Baaghi TV

Author: Mubahser Lucman

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    تحریک انصاف اور عمران خان کے تابوت میں اگر کوئی کیل ثابت ہوگاتو وہ میری نظرمیں ایک سو نوے ملین پاونڈوالاکیس ہوگا ۔ یہ اتنا بڑا معاملہ کہ اس کے آگے پاناما اورسوئس کیسسز کچھ نہیں ۔بلکہ دونوں بہت چھوٹے ہیں ۔یا یہ کہہ لیں کچھ بھی نہیں ۔پر کیونکہ عمران خان کی میڈیااور سوشل میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ سے اعلی رہی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اتنا ہائی لائٹ نہیں ہوا ۔میں گزشتہ کئی ماہ سے اس کیس کی سماعت کو فالو کر رہاہوں ۔ مگر ہر باراسٹوری جورپورٹ ہوتی ہے کہ عمران خان نے ایک سو نوے ملین پاونڈ کی پیشی پر الیکڑک برش مانگ لیا۔ ڈیمانڈ کر دی جیو کےرپورٹرکوبلائیں ۔کبھی یہ اسٹوری لگی ہوتی ہے کہ ایکسرسائز کے لیے ڈمبل نہیں دیا گیا کبھی کان میں تکلیف تو کبھی قبض کی شکایت ۔ پراس کیس میں کیا ہوچکا ہےاور کیا ہو رہا ہے اس پر میڈیا کچھ نہیں بتا رہا تو میں اور میری ٹیم نے اس پر پوری ورکنگ کر لی ہےاور اس نتیجے پرپہنچ چکےہیں کہ یہ کیس عمران کے گلے کاپھندہ ہے۔اس کیس میں عمران کرپٹ بھی ثابت ہوتا ہےبلکہ میری نظر میں تو یہ ملک ریاض سےصاف صاف کیک بیکس لینے والا معاملہ ہے۔

    ۔اتنی بڑی کرپشن کااسکینڈل شریف خاندان یاپیپلزپارٹی کےساتھ جوڑا ہوتاتواب تک ان پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہوتی ۔ ان کی نسلوں کو تباہ وبربا دکرنےکےاحکامات جاری ہوچکے ہوتے ۔ ان کے تانے بانے امریکہ سمیت اسرائیل کیا خلائی مخلوق تک سے جوڑ دیے گئے ہوتے ۔ چینلز نان اسٹاٹ اس پر ٹرانسمیشن کر رہے ہوتے ۔ جبکہ سب اینکرز کے روز کا ایک ہی ٹاپک ہوتا ایک سو نوےملین پاونڈ ۔ مگر کیونکہ معاملہ عمران خان ہے اس لیے اسکو پہلے دن سے ڈاون پلے کیا گیا ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ کوئی جج گھرسےمجبور نہ ہوا تو اس معاملے میں عمران خان لمبےاندر جائیں گے اور بڑی سزا ہوگی ۔ کیونکہ بڑے واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں ۔

    ۔میں اتنا یقین سے جو کہہ رہا ہوں ۔اسی کی وجہ ہے سب سے پہلے اس کیس کا پس منظر بتا دیتا ہوں ۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع چار سو اٹھاون کینال، چار مرلے اوراٹھاون مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو پچاس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ۔اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ اس کی توانکوئری کی بھی ضرورت نہیں ۔ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ کیونکہ ادھر زمین ٹرانسفرکی گئی ادھر ریلیف دے دیاگیا ۔ بہرحال اکتوبر دوہزاربائیس میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔ نیب دستاویزات کے مطابق تین دسمبر دوہزارانیس کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی پچاس ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی ۔۔این سی اے۔۔کی جانب سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ ۔ جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے چھبیس دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا ۔ جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت تین دسمبر دوہزار انیس کے کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ۔اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے تین دسمبر دوہزار انیس کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر دوپر فیصلہ کیا۔ آئٹم نمبر دو کا عنوان تھا۔احمد علی ریاض، ان کے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ۔ ایجنڈا آئٹم شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا اور بریفنگ دینے کے ساتھ کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض کو بھی طلب کیا گیا تھا۔آجکل بھی سنا ہے شہزاد اکبر ملک ریاض کے ہی ٹکڑوں پل رہاہے ۔

    ۔ سوال یہ ہےکہ این سی اے کی رقم ملک ریاض کو کیسے واپس ملی؟ دراصل دوہزار انیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایک سونوے ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو چار سو ساٹھ ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے دوہزارانیس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات بھی رازداری میں رکھی گئی تھیں اور این سی اے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی عوام یا میڈیا کو یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاستِ پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا تھا۔

    ۔یہ سب کچھ مفت میں نہیں کیا گیا بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے پچاس ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کینال مالیت کی اراضی حاصل کی۔ ۔ ان کی دونمبر ی کا عالم دیکھیں کہ ساری زندگی عمران خان اور انکی جماعت اس چیز کا پرچار کر تی رہی ہے ۔ کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانا ہے اور جب باہرکے ممالک پاکستان کا لوٹا پیسہ خود واپس کرنے لگے تو انھوں نے کہا نہیں رہنےدیں ہمیں نہیں چاہیئے ۔ میں اور میری بیوی نے بدلے میں زمین لے لی ہے۔ ایسی اسکیم تو کبھی کسی اور جماعت کے ذہن میں نہیں آئی ۔ مطلب یہ واردات ڈال کر عمران خان کرپشن کرنے والوں میں سب سے اعلی درجے پر فائز ہوگئے ہیں ۔

    ۔ اسی وجہ سے عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، بہرحال جب یہ کیس چلا تو ستائیس فروری دوہزار چوبیس کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فردجرم عائد کی ۔ اس سے قبل چھ جنوری دوہزار چوبیس کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے چھ شریک ملزمان ان کے بیٹے علی ریاض ملک، فرحت شہزادی(وہی گوگی جس کو کپتان نے سب سے پہلے بھگایا اور کہا تھا کہ یہ معصوم ہے )، ضیاالاسلام، شہزاد اکبر، زلفی بخاری کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا گیا۔ ملک ریاض نے حاضری سے استثنیٰ اور وڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے متعلق دو الگ الگ درخواستیں بھی دائر کیں لیکن دائر دونوں درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ تئیس جنوری کو عمران خان نےضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے بعد چودہ مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کی ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ہے، لہٰذا عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اٹھائیس جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا چودہ مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔پھر سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا ۔جس پر یاد ہو تو علی امین گنڈا پور اور یوتھیوں کو بہت مرچیں لگیں تھیں ۔ بلکہ اس دن جو پرویز خٹک نےبیان دیا وہ کہیں ڈسکس نہیں ہوا ۔ پرپرویز خٹک کی نیگٹوکردارسازی چھائی رہی ۔ پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔ پھر تیرہ جولائی کو عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے، اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے، نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔ اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے، شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جا سکے، میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی، میں نے کابینہ میٹنگ میں ان کیمرہ اجلاس ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔سابق پرنسپل سیکرٹری نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان پر اپنے دستخط ہونے کی تصدیق کی ۔ اعظم خان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی جس سے متعلق بتایا نہیں گیا۔ پھر سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سےایک بند لفافہ اضافی ایجنڈے کے طور پیش کیا گیا، اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا، ضروری تھا کہ اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنےسےقبل ممبران کو بریفنگ دی جاتی ۔ شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اسےفوری طور پر منظور کیا جائے۔ اضافی ایجنڈےکو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا اور کہا کہ منظوری سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےبھی کہا تھا کہ اس اضافی ایجنڈے کو منظور کرلیں، صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس اضافی ایجنڈے کی منظوری دی۔

    ۔ آج تک کی موجودہ صورتحال میں اس ریفرنس میں پینتیس گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔اب چند روز قبل اس ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا بیان سامنے آیا۔میاں عمر ندیم نے بیان دیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی منجمد کرنے کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے۔ تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے چار سو اٹھاون کینال چار مرلے اٹھاون مربع فٹ زمین خریدی، خریدی گئی زمین ملزم ذلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد عمران خان سے ذلفی بخاری، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون ملے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ گیارہ جولائی دو ہزارانیس کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ تین دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ بند لفافے میں کابینہ میں پیش کر کے اس کی منظوری پر اصرار کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم کر کے عمران خان ، بشریٰ بی بی اور ذلفی بخاری کو شامل کیا گیا۔ پھر بشریٰ بی بی نے چوبیس مارچ دوہزار اکیس کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں دو سو چالیس کینال اراضی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، مگرعمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت سے متعلق ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ثبوت دینے کیلئے متعدد نوٹسز کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بطور فرنٹ پرسن کام کیا۔ اب سمجھ آیا عمران خان کو یہ گوگی معصوم کیوں لگتی تھی۔

    ۔ یہ سب کچھ شہزاد اکبر اپنے ایماء پر تو کر نہیں سکتےتھے ۔ یقینا عمران خان کی آشیر آباد انکو حاصل تھی ۔ اسی لیے تو ان کو ، زلفی بخاری اورفرح گوگی کو ملک سے ایسے فرار کروایا جیسے مکھن سے بال ۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہ دونوں ان کی حکومت جانےکےبعد روکے تو ضرور گرفت میں آئیں گے اور یہ گرفت میں آئےتو پھر قانون کا ہاتھ عمران خان سمیت بشری بی بی کی گردن تک ضرور پہنچے گا ۔

  • سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    کل پنجاب اسمبلی میں ایک بڑا سیاسی دنگل ہوا اوربالآخر تخت پنجاب کا فیصلہ ہو ہی گیا۔ آخر وقت تک صورتحال بالکل مختلف تھی ، پاکستان تحریک انصاف والے خوش تھے۔ اور پھر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے رولنگ دے کر ساری بازی ہی پلٹ دی ۔سارے اندیشے ، ساری تدبیریں ، سارے دعوے بیکار ہوگئے

    بحر حال معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے ،تحریک انصاف کے لوگ نہیں جانتے تھے کہ جس سیاسی چال کا سہارا انھوں نے آج سے چار مہینے پہلے لیا تھا، جس سیاسی چال پر وہ اترا رہے تھے۔ جس سیاسی چال سے انھیں یہ وہم ہوا تھا کہ ہم اقتدار کی کرسی بچا لیں گے۔ کل انھیں اس سے بھی بڑی سیاسی چال سے شکست دی جائے گی۔ انھیں نہیں پتا تھا آج سے چار دن پہلے جس جیت کے وہ شادیانے بجا رہے ہیں اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ مکافا ت عمل ایسا ہی ہے۔ جب انسان کا کیا اس کے سامنے آتا ہے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یہاں اخلاقیات کے سارے سبق بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ جو وقت پہ بہتر سیاسی چال چلے وہی بازی گر ہے اور جس کا اس شطرنج کے کھیل میں وزیرزیادہ شاطر ہے وہی مقدر کا سکندر

    اب آگے کی ساری صورتحال مجھے کافی بھیانک نظر آ رہی ہے۔
    کل کے اسمبلی اجلاس سے پہلے ہی عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہ آیا تو نتائج اچھے نہیں ہونگے۔ اور وہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ رات احتجاج کی کال دی گئی اور رات سے ہی لوگ سڑکوں پر ہیں۔ سپریم کورٹ رجسٹری کے سامنے نعروں سے شروع ہونے والے اس جتھے کا پورے ملک میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے پنجا ب کے تمام بڑے شہروں میں رینجرز تعینات کرنے کی بھی درخواست کر دی ہے۔مختلف ویڈیوز بھی موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف کے لوگ گاڑیوں کا گھیراؤ کر رہے ہیں۔ حیدرآباد میں صورتحال اس سے زیادہ سنگین ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا ہےاور اس کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کسی کارکن کی گاڑی تک جلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں ملک پاکستان کی صورتحال کافی سنگین مراحل میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مخالفین پر الزامات کے ساتھ ساتھ اب اداروں پر لفظی حملوں کا جو سلسلہ سست روی کا شکار ہو چکا تھا اب اس میں بھی تیزی دیکھنے کو ملے گی۔ اس کی پہلی جھلک تو آج ہی دیکھ لی ہے۔ فواد چوہدری نے لفظی گولہ باری کی ابتدا کر دی ہے۔ اداروں کے منہ کو خون لگا ہے جیسے بیان تو دیتے ہی تھے اب یہ بھی کہ دیا کہ ادارے مزید پاکستان کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ تو یہ معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگاڑ کی جانب گامزن ہیں۔لیکن اس وقت سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سب کا نقصان کس کو ہو رہا ہے؟ اس ساری سیاسی جنگ اور الزامات کی سیاست کے درمیان پس کون رہا ہے؟ اس سیاسی محاذ آرائی کے درمیان بچے کس کے بھوک سے مر رہے ہیں؟ حکمرانوں کے پاس شاید اس سوال کا جواب نہ ہولیکن میرے پاس اس کا جواب ہے

    اس ساری سیاسی صورتحال، لڑائی جھگڑوں اور معرکہ آرائی کے درمیان نقصان صرف پاکستان کا ہو رہا ہے۔ پس صرف غریب رہا ہے۔ بچے صرف غریب کے بلک رہے ہیں۔ اس کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ اس کے لیے زمین دن بدن تنگ پڑتی جا رہی ہے او ر حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ اپنی سیاست بچانے کےلیے کروڑوں روپے کے مہنگے ہوٹل بک ہو رہے ہیں۔ غریب کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت کیا جنگ جاری ہے۔ اسے صر ف دووقت کی روزی سے مطلب ہے۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ اس کے بچے رات کو بھوکے پیٹ نہ سوئیں۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ وہ جب رات کو مزدوری کر کے گھر واپس لوٹے تو اس کی جیب میں اگلے دن کے راشن کے پیسے موجود ہوں۔اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

    یہ صرف اس صور ت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ملک میں ایک سیاسی استحکام کی فضا قائم ہو جائے۔ جب پاکستان کے نمائندے آپس میں لڑنے کی بجائے ایک جگہ بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کے سنجیدگی کے ساتھ فیصلے کرنا شروع کر دیں۔ جب پاکستان کے سیاستدان مل کر ایک میثاق معیشت پر رضا مند ہو جائیں۔ جب سیاستدان لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے کی بجائے انھی لوگوں کے بہتر مستقبل کےلیے سوچنا شروع کر دیں۔ لیکن مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مجھے دور دور تک کوئی ایسے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

    آپ کو اور اس ملک کے حکمرانوں کو پاکستان کی معیشت کا ایک بھیانک چہرہ بتاتا چلوں تا کہ شاید ہم اس سے کچھ سیکھ سکیں اور مستقبل قریب میں کچھ ایسے فیصلے کر سکیں جن سے ملک کا فائدہ ہو۔ آج پاکستان میں روپیہ ایک خطرناک حد تک بے توقیر ہو چکا ہے۔ گردشی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ پاکستان آج ڈیفالٹ ہونے کی دہلیز پہ کھڑا ہے۔ پاکستان کا اس وقت ڈیفالٹ ہونے والے ممالک کی لسٹ میں چوتھا نمبر ہے اور یہ امکانات دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ڈالر پر سٹے بازی جاری ہے جس سے روپے کی قدر و قیمت میں مزید کمی آتی جا رہی ہے لیکن جو اس کو روک سکتا ہے یعنی پاکستا ن کاسٹیٹ بینک اس کے ممکنہ گورنر کا ابھی تک فیصلہ ہی نہیں ہو سکا۔ تیل اور بجلی قیمتیں مزید بڑھنے کے درپے ہیں۔ اور معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت آج جن بیساکھیوں پہ کھڑ ی ہے اگر اگلے کچھ عرصے میں چار سے پانچ ار ب ڈالر نہیں ملتے تو ہم اس نہج پر پہنچ جائیں گے جہا ں سے واپسی شاید آسان نہ ہو۔آئی ایم ایف سے ہمیں صرف ایک ارب ڈالر کی قسط ملے گی باقی کے تین چار ارب ڈالر کے لیے ہم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ دنیا کی معیشت پر نظر رکھنے والیNews Agency Bloombergکے مطابق آئی ایم ایف نے سعودی عرب سے گارنٹی مانگ لی ہے۔ کیونکہ اس کشتی میں کوئی سوار نہیں ہونا چاہتا جس کے ملاح بھنو ر میں کودنے کو تیار بیٹھے ہوں۔پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کےلیے آئندہ سال میں کم ازکم 41ارب ڈالر درکار ہیں۔ اور یہ کہاں سے آتے ہیں کسی کے پاس سیدھا جواب نہیں ، سٹاک ایکسچینج کو دیکھیں تو دن بدن زوال پزیر ہی ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بات پہ تیار ہی نہیں ہیں کہ وہ پاکستان میں مزید نقصان کو مول لیں۔ پہلے ہی ان کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہےاور حالیہ سیاسی بحران کے بعد تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو چکی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار بھی بالکل خطرہ مول لینے کو تیار نہیں اور ہر چھوٹا بڑا کاروبار مندی کا شکار ہے۔ دنیا کی تما م معیشت پر نظر رکھنے والے تمام بڑے ادارے پاکستان کی معیشت کو منفی دکھا رہے ہیں۔ گویا ہم معیشت کے ساتھ ساتھ ایک ایسے کرنسی بحران میں جکڑے جا چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا ٹھیک جوا ب کوئی دینے کو تیا رنہیں۔

    سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے ہیں؟ اس کا جواب بڑا ساد ہ اور آسان سا ہے۔
    کسی بھی ملک کی معیشت ہمیشہ اس ملک کے حکمرانو ں کے فیصلوں اور ملک میں سیاسی استحکام سے جڑ ی ہوتی ہے۔ اگر ملک کےسیاستدان درست فیصلے کریں گے، سنجیدگی سے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ، درست وقت پر درست لوگوں کے ہاتھ میں اکانومی کی باگ دوڑ دیں گے تو معیشت کی سمت بالکل درست ہو گی۔اور اگر ملک میں سیاسی استحکام ہی نہ ہو۔ حکمرانوں کو ٹھیک فیصلے ہی نہ کرنے دیے جائیں تو پھر یہی کچھ ہونا ہے جو ملک پاکستان میں اب ہو رہا ہے۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک صورتحال تو آپ کے سامنے واضح ہے۔ ملک میں پچھلے چھ مہینوں سے جو کچھ ہو رہا ہے ۔ جو سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس سے کوئی سیاسی جماعت دیوار سے لگے یا نا لیکن معیشت دیوار کے ساتھ لازمی طور پر لگ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ اور بھی بہت سے محرکات ہیں۔ حالات و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ جن میں تحریک انصاف کے دو ر کی معاشی پالیسیاں، ان کا بھاری قرضے لینا۔ اس کے بعد ساڑھے تین سال کے عرصے میں چار بار وزرائے خزانہ کی تبدیلی ، سرکاری پالیسیوں کی بار بار تبدیلی شامل ہیں۔ اور اگر اس سے بھی پہلے چلے جائیں تو پچھلے حکمرانوں کے کچھ غلط فیصلے شامل ہیں۔اب وہ وقت آ چکا ہے جب ہمار ے سیاستدانوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دے کر اس ملک کو لوگوں کی امیدوں کو کچل دینا ہے یا اس ملک کو ہر طرح کے بحران سے نجات دلانی ہے۔ کیونکہ راستے اب صرف دو ہی بچے ہیں۔ اور یہ ہمارے سیاستدانوں نے طے کرنا ہے کہ مزید دست و گریباں ہوتے رہنا ہے اور اس اقتدار کے کھیل کے لیے پاکستان کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دینا ہے یا پھر اپنے سیاسی مفادات کو پیچھے رکھ کر ملک کو اس معاشی بحران سے نکالنا ہے۔

    آنے والے دنوں میں پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوتا ہے اس بارے میں کسی کو علم نہیں۔ کون منظر نامے پہ نمودار ہوتا ہے اور کون پردے کے پیچھے غائب ہوتا ہے اس کا فیصلہ بھی جلد ہو جائے گا لیکن ہماری دعا یہی کہ جو بھی ہو پاکستان کے لیے بہتر ہو۔ پاکستا ن کی معیشت کے لیے بہتر ہو۔ پاکستان کے عوام کے لیے بہتر ہو۔

  • منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان
    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت وہ ”منّی“ ہے ۔ جو بار بار بدنام ہوتی ہے۔ پھر چاہے الیکشن ہوں ۔ اس کے بعد رزلٹ ہوں ۔ بجٹ ہو ۔ یا پھر کسی بل کو پاس کرنے کا موقع ۔ ہمیشہ اسمبلی سیشن شروع ہوتے ایک نئی طرح کی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ اسمبلی چاہے صوبائی ہو یا وفاقی ۔ گالم گلوچ ، مارکٹائی trade mark بن گیا ہے ۔ یعنی ممبران اسمبلی کا زبان اور کردار ایک ہی رہتا ہے ۔ اب تو اتنی بار ایوان مچھلی منڈی بن گیا کہ مچھلی منڈی والوں کو شرم آنا شروع ہوگئی ہے ۔ مگر ہمارے ممبران اسمبلی کا رویہ نہیں بدلا ۔

    ۔ میرے نزدیک مسلسل ان واقعات سے جمہوریت، پارلیمان، پارلیمانی نظام اور سیاست دان مکمل طور پر ڈس کریڈٹ ہو چکے ہیں ۔ کیونکہ حالیہ دنوں میں قومی اور بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا ہے اُس پر پاکستانی جمہوریت برسوں شرمسار رہے گی۔ ۔ ساتھ ہی جو کچھ ہوا، اُس کا سہرا کسی ایک جماعت کے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ سرکاری اور اپوزیشن بنچ برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو جو ہوا سو ہوا مگر بلوچستان اسمبلی میں تو یوں لگا جیسے کسی ایکشن فلم کی شوٹنگ چل رہی ہو ۔ وہاں اپوزیشن کا اعلان تھا کہ سرکاری ارکان کو ایوان میں جانے دیں گے نہ بجٹ پیش کرنے دیں گے اس لیے دروازوں کو تالے لگا دیئے ۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا راستہ بھی روکا گیا،لیکن پولیس نے بکتر بند گاڑی کے استعمال سے دروازہ توڑ کر راستہ نکالا۔ جوتے بھی چلے ۔ ممبر اسمبلی زخمی بھی ہوئے ۔ یہ اپنی طرز کا انوکھا احتجاج تھا۔اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہماری پارلیمانی روایات کتنے خطرے میں ہیں۔ مگر اپوزیشن کی منہ زوری یقینا یک طرفہ نہیں ہے، حکومت کی منہ زوری اس کا سبب بنتی ہے۔ اگر مخالفوں کو دیوار سے لگانے کا رویہ اپنایا جائے گا، تو پھر ہنگامے ہوں گے،آگ بھڑکے گی اور اس آگ میں بہت کچھ بھسم بھی ہو گا۔

    ۔ پہلے بھی کئی بارعرض کر چکا ہوں کہ قوم اب ان مہنگی ترین اسمبلیوں اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے عوامی نمائندوں کا بوجھ اُٹھاتے اٹھاتے ہلکان ہوچکے ہیں۔ اب تو بے زار بھی دیکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ عوام اس طرزِ حکمرانی کے برے اثراتِ سہتے سہتے حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ لگتا ہے نہ حالات بدلیں گے نہ عوام کی حالتِ زار بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ یہ رونا تو اب عوام کا مقدر بن گیا ہے ۔ کیونکہ ہر نیا دور اور آنے والا حکمران کچھ کرے نہ کرے عوام کی ذلت اور دھوکوں میں ضرور اضافہ کر جاتا ہے۔ جس معاشرے میں عوام زندہ درگور اور اچھی خبر کو ہی ترس جائیں وہاں کیسی گورننس اور کہاں کا میرٹ؟

    ۔ پی ٹی آئی پر بھی تعجب ہے آدھی مدت گزارنے کے باوجود بھی طرزِ حکمرانی کے لیے کبھی ریاست مدینہ کا ماڈل پیش کیا جاتا ہے
    تو کبھی چین کا ، کبھی ملائیشیا کا ، تو کبھی یورپ کا جبکہ عوام کہتے ہیں کہ ہمیں نہ کوئی بیرونی ماڈل چاہیے اور نہ ہی کوئی نیا پاکستان ہمیں تو بس پرانا پاکستان لوٹا دیں۔ ہم پرانی ذلتوں اور مشکلات پر ہی گزارہ کر لیں گے۔ ہمیں نئے پاکستان کی وہ ذلتِ نہیں چاہیے جس کا کوئی اختتام ہی نہ ہو۔ ساتھ ہی اپوزیشن کو این آر او ملے گا یا نہیں ملے گا اس کا فیصلہ خدا جانے کس نے کرنا ہے؟ مگر جس نے کرنا ہے وقت آنے پر یہ پتہ چل جائے گا۔

    ۔ مگر اس تمام شور شرابے میں عوام کے لیے آٹا ، چینی ، گھی ، دالیں اور پیڑول مہنگا ہوچکا ہے ۔ اصل واردات یہ ہے جو عوام کے ساتھ یہ حکومت ڈال چکی ہے ۔ پتہ نہیں اب وہ فلاسفر کہاں ہیں جو اس بجٹ کے عوامی ہونے اور ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے دار تھے ۔ اب ان کو گزشتہ ایک ہفتے میں آٹا کی قیمت 27 روپے بڑھی ہوئی دیکھائی نہیں دیتی۔ اور تو اور پرندوں کو جو ۔۔۔ باجرہ ۔۔۔ بطور دانہ ڈالا جاتا ہے۔ رمضان سے پہلے یہ 65روپے کلو تھا آج 95 روپے ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس برس قربانی کے جانوروں کی قیمت کیا ہو گی۔ مجھے بتائیے ان حالات میں کیسے یقین کیا جائے کہ ملک کی معیشت سنبھل گئی ہے۔ اور یہ دو تین چیزوں کی مثال میں نے ایسے ہی سمجھنے کے لئے دے دی ہے ۔ وگرنہ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہیں ہے بلکہ اس نے بڑے بڑے عزت داروں کی چینخیں نکوادی ہیں۔

    ۔ حالت یہ ہوچکی ہے کہ لوگ بچے سکول سے اٹھا رہے ہیں ۔ چند دن پہلے جو تفصیل آئی اس کے مطابق گندم ، چینی ، دودھ ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے ۔ آپ ذرا بازار جا ئیے ہر ضرورت کی چیز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ضرورت کی کوئی چیز ایسی نہیں جو مہنگی نہ ہوئی ہو۔ دراصل معیشت تباہ نہیں ہو رہی ۔ ملک تباہ ہو رہا ہے۔ مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ مہنگائی صرف غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی ایک پوری نسل کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیسی قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کیا پناہ گاہوں میں پلنے والے ملک چلا سکیں گے یا ملک چلانا صرف ایک طبقے کا کام رہے گا۔ آج بھی کسی سے پوچھ لیجیے۔ کسی کو حکومت کی کسی بات کا یقین نہیں۔ نہ آنے والے انتخابات سے غرض ہے ۔ صرف پوری قوم عمران خان سے یہ فریاد کرتی دیکھائی دیتی ہے کہ آپ اپوزیشن کو این آر او دیں نہ دیں لیکن ہمیں ضرور این آر او دے دیں۔ ہماری زندگیاں آسان کر دیں۔

    ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنوں کو اپنے سیاسی بیانیے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ یہ بیانیہ پاکستان کے جمہوری اور سیاسی عمل کو نئے خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے ابتدا سے ہی سیاست دانوں کو کرپٹ ، چور اور ڈاکو قرار دینے والا بیانیہ اختیار کیا۔ جس کا فائدہ کم الٹا نقصان زیادہ ہوا ہے ۔ کیونکہ اب تک نہ تو نیب نہ ہی حکومت کسی چور ، ڈاکو یا کرپٹ کو سزا دلوا سکی ہے یا کم ازکم ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کر پائی ہے ۔ تحریک انصاف کے اس سیاسی بیانیہ کے لئےمیں کوئی اور الفاظ استعمال نہیں کروں گا بلکہ صرف اتنا کہوں گا کہ یہ بیانیہ جمہوری اقدار اور رویوں کے منافی ہے۔ اس بیانیے نے سیاست اور سیاست دانوں کو گالی بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سیاست اور سیاست دانوں پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ نہ صرف سارے سیاست دان ایک جیسے ہوتے ہیں بلکہ ساری سیاسی جماعتیں بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

    ۔ اس وقت پاکستان سیاسی قیادت کے بحران میں ہے اور قومی اسمبلی کے حالیہ واقعات سے اس بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف مبینہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈلز کی وجہ سے بحیثیت سیاسی جماعت اندرونی لڑائیوں کا شکار اور کمزور ہو چکی ہے ۔اس کی حکومت کو اپنے اندرونی مسائل اور ناراض دھڑوں سے ہر وقت خطرہ ہے۔ دوسری جانب حکومت آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام یکطرفہ طور پر نافذ کرنے پر بضد ہے لیکن اسے الیکشن کمیشن بھی مسترد کر چکا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کی اپنی پسند نا پسند قوم پر مسلط کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور ظاہر ہے عدلیہ میں بھی یہ معاملات چیلنج ہونگے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کوئی باہمی ڈائیلاگ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ آئینی اداروں کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا۔ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ یا دیگر ادارے انہیں حکومتی حلقے رگڑا لگانے سے باز نہیں آتے۔ یوں لگتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی صورتحال کوبعض تجزیہ نگار 1991ء میں سابق سوویت یونین کی صورتحال سے پر تشبیہ دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر سابق سوویت یونین امریکہ کے مقابلے میں فوج، میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ لیس ہونے کے باوجود اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے شکست سے دوچار ہو سکتا ہے تو پاکستان کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے اسے اپنے اندرونی حالات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان بظاہر ایک کامیاب جمہوری لیڈرکے طور پر اپنا نام پیدا کرتے ہیں یا پھر سوویت یونین کے آخری صدورگورباچوف ثابت ہوتے ہیں۔

  • رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو آپ فرما دیجیے کہ میں قریب ہی ہوں۔ دعا مانگنے والوں کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگیں۔ پس انہیں میرا حکم ماننا چاہیے اور مجھ پر ایمان لانا چاہیے تاکہ وہ نیک راہ پر آجائیں۔
    یہ سورت بقرہ کی آیت نمبر 186ہے۔ اس سے پہلے تین آیتوں میں روزے اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر ہے۔ روزو ں اور رمضان المبارک کے ذکر کے ساتھ دعا مانگنے کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رمضان کا مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو نہ صرف دعا مانگنے کا حکم دیا بلکہ دعا کو بھی ایک عبادت اور بندگی کا ذریعہ قرار دیا ہے جو کہ اس امت کا خاص اعزاز ہے ورنہ حضرت کعب احبار کی روایت کے مطابق پہلے زمانہ میں یہ خصوصیت انبیاء کی تھی۔ انبیاء لوگوں کے لیے دعا کرتے، اللہ تعالیٰ قبول فرماتا لیکن امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ یہ حکم پوری امت کے لیے عام قرار دیا اور فرمایا
    ترجمہ
    اور تمہارے رب نے کہا کہ تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ
    دعاء مومن کا ہتھیار ہے۔ ظاہر ہے کہ ہتھیار صحیح کام تب ہی دکھاتا ہے جب ہتھیار بھی تیز ہو اور چلانے والا بھی طاقتور ہو۔
    اب دعا کیسے طاقتور بنے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آداب سکھلائے۔ اور وہ اوقات بتائے جن میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ان میں ایک موقعہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے ہماری دعائیں کیسے طاقتور بنیں اس کے لیے بنیادی اصول اللہ تعالیٰ نے سورت اعراف کی آیت نمبر ۵۵ میں فرمایا
    یعنی تم اپنے رب سے دعا کیا کرو عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طریقے سے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعا کرنے والا خشوع و خضوع یعنی عاجزی اور اللہ کے دھیان کے ساتھ دعا مانگے اور دوسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ آہستہ آواز سے دعا مانگے اگر عام مقتدی دعاؤں سے ناواقف ہوں تو پھر امام کے لیے اونچی آواز سے دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں۔
    دعاء کی قبولیت کو مزید موثر بنانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ دعائیں مانگی جائیں جو قرآن مجید میں مختلف انبیاء کے حوالے سےمذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ دعائیں قبول فرمائی ہیں۔ یا احادیث میں جو دعائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہیں وہ مانگی جائیں۔
    لیکن قرآن و حدیث کے عربی جملے جن میں دعائیں ہیں اگر ان کا ترجمہ اور مطلب معلوم ہو تو پھر وہی دعائیں مانگنا افضل اور بہتر ہے لیکن عام حالات میں اگر ان دعاؤں کا مطلب معلوم نہ ہو تو پھر مانگنے والے کو تو معلوم نہیں کہ ان دعائیہ جملوں سے ہم اللہ سے کیا مانگ رہے ہیں۔ لہٰذا ان دعاؤں کے پڑھنے کا ثواب تو ضرور ملے گا لیکن اسے دعا مانگنا نہیں کہیں گے بلکہ دعا پڑھنا کہیں گے اس لیے دعا مانگتے وقت پہلے مسنون دعائیں بھی پڑھ لی جائیں پھر جو دعاؤں کا مفہوم نہ جانتا ہو وہ اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگ سکتا ہے۔

    جب یہ کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے تو دل میں ایک خیال آجاتا ہے کہ ہم نے بہت سی دعائیں مانگی ہیں ہماری دعا قبول ہی نہیں ہوتی لہٰذا پھر وہ انسان دعا مانگنے کی طرف متوجہ نہیں رہتا۔
    اس بارے میں ایک بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ ارشادات نبوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حرام مال کھانے اور حرام لباس استعمال کرنے اور حرام کمائی کرنے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی لیکن اس کے علاوہ ہر شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔
    لیکن وہ بات پھر ذہن میں رہتی ہے کہ ہم نے بہت کچھ مانگا ہمیں تو نہیں ملا اس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سمجھایا۔
    کہ مومن کی دعاء ضرور قبول ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اس بندہ کے لیے کیا چیز بہتر ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ
    کہ بسا اوقات تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اور بسااوقات تم کسی چیز کو پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بری ہوتی ہے۔
    اس لیے انسان کا کام ہے اللہ سے دعائیں کرتے رہنا، مانگتے رہنا، یا تو اللہ تعالیٰ بندہ کو وہی چیز دیتا ہے یا اس کا نعم البدل عطاء فرما دیتا ہے یا دنیا میں اس دعا کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کی بدولت اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جب گناہ ختم ہو جائیں تو پھر ان دعاؤں کو اس بندہ کی نیکیاں شمار کر لیا جاتا ہے۔

    ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندہ نیکیوں کے ایک ڈھیر کو دیکھ کر کہے گا یہ نیکیاں تو میری نہیں ہیں۔اسے بتایا جائے گا کہ یہ تمہاری وہ دعائیں ہیں جو دنیا میں قبول نہیں ہوئی تھیں ان کے بدلہ میں نیکیاں ملی ہیں اس وقت بندہ کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی سب کا بدلہ یہاں آخرت میں ملتا۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سے لوگ جلد بازی کی وجہ سے اپنی دعائیں ضائع کر دیتے ہیں۔ صحابہ کرامؒ نے عرض کیا جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دعا مانگنے کے بعد یہ کہنا کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی، دعا کو ضائع کرنا ہے۔
    لہٰذا رمضان کے اس بابرکت مہینہ میں خوب دعائیں مانگیں اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہی ہماری دعائیں قبول کرنے والا ہے، دعا میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کریں۔ پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے دعا مانگیں، پختہ عزم سے دعا مانگیں اور بار بار دعا کریں،
    اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ترجمہ
    رمضان کا یہ مہینہ ایسا ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے اور درمیانہ عشرہ بخشش کا ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔
    اس رحمت کے عشرے میں خوب دعائیں مانگیں اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالی دعاوں کو قبول کرنے والا ہے۔

    مبشرلقمان