Baaghi TV

Author: محمد آصف شفیق

  • فضائی سفر اور قومی  فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    فضائی سفر اور قومی فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    کچھ دن کیلئے پاکستان جانے کا پروگرام بنا ، اس بار ارادہ تھا کہ صرف ایک ہفتہ پاکستان میں گزار کر واپس آجانا ہے ، سستی ٹکٹ کی خریداری ے لیے دوڑ دھوپ شروع کی مگر اپنی چھٹی کے حساب سے کوئی نہیں مل رہی تھی تو سوچا اس بار اپنی قومی ائر لائن دیکھی جائے ، الحمد للہ ائر بلیو سے جانے آنے کاارادہ کیا اور ڈائیرکٹ فلائٹ جدہ سے ملتان اور واپسی بھی ڈائیرکٹ فلائٹ پر بکنگ بنا لی جب خریداری کا مر حلہ آیا تو ان کی ویب سائٹ پر صرف ایچ بی ایل اور یو بی ایل کے کریڈٹ کارڈ کا آپشن آرہا تھا مالکان اور تکنیکی عملہ سے گزارش ہے کہ ٹکٹ کی خریداری کو آسان بنایا جائے تاکہ ہر فرد کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی آپ کی ائر لائن کی ٹکٹ کسی بھی کریڈٹ کارڈ سے خرید سکے ، ہم بھی پاکستانی ہیں اور پاکستانی فارمولا لگا کر کوشش کی کہ ٹکٹ لے لی جائے مگر تین بار کی کوششوں کے بعد بینک نے کریڈٹ کارڈ کو ارضی طور پر کچھ گھنٹو ں کیلئے بند کر دیا ،اگلے دن صبح نماز فجر کے بعد دوبارہ کوشش کی تو الحمد للہ بخیر و خوبی ای ٹکٹ بن گئی ، پھر مرحلہ درپیش تھا کہ یہ ائر لائن آپریٹ کس ٹرمینل سے ہو رہی ہے ، چونکہ آجکل عمرہ پر آنے والوں کو بہت رش ہے اس وجہ سے جدہ میں تین ٹرمینل آپریشنل ہیں ایک تو ٹرمینل 1 ہے جس پر سعودی ائر لائن اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہو رہی ہیں دوسرا حج ٹرمینل ہے جہاں سے پی آ ئی اے اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہوتی ہیں اور ایک پرانا جدہ ائر پورٹ نارتھ ٹرمینل ہے ائر بلیو کی پرواز وہاں سے آپریٹ ہوتی ہے

    تھوڑی کوششوں کے بعد ہمیں پتا چلا کہ نارتھ ٹرمینل پر جانا ہوگا ، فلائٹ الحمد اللہ بروقت تھی ، سات افراد پر مشتمل عملہ نہایت اچھا اور اچھے اخلاق سے پیش آرہے تھے ائر بس اے 320 اچھی حالت کا طیارہ اور 180 سواریوں کی گنجائش تھی اور پوری طرح سیٹ بائی سیٹ ، فلا یٹ کپتان بھ انتہائی تجربہ کار اور ماہر ہواز باز تھا برسوں سے ہوائی سفر کر رہا ہوں سموتھ لینڈنگ میں ائر بلیو کا جواب نہیں کھانا بے شک کم مگر معیاری تھا اور سورس کا معیار بہت اچھا بر وقت ملتان ائر پورٹ پر لینڈنگ ہوئی اور پاکستانی عوام ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کوشاں نظر آئے جہاز رکتے ہی اٹھ کر کھڑے ہوجانا اس قوم کا شعار ہے دھکم پیل میں خوشی محسوس کر تے ہیں اترکر امیگریشن سے چند قدم دور ایک سپاہی کو شلوار قمیض میں ملبوس پردیسی سے الجھتے اور کورونا کے ٹیکوں کا سوال کرنے پر بڑی مشکل سے ہنسی روکی اور مداخلت کرتے کرتے رہ گیا کہ شاید اس بھائی نے سرکاری اہلکار کی شا ن میں کوئی گستاخی کی ہوگی جو زیر عطاب ہے اور آپ شکایت کریں بھی تو کس سے سب ہی افسر ہیں پاکستان میں دو کاونٹر امیگریشن پر چل رہے تھے جلد ہی میری باری آ گئی اور الحمد للہ زندگی میں پہلی بار سامان پہلے پہنچ گیا اس پر بھی زمینی عملہ داد کا مستحق ہے

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    ملتان سے اتر کر اپنے آبائی علاقہ کوٹ ادو میں ایک ہفتہ قیام رہا سردی الحمد للہ ٹھیک ٹھاک تھی اور بجلی نے بھی ہماری توقعات سے بڑھ کر ہماری خدمت کی مسلسل دو دن صبح 08.30 سے شام 04.30 تک کوئی کام نہیں کرنے دیا ، بہت سے احباب نے مختلف شہروں میں آنے کی دعوت دی سب سے آئندہ چھٹی پر ملاقات کا وعدہ کیا ہے امید ہے آیندہ کچھ زیادہ دنوں کیلئے جائیں گے تو سب کے شکوے دور کریں گے اب مہم واپسی کی تھی ادھر ادھر سے نمبر مانگ کر ملتان آفس بار بار کوشش کی اور ایک اچھا کام ائر لائن کی طرف سے یہ کیا گیا کہ بروقت ای میل کر دی کہ فلائٹ لیٹ ہے اور اب صبح تین بجے کی بجائے سات بجے روانہ ہوگی اور پھر ای میل میں اپ ڈیٹ کیا گیا کہ اب وقت تبدیل کرکے سوا نو کر دیا گیا ، الحمد للہ ہم نے ہمیشہ کی طرح بروقت ملتان پہنچ کر اچھے مسافر ہونے کا ثبوت دیا ہمارے پاس کوئی سامان تو تھا نہیں مگر سیکیورٹی والے حضرات نے سوال و جواب کا سیشن کیا اور پوچھا پیسے کتنے ہیں چند پاکستانی روپے اور چند ریال ہی تھے اس بھائی نے جلد جلدی پاسپورٹ نمبر اور بتائی ہوئی تفصیل نوٹ کی چیک ان کیا کاونٹر پر موجود عملہ مستعد اور بہت اچھے انداز میں پیش آیا امیگریشن کی باری آئی اور سارے مراحل طے کر کے ڈیپارچر لاونج میں انتظار کرنے لگے الحمد للہ فلائٹ اون ٹائم تھی اور فل لوڈ اور سواریاں بھی پوری 180 تھیں واپسی پر ٹیک آف اور لینڈنگ انتہائی شاندار رہی جو کہ ایک ماہر ہواباز کی نشانی ہے ائر بلیو اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ ماہر ہوا باز دستیاب ہیں ، ملتان سے روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد کپتان مسافروں سے مخاطب ہوئے تاخیر پر معذرت کی اور خوشخبری دی کہ فلائٹ پر سامان اور سواریاں فل ہونی کی وجہ سے ہم ایندھن زیادہ نہیں بھرواسکے اس لئے اب ہم کراچی اتریں گے ہمارا کراچی رکنے کا دورانیہ پینتیس منٹ ہوگا یہ سنتے ہیں ہمارا بھی منہ لٹک گیا کہ بھائی ہم نے تو پیسے ڈائریکٹ فلائٹ کے بھرے تھے اور اب آپ ہمیں کراچی لے جا رہے ہیں اور جہاز میں ہی بٹھائے رکھنا ہے دوران ایندھن بھرائی ، بہر حال اس بات سے ہم ائر بلیو سے خفا ہیں کہ بھائی رحم کیا کریں عوام پر ، اس بار چونکہ عمرہ زائرین کا رش ہے تو زیادہ تعداد عمرہ ادا کرنے والوں کی تھی او ر ان میں سے بھی اکثر پہلی بار سفر کر رہے ہوتے ہیں فضائی عملہ کی برداشت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ بہت تعاون کرتے ہیں خاص طور پر نئے لوگوں کو پہلی بار فضائی سفر سے پہلے کچھ نہ کچھ ٹریول ایجنٹس آگاہ کردیں تو ائر لائنز کیلئے آسانی ہو جائے ، خاص طور پر واش روم کے استعمال اور کھانا کھاکر خالی برتن واپس کرنے پر کم و بیش افراد سے بحث ہوئی ان کی اس بار کی یہ روداد رہی امید ہے احباب کو سفر نامہ پسند آیا ہوگا اس پر اپنی آراہ سے آگاہ فرمائیں
    والسلام
    محمد آصف شفیق
    @mmasief

  • خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    سورۃ کہف جس کی تلاوت ہم ہر جمعہ کو کرتے ہیں اسی سورۃ میں  حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے اس حوالے سے کچھ تفصیل اس حدیث مبارکہ میں بھی ہے آئیں آج اس پر غورو خوض  کرتے ہیں

      عبداللہ بن محمد السندی، سفیان، عمرو، سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو خضر سے ہم نشین ہوئے تھے، بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے، وہ کوئی دوسرے موسیٰ ہیں، تو ابن عباس نے کہا کہ (وہ) اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے، ہم سے ابی بن کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ موسیٰ علیہ السلام (ایک دن) بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ زیادہ جاننے والا میں ہوں، لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا، پھر اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ جاننے والا ہے، موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے اے میرے پروردگار! میری ان سے کیسے ملاقات ہوگی؟ تو ان سے کہا گیا کہ مچھلی کو زنبیل میں رکھو اور مجمع البحرین کی طرف چل پڑو، جب اس مچھلی کو نہ پاؤ تو سمجھ لینا کہ وہ بندہ وہیں ہے، موسیٰ علیہ السلام چلے اور اپنے ہمراہ اپنے خادم یوشع بن نون علیہ السلام کو بھی لے لیا، اور ان دونوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی، یہاں تک کہ جب پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں نے اپنے سر (اس پر) رکھ لئے اور سوگئے، مچھلی زنبیل سے نکل گئی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا، بعد میں (مچھلی کے زندہ ہو جانے سے) موسیٰ اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، پھر وہ دونوں باقی رات اور ایک دن چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے اپنے اس سفر سے تکلیف اٹھائی اور موسیٰ جب تک کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے، جس کا حکم دیا گیا تھا، اس وقت تک انہوں نے کچھ تکلیف محسوس نہیں کی، ان کے خادم نے دیکھا تو مچھلی غائب تھی، تب انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کا واقعہ کہنا بھول گیا، موسیٰ نے کہا یہی وہ (مقام) ہے، جس کی تلاش کرتے تھے، پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر لوٹ گئے، پس جب اس پتھر تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی کپڑا اوڑھے ہوئے یا یہ کہا کہ اس نے کپڑا اوڑھ لیا تھا، بیٹھا ہوا ہے موسیٰ نے سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے کہا اس مقام میں سلام کہاں ؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں (یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں میں) موسی  علیہ السلام ٰہوں، خضر علیہ السلام نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟، انہوں نے کہا ہاں، موسیٰ نے کہا کیا میں اس امید پر تمہارے ہمراہ رہوں کہ جو کچھ ہدایت تمہیں سکھائی گئی ہے، مجھے بھی سکھلا دو، انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، اے موسیٰ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر (حاوی) ہوں کہ تم اسے نہیں جانتے وہ اللہ نے مجھے سکھایا ہے اور تم ایسے علم پر حاوی ہو جو اللہ نے تمہیں تلقین کیا ہے کہ میں اسے نہیں جانتا، موسیٰ  علیہ السلام  نے کہا انشاء اللہ! تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے، اور میں کسی بات میں تمہاری  نافرمانی نہ کروں گا، پھر وہ دونوں دریا کے کنارے کنارے چلے ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی، اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس (سے ہو کر) گذری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو، خضر علیہ السلام پہچان لئے گئے اور کشتی والوں نے انہیں بے اجرت بٹھا لیا پھر (اسی اثنا میں) ایک چڑیا آئی، اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک چونچ یا دو چونچیں دریا میں ماریں، خضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ میرے علم اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے اس چڑیا کی چونچ کی بقدر بھی کم نہیں کیا ہے، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے اکھیڑ ڈالا، موسیٰ کہنے لگے، ان لوگوں نے ہم کو بے کرایہ (لئے ہوئے) بٹھا لیا اور تم نے ان کی کشتی کے ساتھ برائی کا) قصد کیا، اسے توڑ دیا، تاکہ اس کے لوگوں کو غرق کر دو، خضر علیہ السلام نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر صبر نہ کر سکو گے، موسیٰ نے کہا جو میں بھول گیا، اس کا مواخدہ مجھ سے نہ کرو اور میرے کام میں مجھ پر تنگی نہ کرو، راوی کہتا ہے کہ پہلی بار موسیٰ سے بھول کر یہ بات اعتراض کی ہوگئی، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر چلے، تو ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام اس کا سر اوپر سے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ سے اس کو اکھیڑ ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ ایک بے گناہ بچے کو بے وجہ قتل کردیا، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس پہنچے، وہاں کے رہنے والوں سے انہوں نے کھانا مانگا، ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہاں ایک دیوار ایسی دیکھی جو گرنے کے قریب تھی، خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کو سہارا دیا اور اس کو درست کردیا، موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے، خضر بولے کہ (بس اب) یہی ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے، ہم یہ چاہتے تھے کہ کاش موسیٰ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کا (پورا) قصہ ہم سے بیان فرماتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 125           حدیث مرفوع      مکررات  16   متفق علیہ 11

    باقی واقعہ قرآن کریم  کی سورۃ الکھف میں کچھ اس طرح سے ہے 

    اس نے کہا :بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں ، جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جودریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر (بے عیب)کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ رہا وہ لڑکا ، تو اس کے والدین مومن تھے ، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ ٔ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مد فون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔(78-82سورت الکھف)

    @mmasief

  • قرب قیامت  اور کعبہ کا خزانہ تحریر:محمد آصف شفیق

    قرب قیامت  اور کعبہ کا خزانہ تحریر:محمد آصف شفیق

     
     

    قیامت کے قریب آتے ہیں جہاں اور بڑی چھوٹی نشانیاں  ظاہر ہوں گی ان میں سے ایک  کعبہ  کے خزانہ کو لوٹ لینا بھی  شامل ہے آج اسی حوالہ سے   حدیث نبوی ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں

     

     حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم حبشیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کرو تاکہ وہ تم سے کچھ نہ کہیں اور تم سے تعرض نہ کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کعبہ کا خزانہ ایک حبشی ہی نکالے گا جس کی دونوں پنڈلیاں چھوٹی چھوٹی ہوں گی۔ ( ابوداؤد )) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1368(       

     

    تشریح

     حدیث کے آخر میں جس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا تعلق آخر زمانہ سے ہے جبکہ قیامت بالکل قریب ہوگی اس وقت اہل حبشہ کو غلبہ حاصل ہوگا اور ان کا بادشاہ اپنا لشکر لے کر مکہ پر چڑھ آئے گا اور کعبۃ اللہ کو ڈھا دے گا اور اس خزانہ کو نکال لے گا جو خانہ کعبہ کے نیچے مدفون ہے ، چنانچہ حدیث میں کعبہ کے خزانہ کو نکالنے والے جس حبشی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے یا تو حبشہ کا بادشاہ مراد ہے یا پھر لشکر مراد ہے نیز خزانہ سے مراد وہ پورا خزانہ ہے جو کعبہ اقدس کے نیچے مدفون ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ خزانہ سے مراد وہ مال اسباب ہے جو نذر کے طور پر وہاں آتا ہے اور خانہ کعبہ کا خادم اس کو جمع کرتا ہے۔

     واضح رہے کہ یہاں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک حبشی خانہ کعبہ کا خزانہ نکال لے گا یا ایک اور روایت میں یوں فرمایا گیا ہے کہ ایک حبشی خانہ کعبہ کو تباہ وبرباد کر دے گا، تو یہ بات قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد وحرما آمنا (امن وامان والاحرم) کے خلاف اور معارض نہیں ہے کیونکہ حبشیوں کے ذریعہ خانہ کعبہ کی تخریب و تباہی کا یہ واقعہ قیامت کے قریب پیش آئے گا جبکہ روئے زمین پر کوئی شخص اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہے گا۔ اور امنا کے معنی یہ ہیں کہ کعبہ اقدس قیامت تک مامون ومحفوظ رہے گا، لہٰذا جب روئے زمین پر اللہ اللہ کہنے والوں تک کا کوئی اثر موجود نہ رہے گا اور جب قیامت ہی آ جائے گی تو پھر اور کیا چیز باقی رہ جائے گی کہ کعبہ بھی باقی رہے۔ ویسے یہ بات بھی بجائے خود وزن دار ہے۔ لیکن بعض حضرات نے ایک اور وضاحت بیان کی ہے اور اس کو زیادہ صحیح کہا ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ جو امن والا حرم قرار دیا ہے تو اس کے غالب احوال کے اعتبار سے قرار دیا ہے یعنی خانہ کعبہ کی اصل حقیقت تو یہی رہے گی کہ وہ با امن حرم کے طور پر ہمیشہ ہر قسم کی تخریب وپلیدگی سے محفوظ ومامون رہے گا۔ مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا سخت حادثہ پیش آ جائے جس سے اس کی تخریب کاری ہو چنانچہ کعبہ کی تاریخ میں ایسے حادثات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں جنہوں نے اس کو نقصان پہنچایا جیسا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عبدالملک بن مروان کی خلافت کی طرف سے اہل مکہ کے خلاف حجاج بن یوسف کے حملے کے دوران خانہ کعبہ کی سخت تخریب ہوئی یا قرامطہ کا واقعہ پیش آیا کہ اس نے خانہ کعبہ کو سخت نقصان پہنچایا ۔ بس اگر زمانہ آئندہ میں بھی کعبہ کی تخریب کا پیش آنے والا کوئی واقعہ پیش آئے تو وہ واقعہ حرما امنا کے خلاف نہیں ہوگا یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ با امن حرام قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یہ حکم فرمایا کہ جو بھی شخص اس مقدس شہر اور حرم محترم میں آئے اس کو امن وعافیت عطا کرو اور یہاں کسی کے ساتھ بھی تعرض نہ کرو، چنانچہ منقول ہے کہ جب زندیقوں کی جماعت قرامطہ کا سردار فساد و تباہی مچا چکا اور لوگوں کے قتل وغارت گری اور شہریوں کو لوٹ مار سے فارغ ہوا تو ایک دن کہنے لگا کہ اللہ کا یہ فرمان کہاں گیا کہ ا یت (ومن دخلہ کان امنا) (یعنی جو بھی شخص اس حرم محترم میں داخل ہوا اس کو امن وعافیت حاصل ہو گئی ؟ ) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی ، اس نے کہا کہ قران کریم کے اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص کبھی بھی مکہ و اہل مکہ اور خانہ کعبہ کی تخریب اور نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا بلکہ اس فرمان الٰہی کی مراد یہ حکم دینا ہے کہ جو شخص حرم محترم میں داخل ہو جائے اس کو امن وعافیت عطا کرو اور اس میں لوٹ مار اور قتل وغارت گری کے ذریعے کسی کے ساتھ تعرض نہ کرو۔

    اللہ رب العالمین ہمیں ہر قسم کے فتنے سے محفوظ رکھیں  ایمان کی ساتھ زندہ رکھیں اور ایمان  کیساتھ موت عطا فرمائیں ۔ آمین  یا رب العالمین

    @mmasief 

  • آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    قرآن کریم میں ارشاد  باری تعالیٰ  ہے

    اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا   56؀

    اللہ اور اس کے ملائکہ نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔(سورۃ الاحزاب 56)

    صحابہ کرام ؓ  نے  نبی کریم ﷺسے پوچھا کہ اے نبی مہربان   ﷺہم  آپ  ﷺ پر درورد و سلام  کیسے بھیجیں  اسی حوالے سے آج  ہم  احادیث کی  روشنی میں جاننے کی کوشش کریں   گے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک بار مجھ پر درود بھیجے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 907)

     

      عبداللہ بن یوسف مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ان کے والد عمرو بن سلیم زرقی حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 627)

    قیس بن حفص موسیٰ بن اسماعیل عبدالواحد بن زیاد ابوقرہ مسلم بن سالم ہمدانی عبداللہ بن عیسیٰ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کرتے ہیں عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ ملے تو فرمایا کیا میں تمہیں ایسا تحفہ نہ دوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے میں نے عرض کیا ضرور دیجئے انہوں نے کہا ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اہل بیت پر ہم کس طرح درود پڑھیں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو بتا دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے درود پڑھیں (اب اہل بیت پر درود کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بتا دیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 628)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ کو سلام کرنا تو جانتے ہیں لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ ۔

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1308 

    حضرت عمرو بن سلیم زرقی ابوحمدی ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ  (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1310)

    یحیی بن یحیی تمیمی، مالک، نعیم بن عبد اللہ، محمد بن عبداللہ بن زید انصاری، عبداللہ بن زید، ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سعد بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو اللہ تبارک وتعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک ہم تمنا کرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کا سوال نہ کیا جاتا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) پڑھو اور سلام تم پہلے معلوم کر چکے ہو۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 902)

    محمد بن عبداللہ بن نمیر، روح، عبداللہ بن نافع، اسحاق بن ابراہیم، روح، مالک بن انس، عبداللہ بن ابی بکر، عمرو بن سلیم حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) اے اللہ درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور اولاد پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا آل ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج واولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر بے شک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 906)

    حفص بن عمر، شعبہ، حکم بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے (یا لوگوں) نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا حکم ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن درود کا طریقہ ہمیں معلوم نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ(سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 973)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو ہم اہل بیت پر درود بھیجنے کا پورا پورا ثواب پانے کا خواہش مند ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں کہا کرے

     اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

    (سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 979)

    حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! تمہارے بہتر دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن سب لوگ بیہوش ہوں گے اس لیے اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح پیش کیا جائے گا جب کہ (وفات کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم (اولوں کی طرح) گل کر مٹی ہوجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے جسموں کو زمین پر حرام قرار دیدیا ہے (یعنی زمین باقی تمام لوگوں کی طرح انبیاء کے اجسام کو نہیں کھاتی اور وہ محفوظ رہتے ہیں۔

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1044

     

     

     

     

     

     

  • ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت محمد ﷺ مکہ المکرمہ (حجاز) میں پیر کے دن عام الفیل والے سال ۹ یا ۱۲ ربیع الاول بمطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ عیسوی میں پیدا ہوئے۔
      آپ ﷺ کا تعلق قبیلہ قریش اور بنی ہاشم کے گھرانے سا تھا۔
     آپ ﷺکی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ ہے جو وہب بن عبد مناف، زہرہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
     آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ بن عبدالمطلب بن عبد مناف ، قریش کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
     آپ ؐکی نانی کا نام برہ اور دادی کا نام فاطمہ تھا۔
    آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے انتقال فرما گئے تھے۔
     
      آپ ؐنے سب سے پہلے اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ پیا ، پھر اپنے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ غلامہ ثویبہ کا اور پھر حضرت حلیمہ کامکہ کے لوگ اپنے بچوں کو گاوں دیہات بھیجتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے آپؐ حضرت حلیمہ جن کا تعلق بنی سعد سے تھا اُن کے ساتھ چار سال تک رہے۔
      اسی دوران آپؐ کے شق صدر (دل کو کھولنے) کا پہلا واقعہ پیش آیا۔
      آپؐ اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ صرف دو سال رہے۔ جب آپؐ کی عمر چھ سال کی تھی آپؐ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔
      پھر آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی پرورش کا ذمہ لیا۔ دو سال بعد آپؐ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا جب آپؐ کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔
      پھر آپؐ کے چچا ابو طالب نے آپؐ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھائی۔ بارہ سال کی عمر میں آپؐ اپنے چچا کے ساتھ ایک تجارتی سفر پر شام کی طرف گئے۔بصرہ کے مقام پر عیسائی پادری بحیرہ نے آپؐ کی نشانیاں دیکھ کر آپؐ کے آخری نبی ہونے کی پیشنگوئی دی اور آپؐ کے چچا ابو طالب سے کہا کہ ان کو واپس بھیج دیں ورنہ یہود ان کو قتل کر دیں گے۔
      پچیس سال کی عمر میں آپؐ نے ایک مرتبہ پھر شام کی طرف تجارتی سفر کیا لیکن اس مرتبہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کا مال لے کر گئے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی تھا۔ اس سفر میں آپؐ کی ملاقات ایک اور عیسائی پادری نسطورہ سے ہوئی اور اُس نے بھی آپؐ کی نبوت کی پیشنگوئی دی۔
      آپؐ کے اخلاق کا علم پا کر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ جب آپؐ کا نکاح حضرت خدیجہؓ سے ہوا اُس وقت آپؐ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی۔ یہ ازدواجی رشتہ پچیس سال اور دو ماہ تک قائم رہا۔ حضرت خدیجہؓ سے آپؐ کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے لیکن دونوں بیٹوں کو چھوٹی ہی عمر میں اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔
      ۳۵سال کی عمر میں آپؐ نے اپنی ذہانت و حکمت سے کعبہ کی تعمیر کے دوران پیدا شدہ تنازعہ کو ختم فرمایا۔ 
      چالیس سال کی عمر میں آپؐ کو غار حرا میں نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
      حضرت خدیجہؓ کے رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔
      عورتوں میں حضرت خدیجہؓ پہلی عورت تھیں اسلام قبول فرمانے والی، مردوں حضرت ابو بکر صدیق پہلے مرد تھے، غلاموں میں حضرت زیدؓ بن حارثہ پہلے غلام تھے اور بچوں میں حضرت علیؓ پہلے بچے تھے۔
      تین سال کے بعد آپؐ نے صفاء کی پہاڑی پر چڑھ کر اپنے خاندان والوں کو اسلام کی طرف دعوت دی-
      نبوت کے پانچویں سال آپؐ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ یہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی جس میں کل۱۵یا ۱۶ افراد تھے، ۱۱ مرد اور ۴ یا ۵ عورتیں۔
      نبوت کے ساتویں سال حبشہ کی طرف مسلمانوں کی دوسری ہجرت ہوئی ۔ جس میں ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتیں تھیں۔
      نبوت کے ساتویں سال مکہ کے کفار نے مسلمانوں سے قطعہ تعلق کر لیا ۔ آپؐ اور آپؐ کے ماننے والوں کو ایک گھاٹی میں محسور کر دیا۔ اس قطعہ تعلقی کا عرصہ تین سال تک رہا۔
      نبوت کے دسویں سال جب یہ قطعہ تعلقی کا سلسلہ ختم ہوا ، اسی سال حضرت خدیجہؓ اور آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔
      نبوت کے دسویں سال ہی طائف کا واقعہ پیش آیا ۔ جس میں آپؐ کو تبلیغ اسلام کے سلسلے میں پتھر مارے گئے۔
      نبوت کے گیارہویں سال معراج کا واقعہ پیش آیا۔جس میں آپؐ مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس گئے ، پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں ، جنت و جہنم کا سفر کیا اور اللہ رب العزت سے ملاقات کی۔
      اس سفر کے بعد مدینہ کے قبیلہ خرج کے ۶ افراد نے آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔
      اس سے اگلے سال ۱۲ افراد نے مدینہ سے آ کر آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔ جن میں سے دس افراد قبیلہ خرج اور دو افراد قبیلہ اوس کے تھے۔
      اگلے سال حضرت مصعبؓ بن عمیر کی تبلیغ سے جن کو آپؐ نے مدینہ بھیجا تھا ۷۰ مرد اور دو عورتوں نے اسلام قبول کیا۔
      پھر آپ ﷺ نے مکہ  کے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
      نبوت کے تیرہویں سال آپؐ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس سفر کے دوران آپؐ تین دن غار ثور میں رہے۔
      مدینہ کی طرف جاتے ہوئے آپؐ نے قباء کے مقام پر ۱۴ دن قیام فرمایا اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد تعمیر فرمائی۔ جس کا نام مسجد قباء ہے
      بروز جمعہ آپؐ قباء سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران قبیلہ بنی سلیم میں آپؐ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ آج اس مقام پر مسجد جمعہ ہے۔
      مدینہ پہنچ کر آپؐ کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے رکی ، جہاں آپؐ نے قیام فرمایا۔ اور اسی جگہ پر مسجد کے لیے زمین خریدکر مسجد تعمیر فرمائی ۔ جو آج مسجد نبویﷺ کہلاتی ہے۔

    @mmasief

  • امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں  اجرثواب پچاس نمازوں کا
    نبی کریم ﷺ کو اللہ رب العالمین کی طرف سے پانچ نمازوں کا تحفہ  ملا  ، جو ہیں تو پانچ مگرثواب  میں  پچاس کے برابر ہیں اسی حوالے سے  صحیح احادیث  کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں  
    یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شب میرے گھر کی چھت پھٹ گئی اور میں مکہ میں تھا، پھر جبرائیل علیہ السلام  اترے اور انہوں نے میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک طشت سونے کا حکمت وایمان سے بھرا ہوا لائے اور اسے میرے سینہ میں ڈال دیا، پھر سینہ کو بند کر دیا، اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گئے، جب میں دنیا کے آسمان پر پہنچا، تو جبرائیل علیہ السلام  نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ) کھول دے، اس نے کہا کون ہے؟ وہ بولے جبرائیل علیہ السلام  ہے، پھر اس نے کہا، کیا تمہارے ساتھ کوئی (اور بھی) ہے، جبرائیل علیہ السلام  نے کہا ہاں! میرے ہمراہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے کہا وہ بلائے گئے تھے؟ جبرائیل علیہ السلام  علیہ السلام نے کہا ہاں! جب دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم آسمان دنیا کے اوپر چڑھے، یکایک ایک ایسے شخص پر نظر پڑی، جو بیٹھا ہوا تھا، اس کی داہنی جانب کچھ لوگ تھے، اور اس کی بائیں جانب (بھی) کچھ لوگ تھے، جب وہ اپنے داہنی جانب دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو دیتے، انہوں نے (مجھے دیکھ کر) کہا کہ مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے یہ آدم ہیں، اور یہ لوگ ان کے دائیں اور بائیں ان کی اولاد کی روحیں ہیں، دائیں جانب جنت والے ہیں اور بائیں جانب دوزخ والے، اسی لئے جب وہ اپنی داہنی جانب نظر کرتے ہیں، تو ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں، تو رونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے، اور اس کے داروغہ سے کہا کہ (دروازے) کھول دے، تو ان سے داروغہ نے اسی قسم کی گفتگو کی، جیسے پہلے نے کی تھی، پھر (دروازہ) کھول دیا گیا، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، پھر ابوذر نے ذکر کیا کہ آپﷺ نے آسمانوں میں آدم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، موسٰی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کی، اور یہ نہیں بیان کیا کہ ان کے مدارج کس طرح ہیں، سوا اس کے کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا میں، اور ابراہیم علیہ السلام  سے چھٹے آسمان میں پایا، انس کہتے ہیں پھر جب جبرائیل علیہ السلام  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام  کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہامَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ (آپ فرماتے ہیں) میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ ادریس علیہ السلام  ہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے (جبریل سے) پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ عیسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا، یہ ابراہیم علیہ السلام  ہیں، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے ابن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے چڑھا لے گئے، یہاں تک کہ میں ایک ایسے بلند مقام میں پہنچا، جہاں (فرشتوں کے) قلموں کی کشش کی آواز میں نے سنی، ابن حزم اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، جب میں یہ فریضہ لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام پر گذرا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نے آپﷺ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے (یہ سن کر) کہا کہ اپنے اللہ کے پاس لوٹ جائیے، اس لئے کہ آپﷺ کی امت (اس قدر عبادت کی) طاقت نہیں رکھتی، تب میں لوٹ گیا، تو اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا، اور کہا کہ اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر وہی کہا کہ اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے، کیونکہ آپ ﷺکی امت (اس کی بھی) طاقت نہیں رکھتی، پھر میں نے رجوع کیا تو اللہ نے ایک حصہ اس کا (اور) معاف کر دیا، پھر میں ان کے پاس لوٹ کر آیا اور بیان کیا تو وہ بولے کہ آپﷺ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جائیں، کیونکہ آپﷺ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ پھر میں نے اللہ سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اچھا (اب) یہ پانچ (رکھی) جاتی ہیں اور یہ (در حقیقت با اعتبار ثواب کے) پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی، پھر میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا، انہوں نے کہا پھر اپنے پرودگار سے رجوع کیجئے، میں نے کہا (اب) مجھے اپنے پروردگار سے باربار کہتے ہوئے شرم آتی ہے، پھر مجھے روانہ کیا گیا، یہاں تک کہ میں سدرۃ المنتہی پہنچایا گیا اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، میں نہ سمجھا کہ یہ کیا ہیں؟ پھر میں جنت میں داخل کیا گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ اس میں موتی کی لڑیاں ہیں اور ان کی مٹی مشک ہے۔
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 346           

    @mmasief

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

     

    تھکے ہارے پیدل چلتے چلتے  گوگل میپ  کے سہارے ہوٹل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا    ہوٹل کے کاونٹر پر موجود عملے نے مسکراتے چہروں سے استقبال کیا  اور ریزرویشن کی  تفاصیل  طلب کی ہم نے بھی سب کچھ موبائل میں ہی  رکھا ہوا تھا  آنے کا مقصد پوچھا  بتا یا بزنس ٹرپ  ہے تو  آو بھگت میں کچھ زیادہ اضافہ  محسوس کیا  ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا اور ہال میں موجود  صوفے پر  بیٹھنے اور  کچھ  دیر انتظار کا کہا گیا 

    یہا ں  پہنچ کر پتا  چلا کہ چیک آوٹ کا وقت   دو بجے ہے اور  کمرہ تیار کرکے واپس ہمیں  چار بجے   تک ملے  گا  یعنی  پورے  چار گھنٹے  ہال میں  صوفہ پر  بیٹھ کا  چپ چاپ انتظار کرنا ہوگا کہ کب  چار بجیں  اور کب  ہمیں  اپنا کمرہ ملے    ، موسم وہاں کا کافی  گرم  تھا  اور ہوا میں  نمی کی وجہ سے  اے سی ہال  سے  باہر نکلتے  ہی پسینے  چھوٹنے  لگتے  میں نے بھی   صوفہ پر ہی دراز ہونامناسب سمجھا اور خاموشی سے   اپنی  باری کا انتظار شروع کردیا

    چار بجنے سے  پورے دس منٹ پہلے کمال  مہربانی کرتے ہوئے عملے نے   کارڈ تھما دیا اورہم نے  بھی لفٹ کی  راہ لی سارا ہی نظام ڈیجیٹل  تھا ہم  نے بھی پہلی بار کسی اچھے ہوٹل میں  رہائش  رکھی  تھی  لفٹ کھول لی مگر دو تین بار مختلف  بٹن  دبانے کے  بعد بھی جب  کچھ  نہ بنا تو چارو ناچار  باہر کھڑے  سیکیورٹی  گارڈ کو بتایا کہ بھائی  ساتویں  فلور پر کس طرح جائیں  اس نے  بھی کمال بے نیازی سے میرا کارڈ  لیا اور سینسر کے آگے کر کارڈ واپس کر کے  باہر نکل  گیا  تو ہمیں سمجھ آئی  کہ بھائی  آئندہ  یہ کرشماتی  کارڈ ہی کام  آئے گا ہر جگہ   ، ہوٹل کا محل وقوع بہت اچھا تھا   مین  بازار  صرف دس پندرہ منٹ میں  پیدل  جایا  جا سکتا تھا

      کراچی سے بینکاک مسلسل  پانچ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ اور موسم کی خرابی کی وجہ سے سارا راستہ بیلٹ باندھ  کر  گزارنے اور  ناہموار فلائٹ نے ٹھیک  ٹھاک  تھکا دیا تھا  اور اتر کر جیسے ہی  نیٹ کی سم لے لر موبائل اون کیا تو کراچی  اوبر پر سفر جو کہ تین  سو میں تھا اور اس ظالم نے تیرہ سو لے لئے  اس کی ای میل موصول ہونے سے تھکن  میں اضافہ ہو گیا  سب سے پہلے  گھر والوں کو خیریت سے پہنچنے  کی  خبر دی اور چینج کرکے  سونے کی تیاری  کی   ، ہر بندے میں اچھی  بری عادات  ہوتی ہیں  مجھ میں بھی ہیں  پینٹ شیلٹ کا استعمال صرف  دفتر اور سفر میں ہی کرتاہوں باقی اوقات میں  شلوار قمیض  پہننا ہی معمول وہاں پہنچ کر سب سے پہلے  قومی لباس پہنا اور  سو گئے  

    اچھا خاصا سونے کے بعد بھوک نے تنگ کیا تو چاروناچار  اٹھے نہا کر فریش ہوکر تیاری  کرنا چاہی کپڑے استری کرنے کیلئے ہیلپ لائن پر کال کی تو  فوراً ہی استری مہیا کردی گئی  کپڑے استری کئے  اور  اپنے پرانے تجربے کی روشنی میں ہوٹل  کی لوکیشن  ویٹس ایپ پر شئر کر لی  تاکہ  بوقت ضرورت کام آسکے پہلے   بھی ایک دفعہ سیر کو نکلے تھے تو ہوٹل کا راستہ بھول گئے تو کافی دوڑ دھوپ  کرنی پڑی تھی تب سے اب تک جہاں بھی جاتے ہیں  فوراً وہاں   کی لوکیشن  شئر کر لیتے ہیں  میں نے تو یہ معمول بنا لیا ہے جہاں جائیں   احتیاطاً ایسا کرلیں   نئی  جگہ نیا ملک  اور اکثر زبان  سے  نابلد ہونا ایک  بہت بڑا مسعلہ  ہوتا ہے  بندہ نہ سمجھا سکے نہ سمجھ سکے  تو مصیبت  بن جاتی 

    آجکل  سمارٹ فون نے نماز کے اوقات اور قبلہ  کے تعین میں  کافی آسانی کردی ہے ایسی کئی  ایپلیکیشنز موجود ہے جو  بہت مناسب ہیں ان حوالوں سے آپ دنیا میں جہاں کہیں بھی  جائیں آپکو نمازوں کے اقات  اور قبلہ کی   سمت کا سہی تعین   ہوجاتا ہے   ، نماز پڑھی اور کھانے کی تلاش میں  اندرون شہر پہنچے  مگرکافی تلاش  کے بعد فیصلہ کیا کہ  کے ایف سی سرچ کیا جائے اور مچھلی والا  برگر کھا کر گزارا کر لیا جائے تو اچھا  ہے   ، کچھ پیسے  میں   کراچی سے احتیاطاً تبدیل کروا کر تھائی کرنسی ساتھ لے گیا تھا مگر جس چیز نے وہاں سب  سے زیادہ  ساتھ دیا وہ  سعودیہ کا  کریڈٹ کارڈ  تھا جب چاہیں  جہاں  چاہیں استعمال کرلیں  جو بھائی  بہن  سیر کو جانا چاہیں میں انہیں  کہوں گا کہ سب کے پہلے کریڈٹ کارڈ  ضرور بنوائیں آجکل تو پاکستان میں بھی  کم و بیش سب  بینک یہ سہولت  دے  رہے  ہیں  مگر اس  حوالے سے فیصل بینک  بہت  اچھا ہے اس  کے ڈیبٹ کارڈ کو آ پ  کریڈٹ کارڈ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں  جس کا تجرنہ میں نے بھی کیا  جب آخری ایام میں پیسے ختم ہوگئے تو میں نے  وہاں  سے  لوکل کرنسی  نکلوائی 

    پہلا دن تھا  کھانا کھا کر واپس ہوٹل آکر پھر سونے کو ہی ترجیح  دی  اگلے  دن صبح صبح اٹھ  کر شہر کا دورہ شروع کیا  تو پتا چلا کہ کراچی ہی نہیں  بلکہ  یہاں پر بھی دکانیں  دیر سے  کھلتی ہیں ناشتہ کیلئے  ایک شامی  ہوٹل والا مل گیا عربی  جاننے کی وجہ سے کافی آسانی ہو گئی وہ بھی خوش ہوگیا کہ چلو کوئی تو عربی بولنے سمجھنے والا آیا    اس طرح ہم نے اپنی سیر کا آغاز کیا  یہاں کی ساحلی پٹی دیکھنے کے قابل ہے  بہترین  لوکیشنز بہترین انتظامات   اور کم خرچ میں آپ  بھر پور سیر کر سکتے ہیں سیر و تفریح کیلئے آنے والوں میں بھارت اور سعودیہ کے افراد زیادہ نظر آئے  باقیوں  کی نسبت

    اب کچھ دن گزار کر ہم بھی راستوں سے مانوس ہوگئے تھے  اس لئے اپنی مرضی کاکھانا بھی مل رہا تھا اور مختلف مالز اور بڑی بڑی مارکیٹیں بھی گھوم  رہے تھے  بڑے بڑے  مالز اور مارکیٹوں کے لاسٹ فلور پر فوڑ سٹریٹ کا رواج یہاں  بھی ہے  کسی بھی بڑی مارکیٹ کے لاسٹ فلور پر جائیں تو فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ روائیتی  کھانا بھی آسانی سے مل  جاتا ہے  یہ سب  باتیں  کورونا کی  وبا سے  پہلے کی ہیں  اب کی صورتحال تو وہاں جانے والے ہی بتا پائیں  گے

    کپڑے  کے تھری پیس سوٹس سستے اور معیاری مل جاتے ہیں ان پر انڈین سرداروں کی اجارہ داری ہے ہر  دکان میں آپ کو انڈین سردار ہی ملیں  گے بڑے ہنس مکھ اور تعاون کرنے والے آپ  اپنی مرضی اور پسند کا کپڑہ  سلیکٹ کرلیں  درزی دکانوں میں ہی موجود  ہیں  اسی وقت سلائی کر دیتے  ہیں ،  اس کام کو فائدہ مند پایا اور بلیوں کی خوراک کے حوالے سے بھی آپ وہاں سے پاکستان لاکر فروخت کر سکتے ہیں

    بہر حال کچھ دن گزار کر واپسی کی راہ لی  سعودیہ سے صرف ایک ماہ کی چھٹی تھی اس دوران کئی اور کام بھی کرنے ہوتے  ہیں  واپسی ہوٹل والوں نے  صبح ہی آگاہ کر دیا کہ آپ جلد ہوٹل چھوڑ دیں  تو اچھاہے  ساتھ پوچھ بھی لیا کہ ٹیکسی منگوا دیں آپ کو   میں نے شکریہ ادا کیا کہ نہیں میں خود چلا جاوں  گا  ہوٹل سے میٹرو اسٹیشن  تک پیدل پہنچے میٹرو پینچ کر ائرپورٹ کا  ٹکٹ لیا اور اس طرح سستی میٹرو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے     ائر پورٹ وقت سے پہلے پہنچ گئے  بورڈنگ کیلئے آٹو میٹک مشینیں  لگی ہیں ہم نے بھی اپنا بورڈنگ پاس اشو کیا اور  ویٹنگ لاونج  میں جانے سے  پہلے  پھر سے  امیگریشن والے آپ کے پاسپورٹ کو سٹیمپ بھی کرتے ہیں اور جو پیپر وہاں پہنچنے پر بھرا  تھا وہ بھی مانگتے ہیں  ہم نے وہ پیپر تعویز کی طرح سنبھال رکھا تھا چار پانچ تہیں کھول کر پیش کردیا  امیگریشن آفیسر نے مسکرا کر وصول کیا تو سمجھ گیا کہ میری طرح دوسرے پاکستانی بھی شاید ایسا ہی کرتے ہوں  ، جو بھی  بیرون ملک سیر کو کم خرچ میں جانا چاہے اس کیلئے  تھائی لینڈ اچھی جگہ ہے 

    @mmasief

     

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    الریاض سعودیہ میں تھائی لینڈ کی ایمبیسی  نے  سیاحوں کو سہولت دینے  کیلئے  ویزا پراسس میں  آسانی  کی تو میں  نے بھی سوچا کیوں نہ ہم بھی  تھائی لینڈ کا ویزہ لگوا لیں   اسی سلسلہ میں   معلومات کیلئے سب دوست احباب کو میسجز کر دئے  کہ جس  کے  پاس جو معلومات ہیں وہ شئر کریں   اور ڈاکومنٹس  کی تیاری  شروع کی 
    ایک عدد ایپلیکیشن فارم پر کرنا تھا اور  بیرون ملک مقیم ہونے کی وجہ سے ایگزٹ ری انٹری چاہئے  ہوتی ہے     اپنی  کمپنی سے تعارفی لیٹر اور تنخواہ کے لیٹر کی درخواست کی اور اس پر چیمبر اور کامرس سے تصدیق کروانی تھی  یہ سب مراحل الحمد للہ ایک ہفتہ میں مکمل ہوئے  ،  یہاں کا رہائشی  پرمٹ   گھر کا مستقل  پتہ اور  بینک کی تین ماہ کی   سٹیٹمنٹ بنیادی چیزیں  تھیں 
    تھائی لینڈ کے جس شہر میں سیر کیلئے جانا ہے وہاں پر کسی بھی ہوٹل کی بکنگ  اور  اتنے ہی دنوں کیلئے ہوائی جہاز کی ٹکٹ  کی بکنگ بھی چائیے  ہوتی ہے   ،  ویزہ پراسس کیلئے ان  سب  کیساتھ  ایمبیسی  کا وقت لینا پڑتا ہے  اور مطلوبہ وقت میں خود جاکر  اپلائی کرنا شرط ہے واپسی پر آپ  اپنی رسید کسی کے بھی ہاتھ  بھجوا کر  اپنا پاسپورٹ واپس لے  سکتے  ہیں
    میں نے بھی یہ سب کاغزات مکمل کئے  اور مطلوبہ  دن تھائی ایمبیسی  پہنچ  گیا  ، وہاں پہنچ کر پتا چلا جو فارم میں  اون لائن  پھر کر آیا ہوں وہ  اب کار آمد نہیں  رہا اس کے بدلے میں اب ہمیں  ہاتھ  سے  نیا فارم بھرنا ہوگا اور اس پر فریش تصویر بھی لگانی ہوگی اور  2 تصاویر انہیں اضافی بھی چاہئیں ہوں  گی 
    دوبارہ  سے وہیں بیٹھ کر سب معلومات کو جلدی جلدی  فارم  پر منتقل  کیا اور کچھ سوال و جواب کے بعد فیس کی ادائیگی  کے ساتھ ہی  ہماری  ویزہ کی درخواست قبول  کر لی گئی   ،    14 دن کا وقت دیا گیا کہ  آپکواطلاع دی جائے  گی اگر کوئی بھی مسعلہ ہوا تو،  بصورت  دیگر  رسید پر لکھی ہوئی  تاریخ  کو آپ آکر اپنا پاسپورٹ واپس لے  جانا
    ان ہی دنوں پاکستان چھٹی جانے کا ارادہ تھا تو سوچا اگر تھائی لینڈ کا ویزہ لگ گیا تو پاکستان  سے  ہی چکر لگا لیں  گے اسی بہانے  تھائی لینڈ بھی دیکھ لیں  گے اور کچھ بذنس یا جوب کے سلسلہ کا بھی پتا کرلیں  گے کہ وہاں جوب کی جاسکتی  یا اپنا بزنس اسٹارٹ کیا جاسکتا 
    خیر اللہ اللہ کر کے ہمارے دن مکمل ہوئے اور  دوبارہ اپنےپاسپورٹ  کی وصولی کیلئے  تھائی ایمبیسی  پہنچے  پاسپورٹ واپس لیا الحمد للہ ویزہ لگا ہوا تھا    تین ماہ کی سنگل انٹری سیاحتی ویزہ  جوکہ 17 اپریل  2018  سے   16 جولائی 2018 کے درمیان کبھی بھی استعمال کیا جاسکتا تھا
    9 جولائی کو کراچی سے تھائی لینڈ کے سفر کا فیصلہ کیا سب سے مناسب اور ڈائریکٹ فائٹ تھائی ائر لائین  کی تھی  ایک ہفتہ کیلئے ہوٹل بکنگ کروائی اور تھائی ائر کی ٹکٹ خریدی  اور  گھر سے اوبر منگوا کر سفر کا آغاز کیا  اوبر والا بھی کوئی شریف آدمی تھا اس  نے بھی بھانپ لیا کہ بندہ کراچی کا نہیں  لگتا اور مجھے بھی کوئی اندازہ  نہیں تھا بنے 330 اور اس ظالم  نے مجھ سے 1330 لے  لئے خیر  وہ تب پتا چلا جب اوبر کی طرف سے ای  میل موصول ہوئی اس وقت تک تو  میں جہاز میں سوار ہو چکا تھا   ، اللہ بھلا کرے اس انسان کا  ہزار روپے میں اس نے لاکھوں کا سبق  دے دیا
     بہر حال  جہاز میں نظر دوڑائی تو زیادہ تعداد اپنے پاکستانیوں کی تھی  اور کچھ لوگ   دوسرے ممالک کیلئے  ہونگ کانگ اور دوسرے ملک جانے کیلئے وہا ں تھوڑا قیام کر کے آگے جانے والے تھے اور کچھ  ہم  جیسے سیر و سیاحت کی غرض  سے   جانے  والے   ، فلائٹ اڑنے کے کچھ ہی  دیر بعد  اناونسمنٹ  ہوئی کے  باہر موسم شدید خراب ہے  اسلئے  اپنی اپنی  نشستوں پر بیٹھے  رہیں  اور  سیٹ بیلٹ باندھ کر رکھیں   ، تین بار ائر ہوسسٹس بیچاریاں  کھانا پیش کرنے کیلئے  اپنی ٹرالیاں لائیں  مگر ہر بار انہیں ناکامی ہوئی اور تقریباً 4 گھنٹے کا سفر  ایسے ہی گزرا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے شدید  جھٹکے  لگتے رہے اور اسی  طرح  ہلتے جہاز میں ہی کچھ نہ کچھ  کھا لیا  
    فلائٹ الحمد للہ اون ٹائم لینڈ ہوئی  جب باہر کا نظارہ دیکھا تو بارش کیساتھ ساتھ دھند دیکھ کر خیال آیا کہ شائد پھنس  گئے جیکٹ تو لائے ہی نہیں اور باہر لگ رہا شاید شدید سردی ہو ، جن لوگوں نے آگے جانا تھا سب نے اپنی اپنی جیکٹیں پکڑی ہوئی تھیں  جنہیں  میں نے حسرت بھری نگاہوں سے  دیکھا ، مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ڈھیٹ ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ، خیر پاکستان کی طرح انہوں نے بھی دور اتار دیا اور بس کے ذریعے  ائرپورٹ تک لائے ہمارے ساتھ ساتھ  کئی اور فلائٹس بھی آنے کی وجہ سے خوب رش ہوگیا چارو ناچار  ہم بھی لائن  میں لگ  گئے  ایک پیپر پھر دے دیا گیا اسے دو بار بھریں  ایک حصہ انہوں  نے  رکھ لیا ایک حصہ مجھے دے دیا اور ساتھ میں انگریزی میں کہا کہ یہ ضروری واپسی پر چاہئے ،  میں نے اسے تعویز کی طرح اپنے پرس میں سنبھال کر  رکھ لیا، امیگریشن کے فورا بعد وہاں  سے انٹر نیٹ اور فون کیلئے سم لی  ، گزشتہ سفروں نے تھوڑا بہت سکھا دیا ہے کہ جہاں بھی جاو اترتے ہی پہلا کام اپنے پاسپورٹ پر سم کارڈ لو تاکہ رابطے میں رہ سکو
    باہر نکل کر ٹیکسی والے سے سینٹر سٹی جانے کا پوچھا اس نے جو پیسے مانگے تو چکر سا آگیا جو دوست پہلے جا چکے تھے انہیں  میسج کیا کہ بھائی یہ حالات ہیں  انہیوں نے مشورہ دیا کہ ائر پورٹ کے نیچے میٹرو اسٹیشن  ہے وہاں سے ٹکٹ لو اور شہر پہنچ جاو ، بہترین  اور کم خرچ میٹرو ،جیسے جیسے اسٹیشن  آتے گئے رش میں اضافہ ہوتا رہا ایسا لگا جیسے  سب لوگ ہی میٹرو استعمال کرتے ہیں ، نوجوان بوڑھے سٹوڈنٹس سب لوگوں کو میٹرو ٹرین  استعمال کرتے دیکھا  انتہائی صاف ستھرا  ماحول  اور بہترین انتظام    ، خیر سینٹر سٹی پہنچ کر چیک کیا تو پتا چلا جو ہوٹل ہم نے بک کروایا ہے وہ آٹھ گھنٹے کی مسافت پر ہے  اور میٹرو سے نہیں جاسکتے آپکو  بس یا ٹیکسی پر جانا پڑے گا یہ سننتے ہیں  تھکن سے چور جسم نڈھال ہوگیا اور میں وہیں اسٹیشن پر ہی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ، تھوڑے اوسان بحال ہوئے  تو بکنگ ڈاٹ کام پر ہوٹل سرچ کیا اس وقت دوپہر کا وقت تھا قریب ہی ہوٹل مل  گیا  مگر چیک ان ٹائم چار بجے کا تھا  کریڈٹ کارڈسے  ادائیگی کی اور ہوٹل کی لوکیشن لگا کر پیدل ہی چل دیا   ، لگ تو قریب ہی رہا تھا مگر جب لوکیشن اون کی تو پتا چلا وہ  ڈرائیو آپشن پر تھا اور ہم پیدل   اللہ کا نام لیکر چل دئے گرمی اور ہوا بھی نمی کا تناسب بھی کچھ ایسا تھا کہ کچھ ہی دیر میں  سارے کپڑے پسینے  سے شرابور  ہوگئے  ،ہم نے بھی حوصلہ نہیں  ہارہ  اور ہوٹل کی طرف پیدل ہی والک جاری رکھی   کہ غلطی اپنی ہی تھی ہوٹل بکنگ کرتے ہوئے صرف سستا دیکھا سینٹر سٹی سے اسکا فاصلہ دیکھنا یاد نہ رہا تھا  ,

    @mmasief

  • نبی رحمت ﷺ  پر وحی کا  نزول حصہ  سوم  تحریر محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ سوم تحریر محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
    حضرت حسن حطان بن عبداللہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ اقدس کا رنگ بدل جاتا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1559
    حضرت ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سردی کے دنوں میں وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر پسینہ بہنے لگ جاتا تھا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1557

    حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک جھکا لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی ختم ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھا لیتے تھے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1560

    حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرمانے کے لیے بیٹھتے تو دوران گفتگو اکثر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے رہتے تھے۔(کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر وقت وحیِ الٰہی کا انتظار رہا کرتا تھا) ۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1433

    حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ہے کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے لگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن تو بہت ہی زیادہ مرتبہ وحی نازل ہوئی۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 3023حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وجہ سے مشکل محسوس کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس متغیر ہو جاتا راوی کہتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو اسی طرح کی کیفیت ہو گئی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے حاصل تحقیق عورتوں کے لیے اللہ نے راستہ نکالا ہے۔ شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو (اس کی حد) سو کوڑے ہیں اور پتھروں کے ساتھ سنگسار کرنا بھی اور کنوارے مرد کو سو کوڑے مارے جائیں پھر ایک سال کے لیے ملک بدر کردیا جائے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1923

    حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام کو(وحی لانے میں ) تاخیر ہوگئی (کچھ عرسہ کے لیے وحی منقطع ہوگئی) تو مشرکین نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں: وَالضُّحٰى Ǻ۝ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى Ą۝ۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى Ǽ۝ۭ "چاشت کے وقت کی قسم اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو آپ کے پروردگار نے نہ چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے”۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 159

    حضرت ابوکریب ابواسامہ ابن بشر ہشام محمد بن بشر سیدہ عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے آتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر وحی کبھی تو گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور وہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے پھر وہ کیفیت موقوف ہو جاتی ہے اور میں اس وحی کو محفوظ کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی تو ایک فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1558

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن حشام نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کس طریقہ سے نازل ہوتی ہے؟ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کبھی تو وحی اس طریقہ سے نازل ہوتی ہے جس طریقہ سے کسی گھنٹی کی جھنکار ہوتی ہے جو کہ میرے اوپر سخت گزرتی ہے پھر وہ موقوف ہوجاتی ہے۔ جس وقت اس کو یاد کرتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک انسان کی صورت بن کر میرے پاس آتا ہے اور وہ فرشتہ مجھ سے گفتگو کرتا ہے میں اس حکم الہی کو یاد کر لیتا ہوں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ جس وقت سخت ترین موسم سرما میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی پھر وہ وحی آنا بند ہوجاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ نکلنے لگتا وحی کی سختی کی وجہ سے اس کے زور سے۔ سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 939
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں دین اسلام کی سمجھ عطا فرمائیں ، نبی مہربان ﷺ کے فرامین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائیں ، آمین

    @mmasief

  • نبی رحمت ﷺ  پر وحی کا حصہ  دوم  تحریر:محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا حصہ دوم تحریر:محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
    حضرت عروہ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی میرے پاس گھنٹے کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے اور جب میں اسے یاد کر لیتا ہوں جو اس نے کہا تو وہ حالت مجھ سے دور ہو جاتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سخت سردی کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھا پھر جب وحی موقوف ہو جاتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو زمین پر ٹکا کر چلتے تھے کہ یہود کے کچھ لوگوں پر آپ گذرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کی بابت سوال کرو، اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو، مبادا اس میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو تم کو بری معلوم ہو پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ضرور آپ ﷺسے پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا (ابن مسعودؓ کہتے ہیں) میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپﷺ پر وحی آرہی ہے، لہذا میں کھڑا ہو گیا، پھر جب وہ حالت آپﷺ سے دور ہوئی، تو آپﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85؀ (ترجمہ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو ’’یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔‘‘ (تمہیں تو تھوڑا ہی سا علم عطا ہوا ہے)(85سورۃ بنی اسرائیل )
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (بعد نبوت) تیرہ سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں دس سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوگیاصحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1083
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ٹھہرے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی (حالت میں) دس سال (مدینہ میں گزارے) اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تھا۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1136
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان کو حرکت دیتے اور سفیان نے بیان کیا کہ اس سے آپﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ 16؀ۭ) اے نبی ﷺ ! اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو ! (16سورۃ القیٰمہ ) یہ آیات نازل فرمائیں
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو اس کے مثل (معجزات) دیئے گئے ہیں جس قدر لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو چیز دی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2217
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپﷺ کی وفات سے پہلے متواتر وحی بھیجی یہاں تک کہ آپ کی آخری عمر میں پہلے کے اعتبار سے وحی کثرت سے آنے لگی پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2218
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا کہ آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، اور حکم دیا گیا کہ کعبہ کی طرف رخ کریں، اس لئے تم لوگ کعبہ کی طرف منہ پھیر لو، اس وقت ان لوگوں کا رخ شام کی طرف تھا، چنانچہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2157
    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے معجزے عطا کئے گئے ہیں جو اسی جیسے دوسرے انبیاء علیہم السلام کو بھی عطا کئے گئے اور لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ وحی الہی یعنی قرآن مجید ہے کہ اور کوئی نبی اس معجزہ میں میرا شریک نہیں کہ اس جیسا معجزہ اسے ملا ہو اور مجھے امید ہے کہ میری پیروی کرنے والوں کی تعداد دوسرے انیباء علیہم السلام کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 385
    حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 256
    اے رب کریم ہمیں نبی مہربانﷺ پر اترنے والے آپ کے پیغامات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا دے
    آمین یا رب العالمین

    @mmasief