Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    تنخواہ دارطبقے کیلئے اچھی خبر،بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز ہے-

    ذرائع کےمطابق انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم زیر غورہے، سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد 6 لاکھ سے بڑھائی جا سکتی ہے، ماہانہ 83 ہزار روپے تنخواہ تک ٹیکس فری کرنے کی تجویز،ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 5 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد ہونے کا امکان ہے-

    ایک لاکھ 83 ہزار روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس 15 سے کم ہوکر 12.5 فیصد کرنے کی تجویز، دو لاکھ 67 ہزار ماہانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس 25 کے بجائے 22.5 فیصد ہو سکتا ہے، ذرائع کےمطابق تین لاکھ 33 ہزار روپے تک تنخواہ پر ٹیکس 30 کے بجائے 27.5 فیصد ہو سکتا ہے،تین لاکھ 33 ہزار سے زائد تنخواہ پر ٹیکس 32.5 فیصد ہو سکتا ہے،اس پرحتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی

  • بجٹ میں متعدد اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز

    بجٹ میں متعدد اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز

    اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعدد اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فروزن فوڈز، چپس،کولڈ ڈرنکس، نوڈلز، آئس کریم اور بسکٹس پر ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز ہےفروزن گوشت، ساسز اور تیار شدہ خوراک پر بھی5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز ہے بجٹ میں کئی پراسیسڈ اشیاء پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے جب کہ ای کامرس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔

    واضح رہے کہ اگلے مالی سال کے لیے تقریباً 18 ہزار ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں تقریبا 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے۔

  • تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    اسلام آباد: نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی دستاویز منظرعام پر آگئی ہیں، وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے –

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جس میں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب جب کہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 16 ہزار 286 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے اور تمام سیلر ی سلیب پر 2.5 فیصد ٹیکس کم کرنے کی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے جب کہ گریڈ ایک تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیے جانے کی بھی تجویز ہے،وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم لیوی 78روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے، پیٹرولیم مصنوعات صرف ڈیجیٹل ادائیگی سے خریدی جاسکیں گی جب کہ نقد پیٹرولیم مصنوعات خریدنے پر 2 روپے فی لیٹر اضافی ادا کرنے ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2869 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،وفاقی ترقیات بجٹ میں سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 682 ارب سے زائد فنڈز جب کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے لیے 35 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق این ایچ اے کو آئندہ مالی سال 226 ارب 98 کروڑ روپے سے زیادہ ملیں گے، پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 90 ارب 22 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے جب کہ آبی وسائل ڈویژن کو آئندہ مالی سال 133 ارب 42 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 70 ارب 38 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ صوبوں اور اسپیشل ایریاز کے لیے 253 ارب 23 کروڑ روپے، انضمام شدہ اضلاع کے لیے 65 ارب 44 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے جانے کی تجویز ہے جب کہ صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 105 ارب 78 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جائیں گے۔

    دستاویزات کے مطابق آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 82 ارب روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 11 ارب 55 کروڑ روپے جب کہ فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کے لیے 18 ارب 58 کروڑ سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔

  • وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بیشتر ممالک کو مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

    دنیا بھر میں معاشی سست روی کے ساتھ ساتھ افراط زر یعنی مہنگائی بھی معیشتوں کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے،اعدادوشمار کے مطابق وینزویلا اور زمبابوے مہنگائی کی بلند ترین سطح پر ہیں، جہاں افراط زر کی شرح بالترتیب 180 اور 92 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے یہ شرحیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور وہاں کی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب بڑی معیشتوں میں افراط زر کی صورتحال نسبتاً قابو میں ہے امریکہ میں مہنگائی 3 فیصد، برطانیہ میں 3.1 فیصد، فرانس میں 1.3 فیصد اور جرمنی میں 2 فیصد پر ہے، جو عالمی اوسط کے قریب تصور کی جا سکتی ہےبھارت میں مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد تک محدود رہی، جو گزشتہ برس کی 5.9 فیصد سے کم ہے، بنگلہ دیش میں یہ شرح 10 فیصد ہے جبکہ سری لنکا میں افراط زر کی شرح 12 فیصد پر رہنے کی توقع ہےپاکستان میں حکومت کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد رہی، تاہم آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق یہ 5.1 فیصد ہے، جو اب بھی خطے کے کئی ممالک سے بہتر تصور کی جا سکتی ہے۔

    عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہے، جہاں خوراک، توانائی اور درآمدات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتا ہے، مہنگائی کی اس بلند لہرجیسی صورتحال کے پیش نظر ماہرین سخت مالی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔

    نان فائلرز کے لئے بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

  • عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک  رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2024-25 میں عالمی شرحِ نمو 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کی 3.3 فیصد کی شرح سے کم ہے۔

    دنیا بھر میں جاری جنگیں، موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات عالمی معیشت کی رفتار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں،سال 2024 میں بھارت نے معاشی ترقی کے میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں شرحِ نمو 7 فیصد رہی، چین کی معیشت 5 فیصد کی رفتار سے بڑھی، جبکہ امریکہ کی اقتصادی ترقی 2.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    برطانیہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کی شرحِ نمو محض 0.7 فیصد رہی، جرمنی میں یہ 0.8 فیصد جبکہ فرانس میں 1.1 فیصد رہی، جو یورپی معیشتوں کی سست روی کو ظاہر کرتی ہے پاکستان نے رواں مالی سال میں 2.7 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی، جو گزشتہ برس کے 2 فیصد سے کچھ بہتر ہے۔

    ماہرین کے مطابق سیاسی استحکام، معاشی پالیسی، موسمی اثرات اور بین الاقوامی صورتحال جیسے عوامل کسی بھی ملک کی شرحِ نمو پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیںشرحِ نمو دراصل کسی بھی ملک کی معیشت کے پھیلاؤ یا سکڑاؤ کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے، جو ملکی ترقی کی سمت کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

    ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان عالمی اوسط شرحِ نمو کے برابر کھڑا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر بھارت اور چین، اس دوڑ میں کہیں آگے ہیں۔

  • نان فائلرز کے لئے  بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

    نان فائلرز کے لئے بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

    نان فائلرز کے خلاف مزید پابندیاں لگائے جانے کا امکان ہے-

    ذرائع کے مطابق نان فائلرز کے بینک سے 50 ہزار روپے نکلوانے پر ٹیکس کی شرح دگنی کرنے کی تجویز ہے، 50 ہزار روپے نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.6 کی بجائے 1.2 کیا جائے گا نا ن فائلرز کی موبائل فون سم، انٹرنیٹ ڈیوائس بلاک نہیں ہوں گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ نان فائلر ز کیلئے گاڑیاں اور جائیداد کی خریداری پر پابندی برقرار رہے گی، نان فا ئلرز مالی لین دین کی ٹرانزیکشن نہیں کر سکیں گے،، نان فائلرز پر بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

    نا ن فائلرز کے شیئرز خریدنے اور میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری پر پابندی ہو گی، ٹیکس سسٹم سے نا ن فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے پر کام جاری ہے، پوائنٹ آف سیل میں ٹیکس چوری کیخلاف جرمانے میں 10 گنا اضافہ کیا جائے گا۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت آج معاشی ٹیم کا اہم اجلاس ہوگا

    پوائنٹ آف سیل مشین سے ٹیکس چوری کیخلاف جرمانہ 5 سے بڑھا کر 50 لاکھ کرنے کی تجویز ہے، پوائنٹ آف سیل میں کیش کے خفیہ طور پر الگ ریٹ رکھنے والوں کیخلاف بھی کارروائی ہو گی، ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں سیکشن 114 بی میں نا ن فائلر کے خلاف ایکشن ہوں گے۔

    بین الاقوامی سطح پر انڈین میڈیا کی ساکھ بری طرح متاثر

  • وزیراعظم کی زیر صدارت آج معاشی ٹیم کا اہم اجلاس ہوگا

    وزیراعظم کی زیر صدارت آج معاشی ٹیم کا اہم اجلاس ہوگا

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آج معاشی ٹیم کا اہم اجلاس منعقد ہوگا –

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر خزانہ، خزانہ ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور معاشی ماہرین شریک ہوں گے اجلاس میں آئندہ بجٹ کے اہداف، محصولات، ممکنہ ٹیکس اصلاحات اور دیگر اہم تجاویز پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی،اس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اہم امور پر غور کیا جائے گا۔

    معاشی ٹیم کا یہ اجلاس وفاقی کابینہ کے باضابطہ اجلاس سے قبل منعقد ہوگا، تاکہ کابینہ کو بجٹ سے متعلق مجوزہ نکات اور فیصلوں سے آگاہ کیا جا سکےاجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، مالی خسارے پر قابو پانے، مہنگائی، اور عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے آپشنز پر بھی غور کیا جائے گا، حکام کے مطابق حکومت آئندہ بجٹ کو عوام دوست اور اقتصادی استحکام کا ضامن بنانے کے لیے اہم فیصلے متوقع طور پر اس اجلاس میں کرے گی۔

  • بین الاقوامی سطح پر  انڈین میڈیا کی ساکھ بری طرح متاثر

    بین الاقوامی سطح پر انڈین میڈیا کی ساکھ بری طرح متاثر

    بھارتی میڈیا کی جانب سے جعلی خبریں پھیلانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر انڈین میڈیا کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے، وہاں صحافتی معیار انتہائی گر چکا ہے-

    عرب ٹائمز آن لائن کے مطابق بھارتی میڈیا اس وقت اعتماد کے معاملے میں شدید بحران کا شکار ہے، وہاں صحافتی معیار انتہائی گر چکا ہے بھارت میں قوم پرستی کے عروج نے بھارتی میڈیا کو جھوٹ اور سنسنی خیزی کی طرف دھکیل دیا ہے پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی چینلز نے جعلی فوٹیج اور ویڈیو گیمز سے فوجی فتوحات کی جھوٹی خبریں نشر کیں، بھارتی میڈیا پر حکومتی بیانیہ اجاگر کرنے اور مخالف آوازوں کو دبانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    عرب ٹائمز آن لائن کے مطابق بھارت میں پریس فریڈم خطرے میں ہے میڈیا کی ساکھ عالمی سطح پر داؤ پر لگ چکی ہے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جعلی خبروں نے بھارتی میڈیا کی ناکامی کو بے نقاب کردیا ہےعالمی مبصرین اور مقامی صحافیوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے بھارتی میڈیا جمہوریت کے لیے خطرہ بن چکا ہے،مودی سرکار میں بھارتی صحافت سیاسی ایجنڈوں کی تابع ہو چکی ہے اور بھارت میں آزاد میڈیا کا تصور دھندلا گیا ہے-

    برطانیہ :اسرائیلی نیوی کے یونٹ کے خلاف جنگی جرائم کی شکایت دائر

    مودی کے ترقیاتی دعوؤں کا پردہ فاش، وکست بھارت“ کا خواب وعدوں کا قبرستان بن چکا

    عید الاضحیٰ پرگؤ رکھشکوں کی دہشتگردی عروج پر رہی،مودی سرکار خاموش تماشائی بنی رہی

  • برطانیہ :اسرائیلی نیوی کے یونٹ کے خلاف جنگی جرائم کی شکایت دائر

    برطانیہ :اسرائیلی نیوی کے یونٹ کے خلاف جنگی جرائم کی شکایت دائر

    بیلجیم میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہند رجب فاؤنڈیشن (HRF) نے برطانیہ میں اسرائیلی بحریہ کی اسپیشل فورس "شیطیت 13” اور اس کے کمانڈر وائس ایڈمرل ڈیوڈ سعار سلامہ کے خلاف جنگی جرائم کی شکایت دائر کر دی ہے۔

    تنظیم کے مطابق شکایت کل اسرائیلی فورسز کے ذریعے برطانوی پرچم بردار کشتی "مدلین” پر حملے کے بعد دائر کی گئی ہےمدلین کشتی، جو فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا حصہ تھی، غزہ کے شہریوں کے لیے طبی سامان، خوراک اور بچوں کے دودھ جیسی امدادی اشیاء لے جا رہی تھی، یہ کشتی جب اسرائیلی نیوی کے شیطیت 13 کمانڈوز نے روکی، تب وہ سمندر میں 60 ناٹیکل میل (111 کلومیٹر) کے فاصلے پر بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھی، اور قانونی طور پر برطانوی سرزمین شمار ہوتی ہے۔

    فریڈم فلوٹیلا کے بحری جہاز پر اسرائیلی فوج کا حملہ، جہاز پر سوار 12 افراد کو یرغمال بنا لیا

    واضح رہے کہ ہند رجب فاؤنڈیشن اس فلسطینی بچی کے نام پر قائم کی گئی ہے جو غزہ میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئی تھی تنظیم پہلے بھی ہزار سے زائد اسرائیلیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ثبوت عالمی فوجداری عدالت (ICC) میں جمع کروا چکی ہے۔

  • مودی کے ترقیاتی دعوؤں کا پردہ فاش، وکست بھارت“ کا خواب  وعدوں کا قبرستان بن چکا

    مودی کے ترقیاتی دعوؤں کا پردہ فاش، وکست بھارت“ کا خواب وعدوں کا قبرستان بن چکا

    نریندر مودی کے ”وکست بھارت“ اور ”سب کا وکاس“ جیسے دعووں کی حقیقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ۔

    آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ایم وی راجیو گوڑا نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے 2024 کے منشور اور پچھلے گیارہ برسوں کے حکومتی وعدوں کو ”جھوٹ کا پلندہ“ قرار دے دیا۔

    راجیو گوڑا نے اپنی تحقیقی رپورٹ ”ایک اور بار جُملہ سرکار“ میں بی جے پی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں سے عوام کو دھوکہ دیا، ”گیارہ سال جھوٹے وکاس کے وعدے“ مودی حکومت کی اصل حقیقت کو آشکار کرتے ہیں۔

    عید الاضحیٰ پرگؤ رکھشکوں کی دہشتگردی عروج پر رہی،مودی سرکار خاموش تماشائی بنی رہی

    راجیو گوڑا نے مودی حکومت کے مقامی دفاعی پیداوار کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی بھارت اپنی 40 فیصد دفاعی ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے ”مشن موڈ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ“ کے تحت شروع کیے گئے 55 منصوبوں میں سے 23 منصوبے شدید تاخیر کا شکار ہیں، جو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    گواڑ نے کہا کہ مودی حکومت معاشی محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکی ہے گزشتہ سال بھارت کی ترقی کی شرح محض 6.5 فیصد رہی، جو کووڈ کے بعد کی کم ترین سطح ہے اس کے ساتھ ساتھ ملک میں دولت کی تقسیم شدید غیر منصفانہ ہو چکی ہےصرف 1 فیصد اشرافیہ کے پاس 40 فیصد دولت ہے جبکہ ملک کی نصف غریب آبادی محض 3 فیصد دولت پر گزارا کر رہی ہے۔

    عید الاضحیٰ کے موقع پر فول پروف سکیورٹی انتظامات ،عوام کا اظہار تشکر

    راجیو گوڑا نے انکشاف کیا کہ بھارت آج بھی گلوبل ہنگر انڈیکس میں 105ویں نمبر پر ہے مفت گندم کی اسکیموں کے باوجود غریب عوام کو خوراک میسر نہیں، اور ہر تیسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ہے 32 فیصد سے زائد بچے کم وزن کے مسئلے میں مبتلا ہیں، جو کہ ایک خطرناک انسانی بحران کا اشارہ ہے بی جے پی نے 700 قبائلی اسکولوں کا اعلان کیا، لیکن 300 اسکول آج بھی غیر فعال ہیں راجیو گوڑا نے طنزاً سوال کیا کہ ”کیا اسکول بنانا اور چلانا بھی راکٹ سائنس ہے؟“

    رپورٹ کے مطابق بھارت میں بے روزگاری کی شرح 15 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے مودی نے ہر سال 2 کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا، مگر کروڑوں نوجوان آج بھی بے روزگار ہیں ”وکست بھارت“ کا خواب دراصل وعدوں کا قبرستان بن چکا ہے بی جے پی کا ترقیاتی ماڈل اشتہار، نعروں اور میڈیائی مہمات پر مبنی ہے، جبکہ زمینی حقیقت فاقہ کشی، بے روزگاری اور محرومی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اب مزید دھوکہ نہ کھائیں، اور حقیقت کو پہچانیں۔

    یہ رپورٹ مودی حکومت کے ترقیاتی بیانیے کے خلاف ایک واضح اور مدلل چارج شیٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے-