Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    بھکر کے نواحی علاقے برکت والا میں کالج طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں نے وین ڈرائیور پر شدید تشدد کیا۔

    پولیس کے مطابق چند اوباش افراد نے طالبات کو تنگ کرنے کی کوشش کی، جس پر وین ڈرائیور قاسم نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں منع کیا ڈرائیور کے روکنے پر ملزمان طیش میں آگئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کو بلا کر قاسم پر تشدد کیا۔ بتایا گیا ہے کہ 4 افراد نے ڈرائیور کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے آدھ موا حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق نے فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا –

    ڈی پی او شہزاد رفیق نے کہا ہے کہ خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اوباش عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔

  • نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون  سے اجتماعی زیادتی

    نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی

    لاہور: کاہنہ میں حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی پر کاہنہ پولیس نے 15 کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو جوہر ٹاؤن سے ٹریس کیا گیا مقدمے کی کارروائی کی نگرانی ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی خود کر رہی تھیں، متاثرہ خاتون سات ماہ کی حاملہ تھی اور نجی کٹرنگ کمپنی کے ساتھ بطور ویٹر منسلک تھی، کٹرنگ کمپنی کے مالک نے بہانے سے خاتون کو ڈیفنس روڈ پر واقع نجی سوسائٹی کے ایک گھر بلایا، جہاں اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق ایک ملزم نے خاتون کو زیادتی سے منع کرنے پر تھپڑ بھی مارا واقعے پر تھانہ کاہنہ میں دفعہ 375A کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے گرفتار ملزمان عباس اور اعظم کو مزید تفتیش کے لیے جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایس پی شہربانو نقوی نے کہا کہ خواتین کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کی پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔

    مریم نوازکی زیر صدارت اجلاس میں پولیس نظام میں بہتری، شفافیت اور عوام دوست رویے کو یقینی بنانے کے لیے شارٹ، مڈ اور لانگ ٹرم پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیمز اور 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے جبکہ ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کئے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے باڈی کیمز کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دے دی، تھانوں کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کیے جائیں گے۔

    حکومت نے انوسٹی گیشن کے عمل کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ، ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم اور کاغذات و شناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، بریفنگ میں کہا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس صرف پانچ سوالات کر سکے گی تاکہ تاخیر ختم ہو اور مجرم فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو ”سر“ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور کسی پولیس اہلکار کو سر یا جناب کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے چھوٹی شکایات 2 سے 3 گھنٹوں میں حل کرنے، 80 منٹ کے رسپانس ٹائم کو یقینی بنانے اور سائلین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کی تاکید کی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد جبکہ بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ساہیوال اور گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کالز نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پراپرٹی تنازعات میں کمی سے بھی جرائم میں کمی آئی ہے، ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ افراد تھانوں کا رخ کرتے ہیں جن میں سے 68 فیصد پولیس خدمت مراکز کی سروسز کے لیے آتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے عوام کو نہیں انہوں نے ہراسمنٹ کی شکایات پر توہین آمیز رویے کے خاتمے، خواتین کی حوصلہ افزائی اور غریب افراد کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا۔

    مزید برآں، ٹریفک کو لین میں چلانے کی پابندی، ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کے آغاز، سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اور ای ٹیگ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا، وزیراعلیٰ نے آئی جی اور سینئر افسران کو خود عوامی فیڈ بیک لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اوپر کی سطح پر کرپشن ہوگی تو اس کے اثرات تھانے تک جائیں گے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ عوام سے بڑا کوئی وی آئی پی نہیں، وی آئی پی موومنٹ کے نام پر شہریوں کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی اگر ابھی اصلاحات نہ کیں تو پھر کبھی نہیں کر سکیں گے، قانون کو بلا امتیاز نافذ کرنے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اب پولیس میں رویوں کی تبدیلی ناگزیر ہے

  • موٹروے پرچلنے والی گاڑیوں کیلئے اہم ہدایات جاری

    موٹروے پرچلنے والی گاڑیوں کیلئے اہم ہدایات جاری

    وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ایم نائن موٹروے پر پیش آنے والے مہلک حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے ہدایت جاری کی ہے کہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل حادثے کی مکمل تحقیقات کریں اور جلد از جلد تفصیلی رپورٹ پیش کریں جاری بیان میں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کے عمل کو مزید سخت بنایا جائے، خاص طور پر ٹائروں کی حالت کو خصو صی طور پر چیک کیا جائے۔

    عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ایسی تمام گاڑیوں کو موٹروے پر داخلے کی اجازت نہ دی جائے جن کے ٹائر گھسے ہوئے، کمزور یا زائد المعیاد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے میں داخلے سے قبل تمام گاڑیوں کا مکمل معائنہ یقینی بنایا جائے تاکہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگرچہ کمرشل ٹرانسپورٹ کی سخت جانچ ضروری ہے تاہم نجی گاڑیوں کی بھی مکمل سیفٹی چیکنگ ہونی چاہیے انہوں نے موٹروے پولیس کو ہدایت کی کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر چلنے والی ہر گاڑی کیلئے مقررہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔

    عبدالعلیم خان نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔

    حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ موٹروے پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

  • میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی۔میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

    جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر گئی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے۔ یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے۔ اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین۔امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔ امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

    پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی۔جرنل عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکیات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے۔ جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت، اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے۔

    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے۔ عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا۔

    پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے۔ سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں۔

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس،توازن کا آئینہ دار فورم!

    بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ،دنیا کو پرامن بنا دیں گی؟
    کانفرنس میں فیلڈ مارشل کی موجودگی،پاکستان عالمی اتحادکیلئے ناگزیر
    دنیا تیزی سے بدل رہی،اسلام آباد محض مبصر نہیں،فعال فریق ہے

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرہی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے،یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے،اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی،جب روس،یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین،امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں،کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیاء کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے،امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا،اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے،پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے،جنوبی ایشیاء کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لئے اہمیت رکھتا ہے،پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے،یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے،عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا،پاکستان کے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے،سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے،اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں گے

  • پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلہ:آئی سی سی کا بڑا اعلان

    پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلہ:آئی سی سی کا بڑا اعلان

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر شائقین کی شمولیت کے ذریعے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کو تاریخ کا سب سے زیادہ قابل رسائی عالمی کرکٹ ایونٹ بنانے کیلئے بڑا عالمی مہم پروگرام شروع کر دیا ہے۔

    آئی سی سی کے مطابق تمام میچز کو آئی سی سی ویب سائٹ اور ایپ پر ICC.tv کے ذریعے 80 سے زائد خطوں میں دکھایا جا رہا ہے جبکہ پہلی بار منتخب میچز یوٹیوب پر بھی براہ راست نشر کیے جا رہے ہیں ان میں بھارت اور پاکستان کے درمیان گروپ اے کا بڑا میچ کولمبو میں شامل ہے جس کیلئے جاپانی اور باہاسا زبان میں کمنٹری بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

    آئی سی سی ٹی وی پر انگریزی کے ساتھ ہندی، اردو اور نیپالی کمنٹری بھی دستیاب ہے۔ بھارت میں براڈکاسٹ پارٹنر JioStar میچز کو متعدد علاقائی زبانوں میں نشر کر رہا ہے ریڈیو نشریات برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن تیار کر رہی ہے جو عالمی سطح پر آئی سی سی ایپ پر دستیاب ہیں۔

    مشترکہ بزنس فورم میں شرکت کیلئے وزیرِ اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ

    ٹورنامنٹ کے دوران آئی سی سی نے نیا Creator Club اور Match Insights فیچر بھی متعارف کروایا ہے جس سے شائقین کو حقیقی وقت کے اعداد و شمار کے ذریعے کھیل کو بہتر سمجھنے میں مدد مل رہی ہے شائقین کو مزید قریب لانے کیلئے عالمی سطح پر فین پارکس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ بھارت میں Marriott Bonvoy اور سنیما چین PVR Inox کے ذریعے میچز دکھائے جا رہے ہیں سری لنکا میں Dialog جبکہ Budweiser نے بھی فین ایکٹیویشنز شروع کی ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں STARZPLAY پروموشن کر رہا ہے جبکہ Coca-Cola نے نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں فین پارک قائم کیا ہے پاکستان میں فین پارکس کراچی اور لاہور میں قائم کیے گئے ہیں جہاں ڈیجیٹل پارٹنر Tapmad کے ذریعے میچز دکھائے جا رہے ہیں۔

    قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

  • مشترکہ بزنس فورم میں شرکت  کیلئے وزیرِ اعظم  2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ

    مشترکہ بزنس فورم میں شرکت کیلئے وزیرِ اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ

    وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کریسچئین اسٹاکر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے کے لیے ویانا روانہ ہوگئے۔

    وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وفد میں شامل ہیں، وزیرِ اعظم ویانا میں فیڈرل چانسلری میں کرسچئین اسٹاکر سے دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے اس کے علاوہ دونوں رہنما سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے معروف کاروباری شخصیات کے اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔

    بعد ازاں وزیرِ اعظم پاکستان آسٹریا بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے وزیرِ اعظم ویانا میں اقوامِ متحدہ کے تحت منعقدہ ‘پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ’ کے موضوع پر خصوصی تقریب میں بھی شرکت و خطاب کریں گے وزیرِ اعظم اس دوران انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کریں گے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ سرکاری دورہ پاکستان اور آسٹریا کے مابین دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے اور سرمایہ کاری، سلامتی اور عالمی تعاون کے شعبوں میں روابط مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں کارروائی کی، جس کا ہدف بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے۔

    انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس آپریشن کے دوران فورسز نے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اس موقع پر دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والا کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام کر رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں اسے کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

    اس سے قبل گزشتہ روزحکومتِ بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے نام، تصاویر اور کوائف اخبارات میں شائع کر دیے ہیں کوئٹہ سے شائع ہونے والے بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر نصف صفحے کے اشتہار میں ان افراد کے سروں کی قیمت مقرر کرتے ہوئے مجموعی طور پر ایک ارب 38 کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اشتہار میں شامل افراد کے نام، عرفیت، مستقل اور عارضی پتے اور تصاویر جاری کی گئی ہیں، جبکہ ان کے بارے میں مستند اور قابلِ عمل معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 5 لاکھ روپے سے لے کر 25 کروڑ روپے تک انعام مقرر کیا گیا ہے۔

  • بھارتی کپتان کی عثمان طارق کے انداز میں بولنگ کرانے کی ویڈیو وائرل

    بھارتی کپتان کی عثمان طارق کے انداز میں بولنگ کرانے کی ویڈیو وائرل

    عثمان طارق کا بالنگ کرانے کا انداز توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، پریکٹس سیشن کے بھارتی کپتان بھی اسی انداز میں بالنگ کرتے ہوئے نظر آئے۔

    بھارتی بیٹرز نے نہ صرف عثمان طارق کے انداز کے اسپنر کے سامنے بیٹنگ کی بلکہ بھارتی کپتان سوریا کمار بھی خود عثمان طارق کے انداز میں اسپنر بن گئے اور بیٹرز کو پریکٹس کروائی ان کی پاکستانی اسپنر کی طرح بالنگ کراتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آج بھارت اور پاکستان کے درمیان اعصاب شکن مقابلہ ہےعثمان طارق بھارتی بیٹرز کے اعصاب پر سوار ہیں-

    واضح رہے کہ پریس کانفرنس کے دوران بھی بھارتی کپتان نے عثمان طارق کی بالنگ کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دیکھیں کبھی کبھی امتحان میں کوئی سوال آتا ہے جو نصاب سے باہر ہوتا ہے لیکن ہم اس سوال کو چھوڑ نہیں سکتے،ایسے سوال کا جواب دینے کے لئے اپنے حساب سے تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے اور ہم بھی ایسی ہی کوشش کر رہے ہیں۔

  • ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر طالبہ نےخودکشی کرلی

    ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر طالبہ نےخودکشی کرلی

    کولکتہ:ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر دسویں جماعت کی طالبہ نے اپنے کمرے کی چھت سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں پیش آیا ا والدین کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اور گھر میں صرف ایک بہن اور دادی موجود تھیں شام کو والدین گھر واپس لوٹے اور جب کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی تو دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہیں آیا جس پر اہل خانہ نے دروازہ توڑ دیا اہل خانہ کمرے میں داخل ہوئے تو بیٹی کو دوپٹے کے ذریعے پنکھے سے لٹکا ہوا پایا اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں موت کی تصدیق کردی گئی۔

    والدین نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی دسویں کلاس میں پڑھتی تھی اور اس کے تمام پیپرز بہت اچھے ہوئے تھے لیکن ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر وہ ہر وقت افسردہ رہتی تھی اس نے مایوسی کے عالم میں دو دن سے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور کمرے میں ہر وقت اکیلی رہتی تھی۔

    مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ خودکشی کا کیس لگتا ہے لیکن مقدمے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہےتعلیمی ماہرین کے بقول بھی امتحانات کے دوران طلبا کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خاص طور پر جب وہ نتائج کے بارے میں غیر معمولی فکرمند ہوں،ماہرین والدین اور اساتذہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کی ذہنی کیفیت پر نظر رکھیں اور انہیں ناکامی یا کم نمبروں کی صورت میں بھی حوصلہ دیں۔

    وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،صدر مملکت