Baaghi TV

Author: کامران اشرف

  • سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویم کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کا یومِ تاسیس بھی ایسا ہی دن ہے جو تقریباً تین صدیوں پر محیط ریاستی تسلسل، قیادت، جدوجہد اور عوامی خدمت کی علامت ہے۔ 22 فروری 1727ء کو درعیہ میں امام محمد بن سعودؒ نے پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی اور یوں ایک ایسے سیاسی و سماجی سفر کا آغاز ہوا جس کے آج 299 سال مکمل ہو چکے ہیں۔

    امام محمد بن سعودؒ کی سیاسی بصیرت اس تاریخی عمل کا مرکزی نقطہ تھی۔ انہوں نے ایک منتشر قبائلی معاشرے کو منظم ریاستی ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ ان کی قیادت محض اقتدار کے حصول تک محدود نہ تھی بلکہ نظم و نسق، استحکام اور اجتماعی مفاد کے قیام پر مبنی تھی۔ درعیہ کو مرکز بنا کر انہوں نے ریاستی اداروں کی بنیاد رکھی اور علاقائی وحدت کو مضبوط کیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے سعودی ریاست کو وقتی اتحاد کے بجائے مستقل سیاسی وجود عطا کیا۔

    اسی دور میں امام محمد بن عبدالوهابؒ کی فکری اور اصلاحی تحریک نے معاشرتی اور دینی سطح پر نئی بیداری پیدا کی۔ اصلاحِ عقیدہ اور سماجی تطہیر کی اس تحریک نے ریاست کو فکری اساس فراہم کی۔ امام محمد بن سعودؒ اور امام محمد بن عبدالوهابؒ کے درمیان اشتراک نے سیاسی قیادت اور فکری رہنمائی کو یکجا کیا، جس کے نتیجے میں پہلی سعودی ریاست کو نظریاتی اور اخلاقی استحکام حاصل ہوا۔ یہی امتزاج سعودی تاریخ کی ایک منفرد خصوصیت بن گیا۔

    سعودی تاریخ تین ادوار سے گزری: پہلی سعودی ریاست (1727–1818ء)، دوسری سعودی ریاست (1824–1891ء) اور تیسری سعودی ریاست، جس نے بالآخر 1932ء میں مملکتِ سعودی عرب کی شکل اختیار کی۔ ان ادوار میں آزمائشیں، جنگیں اور جلاوطنی کے مراحل آئے، مگر آلِ سعود کی قیادت نے ریاستی تصور کو برقرار رکھا۔ یہی استقامت بعد ازاں جدید سعودی عرب کی تشکیل کا سبب بنی۔

    جدید مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعودؒ نے مختلف علاقوں کو متحد کر کے 23 ستمبر 1932ء کو مملکت کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اسی وژن کو آگے بڑھایا۔ شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبداللہ اور موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ادوار میں ریاستی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔

    تیل کی دریافت نے سعودی معیشت کو نئی سمت دی، مگر قیادت نے اس دولت کو محض معاشی استحکام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قومی ترقی، جدید ادارہ سازی اور عالمی کردار کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ آج وژن 2030 کے تحت سعودی عرب معیشت کی تنوع، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سماجی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہے، جو قیادت کی دور اندیشی کا مظہر ہے۔

    سعودی ریاست کی شناخت کا ایک اہم ستون حرمین شریفین کی خدمت ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توسیع، جدید سہولیات اور لاکھوں حجاج و معتمرین کی خدمت آلِ سعود کی اولین ترجیح رہی ہے۔ یہ خدمت نہ صرف مذہبی ذمہ داری بلکہ ریاستی وقار اور عالمی اسلامی قیادت کی علامت بھی ہے۔

    یومِ تاسیس دراصل اسی تاریخی تسلسل کا جشن ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سعودی عرب محض جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ قیادت، نظریہ اور عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔ امام محمد بن سعودؒ سے لے کر آج تک آلِ سعود کی حکومت نے جدوجہد، حکمت اور عوامی خدمت کے ذریعے اس ریاست کو جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    299 سالہ یہ سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مضبوط قیادت اور قومی یکجہتی قوموں کو تاریخ کے نشیب و فراز سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یومِ تاسیس سعودی عرب کے شاندار ماضی کو خراجِ تحسین اور روشن مستقبل کے عزم کا اظہار ہے۔

  • ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    21 فروری محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، یہ شناخت، شعور اور ثقافتی بقا کا دن ہے۔ ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف بولنے کا وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی حافظے کی محافظ ہوتی ہے۔ جس قوم کی زبان کمزور پڑ جائے، اس کی تہذیبی بنیادیں بھی لرزنے لگتی ہیں۔

    پنجاب کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب، صوفیانہ فکر اور ثقافتی رنگا رنگی کی امین رہی ہے۔ پنجابی زبان نے محبت، مزاحمت، حکمت اور روحانیت کے ایسے نقوش چھوڑے جو برصغیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہیں۔ مگر افسوس کہ اپنے ہی گھر میں یہ زبان اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے۔ بچے اسکول میں اپنی مادری زبان بولنے سے جھجکتے ہیں، اور والدین اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف لسانی بلکہ فکری بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ایسے ماحول میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پنجابی زبان، ثقافت اور تہذیب کے فروغ کے حوالے سے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب اس مسئلے کو محض ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ پالیسی کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پنجابی کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف زبان کی بقا بلکہ نئی نسل کی شناخت کے تحفظ کی ضمانت ہوگا۔

    یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو پڑھایا جائے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ مؤقف دراصل آئینی تقاضوں اور ثقافتی ذمہ داری کا عکاس ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس فیصلے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کب ہوگا؟

    گزشتہ برس 21 فروری 2025 کو مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی رخسانہ کوثر نے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجابی زبان کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، پنجابی کتب کی اشاعت کو فروغ دیا جائے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں پنجابی کو مناسب مقام دیا جائے۔ یہ قرارداد محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ برسوں سے جاری مطالبے کی آئینی صورت تھی۔ اگر اس قرارداد پر عملی اقدامات کیے جائیں تو پنجاب کی لسانی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مجھے آج بھی 21 فروری 2014 کی وہ دوپہر یاد ہے جب لاہور کی شملہ پہاڑی پر پنجابی تنظیموں کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کا موقع ملا۔ مختلف جماعتوں، ادبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے ایک ہی مطالبہ دہرا رہے تھے: پنجابی کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ وہ کوئی سیاسی اجتماع نہیں تھا بلکہ شناخت کی جنگ تھی۔ اس تحریک سے وابستہ تمام تنظیمیں اور افراد قابلِ قدر ہیں کہ انہوں نے مسلسل اور پُرامن انداز میں یہ مطالبہ زندہ رکھا۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پنجابی کو کیوں پڑھایا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے کیوں نہ پڑھایا جائے؟ دنیا کی مہذب اقوام اپنی مادری زبان میں تعلیم کو بنیادی حق سمجھتی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اس امر پر متفق ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو بچے کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ پنجابی کو نصاب کا حصہ بنانا کسی دوسری زبان کے خلاف اقدام نہیں بلکہ لسانی توازن کی بحالی ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان کا فروغ صرف حکومتی نوٹیفکیشن سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے معاشرتی قبولیت، ادبی سرگرمی، نصابی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور میڈیا کا مثبت کردار ضروری ہے۔ اگر پنجابی میں معیاری نصاب، جدید ادب، بچوں کی کہانیاں اور سائنسی مواد تیار کیا جائے تو یہ زبان نئی نسل کے لیے کشش بھی پیدا کرے گی اور افادیت بھی۔

    آج جب ماں بولی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے محض ثقافتی تقریب تک محدود نہ رکھا جائے۔ یہ دن ہمیں اجتماعی احتساب کا موقع دیتا ہے۔ کیا ہم اپنی زبان کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی آئندہ نسل کو اس کی اصل شناخت سے جوڑ رہے ہیں؟

    امید کی کرن موجود ہے۔ حکومتی سطح پر اقدامات، عدالتی فیصلے، اسمبلی کی قراردادیں اور سماجی تحریکیں اس بات کی علامت ہیں کہ شعور بیدار ہو رہا ہے۔ اگر نیت اور پالیسی میں تسلسل رہا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پنجابی باوقار انداز میں پڑھائی جائے گی، بچے اسے فخر سے بولیں گے اور ماں بولی کو احساسِ کمتری نہیں بلکہ شناخت کی علامت سمجھا جائے گا۔

    ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبانیں مرنے نہیں دی جاتیں، انہیں زندہ رکھا جاتا ہے — شعور سے، محبت سے اور عملی اقدامات سے۔ پنجاب کی دھرتی آج بھی بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے سننے اور سکھانے کا حوصلہ پیدا کریں۔

  • بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات نے ملکی سیاست میں ایک نئی کروٹ پیدا کی ہے۔ عوامی رائے کے نتیجے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نمایاں اکثریت کے ساتھ سامنے آئی اور اس کے قائد طارق الرحمان ایک بار پھر قومی قیادت کے مرکز بن گئے۔ یہ انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی دور کا آغاز قرار دیے جا رہے ہیں جس میں عوام نے واضح طور پر اپنی ترجیحات کا اظہار کیا۔

    یہ انتخابی مرحلہ ایک ایسے وقت میں آیا جب بنگلہ دیش داخلی سیاسی کشیدگی، معاشی چیلنجز اور آئینی اصلاحات کی بحث سے گزر رہا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور مہم چلائی، جلسے جلوس منعقد ہوئے اور نوجوان ووٹرز نے خاص طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عوام کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر کے یہ ثابت کیا کہ جمہوری عمل پر ان کا اعتماد برقرار ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنی انتخابی مہم میں معاشی بحالی، مہنگائی پر قابو، شفاف طرز حکمرانی اور متوازن خارجہ پالیسی کو مرکزی نکات کے طور پر پیش کیا، جسے عوامی سطح پر پذیرائی ملی۔

    انتخابی نتائج کے بعد سیاسی منظرنامہ واضح ہوا کہ عوام ایک مضبوط اور فعال حکومت چاہتے ہیں جو داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی ملک کی مؤثر نمائندگی کرے۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی انتخابی عمل میں نمایاں کردار ادا کیا، جس سے سیاسی مسابقت اور جمہوری تنوع کی جھلک نظر آئی۔ان نتائج پر پاکستان کی قیادت کی جانب سے فوری اور مثبت ردعمل سامنے آیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور طارق الرحمان کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ یہ سفارتی پیغام اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت چاہتا ہے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، تاہم موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے لیے معاشی تعاون، تجارتی روابط، تعلیمی تبادلے اور علاقائی ہم آہنگی کے نئے مواقع موجود ہیں۔ اگر نئی قیادت داخلی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرتی ہے تو جنوبی ایشیا میں تعاون کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔یہ انتخابات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام جمہوری عمل کے ذریعے اپنی سمت متعین کرنا جانتے ہیں۔ پاکستان کی بروقت مبارکباد اور خیرسگالی کا پیغام مستقبل میں بہتر ورکنگ تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اب یہ دونوں ممالک کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو باہمی اعتماد، عملی تعاون اور خطے کے استحکام کے لیے کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔

  • علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سینیٹر اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کو پنجاب حکومت میں مشیر برائے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور خصوصی منصوبہ جات مقرر کیے جانے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس تعیناتی کو جہاں بعض حلقے ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کے فروغ کی جانب قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر اقربا پروری کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    علی ڈار کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار کے بیٹے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ یہی رشتے داری اس تقرری پر سب سے زیادہ تنقید کی وجہ بنی، اور ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ تعیناتی میرٹ کی بنیاد پر ہوئی یا خاندانی قربت نے کردار ادا کیا۔تاہم اگر تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو علی ڈار کی تعلیمی قابلیت قابلِ توجہ سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جبکہ برطانیہ کے اداروں سے بھی وابستگی رہی ہے۔ وہ نجی شعبے میں کاروباری تجربہ رکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل انوویشن سے متعلق منصوبوں میں کام کر چکے ہیں۔

    پنجاب حکومت کے مطابق علی ڈار کو دیا گیا پورٹ فولیو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جس میں ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد کو آگے لانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس تقرری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں بار بار ایک ہی خاندان کے افراد کو اہم عہدے دینا عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اہلیت اپنی جگہ، لیکن شفافیت کے لیے ایسے عہدوں پر تعیناتی کے معیار کو واضح کیا جانا چاہیے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان اب علی ڈار کی کارکردگی ہو گی۔ اگر وہ اپنے پورٹ فولیو کے تحت ٹھوس نتائج دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو تنقید خود بخود دم توڑ سکتی ہے، بصورتِ دیگر اقربا پروری کا بیانیہ مزید مضبوط ہونے کا خدشہ ہے۔علی ڈار کی مشیر کے طور پر تعیناتی ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں اہلیت اور رشتے داری دونوں پہلو موجود ہیں۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ تقرری پنجاب میں واقعی ٹیکنالوجی اور اصلاحات کا ذریعہ بنتی ہے یا محض سیاسی تنازع کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے

  • اونٹوں کے پاسپورٹ، سعودی قومی شناخت، جدید دور اور تہذیب و ثقافت کا امتزاج

    اونٹوں کے پاسپورٹ، سعودی قومی شناخت، جدید دور اور تہذیب و ثقافت کا امتزاج

    سعودی عرب نے اپنے ثقافتی ورثے کو جدید ریاستی نظام سے جوڑنے کی سمت ایک ایسا منفرد قدم اٹھایا ہے جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ملک بھر میں موجود لاکھوں اونٹوں کے لیے باقاعدہ پاسپورٹ کے اجرا کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ فیصلہ سعودی قومی شناخت، ثقافتی شعور اور جدید دور کے تقاضوں کے درمیان ایک مضبوط ربط کی عکاسی کرتا ہے۔

    اونٹ صدیوں سے جزیرۂ عرب کی تہذیب، معیشت اور صحرائی زندگی کا مرکزی کردار رہے ہیں۔ یہ جانور صرف سواری یا ذریعۂ معاش نہیں بلکہ بدوی ثقافت، صبر، وقار اور بقا کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں اونٹوں کی حیثیت محض مویشیوں تک محدود نہیں بلکہ انہیں ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے۔ ایسے میں ان کے لیے پاسپورٹ کا اجرا دراصل اسی ورثے کو جدید ریاستی ڈھانچے میں باقاعدہ شناخت دینے کے مترادف ہے۔

    سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے مطابق اونٹوں کے پاسپورٹس کے ذریعے جانوروں کی شناخت، نسل، ملکیت اور نقل و حرکت سے متعلق ایک جامع ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف مویشی پال حضرات کے لیے سہولت کا باعث بنے گا بلکہ قومی سطح پر ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس بھی فراہم کرے گا، جو بیماریوں کی روک تھام، تجارت کے فروغ اور نسلوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا سبز رنگ کا اونٹ پاسپورٹ، جس پر سعودی قومی نشان اور سنہری اونٹ کی تصویر موجود ہے، اس منصوبے کی علامتی حیثیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ پاسپورٹ ظاہری طور پر انسانی پاسپورٹ سے مشابہ ہے، گویا ریاست اس جانور کو بھی قومی سرمائے اور شناخت کے دائرے میں شامل کر رہی ہے۔ یہ پیغام واضح ہے کہ سعودی عرب میں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں سعودی عرب میں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ تھی، جو سالانہ دو ارب سعودی ریال سے زائد کی معیشت کا حصہ ہیں۔ دودھ، گوشت، افزائشِ نسل، ریسنگ اور ثقافتی میلوں میں اونٹوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ایسے میں ان کی منظم رجسٹریشن نہ صرف معاشی استحکام کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی معیار کے مطابق سعودی مویشی نظام کو بھی ہم آہنگ بنائے گی۔

    دنیا کے کئی ممالک میں جانوروں کے لیے شناختی چپس اور رجسٹریشن سسٹمز موجود ہیں، مگر سعودی عرب کا اونٹوں کے لیے پاسپورٹ جاری کرنا ایک منفرد مثال ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی علامت ہے کہ سعودی ریاست جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی رہنا چاہتی ہے۔

    یوں اونٹوں کے پاسپورٹ کا اجرا صرف جانوروں کی شناخت کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے:
    کہ سعودی عرب میں قومی شناخت صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام عناصر بھی اس شناخت کا حصہ ہیں جو اس سرزمین کی تاریخ، ثقافت اور روح سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اقدام جدید دور کی ریاست اور صدیوں پرانی تہذیب کے درمیان ایک خوبصورت اور بامعنی مکالمہ ہے۔

  • ریاض،سفیر پاکستان اور بزنس فورم کے وفد کی ملاقات

    ریاض،سفیر پاکستان اور بزنس فورم کے وفد کی ملاقات

    ریاض (باغی ٹی وی) پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنلز فورم کے چیئرمین خالد اکرم رانا اور صدر میاں ساجد کی قیادت میں پاکستانی بزنس مین اور پروفیشنلز کا ایک وفد، جس میں چوہدری خادم حسین بجاڑ، راشد منہاس، چوہدری عثمان گجر، زاہد پرویز بٹ، ارشد محمود بھٹی اور سردار شعیب صدیق شامل تھے، سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق سے ملاقات کے لیے گئے۔

    اس ملاقات میں وفد نے پاکستانی سفیراحمد فاروق اور ان کی ٹیم کی جانب سے سعودی عرب میں پاکستانی کاروباری کمیونٹی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا اور ان کے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا۔ وفد نے خاص طور پر پاکستانی ایمبیسی کی ڈیجیٹل اپروچ کو بھی بہت سراہا، جس میں سعودی عرب میں موجود کامیاب پاکستانی بزنس مین کے بزنس پروفائلز کو پروموٹ کرنے کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

    وفد نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی کمپنیز کو سعودی عرب میں کاروبار شروع کرنے کے لیے "Co-working space” فراہم کرنے کے اقدام کو بہت اہم قرار دیا۔ اس اقدام پر سفیر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ اس سے سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیز کو نئے مواقع ملیں گے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

    ملاقات کے دوران، وفد نے پاکستانی کاروباری افراد کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی سفیر پاکستان سے مزید رہنمائی کی درخواست کی۔ سفیر احمد فاروق نے تمام معاملات کو بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ممکنہ حد تک سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    اس ملاقات کا مقصد سعودی عرب میں پاکستانی کاروباری برادری کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا اور دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو فروغ دیناتھا

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • ریاض فیشن کوچر 2024: سجل علی کی خصوصی شرکت

    ریاض فیشن کوچر 2024: سجل علی کی خصوصی شرکت

    ریاض: معروف پاکستانی اداکارہ سجل علی نے ہفتے کو منعقد ہونے والے ریاض فیشن کوچر 2024 میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرکے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ سجل علی، جو حال ہی میں اپنے ڈرامہ سیریل زرد پتوں کا بَن میں شاندار اداکاری کے لیے توجہ کا مرکز بنی ہیں، اس ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر بے حد خوش نظر آئیں۔

    تقریب کے دوران سجل علی نے پاکستانی فیشن انڈسٹری کی تخلیقی صلاحیتوں اور اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:“یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ریاض فیشن کوچر 2024 جیسے شاندار ایونٹ کا حصہ بنی۔ یہاں آکر پاکستانی ڈیزائنرز کی تخلیقی مہارت اور ان کی محنت کو دنیا کے سامنے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستانی فیشن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔”

    سجل علی نے مزید کہا کہ پاکستانی فیشن میں روایتی اور جدید طرز کا جو امتزاج موجود ہے، وہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ دنیا بھر کے فیشن شوقین افراد کے لیے بھی بے حد متاثر کن ہے۔ انہوں نے ایونٹ کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز پاکستانی ڈیزائنرز اور فنکاروں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    سجل علی کی شرکت نے ریاض فیشن کوچر 2024 کو ایک یادگار اور پُررونق تقریب میں تبدیل کر دیا، جہاں ان کے مداحوں اور شرکاء نے ان کی موجودگی کو خوب سراہا۔ ان کی شرکت نے پاکستانی فیشن انڈسٹری کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اور اس ایونٹ کو تاریخ کا حصہ بنا دیا

    sajal

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ریاض فیشن کوچر 2024 کا کامیاب انعقاد ہوا، جس نے پاکستانی فیشن انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔ یہ منفرد ایونٹ سعودی عرب میں پاکستانی فیشن کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ایونٹ میں پاکستانی ڈیزائنرز کی تخلیقی صلاحیتوں اور دستکاری کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا، جس میں دیپک پروانی، ایچ ایس وائی، آغا نور، صدف عامر، ملیحہ سٹوڈیو، انعم اخلاق، اور کومل لاکھانی جیسے مشہور نام شامل تھے۔ پاکستانی ملبوسات کے ساتھ دلکش جیولری اور دیگر فیشن آئٹمز نے شرکاء کو اپنی جانب متوجہ کیا۔اس فیشن شو میں نہ صرف پاکستان بلکہ سعودی عرب، بھارت، امریکہ اور دبئی کے ڈیزائنرز نے بھی شرکت کی، جس نے ایونٹ کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت دی۔ تقریب میں پاکستانی اداکارہ سجل علی، جو حال ہی میں ڈرامہ سیریل زرد پتوں کا بَن میں اپنے کردار کے لیے سراہی گئی ہیں، بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں اور اپنی موجودگی سے ایونٹ کی رونق کو دوبالا کر دیا۔تقریب کے شریک بانی عدنان بشیر خان نے اس ایونٹ کو سعودی عوام کو پاکستانی فیشن کے شوخ رنگوں اور تخلیقی جدت سے روشناس کرانے کا بہترین موقع قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نمائش پاکستانی فیشن انڈسٹری کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

    شریک بانی شرمین احسان نے کہا کہ ریاض فیشن کوچر 2024 نے پاکستانی فیشن، ٹیکسٹائل، زیورات، اور دیگر شعبوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس کامیاب ایونٹ کے ذریعے سعودی عرب میں پاکستانی ڈیزائنرز کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور پاکستانی فیشن کی عالمی سطح پر مقبولیت بڑھانے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ریاض فیشن کوچر کا یہ ایڈیشن پاکستانی فیشن انڈسٹری کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوا، جس نے سعودی عرب میں روایتی اور جدید پاکستانی طرزِ لباس کو بھرپور پذیرائی دلائی

  • منسک،  پروڈ ایکسپو 2024” میں “فلیورز آف پاکستان” کی شاندار نمائش

    منسک، پروڈ ایکسپو 2024” میں “فلیورز آف پاکستان” کی شاندار نمائش

    منسک (کامران اشرف ) پاکستانی سفارتخانہ منسک میں 30ویں بین الاقوامی نمائش “پروڈ ایکسپو 2024” میں “فلیورز آف پاکستان” کی شاندار نمائش کی، نمائش بیلاروسین شہریوں سمیت مہمانوان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی روایتی کھانوں نے نمائش میں اپنی دھوم مچا دی

    اس موقع پر پاکستانی سفیر بیلاروس، سجاد حیدر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثقافتی وراثت میں ہمارے کھانے ایک اہم مقام رکھتے ہیں، جو ہماری تاریخ، جغرافیہ اور روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ تقریب پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے، اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو یہاں کے عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

    پروگرام میں پاکستان پر دستاویزی فلمیں دکھائی گئیں، گلاب جامن سمیت پاکستانی کھانے بنانے کی تربیتی کلاس کا بھی اہتمام کیا گیا، اور پاکستانی کھانوں کی ثقافتی وراثت گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر بیلاروسی گلوکارہ تاتیانہ کریمس اور اور پرفارمر علینہ خان نے اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضع چکن بریانی، سموسے، گاجر کا حلوہ، گلاب جامن، اور جلیبی سمیت پاکستانی کھانوں سے کی گئی

  • اردو زبان کا عالمی دن، ریاض میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد

    اردو زبان کا عالمی دن، ریاض میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد

    ریاض (کامران اشرف) اردو زبان کا عالمی دن الف انٹرنیشنل اسکول ریاض میں شاندار اور یادگار طریقے سے منایا گیا۔ اس خصوصی تقریب میں طلباء نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور اردو زبان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

    تقریب میں طلباء نے رنگا رنگ پرفارمنس پیش کیں جنہوں نے شائقین کو محظوظ کیا۔ ہر ایک طالب علم کی پیش کش نے حاضرین کو مسحور کر دیا، اور تقریب میں موجود طلباء اور اساتذہ نے ان کی صلاحیتوں کی بھرپور داد دی۔ طلباء نے مختلف خاکے، تقاریر، اور نغمات پیش کیے جنہوں نے اردو زبان کی اہمیت اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا۔

    تقریب کے اختتام پر اسکول کی انتظامیہ اور اساتذہ نے طلباء کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کی اور اردو زبان کی ترویج کے لئے اس قسم کی تقریبات کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا.

  • پاکستانی حج رضاکاربہترین خدمات سرانجام دے رہے، قونصل جنرل خالد مجید

    پاکستانی حج رضاکاربہترین خدمات سرانجام دے رہے، قونصل جنرل خالد مجید

    جدہ (نمائندہ خصوصی)قونصل جنرل پاکستان خالد مجید نے کہا کہ پاکستان حج رضاکار اللہ کے مہمانوں کی بہترین خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ دنیا بھرسے آئے ہوئے حجاج کرام کی خدمت کرکے پاکستان کا نام بھی روشن کررہے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں پاکستان حج رضاکارگروپ سعودی عرب کے زیر اہتمام سال 2023حج آپریشن میں حصہ لینے والے رضاکاروں کی حوصلہ افزائی اوران کی پذیزائی کے لئے منعقدہ تقریب تقسیم اسناد میں بطورمہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔

    تقریب میں قونصل جنرل خالد مجید کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو، ڈائریکٹرحج فہیم آفریدی اور ڈائریکٹر حج مدینہ ضیاء الرحمن نے بھی شرکت کی اور تقریب سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس سال 2023 میں حجاج کرام کے لیے پی ایچ وی جی کے رضاکاروں کی خدمات کو خوب سراہا اور آئندہ کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا۔

    تقریب میں تقریبا اڑھائی سو رضاکاروں نے شرکت کی۔ ابتداء میں رضاکاروں کے درمیان مختلف کھیل مثلا کرکٹ ، فٹبال ، تیراکی اور دوڑ کے مقابلے ہوئے جن میں رضاکاروں نے بھرپور حصہ لیا اور بہت محظوظ ہوئے۔ قبل ازیں تقریب کاآغاز تلاوت قران پاک سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت رضاکار عبدالرحمن نے حاصل کی۔ نظامت کے فرائض کامران نے ادا کئے۔ انھوں نے اسکرین پر پاکستان حج رضا کار گروپ کی خدمات کی تفصیلات بھی پیش کی۔ اس کے بعد قونصل جنرل اورڈائریکٹر جنرل حج نیسال 2023حج آپریشن میں حصہ لینے والے رضاکاروں کی اور میڈیا کے نمائندوں کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئیاسناد تقسیم کی گئیں۔ آخرمیں مہمانوں کی تواضع عشائیہ سے کی گئی۔