Baaghi TV

Author: محمد عبداللہ

  • ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز گورنر پنجاب اور ان کی اہلیہ نے پاکستان کے معروف ٹک ٹاکرز کو مدعو کیا اور ان سے استدعا کی کہ وہ کورونا کی آگاہی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں. اس پر خاصی لے دے جاری ہے، بعض ان کو ناچنے والے، کنجر اور کئی برے ناموں سے لکھ رہے ہیں اور یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب یہ کنجر ناچ ناچ کر ہمیں کرونا سے آگاہ کریں گے وغیرہ وغیرہ. تو دوستو ذرا قومی گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ ان ہمارا قومی مزاج بھی تو یہی ہے کہ وہ کشمیر ہو یا کچھ اور ان پر ہم ناچ گانے کروا کر ہی آزادی کی کوشش کر رہے ہیں تو کرونا کی آگاہی کے لیے اگر ٹک ٹاکرز کو مدعو کرکے ان سے گزارش کی گئی تو اس میں عجب کیسا؟ اور دوسری بات کہ ان ٹک ٹاکرز کو معروف میں نے اور آپ نے ہی کیا نا ان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اب وہ معاشرے میں انفلواینسر بن چکے ہیں . انہوں نے اپنا آپ منوایا ہے اور قوم نے ان کو دیکھا ہے ان کی ویڈیوز کے ویوز کروڑوں میں ہوتے ہیں آپ کہیں کہ آپ ان کو فالو نہی کرتے ان کو نہیں دیکھتے تو جن یا کوئی مخلوق تو ہے نہیں جو ان کو فالو کر رہی ہے ہم انسان ہی ہیں جو ان کو دیکھتے اور فالو کرتے ہیں. آپ مانیں یا نہ مانیں. ان کی پچاس پچاس لاکھ فالونگ ہے جتنی ہمارے سیاستدانوں یا علماء کی بھی نہیں ہوتی. جب ہم علماء اور رہنماؤں کو فالو کرنا چھوڑ کر ٹک ٹاکرز کو ہی فالو کریں گے تو کرونا آگاہی بھی تو پھر یہ ٹک ٹاکرز ہی دیں گے. جب قوم جہاد اور مظلوموں کی مدد کو قران و حدیث کی بجائے ڈراموں اور فلموں میں ڈھونڈے گی تو پھر نیلم منیر سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی نا پھر گانوں سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی جائے گی. ہر ایشو پر متشدد رائے دینے سے قبل ذاتی اور قومی گریبان میں ضرور جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا انفرادی اور قومی مزاج کیسا ہے. لاکھوں کروڑوں کی فالونگ رکھنے والوں کو اگر گورنمنٹ اپنی کسی مہم میں استعمال کرنا چاہ رہی ہے تو اچھی بات ہے. ویسے بھی قوم ان ڈاکٹروں اور علماء کی بات کہاں سن رہی ہے جو ان کو احتیاط کی تلقین کر رہے چلو اب قوم کے "پسندیدہ” لوگ ٹک ٹاکرز ہی ان کو سکھائیں گے سب کچھ……
    محمد عبداللہ

  • مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال، شہادتوں میں اضافے کی وجوہات اور پاکستان کا کردار !!! محمد عبداللہ

    مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال، شہادتوں میں اضافے کی وجوہات اور پاکستان کا کردار !!! محمد عبداللہ

    مقبوضہ وادی کشمیر کے ایشو پر اگر لالی پاپس چاہیں تو ہزار مل جائیں گے، ہم مانتے اور جانتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کے انبار ہیں جن میں گھرا ہوا ہے جن کی وجہ سے کچھ کرنے سے سے قاصر ہے لیکن جو حقیقت ہے وہ تسلیم کرنی چاہیے کہ ہم نے بھارت کو کشمیر پر ٹینشن فری کردیا ہے اور فری ہینڈ دے دیا ہے اور وہ مقبوضہ سے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے. سب اچھا کی گردان کرنے والوں کو بتلاتا چلوں کہ کشمیر میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پندرہ حریت پسند شہید ہوچکے ہیں، صرف اپریل میں کشمیر میں شہید ہونے والوں کی تعداد بتیس سے زیادہ تھی اور جنوری دو ہزار بیس سے لے کر آج 2 جون تک سو سے زائد کشمیری ماؤں کے لخت جگر اپنی قیمتی جانیں اس آزادی کی خاطر قربان کرچکے ہیں. تین سو سے زائد دنوں پر مشتمل ٹرپل لاک ڈاؤن نے جہاں اہل کشمیر کی رہی سہی معیشت کو تباہ و برباد کردیا ہے وہیں حریت پسندوں کی موومنٹ وغیرہ محدود ہونے اور بھارتی فوج کے لیے جاسوسی کرنے والوں کی کثرت نے حریت پسندوں کی شہادتوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے. کشمیر کی سنجیدہ حریت قیادت ساری کی ساری بھارتی قید و بند میں ہے آجاکے یہی نوجوان تھے جو قافلہ آزادی کشمیر کی بھاگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے ایسے میں ان قیمتی ترین نوجوانوں کی مسلسل شہادتیں اور گرفتاریاں دیکھنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں اور تحریک آزادی کشمیر سے جڑے افراد تو اس پر سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کرسکتے. بھارت جہاں فوجی آپریشن کے ساتھ مسلسل کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہا ہے وہیں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے قانونی پہلوؤں سے بھی کشمیریوں کے ہاتھ کس کر باندھ رہا ہے. دوسری طرف ایک ایف اے ٹی ایف کے خوف کو لے کر ہم لوگوں نے اہل کشمیر کی مدد کے ممکنہ سبھی آپشنز ایک ایک کرکے بند کردیئے لیکن ایف اے ٹی ایف کا رانجھا پھر بھی راضی نہ ہوا. ایف اے ٹی ایف سے ہمیں خوف تھا کہ ہماری معیشت تباہ ہوجائے گی پابندیاں لگ جائیں گی، کوئی ملک تجارت نہیں کرے گا وغیرہ وغیرہ لیکن کرونا اس سے بھی بڑی بلا ثابت ہوا کہ ایف اے ٹی ایف تو فقط ہم پر عالمی پابندیاں ہی لگا پاتی (جوکہ ہرگز نہیں لگاسکتے تھے جب تک امریکہ افغان چنگل سے نکل نہیں جاتا) جبکہ کرونا نے تو آپ کی دکانیں تک بند کروا دیں لیکن آپ مرے نہیں ہیں زندہ ہیں تو اہل کشمیر کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچیے. ٹویٹس اقوام عالم پر حجت تمام کرنے کو ضرور کیجیئے (ٹویٹس کرنے کو ایکٹوسٹس ہزار ہیں جو روزانہ ٹرینڈز کرکے کسی حد تک کشمیر ایشو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں) لیکن اگر ان عالمی اداروں اور سپر پاورز نے کشمیر کے حوالے سے کچھ کرنا ہوتا تو اب تک کرچکے ہوتے یہ مسئلہ بلکہ جنگ آپ کی ہے جو آپ کو ہی لڑنا ہے. ٹویٹس اور تقاریر سے آگے بڑھیے اور ممکنہ سبھی آپشنز کو استعمال کیجیئے. جو کرسکتے ہیں وہ تو کریں اللہ آسمانوں سے مدد نازل کرے گا لیکن فضائے بدر پیدا کرنا پڑے گی.
    وما توفیقی الا باللہ
    محمد عبداللہ

  • 28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کر کے اپنا ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت پیش کیا اور پاکستان کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اس کے بعد پھر 1987 کو دوبارہ ایٹمی دھماکہ کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اس سے قبل پاکستان بھی اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر چکا تھا جس پر امریکہ اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پورے عالم کفر کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان اپنا ایٹمی منصوبہ منسوخ کر دے اور یو وہ پاکستان کو زیر کر لینگے کیونکہ تاریخ گواہ ہے عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کی چیخ نکلوا دی تھی اسی طرح روس کی چیخیں افغانستان میں نکالی گئیں تھیں
    وقت گزرتا گیا اسرائیل و بھارت کی بدمعاشی بڑھتی گئی اسرائیل و بھارت نے پاکستان کے ایٹمی پاور پلانٹ کہوٹہ پر حملے کا پلان بنایا اور ایک بار پھر جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے بھارت نے 11 مئی 1998 کو پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر دیئے اب پاکستان کے لئے لازم ہو چکا تھا کہ ہاتھی کی طرح پاگل ہوئے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے سو 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر بیک وقت 5 ایٹمی دھماکے کر کے عالم کفر اور بالخصوص اسرائیل و بھارت کی چیخ نکلوا دی
    پورے عالم کفر کی چیخ نکل گئی کے عراق ایٹمی طاقت بننے کی کوشش میں تھا مگر اسرائیل نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اس کا ایٹمی پروگرام ختم کر دیا تھا مگر اب پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا حامل ملک بن چکا ہے واضع رہے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے قبل پاکستان اور بھارت کی 3 جنگیں ہو چکی ہیں مگر ایٹمی دھماکوں کے بعد اب تک پاک بھارت کے درمیان کوئی بھی روایتی جنگ نہیں ہوئی بھارت صرف اپنی خفت مٹانے کیلئے مظلوم و مجبور کشمیریوں پر ظلم اور لائن آف کنٹرول پر گیڈر بھبکیاں لگاتا رہتا ہے جس پر پاک فوج نے پچھلے برس 27 فروری کو اس کی ایسی چیخ نکلوائی کے پوری دنیا پریشان ہو گئی اور بھارت کیساتھ اس کے پائلٹ کی واپسی کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھارت کے پاس 100 جبکہ پاکستان کے پاس 120 ایٹم بم ہیں اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار داغنے کی صلاحیت رکھنے والے ایف 16 اور میراج لڑاکا طیارے ہیں جو 2100 کلومیٹر تک ایٹمی ہتھیار داغ سکتے ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا ہر شہر پاکستان کے ہتھیاروں کی زد میں ہے جس سے ہر وقت بھارت کی چیخیں نکلتی رہتی ہیں اور وہ اسرائیل کو اپنے ساتھ اس لئے جوڑے ہوئے ہے کہ عراق کا ایٹمی پروگرام اسرائیل نے تباہ کیا تھا مگر اسرائیل کی چیخ بھی یہ سوچ کر نکل جاتی ہے کہ اسرائیل اور پاکستان کا فاصلہ تو تقریبا 4500 کلومیٹر ہے مگر پاک فضائیہ ون وے مشن کرنا جانتی اور اور وہ اسرائیل کے خلاف ون وے کامیاب مشن کر بھی چکی ہے نیز اس کے علاوہ عراق اور سعودی عرب بھی اسرائیل پر حملے کیلئے پاکستان کے معاون بن سکتے ہیں
    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کرم ہے کہ امت کے غم خوار مجاھد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے بہت کم وسائل اور سہولیات کیساتھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر عالم کفر کی چیخیں نکلوا دیں اور ان شاءاللہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا اور عالم کفر کی چیخیں نکلتی رہینگی.

  • ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    "ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے”
    سب سے پہلے تو شکریہ اور حوصلہ افزائی  ان دوستوں کا جو اس ایکٹیویٹی میں شامل ہوتے.
    اور جو معترض حضرات ہیں ہمارے دوست اور بھائی ہی ہیں. ذرا بتائیے گا پاکستان کے کتنے لوگوں کو ڈاکٹر قاسم فکتو کا پتا ہے کہ وہ کون ہیں کیا ہیں؟ اس ٹرینڈ کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ آپ کے لوگوں کو آپ کے ہیروز کا پتا چلتا ہے. جب کوئی ٹرینڈ ٹاپ فائیو میں آتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے. دوسری بات کہ ہمارے ٹرینڈز سے ڈاکٹر قاسم فکتو کو رہائی نہیں ملے گی لیکن کم از کم کسی ڈسکشن، کسی فورم پر بحث، انڈیا کو رگیدنے کا حصہ تو بنے گی کاوش، تیسری بات کہ ہم سے تو اہل کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا آپ چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑ دیں، ہمارے بس میں جو ہے ہم وہ کرتے رہیں گے جہاں تک اللہ نے موقع دیا تھا عملی کام بھی کرتے رہے اب اگر استطاعت کی بورڈ تک کی ہے تو اس پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی اڑتے تیروں کو چھیڑیں گے البتہ اپنا نظریاتی کام اور ایکٹیویٹیز جاری رکھیں گے سوشل میڈیا پر بھی. چوتھی بات کہ عمل خواہ چونچ میں پانی لاکر آگ بجھانے کا ہو یا فقط اپنے الفاظ سے کسی غمزدہ کے زخموں پر مرحم رکھنے کا ہمیشہ آپ کی سائڈ دیکھی جاتی ہے کہ آپ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں (خواہ الفاظ سے ہی سہی) یا چپ رہ کر صف اغیار کو تقویت دیتے ہیں. پانچویں بات کل کو اللہ کے سامنے کم از کم یہ تو کہہ سکیں گے کہ اللہ ہم آواز تو اٹھاتے رہے تھے جس کی تو نے توفیق دی تھی. چھٹی بات کہ حکومت کیا کرتی ہے، عالمی ادارے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں، ہماری آواز کہاں تک موثر ثابت ہوتی ہے یا مکمل بےکار جاتی ہے یہ ہزار درجے بہتر ہے کسی ہوتے ہوئے کام پر اعتراض اٹھا کر اس کو روک دینے سے. چھٹی بات کہ اگر سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا تو بھائی تسی ایتھے گنڈیریاں ویچدے جاؤ کم کرو جاکے. باقی جہاں تک بات ہے آپ لوگوں کے اعلیٰ ایمان کی جو ڈائریکٹ میدان مقتل سے، کفر کی چوکی پر پھٹنے سے ذرا چند سیکنڈز پہلے فیسبک پر پوسٹ ڈال رہے ہوتے ہیں کہ آپ لوگوں کے ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے تو بھائی آپ سے مقابلہ نہیں ہوسکتا ہمارا ایمان بہت کمزور ہے ہم جو کرسکتے ہیں وہ کر رہے ہیں میرا اللہ ان شاءاللہ آگے بڑھنے کی بھی توفیق دے گا.

    دنیا بھر میں ٹرینڈنگ کو اہمیت حاصل ہے، پالیسی ساز ادارے،قانون ساز اسمبلیاں، بین القوامی ذرائع ابلاغ، بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں آپ کے ٹرینڈز پینل پر نظر رکھتی ہیں. عرب اسپرنگ کوئی بہت پرانا ایشو نہیں ہے وہ ان ٹرینڈز کی ہی گیم تھی جس نے برسوں سسے قائم عرب بادشاہوں کو تحتوں سے اٹھاکر پھینک دیا تھا.

  • کامیاب لوگوں کی صبح کی عادات تحریر: عاشر مشتاق

    کامیاب لوگوں کی صبح کی عادات تحریر: عاشر مشتاق

    یہ بات سچ ہے کہ آپکو کامیاب ہونے کے لیے ہر روز اپنے لیے وقت نکالنا پڑھتا ہے نا کہ آپ خود کو بہتر بنا سکیں، اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے آپکا جسمانی اور زہنی طور پر تندرست ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ صبج اٹھ کے کچھ اچھی چیزوں کو روز روز کر کے انکی عادت بنا سکتے ہیں۔کیونکہ جو صبح کو جیت لیتا ہے وہ اپنا سارا دن جیت لیتا ہے اور جو چھ عادات میں آپکو بتانے جا رہا ہوں یہ دنیا کے سب سے کامیاب لوگوں کی ھیں جنہیں آپ بھی اپنی زندگی میں اپنا کے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
    خاموشی: خاموشی سے مراد ہے دعا کرنا یا میڈیٹیٹ کرنا۔ بہت سے لوگ صبح اٹھتے ہی دنیا بھر کی چیزوں کی فکر کرنے لگ جاتے ہیں اخبار پڑھ کر یا ٹی وی پر خبریں دیکھ کر وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کامیاب لوگ یہ سب نہیں کرتے بلکہ وہ صبح اٹھنے کے بعد میڈیٹیشن، یوگا، یا دعا کرتے ہیں جو کہ انکے دماغ کو سکون میں رکھتا ہے اور انہیں دن بھر کام کرنے کےلیے تیار بھی کرتا ہے۔
    افرمیشن: یہ ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جسے کئی کامیاب لوگ استعمال کرتے ہیں یہ اور کچھ نہیں بس ایک مثبت جملہ ہے جو ہم بار بار خود سے بولتے ہیں جس سے وہ بات ہمارے لاشعوری دماغ میں بیٹھ جاتی ہے اور ہمارا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے مثال کہ طور پے اگر آپ بار بار اپنے آپ سے کہیں کہ میں ایک پراعتماد انسان ہوں تو پھر آپکا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے اور آپ سچ میں ایک پراعتماد انسان بننے لگتے ہیں۔
    تصور: یہ بھی ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جو تھوڑی بہت افرمیشن سے ملتی جلتی ہے اس سے آپ تصور کرتے ہیں ان چیزوں کا اور تصویر بناتے ہیں اپنے دماغ میں جو آپ سچ میں چاہتے ہیں۔
    ورزش:صبح کے وقت ورزش کرنے کے بہت سارے سائنسی فائدے ہیں کیونکہ آپکے دماغ میں زیادہ آکسیجن جاتی ہے اور آپکا دماغ زیادہ اینڈورفین نکالتا ہے جس سے آپکی سوچ مثبت اور صاف ہوتی ہے آپکو اچھا محسوس ہوتا ہے اور اپکا انرجی لیول بڑھتا ہے پورے دن کے لیے۔ اس سب کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ جم ہی جائیں بلکہ یہ سب فائدے آپ بس کچھ منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش کر کے بھی لے سکتے ہیں۔
    پڑھنا: پڑھنے سے مراد اخبار پڑھنا نہیں ہے بلکہ وہ کتابیں یا آرٹیکل پڑھنا ہے جو آپکو بہتر بننے میں مدد کریں، ایسی کتابیں جو آپکو علم دیں اور ہر طرح سے آپکی اینٹیلیجنس کو بڑھائیں۔
    لکھنا: لکھنے سے مراد آپکے دن بھر کے کام، مقاصد اور آپکے خواب وغیرہ لکھنا ہے۔ لکھنے میں بہت طاقت ہوتی ہے کیونکہ یہ آپکے خوابوں کو حقیقت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے آپ ہمیشہ اپنے پاس کوئی نوٹ بک رکھیں تا کہ جو بھی نئے آئیڈز آپکے دماغ میں آئیں اسکو فورن لکھ سکیں۔ یہ سادہ سی چیز آپکی بہت مدد کرے گی۔
    یہ سب باتیں میں نے آپکو ہال ایلروڈ کی کتاب میریکل مورننک سے بتائی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں اور میں نے سوچا آپ دوستوں سے بھی شئیر کروں۔ اگر پسند آئیں تو آگے ضرور شئیر کریں

  • سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے  ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، عدالت نے کہا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی سے عدالت مطمئن نہیں، آج ہم ان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کریں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ حکم تباہ کن ہو سکتا ہے، آپ ظفر مرزا کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیں،عدالت میں ابھی سماعت جاری ہے. عدالت کے اس فیصلے کو لے سوشل میڈیا پر عوامی تبصے اور تجزیئے شروع ہوچکے ٹویٹر پر سپریم کورٹ اور ڈاکٹر ظفر مرزاء کے نام سے ٹرینڈز بھی پینل پر موجود ہیں. عوام ان ہیش ٹیگز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے.
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے. ججز اور عدلیہ کی طرف سے یہ دخل اندازی معاملات کو بگاڑ دے گی.


    سوشل میڈیا صارف بےنظیر شاہ کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی کارکردگی سے غیر متفق ہوسکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ ڈاکٹر ظفرمرزا کچھ نہیں کر رہے یہ غلط ہوگا. ہمارے ڈاکٹرز، پولیس اور دیگر سبھی ادارے اس وقت کرونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں


    ایک اور سوشل میڈیا صارف مریم حسین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس بحران کے موقع پر سیاسی کھیل شروع کردیا ہے جو خطرناک ہوسکتا ہے
    https://twitter.com/maryamacca/status/1249624730640027648?s=20
    سوشل میڈیا صارف اویس گیلانی کا کہنا تھا کہ قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناتے مجھے لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزاء کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا حکم نامناسب ہے اور کرونا کے خلاف جنگ میں عدالتی مداخلت ہے


    عاطف نامی سوشل میڈیا صارف نے ڈاکٹر ظفرمرزا کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پی آئی اے کے سی ای او کام نہیں کرسکتے کہ وہ اس عہدے کے لیے ناموزوں ہیں، اب ظفر مرزا بھی ناموزوں ٹھہرے، کل کو یہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی قابلیت پر بھی سوال اٹھائیں گے، پھر یہ لوگ وزیراعظم کی قابلیت پر بھی سوال جر دیں گے
    https://twitter.com/PTI_Achievement/status/1249618223684870146?s=20
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے ڈاکٹر ظفر مرزا بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں.
    https://twitter.com/oyaDrAQ/status/1249628009608278016?s=20
    واضح رہے کہ حکم نامہ عدالت نے ابھی تک نہیں لکھوایا حتمی حکمنامے میں عدالت حتمی فیصلہ دے گی. سپریم کورٹ نے ظفر مرزا کی کارکردگی پر آج بھی اور گزشتہ ایک سماعت میں بھی سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی کیا ہے

  • لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    ابھی سندھ، پنجاب ، آزاد کشمیر، کے پی اور گلگت بلتستان میں لاک ڈائون کو صرف 3 دن ہوئے ہیں پاکستان کے کسی بھی حصے میں لاک ڈائون کے دوران نہ تو کسی کو غدار قرار دے کر گولی مارنے کا حکم ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کی تمام دوکانیں بند ہیں، نہ گلی گلی بندوق بردارکھڑے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو فکر ہے کہ لاک ڈائون کے دوران کیا ہو گا عوام تو عوام اربوں کھربوں ڈالر اور بے پناہ طاقت کے وسائل رکھنے والی پاکستانی حکومت بھی پریشان ہے کہ 14 دن کے لاک ڈائون کے نتائج کیا ہوں گے؟ دوسری طرف 7 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے لاک ڈائون کر رکھا ہے جس کو دل چاہا اور جس شہر یا چوک میں چاہا غدار قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا، 7 ماہ سے 8 لاکھ ظالم فوج 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر بندوق تانے کھڑی ہے گھر سے باہر جیسے ہی قدم رکھا جاتا ہے درجنوں گولیاں جسم کے آر پار کر دی جاتی ہے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور جوان مسلمان لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر بے آبرو کر دیا جاتا ہے، درجنوں والدین کی روزانہ شہادت سے سینکڑوں بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن اس لاک ڈائون پر نہ کسی کی زبان ہلی، نہ کوئی آنکھ نم ہوئی۔ نہ کوئی محمد بن قاسم آیا اور نہ ہی دنیا میں امن کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کی نیٹو نے بھارتی فوج کا ہاتھ روکا۔ غرض یہ کہ دنیا میں کشمیری قوم تن تنہا بھارتی فوج کا ظلم برداشت کر رہی ہے۔ ہر مذہب (مسلمان، ہندو، عیسائی، بدھ مت اور غیر مذہب) نے ان کو تنہا چھوڑ دیا لیکن نہیں چھوڑا تو میرے پروردگار آللہ تعالیٰ کی ذاتِ نے ان کو تنہا نہیں چھوڑا،
    میرے دوستو مجھے اجازت دو تو میں آج کہہ دینا چاہتا ہوں کہ شائد کشمیری اللہ تعالیٰ کو اتنے پیارے لگے ہیں کہ ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر چپ رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے کرونا وائرس کا لاک ڈائون سب سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت چین سے ہوا۔ خودساختہ سپر پاور امریکہ بھی شکنجے میں جکڑا گیا۔ بھارت کا یار ایران بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھرا ہے جانوروں کے حقوق پر جلوس نکالنے والا یورپ اور کشمیر میں لاکھوں شہادتوں پر چپ رہنے والے یورپ کا حال دیکھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اب مظلوم قوم کا ہمسائے ملک پاکستان کی بھی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہوتی جا رہی ہے دنیا میں کرونا وائرس کے نام پر ہونے والے لاک ڈائون اور اس کے بعد والے حالات سے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
    میں یہاں پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دنیا چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کرے اور دنیا وائرس سے محفوظ ہو جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا لاک ڈائون ختم کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والے گناہ پر توبہ کرنی ہو گی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے لاک ڈائون کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرتے ہوئے دنیا میں کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کر دے۔

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ