Baaghi TV

Author: محمد عبداللہ

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

  • بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    شادی فقط معاہدہ یا وقتی تعلق نہیں ہوتا کہ بنا سوچے سمجھے اور اس کے جملہ مضمرات پر غور وفکر کیے بغیر فیصلہ کردیا جائے لیکن یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کرتے ہوئے بچوں کی پسند و ناپسند کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، ذات برادریوں، رشتہ داری کو قائم رکھنے، زمین و جائداد اور مال و دولت کے لالچ کے لیے بچوں کے رشتے کر دیے جاتے ہیں. اس میں زیادہ ایشو بیٹیوں کے ساتھ بنتا ہے کہ وہ بےچاری والدین کو فیصلے کو چیلنج کرنا تو درکنار اس پر بات بھی کریں تو بےحیا اور نافرمان کے لقب مل جاتے. لاڈ پیار سے پالی بیٹیوں کو جب بچپن اور لڑکپن میں کھلی آزادی دی جاتی ہے لیکن جب بات آتی ہے اس کی ساری زندگی گزارنے کی تو وہی جاہلیت والی سوچ اپنائی جاتی اور فیصلہ ٹھونسا جاتا جس کو بیٹیاں اپنی باپ کی چادر اور پگڑی کو داغ سے بچانے کے لیے چاروناچار قبول تو کرلیتی ہیں مگر اندر ہی اندر ختم ہوتی رہتی ہیں اور جو تھوڑی خود سر ہوں اور والدین کے لاڈ و پیار اور دی گئی آزادی کو برتنا جانتی ہوں وہ پھر چور دروازوں کو ڈھونڈتی ہیں اور وہ دروازے پھر گناہوں کی وادیوں میں کھلتے ہیں. بعینہ لڑکوں کے ساتھ بھی یہ ایشو ہوتا کہ والدین ذات برادری، جائداد اور رشتہ داری کے چکر میں ان کا رشتہ کردیتے ہیں جس پر لڑکے راضی نہیں ہوتے اگر وہ اس رشتے سے انکار کریں تو ان کو جائداد سے عاق کیے جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس پر وہ بھی چاروناچار والدین کا فیصلہ مان تو لیتے مگر گھر سے زیادہ توجہ باہر رہتی ہے جوکہ گھروں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور پھر جس پھوپھی اور ماسی کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنے کے رشتہ کیا گیا تھا اسی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ہمارے ہاں ایک نہیں دو دو تین تین گھر اجڑتے ہیں کہ وٹہ سٹہ کا سسٹم جو رائج ہوتا ہے.

    یہ صرف ہماری ذاتی ضدیں اور رسم و رواج ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسلام مرد و عورت دونوں کو اپنی پسند اور ناپسند کا حق دیتا ہے مرد کو تو اس حد تک آزادی دی کہ اس کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی بھی شرط نہیں ہے جبکہ عورت پر نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی شرط تو ہے لیکن ولی کو بیٹی یا بہن پر زبردستی کی اجازت ہرگز نہیں ہے اس پر عورت کو حق دیا جاتا ہے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق جیون ساتھی کو چننے کا اس پر ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی مثالیں بھی ملتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس اسٹیج پر آکر نوجوان باغی ہوکر یا تو خفیہ گناہ کے راستے ڈھونڈتے ہیں یا پھر کورٹ میرج کی صورت نکاح کو ترجیح دیتے جس کو ہمارے علماء حضرات متنازع قرار دیتے ہیں.
    بہرحال یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور بڑا حساس موضوع اور ایشو ہے جو گھروں، خاندانوں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے اس میں زیادہ کردار ہمارے علماء اور والدین کا بنتا ہے کہ وہ اس کی اصلاح کریں سب سے پہلے بچوں کی تربیت اس نہج کی ہونی چاہیے کہ حلال اور حرام کی تمیز اور ان کو اختیار یا رجیکٹ کرنا آتا ہو پھر بچوں کی مستقبل کی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے ان کی رائے ضرور لیں کیوں زندگی انہوں نے گزارنی ہے …

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…

  • "ربیع الاول ماہ مبارک ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم” تحریر: محمد عبداللہ

    بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے "لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد "ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”.
    بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں "جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
    "اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”
    .ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا "اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”
    ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی، کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "مسیحاؤں کی غنڈہ گردی اور حکومت کی بے بسی” تحریر: محمد عبداللہ

    جی یہ قوم کے مسیحا ہیں جو گزشتہ ایک مہینے سے قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہیں. ہر دوسرے روز سرکاری اسپتالوں کا عملہ بشمول نرسز، خاکروب سڑکیں بلاک کرکے جبکہ ڈاکٹرز آرام سے پرائیویٹ کلینکس میں بیٹھے پیسے چھاپ رہے ہوتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ کی نامنظوری اور دیگر چند مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کے نام پر سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور یہاں تک کہ ایمرجنسی تک کو بند کرکے خود پرائیویٹ کلینکس میں جا بیٹھتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کا عملہ سڑکوں پر آبیٹھتا ہے. ایک طرف تو ان اسپتالوں میں دور دراز سے آئے ہوئے ہزاروں غریب افراد جو پرائیویٹ علاج افورڈ نہیں کرسکتے وہ بے چارے رل رہے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز اور عملے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ قوم کے یہ مسیحا فرعون کے لہجے میں رعونت بھری نگاہ ڈال کر گاڑی میں جا بیٹھتے ہیں.
    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل ہی ساہیوال سے ہمارے دوست کہ جن کے والد صاحب لاہور جناح اسپتال میں ایمرجنسی میں وارڈ میں تھے مگر کوئی ڈاکٹر ان کو پوچھنے تک نہ آیا اور وہ ایمرجنسی وارڈ ہی میں اپنی جان ہار گئے. یہ ایک کہانی نہیں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کبھی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھے لوگ کبھی اپنی اونچی مسندوں سے نیچے اتریں اور آکر دیکھیں کہ کیسے ان کی رعایا صحت و انصاف کے لیے اسپتالوں اور کچہریوں میں رل رہی ہے اور باقی ماندہ سڑکیں بند ہونے اور قوم کے ان مسیحاؤں کی بدمعاشی سے سڑکوں پر لمبی لائنوں میں کھڑی ہے. دور دراز سے محنت مزدوری اور دیگر ضروریات کے لیے لاہور آنے والے اور شہر کے اندر ہی سے کام کاج کے سلسلے میں سفر کرنے والے لوگ جب روزانہ کی بنیاد پر یوں سڑکوں پر ہی خوار ہوتے رہیں گے تو خاک کاروبار ہوگا اور ملکی معیشت چلے گی.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
    جس غریب کی ان احتجاجوں کی وجہ سے دیہاڑی نہ لگ سکے اس کا چولہا کیسے جلے گا؟ کیا قوم کے ان مسیحاؤں کو یہ احساس ہے کہ ان کی آئے دن ہڑتالیں کتنے گھروں کے چولہے بجھا دیتی ہیں اور کتنے مجبور اور بے کس باپوں کو بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے خودکشیوں پر مجبور کردیتی ہیں. کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی گورنس میں کیسے یہ مٹھی بھر طبقہ پورے معاشرے اور قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہے؟
    کیوں یہ ہر دوسرے دن سڑکوں پر آن موجود ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی بندش سے غربت کی چکی میں پستے مریضوں کے لیے سامان مرگ کررہے ہیں. قوم ان مسیحاؤں کی غنڈہ گردی پر حکمرانوں سے سراپا سوال ہیں کہ ان ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ کے دیگر مضامین پڑھیے اور انکے بارے میں جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    کشمیر کی حسین وادی لولاب کے ایک گاؤں کا رہائشی منان وانی جو ایک کالج لیکچرار بشیر وانی کے گھر میں پیدا ہونے ہوا اور پروان چڑھا. تعلیمی مدارج کو طے کرتا ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے ریسرچ کر رہا تھا. وہ تھا تو سائنس کا طالب علم لیکن کشمیر کی صورتحال اور بھارتی افواج کے مظالم نے اس کو شعلہ جوالا بنا دیا تھا اور اس نے تقریر و تحریر کے ذریعے بھارتی افواج کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے کے خلاف جہاد شروع کردیا. شاندار تعلیمی ریکارڈ اور مختلف ادبی ایوارڈ رکھنے والے اس منان وانی نے جب دیکھا کہ اس کی تقریر و تحریر خاطر خواہ نتائج نہیں دے رہی اور بھارتی افواج کے مظالم روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں تو علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اس اسکالر نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور باقاعدہ طور گن اٹھاکر کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگیا. اپنی ممتاز حیثیت اور شخصیت کی بنا پر کشمیری حریت پسندوں کی تنظیم حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر بنا اور بھارتی افواج کو بزور قوت سبق سکھانے لگا. کشمیر کی آزادی کی اس جنگ میں وہ مسلسل بھارتی مسلح افواج کے مقابل برسر پیکار رہا اور بالآخر گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو ہندواڑہ میں ایک جنگل میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش. تین جنوری دو ہزار اٹھارہ سے گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ تک کے اس نو ماہ اور نو دن کے مسلح جدو جہد آزادی کے اس سفر میں منان وانی شہید نے بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا.
    منان وانی کی شہادت پر اس وقت کی کٹھ پتلی حکومت بھی چپ نہ رہ سکی اور اس شہادت کو قومی نقصان قرار دیا. کپواڑہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے منان وانی کی شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا :’منان کی قلم بندوق سے خاموش کردی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کردیا۔’
    منان وانی شہید نے دو خط لکھے جو کشمیر کے مقدمے کی سی حیثیت رکھتے ہیں. اس میں سے ایک خط کے مندرجات ملاحضہ کریں.

    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    غیر قانونی تسلط کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،یہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی رجحان ہے۔ دہائیوں پہ محیط،طویل خون ریزتنازعہ نے کشمیری قوم کو اقوام عالم میں سیاسی لحاظ سے، سب سے زیادہ مدبر اقوام کی صف میں لاکھڑا کردیا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہم سب نے کسی حد تک اس غیرقانونی تسلط کے پیچیدہ طر یق کار،ساخت اور مشینری کو سمجھ لیا ہے۔بھارت بحیثیت نو آبادیاتی ریاست،آہستہ آہستہ مگر مسلسل کشمیر میں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے۔مگر،غیر قانونی تسلط سرطان کی طرح ہوتا ہے، اس لئے بحیثیت قوم اور سماج ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم بھارتی نوآبادیاتی ریاست کی عسکری، ذہنی اور سیاسی شاطرانہ چالوں سے باخبر رہیں۔ ممکن ہے آپ حیرت زدہ ہوں گے کہ اس شخص نے قلم کے بجائے بندوق کوچن لیا، کیوں؟ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ہاں چند ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے میرے لئے خاموش رہنا سخت مشکل بنا دیا۔
    سادہ لوح، بھولے بھالے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر غداروں نے آج کل حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرکے اندھیرا کیاہے تاکہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط، جبری قبضے اور ظلم و جبر کو سند جواز فراہم کریں۔
    حقوق البشر کے محافظین تجارتی دیو بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس تنازعہ کو ظلم وجبر سے دبائے گئے لوگوں کے دکھ اور درد کو نمایاں کرکے تجارت کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اس تمام فعالیت اور سرگرمیوں کو براہ راست دہلی کے مصور خانوں سے ہدایات جاری ہوتی ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ
    پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک، ہر ایک، چاہے وہ ظالم ہے یا مظلوم، اس نے ہمیں آڑھے ہاتھوں لینے، لتاڑنے یا سرزنش کرنے کے لیے چنا ہے۔ چاہئے ہمارا راستہ اور طریقہ کار ہو، نظریات اور خیالات ہوں، وہ ہمیں بدروح، شیطانی صفت انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    تیسرا نکتہ جس نے مجھے خاموشی توڑنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے، وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں جبراًبندوق کے بجائے امن کی شاخ زیتون تھما دی گئی، تاکہ مزاحمت کے پرامن طریقوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ جب انہوں نے اپنی سوچ اور منطق کے مطابق ہمارے مزاحمتی طریقہ کار کو جواز فراہم کیا،حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے نظریات کو رد کیا۔
    اور بالآخر جب ایک پولیس اہلکار جو کہ بعد میں انسانی حقوق کا محافظ بنا، جس نے اپنے دور میں بیکارانہ طریقے سے لوگوں کی جائز خواہشات کو کچلنے کی کوشش کی اب بددلانہ اور غیر منطقی دلائل کے ذریعے سے انسانیت اور اعتدال پسندی کا مبلغ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جواب دینا لازم بنتا ہے۔ یوں مجھ جیسے شخص(جس کے پاس وسائل ہیں نہ متذکرہ بالا لوگوں کی طرح آرام و آسائش ہے) جس نے پہلے ہی قلم کے بجائے بندوق کو چنا ہے، کے لیے اُسی زبان میں جواب دینا لازم بنتا ہے، تاکہ ہم اپنے نکتہ نظر کو پیش کرسکیں۔
    میرا ماننا ہے کہ یہ بے حد ضروری ہے کوئی اندر کا واقف کار بھی اپنا نکتہ نظر سامنے رکھے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔ میں جبری قبضے کی طویل تاریخ میں نہیں جاؤ ں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک جبری قبضے سے متعلق بخوبی آگاہ ہے، کیسے شروع ہوا،وجوہات کیا تھیں اور اس کے اثرات کیا ہیں۔ مزاحمت کا نیا دور 2008 کے تلاطم کے بعد شروع ہوا، تب سے مزاحمت کے طریقے سختی سے اور مثبت انداز میں تبدیل ہوئے۔ مزاحمت کے طریقوں میں تبدیلی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ہتھکنڈوں نے بھی نشود نما پائی۔
    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    بھارت کو اس بات کا شدید احساس ہوا کہ وہ اب کشمیریوں کو زیادہ دیر بڑے بوٹوں کی غلامی تلے خاموش رکھ سکیں گے اور نہ ہی اپنے غیر قانونی قبضے کو جواز فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لیے بھارت جان بوجھ کر کشمیر کے تاریخی اور سیاسی حقائق کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
    ہر دن، ہروقت، نئے مکالے، تذکرے، مباحثے اور خیالات کو میڈیا میں مختلف افراد اور ایجنسیوں کے ذیعے پھیلایا جارہا ہے۔ بھارت بہت ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسے بیانیہ کی صنعتکاری سے لوگوں کو الجھائے،پریشان کرنا چاہتے ہیں، جو فوج کی موجودگی اور ظلم و جور کے ہتھکنڈوں کے موافق ہو اورریاست جموں کشمیر کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہو۔ بعض افراد کو طاقت ور اور وسائل سے بھرپور مقام اس لئے تفویض کئے گئے، کہ وہ ایسے بے محل اور غیرمتعلق بیانیہ، مقالہ جات سامنے لائیں، جسے لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے اور پرانے، حقیقی اور اصل بیانیہ فرسودہ اور بے جوڑ لگے۔
    ایک دن ایک بیوروکریٹ (سرکاری ملازم) لکھتا ہے کہ "صرف بھارت ہی کشمیریوں کے پاس ایک معقول دانشمندانہ انتخاب وچناو ہے” اور دوسرے دن ایک سیاستدان نے سوال کیا "کیوں عسکریت پسند موت کو گلے لگانے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں؟” میں یہاں کوشش کروں گا کہ ان مبہم دلائل کو مسمار کرکے ان کے پیچھے چھپی منافقت کو بے نقاب کروں۔ "ہم سپاہی ہیں، ہم مرنے کے لیے نہیں، بلکہ جیتنے، سرخ رو ہونے کے لیے لڑتے ہیں۔ موت کے بجائے ہم بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہونے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی عسکری طاقت، ظلم و جبر، استبداد، بھارت کے ہم کاریوں اور سب سے بڑھ کر اُس کے غرور اور گھمنڈ، جب ہم اس تمام کے خلاف لڑتے ہوئے جاں کی بازی ہار جاتے ہیں، تو ایسی جانثاری پر ہم عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔” ہم سے میرا مطلب تمام کشمیری اور کشمیری سے میرا مطلب ریاست جموں کشمیر کے وہ تمام شہری جوبھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے برسر جدوجہد ہیں، نہ کہ صرف وہ جو بندوق بردار ہیں۔
    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    ایک اُستاد، چاہئے وہ سکول، کالج یا جامعہ کا ہو، جو ایمان داری اوردیانت داری کے ساتھ بچوں کو تعلیم دیتا ہے یا ایک ڈاکٹر جو ہر وقت اپنے مریضوں کے ساتھ نیک دلی اور ہمدردی کا برتاؤکرتا ہے۔ ایک طالب علم جو آبرومندانہ طریقے سے غیرقانونی قبضے کے نتیجے میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے یا ایک سنگباز جو قابض افواج کی جانب پتھر پھینکتا ہے جبکہ بدلے میں اُسے گولیاں سہنی پڑتی ہیں۔ ایک کالم نویس، تبصرہ نگارجو بے خوف ہوکے لکھتا ہے یا ایک صحافی جو موقع پہ حقائق کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وہ شخص جو غیر قانونی قبضے، تسلط کے خلاف فقط بولتا ہی ہے یا ایک وکیل جو عدالت میں قانونی جنگ لڑتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم جو اپنے فرائض منصبی اخلاص کے ساتھ انجام دیتا ہے یا وہ پولیس والا جو لوگوں کو (قتل کرنے، دہشت زدہ کرنے، معذور کرنے اور مقامی لوگوں پر تشدد کرنے) کے بغیر فقط امن و امان قائم رکھنے کی اپنی اصل ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ہم سب مزاحمتی سپاہی ہیں۔
    مزاحمت میں خلیج اور سوسائٹی کے حصے بخرے کرنے کی غرض سے نئی شناختیں اور تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔2016سے پہلے بھارت کے خلاف تلا طم کو دانستہ طور صرف شہراور قصبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھااور عسکریت کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ چند ان پڑھ،بھٹکے ہوئے دیہی لڑکوں کی کاروائی ہے۔اب احتجاجوں کوجنوبی کشمیرکے دیہاتیوں،(جنہیں معیشت کی کوئی سوج بوجھ نہیں) کے ساتھ منسلک کیا جاتاہے۔ اگرچہ لوگوں نے ایسے بیانیہ کو،مزاحمتی تحریک کے تئیں بھرپور حمایت دکھا کر بارہا مسترد کیا ہے۔
    ہمیں اس امر سے خبردار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ کیسے بھارتی تسلط لوگوں کو احمقانہ گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے سے جداکرتے ہیں۔ کبھی ذیلی علاقائی (نارتھ اور ساؤتھ) اورکبھی فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف دونوں، سماجی اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک سخت مضبوط مہم جاری ہے۔ وہ لوگ جو غیرقانونی قبضے، تسلط کے خلاف برسر پیکار ہیں اُنہیں متعصب،جنونی، بنیادپرست اور اُن کا پسندیدہ لفظ دہشت گرد کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ بخوبی حقائق سے آ گاہ ہیں مگر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا یہ وہ کام ہے جو اُنہیں سپرد کیا گیا ہے۔
    بارہویں کلاس کے لیے بھارتی NCERT کی پولیٹکل سائنس کی نصابی کتاب "دہشت گرد” کی یوں تعریف کرتی ہے "جو کوئی بھی،کسی شہری کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے اندھادھند نشانہ بناتا ہے ” دہشت گرد کی اس تعریف سے ایک انسان واضح طور پر یہ سمجھ سکتا ہے کون دہشت گرد ہونے کے قابل اور اہل ہے۔ جب سے ہماری کاروائیوں سے ہر ایک باخبر ہے۔ بھارت کے برعکس ہم عام شہریوں،چاہئے وہ کشمیری ہو یا بھارتی،اور غیر محارب قتل نہیں کرتے۔وہ لوگ جو ہمیں دہشت گر د کہہ کر پکارتے ہیں ٹیکسٹ بک کو تبدیل کریں یااپنے علم بدیع و معانی کو۔
    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    بھارتی حکومت اپنے لوگوں کو یہ سکھاتی ہے کہ کشمیری عسکریت و آزادی پسند ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ جو 72حوروں کی لالچ میں عسکریت میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح مر جانے سے وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اس میں کوئی انکار نہیں کہ اسلام ہمارے کسی کام کے کرنے کا محرک اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے اور اسلام فی الحقیقت کسی بھی طریقے اور ذرائع سے ظلم و زیادتی کے خلاف لڑنے پر جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ مگر جس طرح میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ہم سپاہی ہیں، ہم جنگ میں صرف اس لئے نہیں کودے کہ جان دیکر جنت میں چلے جائیں بلکہ دشمن کے خلاف لڑ کر اُسے شکست دینے کے لیے میدان میں آئے ہیں.
    ایک مجاہد اپنا سب کچھ قربان کرنے کے باوجود جنت کا دعویٰ،استحقاق یا مطالبہ،نہیں کرسکتا۔جنت اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے اور کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ صرف ان حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وہ میدان قتال میں لڑکر جان دے چکا ہے بلکہ جنت میں داخلے کے لیے کثیر معیار ہیں۔اس کے علاوہ،ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے ہیں کہ اسلام خاص طور پر ہم سے تعلق رکھتا ہے،لیکن یہ سچ ہے کہ ان ظالموں کی، مذہب کے نام پرلوگوں کو استعمال کرنے کی طویل ترین تاریخ ہے۔وہ ہمیشہ اسلام کا ایک مخصوص حصہ منتخب کرکے،اُسے اپنی مرضی کا مطلب و معنیٰ اخذ کرکے اپنے جبری قبضے کو جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں. غیرقانونی قبضے اور تسلط پر عذر خواہی کرنے والے بھارتی فوجی طاقت، کثیر فوج اور میزائل ٹیکنالوجی کی شان و شوکت دکھاتے ہیں۔ ہاتھوں میں زنگ آلود کلاشنکوف لئے چند سو نوجوان لڑکوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دس لاکھ فوج کا آپس میں موزانہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تازہ ترین فوجی تاریخ، چاہے وہ امریکہ ویت نام میں، یو ایس ایس آر افغانستان میں یا نیٹو افغانستان میں ہو، ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ جنگیں کثیر فوج اور جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتیں۔ کیوں بھارت کو ایک بھاری بجٹ کے ساتھ بارہ لاکھ فوج کی ضرورت پڑتی ہے ان چند مٹھی بھر نوجوانوں سے لڑنے کے لیے؟ ایسے ہر ایک سوال کا جواب یہی ہے کہ بھارت پہلے ہی کشمیرمیں جنگ ہار چکا ہے۔
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ایک وقت تھا جب لڑائی ایک بندوق برداراور ہزاروں بھارتی فوجیوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن اب ایک مجاہد تک رسائی سے پہلے قابض فورسز کو ہزاروں غیرمسلح آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے. وہ لوگ جو فریڈم فائٹر نوجوانوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انکاونٹرزکی جگہ کا رخ کرتے ہیں، تو اس سے ہمیں لوگوں کے خواہشات اور جذبات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
    کشمیری مجاہدین اور آزادی پسندوں کو دہشت گرد گردان کر اور یہ کہہ کر کہ یہ ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں ممکن ہے بھارت اپنے شہریوں اور دنیا کو بیوقوف بنالے مگر بھارت کہاں سے یہ جواز فراہم یا تلاش کرسکتا ہے کہ اُ س کے خلاف لڑنے والی پوری قوم کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ بھارت سراسر مایوسی کی کیفیت میں ہے! ہر رات اُن کی ٹیلی ویژن چینلز پہ یہ عیاں ہوتا ہے۔ بھارتی سرکار کشمیر کے خلاف میڈیا پر نفرت سے بھری، زہریلا، کینہ پرور پرپیگنڈا مہم چلا کر اپنی ناکامیوں کو چھپاتی ہے۔ ایک شخص آسانی سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ کس درجہ اور سطح کی مایوسی ہے.
    مقبوضہ کشمیرمیں حکومتی خفیہ اداروں کی جانب سے کالجز اور جامعات کے معلموں کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ طالب علم مسلسل نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کو حکماً خاموش کیا گیا ہے۔ قوانین بنائے گئے ہیں جن کی روح سے سرکاری ملازمین سے یہ کہا گیا کہ وہ سرکاری پالیسی (حکمت عملی) کے خلاف تنقید سے احتراز کریں گے۔ کیسے ایک عذر خواہی کرنے والا، جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا ایک حصہ ہے، اس بیان کو واضح کرے گا.
    اکثر اوقات اس پر بحث و تمحیص کی جاتی ہے کہ ہمیں پرامن ذرائع سے بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلاشبہ،طریقہ کار اور کاغذات کی حد تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے،مگر عملی بنیادوں پر جمہوریت کے لیے اہل نہیں۔ کیسے آپ ایک ایسی قوم سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی آواز پر کان دھرے، جس کا نام نہاد جمہوری طریقے سے منتخب وزیر اعظم فرقہ وارانہ فسادات کا بنیادی معمار ہو۔ جہاں الیکشن ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑے جاتے ہوں. جہاں آبروریزی کرنے والا، بلاتکاری اور پیشہ ور مجرم ہی قانون بنانے والے ہوں، جہاں ذرائع ابلاغ کو برسراقتدار حکومت ہی چلاتی ہو۔ جہاں ایک نسل کی ہر ایک آواز اور ہر ایک نکتہ چیں، تنقید کرنے والے کو موت کی نیند سلاکر یا کسی اور طریقے سے خاموش کیا جاتا ہے۔جہاں حکومت پر اعتراض کرنے والے ہر شخص کو قوم دشمن قراردیا جاتاہے اور الیکشن کو(Populism) یعنی اشخاص کے انفرادی مفادات کو مدنظر رکھ کر، اور چالاکیوں کی بنیاد پر جیتا جاتا ہے۔ جہاں حکومتی ایجنسیوں کو مخالفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں اقلیت کو اپنے وجود کے خطرے کا سامنا ہے، جہاں ہر ایک اختلافی آواز کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔جہاں ایک مسلمان کو فقط فریج میں گوشت رکھنے کی پاداش میں دن کی روشنی میں زیر چوب لاکر ہلاک کیا جاتا ہے۔جہاں سر پر ٹوپی رکھنے والا اور برقعے میں ملبوس ہر ایک عورت مشکوک دہشت گرد ہے، جہاں طالب علموں کو سرکاری حکمت عملی کے خلاف احتجاج پر جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔جہاں ماہرین تعلیم اور صحافیوں کومحض اس بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں۔لہٰذا،کشمیر میں کتنے لوگ مرتے ہیں،بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھارت میں ووٹ حاصل کرنے والی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔
    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
    ہندوستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کے اطمینان کے لیے ایک کشمیری کی لاش کو الیکشن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔فوجی، معصوموں کو گولیوں کا نشانہ بنانے اورخواتین کی آبرو ریزی میں فخر محسوس کرتے ہیں،اور بھارت کے عام عوام کو جنگ جو میڈیاکے بیانیہ کے ذریعے سے اس طرح اور اس حد تک ذہن سازی کی جاتی ہے، جیسے اُنہیں کوئی عقیدہ سکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حقیقت میں اس تمام کی حمایت کرتے ہیں۔یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں، جو حالات بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں،نکسلی علاقوں اور سرزمین بھارت کے قبائلی حصوں کے ہیں، ان حالات کے مقابلے میں اچھے نہیں۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں آبروریزی، قتل و غارت گری، ظلم و تشدداور انسانی حقوق کی پامالیاں وہاں بھی بہت عام ہیں۔ مقامی حلیفوں کو استعمال کرکے، افسپا،ڈی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کی پناہ میں جاکر کشمیر میں ہمیشہ جمہوریت کو غیرقانونی قبضے،تسلط کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے وقت سے لیکر ان بھارت نواز سیاستدان کو ہمیشہ بھارتی جبری قبضے اور بھارتی مفادات کے لیے توپ کے ایندھن کے طور استعمال کئے گئے۔ اگر کبھی بھی انہوں نے کوئی مطالبہ کیا یا لوگوں کے حقوق کے لیے لب کشائی کئی تو ان حاشیہ برداروں کو بعد میں ایسے پھینکا گیا جس طرح ٹیشو پیپرکو استعمال کرکے پھینکا جاتا ہے۔
    حال ہی میں بھارت نواز جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کو اس کے اتحادی نے، نام نہاد وزیر اعلیٰ کو بتائے بغیر جس طرح گرادیا،ایک متعلقہ مثال ہے۔ یہ ایک کم تر، مگر کشمیر میں جمہوریت کا ایک اہم،بامعنیٰ مظاہرہ ہے۔ سیاسی محاذ پر، موجودہ گورنمنٹ اپنے سابقین کی مانند متکبرانہ اندازمیں کام کرتی ہے اور مکمل طورپر مخالف انصاف پسند علاقائی آوازوں کو نظر انداز کرکے بھارت کے چپے چپے کو زعفرانی رنگ(ہندتوا) میں رنگنا چاہتے ہیں۔ سرزمین بھارت اور مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں، پہلے سے موجود علٰحیدگی پسند اور آزادی پسند جذبات بالترتیب ان حالات سے شدت اختیار کرتے ہیں۔ یہ چند خیالی اور لفاظانہ دعوے نہیں؛حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ خالصتان تحریک کے احیاء کے ساتھ "دراویدستان ” کے لیے بھی آوازیں اُٹھی ہیں۔ذات پات،جو تاریخی اعتبار سے بھارت کی سب زیادہ گہری فالٹ لائن ہے اب مزید وسیع ہوتی جارہی ہے۔ جب یہ سب چیزیں ہورہی ہیں؛اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت نے تباہ ہونا ہی ہے اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک اس سارے عمل کا پیش خیمہ ہے۔
    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ
    موجودہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی پوری تاریخی بنیاد کو بگاڑنے اور تبدیل کرنے کے مشن پر ہے اور ایسا کرنے کی کوشش میں وہ جب مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے ہیں تو اپنے متعصبانہ فسطائی سیاسی خیالات کی نظر سے اُٹھاتے ہیں۔ مگر مسئلہ کشمیر کی، سراسر مختلف بنیادیں اور تاریخی سیاق و سباق ہے۔ اکثر ملاحظہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف کشمیر کے لوگوں کو چیزیں پیش کی جاتی ہیں کہ وہ کشمیر کی تاریخی اور سیاسی حقیقت کو بھول جائیں اور دوسری طرف اُنہیں ہندوستانی فوجی قوت کی نمود و نمائش کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے۔مقامی آبادی کو روزانہ سیز اینڈ سرچ آپریشنز "CASOs” ، جوانوں کی شبانہ گرفتاری، ہر ایک آزادی پسند آواز کو پس دیوار زنداں کرنا، احتجاجیوں پرچھروں اور اشک آور گیس کی بارش کرکے ہر غیر مسلح اور پرامن احتجاج کو محدود کرنا، حقیقی ” ہندوستان کے تصور” اور اُس کی جمہوریت کی ایک چھوٹی سے جھلک ہے۔
    کرفیو کے نفاذ کے ذریعے تمام آبادی کو اپنے گھروں میں مقید کرکے،مزاحمت کے پرامن طریقوں کا استقبال ہمیشہ گولیوں،چھروں اور اشک آور گیس سے کرکے کشمیر میں امن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ ہر ایک قوم ترقی، تعلیم اور دیگر دوسری چیزیں چاہتی ہے مگر اپنی عزت ووقار اور آزادی کی قیمت پر نہیں۔ وہ لوگ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں جو کھیل کود اور تعلیم کو کشمیر کی تاریخ کے عوض بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ان حقائق پر شاہد ہے کہ جنگوں میں قوموں کو شکست تو دی گئی لیکن اُنہیں اپنی تاریخ بھولنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔
    یہاں تک کہ اگر کشمیر میں مسلح مزاحمت ختم ہوجاتی ہے،اور بالکل کوئی آزادی کی تحریک نہیں رہتی،لوگ آج نہیں تو کل اپنی حق آزادی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کریں گے۔ تاریخی حقائق اور انصاف پر مبنی تحاریک اور خیالات و نظریات،مخصوص افراد کی ملکیت ہوتی ہے نہ اس نمائندگی کرتے ہیں۔چاہئے وہ شخصیات کسی بھی قدوقامت کے کیوں نہ ہوں۔ ایک شخض،چاہئے کتنا ہی بڑا قائد کیوں نہ ہو، (مرد/خاتون)صرف تحریک کا حصہ ہے بذات خود تحریک نہیں۔اگر ایک راہنماکسی بھی بنیادپر اپنے مؤقف کو تبدیل کرکے راہ مفاہمت پہ چل نکلتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک ہی خراب اور بدعنوان ہے؟شیخ عبداللہ کشمیر کا سب سے مشہور اور بلند پایہ لیڈر تھا۔ مگر کس چیز نے اُس کی قبر کوبرصغیر کی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور پُر حفاظت قبر بنادیا؟ وہ لوگ جو انفرادی شخصیات کو نمایاں،اُجاگر کرکے ہمیں تحریک کی بدعنوانی اور غیر قانونیت دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں اس بات پر غور و فکر کرنا چاہئے۔ لوگوں کے لیے صرف وہی لیڈر(مرد/خاتون) مستنداورقابل قبول،جو مسئلہ کشمیر کے حقیقی تاریخی سیاسی بیانیہ کے ساتھ کھڑا، قائم رہے۔حکومت صرف ظلم و زیادتی کی تدابیرکی نشود ونما کرسکتی ہے مگر وہ وقت پر ان پالیسیوں سے اجتناب کرکے تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس لیے بھارتی قبضے کے لیے عذر خواہی کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ،ہمیں بحیثیت انسان دیکھیں جو عظمت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔مگر، اُنہیں ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ غیر قانونی قبضے،تسلط کے سایے تلے زندگی گزارنے میں کوئی عظمت و وقار نہیں۔مظلومین کی حیثیت سے ہم پابند ہیں کہ ہم ہر قسم کی ناانصافی،ظلم اور جبر کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کریں۔ اور غیر قانونی قبضہ، تسلط کے زیر سایہ زندگی گزارنے سے بڑھ کر کون سی ناانصافی، ظلم اور جبر ہوسکتا ہے؟ ہمارے لوگوں کی مزاحمت نے قابضین کو اس حدتک مایوس کردیا،یہاں تک کہ وہ اُن لوگوں کو بھی برداشت نہیں کرسکتے،جو مقامی آ بادی کے غالب بیانیہ کی تائید تک نہیں کرتے۔مثال قائم کرنے کے لیے وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں،امن کے سفیروں کو بھی پابند سلاسل یا قتل کرتے ہیں، بصورت دیگر جنہوں نے کبھی بھی ناجائز قبضے کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ ہمیں اور ہمارے مقاصد کی سرزنش کے لیے مذہبی گفتگو کو سامنے لانے سے مسائل کے حل میں کبھی بھی آسانی پیدا نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اس حقیقت کے بارے میں یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مذہب جس کی ہم پیروی کرتے ہیں رسومات اور عبادات کاسیٹ کے بجائے ایک نظام زندگی ہے۔ اس لئے ایک انسان کا اپنی سوچ، اصول اور نظریات اسی سسٹم سے اخذ کرنا قدرتی امر ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر ایک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ظلم وجبر اور جارحیت کے خلاف بندوق اُٹھائے۔ مگر یہ ہر ایک کے لیے فرض ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ اور آخری بات، بحیثیت مسلم جو ایمان رکھتا ہے کہ اسلام انسانیت کے مکمل نظام حیات ہے، سماجی، اقتصادی اور سیاسی سسٹم کا احاط کرتا ہے، ہماری بھی تمنا ہے کہ اسی سسٹم کی حکمرانی ہو، مگر یہ سسٹم، نظام دھونس اور زور زبردستی کے ساتھ نافذالعمل نہیں لایا گیا، چاہئے حالات کیسے بھی تھے۔ ہمارا مقصد خاص یہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو بیرونی غیرقانونی تسلط، جارحیت سے آزاد کرنا چاہتے ہیں،اور یوں ہم ایک امن اور انصاف کا ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر ایک سوچ اور نظریہ پہ مباحثہ ہوگااور لوگوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ منتخب کریں جو کچھ بھی وہ پسند کریں۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ رہی ہے کہ جہاں بھی لوگوں نے حقیقی آزادی میں زندگی گزاری، اور اسلام کو حق حکمرانی دیا گیا،لوگوں نے نہ صرف اس کو خوش آمدید کہا بلکہ انصاف اور امن کا دوردورہ دیکھا۔ جیسا کہ ایک عظیم انقلابی میکولم ایکس کہتے ہیں؛ ہماری کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں، قرآن ہمیں خاموش ہوکے ظلم و جور برداشت کرنا سکھاتا۔ ہمارا مذہب ہمیں عاقل اور ہوشیار بن کررہنے کی تلقین کرتا ہے۔
    (منان وانی، سابق پی ایچ ڈی،سکالر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ مجاہد حزب المجاہدین).
    ان خطوط نے منان وانی شہید کی شخصیت کا قد مزید بڑا کردیا اور ان کو کشمیر کے ایک وکیل کی سی حیثیت سے متعارف کروادیا ہے. کشمیر کے پوسٹر بوائے کے طور پر مشہور ہونے والے برہان مظفر وانی شہید کے بعد منان وانی شہید کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ہیرو بن چکے ہیں اور نوجوان ان کی طرح تعلیمی سلسلے کو ادھورا چھوڑ کر منان وانی شہید کا رستہ اختیار کر رہے.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    اس وقت ہم سیالکوٹ کے ایک تعلیمی ادارے میں نائنتھ کلاس میں زیر تعلیم تھے. وہ 08 اکتوبر 2005 کی صبح کا وقت تھا اور کلاس روم میں انگلش کا پریڈ جاری تھا.میں کلاس روم میں پچھلے بنچوں پر موجود طلباء سے سبق سن رہا تھا (مانیٹر ہوتے تھے ہم) کہ اچانک کمرہ لرزنے لگا، سر قدرت اللہ ہمارے انگریزی کے استاد تھے وہ باہر نکلے تو دیکھا زلزلہ آیا ہوا ہے انہوں نے سب طلباء کو باہر نکلنے کو کہا ہم سب بھاگ کر باپر نکلے اور عمارتوں کے درمیان گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئے اور استغفار کے کلمات زبان سے جاری ہونے لگے. تعلیمی ادارے کی مسجد کے مینار کافی لمبے تھے ان کو زلزلے میں باقاعدہ درختوں کی ٹہنیوں کی طرح لہراتے دیکھا تو دل اچھل کر حلق میں آگیا. یہ دو تین منٹ کے لمحات قیامت کے لمحات تھے مگر ہمیں کیا پتا تھا کہ پاکستان کے کچھ علاقوں اور بالخصوص آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد اور گرد و نواح میں واقعی یہ لمحات قیامت بن کر ٹوٹے تھے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے. بعد کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 86 ہزار لوگ اس زلزلے میں جاں بحق ہوگئے تھے. تقریباً ستر ہزار کے قریب لوگ زخمی تھے اور معمولی زخمی نہیں تھے بلکہ کسی کا بازو کٹ چکا تھا تو کسی کی ٹانگ، کوئی ٹنوں ملبے تلے پھنسا تھا تو کوئی دریا کی لہروں کے سپرد ہوا تھا وہ قیامت صغریٰ کے مناظر تھے جو ان آنکھوں نے دیکھے.ریسکیو اور ریلیف کا ایک لمبا سلسلہ تھا جو شروع ہوا تو دنیا بھر سے امداد آنی شروع ہوئی، پاکستانیوں نے بھی اپنے بھائیوں کے لیے اپنے مال اور راشن کے منہ کھول دیئے اور ہر بندے نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر تعاون کیا اور زخمیوں اور پیچھے بچ جانے اور بے گھر ہونے والے تقریباً 2.8 ملین لوگوں کو سہارا دیا. خوراک، میڈیسن، بستر، کپڑے، راشن الغرض ہر چیز کے ٹرکوں کی لمبی لائنیں تھیں جو ان لوگوں تک پہنچی اور وہ پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوئے.
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل آزاد کشمیر کے ہی علاقے میرپور میں پھر سے زلزلہ آیا جس نے آٹھ اکتوبر والے زلزلے کی غمناک یادیں تازہ کردیں. گوکہ اس زلزلے میں زیادہ نقصان تو نہ ہوا لیکن آرمی اور دیگر ریسکیو کے ادارے پہنچے اور ریسکیو اور ریلیف کا کام شروع کرکے لوگوں کو بحالی میں مدد دی. لیکن ایک زلزلہ پچھلے دو ماہ سے بھی زائد عرصہ میں شہ رگ پاکستان کے مقبوضہ علاقے میں بھی جاری ہے. ستر سالوں سے بھارتی افواج کے ظلم و ستم کی چکی میں پستے کشمیریوں کی حالت زار پچھلے 65 دن کے کرفیو سے اور بھی محدوش ہوچکی ہے. آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں زلزلہ آیا تو پاکستان سمیے دنیا بھر سے امداد کی ایک لمبی لائن تھی جس کا ہم اوپر والی سطور میں ذکر کرچکے اس کے علاوہ افواج پاکستان ، ریسکیو کے اداروں سمیت مذہبی جماعتوں کے ہزاروں رضاکاروں پر مشتمل ریسکیو اور امدادی کاروائیاں جاری رکھنے، ملبہ ہٹانے، زخمیوں کو فیلڈ اسپتالوں میں پہنچانے، ان کو خوراک ، پانی اور بستر دینے، ان کے گھر تعمیر کرنے اور دیگر ریلیف کے مختلف کام والوں کی بہت بڑی تعداد تھی لیکن موجودہ کرفیو کی کیفیت میں مقبوضہ وادی کے لوگوں کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے، 65 دن کے کرفیو میں کاروبار اور دیگر ذرائع آمدن کی بندش نے کشمیریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے.بھوک و پیاس سے جاں بلب کشمیری اطراف و کنار میں دیکھتے ہیں لیکن ان کی مدد و حمایت والی ساری آوازیں خاموش کرائی جاچکی ہیں. کشمیریوں کے گھروں سے راشن، بچوں کے لیے دودھ اور اسپتالوں کے بند ہونے سے بیماروں کے پاس سے دوائیاں بالکل ختم ہوچکی ہیں اور کہیں سے مدد کا کوئی سلسلہ نہیں ہے. بھارتی افواج کا ظلم و تشدد، جیلوں کو بھرنا، ساری کی ساری قیادت کا قید ہونا، آئے روز شہادتیں، مسلسل اجتماعی قبروں میں بیسیوں کشمیریوں کو دفنانے کا سلسلہ جاری ہے. اگر یہ کرفیو جلد از جلد ختم نہیں ہوتا تو اس خطہ ارض پر بہت بڑا انسانی بحران اور حادثہ پیدا ہونے جارہا ہے جس سے صرف آٹھ ملین کشمیری ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ پاکستان و بھارت بھی جنگ کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دو ایٹمی اور نظریاتی ملکوں کی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لی گی. بھارت نے اس کرفیو اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل کمال ہوشیاری سے اپنی پراپیگنڈا مشینری کو استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں پاکستان سے ان کے لیے اٹھنے والی سبھی مضبوط اور موثر آوازوں کو خاموش کروا دیا ہوا ہے، ایف اے ٹی ایف کے شکنجے کیں پاکستان کو جکڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے حکمران بے بس نظر آتے ہیں.
    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ
    گوکہ عالمی سطح پر پاکستان کی انتظامیہ اور بالخصوص وزیراعظم پاکستان عمران خان مسئلہ کشمیر کو بہت احسن انداز میں ڈسکس کر رہے ہیں اور یہ ایشو دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہا ہے لیکن یہ عام حالات نہیں ہیں کہ جس میں صرف تقریریوں یا سفارتی اقدامات تک محدود رہا جائے یہ ہنگامی حالات ہیں کشمیری 65 دن کے کرفیو سے قریب المرگ ہیں. ساری حریت قیادت قید ہے اور پاکستان میں بھی ان کے ہمنوا پابندیوں میں ہیں. ایسے میں اقوام عالم اور بالخصوص حکومت پاکستان کو جاں بلب کشمیریوں کے لیے کچھ عملی اقدامات کرنے چاہیں جو آٹھ ملین کے شدید ترین انسانی بحران کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکیں.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عمران خان کی تقریر کو لے کر دنیا بھر میں بحث جاری ہے. کوئی اس کو امت مسلمہ کے ویژنری رہنما کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھارت کی دہشت گردیوں اور کشمیر چیرہ دستیوں کو بہترین انداز میں اقوام عالم کے سامنے واضح کردینے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے.بلاشبہ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی گفتگو تھی جو عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم سے دنیا سے مخاطب ہوکر کی گئی.

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    عمران خان کی تقریر میں سے کچھ بہت اہم نکات اسلام کا بیانیہ، اسلامو فوبیا، توہین رسالت، اسلام پر لگنے والا دہشت گردی کا الزام بھی تھے. ان پر بات کرنے سے قبل میں قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ نائن الیون کے ایشو پر جب فوری اسلام کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور امریکی صدر بش نے اسلام کے خلاف باقاعدہ صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور بعد ازاں عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرکے ان ملکوں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا. جیسے ہی نائن الیون کا حادثہ پیش آیا اور اسلام و مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تو مغرب میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اسلام اور قران کا مطالعہ شروع کیا کہ یہ کونسا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا، ان دنوں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام "محمد” تھا، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور تخائف کی صورت میں دی جانے والی کتاب قران مجید تھی. مغرب میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا کہ وہاں کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں نے اپنی حکومتوں کو خبردار کرنا شروع کردیا کہ اگر صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اگلے کچھ سالوں میں اسلام مغرب کا سب سے بڑا مذہب ہوگا. اس ساری صورتحال میں باقاعدہ پراپیگنڈے کی فیکٹریز قائم ہوئیں اور اسلامو فوبیا کا اک منظم سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت مسلمانوں پر حملے اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے توہین رسالت کا مکروہ فعل مغربی حکومتوں کی سرپرستی میں بار بار سرانجام دیا گیا جو تاحال جاری ہے.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم پر گزشتہ شب کی جانے والی تقریر میں جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جہاں مسئلہ کشمیر، بھارتی دہشت گردی، موسمی تغیرات وغیرہ پر بات کی وہیں عمران خان کی تقریر کا بہت بڑا حصہ اسلام کے پر امن بیانیے کے فروغ، توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کو کاؤنٹر کرنے پر مشتمل تھا. عمران خان نے بلاشبہ اسلام کے پرامن بیانیے کو بہترین انداز میں اقوام متحدہ جیسے فورم پر پیش کیا اور دنیا کو دعوت دی کہ وہ اسلام کو اسٹڈی کریں. اسی توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے غم و غصے اور جذبات کو بھی بالدلیل مغرب سے سامنے رکھا. اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور واضح کیا کہ اسلام پر امن دین ہے جو دہشت گردی کے مخالف تعلیمات دیتا ہے. آزادی اظہار رائے کو بنیاد بنا کر شعائر اسلامی کو ہدف بنانے پر بھی زبردست انداز میں دفاع کیا. اقوام متحدہ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر لاالہ الا اللہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا.

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ
    عمران خان کے اس تاریخی خطاب کے بعد پوری دنیا میں اس پر تبصرے شروع ہوگئے. سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ملین سے زائد ٹویٹس کے ساتھ عمران خان ورلڈ وائڈ پینل پر سرفہرست رہے. امریکہ و یورپ سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اسلام، پاکستان اور عمران خان کو گوگل پر سرچ کرنا اور سماجی ویب سائٹس پر ان کے متعلق تبصرے کرنا شروع کیے.یہ بڑی خوش آئند صورتحال ہے اور یہ قوی امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح نائن الیون میں اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد مغرب میں لوگ اسلام کی طرف راغب ہوئے تھے اور بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا تھا ان شاءاللہ بعینہ عمران خان کے خطاب میں اسلام اور اسلامو فوبیا پر مفصل بیان کے بعد مغرب میں لوگ پہلے سے زیادہ اسلام کو اسٹڈی کریں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے ان شاءاللہ.

    مصنف کا تعارف اور دیگر مضامین پڑھیں

     

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah