Baaghi TV

Author: محمد عبداللہ

  • "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے بیٹے کامران مرزاء نے 1530ء میں جب اس کا لاہور پر قبضہ ہوا تو باغ بنوایا جس میں 1540ء میں یہ بارہ دری تعمیر کروائی.
    یہی وہ بارہ دری تھی جہاں مغل بادشاہ جہانگیر کے سامنے اس کے باغی بیٹے خسرو اور اس کے ساتھیوں کو کو پیش کیا گیا تو بادشاہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے بیٹے کی آنکجیں نکلوا دیں کہ "بادشاہ کا کوئی رشتے دار نہیں ہوتا” اور اس کے ساتھیوں کے قتل کا حکم دیا جن کو بارہ دری سے قلعہ تک کے راستے میں قتل کیا جاتا رہا قلعہ کی دیوار تک پہنچتے پہنچتے خسرو کے تین سو ساتھیوں کو قتل کردیا گیا تھا.
    کامران مرزاء سے موسوم یہ بارہ دری اور باغ موجودہ دور میں راوی کے درمیان ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے. جب اس کو تعمیر کیا گیا تھا تو راوی اس سے کہیں دور ہوتا تھا. راوی کے کنارے پرائیویٹ کشتی سروس آپ کو سو روپے میں آنے جانے کی سہولت فراہم کرتی ہے.
    اس میں جانے کا ایک اور راستہ ہے جو شاہدرہ سے ہوکر کچی آبادی کو اس بارہ دری سے ملاتا ہے جہاں دریائے راوی میں پانی کی مسلسل کمی کی وجہ سے تعمیرات اور کھیتوں کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے بارہ دری سے آن ملا ہے جس کی وجہ سے ایک لحاظ سے جزیرے والا اسٹیٹس تو تقریباً ختم ہوچکا ہے.
    اگر محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ ٹورازم توجہ دے تو یہ لاہور شہر کے باسیوں اور بالخصوص فیملیز کے لیے ایک اچھی سیر گاہ بن سکتا ہے جس کے لیے آبادی والے راستے کو بند کرکے صرف راوی سے کشتی سروس والے راستے کو برقرار رکھا جائے اور وہاں باغ میں جھولے اور بنچ وغیرہ لگا دیے جائیں.
    اسی سلسلے میں ایک دلچسپ اور انتظامیہ کے تعاون کا واقعہ بھی پیش آیا ہوا کچھ یوں کہ شام سے کچھ دیر پہلے جب ہم وہاں پہنچے تو کشتی میں بیٹھے تو اس کو بولا کہ لائف سیفٹی جیکٹ دو اس کے جواب میں کشتی بان نے کہا کہ سر جیکٹس تو ہمارے پاس نہیں ہوتیں. بارہ دری سے واپسی پر کشتی میں دو تین لڑکیاں بھی تھیں تو کشتی چلانے والے کو مستیاں سوجھ رہی تھیں میں نے اس سے کہا بھائی تیری مستی کے چکر میں سارے مارے جائیں گے اور اک بھی جیکٹ آپ کے پاس نہیں پڑی جبکہ موجودہ دنوں میں پانی کا بہاؤ بھی اچھا خاصا ہے.
    قصہ مختصر میں نے اس ایشو پر ویڈیو بنائی کہ اللہ نہ کرے یہاں کوئی حادثہ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا اور ٹویٹر پر پنجاب حکومت اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو ٹیگ کرکے اپلوڈ کردی. جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی کہ فوری ایکشن لے تھوڑی ہی دیر میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی ٹویٹ آگئی کہ جناب ہم نے 100 لائف سیفٹی جیکٹس کا اہتمام کرکے راوی کنارے کشتی سروس والوں کے حوالے کردی ہیں.
    یہاں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں سسٹم میں خرابی دیکھیں تو انتظامیہ کو بتانا چاہیے ہم نے اکثر دیکھا کہ کسی بھی ایشو کو جب سوشل میڈیا پر اٹھایا جاتا ہے تو اس کا یقیناً فائدہ ہی ہوتا ہے.

    محمد عبداللہ

  • "باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ

    "باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ

    کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور آرٹیکل 370 کو ختم کیے ہوئے بھارت کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن کشمیر آج بھی بھارت کے لیے ویسا ہی ہے جیسا نوے کی دہائی میں تھا، کشمیر میں کوئی چوٹی، کوئی بلڈنگ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جہاں بھارتی ترنگا لہرا سکے.
    کشمیری آج بھی سینہ تان کر کھڑے ہیں. قربانیاں دینے کے باوجود اپنے آپ کو بھارت کا شہری کہنے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں، اور قربانیاں بھی ایسی کہ پوری وادی میں شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں کوئی شہید نہ ہوں. وگرنہ تو کیفیت یہ ہے کہ بیٹا ہے تو باپ نہیں ہے. باپ ہے تو بھائی غائب ہے.
    بلکہ بقول احمد بن قاسم پاکستان میں نارمل یہ کہ والدین ہیں بہن بھائی ہیں آپ صبح اٹھتے ہیں ناشتہ کرتے ہیں اور پھر روٹین کے کام کاج میں جاتے ہیں کوئی یونیورسٹی جاتا تو کوئی جاب پر اور کوئی گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے.
    جبکہ کشمیر میں نارمل یہ ہے کہ بیٹا رو رہا ہے کیونکہ اس کا باپ شہید ہے. ماں غمگین ہے کہ لخت جگر انڈیا کی جیل میں ہے، بہن ساکت بیٹھی ہے کہ صبح اس کے بھائی کو بس سے اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا ہے. صبح اٹھ کر کالج و اسکول اور جاب پر جانے کی فکر نہیں بلکہ نارمل یہ ہے کہ احتجاج ہے، معرکہ ہے، پتھراؤ ہے اور ظلم ہے.
    جو لوگ کشمیر کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ بھارت وہاں پر ہر قسم کے ترقیاتی کام کروانے کو تیار ہے، ہر قسم کی سہولت کشمیریوں دینے کو تیار ہے لیکن کشمیری ہر قسم کے لالچ، ہر قسم کے ظلم اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں اور پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرتے ہیں.
    جبکہ ہم پاکستانیوں کی صورتحال کہ ہم ساتھ کھڑے ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹس کے ساتھ، اخبارات میں اشتہارات دے کر، آدھا گھنٹہ چپ کھڑے ہوکر ، نغمے اور ترانے بنا کر بلکہ اب تو وہ سلسلے بھی گئے اور ساتھ کھڑا ہونے کی باتیں بھی قصہ پارینہ ہوئیں. اب تو باز گشت ہے لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل بارڈر میں بدلنے کی، ادھر تم اور ادھر ہم والے نظریات کی…
    کشمیر کی تقسیم کے فارمولوں کی آوازیں ابھر رہی ہیں لیکن یاد رکھیے گا یہ کشمیر ہے شہداء کا مقدس لہو اس سرزمین پر گرا ہے، ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر اس کے لیے قربان کیے ہیں آپ اس مقدس لہو سے غداری کریں گے تو نہ قدرت آپ کو معاف کرے گی اور نہ وہ مائیں جن کے جگرگوشے اس سرزمین پر قربان ہوئے.
    اٹھیے کشمیر سے وفا کیجیئے، تقسیم برصغیر کے اس نامکمل ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیے اور کشمیریوں کو آزادی دلوائیے دیکھیے اللہ کی رحمتیں آپ کے پاکستان پر کیسے برستیں ہیں اور ظلمتوں کے بادل کیسے چھٹتے ہیں.
    دل جوش میں لا فریاد نہ کر
    تاثیر دکھا تقریر نہ کر
    یا طاقت سے کشمیر چھڑا
    یا آرزو کشمیر نہ کر

  • چاک گریباں از محمد عبداللہ

    چاک گریباں از محمد عبداللہ

    کوئی فرد، کوئی جماعت کوئی ادارہ ریاست سے مقدم نہیں ہے. ریاست ہے تو یہ جماعتیں، شخصیات اور ادارے ہیں. ریاست کی بنیاد شخصیات پر نہیں بلکہ آئین اور نظریات پر ہوتی ہے. اکتہر میں ہمارے پاس دنیا کی کرشماتی شخصیات تھیں لیکن ملک دو لخت ہوا تھا وجہ یہ تھی کہ نظریہ پاکستان پر کمپرومائز ہوا تھا.
    ریاست کی بقاء، ترقی اور استحکام صرف اسی صورت ممکن ہوتا ہے جب ریاست کے سبھی ستون اور عناصر اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے اپنے ذمہ کام کو سر انجام دیں. آپ جو مرضی کرلیں ورلڈ بینک کے پاس چلے جائیں یا آئی ایم ایف سے معاہدے ہوجائیں پاکستان کے مسائل کا حل بھی ان معاہدوں میں نہیں ہے.
    کرپشن کا ناسور وطن عزیز کو بری طرح سے جکڑ چکا ہے. اربوں کی کرپشن کرنے والے ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہیں. وہ سارے جو نظریاتی طور پر ملک کو کھوکھلا کرتے رہے وہ حاکم بنے بیٹھے ہیں. قائد کے اسلامی نظریاتی پاکستان کا تشخص بری طرح سے مجروح ہوچکا ہے. ریاست پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی جو تھوڑی بہت عزت تھی وہ بھی مٹی میں ملائی جاچکی ہے.
    چند چہرے و خاندان جو عشروں سے سیاست پاکستان کے ٹھیکدار بنے ہوئے ہیں ان کے پاس ملکی مسائل کا نہ حل ہے اور نہ وطن عزیز کے لیے کچھ بہتر سوچنے کا وقت ہے. ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہوتا رہا ہے جبکہ ان خاندانوں کے بزنس، جائدادوں اور مال و دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے.
    وطن عزیز پاکستان کو ضرورت ہے تو نئے نظام اور نئے چہروں کی جو مخدوم نہیں بلکہ خادم ہوں. جو ذاتی کاروبار کرنے نہیں بلکہ پاکستان کی خاطر سیاست میں آئیں. جن کا اوڑنا بچھونا مغرب نہیں بلکہ پاکستان ہو. ایسے لوگوں کی پاکستان کو ضرورت ہے کہ جن کی سیاست، نظریات اور افکار کا محور و مرکز تل ابیب یا واشنگٹن نہیں بلکہ مکہ و مدینہ ہوں.
    محمد عبداللہ

  • "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    صحرائے چولستان جنوبی پنجاب میں موجود صحرا ہے جو سندھ کے صحرائے تھر اور بارڈر کے دوسری طرف انڈیا کے صحرائے راجستھان سے ملتا ہے. جنوبی پنجاب میں ہی پنجاب کا دوسرا صحرا "تھل” بھی واقع تھا.

    تھل کا صحرا کہ جس کو "تھل” نہر کے پانی سے سیراب کرکے آباد کیا جاچکا ہے اور اب خوشاب، میانوالی، لیہ اور بھکر کے علاقوِں میں ریت کے ٹیلوں سے ہی یہاں صحرا کا گمان ہوتا ہے جبکہ بیشتر زمینیں کاشتکاری کے اور دیگر مقاصد کے لیے کارآمد بنائی جاچکی ہیں.

    جبکہ چولستان کا صحرا بہاولنگر کے علاقوں سے شروع ہوکر، بہاولپور سے ہوتا ہوا رحیم یارخان سے سندھ کے صحرائے تھر سے مل جاتا ہے. ماضی میں یہ دریائے ہاکڑا کی بدولت یہ علاقہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صحرا بنتا چلا گیا.

    یہ صحرا بڑا اہم تجارتی روٹ تھا. اس صحراء میں موجود جابجا قلعے اسی تجارتی روٹ پر واقع تھے جن میں کچھ کی باقیات اور نشان ملتے جیسے رحیم یار خان میں بھاگلہ قلعہ وغیرہ ہیِں جبکہ کچھ اپنی حالتوں میں موجود ہیں جیسے بہاولپور میں دراوڑ قلعہ ہیں.

    گزشتہ دنوں میں پڑنے والی شدید گرمی اور بارشیں نہ ہونے کے باعث "ٹوبوں” میں موجود تالابوں وغیرہ میں پانی خشک ہوگیا جس کے باعث جانوروں کو پانی نہ ملنے سے جانوروں کے ہلاک ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سینکڑوں جانور ہلاک ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے غذائی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے.
    اب کیفیت یہ ہے کہ مسلسل خشک سالی کے باعث جانور تو جانور انسان بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور انتہائی مجبوری کے عالم میں وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے.

    ایسے میں ہمشیہ کی طرح سے پاکستان کے رفاہی اور مددگار میدان میں آچکے ہیں اور پانی کے ٹینکرز اور خوراک کے ساتھ اللہ اکبر تحریک کے رضاکار ابتدائی امداد لے کر پہنچ چکے ہیِں گو کہ یہ بہت زبردست ہے لیکن یہ مدد فی الحال ناکافی ہے لہذا پوری قوم کو اس مشکل وقت میں چولستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے.
    محمد عبداللہ

  • "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    عمران خان ایک چھوٹی سی کوشش ضرور تھی لیکن عقیدہ نہیں تھا. عقیدہ اللہ رب العزت کی ذات ہے اور وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے. وہ ذات اپنے بندوں کا نہ ساتھ چھوڑتی ہے اور نہ مایوس ہونے دیتی ہے. جہاں تک بات عمران خان کی ہے تو دیگر لوگوں کی طرح مجھے بھی عمران خان سے کئی ایک اختلافات تھے، بیڈگورنس، کمزور پلاننگ اور چلے ہوئے کارتوسوں کے ساتھ میدان میں اتر کر سبھی کو ہی للکار دینا یہ سیاسی خودکشی ہی تھی جو خان نے کی اور اس کا نتیجہ بھی توقعات کے مطابق نکلا.
    یار لوگ یا تو اس پورے سسٹم کو سمجھتے نہیں ہیں یا پھر عمران خان کو کچھ زیادہ ہی اوتار سمجھ بیٹھے تو اب رخصت ہوا تو مایوس ہوکر بیٹھ گئے ہیں. ہم نے نہ خان سے زیادہ توقعات باندھی تھی نہ ہم اتنے مایوس ہیں، ہاں دلگرفتہ ضرور ہیں کہ وہ ہوا کا اک تازہ جھونکا ثابت ہوا بھلے افکار سے ہی، اس نے غیرت و قومی حمیت کا درس دیا، سامراج اور یورپ کی ذہنی غلامی سے نکلنے کی ایک کوشش کی جس کا خمیازہ بھگت کر وہ واپس بنی گالا اور اپوزیشن بنچوں پر جاچکا ہے.
    پاکستان کا نظام سیاست چند ایک خاندانوں، اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور دیگر کئی فیکٹرز کے چنگل میں اس بری طرح سے جکڑا ہوا ہے کہ جو موجودہ نظام کی بھول بھلیوں سے آکر اس کو بدلنا چاہے گا اس کا حشر عمران خان ہے. آپ اس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں افراد سازی کریں، فقط اپنی ہی مضبوط ٹیم تیار کریں، اپنی پلاننگ اول دن سے زمینی حقائق کی بنیاد پر کریں. اقتدار کے لیے کوئی بھی کندھا استعمال کریں گے تو وہ کندھا وقت آنے پر آپ کو جھٹک دے گا.
    ہم امریکہ و روس کے فاتح ضرور ہیں لیکن امریکہ یورپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ہمت و حمیت ہمارے مقتدر لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے بھلے ہی ساری عوام "مرگ بہ امریکہ” کے راگ الاپے. یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکنز ادارے اور لابیز دنیا بھر میں حکومتیں بناتے اور بگاڑتے ہیں اس کے باوجود وہ بھی مات کھاتے ہیں اور کئی بار کھا چکے ہیں.
    اپنے مایوس لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ مایوسی سے نکلیں، نہ یہ دھرتی بانجھ ہوئی ہے اور نہ ہی مملکت خداداد پاکستان کو کچھ ہوا ہے. لاکھوں قربانیوں کے بعد رمضان المبارک میں اللہ رب العزت کے اس تحفے کا مستقبل یہ نہیں ہے کہ فقط خان کی ہار پر آپ مایوس ہوکر بیٹھ جائیں. عمران خان ہرگز بھی آخری امید نہیں تھا، وہ پہلا قطرہ تھا جو آئندہ والوں کی راہیں متعین کرگیا ہے کہ دریا میں اگر مگرمچھوں سے بیر پالنا ہے تو آپ کن چیزوں سے لیس ہونے چاہیں.
    باقی جہاں تک موجودہ سیاسی گدھ ٹولے کی بات ہے تو ان مفاد پرستوں سے کسی کو کوئی امید نہیں ہے یہ گِدھوں کا وہ گروہ ہے جو مردار کھانے کے لیے جمع ہوا ہے کل تک یہ سب ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹ رہے تھے آج اقتدار کے لیے باہم شیر و شکر ہیں. نہ کل یہ عوام اور ریاست پاکستان کے سگے تھے اور نہ ہی آج ان کے دل میں عوام اور ریاست کا درد ہے.
    پاکستان کی قوت آپ سے ہے. قیام پاکستان کی واضح مثال ہمارے سامنے ہے. اس وقت بھی سیاسی وڈیرے، مذہبی وڈیرے اور دیگر عوام بانی پاکستان محمد علی جناح کے خلاف تھے لیکن عام مسلمان جب کھڑا ہوا تھا گوکہ قربانیاں دینی پڑی تھیں لیکن پاکستان ملا تھا کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا.
    آج استحکام پاکستان کے لیے بھی آپ کو اٹھنا ہوگا. متحد ہونا ہوگا اور اس گندی سیاست کی بساط لپیٹ کر صاف ستھری انبیاء کرام والی سیاست کو رواج دینا ہوگا. وہ سیاست کہ جس میں خدمت انسانیت ہو، جس میں مظلوم کے ساتھ ظالم کے مقابل کھڑا ہونا ہو، جس میں نیکی کی بنیاد پر تعاون ہو اور جس میں عوام اور ریاست کی خیرخواہی ہو.
    اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

    محمد عبداللہ

  • "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    آج صبح میئو اسپتال لاہور میں جانا ہوا. وہاں OPD پر پرچی کے لیے لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں. خواتین کی لائن میں بھی خواتین کی کثیر تعداد تھی اچانک ایک کالے کوٹ اور سفید سوٹ میں ملبوس خاتون (ان کے میک اپ اور شکل پر تبصرہ نہیں کیونکہ وہ ذاتی معاملہ ان کا) لائن کو کراس کرتے ہوئے بالکل فرنٹ پر آن موجود ہوئیں. وہاں پہلے سے موجود خواتین جو بےچاری لمبے انتظار کے بعد آگے پہنچی تھی ان کو غصہ آیا اور انہوں نے "کالے کوٹ” والی محترمہ کو روکنا چاہا…
    اسی اثنا میں سیکیورٹی پر معمور نوجوان آگے آیا اور اس نے ان محترمہ سے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں تو محترمہ نے کہا میں نے پرچی بنوانی ہے. سیکیورٹی والے نوجوان نے کہا کہ باجی آپ لائن کے پیچھے تشریف لے جائیں اور اپنی باری پر آکر پرچی بنوائیں تو کالے کوٹ میں ملبوس خاتون نے جو جواب دیا وہ "آب زر” سے لکھوا کر ہر عدالت اور ہر وکلاء بار کے دروازوں پر آویزاں کرنے کی ضرورت ہے …

    محترمہ نے باآواز بلند "فرمایا” بلکہ دھاڑا کہ ” میں ایڈووکیٹ ہوں میں اب لائن میں لگوں گی کیا” ….

    قانون پڑھنے پڑھانے والوں، قانون کی بالادستی کے نعرے لگانے والوں اور قانون کی کمائی کھانے والوں کا یہ وہ رویہ ہے جو قدم قدم پر آپ کو باور کرواتا ہے کہ وہ "اعلیٰ ارفعٰ” ہیں اور باقی عوام کمی کمین ہے. یہ جب چاہتے جہاں چاہتے بدمعاشی شروع کردیتے ہیں. پنجاب انسٹیوٹ پر ان کا حملہ ایسے تھا جیسے کوئی فاتح لشکر کسی مقبوضہ علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجاتا ہے.
    یہ رویہ درست ہوئے بغیر معاشرے کی اصلاح اور ترقی ناممکن ہے. کوئی قانون ان قانون دانوں کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے بھی ہونا چاہیے.

    محمد عبداللہ

  • "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    آج سولہ دسمبر ہے سقوط ڈھاکہ اور سقوط پشاور کی یاد دلاتا یہ دن ایک ایسا گھاؤ ہے سانسوں کے بند ہونے کے بعد ہی شاید مندمل ہوسکے. شہادتوں پر افسوس نہیں ہے شہادتیں تو ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہیں.
    شہادتیں تو تحاریک اور جذبوں کو جلا بخشتی ہیں. وہ شہادتیں البدر و الشمس کے نوجوانوں کی ہوں یا آرمی پبلک اسکول کے معصوم پھولوں کی، وہ لہو بڑا ہی مقدس ہے وہ وردی پہنے نوجوان کا ہو یا کشمیر کی وادیوں میں بغیر وردیوں کے لڑنے والے مجاہدین کا…
    دکھ اور سانحہ تو اس بات کا ہے کہ آج کے دن ملک دو لخت ہوا . بھائی بھائی کا دشمن ہوا، پاکستان سے وفا کی پاداش میں ہزاروں مردوں کا خون بہا تو ہزاروں خواتین کی عصمت دری ہوئی. دشمن کو موقع ملا اور اس نے کھل کر تقسیم برصغیر کا بدلہ لیا.
    ان سب سے بڑھ کر غم انگیز بات یہ ہے کہ افواج پاکستان کو شکست ہوئی اور شکست بھی ایسی کہ ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالےگئے. اور ہزاروں پاکستانی فوجی، سرکاری عملہ، سول لوگ مکار دشمن کے قیدی بن گئے.
    اسلامی تاریخ میں یوں اسلامی فوج کا ہتھیار ڈالنا یہ بہت کم ہی ملتا ہے. یہی وجہ ہے کہ زیادہ دکھ یہی بات دیتی ہے کہ ہم تو عجب شان سے جیا کرتے ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ پاکستانی فوج نے کوئی بزدلی دکھائی بلکہ بھارتی فوج کے جرنیلوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی فوج اپنے بیس کیمپ سے دور کم اسلحے اور سازوسامان کے باوجود بہادری اور دلیری سے لڑی.
    لیکن میدانوں کی جنگیں ہم نے اکثر ہی میزوں پر ہاری ہیں تو سیزفائر کی قرار داد کو پھاڑ کر بھٹو نے اس شکست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی وگرنہ سیز فائر کے آپشن سے اس شکست سے بھی بچا جاسکتا تھا اور ہزاروں سول و ملٹری کی شہادتوں کے بغیر بھی سیاسی حل ہوسکتا تھا.
    اکہتر کا دوش سارے کا سارا مجیب الرحمن کو دینا قطعاً ناانصافی ہے. ایوب دور اور اس سے پہلے ادوار میں مشرقی پاکستان کے لوگوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافیوں، بیوروکریسی کوٹہ کی دھجیاں، زبان کا مسئلہ، انتہا کی غربت اور اس کوئی حل نہ ہونا، جنرل یحیٰ کے بیوقوفانہ فیصلے اور پھر جاکر بھٹو مجیب کی اقتدار کی ہوس اور اس کے لیے باہمی گٹھ جوڑ یہ وہ عوامل تھے جن کو دشمن نے استعمال کیا اور وہ دن دیکھنا پڑا کہ سر شرم سے جھکے جاتے تھے.
    بنگلہ دیشی عوام سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہے وہ ہمارے بھائی ہیں ہمیں ان سے آج بھی اتنی ہی محبت ہے ہم ان کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں. ہمارا دشمن مشترکہ ہے اور وہ ہے انڈیا جس کو مسلم کی ترقی و بالادستی اس خطے میں کسی بھی صورت قبول نہیں ہے.
    پاکستان اور بنگلہ دیشی عوام، سیاستدانوں اور سربراہان کو چاہیے کہ تاریخ کے غمناک ابواب سے سبق سیکھ کر لازوال دوستی کا ہاتھ تھامیں اور اس دوستی کی بنیاد پر اس خطے میں بھارت کی تنہائی کے تابوت میں کھیل ٹھونکیں…
    بھارت کی بدحواسیاں یوں ہی نہیں ہیں ان کو نظر آرہا ہے کہ امریکہ اس خطے سے شکست کھاکر دفعان ہوچکا ہے جبکہ چین بھارت کے سبھی ہمسائیہ ملکوں میں بھاری سرمایہ کاری کرکے ان کو ایک لڑی میں پرو چکا ہے. اب اس میں بڑا کردار پاکستان اور بنگلہ دیش ادا کرسکتے ہیں.
    محمد عبداللہ

  • سینیٹر (ر) جاوید جبار کی ڈاکومینٹری "Separation Of East Pakistan The Untold Story” تحریر: محمد عبداللہ

    سینیٹر (ر) جاوید جبار کی ڈاکومینٹری "Separation Of East Pakistan The Untold Story” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ شب پیکجز مال لاہور میں سابقہ وزیراطلاعات و ریٹائرڈ سینیٹر جاوید جبار کی مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ڈاکومینٹری "Separation Of East Pakistan The Untold Story” کی سکریننگ تھی. ڈامینٹری میں جاوید جبار، شرمیلا بوس، مجیب شامی، ڈاکٹر عائشہ جلال و دیگر ماہرین کی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب و واقعات پر حقائق سے مزین مفصل گفتگو تھی.
    مشرقی پاکستان کی وجوہات کے نام پر ہونے والے پراپیگنڈوں، مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں افواج پاکستان کے کردار، ایوب خان کے مارشل لا اور بعد ازاں جنرل یحیٰ کے دور کی غلطیوں، سیاستدانوں بالخصوص شیخ مجیب، مسٹر زیڈ اے بھٹو و دیگر کے کردار، مشرقی پاکستان کے لوگوں کی محرومیوں پر مفصل گفتگو تھی.
    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے موقع پر مکتی باہنی، بھارتی افواج، بھارتی میڈیا، بھارتی سیاستدانوں کے کردار پر بھی کھل کر بات کی گئی اور حقائق سے واضح کیا گیا کہ یہ پلاٹ کس کا تھا اور کس نے اس میں کیا کردار ادا کیا.
    بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں کے افواج پاکستان کے بارے میں جھوٹے پراپیگنڈوں مثال کے طور پر سانحہ مشرقی پاکستان میں کل کتنے لوگ تہ تیغ ہوئے اور ان کو قتل کرنے والی پاکستانی فوج تھی یا کوئی اور… سانحہ مشرقی کے وقت خواتین کی آبروریزی کے واقعات کی تعداد، ریپ کن کا ہوا اور کن مجرمان نے کیا، مشرقی پاکستان میں پاکستان کی مسلح افواج کی تعداد کتنی تھی، شہید کتنے ہوئے اور بھارتی قید میں جانے والے فوجیوں کی تعداد کتنی تھی… ان سبھی پراپیگنڈوں پر کھل کر بات ہوئی.
    ڈاکومینٹری کے آخر پر جو سابقہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کے لوگوں سے کی جانے والی استدعا اور میسج بھی اچھا اور مناسب تھا اور ریاست پاکستان کی بنگلہ دیش بارے آئندہ پالیسیوں کا مظہر تھا.
    سولہ دسمبر 2021 کو اس ڈاکومینٹری کو یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کردیا جائے گا. یقیناً ایک اچھی کاوش ہے جو جاوید جبار اور ان کی ٹیم کی محنتوں کا ثمر ہے. احباب لازمی اس کو دیکھیں.

  • "امیریکی اسکولز میں فائرنگ کے پےدرپے واقعات” رپورٹ: محمد عبداللہ

    "امیریکی اسکولز میں فائرنگ کے پےدرپے واقعات” رپورٹ: محمد عبداللہ

    امریکی ریاست مشی گن کے ہائی اسکول میں گزشتہ روز ایک لڑکے کی فائرنگ سے چار طلباء ہلاک اور سات شدید زخمی ہوگئے. ہلاک ہونے والے طلباء کی عمریں 14, 15 اور 16 سال تھیں. سولہ سالہ طالب علم اسپتال لے کر جاتے ہوئے گاڑی میں دم توڑ گیا. زخمیوں کی حالت بھی نازک ہے. زخمیوں میں ایک 14 سالہ طالبہ بھی شامل ہے جس کی صورتحال انتہائی نازک بتائی جارہی ہے اور اس کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے.
    امریکہ کے اسکولوں میں فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے صرف سال 2021 میں امریکہ کے مختلف شہروں میں فائرنگ کے 26 واقعات ہوچکے ہیں. ان 26 واقعات میں 13 طلباء و طالبات اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ فائرنگ کے ان واقعات میں 51 طلبا و طالبات زخمی ہوچکے ہیں. ان میں سے کئی زندگی بھر کے لیے معذور ہوچکے ہیں.
    سال 2020 میں امریکی اسکولوں میں حملوں کی تعداد 8 تھی اور ان میں مارے جانے والے طلباء و طالبات کی تعداد 5 جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 7 تھی. اب 2021 میں یہ ان حملوں کی تعداد 26 ہوچکی ہے. یہ وہ حملے ہیں صرف اسکولز کے اندر طلباء و طالبات پر فائرنگ کی شکل میں ہوئے. اگر ہم چاقو اور دیگر حملوں کی بات کریں تو اعداد و شمار بہت حد تک بڑھ جائیں گے.
    امریکہ جو پوری دنیا کی سیکیورٹی اور امن کا ٹھیکدار بنتا ہے اور امن کے نام پر آدھی دنیا میں قتل و غارت گری کا طوفان بدتمیزی برپا کرتا رہا ہے یہ اس کے اسکولز کی حالت زار ہے کہ اسکولز کی چار دیواری کے اندر طلباء آٹومیٹک ہتھیار لے آتے ہیں اور اپنے ہی ہم جماعتیوں اور اسکولز کے طلباء و طالبات کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں.
    محمد عبداللہ

  • "ڈپریشن کی ابتدا کے اسباب اور حل” تحریر محمد عبداللہ

    "ڈپریشن کی ابتدا کے اسباب اور حل” تحریر محمد عبداللہ

    اپنے آپ کو وقت دینا اس دور جدید کا سب سے مشکل بلکہ ناممکن سا کام بن چکا ہے. اہل و عیال، امور معاش، دوست احباب، سماجی رسوم و رواج اور دیگر امور میں انسان اتنا الجھا ہوتا کہ اپنے آپ سے دور سے دور ہوتا چلا جاتا ہے. ان کاموں سے کچھ فرصت ملتی ہے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہمارے وقت اور توجہ کے لیے منہ کھولے کھڑے ہیں.
    اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے جسم اور روح توجہ نہ ملنے کے باعث الجھ جاتے ہیں. جسمانی طور پر وزن کا بڑھنا اور جسم کا مختلف بیماریوں میں گھر جانا عام سے عام ہوچکا ہے. ہمارے ” امیون سسٹم”اس حد تک کمزور ہوچکے ہیں کہ ادھر موسم تھوڑا سا بدلتا نہیں ادھر ڈاکٹرز کے کلینکس کی پارکنگ تک میں جگہ نہیں ملتی…
    روحانی اورذہنی طور پر نقصانات اس سے بھی زیادہ ہوتے کہ بےسکونی، عدم برداشت اور ڈپریشن جیسے خطرناک مرض اپنی جگہ بنا لیتے اور رفتہ رفتہ بندے کو کھوکھلا کر دیتے ہیں. ڈپریشن اس دور جدید میں اس حد تک عام ہوچکا ہے کہ جس سے بھی پوچھو گے وہ ہی اس مرض کا شکار ملے گا.
    ان سب کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ اپنے آپ سے دوری ہے. اپنے آپ کو وقت نہ دینا، اپنے آپ کو توجہ نہ دینا سب سے بڑی غفلت ہوتی جو انسان کو بہت دور تک لے جاتی ہے.
    انسان کی مناسب جسمانی، روحانی اور ذہنی صحت کے لیے اچھا مطالعہ، ورزش، عبادات وغیرہ انتہائی ضروری ہیں. ہمیں اپنے مشینی شیڈول سے ان تین کاموں کے لیے باقاعدہ وقت نکالنا ہوگا. اپنے آپ کو توجہ دینی ہوگی کیونکہ جسمانی، روحانی اور ذہنی طور پر اچھی صحت کا براہ راست اثر آپ کے کام، آپ کے تعلقات وغیرہ پر پڑتا ہے.
    محمد عبداللہ