کسی تاجر کا مقررہ کوٹہ ختم ہونے پر خودکار سسٹم مزید ٹیکس فری درآمدات کو بلاک کر کے قانون کے مطابق قابلِ اطلاق ٹیکس وصول کرے گا۔

    ایف بی آر کے مطابق حکومتِ گلگت بلتستان نے باضابطہ طور پر اس بات کا عہد کیا ہے کہ ٹیکس سے مستثنیٰ اشیا کا استعمال صرف گلگت بلتستان کی حدود میں ہی ہوگا،پاکستان کسٹمز نے ایسی اشیا کی گلگت بلتستان سے ملک کے دیگر حصوں میں منتقلی کی روک تھام کے لیے انفورسمنٹ کا طریقۂ کار بھی وضع کر لیا ہے، اور جی بی حکومت و تاجروں کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    بھارتی ہندو پنڈت یتی نرسمہا نند کا متنازع بیان، خودکش گروپ بنانے کی اپیل

    ایف بی آر نے ملک بھر کی کاروباری برادری اور تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ استثنائی نظام جائز تجارتی مفادات کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اس سہولت کا مقصد صرف گلگت بلتستان کے عوام اور معیشت کی بہتری ہے۔

  • پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کی پوری کوشش کررہی ہے، لیکن سہیل آفریدی کو اسلام آباد تک کوئی نہیں پہنچنے دے گا، پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ پی ٹی آئی سب کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن کر نہیں پا رہی، ان کے پاس صلاحیت ہی نہیں ہے، پی ٹی آئی تھوڑی بہت صلاحیت بروئے کار لائے گی تو سختی سے روکا جائےگا، شاید وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پشاور سے چلنا ہی مشکل ہو جائے، حکومت اور ایجنسیاں غافل نہیں بیٹھی ۔

    رانا ثنااللہ نے کہاکہ موجودہ صورت حال میں حکومت کا ہوم ورک مکمل ہے جبکہ پی ٹی آئی اپنا ہوم ورک کررہی ہے، پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا سیاست ٹیبل پر بیٹھ کر ہوتی ہے، احتجاج کرنے کو سیاست نہیں کہا جا سکتاعمران خان ہم سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے تھے، وہ آج بھی اسٹریٹ موومنٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تاسیس،لاہور،کراچی ،پشاور،کوئٹہ سمیت اضلاع کی سطح پر پروگرام

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو لوگ عمران خان سے ملاقات کے لیے جائیں گے انہیں اجازت نہیں ملنی،اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس معاملے پر اسپیکر سے بات ہوئی تھی، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے، اب سنا ہے کوئی فیصلہ ہوگیا ہے، فیصلے کی کاپی جیسے ہی اسپیکر کو ملے گی وہ اس پر فیصلہ کر دیں گے۔

    فری لانسنگ میں پاکستان دنیا میں تیسرے نمبرپر ہے، وزیر خزانہ

  • نومنتخب میئر نیویارک ظہران ممدانی یکم جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    نومنتخب میئر نیویارک ظہران ممدانی یکم جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    امریکا کے شہر نیویارک سٹی کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی حلف برداری کی تقریب یکم جنوری کو منعقد ہوگی-

    ظہران ممدانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نیویارک کے شہریوں کی جانب سے ملنے والے ردعمل نے انہیں حوصلہ دیا ہےیہ ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ سب کی مشترکہ کامیابی ہے، یہ ان کی انتظامیہ نہیں بلکہ عوام کی انتظامیہ ہوگی اور اسی طرح یہ ان کی نہیں بلکہ سب کی حلف برداری ہے۔

    رپورٹس کے مطابق نیویارک سٹی ہال میں ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں قریباً 4 ہزار ٹکٹ یافتہ مہمان شریک ہوں گےحلف برداری کی اس تقریب کے ساتھ براڈوے پر ’بلاک پارٹی آن براڈوے‘ کے نام سے عوامی تقریب بھی منعقد کی جائے گی، جو کینین آف ہیروز کے مقام پر ہوگی۔

    فری لانسنگ میں پاکستان دنیا میں تیسرے نمبرپر ہے، وزیر خزانہ

    واضح رہے کہ ظہران ممدانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود نیویارک کے میئر کا الیکشن جیتنے میں کامیاب رہے ہیں، امر یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن سے قبل کہا تھا کہ اگر عوام نے ظہران ممدانی کو جتوایا تو وہ ان کے ساتھ مالی تعاون نہیں کریں گے، لیکن ظہران ممدانی کی جیت کے بعد انہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا تھا کہ نیویارک کی ترقی کے لیے نومنتخب میئر سے تعاون کیا جا ئے گا۔

    پی ٹی آئی پنجاب چیف آرگنائزر کا سخت فیصلوں کا اعلان

  • فری لانسنگ میں پاکستان  دنیا میں تیسرے نمبرپر ہے، وزیر خزانہ

    فری لانسنگ میں پاکستان دنیا میں تیسرے نمبرپر ہے، وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں فری لانسنگ کرنے والی آبادی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے جو ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔

    اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کا اہم ذریعہ ہے اور حکومت اس شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،پاکستان کی آبادی کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور حکومت انہیں ہنر پر مبنی تربیت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ نوجوان ملک کی سب سے مضبوط معاشی قوت بن سکیں۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت سرکاری مالی معاونت سے آگے بڑھتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی جانب بڑھ رہی ہے جو پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے،نوجوان خواتین کی افرادی قوت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ ملکی معیشت کی ترقی میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔

    پی ٹی آئی پنجاب چیف آرگنائزر کا سخت فیصلوں کا اعلان

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

  • پی ٹی آئی پنجاب  چیف آرگنائزر کا سخت فیصلوں کا اعلان

    پی ٹی آئی پنجاب چیف آرگنائزر کا سخت فیصلوں کا اعلان

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے پارٹی کی صوبائی تنظیم کی گزشتہ سال کی کارکردگی کی بنیاد پر سخت فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے بڑی تبدیلیوں کا اشارہ دیا اور کارکنان سے تعاون کی امید ظاہر کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ نے کہا کہ ‏میں نے 28 جنوری کو چیف آرگنائزر پنجاب کا عہدہ سنبھالا اور میں ایک ایک کی کارکردگی اپنے کارکنان کے سامنے رکھوں گی، ‏آج تک کسی ریجن کسی ڈسٹر کٹ حتٰی کہ کسی یونین کونسل میں بھی کوئی نوٹیفکیشن میری مرضی سے نہیں ہوا۔

    punjab

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    عالیہ حمزہ نے کہا کہ ‏سب ریجنل صدور مجھ سے پہلے سے لگائے گئے ہیں اور ہر ضلعی تنظیم انہوں نے اپنی مرضی سے لگائی ہے ‏پچھلی کارکردگی کی بنا پر میں کچھ سخت فیصلے کرنے جارہی ہوں اور ‏امید ہے کہ آپ سب میرا ساتھ دیں گے۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

  • متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا،جو کہ 2019 میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد ملک میں اس کے پاس باقی رہ جانے والی واحد افواج ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی، اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی،یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں، یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیو ں کو نشانہ بنایا سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعا ون فراہم کر رہے ہے۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھااس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں.سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی،2019 میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    یمنی صدارت کونسل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ منسوخ

  • سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں اور وہ جلد ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دورا ن کہا کہ ابراہیمی معاہدے نسبتاً تیزی سےمزید توسیع پائیں گےاور سعودی عرب کی شمولیت بھی بس کچھ وقت کی بات ہےجہاں تک میرا تعلق ہے، سعودی عرب نے وہ سب کچھ کیا ہے جس کی ہم توقع کرسکتے ہیں، وہ اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے معاملا ت چلا رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود سعودی عرب نے ہمیشہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق محتاط بلکہ واضح طور پر انکاری مؤقف اپنایا ہے۔

    سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا انحصار ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہےتاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور علاقائی امور پر غیر اعلانیہ تعاون موجود ہے، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کے تناظر میں۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

    ابراہیمی معاہدے

    ابراہیمی معاہدے 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں طے پائے، جن کا مقصد اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھاسب سے پہلے ستمبر 2020 متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔

    جس کے بعد اکتوبر 2020 میں سوڈان نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا اور دسمبر 2020 میں مراکش بھی اس معاہدے میں شامل ہوگیا اسرائیل اور عرب ممالک ان معاہدوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سفارتی، تجارتی، سیاحتی اور سیکیورٹی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    سال 2026 کا پہلا سپر مون کب نطر آئے گا؟

    صدر ٹرمپ کی اپنے پہلے دور میں بھی کوشش رہی تھی کہ ابراہیمی معاہدوں میں سعودی عرب کو بھی شامل کیا جائے اور اب دوسرے دور میں بھی یہ خواہش ہےاسی تناظر میں صدر ٹرمپ متعدد بار یہ اعلانات کرچکے ہیں کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرکے ابراہیمی معاہدے میں جلد ہی شامل ہونے والا ہے تاہم یہ جلد اب تک نہیں آئی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    رحیم یار خان:وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران محمد بن زاید سے ملاقات کی جہاں دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں اشتراک عمل کو مزید فروغ دینے کے امکانات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے رحیم یار خان میں شیخ زاید پیلس میں متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات نہایت خوش گوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے 26 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں ہونے والی اپنی حالیہ ملاقات میں طے پانے والے امور پر گفتگو آگے بڑھایایہ ملاقات متحدہ عرب امارات کے صدر کی حیثیت سے شیخ محمد بن زاید النہیان کے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے کے تسلسل کا حصہ تھی۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

    وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ، برادرانہ تعلقات کو ایک مضبوط، اسٹریٹجک اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا، اس ضمن میں غیرمعمولی پیشرفت دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہوگی۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، توانائی، کان کنی اور معدنیات، دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں اشتراک عمل کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    سال 2026 کا پہلا سپر مون کب نطر آئے گا؟

    بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے شیخ محمد بن زاید النہیان کی متحرک اور دوراندیش قیادت میں متحدہ عرب امارات کی شان دار ترقی کو سرا ہتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی پر شکریہ ادا کیاانہوں نے متحدہ عرب امارات میں مقیم 21 لاکھ پاکستانیوں کی میزبانی پر بھی اماراتی قیادت کا شکریہ ادا کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعاون کے علاوہ ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ ملاقات دونوں برادر ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاس ہے۔

    حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 2منصوبوں پر دستخط