Baaghi TV

Author: محمد آصف شفیق

  • مقدسہ مقامات  کی زیارت  مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مقدسہ مقامات کی زیارت مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مستقل جدہ فروری 2020 میں شفٹ ہوا ، آتے ہیں کورونا لاک ڈاون شروع ہوگیا ، بہت شدید لاک ڈاون میں ہی رمضان المبارک بھی آیا اور زندگی میں پہلی بار نماز تراویح گھر میں ادا کی ایک کمرے کے ساتھی ایک میں اور ایک پڑوسی ٹوٹل تین افراد ہی جاننے والے تھے بلڈنگ میں تو تینوں مل کر نمازیں اور تراویح گھر میں ادا کرتے رہے اور نماز عید بھی گھر میں ادا کی ، ہر اذان میں کہا جاتا کہ نماز گھروں میں ادا کریں وقت پر اذان ہوتی مگر کوئی یارا نہ تھا گھر میں نماز ادا کرنے کے علاوہ فیملی بھی پاکستان میں تھی شہر بھی نیا اور اوپر سے لاک ڈاون نہ کوئی جاننے والا نہ کوئی بات کرنے والا ایک عجیب نفسیاتی مریضوں جیسی کیفینت بن گئی تھی آفس سے گھر اور پھر گھر آکر بندہو جانا کئی دن تو 24 گھنٹے کے لاک ڈاون میں گزرے ، اسی دوران ایک شہر سے دوسرے شہر جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ، کچھ عرصہ بعد نرمی شروع ہوئی تو ایک شہر سے دوسرے شہر جایا جا سکتا تھا مگر حرم میں جانے کی اجازت نہیں تھی جدہ سے مکہ جایا جاسکتا تھا
    دوستوں کے ساتھ مکہ جانے کا پروگرام بن گیا اس بار ہماری منزل منیٰ میں جمرہ عقبہ کے قریب موجود "مسجد البیعہ "تھی سیکیورٹی کی وجہ سے تقریباً تمام راستے بند تھے گاڑی تھوڑی دور پارک کی اور سکیورٹی پر معمور افراد سے مسجد تک پیدل جانے اور جلد واپس آجانے کے وعدے پر اجازت لی جو کچھ پس و پیش کے بعد مل گئی اور ساتھ ماسک لگا کر رکھنے اور دوستوں کے درمیان سماجی فاصلہ برکرار رکھنے کی یاددہانی بھی کروادی گئی جو سب نے سر ہلاکر قبول کرلی
    مسجد البیعہ جمرہ عقبہ (بڑے شیطان ) سے صرف تین سو میٹر کی دوری پر ہے چار دیواری موجود ہے مگر بغیر چھت کے مسجد ہے اور سائیڈ کی دیواروں میں کچھ قدیم تحریریں جو کہ پتھروں پر لکھی ہیں موجود ہیں
    مسجد کے ساتھ ساتھ درجنوں ٹوٹیاں پانی پینے کیلئے لگی ہیں چونکہ حج کے دوران بہت رش ہوتا ہے اس لئے حاجیوں کی سہولت کیلئے پانی کا مستقل انتظام کیا گیا ہے لاک ڈاون کی وجہ سے آج ہمارے علاوہ یہاں کوئی بندہ بشر موجود نہیں تھا مگر جب پانی چیک کیا تو الحمد اللہ پانی آرہا تھا مگر شدید گرم اسی گرم پانی سے وضو کیا اور بسم اللہ پڑھ کر مسجد میں داخل ہوئے ، مسلمانوں نے مسجد البیعہ کے محراب کو بھی نہیں بخشا اپنے مزاج کے عین مطابق کچھ نہ کچھ تحریر کر گئے جو کہ بالکل بھی مناسب بات نہیں
    جب نبی کریم ﷺ کو دین اسلام کی دعوت اعلانیہ پیش کرنے کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ نے حج کیلئے آنے والے افراد اورقبائلی سرداروں کو اپنی دعوت پیش کرنی شروع کی ، بعثت کے دسویں سال آپ ﷺکی ملاقات مدینہ منورہ سے آئے ہوئے 6افراد سے جمرہ عقبہ کے قریب جبل ثبیر کی گھاٹی میں ہوئی اور انہوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا اور واپس مدینہ منورہ پہنچ کر اوس اور خزرج کے قبائل تک دین حق کی دعوت پہنچائی ، نبوت کے 12 ویں سال 12 افراد حج پر آئے اور آپ ﷺ سے جمرہ عقبہ کے قریب بالکل اسی مقام پر ملاقات کی اور بیعت کی اور یہ بیعت ” بیعت عقبہ اولی ٰ ” کہلاتی ہے اسی جگہ پر یہ مسجد موجود سے جسے مسجد البیعہ کہا جاتا ہے
    نبوت کے 13 ویں سال مدینہ منورہ سے 75 خواتین اور مرد آئے انہوں نے ہر حال میں نبی کریم ﷺ کا ساتھ دینے اچھائی کی تلقین اور برائی سے روکنے پر آپ ﷺ کی بیعت کی یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں سال ہا سال سے جنگ و جدل میں مصروف دونوں قبائل اوس اور خزرج نے اپنی صدیوں پرانی دشمنی کو خیر باد کہا اور صلح اور امن کا معاہدہ کیا اس معاہدے میں اوس و خزرج کے علاوہ مدینہ میں بسنے والے یہود بھی شامل تھے یہ دوسری بیعت تھی ، دوسری بیعت ہی اصل میں اس عظیم الشان اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہے اس بیعت کے کچھ عرصہ بعد نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اور پہنچتے ہی سب سے پہلے جو کام کیا گیا وہ مسجد قباء کی تعمیر تھی جس کا ذکر گزشتہ تحریر میں تفصیل سے آچکا ہے
    ہم اللہ رب العالمین سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سب سنتوں پر عمل کرنے والا سچا مسلمان بنا دے ، آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ
    @mmasief

  • دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    والدین زندہ ہوں تو وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں اللہ رب العالمین سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر سلامت رکھیں اور یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیں آمین ، دین اسلام میں یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال پر ا للہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو نبی رحمت ﷺ کے زریعے سے بہت سی نصیحتیں کیں ہیں اور انعامات کا بھی وعدہ فرمایا ہے آج ہم کوشش کریں گے کہ یتیموں کے حقوق کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے
    یتیم :اردو لغت میں تنہا رہ جانے والا یا ایسا شخص جس کی طرف سےغفلت برتی جائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بھلاگھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 559
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان ذرا کشادگی رکھی۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 288

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 42

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سات مہلک چیزوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور جادو اور جس جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا سوائے حق کے قتل کرنا اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جنگ کے دن پشت پھیر کر بھاگ جانا اور غافل، مومن، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1789

    حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 223

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2968

    حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے البتہ میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس کے مال میں سے کھا بغیر فضول خرچی کے اور بغیر ڈرے ہوئے اس کے بڑے ہوجانے سے اور بغیر پونجی بنانے کے اس کے مال سے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1105

    حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے واسطے کچھ بھی (مال وغیرہ) موجود نہیں ہے اور ایک یتیم بچے کا میں ولی بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھا لیا کرو لیکن تم فضول خرچی نہ کرنا اور تم حد سے زیادہ نہ کھانا اور نہ تم دولت اکٹھا کرنا۔سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1609عون بن ابوجحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عامل زکوة آیا اور اس نے مالداروں سے زکوة وصول کرنے کے بعد ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دی ایک میں یتیم بچہ تھا پس مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 632

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ بے شک وشبہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مگر یہ کہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2001

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں دو نا تو انوں کا حق (مال) حرام کرتا ہوں ایک یتیم اور دوسرے عورت ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 558

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدخلق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ اس امت میں پہلی امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ (بہت ممکن ہے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ بدخلقی کریں) فرمایا جی ہاں لیکن ان کا ایسے ہی خیال رکھو جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا ہمیں دنیا میں کونسی چیز فائدہ پہنچانے والی ہے ؟ فرمایا گھوڑا جسے تم باندھ رکھو اس پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں لڑو تمہارا غلام تمہارے لئے کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے (مسلمان ہو جائے) تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 571

    نبی کریم ﷺ جہاں یتیوں کے خیال رکھنے پر انعامات کا وعدہ کیا ہے وہیں ان کے ساتھ بدسلوکی اور نا جائز ان کے مال ودولت پر قبضہ کرلینے پر سخت ترین سزا کا مستحق بھی بتایا ہے
    جس گھر میں یتیم ہو اس سے اچھا سلوک کریں تو وہ سب سے اچھا گھر کہا گیا اور جس گھر میں یتیم ہو اس سے برا سلوک کیا جائے اسے برا ترین گھر کہا
    اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں سے اچھا برتاو کرنے اور سنت محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نبی مہربان ﷺکا ساتھ نصیب فرمائیں

    @mmasief

  • جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی  تحریر:  محمد آصف شفیق

    جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    آجکل ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک جھوٹ بھی ہے آئیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے حوالے سے ہمیں کیا فرمایا ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤوں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، اس وقت آپ ﷺتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، پھر (سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺاسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپﷺ خاموش نہ ہوں گے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 936

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا: یا آپﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یاجھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 937
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1047
    سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1048

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1049

    مسدد نے بواسطہ بشر اس طرح حدیث بیان کی، کہ آپﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ سن لو جھوٹ سے بچو اور اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1227
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1801
    ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہو گی۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 212
    حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 261
    ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چائیے اور کوشش کرنی چائیے کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے جھوٹ نہ بولیں
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

    جدہ ۔ سعودیہ
    @mmasief

  • مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قبا ء اسلام کی اولین مسجد جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی سب سے پہلا پتھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور اس کے بعد ایک ایک پتھر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے رکھا ، آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے بڑھ چڑھ کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ،یہ مسجد کلثوم بن ہدم کی زمین پر قائم کی گئی
    ہمارے پیارے نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے جہاں اہل مدینہ نے آپ ﷺ کا استقبال کیا اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا وہ جگہ قباء تھی اور اسی جگہ مسجد قباء کی تعمیر ہوئی قباء محلے میں ہونے کی وجہ سے مسجد کو مسجد قباء کا نام دیا گیا ہے ،مسجد قباء 8 تا 11 ربیع الاول 1 ھجری میں تعمیر کی گئی
    مسجد قباء مدینہ منورہ کے جنوب میں کم و بیش 5 کلومیٹر پر ہے شروع شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، جب تحویل کعبہ کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ بنفس نفیس قباء تشریف لائے اور قبلہ کا تعین فرمایا ،مسجد قباء کے ساتھ ہی ایک کنواں ہے جو کہ ابو ایوب انصاری ؓ کے نام سے مشہور ہے ، اس مسجد کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 108 میں کچھ ایسے آیا ہے
    لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ١٠٨؁
    جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں ۔(108سورۃ التوبہ )
    مسجد قباء کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قباء سواری پر اور پیدل بھی جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 898
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر ہفتہ قباء تشریف لاتے تھے اور فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتہ قباء تشریف لے جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 902

    اہل قبا ء کی شان میں نازل ہونے والی آیت

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت فیہ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھّرُوا وَاللہ یُحِبُ المُطَّھِّرِین (یہاں کے لوگ ایسے ہیں جو خوب طہارت حاصل کرنے کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی خوب پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اہل قباء کے بارے نازل ہوئی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ قباء کے لوگ (ڈھیلوں سے استنجے کے بعد) پانی سے طہارت حاصل کیا کرتے تھے اور اسی بنا پر یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی۔سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 44

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل تشریف لاتے اور کبھی سوار ہو کر ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں آ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 275

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنا اس طرح ہے جیسے کسی نے عمرہ ادا کیا۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 311

    حضرت اسید بن ظہیر جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد قباء میں (پڑھی گئی) ایک نماز (ثواب میں) عمرہ کے برابر ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1411حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اپنے گھر خوب پاکی حاصل کرے پھر مسجد قباء آ کر نماز پڑھے اس کو عمرہ کے برابر اجر ملے گا ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1412
    عمرہ اور حج کیلئے آنے والے ہوں یا محنت مزدوری کیلئے موجود افراد جو بھی مدینہ منورہ پہنچتا ہے اسکی دلی خواہش ہوتی ہے کہ مسجد قباء میں حاضر ہو اور دورکعت نماز ادا کرکے عمرہ کا ثواب حاصل کرے ، مجھے بھی الحمد اللہ گزشتہ 17 سالوں میں بکثرت یہ سعادت حاصل رہی جب تک ریا ض مقیم رہا تو واپسی پر مسجد قباء بچوں سمیت نماز ادا کرنے پہنچا کرتا تھا اب جبکہ اللہ رب العالمین نے اپنے فضل و کرم سے رزق کا بندہ بست جدہ میں کردیا ہے تو اب ہر دفعہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی پہلے مسجد قباء پہنچتے ہیں عیدوں کا موقع ہو تو گاڑی وہیں پارک کرکے مسجد نبوی ﷺ جاتے ہیں اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے ہیں جتنا ممکن ہو وہاں رکتے ہیں اور پھر بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے واپس آجاتے ہیں جو سکون مسجد نبوی ﷺ میں پہنچ کر ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے ،
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ آپ سب مسلمان بہن بھائیوں کو جلد ان دونوں مساجد میں حاضر ہونے اور عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین یا رب العامین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • تعمیر بیت اللہ ،زم زم،  ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    تعمیر بیت اللہ ،زم زم، ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    جیسے ہی حج کا دن ختم ہوا عمرہ کی ادائیگی کیلئے اجازت نامہ حاصل کیا تو بے ساختہ اس ماں کا خیال آگیا جس کی اپنے بچے کی پیاس بجھانے کیلئے بے صبری سے صفا اور مروہ کے چکر لگانے کی ادا اس رب کریم کو ایسی پسند آئی کہ اس گھر (بیت اللہ )کو آنے والوں یعنی عمرہ ادا کرنے والوں کیلئے عمرہ کا حصہ بنا دیا جو تا قیامت جاری رہے گا عمرہ مکمل ہی سعی کرنے سے ہوتا ہے صفا اور مروہ کے درمیان 7 چکر مکمل کرنے کا نام سعی ہے
    بیت اللہ کی تعمیر آب زم زم کی روانی اور ام اسماعیل ؑ حضرت حاجرہؑ کی محبت کے حوالے سے حدیث مبارکہ ہے کہ عبداللہ بن محمد ابوعامر عبدالملک بن عمرو ابراہیم نافع کثیر بن کثیر سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیمؑ اور ان کی بیوی کے درمیان شکر رنجی ہوگئی تو اسماعیلؑ اور ان کی والدہ کو لے کر نکلے اور ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی تھا پس اسماعیل ؑکی والدہ اس کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے جوش مار رہا تھا حتیٰ کہ وہ مکہ پہنچ گئیں ابراہیمؑ نے انہیں ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا پھر ابراہیمؑ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ چلے تو اسماعیلؑ کی والدہ ان کے پیچھے دوڑیں حتی کہ جب وہ مقام کدا میں پہنچے تو اسماعیلؑ کی والدہ انہیں پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیمؑ! ہمیں کس کے سہارے چھوڑا ہے؟ ابراہیم ؑنے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماعیلؑ کی والدہ نے کہا میں اللہ (کی نگرانی) پر رضا مند ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر وہ واپس چلی گئیں اور اپنے مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے ٹپک رہا تھا حتیٰ کہ پانی ختم ہو گیا تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے کہا کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھتی شاید مجھے کوئی دکھائی دے جاتا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں اور انہوں نے ادھر ادھر دیکھا خوب دیکھا کہ کوئی شخص نظر آ جائے لیکن کوئی شخص نظر نہیں آیا پھر جب وہ نشیب میں پہنچیں تو دوڑنے لگیں اور کوہ مروہ پر آ گئیں اسی طرح انہوں نے چند چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کیا حال ہے جا کر دیکھا تو اسماعیلؑ کو اپنی سابقہ حالت میں پایا گویا ان کی جان نکل رہی ہے پھر ان کے دل کو قرار نہ آیا تو کہنے لگیں کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھوں شاید کوئی مل جائے چنانچہ وہ چلی گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں (ادھر ادھر) دیکھا اور خوب دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا حتیٰ کہ ایسے ہی انہوں نے پورے سات چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کس حال میں ہے تو یکایک ایک آواز آئی تو کہنے لگیں فریاد رسی کر اگر تیرے پاس بھلائی ہے تو اچانک جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام کو دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر ماری یا زمین کو اپنی ایڑی سے دبایا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (فورا) پانی پھوٹ پڑا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ متحیر ہو گئیں اور گڑھا کھودنے لگیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو پانی زیادہ ہوجاتا ابن عباس نے کہا کہ وہ یہ پانی پیتیں اور ان کے دودھ کی دھاریں ان کے بچہ کے لئے بہتی رہتیں۔ ابن عباس نے کہا کچھ لوگ قبیلہ جرہم کے وسط وادی سے گزرے تو انہوں نے پرندے دیکھے تو انہیں تعجب ہونے لگا اور کہنے لگے کہ یہ پرندے تو صرف پانی پر ہوتے ہیں سو انہوں نے اپنا ایک آدمی بھیجا اس نے جا کر دیکھا تو وہاں پانی پایا اس نے آ کر سب لوگوں کو بتایالہذا وہ لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کیا تم ہمیں اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ قیام کریں؟ ان کا بچہ (اسماعیلؑ) جب بالغ ہوا تو اسی قبیلہ کی ایک عورت سے نکاح ہو گیا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس کہتے ہیں ابراہیمؑ آئے اور آ کر سلام کیا پھر پوچھا اسماعیل علیہ السلام کہاں ہیں؟ اسماعیل علیہ السلام کی بیوی نے کہا وہ شکار کے لیے گئے ہیں ۔ ابراہیمؑ نے کہا جب وہ آجائیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کر دو جب وہ آئے اور ان کی بیوی نے انہیں (سب واقعہ بتایا) اسماعیلؑ نے کہا کہ چوکھٹ سے مراد تم ہو لہذا تم اپنے گھر بیٹھو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم ؑکے دل میں آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ آئے اور پوچھا کہ اسماعیل ؑکہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے کہا شکار کو گئے ہیں اور آپ ٹھہرتے کیوں نہیں؟ کہ کچھ کھائیں پئیں ابراہیمؑ نے کہا تم کیا کھاتے اور پیتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارا کھانا گوشت اور پینا پانی ہے ابراہیمؑ نے دعا کی کہ اے اللہ ان کے کھانے پینے میں برکت عطا فرما ابن عباس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (مکہ میں کھانے پینے میں) حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی وجہ سے برکت ہے ابن عباس نے کہا پھر (چند روز بعد) ابراہیم ؑکے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ آئے تو اسماعیلؑ کو زمزم کے پیچھے اپنے تیروں کو درست کرتے ہوئے پایا پس ابراہیمؑ نے کہا کہ اے اسمعیلؑ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کا ایک گھر بناؤں اسماعیلؑ نے کہا پھر اللہ کے حکم کی تکمیل کیجئے ابراہیم ؑنے کہا کہ اس نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو اسماعیل ؑنے کہا میں حاضر ہوں یا جو بھی فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر دونوں کھڑے ہو گئے ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل ؑانہیں پتھر دیتے تھے اور دونوں کہہ رہے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے جاننے والا ہے حتیٰ کہ دیواریں اتنی بلند ہو گئیں کہ ابراہیم اپنے بڑھاپے کی وجہ سے پتھر اٹھانے سے عاجز ہو گئے سو وہ مقام (ابراہیم) کے پتھر پر کھڑے ہو گئے اسماعیل انہیں پتھر دینے لگے اور کہتے تھے (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) ۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 623
    اے رب کریم سب مسلمانوں کیلئے اپنے گھر کے دروازے کھول دے اس وبا سے نجات دے ۔ آمین یارب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • عید کا تیسرا دن: اونٹ کے گوشت کی دعوت تحریر : محمد آصف شفیق

    عید کا تیسرا دن: اونٹ کے گوشت کی دعوت تحریر : محمد آصف شفیق

    آج سعودیہ میں عید کا تیسرا دن ہے احباب جدہ نے اس دن مل بیٹھنے کا بہانا نکال لیا ، شاہد احمد داود بھائی کئی سالوں سے جدہ میں مقیم ہیں او ر اپنے ہم وطنوں میں بہت مقبول ہیں آپکا تعلق کراچی سے بے حد محبت کرتے ہیں عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کیئے آج اپنے گھر میں دعوت کا اہتمام کیا نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد ہم شاہد بھائی کی طرف پہنچ گئے
    کھانے کا وقت ہوا تو حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ شاہد بھائی نے آج اونٹ کا گوشت اور چاول ( مندی حاشی ) سعودیہ میں تقریباً ہر اچھے ہوٹل میں مل جاتی ہے اونٹ کے بچے کے گوشت اور چاول یہاں مندی حاشی کہلاتا ہے
    اونٹ کے گوشت کو کھانے کے بعد وضو کرنا ضروری ہے اس حوالے سے چند احادیث پیش خدمت ہیں
    حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کیا میں بکری کا گوشت کھانے سے وضو کروں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو وضو کر اور اگر نہ چاہے تو نہ کر اس نے کہا کیا میں اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کر پھر اس نے کہا کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کروں فرمایا ہاں اس نے کہا کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز ادا کروں فرمایا نہیں۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 800)

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو کرو اور بکری کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا اس سے وضو مت کرو اور سوال کیا گیا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز پڑھنے کے بارے میں تو فرمایا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز مت پڑھو۔ کیونکہ وہ شیطانوں کی جگہ ہے اور دریافت کیا گیا بکریوں کے رہنے کی جگہ پر نماز پڑھنے کے بارے میں تو فرمایا وہاں نماز پڑھ لو کیونکہ وہ برکت کی جگہ ہے۔(سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 183)

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا اونٹ کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کرنے کے متعلق۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ سے وضو کر لیا کرو ۔(سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 494)

    ” اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اسم گرامی جابر بن سمرۃ اور کنیت ابوعبدا اللہ عامری ہے سن وفات میں اختلاف ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ ٦٦ھ میں انہوں نے وفات پائی کچھ حضرات کی تحقیق ہے کہ ان کا سن وفات ٧٤ھ ہے۔) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ” کیا ہم بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا جی چاہے تو وضو کرو اور نہ چاہے تو نہ کرو” پھر اس آدمی نے پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرو” پھر اس آدمی نے سوال کیا ” کیا بکریوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھ لوں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں! پھر اس آدمی نے دریافت کیا ” کیا اونٹوں کے بندھے کی جگہ نماز پڑھوں” آپ نے فرمایا ” نہیں” ۔” (صحیح مسلم)( مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 290 )
    تشریح :
    حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ چونکہ ظاہر حدیث پر عمل کرتے ہیں اس لیے انہوں نے تو یہ حدیث دیکھ کر حکم لگا دیا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا چاہئے کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
    لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لیے کہ یہ حضرات اس حدیث کا محل وضو کے لغوی معنے” ہاتھ منہ دھونے” کو قرار دیتے ہیں یعنی یہ حضرات فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اونٹ کے گوشت میں بساندہ اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس کو کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھو لینا چاہئے چونکہ بکری کے گوشت میں بساندھی اور چکنائی کم ہوتی ہے اس لیے اس کے بارے میں فرما دیا کہ اگر طبیعت چاہے اور نظافت کا تقاضا ہو تو ہاتھ منہ دھولیا کرو اور اگر طبیعت نہ چاہے تو کوئی ضروری نہیں ہے۔
    اونٹوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھنے سے منع فرمانا نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور منع اس لیے فرمایا کہ وہاں نماز پڑھنے میں سکون و اطمینان اور خاطرجمعی نہیں رہتی، اونٹوں کے بھاگ جانے یا لات مار دینے اور تکلیف پہنچانے کا خدشہ رہتا ہے بخلاف بکریوں کے چونکہ وہ بیچاری سیدھی سادی اور بے ضرر ہوتی ہیں اس لیے ان کے رہنے کی جگہ نماز پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔
    اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ نماز پڑھنے کے سلسلہ میں یہ جواز او عدم جواز اس صورت میں ہے جب کہ مرابض (بکریوں کے رہنے کی جگہ) اور مبارک (اونٹوں کے بندھنے کی جگہ) نجاست و گندگی سے خالی ہوں اگر وہاں نجاست ہوگی تو پھر مرابض میں بھی نماز پڑھنی مکروہ ہوگی۔حضرت ذی الغرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چہل قدمی فرما رہے تھے، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! بعض اوقات ابھی ہم لوگ اونٹوں کے باڑے میں ہوتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو کیا ہم وہیں پر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس نے پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔
    مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2439

    الحمد للہ آج ہمیں ایک اور سنت نبوی ﷺ پر عمل کرنے کا موقع میسر آیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کر کے نماز عصر ادا کی اللہ رب العالمین نبی کریم ﷺ کی تمام سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں

    @mmasief

  • یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    بہت سے دوسرے پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی یورپ جانے اوردیکھنے کا بہت شوق تھا، میں 2004 میں پاکستان سے بہترمستقبل اور بس چند سال لگا کرواپس پاکستان آنے کیلئے سعودیہ آیا تھا، پہلے چھ ماہ بہت ہی معمولی تنخواہ پرکام کیا اور پھرواپس پاکستان آگیا، چھ ماہ کی چھٹی گزاری اوربالکل آخری دن واپس سعودیہ پہنچا اوراسی پرانی نوکری پرکام شروع کیا اور ساتھ ساتھ اپنے رب سے رزق میں برکت کی دعا بھی کی اور وادی الدواسرنامی چھوٹے سے گاوں سے عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ جانے کیلئے رخت سفرباندھا، پہلا عمرہ بس پرکیا ساتھ میں عبدالرحمان سلیم اورکچھ اورساتھی تھے الحمد للہ والدین کی دعاوں اوراللہ رب العالمین کی رحمت سے اگست 2005 میں ریاض میں ملازمت مل گئی جوکہ 2020 دسمبر تک ریا ض میں جارہی رہی.

    2009 میں یورپ جانے کیلئے کوششیں شروع کیں، بہت سے احباب نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق ہمیں معلومات دینی شروع کیں، کسی بھائی کا خیال تھا کہ کوئی ایجنٹ پکڑا جائے اورکام کروایا جائے کسی بھائی نے حوصلہ افزائی کی تو کسی بھائی نے کہا کہ اگر آپ جیسوں کا ویزہ لگ گیا تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے، خیرمعلومات لیں تو پتا چلا کہ جس ملک جانا ہو وہاں کا رہائیشی بند ہ کسی وکیل سے ایک دعوت نامہ تحریرکروا کر بھیجے جس میں ان کی اورمیری سب معلومات ہوں، میرے بہنوئی اوربہن وہاں رہائش پزیر ہیں تو دعوت نامے والا معاملہ تو حل ہوگیا اورجو چیزیں چاہیں تھیں انکی ایک لمبی لسٹ تھی، میں نے بھی اپنی کمپنی سے گزارش کی کہ مجھے آئریش ایمبیسی کے نام لیٹر دیں اورگارنٹی لیٹربھی دیں کہ بندہ صرف سیر کی نیت سے جارہا ہے اورتین ماہ کی چھٹیاں گزارکرواپس اپنی نوکری پرلوٹ آئے گا، کمپنی والوں نے بھی کمال شفقت سے تعریفی لیٹر کیساتھ کیساتھ گارنٹی لیٹربھی بنا دیا اور لکھ کر دے دیا کہ ان کیساتھ میرا معاہدہ آئندہ پانچ سال تک کار آمد ہے.

    سب دستاوی مکمل کیں تو پتا چلا کہ ٹکٹ پہلے لینی پڑتی ہے پھرسے دوست احباب ہی کام آئے جس جس سے جتنا جتنا مال مل سکا نکلوا لیا گیا اور ٹکٹ خریداری والا معاملہ بھی الحمد للہ مکمل ہوا ترکش ائرلائن کی ٹکٹ خریدی جوکہ ریاض سے استنبول اوراستنبول سے ڈبلن کیلئے تھی اوراسی طرح واپسی ہونی تھی، میں بھی ٹائی وائی لگا کرسارے کاغزات لیکر آئرلینڈ ایمبیسی وقت سے دو گھنٹے پہلے پہنچ گیا، جب جاکرسکیورٹی والوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ صبح 9:30 بجے سفارتخانہ کھلے گا اورآپ سے پہلے بھی چھ سات افراد موجود ہیں، طرح طرح کی فکریں لاحق ہوئی کبھی انگریزی میں ہونے والے انٹرویو کی فکر، کبھی ویزہ نہ ملنے کی فکر دامن گیرہوئی ،اللہ اللہ کرکے اپنی باری آئی تو سامنے اپنے ایک پاکستانی بھائی بیٹھے درخواستیں وصول کررہے تھے نا م تھا ملک قدیر صاحب ہنستے مسکراتے تعارف ہوا سب نے پیپر دیکھے اورامید دلائی کہ ان شاء اللہ ویزہ لگ جائے گا، قدیر ملک بھائی پاکستان پنڈ دادنخان کے رہنے والے ہیں، بہت ہی ملنسار نیک سیرت اوراچھا مزاج رکھنے والے بھائی ہیں ان سے 2009 سے بنا تعلق ان کی ریٹائرمنٹ 2020 تک قائم رہا ہرعید خوشی غمی میں ایک دوسرے کا حال احوال لینا اورغیر رسمی ملاقاتیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ملک صاحب جہاں بھی ہوں اللہ رب العالمین انہیں بہترین صحت سے نوازیں.

    15 دن کےطویل انتظار کے بعد دوبارہ پاسپورٹ لینے آئیریش ایمبیسی آنا ہوا، ملک صاحب نے داخل ہوتے ہی ویزہ مل جانے کی خوش خبری سنائی اس طرح پہلی دفعہ کسی بھی دوسرے ملک کیلئے سفر کیا، ریاض سے ترکی استنول پہنچے استنبول کا ہوائی اڈہ انتہائی مصروف اوربہت بڑی ڈیوٹی فری مارکیٹ ہے جہاں دنیا جہان کی چیزیں خرید سکتے ہیں 4 گھنٹےانتظارکے بعد اگلی فلائٹ پکڑی اوراس طرح ڈبلن ائرپورٹ پہنچے، دورجہاز سے اتاردیا گیا اوراشارے سے کہا کہ وہ سامنے چلے جائیں، امیگریشن مکمل ہوئی بہن بہنوئی لینے آئے ہوئے تھے ڈبلن سے براستہ کارہم لونگ فورڈ پہنچے اور15 دن قیام کیا بہت عزیز رشتہ دارو ہاں مقیم ہیں پورے 15 دن دعوتیں ہوتی رہیں اورمختلف شہر اورمارکیٹیں دیکھنے کا موقع ملا ایسے ہی ایک بوٹ سیل ( جس میں لوگ اپنی استعمال شدہ چیزیں فروخت کرتے ہیں جاناہو ا) اور سیلفی لیکر دوستوں سے شئر کردی جس پر جواب آیا چوہدری صاحب یورپ جا کے وی لنڈا بزار لبھ لیا اے ( کہ یورپ جا کر بھی آپ نے لنڈابازارڈھونڈ لیا ) یہ ہی بات آج یاد آئی توسوچا کچھ اسی پرتحریرکرلیا جائے، کچھ پرانی یادیں تازہ کرلی جائیں، اپنے پڑھنے والوں کیلئے بھی کچھ لکھ دیا جائے باقی کا احوال بھی ان شاء اللہ جلد تحریرکیا جائے گا.

    @mmasief

  • مسجد عبد اللہ بن عباسؓ – طائف (سعودیہ )   تحریر :  محمد آصف شفیق

    مسجد عبد اللہ بن عباسؓ – طائف (سعودیہ ) تحریر : محمد آصف شفیق

    دوستو آج ہم آ پ سے طائف کی سیر کا احوال شئر کریں گے
    ہم چند دوستوں نے جدہ سے طائف کی سیر کا پروگرام بنایا جدہ سے طائف کم و بیش 170 کلومیٹر ہے اور کم و بیش دو گھنٹے کی ڈرائیو ہے ، طائف ایک پر فضا مقام ہے جہاں سیر و سیاحت کیلئے آنے والوں کیلئے دیگر سہولتوں کے علاوہ چئر لفٹ کی سہولت موجود ہے جس سے آپ پورے ایریا کو فضا سے دیکھ سکتے ہیں بل کھاتی سڑکیں پہاڑی راستہ اور مسلسل چڑھائی جس کی وجہ سے کافی وقت لگ جاتا ہے ، نئی نئی گاڑیاں مستقل چڑھائی کی وجہ سے اکثر ہیٹ اپ ہو جاتی ہیں جنہیں کبھی تو اٹھا کر لانا پڑجاتا ہے یا وہیں پر کوئی جگاڑ لگا کر واپس لایا جا سکتا ہے ،اگر گاڑی خراب ہو جائے تو یہاں راہ چلتے مسافر فواراً رک کر آپکی مدد کرتے ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے
    تو ہم بات کر رہے تھے طائف کی ، شہر طائف میں بہت سی قدیم مساجد ہیں جن میں سے ایک عظیم صحابی عبداللہ بن عباس ؓ کی مسجد ہے جو کہ طائف شہر کی مشہور مساجد میں سے ایک مسجد ہے ، یہ طائف شہر کے بالکل وسط میں واقع ہے ،اس مسجد کی تعمیر 592 ہجری میں ہوئی ، اس مسجد میں کم و بیش 3000 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے ، مسجد میں اجتماعات عید کی نماز سیمینار ز اور لیکچرز کا انعقاد کیا جاتا ہے ، مسجد کی مختلف ادوار میں میں توسیع کی جاتی رہی محترم شاہ سعود رحمہ اللہ کے دور میں مسجد کی توسیع کی گئی اور اسے 15000 مربع میٹر تک وسیع کیا گیا
    مسجدکے بالکل ساتھ عبد اللہ بن عباسؓ لائبریری بھی موجود ہے جو اچھی بڑی لائبریری ہے چونکہ ہم نے اس کورونا کی وبا کے دوران طائف کا سفر کیا اس لئے انتظامیہ نے حفاظتی نقطہ نظر سے لائیبریری کو بند کیا ہوا ہے ہم امید کرتے ہیں ان شااللہ اپنے اگلے وزٹ پر لائیبریری کو اندر سے دیکھ سکیں گے اور اس میں موجود نوادرات کی زیارت بھی کر پائیں گے اور اسے آپ سب پڑھنے والوں سے شئر بھی کریں گے ان شاء اللہ
    مسجد اور لائبریری کے قریب ہی پارکنگ ایریا ہے جس میں وسیع و عریض کار پارکنگ کی سہولت موجود ہے ، ساتھ ہی خوبصورت گیٹ بھی بنایا گیا ہے جسے باب عبد اللہ بن عباسؓ کا نام دیا گیا ہے
    طائف میں ہی موجود مسجد علی ؓ کا احوال بھی انشاء اللہ جلد ہی اپنے اگلے بلاگ میں پیش کروں گا
    محمد آصف شفیق
    جدہ -سعودیہ

    @mmasief

  • یوم عرفہ کا روزہ دوسالوں کے گناہوں کی معافی  ! تحریر:محمد آصف شفیق

    یوم عرفہ کا روزہ دوسالوں کے گناہوں کی معافی ! تحریر:محمد آصف شفیق

    یہود میں سے ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے امیرالمومنین اگر ہم پر یہ آیت نازل ہوتی کہاَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا اور میں نے تو اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام پسند کیا تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ کس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ جمعہ کا دن یوم عرفہ میں نازل ہوئی ہے
    نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں
    ۱۔ حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا،پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے چونکہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔
    ۲۔ نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیلؑ نے حضرت ابراہیم ؑکوتمام مناسکِ حج سکھلائے تھے مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔
    ۳۔ نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کیلئے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ بھی کہہ دیتے ہیں۔
    یوم عرفہ کے دن کی فضیلت ان احادیث مبارکہ میں کچھ یوں بیان ہوئی ہے
    حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے گا۔(جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 733 )
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے (یعنی رحمت اور احسان و کریم کے ساتھ قریب ہوتا ہے) اور پھر فرشتوں کے سامنے حاجیوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ذرا میرے بندوں کی طرف تو دیکھو، یہ میرے پاس پراگندہ بال، گرد آلود اور لبیک و ذکر کے ساتھ آوزایں بلند کرتے ہوئے دور، دور سے آئے ہیں، میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا، (یہ سن کر) فرشتے کہتے ہیں کہ پروردگار ان میں فلاں شخص وہ بھی ہے جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے اور فلاں شخص اور فلاں عورت بھی ہے جو گنہ گار ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انہیں بھی بخش دیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں یوم عرفہ کی برابر لوگوں کو آگ سے نجات و رستگاری کا پروانہ عطا کیا جاتا ہو۔ (شرح السنہ)( مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 1145 )
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔(مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 811)

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورت فجر میں دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں وتر سے مراد یوم عرفہ ہے اور شفع سے مراد دس ذی الحجہ ہے۔(مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 391)
    حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ (نو ذی الحجہ ) کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے پھر کسی نے یوم عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2553 )
    حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے سائل نے یوم عاشوراء کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2646)
    اللہ رب العالمین ہمیں عرفہ کے مبارک دن کی اہمیت کو سمجھنے اور اس دن اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے اور اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں
    آمین یا رب العالمین
    محمد آصف شفیق
    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • مقامات مقدسہ کی  زیارت .تحریر:‏محمد آصف شفیق

    مقامات مقدسہ کی زیارت .تحریر:‏محمد آصف شفیق

    ‏کورونا کی وبا نے جہاں گھروں تک محدود کردیا وہیں دفتر کی بجائے گھر سے کام اور جمعہ ہفتہ کی چھٹی نے ایسے مواقع فراہم کر دئے کہ ہر ہفتہ آپ باقائدہ پروگرام بنا کر سعودیہ میں موجود مقامات مقدسہ کی زیارتیں خود بھی کرسکیں اور اپنے دوست احباب کیساتھ اپنا تجربہ شئر کرسکیں ، میں روزگار کے سلسلہ میں 2005 سے سعودیہ میں مقیم ہو ں ، اس وبا کے دوران سعودیہ کے طول و عرض میں گھومنے کا موقع میسر آیا ، کمپنی کا اللہ بھلا کرے انہوں نے گزشتہ فروری میں الریاض سے جدہ ٹرانسفر کردیا اور موقع ملا کہ کم و بیش ہر ہفتہ کسی نہ کسی مقدس مقام کی زیارت کی جائے
    ‏جدہ سے حدیبیہ کا فاصلہ کم و بیش 60 کلومیٹر ہے اپنی گاڑی پر آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں وہاں پہنچا جا سکتا ہے ، ہم بھی اپنے احباب کے ساتھ جدہ سے بزریعہ کار حدیبیہ پہنچے ٹھیک اسی مقام پر جہاں صلح حدیبیہ پیش آیا پرانی مسجد کی باقیات موجود ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے ایک رہنمائی کیلئے بورڈ بھی آویزاں ہے ، ایک نئی مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے جسے مسجد حدیبیہ کا نام دیا گیا ہے ، مسجد حدیبیہ لکھ کر گوگل میپ سے با آسانی اس مقام تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ، اسی رہنما ئی والے بورڈ پر عربی اور انگلش میں تحریر موجود ہے مگر سہولت کیلئے بورڈ پر بار کوڈ موجود ہے جسے سکین کرنے پر ساری معلومات اردو اور انڈونیشن زبان میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے

    ‏مکہ مکرمہ سے جدائی کے چھ سالوں بعد 1400 صحابہ کرامؓ کیساتھ حج کی غرض سے مدینہ منورہ سے ہی احرام باندھ کر قربانی کے جانور ساتھ لے کر اور نیام کی تلوار کے علاوہ کوئی ہتھیار بھی ساتھ نہیں مگر پھر بھی قریش مکہ نے آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ کو مکہ جانے سے روک دیا اور آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کو اپنا ایلچی بنا کر بھیجا جنہیں قریش مکہ نے روک لیا اور مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیاگیا ہے تو اصحاب رسول ﷺ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک کہ مشرکین سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ نہ لے لیں اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ ببول کے درخت کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گئے اور تمام صحابہ ؓ نے قصاص عثمان ؓ پر آپ ﷺ نے بیعت لی جسے بیعت رضوان کہا اور سورۃ الفتح میں جس کا ذکر آیا
    ‏جب جب آپ ان مقدس مقامات کی زیارت کو جائیں تو قرار اور سکون میسر آتا ہے اسے الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ، زیارت مقامات مقدسہ کا سلسلہ ان شاء اللہ جاری ہے اور ان شاء اللہ اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے احساسات آپ سب پڑھنے والوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہوں گا
    ‏دعاوں کا طلبگار
    ‏محمد آصف شفیق
    ‏جدہ ۔ سعودیہ
    ‏⁦‪masief@gmail.com‬⁩