فیسبک ٹائم لائن پر کئی احباب کی تحاریر دیکھی ہیں جن میں جمعہ کے خطبہ، واعظین کے انداز بیان، سلیقہ گفتگو وغیرہ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے. یہ بات واقعی ہی حقیقت رکھتی ہے کہ واعظین کے سلیقہ گفتگو اور موضوعات کے انتخاب پر لازمی طور پر بحث ہونی چاہیے اور ان کو دونوں چیزوں کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.
بشمول میرے اکثر احباب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جمعہ کی نماز وہاں پڑھی جائے جہاں پر خطبہ دینے والا دھیمے مزاج میں گفتگو کر رہا ہو اور اس کی گفتگو کا موضوع ہمارے مسائل معاملات لیے ہو تاکہ ہم دلچسپی سے سن سکیں. وگرنہ تو جمعہ کے خطبہ کے دوران نیند معمول بنتی جا رہی ہے.
ہم ڈی ایچ اے فیز تھری کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرتے رہے ہیں وہاں پر خطبہ دینے والے مولانا صاحب نے مجال ہے جو کبھی اپنے موضوع سے ہٹ کر بات کی ہو، یا موضوع کو ہی بہت زیادہ پھیلادیا ہوکہ بعد میں سمیٹنا مشکل ہوجائے اور عام موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کبھی مائک پھاڑا ہوا یا شدت جذبات سے ڈائس پر مکے مارے ہوں. ایسی بہت ساری مساجد اور وائطین دیکھے ہیں لیکن تاحال ہزاروں ایسے ہیں جو پورے ہفتہ کے غصے اور جذبات کے اظہار کے لیے جمعہ کے خطبہ کو بہترین خیال کرتے ہیں.
مثال کے طور آپ نے بیان کرنا ہے کہ مسواک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آپ نے اس کی تاکید بیان کی ہے تو یہ بلکہ دھیمے انداز میں خوبصورت الفاظ کے ساتھ نرمی سے بیان ہوسکتا ہے اب مسواک کو اس طرح شدت سے "مسسسسسوااااااااااااااک” کہنے سے لوگ جمعہ چھوڑ کر مسواکیں خریدنے تھوڑا چلے جائیں گے.
آپ جنت کے موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں تو جنت جتنی پیاری ہوگی ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن بعض وائظین ایسے گلہ پھاڑ انداز میں "جنت” لفظ کو کھینچتے ہیں ڈر لگنے لگ جاتا کہ جنت ہی ہے نا جس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں شوق پیدا کیا کرتے تھے.
ایک اور بڑا ایشو جمعہ کے خطبہ کے لیے موضوعات کا انتخاب اور اس کی تیاری ہے. معاشرے میں مسائل کیا چل رہے ہیں، نوجوان کن مسائل میں الجھا ہوا ہے، والدین کے ایشوز کیا ہیں. اگر عالم دین کو سامنے بیٹھے لوگوں کے معاملات و مسائل سے آگاہی اور وہ اس ترتیب میں موضوع کا انتخاب اور اسکی باقاعدہ تیاری کرے تو مجال ہے اس کی مسجد کا رش اور لوگوں کی دلچسپی کم ہو.
لوگ موٹیویشنل اسپیکرز کو کیوں سنتے ہیں وجہ ہے کہ وہ ان کے مجموعی اور انفرادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی امید دیتے ہیں. حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ محلے کی مسجد کا خطیب سب سے بڑا موٹیویشنل اسپیکر ہونا چاہیے اور ہوتے بھی ہیں. وہ لوگوں کو امید دے، شوق دے اور سوشل ہو اور سوشل ایکٹیویٹیز میں لوگوں کے ساتھ چلے.
محمد عبداللہ
Author: محمد عبداللہ

"رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی” تحریر محمد عبداللہ

"بارہ ربیع الاول اور دل گناہگار کی آرزوئیں” محمد عبداللہ
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں مبعوث ہونا ہمارے اوپر اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے جس کا تذکرہ اللہ نے قران مجید میں بھی ان الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے لقد من اللہ علی المومنین "لقد من الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة” اس بات پر جتنا بھی خوش ہوا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن اس خوشی کے منانے میں آپے سے باہر نہ ہوا جائے.
جبکہ ہجری کیلنڈر کے مطابق آج کے دن نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخصت ہوجانا مدینہ میں قیامت ڈھا گیا تھا. ایک تابعی بیان کرتے ہیںمیں مدینہ پہنچا تو ہر طرف آہوں اور سسکیوں کا سماں تھا۔ میں نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ لوگ کہنے لگے : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رخصت ہو گئے ہیں!“
ہمیں بھی اسی بات کا غم کہ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ دیدار ہوا نہ آپ کی آواز سن سکے، نہ آپ کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر دین سیکھ سکے.نہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سالاری میں کفر پر چڑھائی کرسکے، نہ کسی سفر میں آپ کے ہمرکاب ہوپائے.
مسجد نبوی کے کچے صحن پر اپنے محبوب پیغمبر کے ہمراہ رب العالمین کے سامنے سربسجود نہ ہوسکے. بدر و احد میں حنین و احزاب میں، مکہ و تبوک میں آپ کے جانثار بن کر آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے نہ لڑ سکے، اپنی جان آپ پر نہ وار سکے. ابوبکر و عمر اور عثمان علی رضی اللہ عنھم اجمعین کے ساتھی نہ بن سکے.
لیکن ان تمام غموں کو جو بات دور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حوض کوثر پر آپ کے ہاتھوں سے جام پیئیں گے. روز محشر آپ کے جھنڈے تلے جنت میں جائیں گے. جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقاتیں ہونگی.
جنت میں آپ کے سامنے دوزانو بیٹھ کر آپ سے ہجرت کے واقعات سنیں گے. بدر میں اللہ کی مدد کے احوال سنیں گے، احد میں آپ کی استقامت کی داستان سنیں گے. آپ سے آپ کی دعوتی زندگی کے انداز سنیں گے. آپ کا مسکرانا دیکھیں گے. آپ کی شفقت و محبت سے فیضیاب ہونگے. ان شاءاللہ
لیکن ان سعادتوں کو حاصل کرنے کے لیے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنانا پڑے گا سجود و قیام کی کثرت سے جنت میں آپ کا ساتھ حاصل کرنا پڑے گا. بلکہ بقول شاعر
گر جنت میں جانے کا ارادہ ہو تمامی کا
گلے میں پہن لو کرتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا
محمد عبداللہ
ففتھ کالمسٹ اور پاکستان از قلم محمد عبداللہ
"ففتھ کالمسٹ اور پاکستان”
قوموں کی زندگی میں نظریے، اعصاب، یقین اور وفاداری کی جنگ سب سے مشکل ترین ہوتی ہے. آفات و مصیبت اور ہنگامی حالات کے وقت بےیقینی ہی سب سے بڑا دشمن ثابت ہوتی ہے. ایسے موقع پر اعصاب کو مضبوط رکھنا، نظریے پر مستحکم رہنا اور ملک و ملت سے وفادار رہنا ہی سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے. ایسے کٹھن حالات میں لائق تحسین ہوتے ہیں وہ افراد اپنی قوم کے یقین کو ڈگمگانے نہیں دیتے.
لیکن ننگ دیں ننگ وطن ایسے بھی ہوتے ہیں جو دشمن کی افواج کے ہتھیار پکڑے سپاہی نہیں ہوتے لیکن وہ ویسے ہی آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسے دشمن افواج ہوتی ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے دشمن بیرونی ہوتا اور آپ کے جغرافیے اور طاقت کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ یہ لوگ اندرونی ہوتے ہیں اور نظریے اور یقین کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں.
ایسا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ دشمن کے تربیت یافتہ جاسوس ہوتے ہیں اور خاص مواقع یا حالات میں ان کو آپ کے اندر چھوڑا جاتا ہے بلکہ یہ انہی معاشروں میں موجود ہوتے ہیں. ان کا تعلق میڈیا اور صحافی برادری سے بھی ہوسکتا ہے، سیاسی جبوں اور دستاروں کے پیچھے بھی اصلیت چھپائے ہوسکتے ہیں، اعلیٰ عہدے پر فائز افسر یا بیوروکریٹ بھی ہوسکتے ہیں، منبر و محراب کی آڑ میں بیٹھے علماء اور مولانا حضرات بھی ہوسکتے ہیں اور قوم کو سبق دیتے استاد و دانشور بھی ہوسکتے ہیں.
دنیا ان کو ففتھ کالمسٹ کے نام سے جانتی ہے. یہ دشمن کی فوج کا باقاعدہ دستہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ اسی فوج کا پانچواں کالم ہوتے ہیں جو اپنے ہی معاشروں میں رہتے ہوئے ننگ دیں اور ننگ وطن کا کردار ادا کرتے ہیں. یہ انفرادی یا گروہی حیثیت میں افراد کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جو اپنے ہی ملک و معاشرے کی نظریاتی جڑیں کھودنے پر جتا ہوتا ہے. کٹھن اور مشکل حالات میں قوم کو اعصابی طور پر کمزور کرنے اور دشمن کی بالادستی تسلیم کروانے میں اہم کردار انہی کا ہوتا ہے.
پاکستان کے قیام سے لے کر تاحال جب بھی قوم و ملت میں کوئی کٹھن وقت آیا آپ کو یہ طبقہ نظر آیا ہوگا جو بجائے قوم کو متحد کرکے ان سازگار حالات کو بہتر بنانے کی طرف کوشش کرے بلکہ عین ہنگامی اور جنگی حالات میں یہ طبقہ قوم کے اعتماد و یقین کو ڈگمگاتا نظر آئے گا. دشمن کے "پےرول” پر موجود طبقہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کے اندر موجود ہوتا ہے اور اندر سے وار کرتا ہے جو خاصا مہلک ثابت ہوتا ہے.
ایسے لوگوں کو پہچاننا قطعاً بھی مشکل نہیں ہے. مثال کے طور پر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے عین وقت پر دورے سے انکار اور بعد ازاں انگلینڈ کے بھی انکار پر آپ دیکھیں کونسا طبقہ تھا جو بغلیں بجا رہا تھا، وہ کون لوگ تھے جو اس مشکل ترین وقت میں قوم کو مزید مایوس کر رہے تھے، وہ کون تھے جو ریاست پر عوام کے یقین و اعتماد کو کرچی کرچی کر رہے تھے جی یہی لوگ ففتھ کالمسٹ تھے ان کو پہچانیے اور ان کو اپنی صفوں سے نکالیے.
Muhammad Abdullah
"افغانستان کا پرچم پکڑے نوجوان کو تھپڑ نہیں مارا جانا چاہیے تھا” تحریر: محمد عبداللہ
"مینار پاکستان ایشو، افغانستان پرچم پر تھپڑ اور ہمارا سوشل میڈیا”
ہر بندے کی ہر ایشو پر اپنی رائے ہوتی ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے اور اگر اس پر تنقید بھی ہو تو احسن انداز میں ہونی چاہیے لیکن بطور قوم ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر ایشو پر ہم کئی طبقات میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے پر گولہ باری شروع کردیتے ہیں جو نہ تو مہذب لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ ہی کوئی احسن کام ہے.
حالیہ لاہور مینار پاکستان پر پیش آنے والا واقعہ بھی کچھ ایسے ہی نتائج چھوڑ کر گیا ہے. آپ لڑکی کے عمل اور لباس پر تنقید کریں ضرور کریں لیکن چند اوباشوں کے اس کے ساتھ گھٹیا سلوک کو کسی طور بھی "جسٹیفائی” نہیں کیا جاسکتا وہ حد درجہ غلط ہے غلط ہے.
ایسے ہی اس واقعے اور اس جیسے دیگر واقعات کو جواز بنا کر پورے پاکستان معاشرے کے مردوں کو غلط ، بھیڑیا اور دیگر برے القاب سے پکارنا بھی کسی طور درست نہیں ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاشرے میں بعض درندے واقعی ہی انسان کھال میں جنسی جانور ہیں لیکن مجموعی صورتحال میں یہ معاشرہ ایک عورت کے لیے دنیا بہت سارے ممالک اور معاشروں سے ہزار درجے بہتر ہے.
اسی طرح ایک اور واقعہ ہمارے ہمسائیگی میں پیش آیا ہے جس کی ویڈیو تقریباً آپ سب نے بھی دیکھی ہوگی اور اس کو بغیر کسی توجیہ کہ بڑا خوش ہوکر شیئر کیا جا رہا ہے. واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ "اسٹوڈنٹس” کا ایک رکن افغانستان کا پرچم تھامے نوجوان کو تھپڑ مار کر اس سے افغانستان کا پرچم لے کر گاڑی میں رکھ دیتا ہے.
دیکھیے پرچم کسی بھی ملک کا ہو اس کے لوگوں کی اس کے ساتھ محبت اور انسیت ہوتی ہے. افغانستان کے ایشو میں جب تک "اسٹوڈنٹس” کی باقاعدہ حکومت قائم نہیں ہوجاتی اور وہ اپنے سفید کلمے والے پرچم کو قومی و سرکاری پرچم قرار نہیں دے دیتے تب تک وہ پرچم ایک جماعت کا پرچم ہے اگرچہ وہ جماعت ملک میں فاتح جماعت ہے.
"اسٹوڈنٹس” نے پورے ملک اور بالخصوص کابل کی فتح کے بعد عام معافی کا اعلان کرکے، لوگوں کی مال و جائداد اور گھروں میں داخل نہ ہونے کا حکم دے کر، بہترین رویے سے پیش آکر جو بہترین "سافٹ امیج” بنایا ہے جو درحقیقت اسلام کا حقیقی چہرہ ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے اور لوگ ان کے حق میں لکھنے اور بولنے پر مجبور ہوچکے ہیں.
میری رائے میں پرچم والے ایشو پر اتنی سختی اور تشدد غیرضروری اور غیر مناسب ہے الا یہ کہ آپ کا پرچم قومی اور سرکاری پرچم قرار دے دیا جائے. ایسے واقعات منافرت اور عدم برداشت کو ہوا دیں گے جو مسائل کا باعث بنے گی. اسٹوڈنٹس کی قیادت کو چاہیے کہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جائے تاکہ عوامی سطح کے منفی ردعمل سے بھی بچا جاسکے اور اپنے مخالفین کو بھی کوئی موقع نہ دیا جائے.
"کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ
حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت اور شب و روز پر اردو میں کوئی مستند کتاب جس کو پڑھا جا سکے یا پھر ہم نے فقط شہداء کی شہادتوں کے دنوں پر قصے کہانیوں سے سے ہی عوام کو بےوقوف بنا کر لڑوانا ہے؟
شہداء کی شہادتوں پر ماتم نہیں کیے جاتے ان کی سیرت کو اپنایا جاتا ہے، ان کے چنے ہوئے راستے پر چلا جاتا ہے.اسلام کے عظیم شہداء کے نام پر اسپیکرز پھاڑ کر دیہاڑی لگا انہی کے محبوب لوگوں پر طعنہ زنی کرکے لوگوں کو باہم دست و گریبان کروا کر آرام سے اپنے عشرت کدوں کی طرف چل دینا اسلام اور اہل بیت کی کوئی خدمت نہیں ہے.
دوسری طرف محرم الحرام کے مقدس اور شہادتوں کے مہینے میں کہ جس کی ابتداء ہی عمر ابن الخطاب کی شہادت سے ہوتی ہے اس مقدس مہینے میں اسپیکرز پر للکارے مارنے اور کتے و کافر کے نعرے مارنے سے بھی کوئی اسلام و صحابہ کرام کی خدمت نہیں ہوتی ہے.
اگر اسلام اور اسکو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کی واقعی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان سب کی سیرت پر کام کیجیئے. عوام کو بتائیے کہ ابوبکر و عمر کا اخلاق و کردار کیسا تھا. عثمان و علی کا سخاوت و انصاف کیسا تھا. نبی کے گھرانے سے صحابہ کرام کا تعلق کیسا تھا. حسن و حسین سرداران نوجوانان جنت کے شب و روز کیسے اور کہاں گزرتے تھے. ان کا بچپن و جوانی کیسی تھی، کردار کیسا تھا، لوگوں کے ساتھ معاملات کیسے تھے.
کوئی ہے جو ان سادہ لوح مسلمانوں کو بےوقوف بنانے سے باز آئے اور من گھڑت قصے کہانیوں سے نکل کر اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سیرت کی سچے اور سچے واقعات لوگوں کو پڑھائے اور پھر ان پر عمل پیرا ہوا جائے…..
"اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ ”
Muhammad Abdullah
جھنڈا عظمت و رفعت کا نشان ہے اس کی بےتوقیری نہ کریں از قلم محمد عبداللہ
"چودہ اگست کے موقع پر چھوٹی جھنڈیاں لگانا”
چھوٹی جھنڈیوں کے حوالے سے گزشتہ دنوں ایک پوسٹ کی تھی کہ اس کو لگانے سے گریز کریں تو اس پر کئی احباب نے میسجز کیے کہ جھنڈیاں لگانے میں کیا ایشو ہے تو دوستو ایشو کچھ نہیں ہے بس مسئلہ اتنا ہے کہ جھنڈا / پرچم کسی بھی قوم کی عظمت و رفعت کی علامت ہوتا ہے اور تبھی ہوتا ہے جب وہ کہیں گڑھا ہو، کہیں لگا ہو، ہواؤں میں فضاؤں میں لہرا رہا ہو.
لیکن وہی پرچم جا جھنڈا اگر زمین پر گرا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم وہ ملک اپنی عظمت کھوچکا ہے، کسی لشکر نے اس کو تاراج کردیا ہوا ہے. ویسے تو ہمارے ہاں ثقافتی یلغاریں ہی کافی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس دفعہ بھی چودہ اگست بارشوں کے سیزن میں آرہا ہے اور چودہ اگست سے اگلے ہی دن راستوں میں، گلیوں میں، نالیوں میں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر جابجا سبز ہلالی پرچم بےبسی کی علامت بنا پڑا ہوتا ہے.
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچپن کی یادوں کو تازہ کرنا اور نسل نو کو ان سے وابستہ کرنے کے لیے آٹے کی لیوی بنا کر جھنڈیاں لگانا کتنا دلچسپ اور محبوب عمل ہے. میرا اپنا بھی شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو جھنڈیاں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں. گزشتہ سال میں نے اپنی بیٹی عشال جو اس وقت اڑھائی سال کی تھی اس کے ساتھ مل کر سبز ہلالی جھنڈیوں سے پورے گھر کو سجایا تھا اور پورے کام میں عشال کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا. ایک ایک جھنڈی کو بڑی عقیدت سے تھام کر، چوم کر مجھے دے رہی تھی اورکبھی ان کو لیوی لگاتی تھی .
یقیناً آپ اور آپ کے بچے بھی ایسا کرنا چاہتے ہوں گے اور آپ کو حق حاصل ہے آپ ضرور کریں لیکن کوشش کریں کہ آپ کی لگائی ہوئی اک بھی جھنڈی کہیں نیچے گرکر پاؤں تلے نہ روندی جائے، وہ باسکٹ کا حصہ نہ بنے، وہ کوڑے کے ڈھیروں پر نظر نہ آئے، وہ نالیوں کے گندے پانی میں بےیارومددگار پڑی نہ رہ جائے.کیونکہ یہ سبز ہلالی پرچم ہمارے پیارے پاکستان کی رفعت و عظمت کا پرچم ہے، اس پرچم کے لیے ہزاروں نہیں لاکھوں قربانیاں ہیں. اس کی سربلندی کے لیے اس کے محافظ اپنی زندگیوں کو وار دیتے ہیں لیکن اس کو گرنے نہیں دیتے..
تو آئیے ہم بھی عزم کریں کہ اس پرچم کی سربلندی کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحتییں صرف کریں گے اور اس سبز ہلالی پرچم کو کہیں جھکنے یا گرنے نہیں دیں گے.
سدا رہنا پاکستان زندہ باد (ان شاءاللہ)
محمد عبداللہ
"آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ
پچھلے کچھ دن سیاحت کی غرض سے جنت ارضی کے آزاد ٹکڑے آزادجموںو کشمیر میں گزرے، جہاں اس جنت ارضی میں خوبصورت وادیاں، شوریدہ سر نالے، تند و تیز دریا اور برفون سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ مووجود ہیں وہیں محرومیاں، شکوے شکایات اور بعض جگہوں پر تو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے. سالہا سال سے جموں و کشمیر کے ان حلقوں سے منتخب ہوکر قانون ساز اسمبلی میں پہنچنے والے مراعات سے تو لطف اندوز ہوتے رہے لیکن جموں کشمیر کے شہریوں کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے.
ہمارا سیاحتی ٹور کا ہدف ویسے تو نیلم کو خوبصورت وادی اور اس میں موجود آبشاریں، جھیلیں وغیرہ تھیں لیکن جیسے ہی ہم کشمیر کی سرحد میں داخل ہوئے تو ہمیں ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی نظر آئی، ہر طرف انتخابی تصاویر اور نعروں سے مزین پوسٹرز اور بینرز لہراتے پھر رہے تھے تو ہم نے سوچا چلو سیاحت کے ساتھ ساتھ کشمیر کے انتخابات اور انتخابی مہم کو ہی تنقیدی و تعریفی نگاہوں سے دیکھتے جاتے ہیں. اس غرض سے نارووال سے کے انتخابی حلقوں سے لے کر نیلم تک سفر کیا اور دیکھا اس کے آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں.
بنیادی طور پر یہ انتخابات ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہورہے ہیں جن میں جموں اور مقبوضہ وادی کے مہاجرین کی نشستیں بھی شامل ہیں. کچھ انتخابی حلقہ جات نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور دیگر ان علاقوں پر بھی مشتمل ہیں جہاں جہاں مہاجرین کشمیر مقیم ہیں. اس سفر کے دوران تقریباً سبھی ہی حلقہ جات میں چکر لگا تو حالات ماڑے ہی نظر آئے. مہاجرین کے حلقوں میں ریاستی مہاجرین کے مسائل کا کسی کو ادراک نہیں، آزاد جموں کشمیر کے حلقوں میں بھی اب تک منتخب ہونے والوں نے الا ماشاءاللہ اپنی جائدادیں ہی بنائی ہیں.
ریاست آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بےشمار سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں. ان میں سے بڑی جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وہ جماعتیں ہیں جو باری باری حکومت بناچکی ہیں لیکن ان کے پلے سوائے بیانات اور بڑھکوں کے کچھ بھی نہیں ہے. ابھی بھی مریم نواز اور اس کے ہمنواء انتخابی جلسوں میں یہی بیان بازیاں کررہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو تو دودھ اور شہر کی نہریں بہائیں گے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ بی بی ابھی آپ کا ہی دور حکومت گزرا ہے اس میں آپ لوگوں نے کیا کرلیا راولا کوٹ جیسے علاقے میں بچوں کو پینے کے لیے 150 روپے کلو میں بھی دودھ میسر نہیں ہے.
اسی طرح پیپلز پارٹی کے حالات ہیں کہ بلاول بھی اپنے آپ کو کشمیر کا بیٹا کہلوانے کی کوشش میں خاصی بانسریاں بجاکر کر گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو حال پیپلز پارٹی نے سندھ کا کیا ہوا ہے اپنے دور حکومت میں وہی حال آزاد ریاست جموں و کشمیر کا بھی رہا ہے لیکن ابھی بھی وہ حکومت بنانے کے دعوے دار ہیں لیکن اس بار ریاستی عوام سیاسی طور پر قدرے باشعور ہے ہم نے دوران سفر صاف آواز سنیں کہ” نہ تو بلاول کشمیر کا بیٹا ہے اور نہ ہی مریم کشمیر کی بیٹی ہے دونوں مفاداتی پنچھی ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں”.
ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات بارے ایک بات زبان ذد عام ہے کہ پاکستان میں جس کی حکومت ہوتی ہے کشمیر میں بھی وہی پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو اس لیے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی اڑنے والے پنچھی اڑ کر تحریک انصاف کی ڈالیوں پر آ بیٹھے تھے. قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف بنائے گی لیکن جس طرح پاکستان میں تانگہ پارٹی بن کر حکومت میں آئی کچھ ایسا ہی حال کشمیر میں ہونے جارہا ہے. تحریک انصاف کی انتخابی کمپین انتشار کا شکار ہے حتیٰ کہ ابھی سے وزیراعظم کے لیے لڑائی شروع ہوچکی ہے ایسے میں وہ کشمیر و کی تعمیر و ترقی پر خاک توجہ دیں گے.
ریاستی انتخابات میں مسلم کانفرنس، تحریک لبیک و دیگر سیاسی پارٹیاں بھی سرگرم عمل ہیں لیکن ان کا ووٹ بنک ایسا نہیں کہ وہ کوئی کارنامہ سرانجام دے سکیں. مقبوضہ کشمیر میں پچھلے سال ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر بھی عوام میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے. ایسے میں ایک نئی سیاسی جماعت جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور آزاد کشمیر کو اس کا حقیقی بیس کیمپ بنانے کا نعرہ لے کر میدان عمل میں اتری ہے جو سب کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے.
جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نام سے معرض وجود میں آنے والی سیاسی جماعت نے آزاد جموں کشمیر اور ریاستی مہاجرین کی اکثر نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں. سوشل میڈیا پر ان کی مہم خاصی دکھائی دے رہی ہے. اس جماعت نے کئی ایک علاقوں میں کامیاب امتخابی جلسے اور ریلیاں بھی منعقد کی ہیں جس کی وجہ سے یہ عوامی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہے ہیں.
انتخابی سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہوئے جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواران کی مصروفیات دیکھیں وہاں جموں کشمیر یونائٹڈ موومنٹ کے امیدواران اور پارٹی قیادت سے بھی ملاقات رہی. ان کا ماننا تھا کہ گوکہ وہ ان انتخابات میں بہت زیادہ ووٹ تو نہیں لے سکیں گے لیکن ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی کو آزاد کروانا ہمارا بنیادی منشور ہے. ہم الیکشن جیت کر اسمبلی میں بیٹھیں یا الیکشن میں کم ووٹ لے سکیں ہم عوام سے رشتہ نہیں توڑیں گے.
آزاد جموں و کشمیر میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والے منجھے ہوئے سیاستدان سردار بابر حسین اس جماعت کے سربراہ ہیں ان کے ساتھ بھی اسی طرح کے تجربہ کار اور مخلص لوگ ہیں جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں یقین میں رکھتے ہیں. موجودہ انتخابات میں اپنی سرگرمیوں کے ساتھ وہ ریاستی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ پچیس جولائی کا سورج اپنے غروب کے ساتھ مظفرآباد کے تحت پر کس کو طلوع کرکے جاتا ہے.محمد عبداللہ
محمد عبداللہ
قدرت کا اک حسین تحفہ "رتی گلی جھیل” از محمد عبداللہ
آزاد جموں و کشمیر کےخوبصورت ترین مقامات میں سے ایک مقام "رتی گلی جھیل”.
ضلع نیلم میں واقع یہ خوبصورت مقام دواڑیاں سے 16 کلومیٹر بلندی پر واقع ہے. دواڑیاں تک اپنی گاڑی پر بھی جاسکتے اور لوکل بھی جاسکتے. دواڑیاں سے رتی گلی بیس کیمپ تک آپ کو جیپیں میسر آتی ہیں.
ویسے دواڑیاں سے رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک کا راستہ بذات خود بہت ہی دلکش راستہ ہے جو ایک تند و تیز پہاڑی نالے کے ساتھ ساتھ بلندی کی طرف چڑھتا ہے. اگر آپ کے پاس وقت ہو اور ہمت بھی ہو تو آپ دواڑیاں میں رات بسر کرنے کے بعد صبح سویرے پیدل سفر کا آغاز کریں اور نالے کے کنارے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شام تک رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک پہنچیں.
رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ پر اگر آپ رات گزارنا چاہیں تو وہاں خیمہ جات موجود ہیں جو مناسب کرائے میں آپ کی رات گزارنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں. رتی گکی سے علی الصبح آپ جھیل کی طرف چڑھنا شروع کریں آدھے راستے میں گلیشیئرز کے درمیان ایک چھوٹی جھیل آتی ہے. آپ اس کے کنارے سے ہوکر بلندی کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں.
یہاں پر فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں اور ان کے دامن میں موجود چراگاہیں آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی ہیں اور یہاں پر اکثر سیاِح غلطی کرتے ہیں جو ہم نے بھی کہ جگہ جگہ رک کر تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور جب بندہ پہاڑ کی چوٹی پر جیسے ہی پہنچتا تو سامنے کا منظر اتنا دلفریب ہوتا کہ کچھ لمحات تک تو بندہ مبہوت ہوکر رہ جاتا وہ منظر دیکھ کت بندہ سوچتا کہ یار نیچے جگہ جگہ کر تو وقت ضائع کیا. بیس کیمپ سے جھیل تک لے جانے کے لیے خچر اور گھوڑے بھی بیس کیمپ پر موجود ہیں.
جیسے ہی آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہیں تو سامنے گلشیئر ، اس عقب میں گلشیئرز سے ہی ڈھکی جھیل اور جھیل کے عقب میں تین اطراف سے جھیل کو گھیرے میں لیے ہوئے دیو ہیبت کالی کھڑی چٹانیں آپ کے سامنے موجود ہوتے ہیں.یہ منظر اتنا دلفریب اور حسین ہے کہ آپ کی زبان بےساختہ پکار اٹھتی ہے "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ”.
جون کے اواخر میں اس جھیل کا راستہ کھلتا ہے اور اگلی برفباری تک یہ راستہ کھلا رہتا ہے. جھیل تک قدرے مشکل ٹریک اور گلیشیئرز کی وجہ سے کم لوگ اس جھیل تک جاتے ہیں تو اس وجہ سے جھیل کی قدرتی خوبصورتی صاف ستھری حالت میں آپ کے سامنے موجود ہوتی ہے. البتہ دوست احباب کے ساتھ جانے والے انسان خالی بوتلیں اور ریپرز وغیرہ وہاں پھینک ہی آتے ہیں جو کہ ایک نامناسب عمل ہے. اگر سبھی ٹورسٹس تھوڑی سی کوشش کریں اور خالی بوتلوں اور ریپرز وغیرہ کو ڈال کر نیچے لے آیا کریں تو ان قدرتی مناظر کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے.محمد عبداللہ

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا، محمد عبداللہ
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا
گورنمنٹ مرے کالج میں زمانہ طالب علمی کی حسین یادیں، آج تبریز بھائی المعروف CR نے تصویر واٹس ایپ کی تو ایک دم سے جیسے آنکھوں کے سامنے ریل سی چل پڑی.. تبریز بھائی بتا رہے تھے کہ یہ نام آج بھی لکھے ہوئے ہیں. علی، عبدالرحمن، تبریز اور عمر (مابدولت کا نام ان دنوں عمر معروف تھا سوشل میڈیا پر تو یہی نام درخت پر بھی لکھا گیا) یہ نام ہم نے اپنے سیشن 2011-2015 کے دوران لکھے تھے.
مادر علمی گورنمنٹ مرے کالج میں گزرا ایک ایک دن روشن یاد ہے. مل کر شرارتین کرنا، بچوں کی طرح دروازوں پر جھولے لینا، پوری کلاس کا ٹرین بنا کر پورے کالج کا راؤنڈ مارنا، صبح کلاس کے شروع ہونے سے قبل اور کلاسز کے بعد بھی گروپ کی شکل میں کالج کا راؤنڈ مارنا اور ہوٹنگ کرنا.
وہ تبریز بھائی کا ہر روز یہ کہنا کہ "اچھا فیر میں چلا جے” اور ہمارے شرم دلانے پر اگلے دو گھنٹے بیٹھے رہنا. شاہ جی برادران کے قصے اور شرارتیں. ملک عبدالرحمن بھائی کا شیطانی کیمرہ جو کوئی بھی منظر اپنے اندر سموئے بغیر نہیں رہتا تھا. علی بھائی کی دلچسپ بحثیں. شہباز بھائی کتابی کیڑے کی کتابی باتیں…
وہ اساتذہ کی دلچسپ باتوں میں سے وارث چاند صاحب کے ساتھ پھڈا، ملک صہیب صاھِ کی روزانہ کی بنیاد پر مجھ سے "اندر کی باتیں معلوم کرنا. رائے صاحب کی شفقتیں، شعیب صاحب کی مسکراہٹ، ملک انور صاحب کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھنا اور سب سے بڑھ کر باللہ صاحب کے روم میں ان سے کلاس پڑھنا اور اس دوران ان کی ایک ایک حرکت جس پر ہم خوب ہنسا کرتے تھے.دیگر اساتذہ کرام کی محبتیں بھی سب…..
وہ میرا پیپر شروع ہونے قبل آنا اور آتے ہی سب کے فیوز اڑانا کہ پیپر میں تو فلاں سوال آرہا ہے اور فلاں نہیں … بالخصوص "پا انعم” کے کانسیپٹ خراب کرنا…کلاس کی گرلز طالبات کے اپنے قصے ،باتیں اور سب سے بڑھ کر ان کی آپس میں نت نئی لڑائیاں اور ہمارا ان لڑائیوں میں ہمارا فیول ڈال کر دور بیٹھ کر انجوائے کرنا…. وقار النساء اور انعم سلامت کی روزانہ کی بنیاد پر لڑائی ھاھاھا (جس کی وجہ کچھ بھی نہیں ہوتی تھی). جی آر کے ذکر کے بغیر تو شاید ہمارے گروپ کی یادیں اور ادھوری رہیں.
کیا حسین دن اور لمحات تھے کہ جن کی اب یادیں یادیں ہیں جو اچانک سے سامنے آجاتی جیسے اس درخت پر کنندہ ناموں کو دیکھ کر آگئیں جو ہم لوگوں نے لکھے تھے اور آج تک موجود ہیں.
محمد عبداللہ
"عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ
"عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟؟
"کشمیر ہماری شہ رگ ہے” بانی پاکستان محمد علی جناح کے یہ الفاظ عوام پاکستان کے کشمیر موقف کی ترجمانی کرتے ہیں. کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ساتھ دھڑکتے ہیں. پاکستان اور پاکستان اور پاکستانیوں سے کشمیر اور اہل کشمیر کے لیے جانوں کے نذرانے تک پیش کیے ہیں. قربانیوں کی ایک لمبی داستان ہے جس کو ہندو بنیے کی دوستی کی خاطر فراموش نہیں کیا جاسکتا.
کوئی بھول سکتا ہے کشمیر میں بھارتی مظالم کو تو بھول جائے، کوئی بھول سکتا ہے افواج پاکستان کے ہزاروں شہداء کو تو بھول جائے، کوئی ہندو بنیئے کے ہاتھوں قیام پاکستان سے لے کر اب تک لاکھوں پاکستانیوں کی شہادتوں کو بھول سکتا ہے تو بھول جائے لیکن خدارا اس قوم کو بھولنے کو نہ کہے… یہ کشمیر کاز سے جڑے ہر انسان کی برداشت کی آخری حد ہے.
ہر تھوڑے وقفے بعد عوام پاکستان کا نظریہ پاکستان اور کشمیر کاز پر ٹمپریچر چیک کرنے کو نئے نئے حربے و ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں. واللہ پاکستان کی عوام کشمیر پر کسی کمپرومائزنگ پالیسی، کسی ڈاکٹرائن یا فارمولے پر راضی نہیں ہوگی. کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ محمد علی جناح نے طے کیا تھا کشمیر پاکستان کی بقاء کا ضامن ہے. کشمیر کو بھارت کو دینا پاکستان کی گردن بھارت کے ہاتھ میں دے دینا ہے.
یہ ڈرامے یا ویب سیریز یہ امن کی آشائیں کس کی اجازت کے ساتھ لکھی اور ترتیب دی جاتی ہیں. کیوں ان کو روکا نہیں جاتا اور مستزاد یہ کہ موجود وجہ تنازعہ پاکستانی رائٹر عمیرہ احمد کی اسٹوری "دھوپ کی دیوار” جس میں نظریہ پاکستان کی دھجیاں اڑائی گئیں، کشمیر کاز کو یکسر فراموش کرکے بھارت سے دوستی اور امن کی پینگیں بڑھانے کی تلقین کی گئی، گندے پلید ہندو کو افواج پاکستان کے جوانوں کے برابر کا شہید کہا گیا یہ کس کی اجازت سے ہورہا ہے؟ کس نے اس کو لاجسٹک سپورٹ دی ہے. کس نے کراچی، لاہور، سوات اور کشمیر کے علاقوں میں اس سیریز کی شوٹنگ کی اجازت دی اور سپورٹ فراہم کی ہے.
کشمیر کاز اور نظریہ پاکستان سے جڑے لوگوں کے دل حد سے دکھی اس وقت ہوئے جب عمیرہ احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس نے 2019 میں افواج پاکستان کے ادارے ISPR کو اپنی اس کہانی کا مسودہ بھیجا تھا کہ آیا اس میں کہیں ترمیم کی ضرورت تو نہیں تو ادارے کی طرف سے اس کو بلا کر شاباش دی گئی اور مسودے کو من و عن اپروو کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں.
اس پر عوامی پریشر آیا محب وطن حلقوں سے آوازیں اٹھیں تو نیوز کو ایڈٹ کردیا گیا، عمیرہ کا ٹویٹر اکاؤنٹ بلاک کردیا گیا اور اس نے بیان بدل لیا یا بدلوا دیا گیا کہ یہ اس کی ذاتی تخلیق ہے وہ خود اس کی اچھے برے ہونی کی ذمہ دار ہے کسی نے اس کو نہ سپورٹ کیا نہ کسی نے اس کو قائل کیا یہ لکھنے کے لیے….
اداروں کو شفاف تحقیقات کرنی چاہیں کہ ان کا نام کیوں اورکس مقصد کے لیے استعمال ہوا کیونکہ کشمیر کاز اور نظریہ پاکستان پر سستی کے ساتھ اگر افواج پاکستان کا نام جڑتا نظر آتا ہے تو محب وطن حلقے اس پر شدید دکھی ہوتے ہیں. کشمیر کاز فقط کوئی چند رٹے رٹائے جملے یا نعرے نہیں یہ ایک تحریک ہے ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں اور کشمیریوں کا خون اس میں شامل ہے. کشمیر پاکستان کا مستقبل و بقاء ہے ہم ہرگز بھی اس ایشو پر کسی ذرا سی بھی سستی کے متحمل نہیں ہوسکتے.
محمد عبداللہ









