Baaghi TV

Author: محمد عبداللہ

  • تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
    وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
    اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
    تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.

    آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
    آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
    ایکسرسائز
    سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
    ایکٹیویٹیز
    آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
    گیمز
    آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
    تیراکی یا نہانا
    مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
    دینی تربیت
    گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
    ڈاکیومینٹریز
    بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
    کارٹونز
    شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
    لرننگ اور تعلیمی ضروریات
    اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
    سبق ڈاٹ پی کے
    ای لرن پنجاب
    خان اکیڈمی
    بی بی سی لرننگ
    فیوچر لرن
    وغیرہ وغیرہ
    ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پرھیے

  • کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس کا حملہ اس وقت بہت شدید ہوچکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے اب تک 1,34,113 کنفرم کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. جن میں سے 4968 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ 67,003 لوگ اس مرض سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں.
    چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کو شروع میں اتنا سنجیدہ نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہوتا اب مکمل گلوب پر پھیل چکا ہے. کینیڈا کے جسٹن ٹرڈو کی بیوی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے. اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ سے ملنے والے برازیلین شہری میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آچکی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ٹیسٹ سے تاحال انکاری ہیں.
    کئی ایک ممالک میں اعلیٰ سطحی لوگ اس کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے سبھی ممالک لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر رہے ہیں. اٹلی میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے ہاتھوں اموات کے بعد اٹلی کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے. سعودیہ نے گزشتہ شام بہتر گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا جس میں سے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اس مدت کے دوران عارضی آمد و رفت کو مکمل کرکے سعودیہ کو لاک ڈاؤن کردیا جائے گا.
    بھارت میں ایک بندے کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت اور کئی دیگر کنفرم کیسز کے بعد بھارت نے ایران سے اپنے شہریوں کی واپسی کا پروگرام شروع کردیا ہے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی میں دفع 144نافذ کردی ہے. امریکہ میں بھی کئی کیسز کرونا وائرس کے رپورٹ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ نے یورپ کے ساتھ فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بڑی تعداد میں اس وقت خیمہ زن لوگ موجود ہیں.


    دنیا بھر میں کھیلوں کے بڑے مقابلے منسوخ کردیئے گئے ہیں، دہلی میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ کے کرکٹ میچز کو بھی منسوخ کردیا ہے. پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے جبکہ سندھ گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ کراچی میں ہونے والے میچز میں شائقین نہیں آسکیں گے صرف ٹیمیں اور ان کے آفیشلز ہی شرکت کرسکیں گے. اسی طرح سندھ کے تعلیمی اداروں کو بھی تیس مئی تک بند کردیا گیا ہے اور اس دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے.
    بدقسمتی سے شروع میں پاکستان نے کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ پاکستان کے اطراف و کنار میں کرونا وائرس گھوم رہا ہے. چین سے شروع ہوا جبکہ ایران میں بڑی تعداد میں اس سے متاثرہ لوگ موجود ہیں اور انڈیا میں بھی کئی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. اگر شروع میں ہی اس پر سنجیدگی دکھائی جاتی تو پاکستان اس سے بچ سکتا تھا. پاکستان میں اب تک کرونا کے 21 کنفرم کیسز ہیں جبکہ 2 لوگ اس مرض سے پاکستان میں صحتیاب ہوچکے ہیں اور بحمدللہ پاکستان میں کرونا سے تاحال کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے.
    لیکن ابھی بھی کرونا وائرس کو پاکستان میں اس طرح سے سنجیدہ نہیں لیا جارہا جس طرح سے دنیا بھر میں اس کو لے کر ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے.پاکستان کی سرحدیں ایران کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے بند ہوئی تھیں مگر پھر سے کھول دی گئی ہیں اور لمبی سرحدی پٹی پر اسکیننگ کے انتظامات بھی موجود نہیں جبکہ زائرین اور دیگر افراد کی آمد و رفت وسیع پیمانے پر جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے خطرات موجود ہیں.
    پاکستان میں تعلیمی ادارے بھی کھلے ہوئے ہیں اور چھوٹے بڑے اجتماعات بھی منعقد ہورہے ہیں اگرچہ رائیونڈ میں ہونے والا تبلیغی اجتماع موسم کی خرابی اور پنڈال میں پانی بھر جانے کے باعث دعا کروا کر ختم کردیا گیا ہے لیکن چھوٹے بڑے اجتماعات اور سیاسی جلسے جاری ہیں. جن پر فالفور پابندی عائد ہونی چاہیے. تعلیمی اداروں اور ملک میں جاری کھیلوں کے مقابلوں پر بھی فالفور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتماعی صحت ے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے.
    اسی طرح عوام الناس کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کریں. پبلک مقامات پر میل جول اور چیزوں کے استعمال سے گریز کریں. ماسکس ، ٹشوپیپرز اور گلوز کا استعمال کریں. عوامی اجتماعات میں شرکت سے بھی گریز کریں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں اسپتال اور ڈاکٹرز سے رجوع کریں.
    یہ آفتیں اور بیماریاں انسانی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں جو اللہ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہیں تو ان آفتوں اور بیماریوں پر بجائے ٹھٹھہ و مذاق کرنے اور لطائف بنانے کے اللہ سے توبہ کرنی چاہیے یقیناً وہی شفا دینے والا اور بیماریوں اور آفتوں کو کنٹرول کرنے والا ہے. صحیح بخاری کتاب الطب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کا علاج یا دوا نہ نازل فرمائی ہو یقیناً اس کرونا وائرس کی شفا بھی کسی نہ کسی چیز میں موجود ہوگی. اس کا علاج دریافت ہونے تک ہمیں چاہیے کہ ہم حتیٰ الامکان احتیاطیں اختیار کریں اور یہ دعائیں کثرت سے پڑھتے رہیں.
    أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
    "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
    اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
    یہ آفات انسان کی آزمائش بھی ہوتی ہیں تو اپنا ایمان اور توکل اللہ پر مضبوط کرنا چاہیے اور اس کرونا وائرس سے بچنے کی جو احتیاطیں دنیا بھر میں بتائی جا رہی ہیں ان سے اسلامی شعار طہارت، وضو، غسل وغیرہ کی حقانیت واضح ہوتی ہے.

  • کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر:  محمد عبداللہ

    کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ہم نے میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے اور عورت مارچ کے حوالے نکتے پر بات کی تھی کہ یہ تحریکیں کیسے پروان چڑھتی ہیں اور کیسے ہم ان کی تشہیر اور مخالفت کرکے ان کو بین الاقوامی لیول کا ہیرو بنا دیتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر ان کو شہ ملنا شروع ہوجاتی ہے جس کی واضح مثال راتوں رات عورچ مارچ کے نام سے تین ٹویٹر اکاؤنٹس کا ویریفائڈ ہوجانا اور بڑے تحرک میں آجانا اس کا کھلم کھلا ثبوت ہے.

    ہماری بات کا ہرگز بھی مقصد یہ نہیں ہے کہ ان بے ہودہ نعروں اور پوسٹرز کی ہمارے معاشرے میں اجازت ہونی چاہیے. خواتین سمیت جتنے بھی طبقات کا استحصال ہورہا ہے ان کے جائز حقوق سے ان کو محروم رکھا جارہا ہے وہ استحصال ختم ہونا چاہیے اور ان کے جائز حقوق ان کو ملنے چاہیں اور یہ صرف حکومت اور اداروں کے کرنے کے کام نہیں ہیں یہ میرا اور آپ کا کام بھی ہے کہ ہمارے گھروں میں بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں موجود ہیں ہم ان کو ان کے جائز حق دیں، وراثت میں موجود ان کا حصہ ان کو ملنا چاہیے، ان کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھا جانا چاہیے، ان کی تعلیم و تربیت کا مکمل انتظام و انصرام ہونا چاہیے. خواتین کو ونی کیے جانے اور تیزاب پھینکنے، ہراساں کیے جانے جیسے معاملات مردوں کی طرف سے ہی ہوتے ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے اور ایسے واقعات کی سختی سے حوصلہ شکنی اور سخت سزاؤں کا سلسلہ ہونا چاہیے. زیادتی اور قتل کے واقعات پر سرے عام پھانسی کی سزاؤں کا اطلاق ہونا چاہیے.
    خواتین اگر آگے بڑھنا چاہتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو سو بسم اللہ ان کو آگے بڑھنے دیں صحابیات اور حتیٰ ام المومنات رضی اللہ عنھم جنگوں تک میں مردوں کے ساتھ موجود ہوتی تھیں. ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا باقاعدہ درس حدیث دیتی تھیں حتیٰ کہ بہت سارے صحابہ کرام بھی ان سے احادیث اور مسائل معاملات دریافت کرنے آتے تھے.
    آپ بھی تعلیم حاصل کیجیئے درس و تدریس کام کیجیئے نسل نو کی تربیت کیجیے، ڈاکٹرز اور نرسز بن کر قوم کی خدمت کیجیے کہ ہماری قوم کو لاکھوں کی تعداد میں فی میل ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ اور اس طرح بیشمار کام ہیں آپ کیوں مرد کی برابری ہی پر زور دیتی ہیں حالانکہ عورت کے ہاتھ میں نسل نو کی تربیت کا ذمہ دے کر اس کی قابلیت کی ستائش کی گئی ہے۔
    ہمارا مذہب قطعاً بھی عورت کا استحصال نہیں کرتا اور نہ اس کی اجازت دیتا ہے، بیٹیوں کے ساتھ شفقت اور پرورش کرنے والا بندہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہوگا. بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے کو معاشرے کا بہترین فرد قرار دیا. ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دے دیا ، وراثت میں ان کا حصہ مقرر کردیا.

    لہذا اگر عورت پر ظلم ہورہا ہے تو اس کا قصوروار ہمارا سسٹم ہے ہم خود ہیں اور کسی حد تک خود عورت بھی ہے مذہب اسلام ہرگز بھی بھی نہیں ہے اور بڑی مزے کی بات ہے کہ اگر ہمارے اس معاشرے اور سسٹم میں اگر کچھ خواتین پر ظلم روا رکھا جاتا ہے اور ان کے حقوق سے ان کو محروم رکھا جاتا ہے تو اسی سسٹم میں آپ کو لیڈیز فرسٹ کا قانون بھی ملے گا.
    بلکہ آپ شہر کے کسی بھی سب سے مصروف پیٹرول پمپ پر چلے جائیں لمبی قطار ہوگی بائیکس کی پیٹرول ڈلوانے کے لیے اور اگر ایک بندہ پیچھے سے آکر قطار میں گھسنا چاہے گا تو سبھی اس سے لڑیں گے مگر اسی دوران ایک بندہ بائیک پر اپنے ساتھ کسی خاتون کو بٹھائے نمودار ہوتا ہے اور سب کو کراس کرکے بالکل مشین کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرے گا اور پیٹرول ڈالنے والا ملازم بھی سب کو چھوڑ کر عورت کے ساتھ آنے والے مرد کو ترجیحاً پیٹرول ڈال کردے گا.
    اگر آپ خواتین کو ہمارے معاشرے میں ملنے والے پروٹوکول کو ملاحظہ فرمانا چاہتے ہیں تو کسی بھی پاپا کی پری کے نام سے سوشل میڈیا پر فی میل اکاؤنٹ بنائیے اور وہاں تھوڑی سی کھانسی کردیجیئے کتنے ہی ماہر ڈاکٹرز اور حکیم آپ کو آئن لائن مفت طبی مشوروں سے نوازیں گے اور کتنے ہی آپ کے انباکس میں تشریف لاکر آپ کی صحت کی بابت پریشان ہونگے.
    میں نے بہن بیٹی بیوی اور ماں جیسے مقدس رشتوں کے حوالے سے ملنے والی عزت، وقار، مان اور پروٹوکول کی بات نہیں کی بلکہ روز مرہ زندگی کے امور میں آپ کو سینکڑوں مثالیں ملیں گی کہ کس حد عورت کو توجہ اور احترام ملتا ہے.
    آپ نے خواتین کے حق میں آواز اٹھانی ہے تو شوق سے اٹھائیے سبھی احباب آپ کے ہمقدم بنیں گے عورت کو اس کے حقوق دلوائیے، کشمیر کی عورت کی آزادی کی بات کیجیئے کہ جو پچھلے چھ ماہ سے لاک ڈاؤن میں ہے، کسی شوہر غائب ہے تو کسی کا بیٹا شہید ہے، کسی کا بھائی انڈین آرمی کی قید میں ہے تو کسی کا باپ گمشدہ ہے، آسیہ اندرابی کی بات کیجیئے کہ جس کا شوہر پچیس سال سے قید میں ہے اور وہ خود پچھلے دس سالوں سے کبھی نظر بند کبھی قید کبھی کسی ظلم و ستم میں ہوتی ہیں.
    لیکن آپ ان سب سے صرف نظر کرکے فقط اپنے بےہودہ نعروں اور غلیظ پوسٹرز کی تشہیر کرکے عورت کا مزید استحصال کرنا ہے اور اس کو ان رشتوں سے باغی کرنا ہے تو یاد رکھیے کہ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ہی عورت ہے ان رشتوں کے بغیر وہ فقط گوشت ہے اور گوشت کے خریدار اور اس کو نوچنے والے گدھ ہرجگہ بکثرت پائے جاتے ہیں.
    اب یہاں پر کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کی عدلیہ کا بنتا ہے ان بیہودہ نعروں اور پوسٹرز پر مبنی مارچ کو روکیں کیونکہ یہ بیہودہ نعرے اور پوسٹرز نہ صرف اسلام اقدار کے خلاف ہیں بلکہ آئین پاکستان کی رو سے بھی ان فحش نعروں اور پوسٹرز کی گنجائش نہیں ملتی، لیکن اگر عدلیہ اور دیگر ادارے ان مارچ اور نعروں کو ٹھیک سمجھتے ہیں تو وہ اپنی بیٹیوں،بہنوں سمیت ان پروگراموں میں شامل ہوں تاکہ قوم کو بھی کوئی جواز مل سکے.

  • عورت مارچ ہو یا پشتون تحفظ موومنٹ ان سے نمٹنے کا آپ کا طریقہ غلط ہے صاحب!!! تحریر: محمد عبداللہ

    کسی بھی نعرے یا مطالبے کا واحد حل جو ہمارے ہاں رائج ہے وہ ہے اس کو بزور قوت یا بزور زبان ریجیکٹ کردو جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نعرہ اور وہ مطالبہ شدت پکڑتا ہے، این جی اوز کی شہ ملتی ہے، بیرونی امداد ملتی ہے، انٹرنیشل میڈیا کوریج دے کر حوصلہ فراہم کرتا ہے اور پھر وہی نعرہ قومی سلامتی اور ملکی بقا سے ٹکراتا ہے یہ چیز بھی یاد رکھیں کہ ہر تحریک اور ہر نعرہ چند حقائق بھی رکھتا ہے جو ہمارے معاشرہ کے ظلم و جبر اور استحصالی نظام ان کو فراہم کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ ان حقیقی اور جائز مطالبات کی آڑ میں لمبی چوڑی ناجائز مطالبات اور نعروں کی فہرست ہوتی ہے جو بالواسطہ یا بالاواسطہ ہمارے مذہب اور ہماری قومی سلامتی سے متصادم ہوتی ہے.
    اگر کسی بھی تحریک کے آغاز ہی میں اس کے جائز مطالبات اور تحفظات کو پورا کردیا جائے تو ان کے سینکڑوں ناجائز مطالبات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں. پی ٹی ایم کی مثال ابھی بالکل تازہ اور ہمارے سب کے سامنے کی ہے. نقیب اللہ محسود کے قتل پر انصاف کا مطالبہ بالکل مبنی بر حق مطالبہ تھا جو پورا نہ کیا گیا جس کا نتیجہ تاحال بھگت رہے ہیں. اب یہ عورت مارچ کا ایشو بھی ایسا ہی ہے جتنا ٹرول کریں گے، تنقید کریں گے، سوشل میڈیا پر اس کے اینٹی ٹرینڈز چلائیں گے ان کو اور شہرت ، قوت اور بین الاقوامی توجہ ملتی جائے گی، آسیہ مسیح، ملالہ یوسفزئی اور مختاراں مائی جیسے کتنے ہی ایسے ایشوز اور کیسز ہوتے ہیں جن کو ہم اتنی ہائپ دیتے ہیں کو بین الاقوامی مسئلہ بن جاتا ہے اور پھر معاملہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتا.
    عورت مارچ بالکل ویسا ہی مسئلہ ہے ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال جاری و ساری ہے اس میں کردار میڈیا، شوبز، معاشرہ سب ملوث ہیں جنہوں نے عورت کو انسان سے object اور پراڈکٹ بنادیا ہے کوئی بھی چیز بیچنی ہے تو اس کے لیے اس کے کمرشل میں عورت کا ہونا ضروری ہے حتیٰ کے ٹریکٹرز تک کی کمرشلز میں ہم عورت سے اپنے جسم کی نمائش کرواتے ہیں. کالج، یونیورسٹی، آفس، ٹرانسپورٹ ، بازار، پارک اور دیگر پبلک پلیسز پر نظر آنے والی عورت ہمارے نزدیک عورت نہیں ہماری نظروں کی تسکین کا ذریعہ ہوتی ہے.
    ہم تو چھوٹی بچیوں تک کو معاف نہیں کرتے زینب کا کیس سب کے سامنے ہے، ریپ کے کتنے کیسز ہوتے ہیں، کالجز اور یونیورسٹیز میں کس طرح سے عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، تیزاب پھینکنے کے کتنے واقعات ہوتے ہیں.
    یہ سب مکروہ حقائق ہیں جو بنیاد بنتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شرپسند عناصر اور این جی اوز اپنا کام کرتی ہیں اور بڑی معذرت کے ساتھ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز ان نعروں کے خلاف نہیں اپنے نظام کے خلاف چلائیے آواز اٹھانی ہے تو اپنے سسٹم کے خلاف اٹھائیے جو مختلف طبقات کا استحصال کرکے ان کی آڑ میں مختلف گمراہ کن تحریکوں کو پنپنے کا موقع دیتا ہے اور ان استحصال زدہ طبقات کی بجائے ان نعروں اور تحریکوں کو تحفظ اور قوت دے کر کھل کھیلنے کا موقع دیتا ہے مثالیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں.

  • FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    پاکستان کے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ عرصہ سے FATF کی خبروں، تبصروں، تجزیوں اور پیشین گوئیوں سے بھرا پڑا ہے اس کی وجہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان جون 2018 سے FATF کی گرے لسٹ میں اور FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتا چلا آرہا ہے لیکن FATF کسی طور مطئمن ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہم اس پر بات کریں گے کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں کہ FATF آخر پاکستان سے خوش کیوں نہیں ہورہا حالانکہ 16 فروری سے اکیس فروری تک جاری رہنے والے اجلاس سے قبل ہمارے دوست ممالک نے بھی بڑی یقین دہانیاں کروائی تھیں اور عزت مآب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بڑے دعوے کیے تھے کہ فلاں بھی ہمارے ساتھ ہے اور فلاں بھی ہمارے ساتھ لیکن اجلاس کے بعد وہی FATF کے محبوبہ کی خواہشات کی طرح بڑھتے ہوئے "ڈو مور” کے مطالبات ہیں.
    ہمارے بہت سارے احباب تو FATF کو ہی نہیں جانتے کہ یہ کیا بلا ہے اور کیونکر ہمارے سروں پر مسلط ہوئی ہے.FATF کا قیام جولائی 1989 میں جی سیون (G-7) ممالک کے فرانس منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا. بعدازاں اس کی تعداد بڑھتی رہی اور ابھی دو علاقائی تنظیموں سمیت 39 ممالک اس FATF کا حصہ ہیں. بنیادی طور پر یہ بین الحکومتی ٹاسک فورس ہے جو منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے خلاف ملکوں کے مشترکہ اقدامات کے لیے قائم کی گئی مگر نائن الیون کے بعد جب دنیا میں دہشت گردی اور War Against Terror کی صدائیں متواتر سنائی دی جانے لگیں تو FATF کے بنیادی مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیرر فنانسنگ کو مانیٹر کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اضافہ کیا گیا. FATF منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے ٹیکنیکل طریقہ کار کو اختیار کرتی ہے اور ممبر ممالک میں ایسے قوانین وضع کرواتی ہے جن کی زد میں آکر ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی روک تھام ہوسکے اور ان میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزائیں وغیرہ دی جاسکیں.
    اس FATF کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ سب ممالک کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں. جو ممالک ان اسٹینڈرڈز پر پورا نہ اتریں اور وہاں سے افراد یا تنظیمیں منی لانڈرنگ یا ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہوں تو ان پر نظر رکھنے اور وہاں سے ان جرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ان کو گرے لسٹ میں ڈالا جاتا ہے. جو ممالک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل کرکے ان جرائم پر قابو پالیں تو ان کو دوبارہ سے وائٹ کردیا جاتا ہے اس کے لیے سال میں تین دفعہ جائزہ سیشنز ہوتے ہیں جن میں ممبر مماک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں یہ جائزہ سیشنز فروری، جون اور اکتوبر میں ہوتے ہیں. لیکن اگر ان سبھی جائزہ سیشنز کے بعد بھی کوئی ملک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل نہ کرسکے تو اس کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس ملک کے ساتھ لین دین اور برآمدات و درآمدات متاثر ہوجاتی ہیں ، آئی ایم اور ورلڈ بینک جیسی تنظیمات بھی اس ملک سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ.
    یہ تو تھیں پڑھی لکھی باتیں جو قوائد و ضوابط کا حصہ ہوتی ہیں یا ہیں لیکن آپ کو یہ بات جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ اس وقت FATF کی گرے لسٹ میں پاکستان کے علاوہ جو ممالک شامل ہیں 90 فیصد دنیا ان کے نام تک بھی نہیں جانتی ہے اور FATF کی حالیہ بلیک لسٹ میں صرف دو ملک شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں. یعنی بجز ان تین سرکردہ ممالک کے باقی ساری دنیا بہت شریف ہے. امریکہ جس نے وار آن ٹیرر کے نام پر ملکوں کے ملک اجاڑ دیئے، لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، امریکن خفیہ ایجنسیاں جو دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑی بیٹھی ہیں وہ FATF کی نظر میں بالکل شریف ہیں. بھارت کہ جس کی مسلسل لابنگ اور کوششوں سے پاکستان FATF کا منظور نظر ٹھہرا ہے اس کی اپنی کیفیت دیکھیں تو ایک کلبوشن یادیو اور اس کی ٹیرر فنانسنگ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو اپنے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ پکڑا گیا تھا اس کے علاوہ بھارت کی اپنی سبھی ہمسائیہ ریاستوں میں ٹیرر پھیلانے کے لیے کی گئی فنانسنگ بڑی پاک صاف ہے جو FATF کی پکڑ میں نہیں آتی.کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کی نسل کشی FATF کے کسی قانون یا معیار کے نزدیک جرم نہیں ٹھہرتا جو اسے کلین چٹ دی ہوئی ہے.

    اور پاکستان جو امریکہ کی war on terror میں شامل ہونے کی غلطی کربیٹھا تھا اور تاحال اپنے ہی گلی محلوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ہزاروں جانیں اس دہشت گردی کی نظر ہوچکی ہیں، پاکستان کی اکانومی کا بھٹہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیٹھ چکا ہے اور دنیا بجائے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرکے پاکستان کو اس اکنامک کرائسز سے نکلنے میں مدد دینے کے پکڑ کر FATF کے کٹہرے میں بٹھا کر ڈو مور کی ایک لمبی فہرست تھما دی کہ جاؤ یہ یہ کام کرکے آؤ، فلاں فلاں بندے کو جکڑ کر سزاء دے کر آؤ کہ وہ اسلامی معاشی نظام کے تحت صدقے اور زکوٰة جیسی معمولی رقومات سے دنیا کا بہترین ریلیف کا نیٹورک چلا کر ہمارے سودی اور سامراجی نظاموں کے خلاف ایک صاف شفاف اسلامی نظام کیوں کھڑا کر رہے ہیں.
    پاکستان نے FATF کی ایما پر پاکستان میں جن افراد کو پکڑ کر سزاؤں سے نوازا ہے اور ان کے سبھی ادارے حتیٰ کے ایمبولینسز، ڈسپنسریز اور اسکولز تک اپنی تحویل میں لے لیے ہیں ان کو ماضی میں پاکستان کی عدالتیں بالکل کلیئر کرچکی ہیں اور دنیا بلکہ حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک یہ مانتی اور جانتی ہے کہ ان افراد کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اب اس شخص کو جس کیس میں گیارہ سال قید بمع جرمانے کے سزاء سنائی گئی وہ کیس بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ان پر کوئی دہشت گردی اور ٹیرر فنانسنگ وغیرہ کا جرم تو ثابت نہیں ہوسکا البتہ انہوں مساجد اور مراکز بنائے ہیں جو شاید دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکیں.
    لیکن FATF ہے کہ وہ ماننے کو تیار نہیں ہے اور اس نے پاکستان میں ڈو مور کی مزید لسٹ تھما کر جون تک وقت دے دیا ہے. تو صاف سمجھ آرہی ہے کہ FATF اور اس کے اسٹینڈرڈ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اسٹیک ہولڈرز اور ان کے مفادات اصل ایشو ہیں. کیونکہ پاکستان نے اپنے بے گناہ لوگوں کو فقط اس لیے جیلوں میں بھیجا ہے اور کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بھی سزائیں سنائی ہیں لیکن دنیا اس کو ماننے کو تیار نہیں ہے. حالانکہ حافظ سعید وہ شخص ہیں جو کبھی امریکہ کے خلاف نہیں لڑے البتہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ناٹو سپلائی پر ملک گیر کمپین کی تھی اور دوسری طرف جو لوگ براہ راست امریکہ سے لڑتے رہے امریکہ ان کو پھولوں کے ہار پہنا رہا ہے، گلبدین حکمت یار کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا ہے، جس حقانی نیٹورک کے نام پر ساری دنیا پاکستان کو مطعون کرتی رہی اسی سراج الدین حقانی کا کالم نیویارک ٹائمز میں پبلش ہورہا ہے. افغانستان سے امریکہ کے نکلنے تک پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ سے نکلنا مشکل معلوم ہوتا ہے اسی طرح پاکستان CPEC ایک ایسا جرم ہے پاکستان کو جو سامراجی طاقتوں کو ہضم نہیں ہورہا کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو CPEC کی سزا بھی FATF کے چنگل میں جکڑ کر دی جارہی ہے.یہ دو بڑی اہم وجوہات سمجھ آتی ہیں جن پر عالمی طاقتیں پاکستان پر FATF کی گرے لسٹ اور بلیک ہونے کے خوف کی صورت پریشر برقرار رکھ کر کچھ لو اور کچھ دو کی مزید پالیسی چاہتی ہیں.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    ویسے تو دنیا بھر کے کمزور اور مقبوضہ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کوئی ایام مخصوص نہیں ہوتے مگر کیا کریں ہم اپنی ہی شہ رگ کو پنجہ ہنود میں دے کر بھول چکے ہیں اور سال میں چند مخصوص ایام یا پانچ فروری کو یاد کرکے یکجہتی کی محافل و مجالس منعقد کرکے حق ادا کر دیتے ہیں کہ سال بھر کشمیر کا نام لینا اور یکجہتی کشمیر کا اپنے لہو اور پسینے سے اظہار کرنا تو دہشت گردی ٹھہرا اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے پس دیوار زنداں ڈال دیے گئے لہذا آجاکر اک پانچ فروری بچتا ہے جس میں پوری قوم مقبوضہ شہ رگ والوں سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کرتی ہے.
    یہ دن بھی کوئی باقاعدہ آئین پاکستان کی رو سے نہیں ہے بلکہ نوے کی دہائی میں قاضی حسین احمد مرحوم کی ترغیب پر اس وقت کی حکومت نے اس دن کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا. ایسے ہی پچھلے دو تین برسوں سے امت مسلمہ کی حالت زار پر کڑھنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے 14 فروری کو یوم فلسطین کے نام سے منانا شروع کیا ہوا ہے کہ اس دن وہ قبلہ اول اور وہاں پر پنجہ یہود میں جکڑے اہل ایمان فلسطینیوں کو یاد کرکے ان کی آزادی کی خاطر سوشل میڈیا پر آواز بنتے ہیں. یہ ایک احسن اقدام ہے جو سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے شروع کیا ہے.
    البتہ اس کے لیے جس دن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ دن اہل مغرب کے ہاں پیار و محبت کے اظہار کا دن ہے جس کو لے کر یہاں دیسی بھی بدیسی بنتے ہوئے اس دن کو پیار و محبت کے اظہار کے نام پر ہوس کی آگ بجھاتے نظر آتے ہیں لہذا بالخصوص ان دیسیوں اور کچھ معتدل افراد کو اس خاص دن کو فلسطین کے نام مخصوص کرنا گراں گزرتا ہے حالانکہ بہتے ہوئے خون مسلم کے ساتھ کھڑا ہونے سے زیادہ محبت کا اظہار ہو ہی نہیں سکتا.
    دوسری بات کہ یہ ویلنٹائن کوئی ہمارا اسلامی یا سرکاری تہوار یا ایونٹ تو ہے نہیں جو اس قدر فکر مند ہوں البتہ اگر حکومت پاکستان اور ذمہ داران ادارے اس دن کو فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمانوں کے نام کردیتے ہیں تو اس سے فلسطینیوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور دوسرا ویلنٹائن کے نام پر ہونے والی حیا باختگی اور ہوس کے کھیل بھی ختم ہونگے اس لیے زیادہ سے زیادہ آواز ملائیے تاکہ ذمہ داران بھی باقاعدہ اس دن کو فلسطین کے نام کردیں.
    وما توفیقی الا باللہ

  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.

  • کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    اس وقت دنیا بھر میں چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس موضوع بحث ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی اس پر رپورٹنگ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دنیا کو اس وقت ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرہ اگر کسی چیز سے ہے تو وہ کورونا وائرس ہے . کورونا وائرس نے چین کے ایک بڑے شہر ووہان سے جنم لیا ہے. تفصیلات کے مطابق ساؤتھ چائنہ کی سی فوڈ مارکیٹ اس وائرس کی برتھ پلیس بتائی جا رہی ہے کہ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اور چونکہ چین میں چمگادڑ، چوہے اور خرگوش وغیرہ ہر چیز ہی کھائی جاتی ہے اور عین ممکن ہے کہ جانوروں سے ہی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا ہے. اس سے قبل ماضی میں بھی چین کے اندر کرونا سے ملتے جلتے سارس نامی وائرس سے 2002 اور 2003 میں تقریباً آٹھ ہزار لوگ متاثر ہوئے تھے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 800 تھی. اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 17 ہزار سے تجاوز کرچکی اور جبکہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 361 ہوچکی ہے. دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پل پل کو کوریج دے رہے ہیں اورصحت کے سبھی عالمی ادارے اس جو انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں. سبھی ممالک میں بیرون ملک سے آنے والوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے اور دیگر ممالک میں موجود چینی شہریوں کو کرونا وائرس کا منبع سمجھ کر ان کے ساتھ میل جول سے احتیاط برتی جا رہی ہے. چین کے بڑے شہروں میں ہو کا عالم ہے اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے شہر ووہان میں لوگ گھروں دبک کر بیٹھے ہیں.
    بظاہر تو یہ وائرس ایک آفت اور بیماری نظر آرہا ہے مگر دنیا میں کچھ حلقے اس کو صرف وبائی مرض یا خود ساختہ وائرس ماننے کو تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ باقاعدہ ایک بائیولوجیکل ویپن ہے جو چائنہ جیسی معاشی سپر پاور کو کنٹرول کرنے اور اس کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے. کیونکہ اس طرح کے بائیولوجیکل ویپن یا وائرس کو استعمال کرکے مطلوبہ ملک کو تنہائی کا شکار کیا جاسکتا ہے اور اس کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے. کرونا وائرس کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات بھی اس خدشے کو تقویت دیتے نظر آ رہے ہیں کہ ماضی میں ایبولا، زیکا، نیپا، ایم آئی آر ایس، ڈینگی وغیرہ بیسیوں وائرسز آتے رہے جن سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں لیکن عالمی ذرائع ابلاغ میں اس قدر ڈنکا نہیں بجا اور نہ ہی کسی ملک کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا جیسے چین کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ ووہان سمیت چین کے بڑے شہروں میں بالکل سناٹا ہے کہیں کوئی انسان نظر نہیں آتا یہ منظر بالکل دو ہزار اٹھارہ میں نیٹ فلکس کی امریکی مووی Bird Box کی طرح کا نظر آرہا ہے. اس طرح دیگر کئی پرانی انگلش موویز میں ایسے مناظر فلمائے جاتے رہے ہیں جو آجکل چین میں نظر آرہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان موویز میں بھی یہ حالات مختلف وائرسز وغیرہ سے ہی پیدا ہوتے رہے ہیں. اسی طرح چین کو معاشی حوالے سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی بین الاقوامی ٹیکنالوجی اور کار کمپنیز نے اپنے آپریشنز اور کاروبار عارضی طور پر بند کردیے ہیں جس کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کو پندرہ ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ نقصان 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ چین کی برآمدات وغیرہ سبھی ہوائی اور بحری اڈوں پر رک چکی ہیں.ساری دنیا جانتی ہے کہ چین کے اس شدید معاشی نقصان کا فائدہ کن کو ہوگا اور سنجیدہ حلقے اسی بنیاد پر کرونا کو چین کے حریفوں کا چین پر حیاتیاتی حملہ یا بائیولوجیکل وار قرار دے رہے ہیں اس موقف کو امریکی سیکرٹری برائے تجارت ولبر روس کا عجیب و غریب انٹرویو بھی تقویت دے رہا ہے ولبر روس نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والا مہلک کورونا وائرس امریکہ کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اس سے شمالی امریکہ میں ملازمتوں کی واپسی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ اس انٹرویو پر ان کے مخالفین کو کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے.
    کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے چین کی معیشت اور عالمی ترقی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے.

  • "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 کیا ہے؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    مسئلہ فلسطین دنیا کے بڑے اور تاریخی تنازعات میں سے ایک ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد بالخصوص برطانیہ و دیگر ممالک نے جیوش ایجنسی کے ساتھ مل کر نام نہاد "ہولو کاسٹ” میں بچ جانے والے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک جگہ پر بسانے کھ منصوبے پر کام شروع ہوا جس کے لیے بیت المقدس(یروشلم) اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ یہودی بیت المقدس پر ہیکل سلیمانی کا دعویٰ کرتے ہیں. اس پلان کی وجہ سے ایک تو یہودیوں کو کوئی دیس مل جاتا اور دوسرا مستقل عرب دنیا کو ایک خطرے سے دوچار رکھا جاسکتا تھا تاکہ وہ آگے چل کر دنیا میں کوئی موثر کردار نہ ادا کرپائیں.
    اس کے لیے چودہ مئی 1948 کو یروشلم کو عالمی نگرانی کے تحت چلانے ، اس کے گرد و نواح میں یہودیوں کی آبادکاری اور اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو گیارہ مئی 1949 کو منظور کرکے اسرائیل کے قیام باقاعدہ عمل میں لایا گیا.جس کو عرب لیگ اور عرب ہائی کمیٹی نے مسترد کیا اور اس خطے میں جنگ چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے جس میں بڑی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہوتے رہے اور اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہوتی رہی لیکن ان سب جھڑپوں اور جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد بے گھر ہوتی چلی گئی اور اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتا چلا گیا.
    بین الاقوامی اداروں اور ملکوں کی مداخلت کے باوجود مسئلہ فلسطین لاینحل مسئلہ رہاہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل کی ایک وجہ بھی یہی مسئلہ فلسطین ہے.ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ایک پلان پیش کی ہے جس کو دی ڈیل آف سنچری کا نام دیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا. اس منصوبے کے مین نکات یہ ہیں.

    مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے گا اور شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا.
    چار سال کے لیے یہودی بستیوں کی آبادکاری پر پابندی عائد ہوگی جبکہ مغربی کناروں سمیت اب تک جو یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہوں گی.
    اپنی بستیوں سے نکالے گئے فلسطینی جو غزہ کی پٹی میں محصور ہوچکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے.
    اسرائیل اردن کے بادشاہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی انتظامیہ کا موجودہ نظام برقرار رہے گا
    فلسطینیوں کے لیے مختص کیے گئے علاقے آئندہ چار سال آمد و رفت کے لیے کھلے رہیں گے اور وہاں کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔
    اس وقت کے دوران فلسطینیوں کے پاس موقع ہوگا کہ وہ اس پلان کا جائزہ لیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور ’خود مختار ریاست کے لیے تعین شدہ پیمانے پر پورا اتریں.

    اس منصوبے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پلان کے تحت فلسطینیوں کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں. ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پلان سے فلسطینی علاقہ دوگنا ہو جائے گا اور مشرقی یروشلم دارالحکومت بن جائے گا جہاں امریکہ اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔
    اسرائیل نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہتے ہوئے انھیں ‘وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا بہترین دوست’ قرار دیا ہے.
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ‘منصوبہ اس صدی کا ایسا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کریں گے۔
    جبکہ فلسطینی اتھارٹی اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غرب اردن پر اسرائیلی حاکمیت کو مستقل طور پر مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
    فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ’سازش‘ ہے میں ٹرمپ اور نتن یاہو کو کہتا ہوں یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہمارے حقوق برائے فروخت نہیں ہیں اور نہ ہی سودے کے لیے ہیں۔ آپ کا منصوبہ، آپ کی سازش منظور نہیں ہوگی۔‘
    حماس نے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے اس منصوبے کو اشتعال انگیز اور فضول قرار دیا ہے۔ ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
    پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت کی ہے، پاکستان فلسطینیوں کو جائز حقوق اور حق خود ارادیت دینے کا حامی ہے اور پاکستان ایسی فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا جو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدی حدود پر مشتمل ہو اور القدس جس کا دارالحکومت ہو.
    امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر غور کے لیے عرب لیگ کا اجلاس ہفتے کے روز طلب کیا گیا ہے۔

  • "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    گرین شیٹ اور لائٹس سے مزین یہ روم اسٹوڈیو کہلاتا ہے. بالی ووڈ سے لے کر نیوز چینلز اور حتیٰ کہ یوٹیوب چینلز تک سبھی اس کو حسب اسطاعت استعمال کرتے ہیں. یہاں تک کہ بالی ووڈ کی کئی اقساط پر مشتمل سیریز اور موویز اس ایک کمرے میں بنتی ہیں. ان گرین ، بلیو یا دیگر شیٹس کو بنیادی طور پر کروما شیٹس کہا جاتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایڈیٹنگ میں اس کروما کو کٹ کرکے رنگ بھرنگے ساکن اور متحرک بیک گراؤنڈز وغیرہ سیٹ کیے جاتے ہیں. جن کرداروں کو حقیقت سے ہٹ کر دکھانا ہو تو ان کو بھی ان کروما شیٹس میں کچھ اسطرح سے کیمرے کے سامنے لایا جاتا جس میں بعد از ایڈیٹنگ ان کی ہیئت ہمیں عجیب و غریب دکھتی ہے.

    آپ بھی کہتے ہوں گے کہ عبداللہ نے یہ کیا بتانا شروع کردیا اور کوئی ان چیزوں کا ماہر مجھ سے ہزار درجہ بہتر یہ ساری چیزیں بیان کرے گا لیکن آج آفس میں اسٹوڈیو کی تصویر بنائی تو میرے ذہن میں بھی کوئی بات نہیں تھی بس فوٹو گرافی کی عادت کے تحت تصویر بنا لی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر اور اس سے قبل بھی اکثر اوقات اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو مختلف حادثات و واقعات میں کنفیوز اور پھر اسی کنفیوزن میں مختلف تبصرے اور تجزیئے کرتے دیکھتے ہیں تو ہنسی بھی آتی اور دکھ بھی ہوتا کہ ہم لوگ کب سطحیت سے نکل کر بین السطور دیکھنا شروع کریں گے. ہم کب اس بات پر غور کریں گے دنیا کے اس اسٹوڈیو میں ہدایت کار کیسے مختلف واقعات کو کروما شیٹس پر سیٹ کرتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے چیزیں آتی ہیں تو بالکل بدلی ہوئی اور ہم اسی کو حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں( جیسے ارطغرل ڈرامے اور اردگان کی تقاریر کو ہمارا جذباتی نوجوان عمران خان کی تقاریر کی طرح سریئس لے کر جذباتی ہوجاتا ہے).
    حالیہ ایران و امریکہ تنازعے میں اور اس سے قبل کی شام و عراق کی بربادیوں کیفیت بھی ایسی ہی ہے. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح اردگان بہت اچھا لیڈر ہے مگر صرف ترکی کے لیے ترکی سے باہر دیگر مسلم ممالک اور اقوام کے لیے وہ دوسروں سے کم نہیں ہے جو فقط اپنے مفادات دیکھتے ہیں ایسے ہی اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ ایران کے آنجہانی جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات بے پناہ ہیں اس کی قابلیت اور لیاقت ایسی کہ ملڑی اکیڈمیز میں پڑھائی جائے لیکن اس کا سارا کچھ ایران کے لیے تھا امت مسلمہ کے لیے نہیں البتہ شام و عراق کے کھنڈرات میں بہت بڑا کردار اس جنرل قاسم سلیمانی اور اس کی تیار کردہ فورسز کا بھی ہے.
    میں نے دن میں بھی یہ بات کی تھی کہ مڈل ایسٹ میں پکی ہوئی کچھڑی کے معاملات کو آپ فقط فیسبک کی دو چار پوسٹس سے نہیں سمجھ سکتے اور جب سمجھ ہی نہیں سکتے تو ان پر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہاں کے ٹوٹل کردار تو کروما شیٹس کے پیچھے چھپے ہوئے اور آپ کے سامنے اصل حیثیت میں موجود ہی نہیں ہے. فقط شام کو لیں تو شام میں ایران، روس، ترکی، امریکہ، داعش، فری سیرین آرمی و دیگر گروپس براہ راست موجود تھے اسکے علاوہ دیگر ممالک کے سپانسرڈ گروپس کی تعداد بیسیوں سے متجاوز تھی اور یہ سب کردار باہم دست و گریباں تھے اور ہیں. آپ جب تک ان سب کے مفادات، آپس کے تعلقات، آپس کی دشمنیوں کو نہیں سمجھتے تب تک آپ کیا سمجھیں گے.
    لہذا اپنے دوستوں کو کہوں گا کہ ہر موضوع اور ہر موقعہ پر تبصرے اور تجزیئے دینا ضروری نہیں ہے بلکہ حالات اور کرداروں کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی تلاشنا چاہیے یہ نہ ہوکہ موویز اور ڈراموں کی طرح عالمی ہدایت کاروں کے اسٹیج کردہ یہ فکشن اور خون سے بھری یہ رئیل اسٹوریز میں مختلف لوگوں کا کردار آپ کو دھوکہ دے دے اور کوئی ولن آپ کی نظر میں ہیرو ٹھہر جائے.
    انتہائی ضروری نوٹ: یہ چند الفاظ میں نے انتہائی حد تک غیر جانبدار ہوکر لکھے ہیں میرے لیے بہت آسان تھا کہ جذباتی ہوکر الفاظ کا نوحہ لکھوں، شام و عراق میں شہید ہونے والے امت مسلمہ کے جواہرات کا ماتم لکھوں اور لوگوں کو بتاؤں آپ جن کو ہیروز سمجھتے ہیں ان کے کردار کی وجہ سے کتنے لاکھوں مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے شہید ہوئے اور کروڑوں آج جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah