Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لاہور سے پیرس کے لیے پی آئی اے پروازیں بند

    لاہور سے پیرس کے لیے پی آئی اے پروازیں بند

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نےپیرس کیلئے اپنے فضائی آپریشنز محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق لاہور سے پیرس کیلئے پروازیں معطل کردی جائیں گی، تاہم اسلام آباد سے پیرس کیلئے پروازوں کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا، لاہور سے پیرس کیلئے آخری پرواز 17 ستمبر کو روانہ ہوگی، جبکہ پیرس سے لاہور کی آخری پرواز 12 ستمبر کو آپریٹ کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پی آئی اے نے رواں سال 18 جون سے لاہور سے پیرس کیلئے ہفتہ وار دو پروازوں کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اس وقت قومی ایئر لائن کے بیڑے میں شامل بارہ بوئنگ 777 طیاروں میں سے سات گراؤنڈ ہیں جس کی وجہ سے آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 6 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 6 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 6 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بنگلہ دیشی مشیر خارجہ امور کی نگرانی میں سفارتکاروں اور حکومتی اہلکاروں کیلیے ویزے سے متعلق معاہدے، دونوں ملکوں کی فارن سروس اکیڈمیوں اورایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور بنگلہ دیش سنگباد سنگستھا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے،علاوہ ازیں انسٹیٹیوٹ اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور بنگلہ دیشی انسٹیٹیوٹ انٹرنیشنل ایند اسٹریٹجک اسٹڈیز اور پاکستان بنگلہ دیش ٹریڈ جوائنٹ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

    قبل ازیں دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں دو طرفہ تعلقات اور اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیادفتر خارجہ کے مطابق ڈھاکہ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون اور علاقائی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    مذاکرات کے دوران اعلیٰ سطح و عوامی سطح پر روابط، ثقافتی تبادلے، تعلیم و استعداد کار میں اضافے کے منصوبے اور انسانی بنیادوں پر تعاون کے امور زیر بحث آئے اور سارک کی بحالی، مسئلہ فلسطین اور روہنگیا بحران کے حل پر زور دیا گیااس موقع پر بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ امور محمد توحید حسین نے اسحاق ڈار کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا-

  • یوکرینی ڈرون حملہ:روسی جوہری بجلی گھر میں آگ بھڑک اُٹھی

    یوکرینی ڈرون حملہ:روسی جوہری بجلی گھر میں آگ بھڑک اُٹھی

    روس کے مغربی علاقے میں واقع کرسک جوہری بجلی گھر میں اس وقت آگ بھڑک اُٹھی جب روسی فوج نے اتوار کو ایک یوکرینی ڈرون مار گرایا-

    پلانٹ انتظامیہ کے مطابق ڈرون گرنے کے بعد دھماکہ ہوا جس سے آگ لگی لیکن عملے نے بروقت کارروائی کرکے شعلوں کو بجھا دیا،کرسک نیوکلیئر پاور پلانٹ اور ارد گرد کے علاقے میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے،ڈرون حملے کے نتیجے میں پلانٹ کی پیداواری صلاحیت جزوی طور پر کم ہوئی تاہم صورتحال قابو میں ہے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بارہا خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں جوہری تنصیبات کے قریب لڑائی شدید خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔

    کرسک کا یہ پلانٹ روس-یوکرین سرحد کے قریب واقع ہے اور شہر کی آبادی لگ بھگ 4 لاکھ 40 ہزار ہے،روس فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد اب تک ملک کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے، جن میں 2014 میں ضم کیا گیا کرائمیا بھی شامل ہے، جبکہ جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر، ہزاروں ہلاک اور کئی شہر و دیہات تباہ ہو چکے ہیں۔

    پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    وزیراعظم نے غذر کے چرواہوں کو مدعو کرلیا

    پاکستانی کوہ پیماوں نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی سر کر لی

  • پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے-

    ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا ہےکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے اب منافع میں ہے تو اس کی نجکاری کیوں کی جارہی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ فوری طور پر حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری سے روکے۔

    درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کو پہلے ہی پی آئی اے کی یونینز نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، پی آئی اے کی نجکاری کے لیے چار کنسورشیم نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا تھا،چاروں کنسورشیم کے آفیشلز کے پی آئی اے ہیڈ آفس سمیت اہم تنصیبات کے دورے مکمل ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن (پی سی ) بورڈ نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقدہ اپنے 237 ویں اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے لیے چار دلچسپی رکھنے والی پارٹیز کی پری کوالیفیکیشن کی منظوری دی تھی پی آئی اے کی نجکاری کے لیے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو بولی کھولی گئی تھی اور قومی ایئر لائن کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے 85 ارب روپے کی خواہاں حکومت کو ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی،بعد ازاں دبئی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی گروپ نے حکومت کو 250 ارب روپے کے واجبات سمیت 125 ارب روپے سے زائد میں خریدنے کی پیشکش ارسال کی تھی۔

    النہانگ گروپ نے پی آئی اے کی خریداری کے لیے وزیر نجکاری، وزیر ہوا بازی اور وزیر دفاع سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بذریعہ ای میل پیشکش ارسال کی تھی،النہانگ گروپ نے حکومت کو پی آئی اے کے ملازمین کی چھانٹی نہ کرنے، تنخواہوں میں مرحلہ وار 30 سے 100 فیصد اضافے کی بھی پیشکش کی تھی۔

  • وزیراعظم نے غذر کے  چرواہوں کو مدعو کرلیا

    وزیراعظم نے غذر کے چرواہوں کو مدعو کرلیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں 300 انسانی جانیں بچانے والے چرواہوں کو وزیراعظم سیکریٹریٹ اسلام آباد بلا لیا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق وصیت خان اور انکے دیگر ساتھیوں کو وزیر اعظم ہاؤس میں بلایا گیا، تاہم فلائٹ منسوخ ہونے کی وجہ سے چرواہے آج اسلام آباد نہیں پہنچ سکے، فلائٹ منسوخ ہونے کے بعد تینوں چرواہے بذریعہ سڑک آج اسلام آباد روانہ ہوں گے۔

    چند روز قبل غذر کے علاقے تلی داس میں رات گئے اچانک گلیشیئر پھٹنے سے شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات زیرآب آگئے اور درجنوں افراد پھنس گئے تاہم بہادر چرواہے محمد خان نے بروقت اطلاع دے کر لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور 200 سے زائد افراد کی جانیں بچالی تھیں۔

    واقعے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد خان نے بتایا کہ وہ دھماکے کی آواز سے جاگے اور سب سے پہلے بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا بعد ازاں جان کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کو خبردار کیا، جس کے باعث سیکڑوں افراد کی زندگیاں بچ گئیں،اگر پاک فوج بروقت ریسکیو نہ کرتی تو وہ اور دیگر 5 افراد زندہ نہ بچ پاتے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے چرواہوں وصیت خان، انصار اور محمد خان کو وزیراعظم سیکریٹریٹ اسلام آباد مدعو کرلیا ہے وزیراعظم نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کریں گے بلکہ انعامات سے بھی نوازیں گےیہ چرواہے اپنی بہادری اور فرض شناسی کے باعث عوامی سطح پر بھی ہیرو قرار دیے جا رہے ہیں۔

    ترجمان فیض اللہ فراق گلگت بلتستان حکومت کے مطابق واقعے کی رات شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والے 50 مہمان بھی تالی داس گاؤں میں موجود تھے، تاہم گلیشیئر پھٹنے کی بروقت اطلاع ملنے سے جانی نقصان نہیں ہوا،اگر چرواہے سیلاب کی پیشگی اطلاع نہ دیتے تو تالی داس حادثہ اس سال کا سب سے تباہ کن واقعہ ہوتا۔

    واضح رہے کہ گلگت بلتستان پولیس نے گلیشیئر پھٹنے کے بعد حاضر دماغی کا مظاہرہ کرنے والے چرواہے کو 10 ہزار روپے انعام اور تعریفی سند سے نوازا تھا،دریائے غذر کا پانی بھاری پتھروں پر مشتمل ملبہ دریا میں گر کر دریا کے پانی کو 8 سے 9 گھنٹے تک روک دیا،صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق کئی گھنٹوں تک پانی کھڑا ہونے کے باعث سات کلومیٹر تک دریا کا پانی پھیل کر مصنوعی جھیل بن گئی۔

  • پاکستانی کوہ پیماوں  نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی  سر کر لی

    پاکستانی کوہ پیماوں نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی سر کر لی

    دو پاکستانی کوہ پیماؤں نے چترال میں واقع سلسلہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی تریچ میر سر کر لی ہے۔

    محکمہ سیاحت کے مطابق گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں سرباز خان اور عابد بیگ نے تریچ میر چوٹی سر کی ، ٹیم میں دیگر 5 کوہ پیما سخت موسمی صورتحال کے باعث 7 ہزار 300 میٹر تک ہی پہنچ سکے،ملکی اور مقامی کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم تریچ میر بھیجنے کا فیصلہ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی نے کیا تھا، اس مہم کو ’ تریچمیر ایکسپیڈیشن 2025‘ کا نام دیا گیا۔

    واضح رہےکہ7 ہزار 708 میٹر بلند تریچ میر کی چوٹی کو پہلی بار 1950 میں ناروے کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ سر کیا تھا۔

  • کل کا مدعی آج کا ملزم،سیاست  کب جمہوریت میں بدلے گی؟تجزیہ:   شہزاد قریشی

    کل کا مدعی آج کا ملزم،سیاست کب جمہوریت میں بدلے گی؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    کل کا مدعی آج کا ملزم،سیاست کب جمہوریت میں بدلے گی؟
    اقتدار میں آیا تو مخالفین پر مقدمات،اپوزیشن میں انصاف،انصاف کی رٹ
    سیاسی جماعتیں کب’’ باشعور‘‘ ہوجائیں گی،روئیے تبدیل ہوں ملکی تقدیر بدل جائیگی
    عوام کے حصے میں 78 سالوں کے دوران صرف،مہنگائی،بےروزگاری اور لاقانونیت ہی آئی

    تجزیہ، شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں جمہوریت مستحکم کیوں نہ ہوئی ، اسباب کیا ہیں؟ بلاشبہ وطن عزیز جمہوریت اور آمریت کے درمیان جھولتا رہا لیکن سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی کردار ادا کیا ؟یہ سوال مجھ سمیت ہر ذی شعور پاکستانی پوچھنے میں حق بجانب ہے ،لیکن وطن عزیز کی سیاست میں انتقامی رویہ ایک مستقل روایت بن چکا ہے، اقتدار سے باہر جماعتیں احتساب کے نام پر انصاف مانگتی ہیں، جیسے ہی خود اقتدار میں آتی ہیں تو انصاف کے بجائے انتقام کو ترجیح دیتی ہیں، جس کا نقصان جمہوریت ملک و قوم کو ہوتا ہے اور انتقامی سیاست کے اثرات ریاستی اداروں پر بھی پڑتے ہیں، ادارے غیر جانبدار نہیں رہ پاتے ،انہیں مخصوص جماعتوں یا قیادت کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ان کی ساکھ مجروح ہوتی ہے، عوام کو ریلیف ،ترقی یا سہولت دینے کے بجائے ساری توانائی سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات بنانے اور گرفتاریاں کرنے پر صرف ہوتی ہے، اس دوران مہنگائی، بے روزگاری اور بد امنی جیسے مسائل بڑھتے رہتے ہیں،جمہوری عمل کا مقصد اقتدار کی پرامن منتقلی اور عوام کی حکمرانی ہے، لیکن جب ہر حکومت پچھلی حکومت کو غدار چور یا دشمن بنا کر پیش کرتی ہے تو وطن عزیز کی جمہوریت ایک انتقامی کھیل لگنے لگتی ہے، اصل مسئلہ یہ ہے، وطن عزیز میں سیاست کو خدمت نہیں بلکہ اقتدار کی جنگ سمجھا جاتا ہے، جب تک سیاستدان خود یہ طے نہیں کرتے کہ ہم سیاسی مخالف ہیں دشمن نہیں، تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا، مضبوط عدلیہ آزاد میڈیا اور عوامی دباؤ ہی اس روایت کو بدل سکتے ہیں، وطن عزیز میں جمہوریت انتقام کی نہیں بلکہ برداشت مکالمے اور عوامی خدمت کی بنیاد پر ہونی چاہیے، وطن عزیز کی تاریخ میں کئی واضح مثالیں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اقتدار کے بعد اکثر جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ انتقامی رویہ اپناتی رہیں، بھٹو کے اقتدار کے دوران بعض اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا،ولی خان مرحوم اور دیگر رہنماؤں کو غداری کے مقدمات میں گھسیٹا گیا، جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنان کو جیلوں اور کوڑوں کی سزا دی یہ بھی ایک طرح کی ریاستی انتقامی سیاست تھی،نواز شریف کے پہلے دور میں بینظیر بھٹو کی حکومت کو بد عنوان اور غدار ثابت کرنے کی مہم چلائی گئی، بینظیر کے دوسرے دور میں نواز شریف پر کرپشن منی لانڈرنگ کے کیسسز بنائے گئے، 1999 ءمیں خود نواز شریف کو جلا وطنی اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، تحریک انصاف کے دور میں اپوزیشن لیڈروں نواز شریف شہباز شریف آصف زرداری کو جیلوں میں ڈالا گیا، پاکستان کی سیاسی تاریخ احتساب کے نام پر انتقام سے بھری ہوئی ہے، جب تک سیاسی جماعتیں مکالمہ رواداری اور جمہوری اقتدار کو فوقیت نہیں دیتی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا، پاکستان کی سیاست کا تسلسل کچھ یوں رہا اقتدار میں مخالفین پر مقدمات، اقتدار سے باہر ہوتے ہی خود مقدمات کا سامنا یعنی کل کا مدعی آج کا ملزم بن جاتا ہے، اس تاریخی تسلسل سے صاف لگتا ہے جب تک ادارے ازاد اور غیر جانبدار نہیں ہوں گے اور سیاستدان ایک دوسرے کو دشمن کے بجائے سیاسی مخالف ماننا نہیں سیکھیں گے یہ سلسلہ چلتا رہے گا، یاد رکھیے وطن عزیز اور قوم مقدم ہے، اداروں کو بقاء اور شخصیات کو فنا حاصل ہے-

  • جسٹس عابد عزیز شیخ نے لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی بیرون ملک روانگی کے باعث جسٹس عابد عزیز شیخ نے لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے جسٹس عابد عزیز شیخ سے حلف لیا ، حلف برداری کی تقریب لاہور ہائیکورٹ کے ججز لاؤنج میں ہوئی ، جس میں لاہور ہائیکورٹ کے ججز نے شرکت کی،تقریب میں وفاقی و صوبائی لاء افسران، لاہور ہائیکورٹ کے افسران اور وکلاء بھی شریک ہوئے ، حلف اٹھانے پر ججز نے قائم مقام چیف جسٹس عابد عزیز شیخ کو مبارکباد پیش کی۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کریں گی۔

    سرکاری حج اسکیم کے تحت ایک لاکھ ، 18 ہزار ، 60 درخواستیں موصول

    وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار کی بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ اور مشیر تجارت سے ملاقاتیں

    صدر کا قافلہ وی وی آئی پی روٹ سے ہٹنے پر ایس ایس پی ٹریفک معطل

  • سرکاری حج اسکیم کے تحت ایک لاکھ ، 18 ہزار ، 60 درخواستیں موصول

    سرکاری حج اسکیم کے تحت ایک لاکھ ، 18 ہزار ، 60 درخواستیں موصول

    سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا عمل مکمل ہو گیا جس کے بعد درخواستوں کی مزید وصولی کا کام ختم کر دیا گیا۔

    وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق ملک بھر سے 1 لاکھ 18 ہزار 60 حج درخواستیں موصول ہوئی ہیں، درخواستیں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر وصول کی گئیں، وزارتِ مذہبی امور نے نصف حج اخراجات پہلی قسط کے طور پر وصول کیے، حج کے باقی اخراجات دوسری قسط میں وصول کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ حج واجبات کی دوسری قسط کی وصولی یکم نومبر سے شروع کی جائے گی۔

    قبل،ازیں،وزارت مذہبی امور نے مصدقہ عمرہ کمپنیوں کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دی ہےترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق ابتدائی طور پر 53 عمرہ کمپنیوں کے کوائف اور معاہدوں کی تصدیق مکمل ہوگئی ہے، مصدقہ عمرہ کمپنیوں کی فہرست ہجری سال 1447 کیلئے کارآمد ہے،دیگر عمرہ کمپنیاں ضابطے کے مطابق معاہدوں کی تصدیق مکمل کروائیں، عمرہ زائرین تصدیق شدہ کمپنیوں سے بکنگ کروائیں۔

  • وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار کی بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ اور مشیر تجارت سے ملاقاتیں

    وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار کی بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ اور مشیر تجارت سے ملاقاتیں

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بنگلادیش کے ایڈوائزر برائے خارجہ امور محمد توحید حسین سے ڈھاکا میں اہم ملاقات کی۔

    دونوں ممالک کے وفود کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون اور علاقائی مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا،دفتر خارجہ کے مطابق بات چیت میں اعلیٰ سطحی روابط، عوامی سطح پر روابط، ثقافتی تبادلے، تعلیم و استعداد کار میں اضافے کے منصوبے اور انسانی بنیادوں پر تعاون بھی زیرِ بحث آئے۔

    علاقائی اور بین الاقوامی معاملات، جن میں سارک (SAARC) کی بحالی، مسئلہ فلسطین اور روہنگیا بحران شامل ہیں، پر بھی غور کیا گیا،مذاکرات مثبت اور خوشگوار ماحول میں ہوئے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود خیرسگالی اور دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

    مذاکرات میں دونوں ممالک کے متعلقہ شعبوں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے،اس موقع پر بنگلادیش کے ایڈوائزر برائے خارجہ امور نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا۔

    قبل ازیں، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحٰاق ڈار نے بنگلہ دیش کے مشیر تجارت شیخ بشیر الدین سے ناشتہ پر ملاقات کی تھی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان بھی اس ملاقات میں شریک ہوئےدونوں جانب سے اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر گفتگو ہوئی، تجارت میں اضافے اور رابطہ کاری کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔

    اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار نے ڈھاکا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر کی جانب اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ میں شرکت کی،اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے ملاقات کی جن میں بنگلہ دیشی حکومت کے مشیران ، بیوروکریٹس، سیاسی جماعتوں کی قیادت، وائس چانسلرز، دانشور اور تھنک ٹینکس کے ارکان، کھلاڑی، فنکار، صحافی، ریٹائرڈ جرنیل اور دیگر شامل تھے۔

    اس موقع پر ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی عوام کو بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ برادرانہ جذبات ہیں،ہ دونوں ممالک کے تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ روایات، اسلامی ورثے، سماجی اقدار اور ادبی اظہار پر استوار ہیں، انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام کے لیے ہم آہنگی اور خوشحالی کی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ایک تعمیری اور مستقبل کی طرف دیکھنے والے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے 24 اگست 2025ء کے دورۂ بنگلادیش کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے، چار مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور ایک ثقافتی تبادلہ پروگرام پر دستخط کیے جائیں گے، اہم معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے ویزا ختم کرنے سے متعلق ہےاس اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں اور تعاون کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

    اس کے علاوہ دونوں ممالک کی خبر رساں ایجنسیوں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) اور بنگلہ دیش سنگباد سانگستھا (BSS) کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوں گے، پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تجارتی امور پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا جائے گا جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان کلچرل ایکسچینج پروگرام 2025-2028 بھی شروع کیا جائے گا۔

    اسی طرح فارن سروس اکیڈمی آف پاکستان اور فارن سروس اکیڈمی آف بنگلادیش کے درمیان باہمی تعاون پر بھی معاہدہ طے پائے گا،دونوں ممالک کے تحقیقی ادارے، یعنی انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) اور بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز (BIISS) بھی باہمی تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدے پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعلقات کو نئی جہت فراہم کریں گے اور مختلف شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے کا سبب بنیں گے۔

    واضح رہے کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے گزشتہ روز نور خان ایئربیس سے ڈھاکا روانہ ہوئے تھےدفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہے، کیونکہ کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ نے تقریباً 13 برس بعد بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہےآخری بار پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے نومبر 2012 میں 6 گھنٹے کا مختصر دورہ کیا تھا، تاکہ اس وقت کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی جا سکے۔