Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • آسٹریلیا: بارشوں اور سیلاب سے تباہی،150 مقامات پرفلڈ وارننگ جاری

    آسٹریلیا: بارشوں اور سیلاب سے تباہی،150 مقامات پرفلڈ وارننگ جاری

    آسٹریلیا میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 150 مقامات پرفلڈ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب سے شدید تباہی ہوئی، جس سے 5 افراد ہلاک ہوگئے آسٹریلیا میں 50 ہزارسے زائد شہری سیلاب زدہ علاقوں میں محصور ہو گئے، ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور سیکڑوں متاثرہ افراد کو عار ضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مواصلاتی نظام کے مطابق سیلاب کے باعث آسٹریلیا کے علاقے نیو ساؤتھ ویلز میں سیلابی ریلے مویشی بہا کرلے گئے اور 10 ہزار سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچاموسلادھار بارشوں کے عاث ہزاروں صارفین بجلی سے محروم ہو گئے، بارش اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں سرگرمیاں معطل ہوگئیں-

    کیمپسی شہر کے میئر کِن رِنگ، جو اپنے علاقے کی زرعی پیداوار کے لیے مشہور ہے، نے بتایا کہ درجنوں کاروباری مراکز مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکے ہیں،وزیراعظم انتھونی البانیزے نے آفت زدہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کو ’’انتہائی ہولناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے اور ہمیں سب کو مل کر اس سے نمٹنا ہوگا۔

    ریاستی ایمرجنسی سروس کے سربراہ ڈیلاس برنز کے مطابق 2 ہزار سے زائد کارکنوں کو ریسکیو اور بحالی کے مشن پر تعینات کیا گیا ہے فی الحال ہمارا سب سے بڑا ہدف ان کمیونٹیز کو دوبارہ رسد فراہم کرنا ہے جو مکمل طور پر کٹ چکی ہیں تقریباً 50 ہزار افراد اب بھی پھنسے ہو ئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔

    مقامی باشندوں نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جان بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے کئی لوگوں نے اپنی گاڑیوں، گھروں اور ہائی وے کے پلوں پر چڑھ کر ہیلی کاپٹرز سے بچاؤ کی درخواست کی۔

    حکام نے ہنگامی صورتِحال نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدا یت کردی،آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق طوفانوں نےصرف تین دن میں چھ ماہ سےزیادہ کی بارش برسا دی ہےجس نےکئی علاقوں میں سیلاب کےتمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، بارش کا سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ہے-

    ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ تباہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ مزید بارش کی صورت میں صورتحال اور بھی سنگین ہو سکتی ہے۔

  • ’’ 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی‘‘ تھنک ٹینک کی رپورٹ جاری

    ’’ 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی‘‘ تھنک ٹینک کی رپورٹ جاری

    اسلام آباد:’’16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کیhttps://www.pakistan-china.com/mn-news-detail.php?id=NzQ2&pageid=news تاریخی تبدیلی‘‘ کے عنوان سے معروف تھنک ٹینک کی رپورٹ جاری کردی گئی۔

    سینیٹرمشاہد حسین نے تھنک ٹینک کی رپورٹ ’’ 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی‘‘ کا اجرا کیا، جس میں مودی کے غلط انداز ے اور پاکستان کی واضح برتری کے تذکرے کے ساتھ ساتھ جنگ کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے کیوں کہ دفاعی طاقت کا توازن بحال ہو چکا ہے رپورٹ میں مئی کی فتح کو ’’پاکستان کا شاندار ترین لمحہ‘‘ قرار دیا گیا۔

    پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ جو چین اور خطے پر کام کرنے والا ممتاز تھنک ٹینک ہے اور جسے سینیٹر مشاہد حسین سید نے قائم کیا تھا، نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر ایک جامع رپورٹ کا اجرا کیا ہے جس کا عنوان ’’ 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی: مودی کا غلط اندازہ کس طرح پاکستان کی برتری کا باعث بنا‘‘ ہے۔

    10 ارب ہرجانہ کیس: وزیراعظم کی ویڈیو لنک پر پیشی،جج کو جنگ جیتنے پر مبارکباد

    رپورٹ کے اجرا کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان چائناانسٹی ٹیوٹ پاکستان کا پہلا تھنک ٹینک ہے جس نے اس نوعیت کی جامع رپورٹ تیار کی، جو اس کشیدگی کے تمام پہلوؤں اور اس کے نتائج، مودی کے غلط اندازے اور پاکستان کی کامیابی کی وجوہات کا احاطہ کرتی ہے جسے انہوں نے ’’1962 میں چین سے نہرو کی شکست کے بعد بھارت کی سب سے بڑی شکست‘‘ قرار دیا۔

    انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی جرات مندانہ حکمتِ عملی کو سراہا اور اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی متحرک قیادت کو دیا جنہوں نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار بین الافواج تعاون اور حکمتِ عملی کی واضح مثال قائم کی۔

    ڈی پورٹ ہو کر واپس آنیوالے افراد کیخلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

    انہوں نے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیت، جذبے اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال خاص طور پر الیکٹرانک وارفیئر کے استعمال اور سائبر میدان میں برتری کے حصول کو سراہا مئی 1998 کے ایٹمی تجربات کے بعد جب وہ پاکستان کے وزیر اطلاعات اور چیف ترجمان تھے اس بار بھی پاکستان کا لمحۂ فخریہ تھا کیونکہ ہر شعبے میں مکمل منصوبہ بندی، مکمل ہم آہنگی اور مکمل عملدرآمد دیکھنے کو ملی تھی جسے دفتر خارجہ کی مؤثر سفارت کاری اور میڈیا کا سنجیدہ بیانیہ حاصل تھا۔

    انہوں نے پاکستانی عوام کے بلند حوصلے اور جرات کو بھی سراہا، جنہوں نے بیرونی جارحیت کے سامنے اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا سینیٹر مشاہد حسین نے چین کے کردار کو سراہا جو صدر شی جن پنگ کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے انہوں نے صدر ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے سیز فائر میں ثالثی کی اور مسئلہ کشمیر کو دوبارہ زندہ کیا جو بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

    عالمی مارخور ڈے ، قدرت کا حسین تحفہ اور پاکستان کا قومی فخر

    جنگ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئےسینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ مئی میں پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں تین نئی اسٹریٹجک حقیقتیں سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت کاتوازن بحال کیا، جبکہ چین اب مسئلہ کشمیر کا عملی طور پر ایک فریق بن چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے ایک کلیدی قوت کے طور پر ابھرا ہے جو پاکستان کی وحدت، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک قلعے کا کردار ادا کر رہا ہے امریکا ایک اور عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جو کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ زندہ کر کے اور پاکستان و بھارت کو برابری کی سطح پر امن و سلامتی کے تحفظ میں کردار ادا کر رہا ہے۔

    پاکستان چائناانسٹی ٹیوٹ( پی سی آئی) کی رپورٹ 3 نکاتی جامع حکمت عملی تجویز کرتی ہے جو متحرک سفارت کاری پر مرکوز ہے جس میں جنوبی ایشیائی ممالک کی جانب ایک اسٹریٹجک سمت بندی، چین، ترکی، آذربائیجان، ایران اور سعودی عرب جیسے اتحادیوں سے تعلقات کو مضبوط کرنا شامل ہے.

    بھارتی وزیر خارجہ کا جنگ بندی میں امریکی کردار کااعتراف

    نیز دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے پر تخلیقی قانونی حکمت عملی (لاء فیئر) کا استعمال، بھارت کے آر ایس ایس ہندوتوا نظام کو مغرب کی بین الاقوامی عدالتوں میں لے جانا اور میڈیا، تھنک ٹینکس، پالیسی سازوں، پارلیمانی و عوامی سفارت کاری کے ذریعے بیانیے کی جنگ کو فروغ دینا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    پی سی آئی رپورٹ کے اہم نکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جنوبی ایشیا میں بلینس آف ٹیرر کا ماڈل مؤثر رہا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اس نے بھارتی جارحیت کو مؤثر طریقے سے روکا ہے اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا ہے۔

    درحقیقت، جو ایک تاریخی کامیابی ہے، پاکستان نے بھارت کے ساتھ روایتی دفاعی اور طاقت کے توازن بھی بحال کر لیا ہے، باوجود اس کے کہ دونوں ممالک کے درمیان سائز اور وسائل کے لحاظ سے نمایاں فرق موجود ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ اگرچہ جنگ کے امکانات موجود نہیں ہیں تاہم چوکنا رہنا ضروری ہے کیونکہ بھارت سے کچھ بعید نہیں ہے جیساکہ پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) کی رپورٹ کے مطابق وہ ایک 3ڈی اسٹریٹجی پر عمل پیرا ہے جس میں پاکستان کو بدنام کرنا ، پاکستان کو نقصان پہنچانا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا شامل ہے۔

    برطانیہ میں سیاسی پناہ،پاکستانیوں کا پہلا نمبر

    انہوں نےکہا کہ اس اسٹریٹجی کا مقابلہ اُس قومی یکجہتی کو مضبوط بنا کر کیا جا سکتا ہے جو آج ملک میں نظر آ رہی ہے اور اس کے لیے سیاسی تقسیم کا خاتمہ کرتے ہوئے ملک میں اتحاد و یگانت کو فروغ دینا ہوگا اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنی ہوگی، اس کشیدگی نے عوام کا حوصلہ بلند کیا ہے اور پاکستانی قوم میں قومی خود اعتمادی پیدا کی ہے، جس سے پاکستان کے مستقبل پر نئے سرے سے یقین پیدا ہوا ہےاور عوام ایک نئی یکجہتی اور فخر کے ساتھ قوم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

    25صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشتگرد ی کےحملے کے بعد سے اب تک کے واقعات کی ٹائم لائن بھی فراہم کی گئی ہے پاک ہندکشیدگی پر بین الاقوامی آراء شامل کی گئی ہے اور یہ تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح ماضی میں رہنماؤں کے غلط اندازے جیسا کہ مودی کی "سنگین غلطی”، تاریخ کا رخ بدل چکی ہیں جب کہ 1941 میں ہٹلر نے یورپ کو زیر کرنے کے بعد سوویت یونین پر حملہ کیا جو ایک مکمل غلط اندازہ تھا۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستانی میڈیا کی تعریف بھی کی کہ انہوں نے حقائق اور سچائی پر مبنی شاندار رپورٹنگ کی اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کی ساکھ کو ملک اور بیرونِ ملک تسلیم اور سراہا جاتا ہے-

    پنجاب میں "غنڈہ ایکٹ”تیار

  • 10 ارب ہرجانہ کیس: وزیراعظم کی ویڈیو لنک پر پیشی،جج کو جنگ جیتنے پر مبارکباد

    10 ارب ہرجانہ کیس: وزیراعظم کی ویڈیو لنک پر پیشی،جج کو جنگ جیتنے پر مبارکباد

    عمران خان کے خلاف وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کیے گئے 10 ارب روپے کے ہرجانے کے دعوے کی سماعت میں وزیراعظم نے جج اور دیگر کو جنگ جیتنے پر مبارکباد دی-

    سیشن عدالت لاہور میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کیے گئے 10 ارب روپے کے ہرجانے کے دعوے کی سماعت ہوئی سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں جرح کے لیے پیش ہوئے کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے کی-

    ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے جج اور تمام افراد کو ”جنگ جیتنے“ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’جج صاحب آپ سمیت کمرہ عدالت میں موجود تمام افراد کو فتح مبارک ہو، اس پر جج نے جواب دیا، ’آپ کو بھی بہت مبارک ہو، اس دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ ’یہ بہت خوشی کی بات ہے اور ساری قوم کی فتح ہے۔‘

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل میاں محمد حسین نے وزیراعظم پر جرح کا آغاز کیا، وکیل نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ اپنے دعوے میں ان اخبارات کو فریق نہیں بنایا اور نہ ہی لیگل نوٹس بھجوایا؟ وزیراعظم نے کہا، ’یہ بات درست نہیں ہے۔‘

    وکیل نے سوال کیا، ’کیا یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے خود اخبارات کو ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا؟‘ اور مزید پوچھا کہ اسی لیے آپ نے اخبارات کو فریق بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی؟ جس پر شہباز شریف نے انکار کیا، بتایا کہ ’دعویٰ ہذا 7 جولائی 2017 کو دائر ہوا،یہ درست ہے کہ 28 اپریل کو بانی پی ٹی آئی نے ایک جلسہ اسلام آباد میں کیا تھا،’29 اپریل کو نجی اخبار میں اسی تقریر سے متعلق خبر شائع ہوئی۔‘

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا اس کے علاوہ آپ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی اور دعویٰ دائر کیا ہے؟‘ جس پر شہباز شریف نے جواب دیا، ’کوئی دوسرا دعویٰ دائر نہیں کیا۔‘

    سماعت کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ان پر دس ارب روپے کا جھوٹا اور بددیانتی پر مبنی الزام لگایا تھا، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا، ’پانامہ کیس کیا تھا؟‘ جس پر شہباز شریف کے وکلاء نے اعتراض کیا، وکیل نے کہا، ’اگر دعویٰ میں نہ لکھا ہوتا تو سوال نہ کرتا۔

    دوان سماعت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’محمد حسین چوٹیا صاحب بہت پروفیشنل ہیں، یہ بات پھر کہہ رہا ہوں، بہت بڑا بددیانتی کا الزام عائد کیا گیا تھا، دس ارب کا الزام لگایا گیا، یہ سیدھا سادھا کیس ہے، پانامہ کیس اخبارات اور ٹی وی پر آیا تھا، اس لیے تحریر کیا، وکیل نے الزام لگایا کہ ’پانامہ کیس کے حوالے سے حقائق چھپا رہے ہیں، اس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے،غیر ضروری سوال نہ کیے جائیں۔

    شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے ترکی، آذربائیجان، ایران کے دورے پر جانا ہے۔‘ وکیل محمد حسین نے جواب دیا،آپ کے دعویٰ سے سوال کیے جا رہے ہیں۔‘ عدالت نے شہباز شریف سے استفسار کیا، ’میاں صاحب، آئندہ کون سی تاریخ رکھی جائے، بتا دیں؟‘

    عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی۔

  • ڈی پورٹ ہو کر واپس آنیوالے افراد کیخلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

    ڈی پورٹ ہو کر واپس آنیوالے افراد کیخلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ڈی پورٹ افراد کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت وزارتِ داخلہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی پورٹ ہو کر واپس آنے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور ان کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا ئیں گے اس کے علاوہ پانچ سال کے لیے انہیں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل کیا جائے گا۔

    بھارتی وزیر خارجہ کا جنگ بندی میں امریکی کردار کااعتراف

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےاس موقع پر کہاکہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں، اب ان سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، پاسپورٹ کے قوانین کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کے لیے سیکر ٹر ی دا خلہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو فوری طور پر اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔

    محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف پاکستان کا عالمی تشخص بہتر ہو گا بلکہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن جیسے مسائل پر بھی مؤثر قابو پایا جا سکے گا۔

    بلوچستان میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔رضوان شیخ

    اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • بھارت میں غیرملکی سرمایہ کاری 96.5 فیصد تک گرگئی

    بھارت میں غیرملکی سرمایہ کاری 96.5 فیصد تک گرگئی

    بھارت میں نریندر مودی حکومت کی جارحانہ عسکری و سفارتی پالیسیوں کے سنگین معاشی اثرات سامنے آنے لگے ہیں-

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی غیر ملکی سرمایہ کاری جو پچھلے سال 10 ارب ڈالرز کی سطح پر تھی، اب گھٹ کر محض 353 ملین ڈالرز پر آگئی ہے، یہ گراوٹ بھارت کی سرمایہ کاری کی تاریخ کی بدترین سطح قرار دی جا رہی ہے، جو ملک کی معاشی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی سیاسی کشیدگی، علاقائی محاذ آرائی اور اندرون ملک جارحانہ پالیسیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، خاص طور پر چین، نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ تنازعات اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فوجی دباؤ نے بھارت کو ایک غیر مستحکم سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا ہے۔

    امریکی پروفیسر نے بھارتی حکومت کو آئینہ دکھا دیا،پاکستان کی کامیابی کے معترف

    غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھارت میں کاروبار کرنے پر بڑھتے ہوئے تحفظات کے باعث اب ان کی ترجیح دیگر مستحکم اور پرامن ممالک بن چکے ہیں، اس رجحان نے نہ صرف بھارتی روپے کو دباؤ میں ڈال دیا ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی مسلسل گراو ٹ کا شکار ہیں۔

    سکھ تنظیم MAAR کی عالمی عدالت میں دہائی،بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

  • بھارتی وزیر خارجہ کا جنگ بندی میں امریکی کردار کااعتراف

    بھارتی وزیر خارجہ کا جنگ بندی میں امریکی کردار کااعتراف

    بھارتی وزیر خارجہ نے جنگ بندی میں امریکی کردار کااعتراف کیا ہے-

    پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت مسلسل جنگ بندی میں امریکی کردار سے انکار کرتارہا،بھارتی حکومت اور سیکریٹری خارجہ کی جانب سے بارہا جنگ بندی میں امریکی کردار کی تردید کی جاتی رہی-

    بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے انکشاف کیا کہ امریکی نائب صدر اور سیکرٹری آف سٹیٹ روبیو بھارتی حکومت سے براہِ راست رابطے میں تھے،امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ روبیو کا مجھ سے رابطہ ہوا، کشیدگی کے دوران امریکی نائب صدر وینس نے وزیراعظم مودی سے رابطہ کیا –

    دفاعی ماہرین نے کہا کہ بھارتی حکومت نے ذلت آمیز شکست کے بعد جنگ بندی میں امریکی کردار سے مسلسل انکار کیا، جے شنکر کا انٹرویو جنگ بندی میں امریکی کردار کی تصدیق کرتا ہے، ذلت آمیز شکست چھپانے کے لیے بھارت نے مختلف حربے آزمائے، لیکن آخرکارسچ سامنے آگیا، امریکی صدر کے واضح بیانات نے بھارت کو سچ بولنے پر مجبور کر دیا-

  • امریکا نے شام پر عائد پابندیاں باضابطہ طور پر اٹھا لیں

    امریکا نے شام پر عائد پابندیاں باضابطہ طور پر اٹھا لیں

    امریکا نے شام پر عائد پابندیاں باضابطہ طور پر اٹھا لیں۔

    امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ا مریکا نے شام پرعائد پابندیاں باضابطہ طور پراٹھالی ہیں، شام کو مستحکم ملک بننے کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے، امریکی اقدامات شام کو استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ شام پرعائد پابندیوں میں 180 دنوں کی چھوٹ دی گئی ہے، پابندیاں اٹھانا امریکا اورشام کے تعلقات بحالی کی جانب پہلا قدم ہے-

    سکھوں کا عالمی عدالت میں بھارت کے ننکانہ صاحب پر ڈرون حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

    یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران ریاض میں ہونے والے سرمایہ کاری فورم میں کیے گئے اعلان کے بعد عمل میں لایا گیا ہے صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کے بعد شام پر پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم شام کی نئی حکومت کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک نئی شروعات کے لیے ہم نےشام پر سے پابندیاں اٹھانےکا فیصلہ کیا ہےامید ہے کہ شامی عوام اس موقع سےفائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملک کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے سعودی عرب میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی یہ 25 سال بعد شام اور امریکا کے سربراہان مملکت کی پہلی براہ راست ملاقات تھی، جو خطے میں نئے سیاسی دور کا اشارہ دے رہی ہے۔

  • سکھوں کا عالمی عدالت میں بھارت کے ننکانہ صاحب پر ڈرون حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

    سکھوں کا عالمی عدالت میں بھارت کے ننکانہ صاحب پر ڈرون حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

    سوئٹزرلینڈ میں قائم سکھ تنظیم MAAR نے سکھوں کے مقدس مقام ننکانہ صاحب پر بھارتی ڈرون حملے کو مذہبی آزادی پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے بھارت کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں باضابطہ شکایت درج کروا دی ہے۔

    سکھ تنظیم MAAR (Movement Against Atrocities and Repression) کا کہنا ہے کہ 7 اور 8 اپریل کی رات کو بھارت نے ڈرون کے ذریعے ننکانہ صاحب پر حملہ کیا، جسے پاکستانی افواج نے بروقت اور کامیابی سے ناکام بنایا تاہم، یہ واقعہ بھارت کے اس خطرناک رجحان کی ایک اور مثال ہے جس میں وہ نہ صرف سرحدی کشیدگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ اقلیتوں کے مقدس مقامات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

    بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو یہ اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، رضوان سعید

    MAAR کی جانب سے عالمی عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کی اس مبینہ جارحیت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اسےجوابدہ بنایا جائے مذہبی عبادت گاہوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور ایسے اقدامات کسی طور بھی مہذب دنیا میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتے، بھارت اس سے قبل 1971 کی جنگ میں کرتارپور صاحب پر بھی بمباری کر چکا ہے، جو سکھوں کے جذبات اور مذہبی آزادیوں پر بار بار کیے گئے حملوں کی ایک تکلیف دہ یادگار ہے۔

    موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    MAAR نے واضح طور پر کہا کہ بھارت نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے بلکہ سکھوں کی مذہبی آزادی اور ثقافتی شناخت پر بھی حملے کر رہا ہے، سکھ برادری کسی صورت اپنے مقدس مقامات پر حملے کو برداشت نہیں کرے گی اور اس ظلم کے خلاف ہر محاذ پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

  • موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، اسلام آباد اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، گجرات، سیالکوٹ، مظفر گڑھ، تونسہ شریف، خانیوال، بہاولنگر، بہاو لپور، مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم اور حافظ آباد میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بیشتر علاقوں میں آند ھی، گرج چمک، ژالہ باری اور موسلادھار بارش کی توقع ہے، نارووال، لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، بھکر، ملتان، ڈیرہ غازی خان، لیہ اور جھنگ میں بھی بارش ہونے کی توقع ہے۔

    بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو یہ اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، رضوان سعید

    محکمہ موسمیات کے مطابق چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکز ئی، کرم، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، وزیرستان، کوہاٹ، کرک اور لکی مروت میں بارش کی توقع ہے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے ژوب، موسی ٰ خیل، بارکھان، خضدار اور لسبیلہ میں بارش ہونے کی توقع ہے، سندھ کے ساحلی علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

    غزہ: اسرائیلی حملوں سے مزید 76 فلسطینی شہید، 185 سے زائد زخمی

  • غزہ: اسرائیلی حملوں سے مزید 76 فلسطینی شہید، 185 سے زائد زخمی

    غزہ: اسرائیلی حملوں سے مزید 76 فلسطینی شہید، 185 سے زائد زخمی

    غزہ پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جمعے کی صبح سے اب تک کم از کم 76 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں میں شدت آگئی ہےجمعہ کو اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں جبالیہ میں ایک عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی جہاں ایک خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں تقریباً 50 افراد شہید یا لاپتہ ہو گئے،اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 76 فلسطینی شہید اور 185 سے زائد زخمی ہیں-

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملے میں غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس کے المحل محلے میں بھی ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 فلسطینی شہید اور 20 سے زائد زخمی بھی ہوئے۔

    دوسری جانب 2روز میں فاقہ کشی سے بچوں سمیت 29 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق مختصر امدادی سامان مارکیٹ، اسپتالوں اور کھانے تقسیم کرنےوالے باورچی خانوں تک نہیں پہنچ سکی۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی صورتحال کو "اس سفاک جنگ کا سب سے ظالمانہ مرحلہ” قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ کو معمولی مقدار میں امداد فراہم کر رہا ہے، جبکہ شمالی غزہ مکمل طور پر محاصرے میں ہے جہاں کوئی امداد نہیں پہنچی ، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فراہم کی جانے والی امداد کی اجازت آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک کم از کم 53,822 فلسطینی شہید اور 122,382 زخمی ہو چکے ہیں تاہم، غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ اصل شہادتیں 61,700 سے تجاوز کر چکی ہیں کیونکہ ہزار و ں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں 1,139 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر شدید حملے شروع کر دیء جنہیں عالمی برادری نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    جنگ کے جاری رہنے کے باوجود بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی اور فوری انسانی امداد کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں، تاہم زمینی صورتحال بدستور سنگین ہے، غزہ کے محصور شہری شدید بمباری، بھوک اور بیماری کے ساتھ زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ عالمی رہنما امن اور انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔