ایک فرضی فکری اور تخیلاتی منظرنامہ،
مصنف کی جانب سےیہ تحریر کوئی پیش گوئی نہیں۔یہ کسی سیاسی جماعت، ریاستی ادارے، شخصیت یا مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ بھی نہیں۔یہ صرف ایک فکری تجربہ ہے۔ایک ایسا سوال جو شاید ہمیں آج خود سے پوچھ لینا چاہیے، اس سے پہلے کہ وقت خود ہم سے اس کا جواب مانگے۔اگر آج سے آٹھ سال بعد پاکستان کی سیاست، ریاست، معیشت، میڈیا، عدلیہ، عسکری قیادت، کاروباری اشرافیہ اور طاقت کے تقریباً تمام مراکز ایک نئی نسل کے ہاتھ میں ہوں، تو کیا پاکستان اس تبدیلی کے لیے تیار ہوگا؟
یہ تحریر اسی سوال کی تلاش ہے۔
مبشر لقمان
آج کی خبروں سے آٹھ سال آگے چلتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ سال 2034 ہے۔ ایک عام سی صبح ہے۔ آپ کی آنکھ کھلتی ہے۔ آپ اخبار اٹھاتے ہیں، موبائل فون پر خبریں دیکھتے ہیں، ٹیلی ویژن آن کرتے ہیں، اور اچانک ایک عجیب سا احساس آپ کے دل میں جنم لیتا ہے۔
پاکستان تو وہی ہے۔
اسلام آباد وہی ہے۔
پارلیمنٹ کی عمارت وہی ہے۔
سپریم کورٹ وہی ہے۔
سرکاری دفاتر وہی ہیں۔
شہر، سڑکیں، بازار، دریا اور پہاڑ سب وہی ہیں۔
لیکن ایک چیز بدل چکی ہے۔
وہ چہرے، جن کے گرد برسوں تک پاکستان کی سیاست، ریاست، معیشت، میڈیا اور طاقت کا پورا نظام گھومتا رہا، اب اسٹیج پر موجود نہیں۔ ایک پوری نسل اپنا کردار ادا کرکے آگے بڑھ چکی ہے اور اس کی جگہ ایک نئی نسل آ گئی ہے۔
اب یہاں رک کر خود سے ایک سوال پوچھئے۔
کیا ہم نے کبھی اس دن کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا؟
یا ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ آج جو کچھ ہے، وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟
شاید یہی ہماری سب سے بڑی قومی کمزوری ہے۔
ہم مستقبل کے لیے منصوبہ نہیں بناتے۔
ہم صرف حال کے مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔
ہم اگلے پچیس سال کا پاکستان تعمیر کرنے کے بجائے اگلے پچیس دن کی سیاست کرتے ہیں۔
ہم ادارے بنانے سے زیادہ شخصیات بنانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔
ہم جانشینی کا نظام قائم کرنے سے زیادہ موجودہ طاقت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم تبدیلی کو ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے بجائے اسے مؤخر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے وقت کو روکا جا سکتا ہو۔
لیکن شاید مسئلہ اس سے بھی گہرا ہے۔
ہم صرف مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں بھولے۔
ہم نے وقت کی حقیقت کو ہی بھلا دیا ہے۔
ہم ایسے جیتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جیسے ہماری نسل کبھی ختم نہیں ہوگی۔
ہم ایسے ادارے چلاتے ہیں جیسے انہی چہروں کے گرد دنیا ہمیشہ گھومتی رہے گی۔
ہم ایسے سیاست کرتے ہیں جیسے کل کبھی آئے گا ہی نہیں۔
حالانکہ تاریخ چیخ چیخ کر ہمیں ایک ہی سبق دیتی رہی ہے۔
ہر سلطنت ختم ہوئی۔
ہر طاقت بدل گئی۔
ہر نسل نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا۔
اور ہر نسل ایک دن تاریخ کی کتاب کا صرف ایک باب بن کر رہ گئی۔
فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ قوموں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط ادارے چھوڑے، اور کچھ نے صرف مضبوط شخصیات۔
تاریخ کا شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دنیا میں کوئی نسل ہمیشہ نہیں رہتی۔ کوئی حکمران، کوئی رہنما، کوئی جج، کوئی جرنیل، کوئی صنعت کار، کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی ادارہ چلانے والا فرد ہمیشہ موجود نہیں رہتا۔
وقت سب کو بدل دیتا ہے۔لیکن کامیاب قومیں وہ ہوتی ہیں جو چہروں کے بدلنے سے پہلے نظام مضبوط کر لیتی ہیں۔وہ نئی قیادت تیار کرتی ہیں۔وہ نئے خیالات کو جگہ دیتی ہیں۔وہ آنے والی نسلوں کو صرف تقریریں نہیں بلکہ مضبوط ادارے ورثے میں دیتی ہیں۔اب ذرا اس فرضی پاکستان 2034 کو مزید غور سے دیکھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ وزیراعظم کون ہے۔سوال یہ بھی نہیں کہ کون سی جماعت اقتدار میں ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے اپنی اگلی نسل کی قیادت تیار کر لی تھی؟اگر ایک پوری نسل ایک ہی دہائی میں عملی میدان سے باہر ہو جائے تو کیا ہمارے پاس ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے اندر دوسری، تیسری اور چوتھی صف موجود ہو؟کیا قیادت پیدا کرنے کا کوئی منظم نظام موجود ہے؟یا پھر ہم ہر بار اسی امید پر رہتے ہیں کہ حالات خود کسی نئے چہرے کو سامنے لے آئیں گے؟یہ سوال صرف سیاست تک محدود نہیں۔سوچیے، 2034 میں شاید ریاست کے مختلف اداروں کی قیادت بھی نئی ہوگی۔میڈیا کی دنیا بھی بدل چکی ہوگی۔کاروباری حلقوں میں نئی نسل ہوگی۔ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے نام سامنے آ چکے ہوں گے۔جامعات سے نکلنے والے نوجوان اب فیصلہ سازی کے مراکز تک پہنچ رہے ہوں گے۔یعنی صرف حکومت نہیں بدلے گی۔طاقت کے پورے ماحولیاتی نظام کی تشکیل نو ہو چکی ہوگی۔
لیکن کیا ہم آج اس تبدیلی کی تیاری کر رہے ہیں؟یا ہم صرف آج کے معرکوں میں مصروف ہیں؟ہم نے اپنی تاریخ سے کیا سیکھا؟ہماری تاریخ میں کئی بار ایسے مواقع آئے جب بڑی شخصیات منظر سے ہٹ گئیں، مگر ان کے بعد پیدا ہونے والا خلا برسوں تک محسوس کیا گیا۔اس سے ایک بنیادی سبق ملتا ہے۔اگر ادارے مضبوط نہ ہوں تو شخصیات کے جانے کے بعد غیر یقینی پیدا ہوتی ہے۔اگر ادارے مضبوط ہوں تو چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر نظام چلتا رہتا ہے۔اسی لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کس چیز میں ہے؟کیا طاقت کسی ایک فرد میں ہوتی ہے؟یا ایسے نظام میں جو افراد کے بدلنے کے باوجود اپنا کام جاری رکھ سکے؟ہم اکثر اپنے آج کے اختلافات میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ کل کی ضرورتوں پر غور ہی نہیں کرتے۔ہم اپنے بچوں کے لیے کون سا سیاسی کلچر چھوڑ رہے ہیں؟کیا ہم انہیں ایسی سیاست دے رہے ہیں جہاں نئے لوگ آگے آ سکیں؟یا ایسا ماحول جہاں ہر نئی نسل کو ابتدا ہی سے ایک بند دروازہ ملے؟
2034 کا یہ فرضی منظرنامہ شاید ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔
اس آئینے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وقت نے اپنا کام کر دیا ہے۔اس نے کسی سے اجازت نہیں لی۔اس نے کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا وہ تیار ہے یا نہیں۔وقت نے صرف صفحہ پلٹا اور ایک نئی نسل سامنے آ گئی۔تاریخ ہمیشہ یہی کرتی ہے۔وہ کسی کے لیے نہیں رکتی۔وہ کسی کی مقبولیت سے متاثر نہیں ہوتی۔وہ کسی کے عہدے سے مرعوب نہیں ہوتی۔وہ صرف آگے بڑھتی ہے۔اور ہر نسل سے ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔تم نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیا چھوڑا؟کیا تم نے مضبوط ادارے چھوڑے؟کیا تم نے ایسی روایات چھوڑیں جن پر آئندہ نسلیں اعتماد کر سکیں؟کیا تم نے اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھا؟کیا تم نے نوجوان قیادت کو موقع دیا؟کیا تم نے علم، تحقیق اور پالیسی سازی کو اہمیت دی؟یا تم نے اپنی تمام توانائی صرف آج کی لڑائیوں پر خرچ کر دی؟شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
قومیں صرف اس لیے کمزور نہیں ہوتیں کہ ان کے وسائل کم ہوتے ہیں۔اکثر قومیں اس لیے کمزور ہوتی ہیں کہ وہ مستقبل کی تیاری نہیں کرتیں۔وہ ہر بحران کے بعد صرف فوری حل تلاش کرتی ہیں۔وہ ہر نئی مشکل کو الگ واقعہ سمجھتی ہیں، حالانکہ وہ ایک ہی طرزِ فکر کا نتیجہ ہوتی ہے۔آج ہم اگر آٹھ سال بعد کے پاکستان کا تصور کرنے سے بھی گھبراتے ہیں تو شاید اس کی وجہ یہ نہیں کہ مستقبل غیر یقینی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی عادت ہی نہیں ڈالی۔ہم منصوبہ بندی کم کرتے ہیں۔ردِعمل زیادہ دیتے ہیں۔ہم تعمیر کم کرتے ہیں۔مرمت زیادہ کرتے ہیں۔ہم نظام کم بناتے ہیں۔ہنگامی انتظام زیادہ کرتے ہیں۔اور شاید اسی لیے ہر چند سال بعد ہم پھر وہی سوال پوچھتے ہیں۔اب کیا ہوگا؟لیکن شاید صحیح سوال یہ نہیں۔صحیح سوال یہ ہے۔ہم نے ایسا کیا کیا کہ ہر چند سال بعد ہمیں یہی سوال دوبارہ پوچھنا پڑتا ہے؟
ہوسکتا ہے 2034 کا پاکستان آج سے کہیں زیادہ مضبوط ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نئے مسائل سے دوچار ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ نئی نسل وہ کام کر دکھائے جو پرانی نسل نہ کر سکی۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ پرانی غلطیاں نئے چہروں کے ساتھ دوبارہ دہرائی جائیں۔یہ سب امکانات ہیں۔لیکن ایک حقیقت یقینی ہے۔وقت کسی کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا۔ہر نسل کو لگتا ہے کہ اس کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔پھر خاموشی سے ایک دن تاریخ صفحہ پلٹ دیتی ہے۔اور دنیا چلتی رہتی ہے۔شاید پاکستان کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ مستقبل کسی ایک فرد، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ادارے کا انتظار نہیں کرتا۔
مستقبل ان قوموں کا ہوتا ہے جو اپنی آنے والی نسلوں کو تیار کرتی ہیں، اختلاف کے باوجود اداروں کو مضبوط بناتی ہیں، اور یہ مان لیتی ہیں کہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے، مگر اصول اور ادارے دیرپا ہو سکتے ہیں۔اگر 2034 کا پاکستان ہم سے آج صرف ایک سوال پوچھے، تو شاید وہ یہی ہوگا۔”جب تم جانتے تھے کہ وقت سب کچھ بدل دے گا، تو تم نے آنے والے وقت کے لیے کیا تیاری کی؟ کیا تم نے صرف آج کو بچایا، یا کل کو بھی بنایا؟”کیونکہ قوموں کی اصل آزمائش انتخابات سے نہیں ہوتی۔قوموں کی اصل آزمائش اس دن ہوتی ہے جب ایک پوری نسل اسٹیج سے اترتی ہے، اور نئی نسل اسٹیج پر آ کر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کیا وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرائے گی، یا ان سے سبق لے کر ایک مختلف مستقبل تعمیر کرے گی۔
اور شاید…
یہ سوال پاکستان کے 2034 سے زیادہ، پاکستان کے آج کے لیے ہے۔



