بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
آپ کے ہاتھ میں ہے.
Author: محمد عبداللہ

کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
Muhammad Abdullah 
پہلے حافظ سعید اب ذاکر نائیک بھارت کے گلی کی ہڈی بن گئے – – – سعید جعفر
حافظ سعید کی طرح ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی انڈین حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے
کچھ دن پہلے ایک بار پھرانٹرپول نے انڈیا سے فرار ذاکر نائیک کی حوالگی عدم ثبوت کی بنا پر عمل میں نہیں لائی
میں ہمیشہ سے ذاکر نائیک سے اس کے لباس کی وجہ سے نفرت کرتا چلا آیا
کیونکہ بچپن سے ہمیں اس لباس سے نفرت سکھائی گئی
آج سے 15,20سال پہلے تک ہمارے ان دیسی علاقوں میں پینٹ شرٹ کو ایک معیوب لباس سمجھا جاتا تھا
ہمارے قاری صاحب نے ایک بار پینٹ شرٹ میں آئے معصوم بچوں کو واپس گھر بھیج دیا تھا کہ پہلے انسانوں جیسا لباس پہن کر آؤ
مگر کچھ بڑے ہوئے تو معلوم ہوا
کہ ذاکٹر نائیک ایک فزیشن ڈاکٹر ہے
اس نے جہاں تعلیم حاصل کی وہاں اس طرح کا لباس عام بات تھی
ڈاکٹر بننے کے بعد ذاکر نائیک میں اسلام کی تڑپ اٹھی
بے شمار غیر مسلم اس کی دعوت کی وجہ سے اسلام قبول کر چکے ہیں
ایک عیسائی کی پوسٹ میں نے خود پڑھی تھی کہ اسلام پر ہونے والے جو اعتراضات میرے ذہن میں تھے
ذاکر نائیک سے مجھے ان سب کے جوابات انتہائی تسلی بخش ملے
اور وہ مسلمان ہو گیا
بدقسمتی سے بنگلہ دیش میں ایک بارہونے والے دھماکوں میں ملوث افراد نے خود کو ذاکر نائیک کا پرستار ظاہر کیا
جس کے بعد ذاکر نائیک پر دہشت گردی کا الزام لگادیا گیا
حالانکہ وہ داعی مزاج بندے ہیں
آج کافی عرصے بعد انکا تازہ بیان براہ راست سنا تو دل سے دعا نکلی
یا اللہ اسے سلامت رکھنا
پرائیویٹ سکول چلانے والے جو لوگ اسلامی ذہن رکھتے ہیں
انہیں میں ذاکر نائیک کا ایک بیان جس کا عنوان ہے
"تعلیم دونوں جہان کیلئے ”
تجویز کرتا رہتا ہوں
تین گھنٹے کا بیان ہے
میں نے پورا سنا ہوا ہے
پرائیویٹ سکولوں کے مالکان ایک بار تین گھنٹے نکال کر وہ بیان ضرور سنیں

جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ بدو و احد میں نہ نکلتے، نہ صحابہ شہید ہوتے نہ نبی مکرم کے دندان مبارک شہید ہوتے، نہ مرحب شیر خدا کے ہاتھوں زیر ہوتا نہ مکہ و حنین فتح ہوتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو روم و فارس ابو عبیدہ اور خالد ابن ولید کے پاؤں تلے نہ روندے جاتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو ابن قاسم سندھ میں، ابن نصیر اندلس میں اور ابن باہلی چائنہ میں اپنے گھوڑوں کا نہ دوڑا رہے ہوتے. اسلام کی تو تاریخ ہی جنگوں سے عبارت ہے ہاں یہ جنگ ظلم و فساد نہیں پھیلاتی بلکہ اسلام نے اس کو جہاد کا نام دیا ہے جو انسانوں کو ظلم و ستم سے بچاتا ہے، جو فتنہ و فساد سے بچاتا ہے، جو بندوں کو بندوں ہی کی بندگی سے نکال کر ایک رب کے سامنے جھکاتا ہے، جو دنیا سے فتنے اور ظلم کا خاتمہ کرتا ہے. اسلامی تعلیمات تو بھری پڑی جہاد کے احکامات سے اگر جہاد پر مشتمل قرانی آیات کو جمع کیا جائے تو سوا آٹھ پارے بنتے جن میں اللہ اپنے بندوں کو جہاد اور حکمت کا اک اک گر سکھاتا، کہیں اللہ جہاد کی تیاری کا حکم دیتا تو کہیں انٹیلیجنس کے درس دیتا، کہیں بین الاقوامی تعلقات سکھاتا تو کہیں حملے اور دفاع کے طریقے تو آج کا مسلمان کیسے کہہ سکتا ہے کہ جنگ کسی مئلے کا حل نہیں ہے؟؟ آپ پاکستان کی کسی بھی چھاؤنی میں چلے جائیں آپ کو جہادی آیات کے کتبے دور سے نظر آئیں گے جن کو پڑھ اور سمجھ کر نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت مچل اٹھتا ہے. آپ پڑھو ذرا قران کو کہ اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر واضح طور پر فرماتا ہے ” وما لکم لا تقاتلون….. الخ” تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کے رستے میں ان کمزور عورتوں، مردوں، بچوں اور بوڑھوں کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے جو رو رو کر اللہ سے فریادیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس ظلم کی بستی سے نکال لے کہ یہاں کے رہنے والے ہم پر ظلم کرتے ہیں” آج اہل کشمیر اس حالت میں اللہ کے سامنے فریادی ہیں اور مدد کے لیے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں تو تم کہتے ہو کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے. پوچھو کیوں جی تو کہیں گے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی حالت متحمل نہیں ہے جنگ تو تبوک میں مدینہ والوں کی معاشی حالت پڑھو ذرا خشک سالی کے پکی فصلیں کھیتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، ابوبکر رض کے دور خلافت کے اوائل میں پڑھو ذرا لشکر اسامہ بن زید کی روانگی کے قصے کہ سازشیں، فتنے عروج پر تھے مگر جو لشکر نبی نے روانہ کرنا چاہا تھا اس کو اولین ترجیح پر رکھا. آج تمہارے معاشی و سیاسی مسئلے بڑے ہوگئے ہیں امت مسلمہ کے قتل عام سے؟ ؟
ہاں جنگ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے مگر جب جنگ مسلط کردی جائے تو پھر جنگ سے بھاگنا فقط جنگ سے بھاگنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمتوں سے اللہ کے عذاب اور نافرمانی کی طرف بھاگنا ہوتا ہے.
Muhammad Abdullah 
عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ
سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.
یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.
سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.

عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.
Muhammad Abdullah 
ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
باجوہ صاحب کے ساتھ ہوتے ہوئے کوئی بھی بیان بازی خان صاحب کی ذاتی نہیں ہوسکتی بلکہ جو بھی اسٹیٹمنٹس دی جائیں گی وہ اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت کا متفقہ بیانیہ ہوگا.
اور مان لیجیئے کہ ریاست پاکستان کا فی زمانہ بیانیہ یہی ہے. ماضی قریب میں وقوع پذیر والے واقعات کو ہی بطور مثال لے لیں، مذہبی و جہادی سوچ کی حامل جماعتوں پر پابندی اور انکی قیادت کی گرفتاری، کشمیر میں موجود جہادی گروہوں کے بارے میں بھارت کو انٹیلیجنس معلومات دینا، سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دینا، کشمیر کے ایشو پر وقتی چپ سادھ لینا، افغانستان ایشو پر دو ٹوک موقف رکھنا، افغان پناہ گزینوں کی واپسی، مغربی سرحد پر باڑھ کا لگنا ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا، کرپشن چارجز پر جیلیں بھرنا اور اب امریکہ کے دورے میں ٹرمپ کی ہاں میں ہر طرح سے ہاں ملانا اور اسامہ بن لادن تک سی آئی اے کی رسائی میں آئی ایس آئی کے کردار کا اعتراف کرنا یہ سب ماضی قریب ہی کہ واقعات ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان اپنا چہرہ واقعی ہی میں تبدیل کرنے جا رہی ہے. جنرل مشرف کے نئے پاکستان کی طرز پر یہ بھی اک بالکل نیا پاکستان بننے جا رہا ہے. جنرل مشرف نے جو حکمت عملی اپنائی تھی فی زمانہ اسی کی وسیع و عریض شکل کو رائج کیا جا رہا ہے. اس لیے آپ حالیہ بیانات کو چولیں کہیں یا کچھ اور، ان کا دفاع کریں یا کہ تنقید، پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ ایک پیج پر ہیں تو یہ سب کچھ وقوع پذیر ہونا ہے. آپ مزید کی بھی توقع رکھ سکتے ہیں.
Muhammad Abdullah 
سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ
گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟
مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

Muhammad Abdullah 
اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری
منظر فلسطین کے شہر غزہ کا ہے رات کا سناٹا چھایا ہے اسرائیلی فوج نے کرفیوں لگا رکھا ہے جو کہ چار دن سے جاری ہے کسی کو باہر آنے جانے کی اجازت نہیں ام عبداللہ اپنے دو بیٹوں عبداللہ جس کی عمر 12 سال اور عبدالہادی جس کی عمر 6 سال ہے کو لئے گھر میں بغیر مرد کے بیٹھی ہے کیونکہ چھ ماہ پہلے اسرائیلی فورسز نے ام عبداللہ کے شوہر محمد خالد کو شہید کر دیا تھا رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی ہے اتنے میں عبدالہادی چلانے لگتا ہے ماما رات بھی آپ نے کھانا نہیں دیا مجھے بھوک لگی ہے کھانا دو ماما مجھے کھانا دو ماں کی ممتا ٹرپ جاتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور کہتی ہے میرے لال تمہارا ماموں کھانا لے کر آ رہا ہے تو فکر نا کر سو جا صبح ہونے والی ہے صبح ہوتے ہی تیرے ماموں جان ضرور آئینگے عبدالہادی چیخ پڑا ماما جی آپ روز یہی کہتی ہیں مگر ماموں جان نہیں آتے پاس بیٹھا عبداللہ بولا ماما جی اجازت دیجئے میں خود ہی نانی اماں کے گھر سے کھانا لے آتا ہوں ام عبداللہ نے جب اپنے لخت جگر کی بات سنی تو ٹرپ کر بولی میرے جگر باہر صیہونی فوج کرفیو لگائے بیٹھے ہیں وہ تو ہم سب کی جان کے پیاسے ہیں میرے لال میں تمہیں ہرگز نا جانے دونگی عبداللہ بولا ماما جی چار دن سے کچھ نہیں کھایا اگر اب کھانا نا ملا تو ہم تینوں مر جائینگے لہذہ میری ماں مجھے جانے دیجئے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی تو نانی جان کا گھر ہے میں ابھی گیا اور ابھی آیا مجھ سے عبدالہادی کا رونا نہیں دیکھا جاتا ماں خاموش ہو گئی اور اپنے جگر گوشے کا ماتھا چوما اور دل میں ہزاروں وسوسے چھپائے بولی جا بیٹا احتیاط سے جانا اور نانی جان کو میرا سلام کہنا ام عبداللہ اپنے جگر کو دروازے تک چھوڑنے گئی اور ڈورتے ہوئے عبداللہ کو حسرت سے دیکھتی رہی
دوسری طرف ستر سالہ ام جعفر اپنے نواسے کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور سینے سے لگا کر بولی میرے پیارے تو اتنے خطرے میں کیوں گھر سے نکلا تو عبداللہ نے سارا ماجرا بیان کیا ام جعفر عبداللہ کی باتیں سن کر پریشان ہوگئی کیونکہ یہی ماجرہ ان کے اپنے ساتھ بھی تھا خیر ام جعفر نے پوتے کو تسلی دی اور خود کچن میں جا کر دیکھنے لگی آخر سوکھی ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے ملے اور اپنے نواسے کو دیتے ہوئے بولی لے میرے جگر ان سے گزارہ کرنا ابھی دن کا اجالا نمودار نہیں ہوا جا اجالا ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جا اور یہ ڈبل روٹی کھا کر اللہ کو یاد کرنا اللہ مدد فرمائینگے
12 سالہ عبداللہ ہاتھ میں سوکھی روٹی کے ٹکڑے اٹھائے گھر کی جانب بھاگ رہا تھا جب گھر کی چوکھٹ کے قریب پہنچا تو اپنے سامنے صیہونی فوج کو دیکھا ابھی عبداللہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اسرائیلی فوجی کی گولی عبداللہ کے عین دل کے اوپر لگی اور بیچارہ عبداللہ اپنے اور اپنے بھائی کے پیٹ کا سامان جہنم ہاتھ میں پکڑے رب کی جنت کا مہمان بن گیا ادھر کمرے میں بند ام عبداللہ نے تشویش سے گھر سے باہر جھانکا تو اپنے لخت جگر عبداللہ کو خون میں لت پت دیکھا تو فوری اپنے لال کے اوپر اپنی مامتا کی آغوش کا سایہ کرکے رونے لگی کہ اتنے میں ظالم فوجی کی دوسری گولی آئی اور ام عبداللہ بھی اپنے لخت جگر کے اوپر گر کر رب کی جنت کی مہمان بن گئی ادھر یہ دونوں ماں بیٹا صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو اندر ننھا عبدالہادی بھوک کیساتھ ٹرپ ٹرپ کر رب کی جنتوں کا مہمان ٹھہرا
آہ بھوک کیسی ظالم چیز ہے پاکستانیوں ان بے کسوں سے پوچھو
احتساب کا منہ زور گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے، جاوید ہاشمی بھی میدان میں آگئے
(نعمان بھٹہ نمائندہ باغی ٹی وی) جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ نیب کے یکطرفہ احتساب کا منہ زرو گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے یہ سلیکٹڈ احتساب کا طریقہ کار ہےسب کاروائیوں کا مقصد ن لیگ کو ختم کرنا اور نئی پارٹی بنانا تھی۔سنیئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ ایسی پارٹی بنانا چاہتے تھے جو انکی ساری باتوں کو عملی جامہ پہنائے اس لئےمشرف کے ساتھ رہنے والی ساری قوتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں یہ تجربہ پہلے ہی ناکام ہوچکا باربار کیوں دہرا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو ایک وعدہ معاف کے کہنے پر گرفتار کیا گیاایک نہیں اور کئی گرفتاریاں ہونگی۔آج پیپلز پارٹی کے لوگوں کو بھی ویسے ہی ہراساں کیا جارہا ہے جیسے مشرف دور میں کیا گیا۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو سیکنڈل کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا کہناتھا کہ جج کی ویڈیو جس نے بھی بنائی اس میں جج موجود تو ہےجب شہباز شریف نے جج سے بات کی تھی تو جج بھی گیا تھا اور زرداری صاحب کی سزا بھی ختم ہوئی تھی ۔اب جب ویڈیو پکڑی گئی جج کی پاور واپس لے لی گئی تو سب سے پہلے نواز شریف کی سزا ختم ہونی چاہیئے تھی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی شخص کی آزادی کو سلب نہ ہونے دے سپریم کورٹ کو نواز شریف کی سزا ختم کردینی چاہیے۔مخدوم جاوید ہاشمی کا مزجد کہناتھا کہ نیب نے اتنے لوگوں کو گرفتار کیا برآمد کچھ نہیں ہواگرفتاریاں کی ہیں تو کچھ برآمد کریں تاکہ اس سے ملک میں مہنگائی میں کمی آئے۔

تلہ گنگ بارش نے انتظامیہ کے سبھی دعوے دھو دیئے
تلہ گنگ میں مون سون بارشوں نے انتظامیہ کے پول کھول دیئے، مرکزی گزر گاہیں جن میں پرانا لاری اڈا، محلہ عمر مسجد، جی پی او چوک، محلہ کچہری، ایئر مارشل نور خان چوک اور اس کے علاوہ دیگر ملحقہ علاقے کی سڑکیں اور گلیاں زیر آب آگئی اور نکاسی آب کیلئے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ مکینوں اور مسافروں کو شدید مشکات کا سامنا ہے۔ نالوں کی گندگی اور بارش کے پانی ملنے کی وجہ سے کئی موزی امراض کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔

راولپنڈی سلطان پورہ کے باسی کیوں سڑک پر آگئے جانیئے
راولپنڈی_ شہر کے ہر کونے سے پانی دوپانی دو کی سدا بلند ہو رہی ہیں واسا حکام اور منتخب نمائندے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں شدید گرمی کے موسم میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ظہیراحمداعوان چئیرمین سٹیزن ایکشن کیمٹی وراہنما تحریک انصاف نے سلطان پورہ کے دورے کے موقع پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے شہر میں پانی کی شدید قلت کے مسئلے پر احتجاجی دستخطی مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں تک شہریوں کی آواز پہنچانا ہے۔
دور قدیم میں لوگ پانی کی وجہ سے نقل مکانی کرتے تھے جہاں پانی قریب ہوتا وہاں ڈیرے ڈالے جاتے تھے اب شہری گھر کرایہ یا خریدنے سے پہلے معلومات لیتے ہیں کہ اس علاقے میں پانی کی قلت تو نہیں۔
منتخب نمائندوں نے الیکشن میں بڑے بڑے حسین خواب دیکھائے تھے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد زاتی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ہم چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ راولپنڈی کے شہریوں کو بنیادی حقوق دلوائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لیں سکیں۔اس موقع پر حاجی اول خان صدر سلطان پورہ ویلفیر سوسائٹی،بابرزمان قریشی کونسلر،حاجی نصیر بھٹی کونسلر،اصلاح الدین خان صدر انصاف ورکرز اتحاد،حاجی منان خان،لیاقت خان شینواری نے بھی خطاب کیا۔















