Baaghi TV

Author: محمد عبداللہ

  • حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    خدمت انسانیت کی بدولت میں بچپن سے ایک بندے کا فین ہوں جس نے دین کی پرچار بھی خوب کی اور انسانیت کی خدمت بھی بلاتفریق سرانجام دی خواہ ہندو ہو یا سکھ عیسائی ہو یا مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا سب ان کی خدمت اور محبت کے گرویدہ ہیں.

    انہوں نے کبھی بھی فرقہ پرستی فتنہ و فساد کی لہر کو ہوا نہیں دی بلکہ ایسی چیزوں کا رد کیا ہے اور مسلمانوں کو ایک ہو کے اسلام کی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے.

    سادہ لباس والے منہ پہ داڑھی سجاۓ یہ معصوم لوگ جن کے پاس انسانیت کی خدمت کے علاوہ کوئی پہچان نہیں ان کو محض دوسروں کی خوشنودی کے لیے بار بار بین کر دیا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے رب پہ بھروسہ رکھتے ہوۓ صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھام لیتے ہیں.

    یہ واحد جماعت اور شخصیت ہے جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکی اور اس تحریک کو جاری و ساری رکھتے ہوۓ مزید تقویت بخشی جس کی وجہ سے کشمیری بھی ان سے بے پناہ محبت کرنے لگ گئے.

    یہ وہ جماعت ہے جو تھر کے ریگستانوں میں بھی بلکتے بچوں کا سہارا بن جاتے ہیں اور ان کو راشن مہیا کرتے ہیں حالانکہ تمام وسائل ہونے کے باوجود وہاں کی گورنمنٹ تمام وسائل کو اپنی عیاشیوں اور مے کدوں کی نظر کر دیتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں وہ خدمتگاروں پہ.

    مجھے اپنے انتخاب پہ فخر بھی وتا ہے اور حیرانگی بھی بہت ہوتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہے جن پہ جب بھی کوئی پابندی لگتی ہے الزام لگتے ہیں کیس بنتے ہیں یا نظر بندیاں اور پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی گالی گلوچ والا سین نہیں ہوتا اور نہ ہی سڑکیں بند ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا سامان بھی سرکاری تحویل میں لینے والوں کی گاڑیوں میں خود رکھواتے ہیں.

    اس ملک میں جو بھی مصائب آۓ چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب آندھی ہو یا طوفان انہوں نے بغیر سرکاری وسائل کے قوم کی خوب اچھے طریقے سے خدمت کی اور ان کو راشن پہچانے کے ساتھ ساتھ ان کو گھر بھی تعمیر کر کے دیے.

    بلوچستان میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں حافظ سعید کا بہت بڑا کردار رہا ہے ان کی وجہ سے بلوچستان میں بھی پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا.

    یہ وہی حافظ سعید ہیں جنہوں نے سب سے پہلے فتنہ و فساد پھیلانے والے تکفیری طالبانوں (داعش و ٹی ٹی پی) کو دہشت گرد قرار دیا اور اس پہ کئی کتابوں کو بھی شائع کروایا.

    محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کبھی بھی توڑ پھوڑ والا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اپنے تمام کارکنان کو بھی پرامن رہنے کی تربیت بھی دی اور کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ کرنے سے بھی منع کیا.

    ایک بے قصور آدمی جس کا جرم صرف اور صرف انسانیت کی خدمت ہے اور اسے بار بار بین کر دیا جاتا ہے لیکن پھر جب کوئی ثبوت نہیں ملتا تو عدالتیں کئی دفعہ اس کو کلین چٹ دے چکی ہیں کیونکہ ان کا کوئی جرم تو نہیں ہے کوئی تو پھر بار بار کیوں پابندی لگا دی جاتی ہے کیوں کفار کو خوش کر کے محب وطن پاکستانیوں کو تنگ کیا جاتا ہے ہم دوسروں سے بناتے بناتے اپنوں سے ہی بگاڑ رہے ہیں آخر کیوں؟

    گھر کی خاطر
    سو دکھ جھیلیں
    گھر تو آخر اپنا ہے

    بے قصور ہونے کے باوجود اس بندے نے کبھی بھی ریاست سے ٹکرانے توڑ پھوڑ فتنہ و فساد کا کبھی نہیں سوچا کیونکہ یہ محب وطن پاکستانی ہیں ان کا مقصد خدمت ہے اور یہ کام نہیں رکے گا اور پاکستان ترقی بھی کرے گا لیکن پھر بھی بتا دیں کیا جرم ہے ان کا؟

    زندگی کاٹی ہے جبر مسلسل میں
    نا جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    خدمت انسانیت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے یہ پابندیاں پکڑ دھکڑ سب عارضی ہیں ان شاء اللہ یہ جماعت اور حافظ سعید ہمیشہ کی طرح عدالتوں سے رجوع کریں گے اور ہمیشہ کی طرح سرخرو بھی ہوں گے کیونکہ یہ ملک کو توڑنے والے اور ریاست سے ٹکرانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنی فوج کو للکارا ہے یہ تو امن کے داعی ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہیں.

    دوسری طرف جو سیاستدان جیلوں میں قید ہیں انہوں نے اقتدار کی آڑ میں اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے کرپشن ہو یا غداری چوری ہو یا بغاوت سب جرم کیے ہیں انہوں نے کبھی یہ اداروں سے ٹکراتے ہیں کبھی عدالتوں سے اور کبھی اپنی ہی فوج پہ گولیاں چلا دیتے ہیں اور کونسا ایسا کام ہے جو انہوں نے اس ملک کے خلاف نہ کیا ہو؟

    کیا چوروں کرپٹ لوگوں اور غنڈوں کا انسانیت کے خدمتگاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
    بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت کرنے والوں سے محبت ہے اور اس کے دشمنوں سے سخت دشمنی ہے.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین
    پاکستان پائندہ باد

  • محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    جب محبت اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو پھر اس کی راہ میں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی زیر ہو جایا کرتی ہے….. ایسا ہی کچھ معاملہ بلوچوں کے دلوں کی دھڑکن، محب وطن بلوچ رہنما جناب سراج رئیسانی شہید کا تھا، وہ وطن کی محبت میں مارے مارے پھرتے تھے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا.
    اپنے ہر پروگرام اور سفر میں سبز ہلالی پرچم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے….. یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پرچم کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے…… اور واقعتاً یہ بات حقیقت ثابت ہوئی.
    انہوں نے پاکستان کی محبت میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبا جھنڈا بنوایا اور ان کی یہ خواہش تھی کہ یہ جھنڈا بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر اس انداز سے لہرایا جائے کہ دور سے آنے والے لوگوں نظر آئے اور وطن دشمنوں کو للکارے.
    بلوچستان کہ جہاں اس قدر وطن دشمن تنظیمیں موجود ہوں، وہاں پاکستان کا جھنڈا اتنی دلیری سے لہرانا کوئی عام بات نہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ وہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی.
    افسوس کہ انڈین فنڈڈ بی ایل اے نے سراج رئیسانی کو شہید کر دیا لیکن یہ جھنڈا اس کے بعد ان کے بہادر بیٹے جمال رئیسانی نے اس پہاڑی پر لگا کر اپنے والد کی خواہش پورا کر دیا ایسا بہادر بلوچوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج دشمن کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔
    وہ بلوچستان کہ جہاں لوگ عدالتوں میں کھڑے ہو کر پاکستان مخالف نعرے لگاتے تھے آج وہی نادانی میں بھٹک جانے والے بلوچ جوق در جوق ریاست پاکستان کو تسلیم کر کے پہاڑوں سے اتر کر ، ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔
    ان کے بیٹے جمال کا کہنا ہے کہ بابا کی یہ خواہش تھی کہ وطن کی محبت میں جان قربان کر جاؤں اور وہی ہوا کہ بابا جان کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور سبز ہلالی پرچم لہرانے کی پاداش میں شہید کیا گیا اور ہمیں اس بات پر فخر ہے.
    آج وہی بلوچستان ہے کہ جس میں دشمن کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان کا نام لینا بھی مشکل تھا آج وہاں محب وطن بلوچوں اور افواج پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہر شخص وطن پر جاں نچھاور کرنے کو تیار ہے.
    اللہ تعالٰی دشمن کی سازشوں کو ناکام کرے اور جناب رئیسانی کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے. آمین
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن
    تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

  • سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.

    ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
    ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.


    بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہی‍ں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
    ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
    حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.

    ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
    سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.


    انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
    واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.

    Muhammad Abdullah
  • وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

    وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

         فسطائیت کا لفظ ان دنوں پاکستانی سیاست میں زبان زد عام ہے۔انگریزی میں فسطائیت کو  فاشزم کہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سے پاکستانی میڈیا پر اس لفظ کا خوب پرچار ہورہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے بھی اپنے مختلف بیانات میں اس لفظ کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فسطائیت پروان چڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب فاشزم سے متاثر شخص ہیں اور وطن عزیز میں فسطائیت کے نظریات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وطن عزیز میں فسطائیت کو پروان نہیں چڑنے دیں گے بلکہ خان صاحب کے ان نظریات کا رد کر کے ان کا مقابلہ کریں گے۔میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور دوسرے اپوزیشن ارکان،خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو فسطائیت قرار دیا۔    
    قارئین کرام آج کے کالم میں ہم لفظ فسطائیت کے مفہوم اور اس کی تاریخ سے پردہ ہٹانے کی کوشش کریں گے۔بنیادی طور پر لفظ فسطائیت لاطینی زبان کے لفظ Fascio سے ماخوذ ہے۔لاطینی زبان کی اگر بات کی جائے تو یہ زبان قدیم روم میں بولی جاتی تھی۔لاطینی زبان میں لفظ Fascio کے معنی ڈنڈوں کے مجموعہ کے ہیں۔یہ ڈنڈوں کا مجموعہ اس وقت کے مجسٹریٹ کے پاس ہوتا تھا۔مجسٹریٹ ان ڈنڈوں کواپنے سپاہیوں کو دے دیتا اور وہ ان ڈنڈوں کو ہاتھوں میں لیے بازاروں میں گشت کرتے تھے۔بازار میں اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتے پکڑا جاتاتو وہ سپاہی اسی وقت اسے پکڑ کر سزا دیتے تھے۔ یہاں تک کے ان سپاہیوں کے پاس بڑی سے بڑی سزا دینے کے بھی اختیارات ہوتے تھے۔ڈنڈوں کا یہ مجموعہ وقت کے مجسٹریٹ کا نشان تھا جو بعد میں فاشزم یعنی فسطائیت بن گیا۔اگر ہم سیاسی تناظر میں اس لفظ کی وضاحت کریں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم پرستی یا شدید وطن پرستی ہے جو آمریت کا رجحان رکھتی ہے۔عام فہم میں آمریت سے مراد طاقت کا استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا اور اپنے نظریات کی پاسداری کرانا ہے۔
         فاشزم کا آغاز بیسوی صدی میں ہوا،بنیادی طور پر یہ یورپ کی ایک تحریک تھی۔اس تحریک سے ایسے لوگوں کی اکژیت وابستہ تھی جو سوسائٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے تھے۔فاشزم نے انڈسٹری،مارکیٹ،کامرس اور بینکنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔فسطائیت کی تحریک ایک جرمن فلاسفر فریڈرک نیطشے کی سوچ کا مظہر تھی۔اس کا خیال تھا کہ عیسائیت ایک غلام مذہب ہے،اور یہ لوگوں میں غلامی کو فروغ دیتا ہے۔لہٰذا ہمیں ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے مذہب کو چھوڑ کر جدید سائنس کو اپنانا چاہیے۔فریڈرک نیطشے کا مشہور مقولہ ہے کہ God is dead جس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط میں سے خدا کو نکال کر زندگی کے تمام اصول اور قوانین خود طے کیے جائیں۔اس نے ایک سپر مین super men کا تصور بھی متعارف کرایا،جس کے مطابق انسان میں طاقت ہونی چاہیے کہ وہ مقتدر بن کر اقتدار کی قوت کو حاصل کر سکے۔فریڈک کے مطابق ہر وہ چیز اور نظریہ جو انسان کو طاقتور بنائے اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس ہر وہ نظریہ جو اس طاقت کو حاصل کرنے سے روکے وہ برا ہے۔قارئین کرام اگر ہم فریڈک نیطشے کے فسطائیت کے مفہوم کو مختصر بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق طاقت اور اقتدار ہی اچھائی کا محور و مرکز ہیں۔اس طاقت اور اقتدار کو پانے کے لیے کوئی بھی اچھا یا برا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔فسطائیت کا آغاز سب سے پہلے اٹلی میں ہوااور اس کاپہلا بانی بینیٹو مسولینی تھا۔مسولینی سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا۔جنگ عظیم اول میں سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی نے حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کی جس وجہ سے مسولینی نے اس پارٹی کو خیر باد کہہ کر فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔اس پارٹی سے منسلک لوگ سیاہ شرٹ پہنتے تھے۔ان کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ اٹلی کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔انہوں نے اٹلی کی عوام کو تبدیلی کا ایک نیا تصور دیا۔آغاز ہی میں انہوں نے اٹلی کی ایک مزدوروں پہ مشتمل منظم تحریک کو طاقت کا استعمال کرکے ختم کر دیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اٹلی کے جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقے نے اس تحریک کو تقویت بخشی اور اس کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔اس طرح فسطائیت کی یہ تحریک اٹلی کے ساتھ ساتھ پورے یورپ میں پھیل گئی،اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات منوانے میں کامیاب ہو گئی۔قارئین کرام اس تحریک کا اصل مقصد نیشنلزم اور جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم کرنا تھا۔اگلے کالم میں ہم فسطائیت پہ مبنی نظریات اور اس کی علامات پہ روشنی ڈالیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی وزیر اعظم عمران خان وطن عزیز میں فسطائیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں،اور وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپوزیشن کی جانب سے خان صاحب پہ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
    رانا اسد منہاس جڑانولہ
    adiminhas562@gmail.com

  • جنیوا میں اقوام متحدہ کے سامنے کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ

    جنیوا میں اقوام متحدہ کے سامنے کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ

    جنیوا- (نمائندہ خصوصی) یورپ بھر میں بسنے والی کشمیری کمیونٹی کا سینکڑوں کی تعداد میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے کشمیر میں انڈیا کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔

    تفصیلات کے مطابق جنیوا سوئیزرلینڈ کے شہر جنیوا میں سینکڑوں یورپین کشمیری شہری اور مختلف کشمیری تنظیموں کے رہنماء اقوام متحدہ کے سامنے جمع ہوئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا. کشمیریوں کا اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرے میں انسانی حقوق کے علمبردار اقوام متحدہ سے مطالبہ کہ کشمیریوں کو انڈیا کی دہشت گردی سے آزاد کروایاجائے اور کشمیر میں جو ظلم انڈین فوج نہتے کشمیریوں پر کر رہی ہے اسکو رُکوایا جائے.

    کشمیری رہنماؤں نے مزید کہا اگر اقوام متحدہ کشمیر میں انڈین دہشت گردی کو نہیں روک رہی جس کی وجہ سے کشمیری نوجوان اپنے حقوق کے لیےبندوق اٹھا کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔احتجاجی مظاہرے میں شریک لوگوں نے انڈیا کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر آزادی کشمیر کی تحریریں آویزاں تھی اور اقوام متحدہ کے مردہ ضمیر جگانے کے لئے مظاہرہ دو گھنٹے تک جاری رہا.

    احتجاجی مظاہرے میں شریک کشمیریوں نے پاکستان کے پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے اور مظاہرے کے شرکا کشمیر بنے گا پاکستان اور بھارت مخالف نعرے بلند کرتے رہے۔کشمیری رہنماؤں کا اپنے خطابات میں مزید کہنا تھا آزادی کشمیر تک ہم ہر فورم اور ہر سطح پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف دلاتے رہیں گے.

  • دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟  محمد عبداللہ

    دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟ محمد عبداللہ

    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری شادی پر لاگو شرائط مثلاً بیوی سے اجازت کے ساتھ ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز وہ اٹھا رہے ہیں جن کی ابھی ایک بھی نہیں ہوئی اور اگلے کئی سالوں تک دور دور تک ان کی کنوارگی ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے.

    بہر حال یہ شرائط کسی طور بھی مدینہ کی اسلامی ریاست میں لاگو نہیں تھیں. دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنا خالصتا کسی بھی فرد کا ذاتی، انفرادی اور خاندانی ایشو یا عمل ہے گورنمنٹ اور مصالحتی کمیٹیوں اور کونسل کو ان میں دخل دینے کا اختیار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے. یہ ہمارے برصغیر کا ہی ایشو ہے جس میں دوسری، تیسری شادی کو برائی کی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. یہاں پر سوکن اور دوسری شادی جیسے لفظوں کو گالی کی حد تک برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ہمارے مقامی معاشرے میں بالکل بھی برداشت یا قبولیت نہیں ہے.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    حالانکہ دوسری شادی کرنے والا نہ تو جہیز وغیرہ کا طالب ہوتا اور نہ ہی دیگر سخت شرائط عائد کرتا ہے جن کی وجہ سے بیٹیوں کے والدین کی زندگیاں عذاب بنی ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ فضول رسموں اور رواجوں میں بھی دوسری شادی کے وقت پیسہ اور وقت برباد نہیں کیا جاتا ہے دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں اور بہنیں وطن عزیز میں ایسی ہیں جو جہیز اور لڑکے والوں کی سخت ترین شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دل میں لاکھوں ارمان لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. پاکستان میں خواتین کی ویسے ہی ماشاءاللہ سے کثرت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسری شادی پر پہلے ہی والدین ڈرتے رہتے ہیں. ایسے میں جب آپ دوسری ، تیسری شادی کے حوالے سے اتنی سخت شرائط عائد کردو گے تو اس سے معاشرے میں انصاف نہیں پھیلے گا صاحب بلکہ شادیوں کی شرح کم ہوگی اور جس معاشرے میں شادی کی شرح کم ہوتی ہیں وہاں بے حیائی اور زناء کی شرح بڑھ جاتی ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور خاندانوں کے عائلی مسائل جب آپ ان مصالحتی کونسلوں کے سپرد کرو گے تو اس سے بھی گھروں اور معاشروں میں اصلاح کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوں گے. کوئی بھی بندہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن، بیوی اور بیٹی کا مسئلہ باہر کے لوگ حل کرتے پھریں.
    ہاں آپ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھو کہ کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناروا سلوک تو نہیں کرتا، ظلم و زیادتی کا رویہ تو نہیں روا رکھتا.

    لہذا جو صاحب استطاعت ہیں ان کو کسی بھی شرط کے بغیر دوسری یا تیسری شادی وغیرہ کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے. سب سے بڑھ کر جب اسلام نے دوسری شادی پر کوئی قدغن، پابندی یا شرط نہیں لگائی بلکہ کتاب و سنت سے اس پر واضح احکام ملتے ہیں اور اسلام اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسلام سے بھی آگے نکل کر یہ شرائط اور پابندیاں لگانے والے؟؟

    Muhammad Abdullah
  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah
  • عورت اور اسلامی معاشرہ  ….. محمد عبداللہ

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.

    ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
    عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.

    اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.

    ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.

    یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.

    بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.

    یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.

    لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے چنوائے تھے تقدیر نے تنکے
    کہ بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
    یہ وطن عزیز پاکستان جو لاکھوں شہداء کے لہو کی قربانی سے قائم ہوا تھا کہ جس کے لیے تاریخ کی بڑی ہجرتوں میں سے ایک ہجرت ہوئی وہ کسی قومیت اور ذات برادری کے لیے نہیں تھی، صوبائیت اور لسانیت کے لیے نہیں تھی. برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کسی نعرے، نظریے یا مفاد کے لیے بلکہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آزادی کے لیے جمع ہوئے تھے.تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے سالار اور مسلم لیگ پاک و ہند میں محمد علی جناح کے رفقائے کار بھی بنگالی، پنجابی، بلوچی، سندھی، پختون یا کسی مسلک کی نمائندگی کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کسی نے لسانیت اور قومیت کے حقوق مانگے تھے. کسی کو سندھ، پنجاب،بنگال، بلوچ یا پختون بیلٹ میں مسئلہ نہیں تھا. درحقیقت ہندوستان میں مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کو تھا ہندو جو کہ اس برصغیر میں ایک ہزار سال تک محکوم رہے تھے اب وہ اسلام کو کچلنے اور اشوکا کے دور کے ہندوستان کو دوبارہ سے قائم کرنے کے پلان ہندو تواء پر عمل پیراء تھے جس کو سرسید احمد خان، جوہر برادران، محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ و دیگر نے بروقت بھانپ لیا اور قوم کو بیداری کا پیغام دینا شروع کردیا اور تحریک پاکستان شروع ہوئی اور لاکھوں قربانیوں اور ہجرتوں کی دلدوز داستانوں کے بعد نظریہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان جیسی مملکت خداداد کا قیام عمل میں آیا.
    قیام پاکستان کے بعد جب اس نظریہ اسلام کی جگہ ہمارے اندر قومیت اور لسانیت در آئی تو پھر علاقائی حقوق اور محرومیوں کے نعرے سننے کو ملنے لگے جو بنگلہ دیش کی علیحدگی پر منتج ہوئے جس میں واضح طور پر مجرمانہ کردار انہی کا تھا جن کی اولادیں آج بھی پاکستانیت پر لسانیت اور علاقایت کو فوقیت دے رہی ہیں.
    یہ ساری باتیں دہرانے کا مقصد و منشاء یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام سے اپنی بقاء اور استحکام کے سفر میں بھی لاتعداد قربانیاں دی ہیں ستر ہزار لاشے اس ملک کے طول و عرض میں اٹھائے گئے ہیں جن میں سول، سیکیورٹی پرسنز، اقلیتیں وغیرہ سبھی شامل ہیں.
    ان قربانیوں اور سیکیورٹی فورسز کے مشکل ترین آپریشنز کے بعد ہم اس قابل ہوئے تھے کہ ملک میں امن و استحکام کو دیکھیں مگر عالمی قوتوں کے پروردہ اور ان کے اس خطے میں مفادات کے نگران لوگوں کو پاکستان کا یہ امن و استحکام گوارہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان کا اس ملک کے نازک ترین مسائل لسانیت، علاقائیت، قومیت اور مسلکیت کی آگ جلاکر اس میں اس ملک میں قائم ہوتے امن کو راکھ کرنا مقصود ہے. اس کے لیے بدقسمتی سے جس علاقے اور بیلٹ کو چنا گیا ہے وہ ماضی میں دہشت گردوں نے بھی اسی علاقے کو اپنی آماجگاہ کے طور پر چنا اور ان علاقوں اور ان کے وسائل پر قابض ہوکر بیٹھ گئے جس کی وجہ سے یہاں کے محب وطن شہریوں کو اپنے ملک کے اندر ہی ہجرتوں پر مجبور ہونا پڑا. سیکیورٹی فورسز نے اپنی ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر ان علاقوں کو دہشت گردوں سے واگزار کرا کر یہاں کے شہریوں کو واپس لا بسایا. اب انہی دہشت گردوں کے بھائی بندوں نے لسانیت اور قومیت کی آگ میں جلانے کے لیے اسی علاقے اور انہی لوگوں کو چنا ہے. ابتداء میں پختون بیلٹ کے مسائل اور حقوق کی بات کی گئی جب ان کے مسائل ریاست کی طرف سے حل کیے جانے کی بات ہوئی تو بجائے مذاکرات اور بات چیت کی بجائے اپنے بڑوں (TTP) کی طرح تشدد کا رستہ اختیار کیا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر اپنے ہی ملک کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کردیا.
    پختون بیلٹ کو اپنی لچھے دار باتوں اور جھوٹے اور دلفریب نعروں سے الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو خانہ جنگی کیں مبتلا کرکے عالمی قوتوں کے مفادات کو تحفظ دینے کی بھرپور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اب تشدد کا رستہ اختیار کرکے پی ٹی ایم نے واضح طور پر اپنے مستقبل کے اقدام کو واضح کردیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں.
    یہاں پر میں انتہائی افسوس ناک کردار ادا کیا ہمارے وطن کی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے جنہوں نے کہ جو حکومت وقت کی مخالفت میں ریاست پاکستان کے دشمنوں اور غداری پر آمادہ ان پی ٹی ایم والوں کی حمایت کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ان حمایتیوں میں سب سے بلند آواز انہی کی ہے جن کے باپ دادا پاکستان کے دو لخت ہونے میں واضح ترین موجب تھے.
    اب وقت آن پہنچا ہے کہ پختون بیلٹ کی غیور اور محب وطن عوام جو اول تا ابد پاکستانی ہیں جنہوں نے قائد اعظم کی پکار پر لبیک کہا تھا اور ان کی پاکستان سے محبت مسلمہ ہے وہ ان نام نہاد پختون تحفظ موومنٹ جو درحقیقت افغان اور امریکی و بھارتی مفادات کی تحفظ موومنٹ ہے اور انہی کی ایما اور شہہ پر یہ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں ان کو کھلم کھلا مسترد کردیں پورے پاکستان کی عوام نہ صرف ان کا بلکہ ان کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز کا بائیکاٹ کرے اور ریاست پاکستان واضح ایکشن لے کر پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کرے پوری پاکستانی قوم بشمول قبائلی علاقہ جات کہ سبھی ریاست پاکستان اور مقتدر اداروں کی پشت پر کھڑی ہوگی.

  • کرکٹ ورلڈ کپ2019 کے لیے پی سی بی کی آفیشل کٹ کی تصاویر جاری

    کرکٹ ورلڈ کپ2019 کے لیے پی سی بی کی آفیشل کٹ کی تصاویر جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹویٹر پر 30 مئی 2019 کو شروع ہونے والے دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ ورلڈ کپ 2019 کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی آفیشل کٹ کی تصاویر جاری کردیں.

     

    https://twitter.com/TheRealPCB/status/1130745333821186050