کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کے حوالے سے پنجاب کی سب سے بڑی مارکیٹ حفیظ سینٹر کا جہاں بیشتر حصہ جل گیا اور اربوں کا نقصان ہوا وہیں ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کی کمزوریاں اور کوتاہیاں بھی کھل کر سامنےآئیں صبح پونے پانچ لگنے والی آگ رات میں کہیں جاکر بجھائی جاسکی.
فائر برگیڈ کی اکثر گاڑیوں میں پانی ہی نہیں تھا ، اگر پانی تھا تو پائپ پھٹے ہوئے جس سے پانی کا پریشر ہی نہیں بن پا رہا تھا بیشتر گاڑیاں بےکار میں کھڑی تھیں اور ایک دو گاڑیاں آگے بجھانے میں مصروف تھیں.
سب سے اہم چیز جو ٹیکنیکل غلطی تھی جو فائر فائٹنگ کے بنیادی اصولوں میں ہے کہ الیکٹرانک کی اشیا اور مارکیٹ کو لگی آگ کو پانی سے بجھایا جا رہا تھا. پہلی بات تو یہ کہ الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو پانی سے بجھانا ہی بےوقوفی ہے کیونکہ اس سے آگ بجھتی نہیں اور بڑھک اٹھتی ہے چیز مکمل بےکار ہوجاتی ہے.دوسری بات جو چیزیں آگے کی حد سے باہر ہیں پانی کی بوچھاڑ میں وہ سب بھی بےکار ہوگئیں.
ہماری سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چیزوں اور اداروں کو اپڈیٹ کرنا ناممکن ہے یہاں پر البتہ کریڈٹ لینا سب کا من پسند مشغلہ ہے. گزشتہ دنوں میں موٹروے حادثہ میں بھی بجائے اس کے جائے وقوعہ پر پیٹرولنگ پولیس، ٹریفک پولیس کی عدم دستیابی پر بات ہوتی کریڈٹ لیا گیا کہ موٹروے ہم نے بنائی یہ وہ.
ایسے ہی حفیظ سینٹر کے تقریباً مکمل جل جانے کے بعد بجھنے والی آگ پر مبارکبادیں دی جارہی ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ ہم نے بنایا …حالانکہ بات اس پر ہونی چاہیے کہ فائر برگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے دیگر ذرائع کیوں نہیں ہیں، گاڑیوں میں پانی کیوں نہیں ہے، گاڑیوں کے پائپ کیوں پھٹے ہوئے ہیں. الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو بجھانے کے متبادل ذرائع اور آلات کیوں نہیں ہیں.
ہم نے وہاں کے دوکانداروں کو حفیظ سینٹر میں لگی آگ پر روتے دیکھا اور رونا بنتا بھی تھا کہ سالوں کی محنت آگ میں جل رہی تھی اور وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے لیکن اگر یہ یہ رونا حادثے سے قبل رو لیا جاتا تو نقصان اتنا نہ ہوتا. جن لوگوں نے حفیظ سینٹر کو وزٹ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں پر تاروں کے بچھے جال کس کیفیت میں، بجلی چوری کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں اور اس کے لیے لگائی گئی "کنڈیاں” بھی نظر آتی ہیں.
سب سے بڑھ کر اتنے بڑے پلازے میں، فائر الارمنگ سسٹم، فائر اسٹنگشورز اور فائر فائٹنگ کے آلات بھی نصب نہیں ہیں اور اگر فائر اسٹنگشورز ہیں تو ان کی ری فلنگ کیے ہوئے برس ہا برس بیت چکے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ آپ کھیل تو سکتے مگر آگ پر قابو نہیں پاسکتے. یہ انجمن تاجران حفیظ سینٹرز اور مالکان حفیظ سینٹرز کے کرنے کے کام تھے.
یہاں پر محکمہ تعمیرات اور بلڈنگز کی کاردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کیا کر رہے ہیں.اتنے بڑے بڑے پلازوں میں حفاظتی اقدامات پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی.
Author: محمد عبداللہ

حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ
ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
محمد عبداللہ
خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ
جانتے ہیں یہ مرد ریپسٹ کیسے بنتے ہیں ، خواتین اور بچے ان کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟؟
تحریر: محمد عبداللہجنسی ہراسگی، ریپ، زیادتی، تیزاب گردی، چھیڑچھاڑ یہ بڑے ایشوز ہیں جو خواتین کو پیش آتے ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن خواتین سوشل میڈیا پر شور کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو انباکس میں ہراساں کیا جا رہا. نہ صرف خواتین بلکہ چھوٹے بچے بھی ان شیاطین سے محفوظ نہیں ہیں. ہمارے ناران ٹور میں بڑی لمبی چوڑی بحث اس بات پر ہوئی کہ یہ حادثات پیش کیوں آتے ہیں. مختلف وجوہات پر بڑی مدلل بات ہوتی رہی. وہ وجوہات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ ہم ان کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے میں سے یہ جرائم بلکہ قبیح ترین حرکتیں ختم کرنے کی کوشش کرسکیں.
سب سے بنیادی بات والدین کی تربیت کی ہے جب والدین سے تربیت انسان کو بہترین ملے تو اس کے اندر شیطانیت پنپنے کے چانسز کم ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں سب سے بڑا ایشو یہی ہوتا ہے کہ والدین کی ساری زندگی بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزر جاتی ہے جبکہ بچوں کی تربیت کے لیے ان کے پاس ذرہ برابر ٹائم نہیں ہوتا.جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچہ اپنی ذات میں اکیلا ہوتا جاتا اور اگر اس کو دوستوں کی اچھی صحبت میسر نہ آئے تو اس بچے کا بگڑنا سو میں سے نوے فیصد طے ہوتا.
خواتین اور بالخصوص چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ ان ایشوز کے پیش آنے کی دوسری بڑی وجہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ماحول جو بظاہر ہمارے معاشرے کا حسن ہے لیکن بعض جگہوں پر جوائنٹ فیملی سسٹم سے مراد یہی ہوتا ہے کہ ہر انکل آنٹی اور ہر کزن کو کھلم کھلا چھوٹ ہوتی ہے ہر جگہ آنے جانے کی اور بچوں کو دکان، سکول، ٹیویشن وغیرہ پر لانے اور لے جانے کی. اسلام نے جو بنیادی محرم و غیرمحرم اور ان کی حدود مقرر کی ہیں لیکن جب ان حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا تو نتائج سنگین نکلتے ہیں. کتنی ہی چھوٹی عمر کی لڑکیاں اور لڑکے ایسے ہوتے جو رشتے میں لگنے والے چاچو، ماموں اور کزنز کی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں.تیسری بڑی وجہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن نہ دینا مسئلہ ہے جو تلخ واقعات کی وجہ بنتا ہے. اسی سیکس ایجوکیشن کی بنیاد پر ہمارا لبرل طبقہ بڑا سیخ پا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جانی چاہیے لیکن درحقیقت یہ سیکس ایجوکیشن والدین دے سکتے یا سگے بہن بھائی دے سکتے وہ بہتر بتا سکتے کہ گڈ ٹچ کیا ہے اور بیڈ ٹچ کیا ہے. جب ماں بیٹی کو بتائے گی کہ یر وہ ٹچ جو غیر محرم کہیں بھی کرے گا وہ حرام ہے اور غلط ہے تو اس کا فائدہ ہے لیکن جب سیکس ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں دی جاتی یے تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے بلکہ وہاں پھر لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی سے بننے والے حرام تعلق کو بھی گڈ ٹچ میں لیا جاتا ہے.
چوتھی بڑی وجہ اسلام کے پردے کے سسٹم کو نہ اپنانا ہے. آپ تعلیمی اداروں اور بالخصوص یونیورسٹیز میں جا کر دیکھ لیں لڑکیاں حدیث کے مصداق لباس پہننے کے باوجود بےلباس ہوتی ہیں اور اپنے اس عمل کے ساتھ نادانستگی میں درندہ صفت لوگوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ موقع ملنے پر ان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکیں جبکہ ان کی نسبت پردہ کرنے والی خواتین اکثر ان چیزوں سے محفوظ رہتی ہے.
ان کیسز کے پیش آنے کی پانچویں بڑی وجہ شادیوں کا لیٹ ہونا، نکاح کے لیے مسائل جب کہ بدکاری کے لیے سہولیات کا وافر ہونا بھی ہیں. لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی لمبی لسٹ اور لڑکی والوں کی طرف سے اپنی بیٹی کے مستقبل محفوظ کرنے کے نام پر جو فہرستیں بنائی ہوئی ہیں ہمارے معاشرے نے انہوں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا ہے جو نوجوانوں کو بغاوت کی طرف لے جاتا یے اور جس کا نتیجہ ہم ایسے کیسز کی صورت بھگتتے ہیں.
تعلیمی اداروں میں مخلوط ماحول جہاں بعض مثبت چیزوں کو جنم دیتا ہے وہیں پر حرام کے رشتوں کو بنانے کا موجب بھی بنتا ہے اور چھٹی بڑی وجہ یہی ہے. ہمارے تعلیمی اداروں میں کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جو بےچاری چند نمبرز کے لیے پروفیسرز اور کلاس فیلوز کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں. تعلیمی اداروں میں یہ واقعات عام ہیں یہ اور بات ہے کہ رپورٹ نہیں ہوتے.
ساتویں نمبر پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارے مدارس اور مساجد تک میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات ہیں جو ان کے مربی اور قران پڑھانے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے. یہاں پر بدقسمتی سے بڑا اعتراض آتا ہے کہ بچہ ہو یا بچی جب قران یا دین پڑھنے آتا ہے تو اس کا لباس بھی ٹھیک ہوتا اور آتا بھی مسجد یا مدرسے میں ہے جبکہ ریپ کرنے والا بھی قران کا قاری اور دین کا عالم ہے تو کیسے یہ واقعات پیش آتے ہیں. ہمارے مدارس، اسکولز اور مساجد میں ہمہ وقت سیکیورٹی کیمرے لگے ہونے چاہیں جن پر ذمہ دار بندوں کی نگرانی ہو. بچوں کو قراء حضرات کے پاس اکیلا ہرگز نہ چھوڑا جائے وہ چاہے مسجد میں ہوں یا گھر میں.
آٹھویں نمبر پر جو وجہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی وجہ ہے اور وہ ہے ان شدید ترین کیسز پر موثر سزاؤں کا نہ ہونا، کمزور عدالتی سسٹم کے باعث شکوک و شبہات کا فائدہ اٹھا کر مجرم کر بچ جانا یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو ان درندوں کو ان برے افعال پر ابھارتی ہے. اگر موثر اور عوامی سزاؤں کا اطلاق ہو یہ درندے بھی قابو میں رہیں گے اور ہاارے بچے بھی محفوظ رہیں گے.نویں بڑی وجہ ہمارے میڈیا پر چلنے والے ڈرامے، موویز اور اشتہارات ہیں جن میں سسر بہو کے پیچھے پڑا ہے تو بہنوئی سالی کے پیچھے، بھاوج دیور پر ڈورے ڈال رہی تو بھائی نما دوست اپنے ہی بھائی کی بیوی کے پیچھے پڑا ہے. اگر اشتہارات کی بات کریں تو ان کا واحد سبجیکٹ ہی عورت ہے. عورت کے جسم کے مختلف اعضاء دکھائے بغیر جب کوئی چیز نہیں بکے گی تو ان کمرشلز کو دیکھنے والے بھی پھر عورت کے پیچھے ہی رہیں گے اور ان کو عورت بیٹی، بیوی، ماں، بہن کے روپ میں نہیں بس ایک سبجیکٹ عورت کے طور پر دکھے گی. جب مکمل ذرائع ابلاغ اور تفریح کے سارے ادارے عورت کو ایک شوپیس، پراڈکٹ اور ماڈل کے طور پر دیکھیں اور استعمال کریں گے تو اس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ریپ ہی ہوتا جو ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں
محمد عبداللہ
میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں تھا، ازقلم: سالار عبداللہ
ہوا نہیں تھی پر گرد اٹھ رہی تھی دھول کے بادل چھائے ہوے تھے میرے ہر قدم پہ دھول اٹھتی اور گردوپیش گردوغبار چھا جاتا، پر میرے سفید کپڑے ویسے ہی صاف تھے، جیسے چودھویں کا چاند ہوتا ہے، ان پہ کچھ اثر نہیں ہوا، اماں مجھے کبھی سفید سوٹ نہیں لیکر دیتی تھیں ، وہ مسکراتے ہوے کہتی تھیں کہ توں اس قابل ای نئیں، اور واقعی میں اس قابل ای نئیں تھا، مجھے گرد پیاری لگتی تھی، مجھے بھیڑ سے نفرت تھی نام و نمود سے ہچکچاتا تھا، بڑے بڑے عزت داروں کو منہ نہیں لگاتا ، اپنے جیسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوتا ، دھڑام سے کچی زمین پہ بیٹھ جاتا تھا، صبح فجر کے فوری بعد جب سڑکیں ویران ہوتی تھیں تو میں سڑک کی بند دکانوں کے تھڑے پہ بیٹھا مسواک کرتا ہوتا تھا ، کوئی فکر نہیں کہ تھڑا گندا ہے یا ڈسٹ جمی ہے، بس وہیں بیٹھا مسواک کرتا رہتا اور سامنے موجود ڈسٹرکٹ جیل کو تکتا رہتا، وہ جیل جس میں ہزاروں کہانیاں چھپی تھیں، عجیب داستانیں وہ جو یونیورسٹی تھی جرائم کی، جہاں مجرم پیدا ہوتے تھے، اعلی تعلیم حاصل کرتے تھے، جیل کی چھوٹی چھوٹی دیواریں ہوتی تھی جن کے ساتھ گونگلو مولیوں کے کھیت تھے، اسکے بعد عملے کے کوارٹر اور پھر سنٹرل جیل، وہیں بیٹھ کر میں مسواک کرتا جاتا اور اس ریڑھی والے کا انتظار کرتا رہتا تھا جس کے چاول چھولے مجھے پسند تھے، مجھے کبھی بڑے بڑے ریستوران پسند نہیں آئے، برگر کنگز ، ھارڈیز ، میکڈونلڈ سے زیادہ پسند رفیق چھولوں والے کے چاول چھولوں کا پیالہ تھا، آج بھی، مجھے ڈنکی ڈونلڈ اور گلوریا جینز کی کافی سے زیادہ پسند چاچا کھوچے کی چائے تھی، کھوچا اسے ہم پیار سے کہتے تھے ورنہ نام اسکا فیض خان تھا اور تعلق ڈمہ ڈولا سے تھا، اس بندے نے یہاں چائے کا کام شروع کیا اور چھا گیا، یہ میں کدھروں کدھر پہنچ گیا، اڑتی دھول میں چلتے ہوے حد نگاہ بہت کم تھی دھول میں سائے لہرا رہے تھے، بھنبھاہٹیں سنائی دے رہی تھیں، جیسے مکھیاں بھنبھناتی ہیں، چلتے چلتے ٹھوکر لگی تو پتہ چلا وہ بھنبھناہٹیں مکھیوں کی ہی تھیں، مگر وہ مکھیاں ایک سوختہ لاش پہ بھنبھنا رہی تھیں ، دھول کم ہونا شروع ہوئی، اور لاش کے آگے پھر لاش پڑی نظر آئی اور پھر لاشیں ہی لاشیں ، تہبند اور کریزوں والے قمیص پہنے یہ لوگ پتہ نہیں کون مار کر گرا گیا، لاشوں سے بچتا آگے جاتا رہا ، اور لاشوں کے مزید انبار نظر آتے گئے، ایک جگہ ایک آدمی ایک بدنصیب عورت کی سوختہ لاش کی کٹی ہوئی کلائی سے سونے کی باریک سی چوڑی نکال رہا تھا، میں اسکے قریب گیا، وہ سہم گیا، اسکے کرتوت نظر انداز کرتے ہوے اسکے قریب گیا اور حیرت سے پوچھا ۔۔ کون تھے یہ لوگ، اس نے تھوک نگلا اور بولا ۔۔ امرتسر سے جو قافلہ نکلا تھا ۔۔۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا اور بے ساختہ قدم پیچھے کی جانب جانے لگے، دل کر رہا تھا بھاگ جاؤں، پیچھے منہ کیا اور سرپٹ بھاگنے لگا یکدم ایک بچے کی باسی لاش سے رپٹ کر گرا اور ناک پہ چوٹ سے کچھ لمحوں کے لئے ہواس معلق ہوگئے، گھٹنوں کے بل اٹھ کر دیکھا میرا سارا سفید سوٹ سیاہی مائل سرخ خون سے رنگ چکا تھا، چکراتے سر کے ساتھ میں نے اپنے کپڑے دیکھے اور اٹھ کھڑا ہوا، سامنے قصور کا سٹیشن تھا، سٹیشن کے ساتھ تاحد نگاہ محاجر کیمپ لگے تھے جن میں شاید ہی کوئی خاندان مکمل پہنچا ہوگا، ورنہ خاندانوں کے نام پہ چند خوشقسمت افراد بچے تھے باقی سب مارے گئے، سگنل اٹھ چکے تھے، گاڑی آنے والی تھی، لمبے ھارن کی آواز آئی اور بھاپ والا انجن بھاپ اڑاتا سٹیشن میں داخل ہوا، ہجوم اکٹھا ہوگیا، لوگ ٹرین کے گرد پھیلنے لگے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس آنے لگے، بھاپ چھٹ رہی تھی، میرے قدم ٹرین کی طرف اٹھ رہے تھے، پھر وہی خون کی باس آنے لگی، ٹرین میں مسافروں کی جگہ اعضاء تھے، یکدم کسی ٹرین سے ایک بکسا کھینچ کر نیچے اتارا اور بکسے پہ جما سارا خون اُڑ کر میرے کپڑوں پہ گر گیا، لوتھڑوں اور خون سے میرے سفید کپڑے پھر سرخ ہوگئے ، بکسے کے اوپر پڑا ایک مرتبان اُڑتا میرے سر پہ لگا، میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا، ہوش آئی تو میں پھر وہیں جیل کے دروازے کے سامنے بنے گرد آلود تھڑے پہ بیٹھا مسواک کر رہا تھا، اور سوچ رہا تھا، اماں ٹھیک کہتی ہیں ۔
میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔
سالار عبداللہ
#سالاریات
"سندھ سے سندھڑی چلا اور لاہور پہنچا” آم (Mango) کی کہانی محمد عبداللہ کی زبانی
"سندھ سے سندھڑی (آم , Mango) چلا اور لاہور پہنچا”
آم(Mango) اس موسم میں چونکہ "عام” ہوتا ہے اور ہر بندہ جو گھر سے نکلتا ہے "امب”کے اس سیزن میں نہایت ارزاں قیمت پر قدرت کے اس عظیم تحفے کو فروخت ہوتا دیکھ کر "امب” لے ہی لیتا ہے. بچوں اور بڑوں کی یکساں پسند یہ پھل انفرادیت رکھتا ہے اور (مقامی روایات کے مطابق) آم (Mango) ہے بھی پھر پھلوں کا بادشاہ ( البتہ اس کی ملکہ اور آل اولاد کا کچھ پتا نہیں ہے).
آم (Mango) کی ورائٹی اور پاکستان کے میدانی علاقوں کا مقامی پھل ہونے کی وجہ سے یہ مناسب قیمت پر دستیاب ہوتا ہے تو متوسط اور غریب طبقہ بھی دل کا "رانجھا راضی” کر سکتا ہے وگرنہ تو بعض پھل یا خشک پھل ایسے بھی ہیں جن کے بارے صرف سوچا ہی جاسکتا ہے اور خیالوں ہی خیالوں میں ان کو کھایا جاسکتا ہے لیکن جیسے ہی حواس کی دنیا میں واپس آتے ہیں تو ہمارے ایسوں کی جیب اور بٹوہ دونوں شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ "پائن اپنی حیثیت دیکھو اور خواب دیکھو” .
لیکن قدرت کا خاص کرم ہے کہ پھلوں کے یہ "بادشاہ سلامت” وافر میسر ہوتے ہیں اور یار دوست تو نہروں ، دریاؤں، ٹویب ویلز اور سویمنگ پولز کے کناروں پر درختوں کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر آم (Mango) سے نہایت "عامیانہ” سلوک کرتے ہیں. اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب مرحوم سے کئی روایات منسوب ہیں کہ ان کا فرمانا تھا کہ آم (Mango) ہوں اور عام ہوں مطلب چوکھے ہوں. اسی طرح ایک اور روایت جو ہمارے یہاں لطیفے کی شکل میں بیان کی جاتی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ مرزا صاحب کا فرمانا تھا کہ بےشک "گدھا” آم نہیں کھاتا.
اگر انسانوں کی بات کریں تو کچھ تو آم کے اس قدر شیدائی ہوتے ہیں اور آم (Mango) کی گٹھلی سے اس انداز سے میں انصاف کرتے ہیں کہ بےچاری گٹھلی بھی شرما کر کہتی ہے ” اجی اب بس بھی کیجیئے نا”. آم (Mango) سے خاطر خواہ انصاف کرنے والے دوستوں کا یہ کلیہ ہے کہ آم (Mango) کھاتے وقت جھجھک، شرم اور کپڑوں (ستر کو ڈھانپنا ضروری ہے) کو ایک سائڈ پر کردینا چاہیے تبھی آپ "آم” سے انصاف کرسکتے ہیں.
اگر آپ آموں کی اقسام پر بات کریں تو یقین جانیے اللہ کی قدرت کے ایسے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ بندہ پکار اٹھتا ہے "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ”. سندھ کے شہر میرپور خاص میں سالانہ آموں کی نمائش لگتی ہے جس میں آم کی تین سو کے قریب قسمیں پیش کی جاتی ہیں. پنجاب کا سرائیکی علاقہ بالخصوص ملتان بھی آم (Mango) کی پیداوار میں سرفہرست ہے.
ہمارے حیدرآباد کے دوست ہیں سیف اللہ سعید چلبلے اور شرارتی مزاج کے ایک دن کہنے لگے کہ بھائی آپ لاہور کے دوستوں کے لیے "سندھڑی” آموں کا تحفہ بھیج رہا ہوں تو یوں یہ سندھڑی سندھ سے چلا اور ملتان میں لنگڑے سے راہ و رسم بڑھاتا ہوا لاہور پہنچا جہاں ہم اس کے ساتھ انصاف کرنے میں مشغول ہیں.
محمد عبداللہ









