Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • روس کی سابقہ مس یونیورس  کار حادثے میں ہلاک

    روس کی سابقہ مس یونیورس کار حادثے میں ہلاک

    سال 2017 میں مس یونیورس مقابلے میں روس کی نمائندگی کرنے والی ماڈل کسینیا ایلکزینڈروا کار حادثے میں ہلاک ہوگئیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق 5 جولائی کو تویر اوبلاست میں کسینیا ایلکزینڈروا اپنے شوہر کے ساتھ سفر کر رہی تھیں کہ اس دوران ان کی گاڑی کے سامنے ایک بارہ سنگھا آ گیا، جس کی وجہ سے ان کی گاڑی کی ونڈشیلڈ ٹوٹ گئی اور کسینیا کو شدید چوٹیں آئیں،اس کار حادثے کے بعد کیسنیا کومہ میں چلی گئیں اور موت زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے تقریباً ایک ماہ بعد انتقال کر گئیں،حیران کن طور پر ماڈل کے شوہر اس حادثے میں محفوظ رہے کسینیا 2017 میں نائب مس روس بھی منتخب ہو چکی تھیں اور اس خطرناک حادثے سے چار ماہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی۔

    چینی وزیرخارجہ کے دورہ بھارت پر پاکستان کی گہری نظر

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

  • درخت آفات کے خلاف ڈھال اور آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں، صدرمملکت

    درخت آفات کے خلاف ڈھال اور آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں، صدرمملکت

    اسلام آباد:صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگست سے اکتوبر تک پاکستان بھر میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔

    مون سون شجر کاری مہم کے موقع پر پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ شجر کاری مہم پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، درخت لگانا ہر شہری کا قومی فریضہ ہے۔ آج ہم ملک گیر شجر کاری مہم کا آغاز ایسے وقت کر رہے ہیں جب پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات لاحق ہیں، اس سال اگست سے اکتوبر تک پاکستان بھر میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    آصف،زرداری نے کہا کہ درخت ماحول کیلئے زندگی کی علامت اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہیں، قوم کی ترقی جنگلات اور قدرتی ماحول کے تحفظ پر منحصر ہے، جنگلات کی کٹائی، درجہ حرارت میں اضافہ اور بار بار آنے والے سیلاب لاکھوں زندگیاں متاثر کر رہے ہیں، شہری سرسبز، صاف اور خوشحال پاکستان کے لیے پودے لگائیں، ہر لگایا گیا درخت آفات کے خلاف ڈھال اور آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، حالیہ سیلاب اور بارشوں نے ملک کے مختلف حصوں میں تباہی مچائی، ہمیں گرین پاکستان پروگرام کو کامیاب بنانا چاہیے۔

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

    انہوں نے کہا کہ تمام اہل وطن شجر کاری مہم کے نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈالیں، نوجوان تبدیلی کے سفیر بن کر شجر کاری مہم کی قیادت کریں، کسان درخت لگا کر اپنی فصلوں اور ماحول کی حفاظت کرسکتے ہیں، میڈیا، سول سوسائٹی، کمیونٹی رہنما اور علماءعوام کو اس قومی فریضے کی حمایت کے لیے متحرک کریں۔

  • حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو آگے بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوگا۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معیشت کے استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو قیادت کرنا ہوگی، جیسے جیسے معیشت سنبھلتی ہے اور ہم مستقل ترقی کی طرف بڑھتے ہیں، ملک کو آگے بڑھانے میں نجی شعبے کا سب سے اہم کردار ہوگا، آج کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی وجہ سے ترقی کے کئی نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں، لیکن انسانوں کے لیے محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، سیاحت پاکستان کا نہایت اہم شعبہ ہے اور اس کے فروغ کے لیے ہر شعبہ فکر اور مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ سیاحت میں بہت سے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے-

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات لائی گئی ہیں، سٹاک ایکسچینج روزانہ نئے ریکارڈ بنارہی ہے، سٹاک مارکیٹ میں تیزی معاشی بہتری کی علامت ہے، توانائی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے درست سمت میں گامزن ہیں،، نوجوان محنت کو اپنا شعار بنائیں، اتارچڑھاؤ آتے ہیں لیکن ٹیلنٹ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمیں مستقل گروتھ کی طرف جانا ہے، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، پوری کوشش ہوگی کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ مزید کم کریں۔

    خیبر پختونخوا،متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے،ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر

  • بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

    ملک میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ہوگئے، سندھ کے ضلع بدین اور خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر کوہستان سے نئے پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے مجموعی طور پر 21 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم یکم ستمبر سے شروع ہوگی،این ای او سی نے والدین سے بچوں کو قطرے پلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے، بچاؤ صرف ویکسین سے ممکن ہے، ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم یکم ستمبر سے شروع ہوگی، والدین بچوں کو قطرے پلوا کر عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتے ہیں۔

    نئے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال

    نیشنل ای او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ والدین پولیو ویکسین کے ساتھ حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی بروقت مکمل کروائیں، انسدادِ پولیو مہم میں والدین اور کمیونٹی کا کردار اہم ہے، پولیو ورکرز سے تعاون بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

    ملک میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی، مری میں کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ

  • نئے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال

    نئے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال

    پٹرولیم ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو سمری بھیج دی ہے تاکہ نئے کنکشنز پر پابندی ختم کی جا سکے، جس کا پہلے سال کا ہدف ایک لاکھ 20 ہزار کنکشنز ہوگا۔

    ذرائع نے بتایا کہان درخواست گزاروں کو ترجیح دی جائے گی جنہیں پہلے ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے گئے تھے یا جنہوں نے ایمرجنسی فیس ادا کی تھی، لیکن بعد میں عائد پابندی کی وجہ سے کنکشن حاصل نہیں کر سکے، اگلے سال یہ تعداد مزید بڑھا دی جائے گی،تقریباً ڈھائی لاکھ درخواست گزار اس زمرے میں آتے ہیں، جنہیں یہ حلف نامہ دینا ہوگا کہ وہ اپنے پرانے دعووں یا کنکشن فیس میں اضافے کے خلاف عدالتوں سے رجوع نہیں کریں گے۔

    پابندی سے پہلے صارفین کو ترجیحی بنیاد پر کنکشن حاصل کرنے کے لیے 25 ہزار روپے کی ایڈوانس فیس ادا کرنے کی اجازت تھی، جب کہ معمول کی فیس 5 ہزار تا ساڑھے 7 ہزار روپے تھی، دوسری جانب، نیا ایل این جی کنکشن پہلے 15 ہزار روپے میں دیا جاتا تھافی الحال، گیس کمپنیوں کے پاس نئے کنکشنز کی 35 لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیںنئے کنکشن کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچے (پائپ لائنز وغیرہ) پر مقررہ منافع لینے کا نیا ذریعہ فراہم کرتے ہیں، لیکن اس سے گیس کے نقصانات بڑھ جاتے ہیں، وصولیوں میں کمی آتی ہے اور سردیوں میں گیس کی قلت مزید شدید ہو جاتی ہے۔

    اسی لیے لاہور کی سوئی ناردرن کمپنی سردیوں کی طلب سے پہلے ہی گیس کی فراہمی کو محدود کر رہی ہے اور گھریلو صارفین کو روزانہ صرف 6 تا 9 گھنٹے (ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں) گیس فراہم کر رہی ہے، یکم جولائی 2025 سے مقررہ چارجز میں 50 فیصد اضافہ بھی اس مقصد کے لیے کیا گیا کہ مزید گیس فراہم کیے بغیر ہی زیادہ فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔

    اسرائیلی فوج کے سربراہ کی غزہ سٹی پر قبضے کے منصوبے کی منظوری

    نئے کنکشنز پر پابندی 2009 میں لگائی گئی تھی، جسے 6 سال بعد جزوی طور پر ختم کیا گیا لیکن 2022 میں دوبارہ گیس کی قلت کے باعث پابندی نافذ کر دی گئی تھی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں نئے کنکشنز میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا تھااب نئی کنکشن فیس 40 ہزار سے 50 ہزار روپے مقرر کی جائے گی اور صارفین کو نوٹیفائیڈ ری-گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمت پر بل بھیجا جائے گا، جو اس وقت تقریباً 3 ہزار 200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔

    جنرل سیلز ٹیکس سمیت آخری قیمت 3 ہزار 900 تا 4 ہزار روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ جائے گی، ہائی اینڈ گھریلو صارفین (300 کیوبک میٹر ماہانہ کھپت والے) کے لیے موجودہ اوسط گیس قیمت 3 ہزار 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جبکہ 400 کیوبک میٹر سے زیادہ ماہانہ کھپت پر یہ قیمت 4 ہزار 200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچتی ہے۔

    پوپ لیو کی پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے دعا

    کابینہ کو بتایا گیا کہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی تقابلی قیمت تقریباً 5 ہزار 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو بنتی ہے اور اسے ملک کے لاکھوں غریب اور نچلے متوسط طبقے کے صارفین استعمال کر رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ایل این جی پر مبنی پائپ گیس سپلائی پھر بھی 35 تا 40 فیصد سستی ہوگی۔

  • ملک  میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی، مری میں کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ

    ملک میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی، مری میں کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، پنجاب، سندھ، شمال /جنوب مشر قی بلو چستان ا ور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےاس دوران بالائی خیبر پختونخوا، خطہ پوٹھوہار،کشمیر اور بالائی پنجاب میں چند مقامات پر تیز اور موسلادھار بارش ہونے کی توقع ہے۔

    اسلام آباد اورگردونواح میں وقفے وقفے سے بار ش کاسلسلہ جاری ہے اور مزید بارش کی توقع ہے، مری، گلیات، راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، لاہور، گجرات، حافظ آباد، وزیر آباد، چنیو ٹ، قصور، اوکاڑہ، فیصل آباد، جھنگ، ٹو بہ ٹیک سنگھ، سرگودھا، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، بہاولنگر، بہاولپور، کوٹ ادو، رحیم یار خان، خان پور، ملتان، سا ہیوال، لیہ، بھکر، میا نوالی، تونسہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اورگرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مہمند، کرم، مردان، پشاور، صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو، وزیرستان میں بارش کا امکان ہےتھر پارکر، عمر کوٹ، مٹھی، ٹھٹھہ، حید رآباد، بدین، دادو، خیر پور، نوشہرو فیروز، لا ڑکا نہ، جیکب آباد، سکھر، گھوٹکی، شکارپور، کشمور، شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، اسلام کو ٹ، نگر پارکر، کراچی اور میرپور خاص،ژوب، موسیٰ خیل، مستونگ، لورالائی، کوہلو، قلات، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، خضدار، آواران، اورما ڑہ، پسنی اور لسبیلہ میں بارش کی توقع ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    ملکہ کوہسار مری میں کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے ،اس سلسلے میں انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں کو الرٹ بھی جاری کر دیا ہےڈپٹی کمشنر مری کا کہنا ہے کہ عوام بارشوں کے دوران ندی نالوں سے دور رہیں،مری میں آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہےچشدید بارشو ں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے،دوسری جانب حالیہ مون سون بارشوں کے پیش نظر محکمہ سیاحت پنجاب نے بھی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

    محکمہ سیاست پنجاب کی جانب سے فیلڈ دفاتر کو ضلعی انتظامیہ اور ایمرجنسی آپریشن سینٹرز سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی،ایڈوائزری کے مطابق تمام سیاحتی و تاریخی مقامات پر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے۔ جبکہ ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے کے لیے فوکل پرسن تعینات کرنے کی بھی ہدایت کر دی گئی۔

    حکام کی جانب سے عملے کو ایمرجنسی ریسکیو اور ابتدائی طبی امداد کے لیے الرٹ رہنے کی تاکید اور تمام سیاحتی مقامات پر ایمرجنسی نمبرز آویزاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے دریاؤں، ندی نالوں اور ممکنہ خطرے والے علاقوں میں داخلہ محدود ہو گا۔ اور سیاح سفر سے پہلے محکمہ موسمیات کی تازہ ترین اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں،محکمہ سیاحت نے عوام الناس سے شدید بارش یا سیلابی صورتحال میں سفر محدود رکھنے کی اپیل کی۔ اور کہا کہ سیاح کسی بھی ایمرجنسی صورت حال میں ہنگامی نمبروں پر رابطہ کریں۔

  • بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    کوئٹہ:حکومت بلوچستان نے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی ایک بڑی کھیپ روانہ کردی ہے-

    ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند اور ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے امدادی سامان کی روانگی کی تصدیق کی ہےبلوچستان حکومت کی جانب سے 1500 گلگت بلتستان اور 1000 خیبر پختونخوا کے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی سامان بھیجا گیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر یہ سامان فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک پہنچایا گیا تاکہ متاثرین کی ضروریات پوری کی جا سکیں،امدادی سامان میں نان فوڈ آئٹمز جیسے خیمے، کمبل، پانی کی بوتلیں، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔

    شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت مشکل کی اس گھڑی میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کرنا بلوچستان حکومت کی انسانی ہمدردی اور یکجہتی کا عملی اظہار ہے، امدادی سامان متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کا ہے۔

    جہانزیب خان نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے متاثرین کے لیے معیاری اور جانچ شدہ ریلیف سامان بھیجا ہے تاکہ اس کی افادیت اور معیار یقینی بنایا جا سکے،انہوں نے کہا کہ امدادی کھیپ میں شامل اشیاء متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کے مطابق منتخب کی گئی ہیں۔

    ادھربارشوں اور فلش فلڈ سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق مختلف حادثات میں 323 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اس کے علاوہ 156افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے مطابق جاں بحق افراد میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں،زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں،بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 336 گھر وں کو نقصان پہنچا،230گھروں کو جزوی اور 106 گھر مکمل منہدم ہوئے،ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر 209 افراد جاں بحق ہوئے۔

    حادثات سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے،آج سے 19اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، متاثرہ اضلاع کو 89 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کی فراہمی مکمل ہوچکی ہے ،متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو اب تک امدادی فنڈ کی مد میں 800 ملین روپے جاری ہوئے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کی انتظامیہ کو بھی 500 ملین روپے امدادی فنڈ جاری کئے گئے ہیں،متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے،موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کیلئےفری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • صحافی خاور حسین کے اہلخانہ امریکا سے کراچی پہنچ گئے،نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    صحافی خاور حسین کے اہلخانہ امریکا سے کراچی پہنچ گئے،نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    سینئیر صحافی خاور حسین کے اہلخانہ امریکا سے کراچی پہنچ گئے۔

    ذرائع کے مطابق خاور کے بھائی والد اور والدہ جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچے،خاور حسین کے والد رحمت حسین باجوہ، ان کی والدہ اور بھائی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے وہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوگئے، وہ میت لے کر سانگھڑ جائیں گے، خاور حسین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر عید گاہ گراؤنڈ سانگھڑ میں ادا کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق خاور کے والد کا کہنا ہے وہ خود اپنے آپ کو گولی نہیں مار سکتا، یہ ایک قتل ہے انہوں نے کہا کہ خاور بہت دلیر انسان تھا، ہمارا کسی سے کوئی تنازعہ یا جھگڑا نہیں تھا۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل ضلع سانگھڑ سے صحافی خاور حسین کی گولی لگی لاش ان کی گاڑی سے برآمد ہوئی تھی، جس پر صحافتی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھابعد ازاں خاور حسین کی موت کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی گئی تھی،کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) آزاد خان کریں گے، جب کہ کمیٹی ممبران میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غربی عرفان بلوچ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عابد بلوچ شامل ہیں،تحقیقاتی کمیٹی پراسرار موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور کمیٹی 7 روز میں اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کو پیش کرے گی۔

    حیدر آباد میں صحافی خاورحسین کی میت ہلال احمر سرد خانے سے سول ہسپتال منتقل کی گئی ہے، سندھ حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا میڈیکل بورڈ میت کی جانچ کرے گا،میڈیکل لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر وسیم سمیت ٹیم کے دیگر ارکان میت کی جانچ کریں گے، خاور حسین کے والد اور والدہ سمیت بھائی اعجاز بھی سول ہسپتال میں موجود ہیں۔

  • بھارتی جہازوں کے گرنے کے ویڈیو ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں، محسن نقوی

    بھارتی جہازوں کے گرنے کے ویڈیو ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں، محسن نقوی

    لاہور: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بھارتی جہازوں کے گرنے کے ویڈیو ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں فیصلہ ہوا تھا کہ جب تک طیارے گرنے کی ویڈیوز ہمارے پاس نہیں ہوں گی اعلان نہیں کریں گے،کہ حالیہ جنگ میں بھارت کی ہر حکمت عملی کا ہمیں پہلے سے پتا چل جاتا تھا، دراصل ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بہترین کام کیا-

    وزیر داخلہ محسن نقوی نےسیینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں پس پردہ رہ کر کام کر رہی تھیں، اور ہماری خفیہ ایجنسیز نے پس پردہ رہ کر بھارت کی ہر چالاکی کا پردہ چاک کیا، لیکن چند لوگ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے، انٹیلیجنس ایجنسیوں کی بدولت ہم بھارت کے ہر مذموم منصوبے سے آگاہ تھے، اور پاک بھارت جنگ جیتنے میں خفیہ ایجنسیز کا مرکزی کردار ہے، خاموش اور پس پردہ مجاہدوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں-

    محسن نقوی نے کہا کہ جب بھارت کے جہاز گر گئے تو فیصلہ یہ ہوا کہ جب تک ثبوت نہیں ہو گا ہم اعلان نہیں کریں گے جبکہ ہمیں ریڈار کے ذریعے پتہ چل گیا تھا لیکن فیلڈ میں ثبوت چاہیئے تھے ویڈیوز ان کے میڈیا کے پاس بعد میں اور ہمارے پاس پہلے پہنچتی تھیں بھارت کے گرائے گئے 6 کے 6 جہازوں کی ہمارے پاس ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ گرے ہوئے ہیں۔

    عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ، مولانا فضل الرحمان

    انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے غیبی مدد کی تھی،بھارت نے ہمارے ایک بیس پر 7 راکٹ فائر کیے اور وہ اہم بیس تھالوگ پریشان ہو گئے کہ اس بیس پر قیمتی اثاثے موجود ہیں تاہم ساتوں میزائل بیس تک نہیں پہنچ سکے کوئی پہلے گر گیا کوئی بعد میں گرا کسی بھارتی میزائل کو پاکستانی ائیر بیسز تک رسائی نہیں مل سکی۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ جنگ کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمت عملی بہترین رہی، اور بھارت میں فوجی تنصیبات کو ہم نے کامیابی سے نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ پاک-بھارت جنگ کے دوران بھارت کے تمام چیف الگ الگ مودی سے مل رہے تھے ان کے پائلٹ تیار نہیں تھے لیکن ہماری مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور ہماری تمام سیاسی جماعتیں متحد تھی، اجیت دوول اور امت شاہ اصل میں پورے ڈرامے کے پیچھے تھے، یہ دونوں خود بھی ڈوبیں گے اور مودی کو بھی لے ڈوبیں گے،اجیت ڈوول اور امیت شاہ پہلگام ڈرامے کے اصل کردار ہیں،اور یہی وجہ ہے اجیت ڈوول اور امیت شاہ کا بھیانک کردار بھارت کو لے ڈوبے گا-

    وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    محسن نقوی نے کہا کہ،پاک بھارت جنگ کے دوران سعودی حکومت کا وفد پاکستان آیا سعودی وفد دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے کردار کے لیے پاکستان کے دورے پر آیا جنگ کے دوران بھارتی عسکری اور سیاسی قیادت میں واضح خلیج موجود تھی، جبکہ پاکستان نے سیاسی اور عسکری محاذ پر بہترین حکمت عملی ترتیب دی اور پاکستان میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جنگی صورتحال میں متحد رہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بھارت اس وقت پاکستان میں کھلے عام دہشتگردی میں ملوث ہے اور تمام دہشتگرد سرگرمیوں کا سب سے بڑا مفاد بھارت نے حاصل کیانائن الیون سے لے کر آج تک کی دہشت گردی کا بینفشری انڈیا ہے، بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے کے لیے کالعدم بی ایل اے کی پشت پناہی کر رہا ہے، کشمیریوں کو جب تک حق نہیں مل جاتا پاکستان کوشش کرتا رہے گا، اور کشمیر کے معاملے پر بھارت کو بھاگنے نہیں دیں گے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا وزیر اعظم سے ٹیلیفونک رابطہ

  • عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ، مولانا فضل الرحمان

    عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اے پی سی بلانے پر ایمل ولی خان کے مشکور ہیں، عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں۔

    اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نےکہا کہ اے پی سی میں تمام جماعتوں کے نمائندے موجود ہیں، ایسی مجالس کا انعقاد خوش آئند ہے، ریاست کی پہلی ترجیح انسانی حقوق کا تحفظ ہےکے پی ہو، بلوچستان ہو یا سندھ ہو، تینوں صوبوں میں دن اور رات میں عام آدمی محفوظ نہیں، قبائلی علاقہ جات مسلح گروہوں کی گرفت میں ہیں، کاروباری لوگ کاروبار نہیں کر سکتے، بھتے دینے پڑتے ہیں،سرکاری فنڈز کا دس فیصد ان مسلح گروہوں کو ادا کیا جاتا ہے، ہمارے قبائلی علاقوں کے معدنی وسائل اور ذخائر جو عوام کے ہیں، ملک میں قوانین موجود ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دنیا میں سرمایہ کاری ہوتی ہے کمپنیاں اتی ہیں مقامی لوگوں کا اپنا شئیر ہوتا ہے ریاست کا اپنا شہیر ہوتا ہے، اس ملک میں تمام کاروائیاں اتھارٹی قائم کرنے کے لئے ہوتی ہیں، آسان فارموںوں کے تحت دنیا کو انگیج کر سکتے ہیں، آج وسائل ملک کے مستقبل کو روشن کرنے کے لئے سامنے آچکے ہیں، مگر وہاں پر اتھارٹی جمائی جاتی ہے، عوام، پارلیمنٹ کا کوئی اختیار نہیں، ہم نے فاٹا کا انضمام کیا، آٹھ نو سال گزر جانے کے بعد ریاست کمیٹی بناتی ہے کہ قبائل کا جرگہ سسٹم دوبارہ بحال ہو۔

    وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    انہوں نے کہا کہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے جرگہ قومی ہوتا تھا اور امن کی ذمہ داری اقوام پر ہوتی تھی جو حکومت کو منتقل ہو گئی، آج نو سال بعد جرگہ سسٹم کو بحال کرنے ضرورت کیوں پڑھ گئی؟یہ تاثر جا رہا ہے کہ انتضمام فاٹا کے اعلاقوں تک رسائی کے لئے کیا گیا، اب امن و امان کی ذمہ داری قبائل پر ڈالی جا رہی ہے، یہ فیصلہ تاریخ کرے کہ کس کی رائے ٹھیک نہیں ہے، کہاں ہیں وہ 100 ارب روپے جو ملنے تھے؟ کہاں ہیں وہ خواب جو دکھائے گئے؟ مائن اور منرل ایکٹ کے حوالے سے قانون بنائے جاتے ہیں، یہ قانون سازی آئین کے متصادم ہے، اٹھارویں ترمیم میں دیے گئے اختیارات قانون سازی کے ذریعے واپس لیے جا رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ ججز کیلئے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی نئی پالیسی نافذ ، چھٹیوں کے قواعد میں بھی ترمیم

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ متنازع چیزوں پر بحث کرنے کی بجائے متفقہ چیروں کو سامنے لایا جائے، بدقسمتی سے ملک کا سیاسی اور پارلیمانی نظام مسلسل سوالیہ نشان بن گیا ہے، موجودہ حکومت نمائندہ عوام نہیں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہےآج ہم اختلاف کر رہے ہیں پر امن مارچ کر رہے ہیں یہی چیزں بغاوت تک پہنچا دیتی ہیں، نظام کو سیدھا اور ٹھیک کیا جائے، ہم اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہیں۔