Baaghi TV

Author: محمد مستنصر

  • بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماہ اکتوبر بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 کے عشرے میں دنیا بھر میں پہلی مرتبہ بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے لئے پنک ربن مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان) دنیا بھر کی خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے، ساتھ ہی دنیا بھر کی خواتین کی شرح اموات کے بڑھنے کا سب سے بڑا سبب بھی بریسٹ کینسر کو ہی مانا جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ریسرچ کے مطابق بریسٹ کینسر دنیا بھر میں تمام قسم کے کینسرز کا 10 فیصد ہے جو کہ تشخیص سے ثابت ہوتا ہے۔

    مرض کی پیچیدگیوں اور اس حوالے خواتین کو پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر صدر مملکت پاکستان عارف علوی صاحب اور خاتون اول بیگم ثمینہ علوی بھی بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے اور مرض کے پھیلائو کو روکنے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اسی حوالے سے ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی صاحب نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص ہی ملک میں اس مہلک مرض کا شکار ہونے والی سالانہ 40 ہزار خواتین کی زندگیاں بچانے کا واحد راستہ ہے ، اس سلسلے میں بھرپور آگاہی مہمات کے ذریعے چھاتی کے کینسر کے بارے میں ممنوعات سے نجات حاصل کر کے خواتین کو فوری طبی مدد لینے سے متعلق ہچکچاہٹ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے بارے میں ان کی آگاہی مہم کے پیش نظر میڈیا اپنے ٹیلی ویڑن پروگراموں اور اخبارات میں اس موضوع کو موثر طریقے سے اجاگر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مہینے مختلف شہروں کے کالجوں کا دورہ کریں گی تاکہ لڑکیوں میں خود تشخیص کے حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔ انہوں نے خاندانوں کے مردوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس بیماری سے منسلک مشکلات کا ادراک کریں اور مناسب طبی دیکھ بھال کے لئے خواتین کی مدد کریں۔
    اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے، ہر سال 90 ہزار کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے 40 ہزار خواتین کی موت ہو جاتی ہے، مختلف ریسرچ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں ہر 9 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے اور یقینا یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔لیکن ساتھ ہی اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس مہلک مرض کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی شرح پاکستان میں ہی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ مزید براں یہ کہ اس مرض سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

    آگاہی کیوں ضروری ہے؟
    خواتین میں جِلد کے کینسر کے بعد بریسٹ کینسر سب سے عام مرض ہے۔ اوسط عمر میں ہر عورت میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 12فیصد پایا جاتا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 3لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے تقریبا 15فیصد 40ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے سبب موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر8میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہے جب کہ ہر 2منٹ میں ایک عورت میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دیکھا جائے توایشیائی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے زیادہ پاکستان میں پائی جاتی ہے جس کے باعث یہ مرض ملک میں خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس موذی مرض سے نمٹنے کے لئے لازمی ہے کہ اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ہو لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کو اس مرض کے حوالے سے آگاہی حاصل ہو۔اس مرض سے متعلق یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ بریسٹ کینسر کے لئے اسکریننگ ٹیسٹ40سال کی عمر میں شروع کیاجاتا ہے جبکہ سالانہ میموگرافی اور مرض کی بروقت تشخیص کے ذریعے بریسٹ کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ خواتین بریسٹ کینسر کے حوالے سے باشعور ہوں گی تو عین ممکن ہے کہ نہ صرف اس مرض سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جاسکے بلکہ اس مرض کی شرح بھی کم ہوجائے۔
    بریسٹ کینسر کیا ہے ؟

    https://twitter.com/MustansarPK/status/1446445962017267712

    جسم کے پٹھے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنے ہوتے ہیں لیکن اگریہی خلیے بے قابو انداز میں بڑھنا شروع ہو جائیں اور ایک ڈھیر بنا لیں تو یہ کینسر بن جاتا ہے۔ زیر غور بیماری میں چھاتی میں گلٹی یا رسولی بن جاتی ہے، یہ گلٹی یا رسولی سائز میں بڑھ سکتی ہے اور اس کی جڑیں چھاتی میں پھیل بھی سکتی ہیں،جس کے باعث چھاتی میں تکلیف اور ساخت میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے اندر، باہر یا نیچے زخم بڑھ کر بعض اوقات کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مریض اور مرض کی نوعیت کے مطابق یہ علامات مختلف بھی ہو سکتی ہیں لیکن واضح رہے کہ یہ کینسر متعدی (Infectious) نہیں ہوتا، نہ ہی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ بریسٹ کینسر بنیادی طور پر خواتین کو متاثر کرتا ہے، تاہم مردوں میں بھی اس کینسر کے خطرات پائے جاتے ہیں، مگر تشخیص نہ ہونے کے برابرہے بین الاقوامی ڈاکٹرز کی آرا کے مطابق ہارمونز کی بے اعتدالی بریسٹ کینسر کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔ بنیادی طور پر جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ دوسری جانب خواتین کا غیرصحت مند طرز زندگی اور غیر متوازن خوراک بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔بڑی عمر میں شادی یا زائد عمر میں پہلے بچے کی پیدائش بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہیں لیکن اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 4فیصدکم ہوجاتا ہے۔بریسٹ کینسر موروثی کینسر بھی ہے، تقریبا 10فیصد بریسٹ کینسر موروثی جینیاتی نقائص کی وجہ سے ہوتاہے جبکہ جینیاتی نقائص کی حامل خواتین کی اپنی زندگیوں میں اس مرض کے ہونے کے80فیصد امکانات ہوتے ہیں ۔عام طور پر بریسٹ کینسر کا سبب بریسٹ لمپس بھی ہوتے ہیں۔ یہ چھاتی میں بننے والی وہ گلٹیاں ہیں، جنہیں پول سیٹک یا فابٹر و سیٹک کہا جاتا ہے۔ بریسٹ لمپس کے سبب بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات خاصے بڑھ جاتے ہیں ۔بروقت تشخیص اس مرض پر قابو پانے کیلئے سب سے پہلا مرحلہ اس کی تشخیص ہے، جس کے لئے طبی ماہرین خواتین کوبریسٹ چیک اپ باقاعدگی سے کروانے کا مشورہ دیتے ہیں، خصوصا ان خواتین کوجن کی عمر 40سال سے زائد ہے۔تشخیص کا بہترین طریقہ میموگرافی ہے، خواتین کسی بھی شبہہ کی صورت میںمیموگرافی کرواسکتی ہیں۔ یہ ایک طرز کا ایکسرے ہوتا ہے جس کے ذریعے چند گھنٹوں میں کینسر کے مرض کا پتا چل جاتا ہے۔ میموگرافی کروانے کے وقت سے متعلق کافی عرصے سے ایک لمبی بحث جاری ہے، تاہم امریکی پریوینٹو سروسز ٹاسک فورس کی ایک حالیہ تجویز کے مطابق50سال میں قدم رکھنے والی تمام تر خواتین کو ہر دو سال میں کم ازکم ایک بار میموگرافی ضرور کروانی چاہیے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق خواتین کو 45سال کی عمر سے سالانہ اسکریننگ کروانی چاہیے جبکہ50سال کی عمر تک میموگرافی لازمی قرار دی جاتی ہے۔ تاہم اگر کسی کی فیملی ہسٹری میں بریسٹ کینسر کے کیسز موجود ہیں تو اسے اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے مخصوص عمر سے قبل ہی میموگرافی کروالینی چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں اس مرض کی آگاہی پیدا کی جائے، اس سلسلے میں اکتوبر کو اس مرض کی آگاہی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، بہت سی این جی اوز اس آگاہی مہم میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں اور پنک ربن نامی (Pink Ribbon ) تنظیم بریسٹ کینسر کی آگاہی اور اس کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی میں سر فہرست ہے۔

    شوکت خانم ہسپتال نے پانچ منٹس اپنے لئے (5 minutes for me) کے نام سے ایک مہم چلائی جس میں پاکستان کی خواتین کو آگاہی دی گئی کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص میں صرف پانچ منٹس ہی درکار ہوتے ہیں، اس مہم میں یہ بھی بتایا گیا کہ 40 سال سے کم عمر خواتین کو ہر مہینے اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے اور 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے ریگولر چیک اپ کے ساتھ ساتھ میمو گرافی بھی کروا لیں جو کہ بریسٹ کینسر کا مخصوص ٹیسٹ ہے، کیوں کہ اس مرض کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتا ہے، اس لئے بڑی عمر میں یہ ٹیسٹ ضروری ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ سماج کے باشعور اور متحرک لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے کہ بروقت تشخیص ہی اس مرض کا ممکن حل ہے اور یہ مرض قابل علاج ہے، بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا خاتون ناپاک یا اچھوت ہے جس کی بنا پر نہ تو مریض کا تیار کردہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں جو کہ انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے جس کی حوصلہ شکنی لازمی ہے۔بریسٹ کینسر کسی بھی دوسرے کینسر کی طرح ایک مرض ہے جو کہ وبائی مرض کی طرح نہیں پھیلتا بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے نعرے کے مصداق کہ "ہم کر سکتے ہیں، میں کر سکتی ہوں” اسی نعرے پر عمل کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مرض کو مات دے سکتی ہیں تاہم ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس حوالے سے خواتین کو درست آگاہی فراہم کریں تاکہ بروقت تشخیص کے ذریعے مرض کے بڑھائو پر قابو پاکر قیمتی زندگیاں اور وسائل بچائے جا سکیں۔

    @MustansarPK

  • افغان جنگ میں امریکی میڈیا کا کردار .تحریر: محمد مستنصر

    افغان جنگ میں امریکی میڈیا کا کردار .تحریر: محمد مستنصر

    افغانستان میں پیدا ہونیوالی صورتحال کے تناظر میں امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاستدان اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار کون ہے؟ امریکی میڈیا پر کابل ایئر پورٹ سے تواتر کے ساتھ دکھائے جانے والے مناظر کی دھول میں لپٹے ہوئے امریکی شاید یہ بھول چکے ہیں کہ جارج بش کو افغانستان پر چڑھائی اور اس جنگ کی اجازت تو تمام امریکی تھنک ٹینک اور اداروں نے متفقہ طور پر ہی دی تھی جبکہ سی آئی اے اور پینٹاگون نے بھی9/11 واقعات کو جواز بنا کر افغانستان پر امریکی یلغار کی حمایت میں رپورٹس دی تھیں تاہم اس طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے خاتمے پر نہ صرف حالیہ امریکی صدر بائیڈن اور سابق امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ دونوں متفق دکھائی دیئے بلکہ ABC ٹی وی کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 63 فیصد امریکی عوام نے بھی افغان جنگ کے خاتمے کے حق میں رائے دی تاہم اس کے باوجود بین الاقوامی میڈیا پر "بلیم گیم” زور و شور سے جاری ہے صدر بائیڈن اگر افغان نیشنل آرمی کے پسپا ہوجانے، سابق افغان صدر اشرف غنی کے فرار اور طالبان کی طرف سے مکمل کنٹرول سنبھال لینے کے بعد کی صورتحال کو قابو میں نہیں لا سکے تو کیا اس عظیم امریکی شکست کا تمام تر ملبہ امریکی صدر بائیڈن پر ڈال دیا جائے؟ امریکی اور مغربی میڈیا پر جاری بلیم گیم کے تسلسل کے باعث امریکی صدر بائیڈن کی مقبولیت کا گراف نیچے گررہا ہے اور ٹائمز میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بائیڈن کی مقبولیت کے گراف میں 55 فیصد سے 47 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

    امریکا کی اندرونی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر دیکھی گئی بدنظمی اور انتشار بائیڈن انتظامیہ کی ناکامی ہے جس کا خمیازہ بائیدن اور ان کی پارٹی کو مڈٹرم انتخابات میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے جبکہ اس کے اثرات 2024 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر بھی پڑیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ 20 سالہ طویل افغان جنگ کی بڑی قیمت ڈیموکریٹک پارٹی کو چکانا ہوگی۔ تاہم ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس جنگ کی جو قیمت افغان عوام نے ادا کی ہے اس کی آواز امریکی اور مغربی میڈیا پر کیوں نہیں سنائی دے رہی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خواتین کے حقوق اور امریکی افواج کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کرنے والے نیوز چینلز اور امریکی قومی اخبارات کو اس سے ذیادہ کچھ بولنے اور لکھنے کی اجازت ہی نہیں۔ 20 سال تک خانہ جنگی کا شکار رہنے والے ملک میں انسانیت کس طرح سسکتی رہی اسے بیان کرنا الفاظ میں ممکن نہیں۔ گذشتہ 20 سالوں کے دوران خواتین کے حقوق کے لئے امریکی میڈیا پر جو مہم چلائی جاتی رہی اس سے اگر کچھ فرق پڑا ہے تو محض اتنا کہ افغانستان کے چند بڑے شہروں میں چند ہزار تعلیم یافتہ خواتین کو ملازمتیں ملی ہیں، چند لاکھ لڑکیوں کو سکول اور کالج جانے کی آزادی حاصل رہی دوعشروں کے دوران ہونے والی اس پیشرفت کو سراہا تو ضرور جا سکتا ہے مگر امریکی اداروں کی طرف سے فراہم کئے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق 38.4 ملین آبادی والے ملک میں 84 فیصد خواتین نادہندہ ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان کی تعمیر نو کے لئے نہیں گیا تھا شاید بائیڈن اور ان کے معاونین یہ بھول چکے ہیں کہ امریکی صدر بش نے افغان جنگ کو Operation Enduring Freedom کا نام دیا تھا، افغانوں کو آزادی دلانے کا مشن ان کے ملک کی تعمیر نو اور ترقی و خوشحالی کے بغیر بھلا کیسے ممکن ہو سکتا تھا، اس مقصد کے لئے جرمنی کے شہر بون میں 22 دسمبر 2001 کو ایک کانفرنس بلائی گئی تھی جس میں حامد کرزئی کو عبوری صدر منتخب کیا گیا تھا۔

    طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد میں نئے آئین کی تشکیل، آزاد عدلیہ اور میڈیا کے لئے ماحول سازگار بنانے کے ساتھ خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات شامل تھے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کی تشکیل تھی جو جنوبی اور وسطی ایشیاء میں مغربی ممالک کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ صدر بائیڈن کو آج کل غیر منظم انداز میں افغانستان سے انخلاء کی پاداش میں کوسنے والا میڈیا انہیں افغانستان پر حملے اور قبضے کے اغراض ومقاصد سے کیوں آگاہ نہیں کرتا؟ امریکی میڈیا یہ کیوں نہیں بتاتا کہ جناب صدر ہم افغانستان تعمیر نو ہی کے لئے تو گئے تھے اور اس وقت اگر یہ ڈرامہ نہ رچایا جاتا تو افغانستان پر قبضے کے لئے صرف القاعدہ کو تباہ کرنے والی دلیل کافی نہ تھی۔ امریکی میڈیا کو اپنے صدر محترم کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ 20 برس تک افغانستان پر امریکی قبضے کے دوران اس ملک میں روزانہ جو قتل وغارت ہوتی رہی کیا اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا؟ کیا کبھی بائیڈن انتظامیہ یا سابقہ امریکی صدور نے یہ اعداد وشمار مرتب کروائے کہ اس لاحاصل جنگ میں مارے جانے والے بے گناہ افغانوں کی صحیح تعداد کتنی ہے اور کتنے جسمانی معذور ہو کر زندگی بھر محتاجی کی زبدگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آپ بڑے فخر سے تعلیمی معیار اور سطح، بچوں کی شرح اموات، زچگی میں ہونے والی اموات اور اپنی پسند سے شادی کرنے کے حق کو کسی بھی ملک کی ترقی کا پیمانہ سمجھتے ہیں تو آج ان تمام اشاریوں میں افغانستان کہاں کھڑا ہے؟ کیا اقوام متحدہ میں کوئی ایسا کٹہرا ہے جہاں آپ کو کھڑا کرکے پوچھا جائے کہ 20 سال تک آپ ایک ملک پر قابض رہ کر کیا کرتے رہے؟ امریکا میں تو ایسے صحافیوں کی کمی نہیں جو صدر محترم سے اپنا من چاہا سوال پوچھ سکتے ہیں تو امریکا کے آزاد صحافی اپنے صدر محترم سے پوچھ کیوں نہیں لیتے کہ 20 سال کی خانہ جنگی اور خونریزی کے بعد اس اجڑے ہوئے ملک کی تعمیر نو کون کرے گا؟ آپ نے تو امریکی بینکوں میں موجود افغانستان کے ساڑھے نو ارب ڈالرز کے فنڈز بھی منجمد کر دیئے ہیں جبکہ یورپی یونین نے بھی اس ملک کی تباہی میں دل کھول کر اپنا حصہ ڈالنے کے بعد اس کی مالی امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جناب صدر آپ کے اس تاریخی کارنامے پر اس کے علاوہ اور کیا لکھا جا سکتا ہے کہ:
    ہمیں تو خاک اڑانا تھی بس اڑا آئے
    ہمارا دشت میں کوئی پڑائو تھا ہی نہیں۔۔۔

    @MustansarPK

  • تمباکو نوشی،کھلے عام دستیاب سستی موت، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اقدامات ناگزیر ورنہ نتائج بھیانک   تحریر: محمد مستنصر

    تمباکو نوشی،کھلے عام دستیاب سستی موت، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اقدامات ناگزیر ورنہ نتائج بھیانک تحریر: محمد مستنصر

    صحت کے شعبے میں ہونے والی جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمباکو نوشی، پان، گٹکا، نسوار اور اس طرح کی دیگر نشہ آور اشیا کینسر، دمہ اور ٹی بی جیسی کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مضر صحت ہونے کی بنا پر ان کا استعمال شرعی طور پر بھی ممنوع ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا واضح حکم ہے۔ "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔”(البقر، 2: 195)
    وہ زہر جو فوری اثر کرے اور انسان کی جان لے اور وہ زہر جو رفتہ رفتہ اور بتدریج انسان کی جان لے جسے (Slow Poision) کہا جاتا ہے، دونوں کے بارے میں ایک ہی حکم ہے اور شرعی اعتبار سے دونوں حرام ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی کا شمار (Slow Poision) کے زمرے میں کیا جاسکتا ہے جو بتدریج انسان کی جان لیتا ہے۔ تمباکو نوشی کی ہلاکت خیزی سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرے۔ ارشاد باری تعالی ہے، "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔” (النسا، 4: 29)
    اللہ تعالی کے احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی صحت کے لئے کسی بھی نقصان دہ چیز کا استعمال حرام ہے جبکہ تمباکو نوشی میں جسمانی، مالی اور نفسیاتی نقصان بھی ہے۔ماہرین کے مطابق تمباکو کے استعمال سے نکلنے والے دھوئیں میں تقریباسات ہزار کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن میں سے ڈھائی سو کے قریب انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوسرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے دل کادورہ اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف اقسام کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا سرطان سرِ فہرست ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریبا نوے فی صد افراد تمباکو نوشی کرنے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں نوش ہوتے ہیں۔ ملک بھر کے اسپتالوں میں آنے والے چالیس فی صد مرد مریض تمباکو نوشی سے ہونے والے کیمسر کی مختلف اقسام کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں دوسرا سب سے زیاد ہ پایا جانے والا کینسر منہ کا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔اسی طرح تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، معدے، جگر، مثانے، لبلبے اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی تمام اقسام،بشمول سگریٹ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کھانا مثلا پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا سب کچھ ہی انسانی صحت کے لئے خطرناک ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم جارحانہ طور پر چلائی جائے جس میں حکومت، عوام،ذرائع ابلاغ ،تاجربرادری، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا بھرپور حصہ لیں۔ اسکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے بارے میں مضامین شامل کرنے چاہئیں تاکہ بچے بچپن ہی سے ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتے داروں اور محلے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کردیں۔
    ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 32 فی صد اور خواتین میں تمباکو کے استعمال کی شرح 5.7فی صد بتائی جاتی ہے۔ مگر نوجوانی سے قبل ہی اکثر بچے تمباکو استعمال کرنے لگتے ہیں۔پاکستان میں سگریٹ کا استعمال معیشت اور صحت کے شعبے پر بوجھ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی کی عادت ہر برس ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد کی جانیں لے لیتی ہے جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجے کی لاگت اور تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات سے ہونے والے نقصان کی صورت میں ملک کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہر سال برداشت کرنا پرتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے عام افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے ان کے لئے سگریٹ کے دھوئیں سے بچنے کی کوئی محفوظ جگہ نہیں کیونکہ ملک کی کل آبادی کا 72.5فی صد حصہ یعنی 16.8ملین افراد جو بند عمارتوں اور کمروں میں کام کرتے ہیں، انہیں سگریٹ نوشی کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ کل آبادی کا 86فی صدحصہ یعنی 49.2ملین افراد ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا کرتے ہیں جبکہ 76.2فی صد افراد کو عوامی ٹرانسپورٹ میں سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں۔37.8 فی صدنوجوان(عمر 13تا15 برس)کو عوامی مقامات پر سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں جبکہ 21فی صدنوجوان اپنے گھروں میں غیر فعال سگریٹ نوشی کا سامنا کرتے ہیں۔تمباکو نوشی انسانی صحت کے لئے مہلک ہے اور اس کے عادی افراد میں سے کم از کم نصف موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔پاکستان میں ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد ہر برس تمباکو سے متعلق امراض کے سبب انتقال کرجاتے ہیں جو کل اموات کا نو فی صد ہے۔ غیر متعدی بیماریاں جن میں کینسر، عملِ تنفس کی شدیدبیماریاں اور دل کی بیماریاں بھی ذیادہ تر تمباکو کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ تمباکو نوشی سے معاشرے پر بہت ذیادہ مالی بوجھ بھی پڑتا ہے ترقی پذیر اور زیادہ گنجان آباد ممالک میں بہت زیادہ معاشی مواقع ضائع ہوجاتے ہیں کیوں کہ تمباکو سے متعلق اموات عمر کے فائدہ مند سالوں یعنی 30 سے 69 برس کے دوران واقع ہوتی ہیں۔پاکستان میں ایک سگریٹ نوش روزانہ اوسط قومی آمدن کا3.7 فی صددس سستے ترین سگریٹ کی خریداری پرصرف کردیتا ہے اور یوں اربوں روپے ہر سال دھوئیں کی نظر ہو جاتے ہیں۔ جبکہ غریب افراد اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ تمباکو نوشی پر ضائع کر دیتے ہیں یعنی وہ بنیادی انسانی ضروریات،مثلا خوراک،رہائش،تعلیم اور صحت کے بجائے یہ رقم تمباکوپر خرچ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے خاندان کی غربت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، ایک جانب قیمتی وسائل تمباکو نوشی کی وجہ سے ضائع ہوتے ہیں تو دوسری جانب تمباکو استعمال کرنے والے بیماریوں کے زیادہ خطرات کی زد میں رہتے ہیں، سرطان، امراض قلب،سانس کے امراض یا تمباکو نوشی سے متعلق دیگر امراض کی وجہ سے وقت سے پہلے ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مرنے والے تمباکو نوش افراد کے متبادل کے طور پر سگریٹ اور دوسری نشہ آور اشیاء بیچنے والی کمپنیوں اور افراد کا ٹارگٹ نوجوان نسل بنتی ہے تاکہ ذیادہ عرصے تک کے لئے انہیں (گاہک) میسر ہوں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روزانہ 15 برس سے کم عمرکے 1200بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔ہمیں یہ یاد رکھناچاہئے کہ انسانوں کے لئے تمباکو کسی بھی وجہ سے کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔اس کی کوئی غذائی اہمیت ہے اور نہ ہی یہ اپنے استعمال کرنے والے کو کوئی صحت بخش فوائد فراہم کرتا ہے۔یہ ان کے اضطراب ،دبائو،غربت اور غذائیت کی کمی میں اضافہ کرکے صرف اور صرف ان کے مسائل اور مشکلات بڑھاتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ملک کی معیشت اور ماحول کو تباہ کرتا ہے۔اگرہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان ہی ہماری ترقی کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو حکومت کو ملک میں تمباکو نوشی کا رجحان کم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اس ضمن میں بچوں کو متبادل گاہک بننے سے بچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اگر یہ کام موثر انداز میں کرلیا جائے تو اگلے دس تاپندرہ برس میں ملک میں کوئی بھی تمباکو کا دھواں اڑانے والا نہیں ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو پربھاری ٹیکس لگانا تمباکو نوشی کے رجحان پر قابو پانے میں سب سے زیادہ موثرعمل ثابت ہواہے۔دیگر ترقی پذیر ممالک کے برعکس پاکستان میں اب بھی دنیا بھر کے مقابلے میں تمباکو کی مصنوعات سستی ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کا استعمال کم کرنے کے لئے حکومت کو ہرسال اس پرٹیکس میں کم از کم تیس فی صد تک اضافہ کرنا چاہئے۔ایک اور مطالعہ تجویز کرتا ہے کہ سگریٹ کے نرخ میں تیس فی صد کا اضافہ اس کے استعمال میں 33 فی صد تک کمی لاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک برس میں اڑتالیس ارب روپے کی بچت ہوسکے گی۔یہ ہمارے لئے فیصلے کی گھڑی ہے کہ کیاہم اپنے لوگوں کو اسی طرح مرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں،اپنی معیشت پر ہر برس اربوں روپے کا علاج معالجے کا بوجھ ڈالتے رہنا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کو اسی طرح یتیم اور بے آسرا ہوتے اور ان کا مستقبل تاریک ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اورکیا ملک کی پیداواری صلاحیت اسی طرح تباہ ہونے دیں گے؟آج ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔

  • مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان نے حیرت انگیز فتوحات حاصل کرتے ہوئے 15 اگست کے روز چند گھنٹوں میں کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے تخت افغانستان پر اپنی عملداری قائم کرلی، دنیا نے اس بار افغان طالبان کی ایک نئی شکل و صورت اور حکمت عملی کا بھی مشاہدہ کیا کہ کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے کوئی قتل عام کیا ناں ہی سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا تاہم اب بھی بہت سارے سوالات کے جوابات تلاش کرنا باقی ہیں کیونکہ تاریخ کبھی بھی صرف رونما ہونے والے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوا کرتی بلکہ پیش آنے والے واقعات کے درپردہ محرکات اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ تک بذریعہ سوال و جواب ہی پہنچا جاتا ہے۔ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتوحات نے امریکا کی ناں صرف افغانستان بلکہ جنوب ایشیائی خطے میں ناکام پالیسیوں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ دنیا کی سپرپاور بننے کے جنون میں مبتلا امریکا کی ان ناکام پالیسیوں سے کئی انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں تاہم اگر چین اور پاکستان مربوط کوششیں کریں تو اس سے ایک نیا افغانستان ابھر کر سامنے آئے گا جو ناں صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ماہرین کی طرف سے یہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ افغانستان کے نئے حکومتی سیٹ اپ کے قیام کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا؟ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جائے گی؟ کیا مستقل بنیادوں پر خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے؟

    کیا طالبات کو تعلیم اور خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع بحال رکھے جائیں گے؟ دنیا بھر کی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی نظریں افغانستان اور طالبان کی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں بسنے والے افغان طالبان سے وہ سب کچھ چاہتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں عوام کو میسر نہیں تاہم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی جیسا کہ خواتین کو ملازمتوں میں مناسب نمائندگی دینا، بچیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے جیسے اقدامات ممکن ہیں اور یقینی طور پر افغان طالبان اپنے وعدوں اور ارادوں کو پورا کریں گے جس کے لئے افغان طالبان پر حامی ممالک کی طرف سے دبائو بھی ہے۔ اس حقیقت میں تو اب کوئی دو رائے نہیں کہ افغان طالبان افغانستان کے کونے کونے میں پھیل چکے ہیں اور صرف کابل یا کسی مخصوص علاقے میں افغان طالبان نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ وسطی افغانستان کی طرح دوردراز علاقوں میں بھی اپنی عملداری قائم کر لی ہے تاہم دور دراز دیہی علاقوں میں قانون ہاتھ میں لینے کے جو واقعات رپورٹ ہوئے ان پر بھی طالبان قیادت کو سنجیدگی سے سر جوڑنا ہوگا کیونکہ طالبان کی قیادت و سیاست کا امتحان ابھی ختم نہیں بلکہ شروع ہوا ہے اور انہیں افغانستان اور افغان باشندوں سے اپنی محبت کے ساتھ اپنی اہلیت کا بھی عملی نمونہ پیش کرنا ہے

    جسے ایک نئی آزمائش اور نئی گیم کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں مغربی دنیا کو بھی اپنا مثبت رول ادا کرتے ہوئے افغان طالبان کی سرپرستی اور قیادت میں بننے والے نئے حکومتی سیٹ اپ کو بھرپور انداز میں سپورٹ کرنا ہوگا تاکہ دو دہائیوں پر محیط حالیہ خانہ جنگی کے بعد افغانستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور سالہا سال سے مہاجرین کی زندگی بسر کرنے والے افغان باشندے ایک پرامن اور خوشحال افغانستان میں زندگی بسر کر سکیں۔

  • کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    ایک طرف جہاں امریکا نے اتحادی افواج سمیت 31 اگست تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ جانے کا اعلان کیا ہے تو وہیں امریکا نے عراق سے بھی سال 2021 کے آخر تک اپنی افواج نکال کر عراق میں جنگی مشن ختم کرکے آئندہ صرف عراقی افواج کی تربیت،مشورہ سازی اور داعش کے خلاف درکار ضروری مدد فراہم کرنے تک محدود رہنے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی حکومت کا بھی دعوی ہے کہ عراقی افواج میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کر سکیں اس لئے عراق میں قیام امن کے لئے اب امریکی افواج کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم امریکا چاہے تو عراقی افواج کو انسداد دہشتگردی کی تربیت اور مشاورت میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ امریکا اور عراق اپریل 2021 میں امریکی فوج کے مشن کو تبدیل کرنے پر متفق ہوئے تھے اور تب یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکا اپنی افواج عراق سے نکال لے گا تاہم بعض وجوہات کی بناء پر اس وقت امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ درحقیقت عراق میں تعینات امریکی افواج کے مشن کی نوعیت تبدیل کی گئی ہے اور کوئی امریکی فوجی واپس نہیں بلایا جا رہا کیونکہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی ناگزیر سمجھتا ہے اور اس مقصد کے لئے امریکا نے تمام خلیجی ممالک میں اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ امریکا میں بعض لوگ امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کے حامی تو ضرور ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ امریکا کے ہاتھ سے عراق نکل جائے شاید اسی لئے امریکہ اپنے کچھ فوجی عراق میں موجود رکھنا چاہ رہا ہے تاہم یہ تعداد ابھی واضح نہیں۔

    بظاہر عراق میں امریکی فوجیوں اور ماہرین کے موجود رہنے کا مطلب یہی ہے کہ عراق میں امریکی مداخلت برقرار رہے گی۔ امریکی صدر جوبائیڈن سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اب مشرق وسطی سے اپنی افواج نکال کر چین اور روس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنے پر ذیادہ توجہ دینی چاہئے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان کی طرح عراق سے بھی امریکا اپنی افواج نکالنے پر مجبور ہوا ہے نہ کہ امریکا کو اپنے فوجی مشن میں کامیابی ملی ہے۔ سال 2003 میں عراق میں 1 لاکھ 60 ہزار امریکی اور ان کے اتحادی فوجی موجود تھے مگر اب یہ تعداد صرف 25 سو رہ گئی ہے جبکہ کچھ سپیشل فورسز بھی عراق میں موجود ہیں جو داعش کا مقابلہ کرنے میں مقامی افواج کی مدد کرتے ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی خاصی متنازعہ بن چکی ہے بالخصوص جنوری 2020 میں جب ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو عراقی ملیشیاء کے لیڈر ابو مہندی سمیت بغداد میں مارا گیا تو عراقی عوام نے امریکا کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ عراقی پارلیمںنٹ میں بھی قرارداد پاس کی گئی جس میں امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ سال 2003 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ذخیرہ کرنے اور عراق میں بین الاقوامی دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہونے کے الزامات لگاتے ہوئے امریکی فوج کے اتحادیوں سمیت عراق پر حملہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے یوں تو امریکی صدر جارج بش نے عراق کو امن کا گہوارہ بنانے کے بلند و بانگ دعوے کئے تھے مگر عراق پر امریکی یلغار کے بعد کشیدگی اور بدامنی میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا اور خانہ جنگی برپا ہو گئی

    عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے حق میں امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سول سوسائٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے جبکہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بھی عراق سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا یوں سال 2011 میں امریکی فوج عراق سے چلی گئی تاہم داعش کی طرف سے عراق کے کچھ شہروں پر قبضے کے بعد عراقی حکومت نے دوبارہ امریکا سے مدد طلب کی تو سال 2014 میں دوبارہ عراق میں امریکی فوج پہنچ گئی اسی تناظر میں اب بھی بعض حلقوں کا ماننا ہے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد عراق میں مختلف گروہوں کے مابین اقتدار کے لئے پانے جانے والے اختلافات خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ صورتحال امریکی افواج کے عراق میں مزید قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی امریکا اپنی افواج کے عراق سے انخلاء اور سالوں پر محیط عراق میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے یا پھر داعش سمیت دیگر شرپسند قوتوں کو جواز بنا کر خلیجی ممالک میں اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے کے لئے امریکی اور اتحادی افواج کی عراق سمیت دیگر خلیجی ممالک میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے نیا گیم پلان سامنے لایا جائے گا۔
    @MustansarPK

  • افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی رو سے امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں حکمرانی کے لئے افغان طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ چکی ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانوں کی بڑی تعداد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکی ہے تاہم اس بار جنگی جھڑپوں سے جان بچا کر دیگر ممالک میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کا رخ ماضی کے برعکس پاکستان کی طرف کم ہے اور وہ براستہ ایران، ترکی جانے کو ترجیح دے رہے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یورپی ممالک میں خاصی تشویش پائی جا رہی ہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد براستہ ایران ترکی پہنچ کر یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پھیل جائیگی اور یوں یورپ کو افغان مہاجرین کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں ہر روز 2 ہزار سے زائد افغان مہاجرین ترکی پہنچ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے براستہ ایران افغان مہاجرین کا ترکی پہنچنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 2016 میں شروع ہوا واضح رہے کہ افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے افغان مہاجرین کو قریب 3 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

    افغانستان سے ترکی پہنچنے والے افغان مہاجرین کی مشکلات کے حوالے سے جرمنی کی ایک تحقیقاتی تنظیم "فریڈرچ البرٹ فائونڈیشن” نے بتایا کہ ہزاروں افغان مہاجرین افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے بال بچوں اور خواتین سمیت انتہائی دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہیں، اس سفر کے دوران نہ تو ان کے پاس کھانے پینے کے کچھ ذیادہ اسباب موجود ہوتے ہیں نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کے لئے ضروری سامان ہمراہ ہوتا ہے۔اففانستان سے ترکی تک کا یہ دشوار گزار راستہ دراصل سمگلنگ کرنے والوں کی دریافت ہے۔ ان راستوں سے تجارت کی غرض سے مختلف اشیاء کی غیرقانونی نقل وحمل کی جاتی ہے اور سمگلرز نے اس راستے پر کئی مقامات پر ٹھکانے بھی بنا رکھے ہیں تاہم اس راستے پر حفاظتی انتظامات اب خاصے سخت کر دیئے گئے ہیں اور صرف انہی خاندانوں کو ایران سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن کے پاس افغانی پاسپورٹ اور ایران کا ویزہ موجود ہو۔ ترکی پہنچ کر یورپ میں پناہ لینے کے خواہشمند کچھ افغانی خاندان براستہ پاکستان بھی ایران میں داخل ہوتے ہیں مگر اس راستے پر سفری اخراجات کافی ذیادہ اٹھانے پڑتے ہیں اس لئے امیر افغانی خاندان ہی یہ راستہ اختیار کر پاتے ہیں۔ ترکی جانے والے افغان مہاجرین کی آخری منزل ترکی پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ وہ سمندری راستوں کے ذریعے یونان سے گزر کر یورپ کے دیگر ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاہم افغان مہاجرین کا یہ سفر خطرات سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ ترکی اور یونان کے درمیان سمندر عبور کرنے کے دوران کئی مہاجرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دسمبر 2020 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے مہاجرین کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین آباد ہیں۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ 1979 میں شروع ہوا اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران دس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ 1980 میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور انہیں امداد کی فراہمی کے لئے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کئے تھے۔ 1981 سے 1990 کے دوران پاکستان میں رجسٹرڈ ہونے والے افغان مہاجرین کی تعداد 20 لاکھ تھی جس میں صرف ایک سال یعنی سال 1990 کے دوران 12 لاکھ کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد 32 لاکھ تک جا پہنچی اور ایک محتاط اندازہ لگایا گیا کہ 5 لاکھ افغان مہاجرین بغیر رجسٹریشن کرائے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے پاکستان کے صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 334 مقامات پر مہاجرین کیمپ بنائے گئے۔ 1996 میں جب طالبان نے افغانستان کے علاقوں جلال آباد اور کابل کا کنٹرول حاصل کیا تو 50 ہزار افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے اسی طرح 1999 میں جب طالبان نے مزار شریف کا کنٹرول حاصل کیا تو تب بھی ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے جبکہ سال 2001 میں جب اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو ان دنوں میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لی۔

    افغان حکومت کی طرف سے معیشت کی بحالی، نقدی، ضروریات زندگی کی اشیاء اور سفری اخراجات کی ادائیگی پر سال 2002 سے سال 2007 کے درمیان 11 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے تاہم رضاکارانہ طور پر واپسی کا یہ عمل ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ جنگی صورتحال کے پیش نظر اب دوبارہ افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان میں داخلے کی خواہشمند ہے تاہم اب ماضی کی طرح بغیر سفری دستاویزات کوئی افغان مہاجر یا افغان مہاجرین کی آڑ میں کوئی شرپسند پاکستان داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ پاک افغان سرحد 2 ہزار 6 سو 40 کلومیٹر کے 90 فیصد حصے پر 13 فٹ بلند خاردار دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ پاک افغان سرحد کی جدید ترین آلات سے نگرانی کرنے کے ساتھ 100 مختلف مقامات پر چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے ساتھ شرپسندوں کی دراندازی کے واقعات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر افغان مہاجرین کو کئی چیلنجز درپیش ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کریں تاکہ دہائیوں پر محیط افغان مہاجرین کی صورت میں انسانی المیہ اور پڑوسی ممالک کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

  • مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    یوں تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر ہندو تسلط اور جبر کا آغاز 1925 سے ہی ہوگیا تھا جب 77 فیصد مسلم اکثریتی آبادی والے علاقے پر ہندو راجہ کو بطور حکمران مسلط کر دیا گیا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی سراپا احتجاج کشمیری مسلمانوں کی طرف سے آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا جس کو دبانے کے لئے 1930 سے لیکر آج تک ہندوئوں کی طرف سے نہتے اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم وستم کا ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرادادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کے ساتھ گذشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیری مسلمانوں کے لئے ہر دن مشکل ترین ثابت ہوا۔ بھارتی قابض فورسز کی طرف سے عورتوں کے ساتھ ذیادتی، کشمیری نوجوانوں کا قتل عام، پیلٹ گن کے ظالمانہ استعمال سے بچوں کو نابینا کیا جانا اور بوڑھوں کی بے حرمتی تو معمول کی بات تھی ہی تاہم گذشتہ دو سالوں کے دوران جس طرح مودی سرکار نے کشمیری مسلمانوں کو اذیت اور دکھ درد میں مبتلا کررکھا ہے اسکی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ دنیا کے مہذب معاشرے تو اپنی حکومتوں کی طرف سے کورونا وائرس کے پیش نظر 2020 کے اوائل میں لاک ڈائون کا شکار ہوئے تاہم کشمیری مسلمان جہاں ایک طرف اگست 2019 سے مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش، ہسپتالوں کی بندش، انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں سمیت لاک ڈائون کا شکار تھے تو وہیں کورونا وبا کے پیش نظر لگائے جانیوالے لاک ڈائون کی وجہ سے مظلوم کشمیری دوہری پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی پہلے ہی کمی تھی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 ہزار 8 سو 66 شہریوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر تعینات تھا جبکہ دوسری طرف مودی سرکار کی طرف سے کشمیریوں کی زندگی مشکل بنانے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لئے 14 لوگوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 18 مارچ 2020 کو سامنے آیا جب ایک خاتون میں مہلک وائرس کی موجودگی پائی گئی جس کے بعد سے اب تک کورونا وائرس کے 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد کیس سامنے آچکے ہیں جبکہ 43 سو سے زائد اموات بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ ذرائع آمدورفت اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث جہاں عام شہریوں، ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کورونا وبا سے بچائو کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا۔ کورونا وبا کے دوران جہاں دنیا کے باقی ممالک میں صحت کے حوالے سے جدید ترین سہولیات کی فراہمی پر کام کی رفتار کو تیز تر کر دیا گیا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات ہی نہ ہونے کے برابر تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 27 ہزار مریضوں کے لئے اوسطا ایک انتہائی نگہداشت کا بیڈ فراہم تھا جبکہ مقبوضہ وادی کے صرف ایک ضلع میں چار لاکھ مریضوں کے لئے 6 وینٹی لیٹرز فراہم کئے گئے تاہم طبی عملہ تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ وینٹی لیٹرز بھی استعمال میں نہ لائے جا سکے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر جب بھارت میں صورتحال تشویش ناک ہوئی تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو آکسیجن گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی جس کا خمیازہ مظلوم کشمیریوں کو ہی بھگتنا پڑا۔ کورونا وائرس نے پہلے سے تباہ حال مقبوضہ وادی کی معیشت کو بھی بری طرح متاثر کیا،

    لاک ڈائون، کرفیو، ذرائع آمدو رفت کی بندش کے باعث مقبوضہ وادی میں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہی جس کا براہ راست منفی اثر عام کشمیریوں کی معاشی حالت پر پڑا۔ اعداد وشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2020 صرف 525 سیاحوں نے مقبوضہ وادی کا رخ کیا جبکہ اگست اور ستمبر 2019 میں 14 ہزار 6 سو سیاح جنت نظیر وادی پہنچے یاد رہے کہ یہ تعداد سال 2018 کے مقابلے میں 90 فیصد کم ہے۔ کورونا وبا کے دوران جہاں باقی دنیا میں بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے آنلائن کلاسز کا سلسلہ شروع ہوا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش اور مخصوص علاقوں میں صرف 2G انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے باعث جہاں آنلائن کلاسز کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں رہ سکیں وہیں "ورک فرام ہوم” کی سہولت سے بھی عام کشمیری محروم رہے۔ مظلوم کشمیریوں کے لئے کورونا لاک ڈائون کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ آزادی کے متوالے کشمیری مسلمان گذشتہ سات دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر سہہ رہے ہیں تاہم ہر کشمیری نوجوان، بوڑھے، بچے اور خاتون کا حوصلہ ماند نہیں پڑا۔ کشمیری مسلمان آج بھی پر امید ہیں کہ کل کا سورج آزادی کی نوید لیکر طلوع ہو گا اور انہیں بھارتی تسلط سے جلد نجات ملے گی۔

    @MustansarPK

  • جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    اکیسویں صدی کے اوائل میں جب امریکا اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ آور ہوا تو دہستگردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا کے اتحادی کے طور پر سب سے ذیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکی افواج کے اتحادی کے طور پر فرنٹ رول کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیاتو بالخصوص افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع کے ساتھ خیبرپختونخوا کے بندوبستی اضلاع بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں آگئے، اور یوں پاکستان کو دو دہائیوں کے دوران اربوں روپے کے مالی نقصان کے علاوہ ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی بھی دینا پڑی۔ قوم کو دہشتگردی کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں نے بھی کم وسائل کے باوجود گراں قدر قربانیاں دیتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جب بھی خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ڈیرہ اسماعیل خان بم ڈسپوزل یونٹ کے انچارج عنائیت اللہ ٹائیگر کا نام ہمت، حوصلے اور جذبہ حب الوطنی کی زندہ مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
    ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی عنایت اللہ نے 1998 میں بطور کانسٹیبل خیبرپختونخوا پولیس جائن کی جبکہ سال 2000 میں بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن گئے، عنایت اللہ نے اپنے کیریئر کا پہلا بم سال 2001 میں ناکارہ بنایا 21 سال کے اس مشکل اور کٹھن میں متعدد بار عنایت اللہ زخمی بھی ہوئے مگر کسی بھی موقع پر عنایت اللہ ٹائیگر کا حوصلہ پست ہوا نہ ہی بم ناکارہ بناتے وقت کبھی زخمی ہاتھوں میں کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔
    عنایت اللہ ٹائیگر نے جب بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن کر کام شروع کیا تو ایک موٹر سائیکل، بیگ میں موجود ایک خنجر، پستول اور بارودی مواد کے ساتھ جڑی تاریں کاٹنے کے لئے ایک کٹر، ان اوزاروں کے سہارے محض جذبہ ایمانی ، شوق شہادت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر مختصر عرصہ میں 150 سے زائد مختلف اقسام کے بم ناکارہ بنا ڈالے یہی وجہ تھی کہ بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے ستائے ڈیرہ اسماعیل کے باسیوں نے عنایت اللہ کو نہ صرف ایک مسیحا اور ہیرو کے طور پر جانا بلکہ انکی جاں فشانی کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "ٹائیگر” کے ٹائٹل سے بھی نواز دیا۔
    اکیس سال کے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر مختلف نوعیت کے 3 ہزار سے زائد بموں، خود کش جیکٹس ، راکٹ لانچرز، دستی بموں اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    اپنے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر ہمیشہ سے ہی شرپسندوں کے نشانے پر رہے اور متعدد بار زخمی بھی ہوئے۔سال 2012 میں پیش آنے والے ایک حادثہ کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر کا بایاں بازو بری طرح متاثر ہوا جبکہ سال 2014 کے دوران ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں عنایت اللہ ٹائیگر کی ٹانگ کٹ گئی مگر عنایت اللہ ٹائیگر عزم و ہمت کے ساتھ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ آج بھی اپنے ہم وطنوں کی جانوں کے تحفظ میں پیش پیش رہتے ہیں۔
    ۔
    سال 2014 میں شدید زخمی ہونے کے باوجود عنایت اللہ ٹائیگر نے کبھی اپنی مصنوعی ٹانگ کو فرض کی ادائیگی میں آڑے نہیں آنے دیا اور صحت مند ہوتے ہی دو مہینے کی سخت فزیکل ٹریننگ کے بعد دوبارہ ناصرف بم ڈسپوزل سکواڈ جائن کیا بلکہ سال 2014 سے اب تک 82 بم ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    عنایت اللہ ٹائیگر لگن، تجربے اور مہارت کے باعث خیبر پختونخوا پولیس میں ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں، عنایت ٹائیگر کو مخصوص صورتحال کے پیش نظر نہ صرف خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی اداروں اور یونیورسٹیز میں لیکچرز کے لئے مدعو کیا جاتا ہے بلکہ دیگر صوبوں میں بھی بم ڈسپوزل اہلکار عنایت اللہ ٹائیگر کے تجربے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    ملک وقوم کی عظیم خدمات کے اعتراف میں عنایت اللہ ٹائیگر کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پانچ لاکھ روپے نقد جبکہ حکومت کی طرف سے صدارتی تمغہ شجاعت سےبھی نوازا گیا تاہم عنایت اللہ ٹائیگر کا کہنا ہے کہ ہم وطنوں کی طرف سے ملنے والی محبت، دعائیں اور پیار اس کے لئے سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے ساتھ پاکستان کی معاشی ترقی اور تجارت کا مرکز بھی ہے۔ بلوچستان کو قدرت نے محنتی اور جفاکش شہریوں سے بھی نوازا ہے جو پاکستان کا اثاثہ ہیں۔
    مقامی بلوچ رہنمائوں، منتخب حکومت اور افواج پاکستان بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خوشحالی لا کر بلوچستان کے عام شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مربوط حکمت عملی کے ساتھ بلوچستان کے لئے ترقیاتی پیکیج تیار کیا ہے اور اس امر کو یقینی بنیایا گیا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد تک اس ترقیاتی پیکیج کے ثمرات پہنچیں۔
    حکومت بلوچستان کے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے 16 ڈیم تعمیر کرے گی جبکہ زیتون کا ایک پروسیسنگ یونٹ اور تین پروسیسنگ یونٹ کھجور کے لئے بنائے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ مقامی کاشتکاروں کو زیتون اور کھجور کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
    کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی اور قیام امن تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور بلوچستان کے بچوں کو حصول تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے چھ لاکھ چالیس ہزار بچوں کو فاصلاتی تعلیم دی جائے گی اور وہ بڑے شہروں میں اساتذہ سے منسلک ہوں گے۔ وسیلہ التلیم پروگرام کے تحت 83،000 بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی جبکہ حکومت کی طرف سے لڑکوں کے لئے ماہانہ وظیفہ 1500 روپے اور لڑکیوں کے لئے 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے بلوچستان کے 35 ہزار نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرکے معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے ساتھ انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ میں تمام جدید سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی ہے جس کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں پانچ ڈیجیٹل لائبریریوں کا دوسرا مرحلہ قائم کیا جائے گا۔
    بلوچستان کے لئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج کے مطابق علاقے کی 57 فیصد آبادی کو بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ اب تک صرف 12 فیصد شہریوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے۔ شہریوں کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لئے 3،083 کلومیٹر طویل سڑک کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن پر کام کا آغاز موجودہ مالی سال کے دوران کیا جائے گا۔

    عوام کو صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے بلوچستان بھر میں 200 صحت مراکز کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو صحت نشونما پروگرام کے تحت صحت بخش خوراک مہیا کی جارہی ہے۔
    نہ صرف بلوچستان بلکہ خطے کی معاشی خوشحالی کا مرکز سمجھے جانے والے گوادر کی ترقی ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہے جس کے لئے اولڈ سٹی ٹاؤن میں طویل مدتی نکاسی آب کے نظام، پانی کی فراہمی اور طویل مدتی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ مقامی آبادی کے دیرینہ مسائل کا خاتمہ ہونے کے ساتھ انہیں دور جدید کی تمام تر سہولیات میسر آ سکیں۔ صحت مند معاشرے کو فروغ دینے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لئے صوبائی محکمہ کھیل اور ثقافت صوبہ بھر میں 33 اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔بلاشبہ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کی تعمیر وترقی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا رہا بلکہ بلوچستان ترقی کی دوڑ میں بھی خاصا پیچھے رہا مگر دیر آید درست آید کے مصداق موجودہ حکومت کی طرف سے بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنا کر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی سنجیدہ کوششیں قابل تعریف ہیں۔

  • تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    پانی قدرت کے خزانوں میں سے انسان کے لئے ایک نعمت ہونے کے ساتھ کرہ ارض پر زندگی کے وجود کے لئے بھی لازمی ہے مگر بدقسمتی سے دنیا بھر پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

    پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں جہاں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ماضی میں سیاسی اختلافات اور اس اہم ترین مسئلے پر قابو پانے کے لئے فنڈز مختص نہ کئے جانے کے باعث نئے ڈیمز تعمیر کرنے کا معاملہ ہمیشہ التوا کا شکار رہا اور یوں گلیشیرز کے تیزی سے پگھلائو کی وجہ سے پانی کی ایک بڑی مقدار ذخیرہ نہ ہونے کے باعث سمندر کی نظر ہو کر ضائع ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ سالہا سال سے چلا آرہا ہے مگر کسی بھی دور حکومت میں مستقل بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔کسی بھی حکومت نے اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ صوبائی سطح پر منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ہاں کوئی مستقل پالیسی پانی کی تقسیم کے حوالے سے موجود نہیں اگر واٹر منیجمنٹ کے حوالے سےسائنسی بنیادوں پر کوئی طریقہ کار موجود ہوتا توصوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازعہ کبھی سر نہیں اٹھاتا مگر ماضی کی طرح کچھ دنوں سے سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر تنازعہ میں شدت آئی ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کے ذخائر بڑھانے کے لئے نہ صرف نئے ڈیمز کی تعمیر کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہےبلکہ وزیراعظم عمران خان صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے تنازعہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بھی کمر بستہ ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم تمام صوبوں کو پانی کی تقسیم کے طریقہ کار کے حوالے سے ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں، وفاقی حکومت تمام صوبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے، وزیراعظم عمران خان ان دس سالوں کو نئے ڈیمز تعمیر کرنے کی دہائی قرار دے چکے ہیں اور حکومت اگلے دس سالوں میں 13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
    حکومتی ذرائع کے مطابق گذشتہ ماہ اپریل کے دوران پنجاب میں پانی کی قلت45 فیصد اور سندھ میں 9 فیصد تھی جبکہ ان دنوں پنجاب کو 22 فیصد اور سندھ کو 17فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔پنجاب میں 2 فیصد پانی کوہ سلیمان سے شامل ہو کر بڑھا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ایک مرتبہ پھرپانی کی فراہمی کے حوالے سے سندھ حکومت کو شدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان کو پٹ فیڈر کینال سے 7600 کیوسک پانی ملنا چاہئے مگر سندھ کی جانب سے تقریباً 6 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے اسی طرح کیر تھر کینال سے 2400 کیوسک کے بجائے 1800 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے بلوچستان حکومت کے مطابق حالیہ دنوں سندھ کی جانب سے ان دونوں نہروں میں 55 فیصد پانی کم چھوڑا جارہا ہے۔حکومت بلوچستان ذرائع نے بتایا کہ پانی کی کمی کے باعث حالیہ صورتحال میں سندھ سے ملحق بلوچستان کے زرعی علاقوں میں 76 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہونے کا خطرہ ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے پانی چوری کا معاملہ سندھ حکومت اور مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی تقسیم کے فارمولے کو منصفانہ بنایا جائے، صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے لئے جدید آلات نصب کئے جائیں تاکہ کسی بھی صوبے کی عوام کے حقوق پامال نہ ہوں پانی کی نگرانی کا نظام آن لائن کیا جانا چاہئے تاکہ حقائق پر مبنی ڈیٹا ہمیشہ دستیاب ہو جبکہ تمام صوبوں میں بڑے ڈیمز کی تعمیراور زیر تعمیر ڈیمز کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان میں زراعت کے شعبے میں ترقی آسکے۔ پانی کو بچانے اور اس نعمت خدا وندی کے بہترین استعمال کے لئے ہمیں پانی کے استعمال میں جدت لانے کی بھی ضرورت ہے، کچے نالوں،گڑھوں اور نہروں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کی آبپاشی میں پانی خاصی مقدار میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمیں پانی کو ری سائیکل کرنے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے تاکہ فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنائے جانے کے ساتھ سیوریج کا گندا پانی فصلوں میں شامل ہو کر انہیں آلودہ نہ بنائے۔ ہمیں اپنے کاشتکاروں کو جدید آبپاشی کے نظام سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کم پانی سے بہتر اور زیادہ فصلیں اگائیں۔ پانی کے ضیاع کو روکنےاور اس کی اہمیت اجاگر کرنے کے حوالے سے عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ پانی استعمال نہ کریں۔ ہمیں اپنے پانی کے ذخیرہ میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے پاس 190 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے ان حقائق کی بنیاد پر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی بنا کر عملدرآمد یقینی نہ بنایا گیا تو آنے والے سالوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں قحط کی تباہ کاریوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔