Baaghi TV

Author: محمد عبداللہ

  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر:  محمد عبداللہ

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے کچھ عرصہ قبل عمران خان کے دورہ امریکہ اور ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بیان کی گئی باتوں پر بھی لکھا تھا ریاست پاکستان اپنا بیانیہ تبدیل کرچکی ہے. ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اور جس کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا پاکستان اس کا واضح انکار کرے گا کہ ماضی میں ہم نے غلط کیا ہے. جیسا کہ آج وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نیویارک میں کونسل فار فارن ریلیشنز میں بات چیت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کی جنگ میں کودنا پاکستان کی غلطی تھی وہ ہماری جنگ نہیں تھی، آئی ایس آئی نے مجاہدین، طالبان و دیگر کو ٹرین کیا جن کو نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گرد کہنا شروع کردیا تھا. ہم نے اس جنگ کے نتیجے میں ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، اس جنگ کیں ہمیں 200 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں غربت ہے جبکہ مودی آگ سے کھیل رہا ہے ہم بارہا ان کو کہہ رہے ہیں کہ آؤ امن کی طرف خطے سے غربت کے خاتمے کے لیے کام کرو. لیکن بھارت کی طرف سے ہمارے خلاف اقدامات ہو رہے ہیں جیسا کہ پلوامہ کا واقعہ پیش آیا تو بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام لگا دیا اسی طرح بھارت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیلا، خان کا مزید کہنا تھا کہ میں جنگ مخالف ہوں کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی.

    مزید پڑھیں ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    یہ بیانیہ اگرچہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا. اس پر بڑی باتیں اور بڑے تجزیئے ہونگے، الزامات کی بوچھاڑ ہوگی لیکن یاد رکھیے کہ پاکستان کے مسائل صرف معاشی، اقتصادی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ہی نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے بہت بڑے بڑے مسائل میں سے پاکستان کا عالمی سطح پر سفارتی تنہائی، ایف اے ٹی ایف میں پکڑ (جس کی وجہ سے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تجارت اور تعلقات میں مسائل کا پیدا ہونا)، مسئلہ کشمیر، افغان امن پراسس، دہشت گردی وغیرہ وغیرہ. ان سب مسائل سے بیک وقت نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرے، اپنے اوپر لگے ہوئے سارے الزامات دھوئے، ماضی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور ان پر پاکستان کے ردعمل کے حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کیا جائے اور اسی کا پرچار دنیا میں ہو اور یہ وہی کام ہے جو عمران خان اس وقت کر رہا ہے. یہ فقط عمران خان یا جی ایچ کیو یا دیگر سیاسی گروہوں کا بیانیہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان کا بیانیہ ہے اور موجودہ سنگین حالات میں یہی بیانیہ کارگر ہوگا. اس کے ساتھ ساتھ ایک کام کا ہونا بہت ضروری ہے اور بڑی خوشی ہے کہ یہ کام ہو بھی رہا ہے وہ ہے کہ پاکستان کے دشمنوں اور ان کی سازشوں کو اقوام عالم کے سامنے بالکل کھول کے رکھ دینا اور انکو کاؤنٹر کرنا.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "لاہور سے پانچ من مینڈک پکڑے جانے والی خبر میں کتنی صداقت ہے” تحریر:  محمد عبداللہ

    "لاہور سے پانچ من مینڈک پکڑے جانے والی خبر میں کتنی صداقت ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    نیوز چینلز کے مطابق راوی کے پل سے پانچ من مینڈک کے ساتھ ملزمان کو مجاہد اسکوڈ نے پکڑا اور تھانہ شاہدرہ کے حوالے کردیا جبکہ تھانہ شاہدرہ میں کال کرنے پر وہاں کے ذمہ داران نے مجھے بتایا کہ ہمارے پاس ایسے کوئی مجرم نہیں لائے گے. پولیس کے دیگر ذرائع سے دریافت کرنے پر وہ مینڈک والی خبر کی تردید کرچکے ہیں کہ ہمارے علم میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی. اسی طرح پنجاب فوڈ اتھارٹی کی انتظامیہ سے بھی ابھی میری بات ہوئی ہے اور وہ بھی لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہی یہ نیوز سنی ہے. اور اس خبر کو تیسرا دن ہونے کو آیا ہے لیکن تاحال مبینہ ملزمان کو کسی کورٹ وغیرہ میں پیش نہیں کیا گیا کیونکہ ملزم کو لازمی طور پر چوبیس گھنٹے کے اندر اندر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے. لیکن سوشل میڈیا پر اس اسٹوری اور نیوز کو لے کر طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے. اس فیک نیوز سے سینکڑوں کہانیاں بنائی جاچکی ہیں. کتنے ہی لوگ جو چکن سے فاسٹ فوڈ تیار کرتے ہیں وہ ان نیوز کو لے کر اپنے کاروبار کے لیے بہت فکر مند ہیں.اسی طرح بار بار مختلف فضول قسم کی پوسٹس پڑھنے اور دیکھنے کے بعد لوگوں کے لیے کچھ بھی کھانا ناپسندیدہ بنتا جا رہا ہے.
    دوستو اسلام ہمیں اسی لیے یہ بات بڑی واضح طور پر بتاتا ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی خبر پہنچے تو اس کی کنفرمیشن کتنی ضروری ہے. میڈیا اور نیوز سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ کوئی بھی ٹیبل اسٹوری یا فیک نیوز گھڑ کر کسی نیوز ایجنسی کے ذریعے تمام چینلز اور اخبارات تک پھیلا دینا کتنا آسان ہوتا ہے اور آگے نیوز چینلز اور اخبارات بھی ریٹنگ کے چکر میں اس طرح کی نیوز کو مرچ مصالحہ لگا کر صحیح اچھالتے ہیں. اپنے سوشل میڈیا کے دوستوں سے بھی کہنا چاہوں گا کہ کوئی بھی نیوز ملنے کے بعد اس کو دیکھ لیا کریں اور اس کے مضمرات کا بھی جائزہ لے لیا کریں. نعمان علی ہاشم کی یہ بات بالکل درست لگتی ہے کہ ہمیں حرام چیزوں سے زیادہ جو باتوں کا چسکہ لگ چکا ہے وہ زیادہ خطرناک ہے.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    اکثر و بیشتر ہم ایسی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں کہ تم لوگ جو آئے روز کشمیر ایشو پر ٹرینڈنگ کرتے ہو، شور مچاتے ہو اس سے مسئلہ کشمیر اور اہل کشمیر کو کیا فائدہ ملتا ہے یا بھارت کا اس سے کیا نقصان ہوتا ہے ، جہاں امت مسلمہ کچھ نہیں کر رہی تو تمہارے ان ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوجائے گا. تو عرض ہے کہ بات کوشش یا جدو جہد کے چھوٹے یا بڑے ہونے یا اس سے دشمن کو پہنچنے والے نقصان کی نہیں ہوتی بلکہ سائیڈ کی ہوتی ہے کہ آپ کس کی سائیڈ پر کھڑے ہیں اگر تو آپ ابراہیم علیہ السلام پھر آپ کا جتن آگ کو بجھانے کے لیے ہوتا ہے اور اگر آپ صف نمرود میں ہیں تو پھر آپ کی فکر آگ کو بڑھاوا دینے کی ہوتی ہے چاہے وہ چھپکلی کی طرح اپنی پھونکوں سے ہو یعنی آپ نے اپنی ان چھوٹی بڑی کاوشوں سے باور یہ کروانا ہوتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان اس وقت جنگ نہ کرنا چاہتی ہے نہ ہونے دینا چاہتی ہے، گزشتہ روز بھی عمران خان نے دو ٹوک کہا کہ پاکستان سے جو مسلح مدد کرنے گیا وہ کشمیریوں پر ظلم کرے گا بلکہ ریاست پاکستان اس ایشو کو انٹرنیشنل کمیونٹی اور فورمز میں اجاگر کرکے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد اور ظالم ملک ڈکلیئر کروانا چاہتی ہے (جیسے اس نے مسلسل پراپیگنڈے کے ساتھ پاکستان اور پاکستان میں موجود شخصیات کے ساتھ کیا) تو اس عمل میں جب آپ چاروں طرف سے بے بس ہوں تو صف ابراہیم میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جو آپ کر سکتے ہیں کم از کم وہ تو کریں.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈز کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے نشریاتی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، ملکوں اور انفرادی شخصیات کی توجہ کشمیر پر مبذول کروانا مقصود ہے اور الحمدللہ پاکستانی سوشل ایکٹوسٹس یہ مقصد حاصل کررہے ہیں مسلسل ٹرینڈنگ سے کشمیر ایشو بین الاقوامی ایشو بنتا جا رہا ہے ہے اور ہر طرف کشمیر پر بات ہونا شروع ہوچکی ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے کیوں اتنے لوگ روز شور مچاتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی نشریاتی ادارے اور دنیا بھر کے صحافتی اور دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کشمیر پر بولنا شروع ہوچکے ہیں. مسلسل 46 دن کے کرفیو پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یورپی یونین میں مسئلہ کشمیر پر بحث شروع ہوچکی ہے. دوسری بات کہ یہ موجودہ جنگ صرف نام کی ففتھ جنریشن وار نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ہے جس کی مختلف صورتیں اور جہتیں ہیں جہاں آپ کو کوئی بھی میدان خالی نہیں چھوڑنا ہوتا.

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    تیسری بات جو دوسری کے ساتھ ملتی ہے کہ قران کی آیت ہے جس کا ترجمہ اکثر ہم جیسے کم علم لوگ یہ کردیتے ہیں کہ کافر اسلام کو اپنی پھونکوں سے بجھان چاہتے ہیں تو اس میں پھونک کا نہیں منہ کا ذکر ہے مطلب میڈیم اور آج کا منہ یہ میڈیا ہی ہے اور آپ میڈیا پر اسلام و مسلمانوں کے خلاف یلغاریں دیکھ لیں تو اس بات کی بخوبی سمجھ آتی ہے اسلام.کے چراغ کو گل کرنے کے لیے اس میڈیا کا کیسے کیسے استعمال کیا جا رہا ہے. پھر اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں دنیا بھر کے پالیسی ساز ادارے اور تنظیمیں میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کو مانیٹر کرتے ہیں اور اپنی پالیسیز کو مرتب کرتے وقت عوامی رائے کو نظر انداز نہیں کرتے. عرب اسپرنگ کے نام پر عالم عرب کی تباہی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے جس میں بنیادی کردار اسی سوشل میڈیا ہی کا تھا، ان ٹویٹر ٹرینڈز کا ہی تھا لہذا اس میدان میں لڑنے والوں کی اگرچہ کوئی حیثیت اور ویلیو نہ ہو لیکن ان پر ہنسنے کی بجائے اگر ساتھ شامل ہوجایا جائے تو کم از کم اپنا تو پتا چل جائے کہ ہم کس صف میں شامل ہیں.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟  محمد عبداللہ

    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah
  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.

  • مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    مسئلہ کشمیر پر حقائق اور تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ مسئلہ کشمیر فقط ایک زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ ہے کوئی نظریہ یا اسلام کا مسئلہ نہیں ہے یہ تحریک آزادی کشمیر اور لاکھ سے زائد شہداء کے مقدس لہو کے ساتھ واضح ترین غداری ہے. یہ کوئی دو چار سالوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان سے قبل سے چلا آنے والا ایشو ہے جس کی بنیاد خالصتاً نظریہ اور مذہب پر کھڑی ہے. بھارت کی متشدد اور جنونی مذہبی حکومت کا کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرنا بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ فقط زمین جائداد کا مسئلہ نہیں ہے، کشمیر کے سرخ سیبوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ مذہبی اور نظریاتی مسئلہ ہے یہی بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہی کہ بھارتی حکومت وہ اپنے نظریے پر کھڑی ہے اور ان کا نظریہ اکھنڈ بھارت اور ہندو تواء کا نظریہ ہے وہ اشوکا کا بھارت چاہتے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف قدم اٹھارہے ہیں اور اپنے آئین کے بھی سراسر خلاف جا رہے ہیں. ایسے میں یہ سراسر تحریک آزادی کشمیر سے ناآشنائی والی بات ہے کہ بندہ اس مسئلہ کو فقط جائداد کا مسئلہ بنا دے. کشمیر کے مسئلے کا تعلق دو قومی نظریہ اور اسلام سے ہونے کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ بارہا بھارتی گورنمنٹ نے کشمیری نوجوانوں کو پیکجز کی آفر کی اور تعلیم و نوکری کے سبز باغ دکھائے مگر کشمیری حریت پسندوں نے ان تمام بھارتی آفرز و پیکجز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور علیٰ الاعلان یہ کہا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے.کشمیریوں کے لیے یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کشمیری پر امن ہوکر اپنے فروٹس اور دیگر چیزوں کو بھارت میں بیچنا شروع کردیں اور بھارتی بدلے میں کشمیر میں فلاحی پراجیکٹس کی تکمیل کرے لیکن وہ دو قومی نظریہ ہی ہے جو کشمیری نوجوانوں کو سنگینوں اور بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں پتھر اٹھاکر سینہ سپر ہوجانے پر کھڑا کردیتا ہے. یہ اسلام اور نظریے کا ہی تعلق ہے کہ علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت بھٹ، شبیر شاہ، میرواعظ عمر فاروق، یسین ملک سے لے کر ہر چھوٹا بڑا کشمیری حریت رہنما یہ صدا بلند کرتا ہے کہ اسلام کے تعلق سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے. یہ کوئی زمینی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نظریہ ہے جو ہر شہید ہوکر گرنے والے ایک کشمیری کی جگہ پر سو نوجوانوں کو کھڑا کردیتا ہے اور اس نظریہ کی حقانیت تو اب بھارتی کٹھ پتلیوں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی تسلیم کرچکے اور کھلے الفاظ میں کہہ چکے کہ جناح کا دو قومی نظریہ درست تھا.ہمارے دانشور اور علماء اس کو زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ بتا کر اس سے منہ موڑے رکھیں لیکن اغیار بھی واضح طور پر یہ کہنا شروع ہوگئے کہ مسئلہ کشمیر اسلام و کفر کا معرکہ و مسئلہ ہے. گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے یہ آرٹیکل پوسٹ کیا کہ آرٹیکل 370 کا ختم ہونا ہندوازم کی اسلام پر فتح ہے. کتنی شرم کی بات اور مقام افسوس ہے کہ دشمن تو اس کو نظریہ اور اسلام و کفر کی جنگ سمجھ کر اس پر فتح کے شادیانے بجائیں اور ہم اس کو زمین کے ٹکڑے کی جنگ کہہ کر روگردانی اختیار کرجائیں.
    #تلاش_منزل

    Muhammad Abdullah

  • مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    مسئلہ کشمیر پر حقائق اور تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ مسئلہ کشمیر فقط ایک زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ ہے کوئی نظریہ یا اسلام کا مسئلہ نہیں ہے یہ تحریک آزادی کشمیر اور لاکھ سے زائد شہداء کے مقدس لہو کے ساتھ واضح ترین غداری ہے. یہ کوئی دو چار سالوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان سے قبل سے چلا آنے والا ایشو ہے جس کی بنیاد خالصتاً نظریہ اور مذہب پر کھڑی ہے. بھارت کی متشدد اور جنونی مذہبی حکومت کا کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرنا بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ فقط زمین جائداد کا مسئلہ نہیں ہے، کشمیر کے سرخ سیبوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ مذہبی اور نظریاتی مسئلہ ہے یہی بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہی کہ بھارتی حکومت وہ اپنے نظریے پر کھڑی ہے اور ان کا نظریہ اکھنڈ بھارت اور ہندو تواء کا نظریہ ہے وہ اشوکا کا بھارت چاہتے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف قدم اٹھارہے ہیں اور اپنے آئین کے بھی سراسر خلاف جا رہے ہیں. ایسے میں یہ سراسر تحریک آزادی کشمیر سے ناآشنائی والی بات ہے کہ بندہ اس مسئلہ کو فقط جائداد کا مسئلہ بنا دے. کشمیر کے مسئلے کا تعلق دو قومی نظریہ اور اسلام سے ہونے کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ بارہا بھارتی گورنمنٹ نے کشمیری نوجوانوں کو پیکجز کی آفر کی اور تعلیم و نوکری کے سبز باغ دکھائے مگر کشمیری حریت پسندوں نے ان تمام بھارتی آفرز و پیکجز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور علیٰ الاعلان یہ کہا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے.کشمیریوں کے لیے یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کشمیری پر امن ہوکر اپنے فروٹس اور دیگر چیزوں کو بھارت میں بیچنا شروع کردیں اور بھارتی بدلے میں کشمیر میں فلاحی پراجیکٹس کی تکمیل کرے لیکن وہ دو قومی نظریہ ہی ہے جو کشمیری نوجوانوں کو سنگینوں اور بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں پتھر اٹھاکر سینہ سپر ہوجانے پر کھڑا کردیتا ہے. یہ اسلام اور نظریے کا ہی تعلق ہے کہ علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت بھٹ، شبیر شاہ، میرواعظ عمر فاروق، یسین ملک سے لے کر ہر چھوٹا بڑا کشمیری حریت رہنما یہ صدا بلند کرتا ہے کہ اسلام کے تعلق سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے. یہ کوئی زمینی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نظریہ ہے جو ہر شہید ہوکر گرنے والے ایک کشمیری کی جگہ پر سو نوجوانوں کو کھڑا کردیتا ہے اور اس نظریہ کی حقانیت تو اب بھارتی کٹھ پتلیوں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی تسلیم کرچکے اور کھلے الفاظ میں کہہ چکے کہ جناح کا دو قومی نظریہ درست تھا.ہمارے دانشور اور علماء اس کو زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ بتا کر اس سے منہ موڑے رکھیں لیکن اغیار بھی واضح طور پر یہ کہنا شروع ہوگئے کہ مسئلہ کشمیر اسلام و کفر کا معرکہ و مسئلہ ہے. گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے یہ آرٹیکل پوسٹ کیا کہ آرٹیکل 370 کا ختم ہونا ہندوازم کی اسلام پر فتح ہے. کتنی شرم کی بات اور مقام افسوس ہے کہ دشمن تو اس کو نظریہ اور اسلام و کفر کی جنگ سمجھ کر اس پر فتح کے شادیانے بجائیں اور ہم اس کو زمین کے ٹکڑے کی جنگ کہہ کر روگردانی اختیار کرجائیں.

    Muhammad Abdullah