Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • تیز رفتار ٹریلر اور پولیس وین میں تصادم، 5 پولیس اہلکار ہلاک  3 شدید زخمی

    تیز رفتار ٹریلر اور پولیس وین میں تصادم، 5 پولیس اہلکار ہلاک 3 شدید زخمی

    بھارتی ریاست اوڑیسہ کے جھارسوگڑا میں ایک تیز رفتار ٹریلر کے پولیس وین سے ٹکر مارنے کے واقعے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔

    حادثہ ادارش ویدیالا جھارسوگڑا کے سامنے، صدر پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا، پولیس اہلکار وین میں ڈیوٹی پر تھے کہ مخالف سمت سے آنے والے بھاری ٹریلر نے ان سے ٹکرا دیا،ہلاک ہونے والوں کی شناخت کشی رام بھوئی اور دیب ادوتا سا، نیرنجن کجور، لنگراج دھروہ اور بھکتابندھو مرڈھا کے طور پر کی گئی ہے۔

    مقامی افراد زخمیوں کو فوری طور پر امداد کے لیے اسپتال لے گئے 5 اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 3 زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ،ز خمیوں میں سے 2 کی حالت بگڑنے پر انہیں ویمسار میڈیکل کالج، بورلا اور بعد میں پرائیویٹ اسپتال، بارگارہ منتقل کیا گیا زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    حادثے کے دوران ٹریلر کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا اور اسے جھارسوگڑا کے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہےجھارسوگڑا کے ایڈیشنل ایس پی مدھوسکتا مشرا نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور سینئر پولیس افسران نے حادثہ گاہ کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

  • بنگلہ دیشی وزیراعظم کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی وزیراعظم کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی وزیراعظم سے سعودی سفیر نے ملاقات کی-

    اتوار کی صبح سیکریٹریٹ میں کابینہ ڈویژن کے دفتر میں بنگلہ دیش میں تعینات سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبداللہ جعفر سے خیرسگالی ملاقات کے دوران وزیراعظم طارق رحمان نے امید ظاہر کی ہے کہ بنگلہ دیش اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات مستقبل میں ’نئی بلندیوں‘ تک پہنچ جائیں گے۔

    سعودی سفیر نے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ریاض کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب بنگلہ دیش کے ساتھ ’ہر ممکن تعاون‘ جاری رکھے گا ملاقات میں وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اور وزیراعظم کے مشیر ہمایوں کبیر بھی موجود تھے۔

    اس سے قبل وزیراعظم طارق رحمان صبح 9 بج کر 5 منٹ پر باقاعدہ طور پر دفتری امور کا آغاز کرنے کے لیے سیکریٹریٹ پہنچے، جہاں کابینہ سیکریٹری اے بی ایم عبد الستار نے ان کا استقبال کیاحکام کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

  • مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح  کر دیا

    مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے قرعہ اندازی کا آغاز کر دیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے باعث صوبے کا زرعی لینڈ اسکیپ تبدیل ہو رہا ہے گزشتہ 25 برس میں 20 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے، جبکہ صرف 2 سال کے دوران پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے 31 ہزار ٹریکٹر فراہم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے کاشتکاروں کو مبارکباد دی اور بعض خوش نصیب کسانوں کو خود فون کر کے خوشخبری سنائیمبہاولپور کے کاشتکار حمزہ لیاقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرعہ اندازی میں آپ کا ٹریکٹر نکل آیا ہے، مبارک ہو- پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھی ہے اور آئندہ بھی کسان دوست پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے تیسرے مرحلے کے لیے 5 ایکڑ اراضی کے 4 لاکھ 27 ہزار مالک کاشتکاروں نے درخواستیں جمع کرائیں، گزشتہ 5 برسوں میں ملک میں ٹریکٹروں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے مکمل قیمت پر ٹریکٹر خریدنا مشکل ہو گیا تھا۔

    بریفنگ کے مطابق 2024 میں پنجاب حکومت نے زرعی مشینری کے استعمال پر خصوصی توجہ دی اسکیم کے پہلے 2 مراحل میں 21 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے میں 50 سے 65 ہارس پاور کے مزید 10 ہزار ٹریکٹر دیے جائیں گے پنجاب میں 10 ہزار ایکڑ اراضی پر صرف 140 ٹریکٹر موجود ہیں، جو دیگر ممالک کے تناسب سے 50 فیصد سے بھی کم ہےانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب کی زرعی معیشت میں ٹریکٹر سب سے اہم مشینری ہے اور اس اسکیم سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

  • پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو مصر روانہ ہوگی

    پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو مصر روانہ ہوگی

    لاہور:نئے کوچز کی نگرانی میں پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو اسلام اباد سے مصر کیلئے روانہ ہوگی۔

    8سال بعد پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ میں جگہ پانے کے روشن امکانات ہیں کپتان عماد بٹ نے مطالبات پورے ہونے پر خوشی کا اظہارکیا ہے ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی اوروزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری عبوری صدر ہاکی فیڈریشن محی الدین وانی معاملات کو بہتر کرنے کی کو شش کررہے ہیں، اس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

    عماد بٹ نے کہا کہ پرانے کوچز کی جگہ نئی ٹیم انتظامیہ کا تقررہونے پر اب ٹیم کا ماحول بہت اچھا ہے، رمضان میں رات کو ٹریننگ سیشن جاری ہے، سب کھلاڑی بہت محنت کررہے ہیں، مصر میں یکم مارچ سے سات مارچ تک ورلڈکپ کوالیفائرز میں بہترین پرفارمنس دینا ہدف ہے ایک لمبے وقفے کے بعد پاکستان کے پاس ورلڈکپ میں کوالیفائی کرنے کا یہ سنہری موقع ہے، قوم کو خوشیاں دینے کی پوری کوشش کریں گے۔

    واضح رہے کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاریوں کے لیے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے ماہ رمضان کی وجہ سے کھلاڑی رات کو 12 سے سحری تک ٹریننگ کررہے ہیں محی الدین وانی عبوری صدر ہاکی فیڈریشن کی حییثت سے ٹیم کے تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔

    مصرمیں پاکستان کو ملائیشیا، آسٹریا، چین کا چیلنج درپیش ہوگا، سیمی فائنل میں رسائی پانے کی صورت میں پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے کی اہل بن سکتی ہے ہاکی ورلڈ کپ اگست کے دوسرے ہفتے ہالینڈ اور بیلجیم میں کھیلا جائے گا۔

  • افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 17.4 ملین افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی اور انتظامی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے باعث عوامی محرومی کی نشاندہی کر چکے ہیں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

  • اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے،صدر مملکت

    اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے پانچ لاکھ سے زائد اسکاؤٹس کو مبارکباد دی۔

    تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے نوجوان کردار سازی پر توجہ دیں اسکاؤٹس کو گرین اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ پاکستان کیلئے متحرک ہونا چاہئیے منشیات سے پاک اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار قوم کی تشکیل اہم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں اسکاٶٹس کا کردار ناگزیر ہے پاکستان سے پولیو کے خاتمے میں اسکاؤٹس کی فعال شمولیت ضروری ہے، قائد اعظم نے اسکاؤ ٹنگ کو نوجوانوں کی کردار سازی کیلئے اہم قرار دیا تھا پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن عالمی سطح پر مزید مؤثر کردار ادا کرے گی،اسکاؤٹس قوم کی تعمیر میں مؤثر محرک ثابت ہوں گے۔

  • افغانستان میں کارروائی صرف  آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    افغانستان میں کارروائی صرف آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے کہ یہ سرزمین کمزور نہیں بلکہ شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کاررو ا ئی اُن معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں، یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اُس ماں کے آنسوؤں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا اور ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے۔

    طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے انہوں نے خبردار کیا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا یہ وطن ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارا ایمان ہے انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔

    واضح رہے کہ آج شب پاکستان نے رات گئے افغانستان کے اندر قریباً 7 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں پاکستان کے خلاف برسرپیکار فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں۔

  • ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے ‘غیر قانونی اور بلاجواز’ اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے،ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق یورپی حکومتوں نے آئی آر جی سی کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فہرست میں شامل کیا، حالانکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ اور سرکاری حصہ ہے،اسلامی جمہوریہ ایران ‘اصولِ باہمیّت’ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔

    دوسری جانب کونسل آف دی یورپین یونین نے جمعرات کو جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے اس فیصلے پر رکن ممالک کے درمیان چند ہفتے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

    یورپی کونسل کے مطابق فہرست میں شمولیت کے بعد آئی آر جی سی پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت اقدامات لاگو ہوں گے، جن میں رکن ممالک میں اس کے فنڈز اور دیگر مالی اثاثوں کو منجمد کرنا اور یورپی اداروں کے لیے اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے، اس وقت مجموعی طور پر 13 افراد اور 23 گروہ و ادارے یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یورپی رہنماؤں نے مظاہرین کے خلاف کاررو ا ئیوں کی مذمت کی تھی، جسے انہوں نے کریک ڈاؤن قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کی منظوری کے بعد یورپی یونین کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا بعد ازاں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

    وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر یورپی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

  • 3 کروڑ سے زائد نئی پیدائشوں کا تاحال نادرا میں اندراج نہ ہوسکا،  رپورٹ میں انکشاف

    3 کروڑ سے زائد نئی پیدائشوں کا تاحال نادرا میں اندراج نہ ہوسکا، رپورٹ میں انکشاف

    ملک بھر میں سال 2025 کے دوران یونین کونسل سطح پر رجسٹر ہونے والی 3 کروڑ 19 لاکھ پیدائشوں کا ریکارڈ تاحال نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مرکزی ڈیٹا بیس میں اپ لوڈ نہیں کیا جا سکا۔

    یہ انکشاف نادرا کی تازہ کارکردگی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو حال ہی میں وزارتِ داخلہ کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق نادرا کے مرکزی رجسٹر میں اس وقت 22 کروڑ 70 لاکھ افراد کا اندراج موجود ہے، جو ملک کی تقریباً 97 فیصد آبادی کا احاطہ کرتا ہے رجسٹرڈ افراد میں 52 فیصد مرد اور 48 فیصد خواتین شامل ہیں،نادرا کے بائیومیٹرک ذخیرے میں 17 کروڑ افراد کے چہرے کا ڈیٹا، 70 لاکھ کے آئرس اسکین اور ایک ارب 68 کروڑ سے زائد فنگر پرنٹس محفوظ ہیں صرف 2025 کے دوران 44 کروڑ 50 لاکھ بائیومیٹرک تصدیقات کی گئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی قومی رجسٹریشن میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، 18 سال سے کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں 11 فیصد، میعاد ختم ہونے والے شناختی کارڈز کی تجدید میں 24 فیصد جبکہ اموات کے بعد منسوخیوں میں 900 فیصد اضافہ ہوا خواتین کی رجسٹریشن میں بھی 8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    سال کے اختتام تک ملک بھر میں 938 رجسٹریشن مراکز فعال تھے 75 نئے مراکز اور 138 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے جبکہ موجودہ دفاتر میں 126 اضافی کاؤنٹرز کا اضافہ کیا گیا بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے بھی 6 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے ڈیجیٹل سہولت کے طور پر ’پاک آئیڈینٹیٹی‘ موبائل ایپ نے مجموعی کام کا 15 فیصد سنبھالا، جسے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ بعض علاقوں میں خواتین اور کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں اب بھی خلا موجود ہے۔