Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران بڑا اضافہ ہو گیا۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہو گیا،اس اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 ارب 24 کروڑ 32 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں،کمرشل بینکوں کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر 5 ارب 25 کروڑ 35 لاکھ ڈالر ہیں، 8 اگست کو ملک کے مجموعی زر مبادلہ کے ذخائر 19 ارب 49 کروڑ 67 لاکھ ڈالر تھے۔

    ادھرکریڈٹ ریٹنگ کی عالمی ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ مزید بہتر کردی ہےموڈیز نے پاکستان کے کریڈٹ آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم کردیا، عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر کے سی ڈبل اے ون کردی ہےپاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی کریڈٹ ریٹنگ اس سے پہلے سی ڈبل اے ٹو تھی۔

    موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کرنے کی وجہ پاکستان کی بہتر بیرونی پوزیشن ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں جاری ریفارمز بھی اپ گریڈ کا سبب ہیں،توقعات ہیں کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھتے رہیں گے، پاکستان کو آفیشلز پارٹنرز کی ضرورت رہے گی۔

  • ایک ہفتے میں مہنگا ئی کی شرح میں 0.31 فیصد اضافہ

    ایک ہفتے میں مہنگا ئی کی شرح میں 0.31 فیصد اضافہ

    وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے،جس کے مطابق ایک ہفتے میں مہنگا ئی کی شرح میں 0.31 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پرمہنگائی کی شرح میں 2.21 فیصد اضافہ ہوا۔

    ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 17 اشیاء مہنگی، 9 اشیاء سستی جبکہ 25 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا،گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چینی فی کلو 52 پیسے تک مہنگی ہوئی، آٹا 21 روپے 18 پیسے فی تھیلا مہنگا ہوا، ٹماٹر، مرغی، انڈے، پیاز، لہسن، گندم کا آٹا، گڑ، دال ماش اور لکڑی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔

    ایک ہفتے کے دوران کیلے کی فی درجن قیمت میں تقریباً 4 روپے کمی ہوئی، آلو کی قیمت میں ایک روپے 37 پیسے، ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 10 روپے 39 پیسے تک کم ہوئی،دال چنا، مونگ، مسور، گھی، نمک، چاول، دال مسور، چنے، چاول اور نمک بھی سستی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں جبکہ تازہ دودھ، دہی، سگریٹ، بریڈ سمیت 25 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    ٹرمپ ،پیوٹن ملاقات،روس یوکرین جنگ بندی فیصلہ نہ ہو سکا

    ٹرمپ ،پیوٹن ملاقات،روس یوکرین جنگ بندی فیصلہ نہ ہو سکا

  • نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے.

    13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے نصرت فتح عل خان نے اپنے استاد مبارک علی خان سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے قوالی کی دنیا میں اپنا نام بنایا،نصرت فتح علی خان کی دم مست قلندر علی علی جیسی قوالیاں دنیا بھر میں مقبول ہوئیں اور انہوں نے صوفیانہ کلام کو نئی نسل تک ایک نئے انداز میں پہنچایا۔

    1971 میں حق علی علی سے ملنے والی پہلی عوامی پذیرائی کے بعد انہوں نے ایک ہزار سے زائد قوالیاں، 125 البمز ریلیز کیے اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا کر دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن کر ملک کا نام روشن کیا1995 میں کینیڈا کے گٹارسٹ مائیکل بروک کے ساتھ ان کے فیوژن پروجیکٹس اور پیٹر گیبریل کے ساتھ البم "مست مست” نے انہیں عالمی سطح پر موسیقی کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔

    پرائیڈ آف پرفارمنس، یونیسکو میوزک ایوارڈ سمیت دنیا کے کئی بڑے اعزازات استاد نصرت فتح علی خان کے نام ہوئے وہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی ان کے چرچے ہوئے اور انہوں نے بھارتی فلموں کیلئے بھی کئی گیت گائےاستاد نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو لندن میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے نصرت فتح علی خان کی قوالیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور آج بھی مداح ان کی آواز سُن کر جھوم اُٹھتے ہیں

  • دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، کئی مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب

    دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، کئی مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب

    مون سون بارشوں اور گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ تربیلا اور تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 68 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے اور وہاں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

    اسی طرح دریائے جہلم اور دریائے چناب کے اہم مقامات پر پانی کی صورتحال فی الحال معمول کے مطابق ہے، تاہم نالہ پلکھو کینٹ میں نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے اسی طرح دریائے راوی کے مقامات پر بہاؤ معمول کے مطابق ہے لیکن نالہ بسنتر میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس سے نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

    ڈیمز کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم 98 فیصد جب کہ منگلا ڈیم 68 فیصد بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم کا لیول 1547.94 فٹ اور منگلا ڈیم کا لیول 1211.15 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ دریاؤں کے پاٹ میں موجود افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں،شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دریاؤں، نہروں، ندی نالوں اور تالابوں میں ہرگز نہ نہائیں اور سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے کناروں پر سیر و تفریح سے گریز کریں۔

    حکام نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو کسی صورت دریاؤں یا ندی نالوں کے قریب نہ جانے دیں ایمرجنسی کی کسی بھی صورتحال میں شہری پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پی ڈی ایم اے پنجاب کی اولین ذمہ داری ہے۔

    ادھرمحکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا میں آج موسم مرطوب اور مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے جبکہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارش متوقع ہے، پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، دیر، سوات، بونیر اور مالاکنڈ سمیت مختلف علاقوں میں بارش ہوگی۔ اسی طرح باجوڑ، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ، ہری پور اور ایبٹ آباد میں بھی بارش کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خیبر، مہمند، کرم، اورکزئی کے علاوہ جنوبی اضلاع بنوں، کوہاٹ، ہنگو، کرک اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی بارش ہوگی،بارش کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے جبکہ چترال، سوات، بونیر، دیر، شانگلہ اور کوہستان سمیت بٹگرام، تورغر، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

    گزشتہ روز بھی صوبے کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی،سب سے زیادہ بارش تیمرگرہ میں 98 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، مالم جبہ میں 76 ملی میٹر، کاکول میں 64 ملی میٹر جبکہ بالاکوٹ اور سیدو شریف میں 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آج درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ مالم جبہ میں درجہ حرارت 16 ڈگری اور کالام میں 17 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • وزیراعظم نے "نشان پاکستان” لینے سے معذرت کر لی

    وزیراعظم نے "نشان پاکستان” لینے سے معذرت کر لی

    سول و ملٹری ایوارڈز کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کا نام”نشان پاکستان” کے لیے تجویز کیا تھا تاہم وزیراعظم نے اپنا نام اس فہرست سے نکال دیا۔

    آج ایوان صدر میں ہونے والی پروقار تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازت سے نوازا،اس حوالے سے ذرائع کا بتانا ہے کہ کمیٹی نے وزیراعظم شہبازشریف کا نام "نشان پاکستان” کے لیے تجویز کیا تھا تاہم کمیٹی کی بھیجی گئی سمری ملنے پر وزیراعظم نے اپنا نام فہرست سے نکال کر باقی تمام ناموں کی منظوری دیدی۔

    اس کے علاوہ سینئر صحافیانصار عباسی نے بھی معرکہ حق ایوارڈ لینے سے معذرت کی،انصار عباسی نے سیکرٹری کابینہ کو ایوارڈ نہ لینے کے فیصلے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم معرکہ حق ایوارڈ کی حق دار ہے ، انہوں نے کوئی ایسا غیر معمولی کام نہیں کیا اور جو کیا وہ ان کا فرض تھا۔

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    ہم نے آزادی کا تحفظ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے،عطا اللہ تارڑ

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

  • 26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس  نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا جوابی خط،منظر عام پر آگیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے اپنا جوابی خط جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے 31 اکتوبر کے اجلاس پر لکھا تھادونوں ججز نے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کو 4 نومبر 2024 کو فل کورٹ کے سامنے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ ان جیسے تمام سوالات کے جوابات میٹنگ منٹس اور چیف جسٹس کے خط میں سامنے آگئے۔

    چیف جسٹس پاکستان کے خط کے متن کے مطابق آرٹیکل 191 اے کے تحت آرٹیکل 183/3 کی درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق 4 کے تحت ججز آئینی کمیٹی ہی کیس فکس کرنے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق تین اے کے تحت آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی شق چار کے تحت آئینی بینچ کے ججز پر مشتمل کمیٹی کو معاملہ سپرد کیا جاتا ہے نہ کہ ججز ریگولر کمیٹی کو۔

    خط میں کہا گیا کہ ججز کمیٹی 2023 ایکٹ کے تحت تشکیل دی گئی اور کمیٹی کے اپنے بھائی ججز اراکین کی اس تشویش کو سمجھتا ہوں جو چھبیسویں ترمیم کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حوالے سے ہے، میں نے ذاتی طور پر سپریم کورٹ کے 13 ججز سے رائے لی، جس میں اُن سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کے دو ججز (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) نے کہا کہ آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت دائر کی گئی 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، کیا ایسا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہو سکتا ہے؟

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے 13 ججز میں سے 9 جج صاحبان کا موقف تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو فل کورٹ کے بجائے آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، جب ججز کی رائے آچکی تو یہ حقائق دونوں بھائی ججوں (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) کو بتا دیے گئے اور انھیں 13 ججز کے نقطہ نظر سے بھی آگاہ کر دیا گیا، بطور چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ اجلاس بلانے کو مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ ایسا کرنے سے نہ صرف ججز کے درمیان انتہائی ضروری باہمی روابط کی روح مجروح ہوتی بلکہ اس سے سپریم کورٹ عوامی تنقید کا نشانہ بھی بن سکتی ہے، جیسا کہ افسوس کے ساتھ ماضی قریب میں ہوتا رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ اسی پس منظر میں، چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر کو دوپہر کے بعد کافی دیر سے، میرے دو بھائی ججز کے خطوط موصول ہوئے۔ کمیٹی نے سربمہر لفافوں میں اپنی رائے دی، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد اور سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کا حکم دینے کی درخواست کر رہے ہیں،مجبوراً، میں نے یہ دو خطوط اور ان کے جوابات (سربمہربند لفافوں میں) سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کے حوالے کر دیے ہیں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے رکھے جائیں، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جو 5 نومبر 2024ء کو بلایا گیا، منعقد ہو۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ میں اس اجلاس میں جوڈیشل کمیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ میرے علاوہ سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز کو آئینی بینچ کے اراکین کے طور پر نامزد کرے، تاکہ آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق (3) کے کلاز (اے) کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹی یا آئینی بینچ کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو پاکستان کے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے سامنے پیش کر سکے۔

    چیف جسٹس نے خط میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت بینچز کی تشکیل کے لیے کمیٹی کا اجلاس بلانا یا پاکستان کے سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دینا یقیناً آئین کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔

  • ہانیہ عامر نے ایک اور عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

    ہانیہ عامر نے ایک اور عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

    اداکارہ ہانیہ عامر نے ایک اور عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا، انہیں دنیا کی خوبصورت ترین اداکاراؤں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔

    ہانیہ عامر واحد پاکستانی اداکارہ بنیں، جنہیں خوبصورت ترین اداکاراؤں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہےہانیہ عامر کو فلموں، ڈراموں اور ویب سیریز کو ریٹنگ دینے اور شوبز شخصیات کے پروفائل بنانے والی کمپنی ’انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس‘ (آئی ایم بی ڈی) نے اپنی فہرست میں شامل کیا ہے۔

    آئی ایم بی ڈی نے سال 2025 اور 2026 کی 10 خوبصورت ترین اداکاراؤں کی فہرست جاری کرتے ہوئے ہانیہ عامر کو دنیا کی چھٹی خوبصورت اداکارہ قرار دیا،جاری کردہ فہرست میں دسویں نمبر پر ترک اداکارہ و ماڈل ہاندے آرچل (Hande Erçel) ہے جو اپنی فلموں کی وجہ سے کافی مقبول ہیں،فہرست میں نویں نمبر پر ہولی وڈ اداکارہ امبر ہرڈ ہیں، آٹھویں نمبر پر اداکارہ و پروڈیوسر ایما واٹسن جب کہ ساتویں نمبر پر آنا دی آرمس کو رکھا گیا ہے، پانچویں نمبر پر بولی وڈ اداکارہ کرتی سنن ہیں جو اس فہرست میں شامل واحد بھارتی اداکارہ ہیں۔

    چوتھے نمبر پر جنوبی کوریا کی اداکارہ نینسی مکڈونی، تیسرے نمبر پر چینی اداکارہ دلرابا دلمورت (Dilraba Dilmurat) جب کہ دوسرے نمبر پر امریکی اداکارہ شیلنی وڈلے کو رکھا گیا ہے،خوبصورت اداکاراؤں کی فہرست میں آسٹریلیا کی 35 سالہ اداکارہ مارگوٹ روبی کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

  • شلپا شیٹی اور شوہر راج کندرا پر 60 کروڑ کے فراڈ کا الزام

    شلپا شیٹی اور شوہر راج کندرا پر 60 کروڑ کے فراڈ کا الزام

    بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی اور ان کے شوہر و بزنس مین راج کندرا پر ممبئی کے ایک کاروباری شخص کو 60 کروڑ روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، کاروباری شخصیت دیپک کوٹھاری نے الزام لگایا ہے کہ 2015 سے 2023 کے دوران انہوں نے بزنس کی توسیع کے لیے اس جوڑے کو 60 کروڑ روپے دیے، مگر یہ رقم کاروبار کے بجائے ذاتی اخراجات پر خرچ کی گئی،2015 میں وہ ایجنٹ راجیش آریا کے ذریعے شلپا اور کندرا سے ملے، اس وقت دونوں ”بیسٹ ڈیل ٹی وی“ کے ڈائریکٹر تھے اور کمپنی میں شلپا شیٹی کے 87 فیصد سے زائد شیئرز تھے۔

    الزام کے مطابق راجیش آریا نے کمپنی کے لیے 75 کروڑ روپے کا قرض 12 فیصد سالانہ سود پر مانگا، مگر ٹیکس کی زیادہ شرح سے بچنے کے لیے یہ تجویز دی گئی کہ رقم کو ”انویسٹمنٹ“ کے طور پر دیا جائےملاقات کے بعد معاہدہ طے پایا اور وعدہ کیا گیا کہ رقم وقت پر واپس کر دی جائے گی۔

    ہم نے آزادی کا تحفظ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے،عطا اللہ تارڑ

    اپریل 2015 میں دیپک کوٹھاری نے پہلی قسط کے طور پر تقریباً 31.95 کروڑ روپے منتقل کیے بعد ازاں ٹیکس کے مسئلے پر ستمبر میں دوسرا معاہدہ کیا گیا اور جولائی 2015 سے مارچ 2016 کے درمیان مزید 28.54 کروڑ روپے منتقل کیے گئے، مجموعی طور پر انہوں نے 60.48 کروڑ روپے سے زائد رقم دی، اس کے علاوہ 3.19 لاکھ روپے اسٹامپ ڈیوٹی کی مد میں بھی ادا کیے۔

    دیپک کوٹھاری کے مطابق، اپریل 2016 میں شلپا شیٹی نے ذاتی گارنٹی بھی دی، مگر ستمبر میں وہ ڈائریکٹر کے عہدے سے مستعفی ہو گئیں، اس کے فوراً بعد کمپنی پر 1.28 کروڑ روپے کا ان سالوینسی کیس سامنے آیا، جس سے کوٹھاری لاعلم تھے۔ بار بار مطالبے کے باوجود انہیں رقم واپس نہیں ملی،2015 سے 2023 تک اس جوڑے نے منصوبہ بندی کے تحت کاروباری مقاصد کے لیے پیسے لیے اور ذاتی اخراجات پر خرچ کر دیے۔

    فیلڈ مارشل، ائیر چیف، بلاول اور سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازات سے نواز دیا گیا

    مقدمہ ابتدا میں جوہو پولیس اسٹیشن میں جعل سازی اور دھوکہ دہی کے تحت درج ہوا، مگر 10 کروڑ سے زائد رقم کے باعث یہ کیس اکنامک آفنسز وِنگ کے حوالے کر دیا گیا جو اب اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شلپا شیٹی اور راج کندرا کے وکیل پرشانت پاٹل نے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ سراسر سول نوعیت کا ہے، اس میں کوئی مجرمانہ پہلو نہیں، یہ ایک بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی کیس ہے جس کا مقصد ہمارے مؤکلین کو بدنام کرنا ہے، اور الزامات کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    بھارت کو جارحیت کا ایسا جواب دیا کہ اس کا ہوش ابھی تک ٹھکانے نہیں آیا،اسحاق ڈار

  • ہم نے آزادی کا تحفظ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے،عطا اللہ تارڑ

    ہم نے آزادی کا تحفظ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے،عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ہم نے آزادی کا تحفظ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے-

    وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اس سال یوم آزادی کا جشن منفرد ہے، مئی میں معرکہ حق نے دو قومی نظریے پر مہر ثبت کی۔ دو قومی نظریہ ایک حقیقت بن کر ابھرا ہے، دشمن نے پہلگام فالس فلیگ کی آڑ میں پاکستان پر جارحیت مسلط کی پاکستان کا تشخص مجروح کرنے کی کوشش کی جب کہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

    عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جشن آزادی کے ساتھ معرکہ حق کی تاریخی فتح کا جشن منایا جا رہا ہے، ہم نے آزادی کا تحفظ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے، جنگ میں بہترین حکمت عملی اپنا کر افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،انفارمیشن وار فیئر بھی لڑی گئی، وزارت اطلاعات نے بہترین کام کیا،ڈیجیٹل وار فیئر میں قوم کا حوصلہ بلند رکھنا اور عالمی سطح پر پاکستان کا بیانیہ اجاگر کرنا تھا 65ء کی جنگ میں پی ٹی وی سے ملی نغمے نشر کیے گئے۔

  • فیلڈ مارشل، ائیر چیف، بلاول اور  سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازات سے نواز دیا گیا

    فیلڈ مارشل، ائیر چیف، بلاول اور سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازات سے نواز دیا گیا

    پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر ایوان صدر میں شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں نمایاں قومی خدمات انجام دینے والی سول و عسکری شخصیات کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔

    تقریب میں صدر مملکت، وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ شخصیات شریک ہوئیں،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثنا اللہ کو نشان امتیاز عطا کیا گیا اسحاق ڈار کو یہ اعزاز سفارتی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے پر دیا گیا، جبکہ بلاول بھٹو کو بھی سفارتی محاذ پر کارکردگی کے اعتراف میں اعزاز ملا۔

    صدر پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف معرکہ حق میں پاک فوج کو فرنٹ سے لیڈ کرنے اور بہترین جنگی حکمت عملی مرتب کرنے پر فیلڈ مارشل اور آرمی چیف عاصم منیر ہلال جرات سے نوازا جبکہ ائیر چیف مارشل ظہیر بابر احمد سدھو کو بھی ہلال امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ساحر شمشاد مرزا اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کو نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

    وزیر اعظم کے تشکیل کردہ سفارتی وفد کو بھی اعزازات دیے گئے۔ سینیٹر شیری رحمان، فیصل سبزواری، حنا ربانی کھر، خرم دستگیر خان، بشریٰ انجم، عمر فاروق، جلیل عباس جیلانی، مصدق ملک اور طارق فاطمی کو ہلال امتیاز ملا،پاک فضائیہ کے پائلٹس ونگ کمانڈر بلال رضا، ونگ کمانڈر حماد ابن مسعود، اسکوارڈن لیڈر محمد یوسف خان، اسامہ اشفاق، محمد حسن انیس، طلال حسن، فدا محمد خان اور محمد اشہد کو ستارہ جرات دیا گیا۔

    تقریب میں شہداء کو بھی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں لانس حوالدار عامر شیراز، لانس نائیک اکرام اللہ، سپاہی عدیل اکبر (تمغہ جرات) شامل ہیں،سپاہی نثار احمد شہید کو بعد از شہادت ستارہ بسالت دیا گیا، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا، لیفٹیننٹ جنرل محمد ظفر اقبال، لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا، لیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز اور لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کو بھی یہ اعزاز عطا کیا گیا، وائس ایڈمرل راجا رب نواز، ریئر ایڈمرل عبدالمنیب، ریئر ایڈمرل فیصل امین، میجر جنرل واجد عزیز، ایئر وائس مارشل محمد احسان الحق، میجر جنرل کاشف عبداللہ، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد، ریئر ایڈمرل شہزاد حامد، میجر جنرل محمد جواد طارق اور میجر جنرل تجدید ممتازکو بھی ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔

    ایئر کموڈور عطا اللہ زیب، ایئر کموڈور ضیا آفتاب، ایئر کموڈور محمد نعمان علی خان، ایئر کموڈور علی جاوید ہاشمی اور ایئر کموڈور سجاد حیدر کے ساتھ ساتھ کیپٹن آصف امین اور کیپٹن محمد حیدر علی کو بھی اس اعزاز سے نوازا گیا،ایوان صدر میں منعقدہ اس پروقار تقریب میں شرکاء نے قومی پرچم کی سربلندی اور ملک کی خدمت کے عزم کا اعادہ کیا۔