Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • دہلی اسٹیڈیم میں میچ کے دوران استعمال شدہ سافٹ ڈرنک دوبارہ پیک کرنے کی ویڈیو وائرل

    دہلی اسٹیڈیم میں میچ کے دوران استعمال شدہ سافٹ ڈرنک دوبارہ پیک کرنے کی ویڈیو وائرل

    ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران نئی دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں کینٹین پر تھمز اپ سافٹ ڈرنک کی استعمال شدہ باقی بچی ہوئی مقدار دوبارہ بوتل میں بھرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسٹیڈیم میں کینٹین پر تھمز اپ سافٹ ڈرنک کی استعمال شدہ باقی بچی ہوئی مقدار دوبارہ بوتل میں بھری جا رہی ہے ، صارفین نے اس ویڈیو پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ’اگلا جو بھی میچ ہوگا یہ بوتل اس میں استعمال ہو جائے گی،ایک صارف نے کہا کہ وہ لوگ بچی ہوئی بوتل کو اسی گلاس میں رکھی تھوڑی چھوڑ دیں گے‘ جبکہ کئی دیگر صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ گلاس بھی دوبارہ استعما ل کیا جائے گا۔ایک صارف نے انڈین کرکٹ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی بہت ہی ناکارہ ہے ،اپنے ہی لوگوں کو ناقص سہولتیں دیتے ہیں یہ-

  • پنجاب :پہلاسرکاری آٹزم سینٹر قائم،خصو صی بچوں کیلئے خصوصی بسیں چلانے کا اعلان

    پنجاب :پہلاسرکاری آٹزم سینٹر قائم،خصو صی بچوں کیلئے خصوصی بسیں چلانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کا افتتاح کر دیا-

    افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ایک سال قبل جہاں خالی زمین تھی، آج وہاں عالمی معیار کا آٹزم سینٹر قائم ہو چکا ہے، جسے دیکھ کر دل خوشی سے سرشار ہو گیاپاکستان میں اپنی نوعیت کے اس پہلے سرکاری آٹزم سینٹر میں ایک ہی چھت تلے آٹسٹک بچوں کے علاج، تعلیم اور بحالی کی تمام جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں شاید دنیا بھر میں بھی آٹسٹک بچوں کے لیے اس نوعیت کی جامع سہولتیں ایک ہی جگہ دستیاب نہ ہوں۔

    مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 20 ہزار سے زائد خصوصی بچوں کا علاج اور سرجری کرکے انہیں نارمل زندگی کی طرف لایا گیا ہے ریاست آٹسٹک بچوں اور ان کے والدین کا بوجھ بانٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ 90 فیصد نادار طبقہ اپنے بچوں کا مہنگا علاج خود نہیں کرا سکتا، میری بھانجی کے بیٹے ابراہیم کو ڈھائی سال کی عمر میں آٹزم تشخیص ہوا، جس کے بعد خاندان نے اس کیفیت کو قریب سے دیکھا۔

    انہوں نے کہا کہ آٹسٹک بچوں کے والدین غیر معمولی صبر اور حوصلے کے ساتھ روزمرہ چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور ریاست کا فرض ہے کہ ان کی مدد کرے آٹزم سینٹر میں اسپیچ تھراپی، میوزک تھراپی، آرٹ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، ساؤنڈ پروف اسپیکنگ روم، اوپن ایئر جم اور خصوصی ٹیکسچرڈ فرش جیسی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں بچوں کو مختلف تھراپی کے ذریعے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا سکھایا جائے گا۔

    مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ آٹسٹک بچوں کی سہولتوں کو ہر ضلع کی سطح تک وسعت دی جائے گی، خصوصی اساتذہ کی تربیت اور والدین کی ٹریننگ کا بھی اہتمام کیا جائے گا، پنجاب بھر میں خصوصی بچوں کے لیے 70 خصوصی بسیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں، یہ منصوبہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کی بنیاد ہے،سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی اس ادارے کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا اور آٹسٹک بچوں کے والدین کو یقین دلایا کہ ریاست ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    لاہور: پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی،جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھے شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی،بہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی، متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے پاکستانی طالبات کے لیے اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ ان لڑکیوں کے لیے کچھ کریں جو تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اس اسکالرشپ کے تحت پاکستانی خواتین کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، خاص طور پر ان طالبات کو ترجیح دی جائے گی جو تعلیم کے ذریعے پاکستان میں مثبت تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جو پاکستانی خواتین آکسفورڈ میں ماسٹرز کرنے کا خواب رکھتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آ کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں، یہ پروگرام ان کے لیے بہترین موقع ہے،اسکالرشپ کے لیے درخواستیں آکسفورڈ پاکستان پروگرام کی ویب سائٹ oxpakprogramme.org کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں، ملالہ نے کہا کہ وہ نئی طالبات کو آکسفورڈ میں خوش آمدید کہنے کی منتظر ہیں۔

  • بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے آج ملک بھر میں پولنگ شروع ہو گئی یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے اہم امتحان قرار دیے جا رہے ہیں۔

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے حلقے میں ووٹ کاسٹ کر دیا ہے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور آج کا دن بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ‘بی این پی’ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ان کے حامی بھی پُرامید دکھائی دے رہے ہیں۔

    ملک کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی، قومی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ہیں جبکہ فوج بھی اہم مقامات پر موجود ہے ووٹنگ کا عمل جمعرات بھر جاری رہے گا جبکہ نتائج کا اعلان جمعہ کو متوقع ہے۔

    یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2024 میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں ان کی جماعت کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزا دے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے، انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتر ی کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی میدان میں ہے، یہ جماعت شیخ حسینہ کے دور میں پابندی کا شکار رہی، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ بعض حلقوں، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں میں اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

    انتخابات عبوری حکومت کے تحت ہو رہے ہیں جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین اور صحافی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    بنگلادیش کی پارلیمنٹ 350 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 300 نشستوں پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس بار تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹرز بھی پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے انتخابات کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات سے متعلق ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنے اور اختیارات کے توازن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات بنگلادیش کی داخلی سیاست اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ  پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    نوجوان نسل کی قومی تربیت کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام ملک بھر میں جاری ہیں۔

    تفصیلات کےمطابق آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے دوران طلباء کیلئے آزاد جموں و کشمیر کے مطالعاتی و تفریحی دورہ کا انعقاد کیا گیا آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر کے طلباء نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔

    دورے کا مقصد شرکاء کو زمینی حقائق، سیکیورٹی چیلنجز اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا اس موقع پر طلبا نے اظہارِ خیال کر تے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے براہ راست سیشنز کےساتھ مطالعاتی دوروں کا انعقاد نہایت مثبت اقدام ہے۔

    طلباء کے مطابق ایسے پروگرام کتابی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،طلباء نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے معلوماتی اور تربیتی پروگراموں کے تسلسل کی امید کا اظہار کیا۔

  • سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ پہنچے،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھیں۔

    عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ د ستیا ب کھانوں کی سہولیات پر بھی اطمینان ظاہر کیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرو ں تک رسائی کی درخواست کی۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکو مت اچھے موڈ میں ہے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی رائے اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ان کی آنکھوں کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بانی پی ٹی آئی کو ماہرین تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات دی جائیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو سے تین دن تک ہو جائے گا ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    دوران سماعت فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک بانی پی ٹی آئی کو رسائی دی جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دے دیا تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

    سلمان صفدر نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید کتابیں فراہم کی جائیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر ڈاکٹرز اجازت دیں تو کتابیں فراہم کی جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، معائنہ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ، اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کرلیے جائیں-

  • تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے،پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن (بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر کاربند ہے اور قومی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی 2024 فعال روک تھام کی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پا ئیدار امن تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔

    اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ انتہاپسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کے لیے ناگزیر ہے۔

    صدر مملکت نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر سدباب کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہاپسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں، ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیےمل کر کام کرنا ہوگاجہاں نفرت پر امید غالب ہو اور تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمےکو ترجیح دی جا ئے۔

  • پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو  پر سکون موت دیدی گئی

    پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پر سکون موت دیدی گئی

    لاہور پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھےبہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی جانور معذوری اور بیماری کی وجہ سے تکلیف میں تھے، شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی ،متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • ویلنٹائن ڈے،چڑیا گھر نے  منفرد  فنڈ ریزنگ مہم متعارف کرا دی

    ویلنٹائن ڈے،چڑیا گھر نے منفرد فنڈ ریزنگ مہم متعارف کرا دی

    امریکا کی ریاست میری لینڈ کے ایک چڑیا گھر نے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ایک منفرد فنڈ ریزنگ مہم متعارف کرا دی ہے-

    عالمی میڈیا کے تحت لوگ پانچ ڈالر کے عطیے کے بدلے کسی جانور کے فضلے کو اپنے سابقہ محبوب کے نام سے منسوب کر سکتے ہیں، اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے ”بہت بُرا“ دن ہے، لیکن شاید وہ اسے اتنے مزاحیہ انداز میں نہیں سوچتے جیسا کہ میری لینڈ کے چڑیا گھر نے سوچا، چڑیا گھر کی جانب سے اس مہم کو ”ڈالرز فار ڈنگ“ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مفہوم ہے کہ گوبر کے لئے ڈالرز دینا۔

    انتظامیہ کے مطابق فنڈ دینے والے افراد کو ایک پی ڈی ایف سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے، جسے وہ اپنی مرضی کے مطابق شیئر یا محفوظ کر سکتے ہیں، چڑیا گھر کی چیف آپریٹنگ آفیسر شینن براؤن نے کہا کہ یہ رقم چڑیا گھر کے تحفظاتی منصوبوں اور جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوگی، چاہے وہ میری لینڈ میں ہوں یا دنیا کے دیگر مقامی ماحولیات میں۔

    شینن براؤن نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ خیال عجیب ہے اور یہ ہمیں ایک سہ پہری دوپہر کے کھانے کے دوران پیدا ہوا اور پھر ایک دلچسپ مہم میں تبدیل ہوگیا یہ مہم دوسری مرتبہ منعقد کی جا رہی ہے گزشتہ سال بھی اس اقدام کو غیر معمولی پذیرائی ملی تھی اوریہ مزاحیہ سی فنڈ ریزنگ بےحد کامیاب رہی تھی،ہمیں دنیا کے 30 سے زائد ممالک سے عطیات موصول ہوئے میرے خیال میں ہم تقریباً تمام براعظموں تک پہنچ گئے، صرف دو براعظم رہ گئے،اس مہم کے نتیجے میں تقریباً 10 ہزار ڈالرز جمع ہوئے تھے، جو چڑیا گھر کے جانوروں کی دیکھ بھال اور تحفظ میں خرچ ہوئے۔