Baaghi TV

Author: کامران اشرف

  • الریاض کے نجی ہوٹل میں ” پاکستان انٹرنیشنل سکول ایجوکیشنل کانفرنس ” کا اہتمام

    الریاض کے نجی ہوٹل میں ” پاکستان انٹرنیشنل سکول ایجوکیشنل کانفرنس ” کا اہتمام

    الریاض (نامہ نگار) پاکستان انٹرنیشنل سکول الریاض کی جانب سے الریاض کے نجی ہوٹل میں ” پاکستان انٹرنیشنل سکول ایجوکیشنل کانفرنس ” کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ کو رہنمائی فراہم کی گئی ۔

    الریاض میں پاکستانی سفارت خانے کے لنک آفیسر محمد معصوم کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں پاکستانی طلباء کے لئے رہنمائی ڈیسک قائم کئے گئے ہیں تاکہ طلباء و طالبات کو دیگر ممالک اور سعودی عرب میں تعلیمی رہنمائی مل سکے اور پاکستان انٹرنیشنل سکول کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے۔

    طلبہ و طالبات کو تعلیمی کیر ئیر کے حوالے سے معلومات اور رہنمائی فراہم کی گئی۔ کانفرنس کے شرکاء نے تعلیم کے حوالے سے کی جانے والی اس کاوش کو سراہا۔کانفرنس طلباء و طالبات سمیت پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ طلبہ اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوانوں کو بہتر مستقبل کی رہنمائی ملی۔اس تعلیمی نمائش میں غیر ملکی اور پاکستانی سرکاری و نجی تعلیمی اداروں نے اپنے اسٹالز لگائے۔پاکستان انٹرنیشنل سکول ایجوکیشنل کانفرنس نوجوان طلبہ کو مستقبل کی نئی راہیں فراہم کر نے کے لئے معاون رہا، طلباء طالبات نے ایسی سرگرمیوں کو اپنے تعلیمی کیر ئیر کے لئے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

  • پاکستانی ثقافت کے رنگ ریاض سیزن میں گلوکار اور فنکارپرفام کرینگے

    پاکستانی ثقافت کے رنگ ریاض سیزن میں گلوکار اور فنکارپرفام کرینگے

    پاکستانی ثقافت کے رنگ ریاض سیزن میں گلوکار اور فنکارپرفام کرینگے
    سعودی عرب کے دارالحکومت میں ریاض سیزن کی رنگارنگ تقریبات جاری ہیں جس میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ثقافتی ویک منانے کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔ پاکستانی گلوکار اور فنکار 26 نومبر سے پرفارم کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کی مشیر نوشین وسیم نے پاکستانی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سویدی پارک میں ریاض سیزن پاکستانی ثقافت کے ہفتے کا آغاز 26 نومبر سے ہوگا ۔ جس میں پاکستانی علاقائی رنگ نمایاں ہونگے۔ پاکستانی ثقافتی ویک میں پاکستان نامور گلوکار اور فنکار پرفارم کرینگے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ریاض میں بسے پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے افرادکے لئے تفریح سے بھرپور پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا

  • 2034 فیفا ورلڈ کپ،  وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    2034 فیفا ورلڈ کپ، وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے ذریعے عالمی معیار کے ٹورنامنٹ کا انعقاد کرانے کا خواہاں ہے۔ اس حوالے سے ساف کے صدر یاسرالمسیحل نے باقاعدہ طور پر فیفا ورلڈ کپ کے لئے خط لکھ دیا تھا۔ورلڈ کپ کی بولی میں حصہ لینے جہاں سعودی عرب کی حکومت اور عوام پرجوش ہیں وہی ایشین فٹ بال کنفیڈیشن کی جانب سے بھی سعودی عرب کی مکمل حمایت کی ہے۔ اس حوالے سے صدر ایشین فٹ بال کنفیڈریشن شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کا کہنا تھا کہ "مجھے خوشی ہے کہ سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن نے 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اظہار کیا ہے۔ تمام ایشین فٹ بال ایک ساتھ متحد ہیں اور سعودی عرب کے اس تاریخی قدم کی حمایت کرتی ہیں

    سعودی عرب اس سے قبل بھی عالمی بھی فٹ بال کے عالمی مقابلوں کا اہتمام کرچکا ہے۔ 2023 فیفا کلب ورلڈ کپ کی میزبانی کرچکا ہے اور 2027 اے ایف سی ایشین کپ بھی سعودی عرب میں ہورہا ہے۔ 2018 سے اب تک سعودی عرب 50 سے زائد عالمی کھیلوں کے انعقاد کروا چکا ہے۔ جن میں فٹ بال، موٹر سپورٹس، ٹینس، ای سپورٹس اور گالف شامل ہیں۔

    سعودی عرب کھیلوں کے فروغ اور عالمی مقابلوں کے لئے عالمی معیار کے گراونڈ بنارہا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی منفرد حیثیت رکھنے والا ملک ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی ناصرف کھیل کے لئے بہترین ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی طور پر سعودی عرب میں آنے کا موقع ہوگا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کا ارادہ مملکت کی جانب سے کھیل کے شعبوں میں ترقی کا عکاس ہے۔

    سعودی عرب کی قومی ٹیم نے 1994 میں پہلا فیفا ورلڈ کپ کھیلا۔ ٹیم اب تک چھ ورلڈ کپ کھیل چکی ہے۔ سعودی وزیرکھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ” 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے ہمیں دنیا میں عالمی کھیلوں کا صف اول کا ملک بننے کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی۔”

    نیو کاسل یونائیٹڈ فٹ بال کلب کے کوچ مینجر ایڈی ہاوے نے کہا ہے کہ سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ 2034 منعقد ہونے سے یہ ایونٹ اچھی طرح منظم ہونے کی توقع ہے۔،سعودی وژن 2023 میں کھیلوں کو کلیدی اہمیت دی گئی ہے۔ جن کے ذریعے نوجوانوں میں کھیل کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو مزید بہتر بنایا جائے۔سعودی عرب ورلڈ کپ میزبانی کرنے والا تیسرا ایشیائی ملک بن جائے گا۔اس سے قبل جنوبی کوریا اور جاچان 2002 جبکہ 2022 میں قطر نے میزبانی کی تھی۔

    حکومت سعودی عرب کا منصوبہ سعودی وژن 2023 کا مقصد سعودی عرب کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے صرف تیل پر انحصار ختم کیا جائے اور سعودی عرب کو معاشی اور ثقافتی طور پر جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ 25 اپریل 2016 کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے سعودی وژن 2023 کا اعلان کیا اور اس کے تحت 80 منصوبوں پر کام شروع کیا اور سعودی شناخت کی تبدیلی کا زینہ بن گیا۔ سعودی وژن 2023 کو جدید دنیا اور کاروباری حلقوں میں پذیرائی مل رہی ہے ۔ 2034 سے قبل سعودی وژن 2030 کی تکمیل کے بعد جدید اور منفرد سعودی عرب ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ورلڈ ایکسپو 2030 کے لئے بھی سعودی عرب نے حصہ لیا ہے۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب کھیل ثقافت اور سیاحت میں ترقی کرکے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی اداروں اور عالمی تجارت میں تیل کے علاوہ بھی سعودی عرب اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن اور سعودی قوم کے لئے روڈ میپ پہ جس طرح کام کررہے ہیں جلد صرف سعودی عرب نہیں بلکہ عالم عرب میں ترقی کی نئے راستے کھلے گے ۔

  • کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    سکارٹ لینڈ کے پہلے مسلم سربراہ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف نے حلف اٹھا لیا اور اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردئیے ہیں۔ سکارٹ نینشل پارٹی سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ حمزہ یوسف کو اپنی جماعت کے علاوہ سکاٹش گرینز پارٹی کے ارکان کی بھی حمایت حاصل ہوئی۔ وہ برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان ہیں۔ اس سے قبل سعیدہ وارثی بھی کنزویٹو پارٹی کی 2010 سے 2012 تک شریک چئیرمین رہ چکی ہیں۔

    حمزہ یوسف کے والد مظفر یوسف کا تعلق پنجاب کے علاقے میاں چنوں (خانیوال) سے ہے انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسکاٹ لینڈ منتقل ہوگئے جہاں بطور اکاونٹنٹ کام کیا۔ حمزہ یوسف کی والدہ کینیا میں رہائش پذیر ایشائی خاتون شائستہ بھٹہ ہیں۔ 1985 میں پیدا ہونے والے حمزہ یوسف نے گلاسگو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف دس سال قبل اپنے آبائی علاقے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ ان کے رشتے دار اور عزیز و اقارب خوشی منا رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی حمزہ یوسف پاکستان کے سربراہ بن سکتے ہیں؟

    پاکستان میں حمزہ یوسف جیسی شخصیات کا وزیراعظم بننا تو بہت مشکل رکن قومی اسمبلی منتخب ہونا بھی قدرے مشکل ہوگا۔ پاکستانی قوم ویسے بہت جذباتی ہے پاکستانی نژاد شخصیات کی ترقی پر خوش ہوتے ہیں۔ امیدیں وابستہ کرتے ہیں دنیا بھر میں اپنے جھنڈے گاڑے مگر وہی پاکستان میں جمہوریت کے لئے آواز بلند نہیں کرتے۔ پاکستان میں بھوک اور افلاس کی ایک وجہ سیاسی عدم استحکام اور غیر سیاسی افراد کی سیاست میں مداخلت ہے۔ ریاست اور سیاست کے اس کھیل میں چونا صرف عوام کو لگتا ہے۔

    بنیادی جمہوریت نہ ہونے اور سیاسی جماعتوں میں اشرافیہ کا کنٹرول اور موروثی قیادت کسی طور پر بھی مڈل کلاس قیادت کو منتخب نہیں ہونے دے گی۔ گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے ایک رکن نے بتایا کہ سینیٹ میں ووٹ کے لئے 10 کروڑ روپے کی آفر ہوئی۔ان حالات میں متوسط طبقہ تو کیا کاروباری طبقے سے منسلک لوگ بھی اس کھیل میں شامل نہیں ہوسکتے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹیاں اس طرح ٹکٹ تقسیم کرتی ہیں اللہ کی پناہ۔ گزشتہ حکمران جماعت تحریک انصاف پر الزام ہے کہ2018 کے انتخابات کے لئے دو دو کروڑ تک کے ٹکٹ بیچے گئے۔ جب پارٹی ٹکٹ کی قیمت یہ ہوگی تب انتخابات جیتنے کے لئے 50 کروڑ روپے لگائے جائیں گے۔ اور ایک حلقے میں اگر تین مضبوط امیدوار ہوں تو 1 ارب 50 کروڑ روپے اوسطا خرچ ہونگے۔ ان حالات میں جیتنے یا ہارنے والا اتنی بڑی انوسٹمنٹ کو پورا کرنے کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپنائے گا وہاں حمزہ یوسف تو کہی گم ہو جائے گا۔

    یہاں بھی ہر شہر میں حمزہ یوسف موجود ہیں۔ وہ سیاسیات کی ڈگری بھی حاصل کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں میں بطور کارکن کام بھی کرتے ہیں۔ پاکستانی حمزہ یوسف نوجوانی میں پارٹی پرچم تھامے چلتے ہیں مگر جب انتخابات کی باری آتی ہے تو ان حمزہ یوسفوں کے اوپر پیسے والے مسلط ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی حمزہ یوسف کسی سیاسی جماعت کا چیف آرگنائزر بن بھی جائے تو وقت آنے پر اس حمزہ یوسف کو اتار کر وہاں اس پارٹی کے قائد کی بیٹی یا بیٹا بیٹھ جاتا ہے۔ ہم بھی کیا اپنے دکھ لے کے بیٹھ گئے بھائی حمزہ یوسف آپ کو بہت مبارکباد شکر ہے آپ پاکستان میں نہیں ہیں ورنہ آپ کھبی بھی پاکستان کے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ کی ترقی کے لئے آپ کے قدم مبارک ہوں۔ اور پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ ایسی قیادت نصیب فرمائے اور پاکستان میں بھی عام آدمی کو وزیراعظم تک کے سفر میں آسانی فرمائے۔