Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • شادی کے خواہشمند 39 سالہ شخص کو لگایا دلہن کے روپ میں "مرد” نے 21 لاکھ کا "ٹیکہ”

    شادی کے خواہشمند 39 سالہ شخص کو لگایا دلہن کے روپ میں "مرد” نے 21 لاکھ کا "ٹیکہ”

    شادی کے خواہشمند 39 سالہ شخص کو لگایا دلہن کے روپ میں "مرد” نے 21 لاکھ کا "ٹیکہ”

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شادی کے خواہشمند 39 سالہ شخص نے آن لائن رشتے کے لئے اشتہار دیا تو اسے ایک نوجوان نے لڑکی بن کر لوٹ لیا ، واقعہ بھارت کا ہے، چنئی میں 39 سالہ شخص کو رشتہ نہیں مل رہا تھا، اسکے والد نے آن لائن شادی کی ویب سائٹ پر شادی کا اشتہار دے دیا، جس پر ایک نوسرباز نے رابطہ کیا، اس نے اپنے آپ کو لڑکی بتایا ،اور کہا کہ وہ شادی کرنا چاہتی ہے، ایک ہفتہ بات چیت کے بعد اس نوسرباز لڑکے نے فون کر کے شادی کے خواہشمند شخص کوکہا کہ اسکی والدہ بیمار ہے اور اسکا علاج ہسپتال میں ہو رہا ہے،علاج کے لئے 21 لاکھ روپے فوری ضرورت ہین، شادی کے خواہشمند دولہا نے بغیر کسی تصدیق کے اس شخص کو اپنی ہونے والی بیوی سمجھ کر پیسے بھجوا دیئے

    کچھ دن بعد اس نوسرباز نے پھر پیسوں کی ڈیمانڈ کی، جس پر 39 سالہ دولہا کے والد کو شک گزار، اس نے پولیس کو اطلاع دی، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کیا اور ملزم کو گرفتار کر لیا، ملزم کے بارے میں انکشاف ہوا کہ وہ اس طرح کئی افراد کو لوٹ چکا ہے اور ہر بار واردات کرنے کے بعد وہ علاقہ بدل لیتا ہے، پولیس نےدتاتری سری نواسن کو گرفتارکیا، پولیس کے مطابق ملزم کے فون سے کئی لڑکوں کے نمبر ملے ہیں جنہیں وہ لوٹ چکا ہے

    کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر عوامی راج پارٹی کے سربراہ ،سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے خلاف مقدمہ درج 

    گرفتاری کے بعد جمشید دستی بھی ہو گئے بیمار، کونسی بیماری؟

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

  • یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پی ٹی آئی کی باقیوں کی نسبت کچھ چینخیں زیادہ نکل رہی ہیں ۔ کیونکہ جو اسکینڈل بشری بی بی یا فرح گوگی یا عثمان بزدار کے زبان زد عام ہیں ۔ اس نے عمران خان کے صادق وامین ہونے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ جب سے گینگ آف بنی گالا سامنے آیا ہے ۔ ان کی وردات اور دیہاڑیاں سامنے آئی ہیں ۔ ماضی کے مسٹر ٹین پرسنٹ ، سسلین مافیا اور گاڈ فادر بہت چھوٹے لگنے لگے ہیں ۔ ‏عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کو اینٹی کرپشن پنجاب نے سرکاری منصوبوں میں رشوت لینے کے الزام میں طلب کر لیا گیا ہے۔بشریٰ بی بی کے بھائی کو سرکاری زمین پرقبضےکے الزام میں اینٹی کرپشن نے طلب کرلیا

    اینٹی کرپشن کی عثمان بزدار کے ماموں کیخلاف تحقیقات

    فرح گوگی کو 10 ایکڑ پلاٹ کی غیرقانونی الاٹمنٹ، 2 افراد گرفتار

    عثمان بزدار کے چار بھائیوں نے اینٹی کرپشن عدالت سے عبوری ضمانت کرالی

    ۔ اب اس کا حل تحریک انصاف نے یہ نکالا ہے کہ سوشل میڈیا اتنا گند اچھالا جائے ۔ مخالفین سمیت کسی ادارے کو نہ چھوڑا جائے ۔ اس کا ایک ثبوت تو ہم بشری بی بی اور ڈاکٹر ارسلان کی لیک آڈیو میں سن ہی چکے ہیں ۔ کہ غداری کا تمغہ بانٹو ۔۔۔ ۔ عمران خان اس ہی فارمولے پر لگے ہوئے ہیں کہ سوشل میڈیا کی مدد سے منٹوں میں سچا جھوٹا اور جھوٹا سچا بن جائے ۔ مگر یہ زیادہ دیر تک نہیں چلنا ۔ کیونکہ ایسے ہی آڈیوز یا ویڈیو منظر عام پر آتی رہیں تو ان کا دفاع ممکن نہیں ہے ۔ اس بشری بی بی والے ایپی سوڈ میں بھی غور کریں تو پہلے کہا گیا کہ یہ فیک ہے ۔ پھر شیریں مزاری نے پوری پریس کانفرنس کرڈالی کہ کسی کا فون ٹیپ کرنا جرم ہے خاص طور پر وزیر اعظم کا ۔ اس سے ایک چیز تو ثابت ہوگئی ہے کہ یہ آڈیو اصلی ہے ۔ اور جو چیزیں مستقبل قریب میں منظر عام پر آنے والی ہیں وہ بھی اوریجنل ہی ہوں گی ۔ پر کیوںکہ دھندہ ہے اب چاہے یہ گندا ہی ہو۔ یہ گینگ ایسے ہی چلتا تو رہے گا ۔ کم ازکم اپنی اپنی جان بچانے کے لیے بشری بی بی ، عثمان بزدار ، فرح گجر اور احسن جمیل کے ایک دوسرے کے ہمدرد ہی رہیں ۔ سب سے بڑھ کر اس گینگ کے سربراہ عمران خان عزت و شہرت کیا ان چیلوں کی جان بچانے کی خاطر پوری پارٹی بھی قربان کرسکتے ہیں ۔

    کیونکہ لالچ ، ہوس ، حرص جب دماغ پر سوار ہوجائیں ، تو کچھ بھی ممکن ہے ؟؟؟

    ۔ اسی لیے یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی سے شادی کیوں کی ؟؟؟ کیونکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں یہ بات بہت ہی انہونی معلوم ہوتی ہے کہ ایک عورت جس کے بچے جوان اور وہ اپنے شوہر سے خوش اسلوبی سے طلاق لے اور پھر کسی دوسرے بندے سے شادی کر لے ۔ پر اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔

    ۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ء
    کو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

    ۔ پھر آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید کو بتایا .مجھے بشارت ہوئی ہے کہ تم خاوند سے طلاق لے کر عمران خان کے ساتھ شادی کر لو۔ شادی کے بعد عمران خان کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ یہ وزیراعظم بن جائیں گے اور پاکستان کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا اورخاوند نے پاکستان کے سنہرے دور کےلئے اپنی 30 سالہ رفاقت توڑ دی۔ ۔ پھر وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ خاور فرید مانیکا کا بھی فرمانا ہے کہ ہماری طلاق کی وجہ ناچاقی نہیں تھی کوئی روحانی ایشو تھا۔ ہم اس اعتراف کو خواب یا بشارت کی تصدیق سمجھ سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان نے کیا ترقی کرنی تھی ۔ مانیکا خاندان ، گجر خاندان اور بزدار خاندان کی تمام محرومیاں دور ہوگئی ہیں اور اب عمران خان کا اصل خاندان یہ ہی بشری ، فرح ، بزدار ، گجر اور مانیکا گینگ ہی ہے ۔ کیونکہ آج تک عمران خان نے اپنی علیمہ باجی کو ڈیفنڈ نہیں کیا مگر فرح گجر پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔ اور بشری بی بی کی خاطر تو پورا ایک قانون لانے کو تلے بیٹھے تھے ۔ کہ کوئی ان کے بارے بات نہ کرسکے ۔

  • کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کل رات گئے جو عمران خان نے پشاور میں پاور شو کیا ہے کتنی تھی کتنی نہیں تھی اس بحث سے ہٹ کر ایک اچھی تعداد تھی اور بڑا جلسہ تھا اس چیز کو ماننا چاہیے مگر اس میں صوبائی حکومت کے وسائل کا بھی بے دریغ استعمال ہوا ۔ محمود خان خود سارے انتظام وانصرام دیکھتے رہے ۔ ۔ مگر عمران خان نے کچھ باتیں کیں جن کے بارے حقائق جاننا بہت ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی بے غیرت حکومت کو نہیں مانتے، وہ اپنے غیرت مند عوام کو بے غیرتوں کے خلاف کھڑا کریں گے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ اس سلسلے میں کپتان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کیونکہ فی الحال تو کپتان کے اپنے حواری ملک سے بھاگے ہوئے ہیں بھاگنے کی تیاری میں ہیں ۔ فرخ گجر سے لے کر زلفی بخاری کے کارنامے قوم کو زبانی یاد ہوگئے ہیں ۔ اس سلسلے میں لطفیے تک چلانا شروع گئے ہیں کہ کپتان آخری "گھڑی” تک "ہار” نہیں مانوں گا ۔ اس میں گھڑی محمد بن سلمان والی ہے اور ہار توشہ خانے والا ہے ۔

    پھر کپتان نے کہا کہا کہ جو بھی یہ سوچتا تھا کہ باہر سے امریکہ کی امپورٹڈ حکومت یہ قوم تسلیم کرلے گی تو کو ساری قوم نے سڑکوں پر نکل کر بتایا ہے کہ انہیں امپورٹڈ حکومت منظور نہیں ہے۔۔ مگر اس سلسلے میں حقائق یہ ہیں کہ دنیا تواس حکومت تسلیم کر رہی ہے چین روس ، یورپ اور مشرق وسطی کے بردار اسلامی ممالک سمیت ترکی ہر طرف سے مبارکبادیں آرہی ہیں ۔ سب شہباز شریف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور جو گرم جوشی چین دیکھارہا ہے اس سے تو تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سی پیک کو چلانے میں سریس نہیں تھی ۔ ۔ پھر عمران خان نے شہباز شریف کے خلاف40 ارب روپے کے کرپشن کے کیسز ہیں، ہم اس کو اپنا وزیر اعظم نہیں مانیں گے۔ ۔ اب یہ بات ہی بچوں والی ہے ۔ اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے مترادف ہے ۔ آپ دیکھیں کہ چیئرمین نیب تو انھوں نے ایک ویڈیو جاری کرکے قابو کیا ہوا تھا ۔ نیب میں یہ کچھ ابھی تک ثابت نہیں کرسکے ہیں صرف شہباز شریف نے باقیوں جیسے پیپلز پارٹی والوں کے خلاف بھی ۔ پھر شہباز شریف کے حوالے سے کپتان کو چاہیے کہ وہ شہزاد اکبر کو کٹہرے میں لائیں کیونکہ براڈشیٹ والی مثال ہمارے سامنے ہے کہ قوم کے ٹیکس کا پیسہ بھی ضائع ہوا ۔ الٹا برطانیہ کی عدالتوں سے شہباز شریف کو کلین چیٹ ملی ۔

    ۔ پھر عمران خان نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں چھ کروڑ سمارٹ فون ہیں، ہمارے نوجوانوں کے منہ کوئی بند نہیں کرسکتا، شہباز شریف ہمارے نوجوانوں کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں، کان کھول کر سن لیں ، جس دن ہم نے کال دے دی تو تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔۔ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف کی کال پریہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے یہ اداروں کے خلاف جو بھونڈی کمپین چلائی جا رہی تھی اس کا قلع قمع ہورہا ہے ۔ جس میں کبھی جنرل مرزا اسلم بیگ کی فیک آڈیو وائرل کرکے اداروں کو بدنام کیا جاتا ہے تو کبھی یہ افواہیں وائرل کی جاتی ہیں کہ جرنیلوں کے درمیان عمران خان کو لے کر اختلافات ہوگئے ہیں ۔ فوج ایک ڈسپلن ادارہ سب ڈسپلن کے پابند ہیں ۔ ایسے پراپیگنڈے کرواکر یہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔ ابھی بھی پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا کے زریعے خوب جھوٹ اور پراپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں ۔ جب یہ لوگ پکڑے گئے تو یہ بھی پراپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ ان کی جماعت کے نہیں یہ ٹی ایل پی کے لوگ اداروں نے پکڑے ہیں ۔ جس کی ٹی ایل پی نے سختی سے تردید کی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے نے بارہ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جب کہ نو ملزمان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ اگر عمران خان کو لگتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے تو قانون جنگ لڑیں عدالتیں کھولی ہوئی ہیں ۔

    پھر عمران خان نے نیوکلیئر پروگرام کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کے اداروں سے سوال پوچھا۔ کہ تمہارا نیوکلیئر پروگرام ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے، تم ان چوروں کے ہاتھوں میں ہماری سالمیت دے رہے ہو، کیا تمہیں خوفِ خدا نہیں ہے۔۔ تو اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ نیوکلیئر پروگرام کسی ادارے کا نہیں اس ملک وقوم کا ہے ۔ پھر اس نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد بھٹو نے رکھی تھی ۔ جب اس نے کہا تھا کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے ۔ جس کی پاداش میں اس کو سولی پر چڑھنا پڑھا تھا ۔ اسکے بعد ضیاالحق اس کو لے کر آگے بڑھے ان کا طیارہ کریش ہوگیا مگر وہ اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ اس کے بعد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تھے جس کی پاداش میں ان کو اپنے خاندان سمیت جلاوطنی کاٹنی پڑی ۔ پھر میزائل پروگرام کی بنیاد بے نظیر بھٹو نے رکھی ۔ ساتھ ہی گزشتہ پینتالیس سالوں سے یہ ہی دو جماعتیں اور ادارے نیو کلیئر پروگرام کی حفاظت بھی کررہے ہیں اور اس کو آگے بھی بڑھا رہے ہیں ۔ تو عمران خان کو بتاتا چلوں کہ یہ جھوٹ کسی کو بتائیں یا سمجھائیں ۔ یہ بات کرکے دراصل عمران خان نے اداروں کو ٹینشن دینے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں پیغام جائے کہ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ۔ یہ اپنی سیاست کی خاطر ملک کے ساتھ دشمنی پر اتر آئے ہیں ۔

    پھر کپتان نے کہا کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوجاتا ہم نے سڑکوں پر رہنا ہے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ سوال یہ ہے کہ اتنی ہی زور کا الیکشن آیا ہوا تھا تو تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی اسمبلیاں توڑ کر الیکشن کروادیتے۔ تب تو اپوزیشن کا مطالبہ بھی تھا کہ الیکشن کراو۔ اس وقت آپشن تھی ۔ اب وقت گزر چکا ہے ۔ ۔ پھر عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ججز سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کو عدالتیں لگائی گئیں۔۔ یہ بہت ہی گندی عادت ہے عمران خان کی یہ ہر کسی کو متنازعہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ اس حوالے سے بڑا واضح ہے کہ جب عدالتی احکامات کو نہیں مانیں گے ۔ جب آپ آئین کو توڑیں گے ۔ جب آپ ایک فاشسٹ جماعت کی طرح کہیں گے کہ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرواں گا تو پھر عدالت نے تو اپنے حکم پر عمل درآمد کے لیے کھولنا ہی تھا ۔ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک آئین وقانون کے تحت چلتا ہے ۔ ان کی مرضی منشا اور خواہشات کے تحت نہیں ۔

    پھر کپتان نے سفید جھوٹ بولا کہ مجھے یہ قوم 45 سال سے جانتی ہے، میں نے کبھی قانون نہیں توڑا، حالانکہ پی ٹی وی حملہ کیس سب کو یاد ہے ۔ بجلی کے بل جو جلائے گئے وہ بھی ہم کو یاد ہے ۔ ۔ عمران خان نے اس بار بڑی غلطی کر دی ہے اور اداروں سمیت ہر کسی سے پنگا لے لیا ہے جس کا خمیازہ ان کو لازمی بھگتنا پڑے گا ۔ اس حوالے سے آنے والے دنوں میں آپ کو بہت کچھ صاف دیکھائی دے گا۔ ۔ کیونکہ عمران خان اپنی سیاست کی خاطر لوگوں کی عزتیں اچھالنے اور ہر طرح کے گھناونا کھیل کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ جو سیاست میں تشدد اور نفرت کابیچ عمران خان بو رہے ہیں اس کا رزلٹ ملے گا ۔ ابھی تو کپتان حملے کر رہے ہیں جب مخالفین کریں گے تو تب پتہ چلے گا کہ کپتان کا عزم کتنا کو پختہ ہے ۔

  • سرپرائیز کون دے گا، کپتان یا اپوزیشن، تحریر: نوید شیخ

    سرپرائیز کون دے گا، کپتان یا اپوزیشن، تحریر: نوید شیخ

    اوآئی سی کا اجلاس اور یوم پاکستان پریڈ ختم ہوگی تو سیاست کی گاڑی پھر سے چوتھے گیئر میں چلنا شروع ہوجائے گی ۔ بالکل ویسا ہی ہوا ہے ۔

    ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ، عمران خان ، چوہدری نثار ، مریم نواز ، بلاول بھٹو، عثمان بزدار ، آصف زرداری ، فضل الرحمان ، پرویز الہی ، علیم خان ، جہانگیر ترین، جنرل فیض حمید، نواز شریف ، عامر لیاقت ، خالد مقبول صدیقی، جسٹس قاضی فائز عیسی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے منسوب خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں ۔ بھانت بھانت کے تجزیہ اور پیشن گوئیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ ہر کوئی اس وقت جاننا کی تگ ودو میں لگا ہوا ہے کہ ۔ حکومت جا رہی ہے کہ نہیں ۔
    ۔ اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں کہ نہیں ۔۔ منحرف اراکین اپوزیشن کے ساتھ ہی ہیں کہ نہیں ۔ ۔ قبل ازوقت الیکشن ہورہے ہیں کہ نہیں ۔۔ اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہے کہ نہیں ۔

    ۔ سب سے پہلے فوج کی بات کریں تو آج ایک بار پھر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نیوٹرل ہیں ۔ ۔ فوج مداخلت کرے تو بھی نہ کرے تو بھی برا بھلا سننے کو ملتا ہے، نوجوان سوشل میڈیا کی طرف نہ دیکھیں،جو چیزیں آرہی ہیں، وہ حوصلہ افزاءنہیں، یہ بڑی تباہی ہے،ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ آپ آرمی چیف اور پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگائیں بلکہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں، سندھ اور بلوچستان کے لوگ انہیں ووٹ دیں جو ترقی چاہتے ہیں، بار بار ایک ہی طرح کے لوگوں کو ووٹ دیں گے تو مسائل کس طرح حل ہوں گے؟ ۔ میڈیا کے لوگوں کے استفسار پر ان کاکہناتھاکہ گھبرائیں نہیں، کچھ ایسا نہیں ہوگا جس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں ۔ وہ یوم پاکستان کی پریڈ کے اختتام کے موقع پر میڈیا اورسندھ، بلوچستان اور فاٹا کے نوجوانوں سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے۔ پھر ڈان نیوز کے مطابق انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آنیوالے دنوں میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اگلا آرمی چیف فاٹا اور بلوچستان سے بھی ہو۔

    ۔ آخر میں انھوں نے پھر دہرایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ منتخب نمائندے ہی فیصلہ کریں کہ اس ملک کے لیے کیا بہتر ہے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ تو جو خبر آج انصار عباسی نے دی تھی جس کا صبح سے بہت چرچا چل رہا تھا ۔ اس بیان کے بعد چیزیں بالکل واضح ہوگئی ہیں کہ فوج کسی بھی معاملے میں کوئی بھی اور کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ پھر عمران خان نے خود بھی آج کہہ دیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی شہباز شریف کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں ۔ یوں اب یہ تمام معاملہ ٹیبل کی بجائے عدالتوں اور سڑکوں پر ہی جاتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پھر جو آج کی دوسری سب سے بڑی خبر سامنے آئی ہے وہ وزیر اعظم عمران خان کا بیان ہے ۔ جس پر میں اپنے گزشتہ وی لاگ میں تفصیل سے بات کرچکا ہوں مگر اب اس حوالے سے کچھ پیش رفت سامنے آگئی ہے جو آپ کے سامنے رکھنا ضروری ہے ۔۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں چوہدری نثار سے ملاقات کی بات کی تھی لیکن اب رپورٹ ہوگیا ہے کہ چوہدری نثار نے ماضی قریب میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تردید کی ہے ۔ یہ ملاقات کچھ عرصہ پہلے نہیں بلکہ ساڑھے تین سال پہلے ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ وفاق میں ہے نہ کہ پنجاب میں ۔۔۔ یاد رکھیں چوہدری نثار ایم این اے نہیں ہیں ۔ پھر اگر کپتان ان کو لیں گے تو ان کے اپنے وفاقی وزیر غلام سرور خان کی جانب سے بہت سخت درعمل آنے کی امید ہے ۔ یوں یہ بیل تو مجھے منڈیر چڑھتی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ ۔ جہاں اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں ۔ اپنے پچاس کے قریب لوگ منحرف ہوچکے ہیں تو ہر کسی کے زہن میں سوال آرہا ہے کہ کیسے عمران خان کوئی سرپرائز دے دیں گے ۔ استعفی نہیں دیں گے ۔ تو اس حوالے سے اندازہ یہ ہی ہے کہ وہ کوئی سیاسی اور آئینی بحران نہ پیدا کردیں یا پھر وہ اہم تعیناتی کے حوالے سے قبل ازوقت فیصلہ کردیں ۔ میری چڑیل کے مطابق ان دونوں صورتوں میں کپتان کے مخالفوں کی تیاری پوری کر رکھی ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے تو ن لیگ نے سجی دیکھا کر کھبی مار دی ہے ۔ اس سلسلے میں جو لانگ مارچ ن لیگ نے24کو شروع کرنا تھا اور 25کو اسلام آباد پہنچنا تھا ۔ اب وہ 26کو ماڈل ٹاون سے شروع ہوگا اور 27 کو اسلام آباد پہنچے گا ۔ مت بھولیں
    27کو ہی عمران خان دس لاکھ لوگوں کا جلسہ کر رہے ہیں ۔ یوں ایک دو دن میں اسلام آباد نیا battle ground ہوگا ۔ ۔ ساتھ ہی اگر اہم تعیناتی کپتان قبل ازوقت کرتے ہیں تو پھر اینڈ گیم ہے ۔ ۔ شاید اسی لیے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی کے اندر بھی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے ۔ پارٹی کے اندر یہاں تک ڈسکس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان کو تبدیل کرکے اگر حکومت بچائی جا سکتی ہے تو بچا لی جائی ۔ میری چڑیل کے مطابق کچھ اہم تحریک انصاف کے لوگ اس فارمولے پر بھی کام کر رہے ہیں ۔ یاد ہوتو گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے کراچی سے بانی رکن نجیب ہارون کا بھی مائنس ون پربیان آیا تھا ۔ اگر غور کریں تو یک دم کچھ وزیر اور مشیر منظر سے غائب ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ یہ سوچ اس وقت پی ٹی آئی میں پنپ رہی ہے کہ کم ازکم پارٹی کو تو بچایا جائے ۔ مگر عمران خان کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں اوروہ بھپرے ہوئے شیر بنے ہوئے ہیں اور ایک بھی غلطی کا خمیازہ ملک سمیت سب سے زیادہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت بھگتنا پڑے گا ۔ ۔ یاد رکھیں کبھی بھی ایک منتخب وزیر اعظم شور نہیں مچائے گا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل کیوں ہوگئی ہے ۔ سیاست میں مداخلت کیوں نہیں کر رہی ہے ۔ ٹیلی فون کالز کیوں بند کر دی گئی ہیں ۔ پر سلیکٹڈ ضرور ایسا ہی کرے گا ۔۔ آپ دیکھیں پوری اپوزیشن اور قوم نیوٹرل ہونے پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو شاباش دے رہی ہے لیکن عمران خان کبھی انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی منت ترلہ کرتے ہیں اور کبھی دھمکیاں دیتے ہیں کہ میں پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ سرپرائز دوں گا ۔

    ۔ عمران خان کو صرف اس بات پر غصہ ہے کہ وہ آئین پر عمل کیوں کررہے ہیں اور ماضی کی طرح میرے لیے تمام الزامات اپنے سر کیوں نہیں لیتے؟ ۔ اگر یاد ہو تو عمران خان اپنی ہر دوسری تقریر میں ایک چیز ضرور دہراتے ہیں کہ میں نے تو زندگی میں سب کچھ حاصل کر لیا ہے پیسہ شہرت مجھے کیا ضرورت جب چاہوں آرام سے باہر جاکر مزے کی زندگی گزار سکتا ہوں۔ ۔ مگر اب ان کے ایکشن اور اقدامات سے واضح ہو گیا کہ اقتدار اُنہیں ہر شےسے زیادہ عزیز ہے۔ ۔ پھرعمران خان نے جو کہا تھا کہ جانور نیوٹرل ہوتا ہے ۔ اس کا جواب آج بلاول نے دینے کی کوشش کی ہے انکا مالاکنڈ جلسے سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ہمارا وزیر عظم جنگل کا قانون چاہتا ہے ، ہمارا وزیر اعظم جانور ہے ۔ ہم کوئی غیر جمہوری طریقہ استعمال نہیں کریں گے،میں گیٹ نمبر چار کو نہیں کھٹکٹاوں گا۔ وزیر اعظم اپنے بچوں کو اردو سکھائیں ۔ سازش سازش کا واویلہ مچانے والے خود ایک سازش ہیں ۔ ۔ دیکھائی یہ رہا ہے کہ کپتان جتنے تجربے اور زور لگا سکتے تھے لگا چکے ہیں ۔ اپوزیشن نے بڑی کامیابی ان کی ہر ۔۔ ان سوئنگ ، آؤٹ سوئنگ، ریسورس سوئنگ ، یارکر اور باونسر کا مقابلہ کیا ہے ۔ یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میچ کپتان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ فی الحال بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کپتان نے جیسے پہلے ایک اہم تعیناتی کے موقع پر مخصوص تاریخ کو ہی یہ کام کرنے کو بہتر سمجھا تھا ۔ اب بھی کچھ کے خیال میں کپتان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی کسی شُب گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ۔ دراصل کپتان کی غلطیاں اور کوتاہیاں ایک طرف اصل مسئلہ ان کی ضِدوں اور جھوٹی اناؤں کا ہے ۔۔ یہ ضد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انتخابی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے روکنے کے باوجود، نوٹس جاری کرنے کے باوجود کپتان شرکت کر رہے ہیں اور پھر جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ احتجاجی تحریک کا رنگ ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنا ، اچھا سمجھنا ، باقی سب سے بہتر سمجھنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔ جس کا اس وقت یہ حکومت اور حکمران شکار ہیں ۔ کیونکہ تاریخ ہو ، فلسفہ ہو ، آئین ہو ، قانون ہو ، جمہوریت ہو یا مذہب ہو ہر چیز پرجب آپ خود ہی اتھارٹی ہوں تو پھر کسی کا کیا مشورہ سننا یا بات ماننی ۔ یہ ڈکیٹیٹر شپ نہیں تو کیا ہے ۔ بلکہ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں سے لگ رہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم نہیں کپتان بادشاہ بنے ہوئے ہیں ۔

    ۔ کون جیتے گا یا کون ہارے گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے پر اگر تمام تر حالیہ واقعات کو سامنے رکھ کر سیاسی بھونچال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یہ ہی سمجھ میں آتاہے کہ ہٹ دھرمی جیت رہی ہے۔ جمہوریت ہار رہی ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہوس اقتدار جیت رہی ہے امن، خوشحالی کی خواہش دم توڑ رہی ہے۔ ۔ بہرحال کپتان کا تمام بیانیہ اور تقریریں بحیرہ عرب میں غرق ہوتی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ چیز واضح ہوگی ہے کہ اب فون کال کسی کو نہیں جائے گی جو کرنا ہو گا کپتان کو اپنے زور باوز پر کرنا ہوگا ۔ ۔ عقل تو یہ ہی کہتی ہے کہ کپتان اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم ایسا نہیں کریں گے ۔ ۔ کیونکہ اس وقت کپتان صرف وہ سننا چاہ رہے ہیں جو ان کے کانوں کو اچھا لگے تو ان کے اردگرد لوگ بھی وہ ہی کچھ بتا یا سنا رہے ہیں کہ جس سے کپتان خوش رہے اور بدلے میں کہے شاباش میرے کھلاڑیوں ، ٹائیگروں ۔۔۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ کہانی ختم ہوچکی ہے ۔

  • گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    حکومت جا رہی ہے کہ نہیں اس سے ہٹ کر ایک چیز جو کنفرم ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کے ستارے گردش میں ہیں ۔ حالانکہ بہت سے ستارہ شناس اور علم الاعداد والے اس بات سے متفق نہیں مگر کپتان کے پاس ایسا لگ رہا ہے کہ باولنگ کی تمام ورائٹی ختم ہو چکی ہے ۔ وہ جتنے تجربے اور زور لگا سکتے تھے لگا چکے ہیں ۔ اپوزیشن نے بڑی کامیابی ان کی ہر
    ۔۔ ان سوئنگ ، آؤٹ سوئنگ، ریسورس سوئنگ ، یارکر اور باونسر کا مقابلہ کیا ہے ۔ یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میچ کپتان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ فی الحال بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کپتان نے جیسے پہلے ایک اہم تعیناتی کے موقع پر مخصوص تاریخ کو ہی یہ کام کرنے کو بہتر سمجھا تھا ۔ اب بھی کچھ کے خیال میں کپتان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی کسی شُب گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔

    مگر کل جو اہم تعیناتی کے حوالے سے انھوں نے قوم کے سامنے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے ۔ وہ صاف اشارہ ہے کہ کپتان اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ نہ ہی وہ عثمان بزدار کی قربانی دینے کو تیار ہیں نہ ہی وہ سب سے سینئر کو تعینات کرنے کو راضی ہیں ۔ اس سے پہلے ہمارے کپتان جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو بھی اپنے جلسے میں بیان کرچکے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے جو پاک فوج اور اہم عہدوں پر تعینات شخصیات پر پی ٹی آئی کی جانب سے تنقید کی گئی ۔ پھر نیوٹرل ہونے کو گالی بننا ۔ تو یہ تمام چیزیں بہت کچھ بیان کر رہی ہیں کہ موڈ چل کیا رہا ہے ۔ ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز مریم نواز نے موقع دیکھ کر اچھی پوائنٹ سکورننگ کر لی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ چاہتے ہیں کوئی آپ کی گنتی پوری کرکے دے، آپ کو اکیلا میدان میں رکھے، میڈیا کو مینج کرے کوئی یہ کرنے پر تیار نہیں تو آپ جانور کہہ رہے ہیں۔ نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے،  یہ تو اچھی بات ہے کوئی آئین کی پاسداری کررہا ہے تو ویلکم کرنا چاہیے۔۔ بہرحال وزیر اعظم کی کرسی میں طاقت تو بہت ہوتی ہے اور اب محسوس یہ ہو رہا ہے کہ وہ اس طاقت کا اندھا دھند استعمال کرنے والے ہیں ۔ بس یہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزرنے کی دیر ہے ۔ ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ جس تواترسے ان کے مشیر رنڈی اور دلے لفظ کی تشہیر کر رہے ہیں ۔ پنجابی زبان کو بدنام کررہے ہیں۔ اس سے کپتان کے میرٹ کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

    ۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا سچاجذبہ اگر اُن میں ہوتا تو اپنے اِس بازاری ترجمان کو فوری طورپر وہ فارغ کردیتے۔ ۔ دراصل کپتان کی غلطیاں اور کوتاہیاں ایک طرف اصل مسئلہ ان کی ضِدوں اور جھوٹی اناؤں کا ہے ۔۔ یہ ضد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انتخابی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے روکنے کے باوجود، نوٹس جاری کرنے کے باوجود کپتان شرکت کر رہے ہیں اور پھر جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ احتجاجی تحریک کا رنگ ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنا ، اچھا سمجھنا ، باقی سب سے بہتر سمجھنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔ جس کا اس وقت یہ حکومت اور حکمران شکار ہیں ۔ کیونکہ تاریخ ہو ، فلسفہ ہو ، آئین ہو ، قانون ہو ، جمہوریت ہو یا مذہب ہو ہر چیز پرجب آپ خود ہی اتھارٹی ہوں تو پھر کسی کا کیا مشورہ سننا یا بات ماننی ۔ یہ ڈکیٹیٹر شپ نہیں تو کیا ہے ۔ بلکہ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں سے لگ رہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم نہیں کپتان بادشاہ بنے ہوئے ہیں ۔ کون جیتے گا یا کون ہارے گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے پر اگر تمام تر حالیہ واقعات کو سامنے رکھ کر سیاسی بھونچال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یہ ہی سمجھ میں آتاہے کہ ہٹ دھرمی جیت رہی ہے۔ جمہوریت ہار رہی ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہوس اقتدار جیت رہی ہے امن، خوشحالی کی خواہش دم توڑ رہی ہے۔ ۔ بہرحال کپتان کا تمام بیانیہ اور تقریریں بحیرہ عرب میں غرق ہوتی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ یہاں سے تڑی لگاتے ہیں آگے سے بھی ویسا ہی ردعمل سامنے آجاتا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے رمیش کمار نے کہا ہے کہ حکومت کی پارٹی میں باغی ارکان کی تعداد 35 ہو چکی جبکہ منحرف ارکان میں سے کوئی بندہ واپس نہیں جائے گا۔ ہم میں سے زیادہ تر سینئیر سیاست دان ہیں کوئی ایسی ویسی صورت حال ہوئی تو نشست سے استعفیٰ دے دیں گے۔۔ احمد حسین ڈیہڑ نے کہا مجھ پر پیسے لینے کا الزام لگایا گیا میں نے 40کروڑ روپے کی زمین مفت ریسکیو 1122 کو دے دی جبکہ میرے گھر پر غنڈہ بریگیڈ سے حملہ کرایا گیا۔ بات عزت کی ہے،کیا باپ ایسے ہوتے ہیں کہ بیٹی کے گھر میں بندے گھسا دیں۔۔ نور عالم خان نے کہا ہمیں گالیاں دینے کے بعد حکومت کس منہ سے ہماری واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے، عمران خان اگر انسان کو انسان کی نظر سے دیکھتے، شیرُو کتے کی نظر سے نہ دیکھتے تو یہ حالات نہ ہوتے۔۔ منحرف اراکین کے درعمل سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بات صرف عزت کی ہے ۔ جو کپتان سے کسی اور کو تو دور کی بات ۔۔۔۔ اپنے ہی ایم این ایز کو نہیں نہیں دی گی ۔ یوں اب وہ بدلہ لینے کے لیے کپتان کی عزت تار تار کرنے پر تلے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ میرے خیال سے حکومت اگر ہوش کے ناخن لے اور شیخ رشید ، فواد چوہدری ، شہباز گل جیسوں کو کچھ عرصے کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں پر یورپ بھیج دے تو معاملات زیادہ آسانی سے حل ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ چیز واضح ہوگی ہے کہ اب فون کال کسی کو نہیں جائے گی جو کرنا ہو گا کپتان کو اپنے زور باوز پر کرنا ہوگا ۔

    ۔ پھر چوہدری نثار کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے ایک بے پرکی اڑائی گئی تھی کہ وہ پتہ ن ہیں کتنے ایم این ایز اور کتنے ایم پی ایز کے ساتھ 27کو پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلیں گے تو اس حوالے سے ان کی اپنی جماعت کے وفاقی وزیرغلام سرور خان نے کہا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے چوہدری نثار علی خان سے متعلق خبریں بلاجواز ہیں ۔ ایسی خبریں بے مقصد اور بے بنیاد ہیں ۔۔ یعنی چوہدری نثار والا فارمولا بھی نہیں لگ رہا ۔ منحرف اراکین کی گھر واپسی بھی نہیں ہو رہی ۔ خرید وفروخت کا کوئی ثبوت بھی سامنے نہیں لایا جا رہا ۔ اس عدم اعتماد کو بیرونی سازش ثابت کرنے کے تمام فارمولے بھی ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ دنیا کیا ہر پاکستانی جانتا ہے کہ چلو بھٹو نے تو ایٹم بم بنایا، اسلامک بلاک بنانے کی کوشش کی ۔ عمران خان نے امریکی مفادات کو کون سی زک پہنچائی ہے جو وہ کپتان کے دشمن ہوجائیں ۔ الٹا اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا کر ریاست کے پیروں میں بیڑیاں ڈلوادی ہیں ۔ وزیر اعظم کے خلاف جب ان کی جماعت کے ارکان کی بغاوت سامنے آ چکی ہے، اتحادی بھی ان کا ساتھ چھوڑنے کے فیصلے کر رہے ہیں تو پھر پتا نہیں کیوں وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ابھی تک تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین کیے بیٹھے ہیں۔

    ۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی پلاننگ سامنے آگئی ہے کہ پہلے وفاق،پھر پنجاب،چیئرمین سینٹ اورآخرمیں خیبر پختونخوا حکومت گرائینگے۔ جبکہ مخبریاں یہ بھی ہیں کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو بھی ہٹایا جائے گا ۔ ۔ پھر چڑیل نے گن کر بتایا ہے کہ ایک بال پر تین وکٹیں گرانے والے کی اپنی پچاس وکٹیں گر چکی ہے۔ جبکہ یہ مزید گرتی جا رہی تھیں ۔ یہ تو دوسری جانب سے کہا گیا کہ بھائی بس ۔۔۔ ہمارے پاس گنجائش ختم ہوچکی ہے کہ اور لوگوں کو اپنی پارٹی میں نہیں رکھ سکتے ۔ ۔ اس لیے یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ ہی اس وقت کیا جب انھیں یہ پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے اور ان کے ووٹ ڈلوانے میں کامیابی سے ہم کنار ہونگے۔۔ عقل تو یہ ہی کہتی ہے کہ کپتان اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم اس طرح کا جمہوری روایات اور اقدار کا حامل فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ حکومت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح پر تکیہ کیا ہوا ہے میری جتنی بھی قانونی ماہرین سے بات ہوئی ہے ان کی رائے میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہ صرف ووٹ ڈال سکتے ہیں بلکہ ان کے ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہاں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو بطور پارٹی لیڈر یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ ان ارکان کے خلاف پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی بنا پر defection clause لاگو کرنے کے لیے سپیکر کو خط لکھ سکتے ہیں۔ سپیکر اس خط یا یادداشت کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کو ان ارکان کی نااہلی کے ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔

    ۔ اسکے بعد بھی الیکشن کمیشن کا یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس پر کیا فیصلہ دیتا ہے کہ ان ارکان کو نا اہل قرار دیتا ہے یہ ان کو بدستور اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کی ہدایت کر تا ہے۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو یہ والے قانونی ماہرین کی شاید سہولت میسر نہیں ہے ۔ اس وقت وہ صرف وہ سننا چاہ رہے ہیں جو ان کے کانوں کو اچھا لگے تو ان کے اردگرد لوگ بھی وہ ہی کچھ بتا یا سنا رہے ہیں کہ جس سے کپتان خوش رہے اور بدلے میں کہے شاباش میرے کھلاڑیوں ۔۔۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ گیم از اور

  • اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    پارٹی شروع ہوگئی ۔۔۔۔ اس وقت جو خبریں چل رہی ہیں اس سے لگ یہ ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا جنازہ تیار ہے اب بس دفنانا باقی ہے ۔ یہ جنازہ نکلتا سندھ ہاوس سے دیکھائی دے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی ایم این ایز اس جنازے کو کندھے دیتے دفنانے جائیں گے ۔

    ۔ کیونکہ صرف ایم این ایز ہی نہیں بلکہ تین وفاقی وزراء کے بارے بتایا جا رہا ہے کہ وہ بھی ٹوٹ چکے ہیں ۔ یوں ثابت ہوچکا ہے کہ پوری کی پوری پارٹی لوٹا پارٹی تھی ۔ اتنی بڑی تعداد میں تو ن لیگ کے بندے نہیں ٹوٹے جب ان کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا ۔ یوں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جو حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا ہوچکا ہے ۔ ۔ ابھی تک سندھ ہاؤس میں موجود تحریک انصاف کے10 ارکان قومی اسمبلی کے نام سامنے آگئے ہیں ۔ جبکہ یہ تعداد دودرجن سے زائد بتا جا رہی ہے ۔ ۔ میرے خیال سے اس کے بعد پی ٹی آئی کا اتحادیوں سے گلہ کرنا بنتا نہیں ہے کہ وہ حکومت کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ان کی تو اپنی پوری کی پوری پارٹی میں بھونچال آیا ہوا ہے ۔ ابھی عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت میں ہے ۔ جب یہ حکومت میں نہیں ہوں گے توسوچیں پی ٹی آئی کا کیا حال ہوگا ۔ ۔ پھر جس طرح بلا کسی خوف و خطر یہ ایم این ایز سامنے آرہے ہیں ۔ جس طرح یہ میڈیا کو انٹرویوز دے رہے ہیں ۔ جس طرح کھل کر یہ باتیں کررہے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیل اتنی پکی ہوچکی ہے کہ یہ ایم این ایز اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

    ۔ کیونکہ نہ یہ فواد چوہدری اور شیخ رشید کی دھمکیوں سے ڈرے ہیں اور نہ ہی اب حکومت اس قابل رہی ہے کہ ان کو بھلا پھسلا کر واپس پی ٹی آئی کے کیمپ میں لا سکے ۔۔ اب عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ ان ایم این ایز کو de seatکیا جائے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک تو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا نہیں ۔ کسی ایم این اے نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی نہیں تو سزا کیسے دی جا سکے گی ۔ یعنی کہ صرف ان کا ارادہ تھا تو اس پر سزا دے دی جائے ۔ میرے حساب سے اگر ایسا کوئی فیصلہ حکومت کرتی ہے تو ان کو آئینی اور قانونی لحاظ سے مزید ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

    ۔ دوسری جانب شیخ رشید نے بھوکلاہٹ میں سندھ میں گورنر راج لگانے کا مشورہ دے دیا ہے ۔ اب پتہ نہیں شیخ صاحب عمران خان کے خیر خواہ ہیں کہ نہیں ۔ کیونکہ ایسا ہوجاتا ہے تو یہ سیدھا سیدھا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا ۔ مت بھولیں پی ڈی ایم نے لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب کرنا ہے اور اس لانگ مارچ میں پیپلزپارٹی بھی شامل ہے ۔ اپوزیشن تو خوش ہوگی کہ اگر عمران خان سندھ میں گورنر راج لگا دیں ۔ ۔ خبر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو سندھ ہاؤس میں موجود ارکان قومی اسمبلی کی فہرست آئی بی کی جانب سے پیش کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے راجہ ریاض، نواب شیر وسیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، نورعالم خان، ریاض مزاری، باسط بخاری، احمد حسن ڈیہڑ، ‏نزہت پٹھان اور وجیہہ اکرم بھی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں۔۔ اس سے پہلے عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کچھ ارکان پارلیمنٹ کے مسنگ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مانیٹرنگ کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ سویلین حساس اداروں کو ارکان پارلیمنٹ کی لوکیشن، کال ڈیٹا اور نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کا کہا گیا ہے۔ عمران خان نے سویلین حساس اداروں کو سندھ ہاؤس کی بھی سخت مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ۔ اس نئی بنتی صورتحال پر وفاقی وزیر فواد چوہدری ، اسد عمر ، حماد اظہر نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس بھی کی ۔ جس میں فواد چوہدری بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہے تھے کہ جہازوں میں بھر کر لوگوں کا لایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ وہ جہانگیر ترین کے جہاز کا ذکر کرنا بھول گئے ۔ وہ نہ اڑتا تو حکومت نہ بنتی ۔ وزراء نے اعلان کردیا ہے کہ ان ایم این ایز کے خلاف
    63Aکے تحت جلد کاروائی کی جائے گی ۔ ۔ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں ۔ ہر حوالے سے ان کی تیاری مکمل ہے ۔ سندھ ہاؤس کی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں سندھ ہاؤس کی چار دیواری پر خاردار تارلگانے کا کام جاری ہے۔ سندھ ہاؤس کے تینوں داخلی راستوں پر سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف کے باغی اراکین میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ کیونکہ اب تو جیسے ڈوبتے ہوئے جہاز سے لوگ چھلانگیں لگاتے ہیں وہ وقت آگیا ہے ۔ ان خبروں کے بعد تو کسی کے ذہن میں کوئی شک تھا بھی ۔۔۔ تو دور ہوگیا ہے کہ حکومت نے اب بچنا نہیں ۔

    ۔ میرے خیال سے کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو کو اب بھی یقین ہو کہ حکومت بچ جائے گی ۔ عنقریب لگ یوں رہا ہے کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہونے والے ہیں ۔ یوں اب آپ کپتان کے منہ سے سنیں گے کہ مجھے کیوں نکالا؟

  • سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی دیگ اس وقت اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چولہے پر چڑھی ہوئی ہے ۔ ہر کوئی اپنی مرضی کے مصالحے اور اشیاء اس میں ڈالتا جا رہا ہے ۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ قورمہ بن رہا ہے ، بریانی پک رہی ہے یا پھر متنجن ۔۔۔

    ۔ اس تمام سیاسی ہلچل میں شہباز شریف نے ایک نیا فارمولہ دے دیا ہے کہ ہمیں پانچ سال کیلئے قومی حکومت بنانی چاہیے مگر قومی حکومت میں پی ٹی آئی شامل نہ ہو۔ پتہ نہیں یہ تمام اپوزیشن کی مشترکہ سوچ ہے یا پھر صرف شہباز شریف کی سوچ ۔۔۔ ۔ بہرحال جب سے ایمپائر نیوٹرل ہوا ہے کپتان کی حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوتی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک ایک کرکے روز کوئی نہ کوئی پیادہ یا تو داغا دے رہا ہے ۔ یا پھر کپتان کو ایک لمبی لسٹ تھما رہا ہے کہ یہ پوری کرو تو ساتھ دوں گا ۔ ۔ مگر کپتان بھی کپتانوں کے کپتان ہیں وہ روز جلسے کررہے ہیں ۔ دھمکیاں اور تڑیاں لگا رہے ہیں ۔ یوں ملکی موسم کے ساتھ سیاسی موسم بھی تیزی سے گرم ہوتا جا رہا ہے ۔

    ۔ تازہ تازہ سوات کے جلسے میں عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں لوگ نوٹوں کے بیگ لے کر ضمیر خریدنے بیٹھے ہیں۔ اب اتنے وثوق سے جب وہ یہ عوام کے سامنے دعوے کر رہے تھے تو ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایف آئی اے ، نیب ، اینٹی کرپشن یا دیگر اداروں نے بھنگ پی ہوئی ہے جو ان کو نہیں پکڑ پا رہے ہیں ۔ اور کپتان کس بنیاد پر روز کسی نہ کسی کی پگڑی اچھال رہے ہیں اور جب ایسے ہی اشارے یا باتیں ان سے منسوب کی جاتی ہیں یا پھر مخالفین ان کے گھر یا ذاتی زندگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں تو کپتان کے تمام کھلاڑی یوں اچھالنا شروع کر دیتے ہیں جیسے ابلتے ہوئے انڈے اچھلتے ہیں ۔ ۔ دوسرا اگر کپتان کے اردگرد سب ہی بے ضمیر لوگ ہیں جن کی نوٹوں کی بوریاں دیکھ کر رالیں ٹپکنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ تو پھر کپتان نے کون سی ٹیم بنائی ہے اور کپتان کی وہ دور اندیشی کہاں گئی ۔ جو وہ قوم کو بتایا کرتے تھے ۔ کہ ان سے بہتر ٹیم کوئی بنا ہی نہیں سکتا ۔ دراصل جیسا حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا بھی ہے ۔ اب سے پہلے تو صرف خفیہ کالوں کی کرامات تھیں ۔ جب سے یہ ٹیلی فون نمبر بند ہوئے ہیں ۔ تب سے ہی یہ حالت ہوئی ہے کہ بقول شیخ رشید پانچ سیٹوں والے بھی آنکھیں دیکھا رہے ہیں ۔ ۔ پھر کپتان جو کہہ رہے تھے کہ قوم پر لازم ہے کہ برائی کے خلاف کھڑی ہو، الیکشن کمیشن سے بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آئین میں ہارس ٹریڈنگ کی اجازت ہے؟۔ یہ جو الیکشن کمیشن کو للکار رہے تھے ۔ کوئی ثبوت تو دیں جس پر وہ کاروائی کرسکے ۔ کیا خالی بیانات اور جلسوں میں تقریروں کو ہی ثبوت مان لیا جائے ۔ ۔ پھر اگر وہ سچے ہیں بھی تو سوال یہ ہے کہ کپتان نے پہلے لوٹوں کو پارٹی میں اکٹھا کیوں کیا ۔ اور جب ان کی اصلیت ان کو معلوم ہوگئی ہے تو پھر یہ ایکشن کیوں نہیں لیتے ۔ باتیں کرنا بہت آسان ہے سچ اور حق کے ساتھ کھڑے ہونا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ مسئلہ کرسی کا ہے ۔ کپتان نے کرسی کی خاطر جتنے یوٹرن لیے ۔ تمام دنیا جانتی ہے ۔ اب بھی جتنے جتن کپتان اس کرسی کو بچانے کے لیے کررہے ہیں وہ بھی سب کو معلوم ہوگئے ہیں۔

    ۔ یہ جو کپتان سمیت باقی کھلاڑیوں کو مزاحمتی سیاست کرنے کا بخار چڑھا ہوا ہے تو سچائی میں انکو بتا دوں کہ پی ٹی آئی مزاحمتی جماعت نہیں ہے۔ ذرا تلاش کیجیے، کتنے ایسے ہیں جو جیل جا سکتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے گرفتاریاں برداشت کرسکتے ہیں ۔ عمران خان خود بھی ابھی تک جیل نہیں گئے۔ پھر ان کے ساتھ سیاسی لوگ نہیں ہیں، سب چوری کھانے والے دیہاڑی باز ہیں۔ ان سب نے عمران خان کو تب جوائن کیا تھا جب سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ اگلی باری عمران خان کی ہے۔

    ۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی مزاحمتی سیاست نہیں کی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی سیاسی نظریہ ہے۔ اقتدار میں گورا ہو، کالا ہو، داڑھی والا ہو یا کلین شیو ہو، یہ لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت ہی ان خطوط پر ہوئی ہے کہ ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرنا اور وہ نسل در نسل یہی سیاست کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس لیے اقتدار ختم ہونے کے بعد عمران خان کا ساتھ دینا ان کے منشور کے خلاف ہے ۔۔ سچ یہ ہے کہ بیساکھیاں ہٹ گئیں تو اپنے ارکان بھی ریت کے ذروں کی طرح مٹھی سے نکلنے لگے ہیں اور اتحادیوں کی نہ صرف آنکھیں بدل گئیں ہیں بلکہ انھوں نے آنکھیں دکھانا شروع کردیں، پہلے حکومت کا کھل کر ساتھ دینے سے گریز کیا،پھر اپوزیشن سے پینگیں بڑھانے لگے اور اب تو انھوں نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ۔ عمران خان پرلے درجے کے بے اصول ہیں۔ انھوں نے اپنے مفاد اور اقتدار کے لیے قانون، ضابطہ، اقدار، اخلاق اور جمہوری روایات سمیت ہر چیزکو روند ڈالا ہے۔ کپتان تقریروں میں تو پنجابی فلموں والے سلطان راہی بن جاتے ہیں مگر عملی طور پر وہ اپنے مفاد کے لیے جھکنا تو کیا، مکمل طور پر لیٹ جاتے ہیں۔۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ عمران خان صاحب نے اپنے چارسالہ اقتدار میں ملک کی معیشت کوبرباد کردیا ہے۔ بلکہ لوگ چینخ رہے ہیں کہ ستر سالوں میں اس سے بری گورننس نہیں دیکھی۔ پولیس، انتظامیہ، ایف آئی اے، ایف بی آر، نیب اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے جس طرح اس دور میں استعمال کیا گیا ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔۔ پھر جتنی کرپشن اس دور میں بڑھی ہے اس سے پہلے ایسی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ کرپشن کے الزامات کی زد میں آنے والے وزیروں اور مشیروں کو جیسے اس دور میں تحفظ دیا گیا کیا کبھی ایسا پہلے ہوا ہے ۔ ۔ میرا سوال ہے کہ مجھے کوئی ایک ادارہ بتا دیں جہاں بغیر رشوت کے آپ کا کام ہوجائے ۔ کپتان نے اپنے ہر دوست کو اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا ۔ اقرباء پروری اور میرٹ کے قتل کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی ۔ ۔ آج اگر عام پاکستانی دو وقت روٹی کھائے تو بجلی اور گیس کے بل ادا نہیں کرسکتا، بل ادا کرے تو دوائیوں کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتا۔ کسان بے چارے کھاد کی تلاش میں رُل گئے ہیں ۔ مگر آج بھی کپتان زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کی جھوٹی کہانیاں سنا رہا تھا ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں نے بڑے بڑے علماء پر مغرب زدہ محمد علی جناح کواس لیے ترجیح دی تھی کہ انھوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی جھوٹا وعدہ نہیں کیا، جو کہا اس پر عمل کر کے دکھایا۔ کپتان کی طرح نہیں جو یوٹرن کو لیڈر کی خوبی سمجھتا ہو۔

    ۔ کپتان کا موجودہ غصہ اُن کے اندرونی اضطراب، گبھراہٹ اور فرسٹریشن کی غمازی کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے وزرائے اعظم اقتدار سے محروم ہوئے ہیں ۔ مگر انھوں نے ایک باوقار طریقے سے اقتدار چھوڑا۔ ہاؤس کی اکثریت یوسف رضا گیلانی کے ساتھ تھی مگر ایک معمولی بات پر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انھیں توہین عدالت پر سزا دے کر معزول کردیا اور وہ کوئی واویلا مچائے بغیر پرائم منسٹر ہاؤس سے باہر آگئے۔۔ نوازشریف کو ایوان کی دوتہائی اکثریت حاصل تھی مگر جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہ میں سپریم کورٹ کے بینچ نے انھیں تاحیات نااہل قراردے دیا، مگر وہ پرسکون رہے۔ نہ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کی کال دی اور نہ ہی اسپیکر کو کوئی غیر آئینی اقدام اُٹھانے پر مجبور کیا، مگر اب تو لگتا ہے کپتان نے حکومت اور اقتدار کو زندگی موت کا مسئلہ بنالیا ہے، سب کو نظر آرہا ہے کہ وہ ایوان کی اکثریت کھو ہوچکے ہیں،زیادہ تر اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اپنے بہت سے ارکان باغی ہوچکے ہیں۔۔ اس صورت میں اُن کے لیے باوقار راستہ یہ تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیتے یا مڈٹرم الیکشن کا اعلان کردیتے۔ اس سے ان کی سیاسی ساکھ اور عزت بچ سکتی تھی مگر لگتا ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ اپوزیشن اپنا آئینی حق استعمال کررہی ہے مگر پرائم منسٹر غصے اور فرسٹریشن میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ سیاسی مخالفین کی نقلیں اُتار رہے ہیں اور انھیں توہین آمیز القاب سے نواز رہے ہیں۔

    ۔ عمران خان جس راستے پر چل رہے ہیں وہ انارکی اور تباہی کاراستہ ہے۔ اس پر چل کر نہ ان کی حکومت بچے گی اور نہ سیاست۔ کیونکہ کپتان کا ماننا ہے کہ ایمپائربغیر نہ کھیلوں گا نہ کھیلنے دوں گا ۔ ۔ عمران خان ہر صورت اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں،اس طرح کا رویہ اور بیانات فاشزم کو پسند کرنے کا اظہار ہے جس کے نتیجہ میں جمہوری نظام کا مستقبل خطرہ میں نظر آرہا ہے۔ ۔ غلطیاں ان کی اپنی ہیں یہ سیاست میں بھی اناڑی ثابت ہوئے ہیں ۔ یہ جو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی ہے اسکا حکومت کو فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوا ہے۔۔ کیونکہ اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا موقع مل گیا ہے۔ اگر قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلا لیا جاتا تو شاید اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو منانے کا اتنا وقت نہیں ملتا۔اب ہر گزرتا دن عمران خان کی سیاسی طاقت کو کمزورکر رہا ہے۔۔ اس وقت تمام اشارے عمران خان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کی طرف ہی نظر آرہے ہیں۔ باقی وقت بتائے گا کہ کیا وہ کوئی سرپرائز دینے کی پوزیشن میں ہیں کہ نہیں۔

  • حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    ۔ ایک طرف کپتان روز ٹی وی پر آکر اپوزیشن کو للکار رہے ہیں۔ اور اپنے ورکرز کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جبکہ لگتا یہ ہے کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر 172لوگ پورے ہوتے تو فورااسمبلی کا اجلاس بلا لیتے ۔ اور دس لاکھ لوگ ڈی چوک میں اکٹھے کرنے کا حکم صادر نہ فرماتے۔اب کل جو مولانا نے 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اس کے بعد سے حالات کسی بھی رخ جا سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپوزیشن اور حکومت دونوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اپنے پلانز کو ملتوی کردیں ۔ مگر یہ ملتوی ہوتے دیکھائی نہیں دیتے ۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ 23مارچ کے بعد سے پورے ملک میں ایک دھما چوکڑی لگنے والے ہے ۔ لگی ہوئی تو ابھی بھی ہے ۔ کیونکہ کپتان کیا ان کے وزیروں کی زبانیں بھی بند نہیں ہورہی ہیں ۔ ان کے منہ سے مسلسل ایسی آگ نکل رہی ہے جس کے شعلوں کی لپیٹ میں پورا کا پورا سسٹم رول بیک ہوسکتا ہے ۔

    ۔ سب سے زیادہ تشویش ناک صورت حال ووٹنگ والے دن اور ووٹنگ کے دوران پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کو اپنے ارکان قومی اسمبلی اوراتحادیوں کو پارلیمنٹ ہاوس جانے سے ہر حال میں روکنا ہے جبکہ اپوزیشن کو تحریک انصاف کے باغی ارکان اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کو ہر حال میں پارلیمنٹ ہائوس لانا ہے۔ فی الحال حکومت نے تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنانے اور اپوزیشن نے تحریک کو کامیاب بنانے کے لئےہر حربہ استعمال کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔ تحریک کی کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم عمران خان سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے اور تحریک کی ناکامی کی صورت میں اپوزیشن نے احتجاج کو گلی محلوں تک لے جانے کا پلان کررکھا ہے ۔ اسی طرح تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے بھی تصادم کے غیر معمولی حالات پیدا ہونے کے امکانات ہیں اور ووٹنگ کے بعد بھی غیر متوقع واقعات رونما ہو سکتے ہیں ۔

    ۔ حکومت کا تو دعوی ہے کہ وہ دس لاکھ لوگ لے ہی آئیں گے ۔ مگر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی بات کی جائے تو مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کو مشورہ دیا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے ن لیگ کے قافلےکی قیادت مریم نواز کریں اورلاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچیں۔ جبکہ شہباز شریف اسلام آباد میں لانگ مارچ کے قافلے کا استقبال کریں۔ پھر یہ بھی تجویز ہے کہ جنوبی پنجاب کےکارکنان کولاہور میں جمع ہونےکی کال دی جائے ۔ باقی سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان سے بندوں کو لانے میں بھی مولانا خود بڑے کاریگر ہیں ۔ وہ پہلے بھی تن تنہا بڑے کامیاب دھرنے اسلام آباد میں دے چکے ہیں یوں اگر حکومت دس لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرے گی تو پی ڈی ایم بھی کم تعداد میں بندوں کو اسلام آباد نہیں لائے گی ۔ یوں اگر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ان جلسوں کی کالز واپس نہیں لی جاتیں ۔ تواسلام آباد میں خدشہ ہے کہ وہ نہ ہوجائے جو کسی بھی جمہوریت پسند شخص کا سب سے بڑا ڈر ہوتا ہے ۔

    ۔ پھر آج عمران خان نے اورسیز کنویشن سے خطاب میں بھی ایک بار پھر اپنی طرف سے خوب چوکے چھکے لگائے ہیں ۔ حالانکہ اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ دور کی بات ان کے اپنے بھی ان کے ساتھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ بہرحال آج انکا فرمانا تھا کہ آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان اب اکھٹے ہوگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ملک بچانے نکلے ہیں، اگر ان تینوں نے ملک بچانا ہے تو بہتر ہے عمران خان کے ساتھ ڈوب جائیں۔ وہ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے قوم کو ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں بھلادیں۔ ن لیگ نے تقریباً 20 سال یہ کہا کہ آصف علی زرداری پاکستان کا کرپٹ ترین شخص ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا نام ’ڈیزل‘ بھی ن لیگ نے رکھا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کپتان کے جال میں پھنس گئے ہیں، ان کی عدم اعتماد تو ناکام ہوگی ہی 2023 کے الیکشن سے بھی یہ لوگ گئے۔۔ دوسری جانب وزیروں کو جب اپنی بات بنتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے تو انھوں نے بھی اپنے ٹوکے چھریاں پھر باہر نکال لی ہیں ۔ ۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کس مائی کے لعل میں کلیجہ ہے کہ دس لاکھ کے مجمع سے گزر کر عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے اور واپس جائے۔۔ تو شیخ رشید کا فرمانا تھا کہ امپائر پاکستان کے ساتھ ہیں اور جنہیں پاکستان کی فکر ہے وہ ان کو سمجھا رہے ہیں کہ اپنے معاملے افہام و تفہیم سے حل کریں۔ اپوزیشن کا اوپر والا خانہ خالی ہے، یہ ساری سامراجی سنڈیاں ڈی چوک میں فارغ ہو جائیں گی۔۔ جبکہ پرویز خٹک نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت الگ الگ نہیں، ان دونوں نے ایک ساتھ چلنا ہوتا ہے۔ عمران خان بہت زیادہ پراعتماد ہیں، سیاسی جماعتوں کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، جس نے جانا ہے استعفیٰ دے دے، ورنہ اس طرح حلقے کے عوام سے دغا ہوگا۔

    ۔ پھر اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے خودکش بمبار بن کر ملک اور مذہب کے دشمنوں کے بیچ میں جاکر خود کو اڑانے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس سے پہلے وزیر اعظم نے آصف زرداری کو بندوق کے نشانے پر رکھنے کی بات کی تھی۔ اہم منصب پر ہوتے ہوئے ایسے بے مقصد بیانات دینا میری سمجھ سے باہر ہے ۔ پر ایک چیز ہے کہ اس وقت کپتان اور اسکے کھلاڑی شدید گھبرائے ہوئے ہیں ۔ ۔ میں نے گزشتہ دو تین مصروف دن اسلام آباد میں گزرے ہیں جس میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا ۔ یوں میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ کپتان یا ان کے وزیر جو مرضی کہیں مگر اسلام آباد میں خبریں کپتان اور ان کی ٹیم کے لیے اچھی نہیں ہیں ۔ ۔ اس وقت تمام لوگ عمران خان اور انکی ٹیم سے بدلہ لینے کے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں اور اس وقت اپوزیشن جماعتوں سمیت اکثر اتحادی بغیرکسی شرط کے حکومت کا مکو ٹھپانا چاہتے ہیں ۔ وجہ جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب ان چار سالوں میں اتنی زبان درازی ہوئی ہے کہ اب جس جس کو موقع مل رہا ہے وہ اپنا اسکور settleکرنا چاہتا ہے ۔ سب عمران خان اور ان کی ٹیم کو سبق سیکھانا چاہتے ہیں ۔ اب صرف سیاست نہیں ہو رہی ہے معاملہ ذاتیات تک پہنچ چکا ہے کیونکہ عمران خان نے مسلسل اپوزیشن کو دیوار سے لگائے رکھا ہے ۔ گرفتاریوں اور پرچوں کے علاوہ بھی ان کے
    followersاپوزیشن والوں کے گھروں تک پہنچے ہیں ۔ یوں جو گند ان چار سالوں میں ڈالا گیا تھا اب اس کا حساب دینے کا وقت قریب دیکھائی دے رہا ہے ۔ کیونکہ کل میں نے مولانا سے ایک سوال کیا کہ اگر عمران خان آپ سے رابطہ کریں تو کوئی بات چیت ہوسکتی ہے معاملات حل ہوسکتے ہیں تو ان کا صاف جواب تھا کوئی چانس ہی نہیں ہے ۔ ۔ یوں جیسے ترین گروپ کو ٹارگٹ کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے کہ اب جب ان کو موقع مل رہا ہے تو یہ بھی کاری ضرب لگانے کو تیار ہیں ۔ جبکہ صرف ترین گروپ ہی نہیں ق لیگ کے اکثریتی اراکین نے بھی عدم اعتماد پر اپوزیشن کا ساتھ دینے کی تجویز دے دی ہے ۔ پھر یہ جو سب اتحادی ہیں انھوں نے ایک اور چیز بھی مل کر طے کرلی ہے کہ اپوزیشن کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ اور اگر حکومت کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ ۔ ویسے خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت وفد کی آصف زرداری سے ملاقات میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے تمام نکات پر اتفاق کرلیا ہے ۔ یعنی ان کے بھی معاملات طے ہوگئے ہیں ۔

    ۔ پھر اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کیلئے وزیراعظم کی بھاگ دوڑ جاری ہے ۔ آپ دیکھیں وہ شخص جو کسی سے تعزیت کرنی ہو تو تب بھی لوگوں کو وزیر اعظم ہاوس بلا کر کیا کرتا تھا ۔ اب پارلیمنٹ لاجز جاکر مدد مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ یوں کپتان جی ڈی اے اور بی اے پی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے خود پارلیمنٹ لاجز گئے ۔ حالانکہ فہمیدہ مرزا، غوث بخش مہر اور ذوالفقار مرزا کے حوالے سے بتا دوں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ آصف زرداری کے کہنے پر حکومت کے خلاف ووٹ ڈال دیں ۔ مگر اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ کپتان کو مجبورا ان کے در کی خاک بھی چھانی پڑی ہے ۔ جبکہ سنا ہے کہ خالد مگسی نے جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کپتان کی اس confrontationکی سیاست سے متفق نہیں ۔ دیکھا جائے تو تحریک انصاف کا سیاسی بیانیہ دم توڑ چکا ہے ۔۔ میری نظر میں جس طرح عمران خان نے عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے ۔ اور جیسے یہ کنویشن اور جلسے کر رہے ہیں اس سے واضح تاثر ہے کہ وہ اگلے الیکشن کی تیاریوں میں جت گئے ہیں ۔ عدم اعتماد کی تحریک کا ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ وہ انکے خلاف کامیاب ہی ہوگی ۔ یوں سرکاری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں کیونکہ میری چڑیل کے مطابق کپتان کے پاس اب صرف 140 سے 145ووٹ ہی بچے ہیں ۔ اس لیے لوگوں نے برملا کہنا شروع کر دیا ہے کہ ڈر کے کھڑی ہے پی ٹی آئی ۔۔۔

  • لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    ۔ اس وقت لندن اور لاہور میں ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں ۔ اندازہ ہے کہ یہ ملاقاتیں رنگ لے آئیں تو تبدیلی اسلام آباد میں ہوگی ۔ ۔ کیونکہ لندن میں بدھ کو علیم خان کی نواز شریف سے اور جمعرات کو جہانگیر ترین سے ملاقات ہوگئی ہے ان ملاقتوں میں کیا طے ہوا ؟۔ کل پاکستان ایک اندھے کنوایں گرتا گرتا بچا ہے ۔ جو کچھ پارلیمنٹ لاجز میں جو کچھ ہوا صورتحال مزید بھی خراب ہوسکتی تھی ۔ مگر حکومت نے ہوش کے ناخن لیے اور ممبران اسمبلی سمیت تمام گرفتار لوگوں کو رہا کر دیا ۔ یوں مولانا فضل الرحمان نے ملک بھر میں احتجاجی کال واپس لے لے ۔ ورنہ رات سے ہی دیکھائی دینا شروع ہوگیا تھا کہ جمعہ کے روز پورا ملک بند ہوگا ۔ ۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا ایک آڈیو پیغام بھی چل رہا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کا شکریہ کہ پورے ملک کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں جام کر دیا، کارکنوں اور عوام کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، صبح ہونے سے پہلے ہی تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہوچکے ہیں۔ اب کارکنوں کی رہائی کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔۔ دوسری جانب شہباز گل کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بندوں کو چھڑوانے کے لیے معافیاں مانگتے رہے۔ جے یو آئی کے کارکنوں اور ایم این ایز کو آج صبح شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

    ۔ جو بھی جیتا یا ہارا اس بحث سے ہٹ کر اچھی بات یہ ہے کہ لڑائی جھگڑا خوش اسلوبی سے ٹل آگیا ہے ۔ اب خبریں یہ ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک تک پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے معاملات رینجرز اور ایف سی دیکھیں گی ۔ ۔ دوسری جانب لندن سے اہم خبر سامنے آگئی ہے ۔ عبدالعلیم خان کی نواز شریف سے خفیہ ملاقات ہوگئی ہے ۔ یوں اب یہ خفیہ نہیں رہی ہے ۔۔ تفصیل اسکی کچھ یوں ہے کہ ملاقات نواز شریف کے گھر پر مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجےہوئی، یہ تین گھنٹے طویل ملاقات تھی۔ ۔ اسحاق ڈار اور نواز شریف کے بیٹے بھی ملاقات میں موجود تھے۔ جبکہ لندن میں ہی موجود پی ٹی آئی رہنما جہانگیرترین ملاقات میں موجود نہیں تھے۔۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ علیم خان نے لندن آنے سے قبل شہباز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال سمیت وزیراعلی پنجاب کو تبدیل کرنے سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں شخصیات نے نمبرنگ کیساتھ ساتھ تحریک عدم اعتماد وزیراعلی پنجاب کے خلاف لانے سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا۔۔ علیم خان نے نواز شریف کو بتایا کہ ان کے ساتھ تین سال میں کیا ہوتا رہا اور انکی اپنی جماعت پی ٹی آئی نے ان کو کس طرح نشانہ بنایا۔ ۔ پھر ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ علیم خان نے پی ٹی آئی ایم پی ایز کو بھی ن لیگ کے ٹکٹ دینے کا کہا ہے ۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ پھر ن لیگ کے لوگوں کا کیا بنے تو اس حوالے سے فارمولہ یہ طے ہوا ہے کہ جو بھی لوگ دونوں جانب سے رہ جائیں گے ان کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا جائے گا ۔ ۔ جبکہ علیم خان کی ن لیگ میں شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔۔ اب جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کا اکٹھے ایک دو روز میں پاکستان آنے کا امکان ہے، دونوں شخصیات پاکستان واپس آکر پاور شو کریں گی اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی جائے گی۔۔ جبکہ ق لیگ کی جانب سے اطلاعات ہیں کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں وہ اعلان کر دیں گے کہ وہ کس کا ساتھ دیں گے ۔ جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ صورتحال مزید واضح ہوجائے گی ۔۔ پھر اس حوالے سے طارق بشیر چیمہ نے دعویٰ کیا ہےکہ وزرا نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم عثمان بزدار کو بدلنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے سوال کیا کہ ایسا کب ہوگا؟ جس پر وزرا نے بتایا کہ پہلے وفاق کی عدم اعتماد گزرجائے۔۔ ذرائع کے مطابق طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے کہا کہ کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہے، کیسے یقین کر لیں کہ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ اپوزیشن کی جانب سے ہمیں وزیراعلیٰ کی پیشکش ہے مگر حکومت کی طرف سے ہمیں لولی پاپ ہے۔۔ طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کو چیزیں سیریس لینا چاہئیں، انہوں نے انڈر 16 ٹیم میدان میں اتاری ہوئی ہے،ہمیں اگلے 48 گھنٹو ں میں فیصلہ کرنا ہے۔ پارٹی میں حتمی فیصلے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ۔ کل عمران خان کے دورہ لاہور کے دوران بھی اس حوالے سے پہلے خبریں یہ ہی سامنے آئیں ۔ کہ عثمان بزدار کو ہٹا دیا جائے گا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ عمران خان کسی صورت عثمان بزدار کو ہٹانا نہیں چاہتے ہیں ان کے خیال میں گھر جائیں گے تو اکٹھے جائیں گے اور حکومت کریں گے تو اکٹھے کریں گے ۔ اگر بہت ضروری بھی ہوا تو پھر بھی نیا وزیر اعلی پی ٹی آئی سے ہی ہوگا ۔ اس سلسلے میں کل عمران خان نے جس جس سے بھی ملاقات کی اس کو یہ ہی باور کروایا کہ آپ میرے ساتھ ساتھ عثمان بزدار کے ساتھ بھی کھڑے ہوں ۔ ۔ یوں پی ٹی آئی کی جانب بتایا یہ جارہا ہے کہ فی الحال اس کی توجہ عدم اعتماد کی تحریک پر ہے اور وہ بزدار ایشو سے بعد میں نمٹے گی۔۔ پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے بات کی جائے توق لیگ کے ساتھ جیسے ہی علیم خان اور جہانگیر ترین واپس پہنچ کر اعلان کریں گے اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں ۔ البتہ جس طرح کے بیانات اور ملاقاتوں کی خبریں ق لیگ کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ عثمان بزدار کا گھر جانا طے ہے ۔ میرے حساب سے علیم خان اور جہانگیر ترین جتنا آگے جا چکے ہیں۔ یہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کو اپنوں نے مروانا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ۔ ویسے تو عثمان بزدار بھی کافی ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ترین گروپ کے بندے توڑنے کے بھی دعوے کیا جا رہا ہیں اس حوالے سے پوری خبر یہ ہے کہ جن کے حوالے سے دعوی کیا جا رہا ہے ۔ دراصل یہ لوگ علیم خان سے رابطے میں تھے ۔ ترین گروپ کے چھبیس یا ستائیس لوگ پورے ہیں ۔ دوسرا جو ایک اور دعوی حکومت نے کیا کہ چارسے پانچ ایم پی ایز ہم نے ن لیگ کے بھی توڑ لیے اور عمران خان سے ان کی ملاقات بھی کروادی ہے ۔ یہ تو چار لوگ وہ ہی ہیں جو کافی عرصے سے ن لیگ سے منحرف ہیں اور عثمان بزدار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی کرسی کی بات کی جائے تو ق لیگ کی طرح ایم کیو ایم بھی کنفیوز دیکھائی دیتی ہے ۔ ایک جانب وہ حکومتی اتحادی ہیں مگر اگلے الیکشن پر بھی ان کی نظر ہے اس لیے خبریں یہ ہیں کہ ایم کیو ایم والے پیپلز پارٹی سے یقین دہانیاں مانگ رہے ہیں۔۔ کہا جارہا ہے کہ آصف زرداری نے چوہدریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرے گی اور جتنا ممکن ہو سکا اتنے مطالبات پورے کرے گی۔ پھر جی ڈی آے اور باپ والوں کو بھی زرداری صاحب نے قابو کیا ہوا ہے ۔۔ شاید اسی لیے عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے بعد آصف زرداری کو اپنا ٹارگٹ نمبرون قراردیا ہوا ہے۔

    ۔ میں اس سلسلے میں یاد کروادوں کہ آصف زرداری نےانتخابی طاقت کےباوجودبلوچستان میں مسلم لیگ ن کےخلاف ہواکا رخ موڑا تھا ۔ پھر موجودہ دور میں جیسے سینٹ میں یوسف رضاگیلانی کو منتخب کروایا۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔۔ یوں عمران خان اب سمجھتےہیں کہ تحریک عدم اعتمادکے ماسٹر مائنڈ آصف زرداری ہیں اوروہ یہ بھی سمجھتےہیں کہ زرداری ٹیبل پرچیزوں کوبدل سکتے ہیں۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چودھری وزیراعظم سے زیادہ آصف زرداری پر اعتماد کرتے ہیں۔ ۔ اگرچہ ترین گروپ، ق لیگ اور ایم کیو ایم والے اپوزیشن کی طرف مائل نظر آ رہے ہیں اور حکمران جماعت کے مخالفین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔۔ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو پی ٹی آئی حکومت کا شیرازہ بکھیرتی جا رہی ہے۔ کیونکہ ایک منظم طریقے سے اپنے اپنے وقت پر ہر عمل ہوتا جا رہا ہے۔۔ مثالیں آپکو دے دیتا ہوں فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ یہ بات کھل کرسامنے آچکی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی سپورٹ کے عوض ن لیگ نے حکومت سے منحرف اراکین کو اگلے عام انتخابات میں ٹکٹ کی یقین دہانی کروادی ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ضرور ہوگا ۔ مگر کیا آپ نے سوچا کہ یہاں بھی ن لیگ کی صفوں میں کوئی کھلبلی نہیں مچی، کسی نے ناراض ہو کر کسی پریس کانفرنس کا اہتمام نہیں کیا اور پارٹی میں کوئی فارورڈ گروپ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی بھی بھرپور طریقے سے سرگرم ہے اور حکومت کی جانب سے اٹھارہ سے بیس کروڑ روپے فی حمایت لینے کا الزام حکومت اس کی قیادت پر لگارہی ہے۔ تاہم حکومت اس الزام پر کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور عوام مہنگائی اور بیڈ گورننس سے اس قدر تنگ ہیں کہ حکومت کے اس الزام کا کوئی اثر نہیں لیا ہے اور میڈیا کاموڈ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ ۔ اپوزیشن کی تیسری بڑی شخصیت مولانا فضل الرحمٰن کا ٹکٹ چلا ہے نہ پیسہ، البتہ تیل میں ڈبوئی ہوئی لاٹھیوں کے بیان نے کام کردکھایا ہے۔ جبکہ عملی مظاہرہ اس کا ہم گزشتہ روز دیکھ چکے ہیں ۔ یوں متحدہ اپوزیشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے پی ٹی آئی کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔

    ۔ دوسری جانب عمران خان اس وقت agitationکی سیاست جانب بڑھتے دیکھائی دے رہےہیں ۔ کیونکہ حکومت نے ڈی چوک پر تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جبکہ شہباز گل کا کہنا ہے کہ خان کسی وقت بھی آپ کے سامنے ایک ایسا سچ لائے گا کہ ان ضمیر فروشوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، پوری قوم انہیں جوتے مارے گی۔۔ اس حوالے سے پورا سچ یہ ہے کہ کپتان نے آج سے پہلے جتنے بھی میچ کھیلے ہیں اس میں اس کو ایمپائر کی مدد حاصل رہی ہے یہ پہلی بار ہے کہ ان کو اپنے زور بازو پر یہ میچ کھیلنا پڑ رہا ہے ۔ اوپر سے یہ میچ بھی ٹیسٹ میچ ہے۔ پھر گروانڈ میں موجود تماشائی یعنی عوام بھی اس بار ٹیم سے بدظن دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ مخالف کمیپ سے سیاست کے بڑے ہی منجھے ہوئے کھلاڑی میدان میں موجود ہیں جو کپتان کی تیزی سے ان سوئنگ اور آوٹ سوئنگ ہوتی گیندوں کو بڑی مہارت سے باونڈری لائن کے باہر پہنچا رہے ہیں ۔ یوں میچ اس وقت ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔

  • کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    ۔ ملک میں سیاسی ہلچل اور سیاسی درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہر پانچ منٹ بعد کوئی نہ کوئی بریکنگ نیوز آرہی ہے ۔ کوئی نہ کوئی گروپ ، اتحادی ، حکومتی ارکان یا اپوزیشن لیڈر پریس کانفرنس کر رہا ہے ۔ یوں کراچی سے پشاور تک اور کوئٹہ سے لاہور تک اسلام آباد میں تخت بدلے جانے کی خبریں گردش میں ہیں ۔
    ۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی بات کریں تو دھمکیاں دینے سے وہ باز نہیں آرہے ہیں لگ یوں رہا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ڈرانا چاہ رہے ہیں مگر اپوزیشن مزید تگڑی ہوکر سامنے آرہی ہے ۔ بلکہ دیکھائی یوں دیتا ہے کہ اپوزیشن اب عمران خان کے ہر حملے کا جواب ان کی ہی زبان ، انکے ہی انداز اور ان کے ہی طریقے میں دینے کے لیے مکمل تیار ہے ۔
    ۔ کراچی کے بعد آج لاہور میں عمران خان نے دوبارہ اس بات کو دوہرایا ہے کہ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد سب کا حساب چکتا کر دوں گا۔ پنجاب میں پیدا ہونے والے حالات پر بھی قابو پا لیں گے، تمام ارکان میرا ساتھ دیں گے، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔۔ کیونکہ میرے کپتان نے اپنی جارجانہ انداز بیان سے گرما گرمی خوب بڑھا دی ہے تو آج پارلیمنٹ لاجز میں موجود اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی کی سکیورٹی کیلئے جے یوآئی کی سکیورٹی تنظیم انصارالاسلام کے سکیورٹی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے ۔۔ پھر انصار الاسلام کے کارکنوں کی موجودگی پر اسلام آباد پولیس نے آپریشن کرکے متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔ پولیس جے یو آئی کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی کو بھی گرفتار کر کے لے گئی جبکہ متعدد رضا کاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے اپنے کارکنوں کو ملک بھر سے اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جو کارکن اسلام آباد نہ پہنچ سکے وہ اپنے اپنے علاقوں میں سڑکوں کو جام کردیں۔۔ کیونکہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے ارکان کے لاپتہ کیے جانے اور سکیورٹی پر خدشات ظاہر کیے تھے جس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انصار الاسلام کے کارکن اپوزیشن کے تمام ارکان کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔

    ۔ اب اس پر شہباز گل سمیت دیگر تو خوب سیخ پا ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ اس معاملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا یہ سیکورٹی لیپس ہے۔ بلکہ آئی جی اسلام آباد کوکوس رہے تھے۔ بہرحال آئی جی اسلام آباد نے اسکا فوری نوٹس لے کر کئی پولیس افسران معطل کر دیے ۔۔ مگر ن لیگ کی مریم اورنگ زیب اور دیگر اپوزیشن والوں کا کہنا ہے کہ جب کھلے عام دھمکیاں دی جائیں گی تو ہم اپنے ارکان کی سیکورٹی کابندوبست تو کریں گے ۔ ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عمران خان اگر مزید ایک دو دن ایسے بیانات دیتے رہے تو معاملات کس نہج تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ خود ان کی اپنی حکومت اور پارٹی کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا ۔ کیونکہ بیانات دینا ، ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنوانا کچھ اور چیز ہے اور عملی طور پر گراونڈ پر حالات کچھ اور معاملہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے عمران خان کی اس وقت عوامی حمایت ویسی نہیں ہے جیسے 2018کے الیکشن سے پہلے تھی اور اس چیز کو ہی اپوزیشن سب سے زیادہ کیش کررہی ہے ۔ مگر عمران خان اب بھی اپنے پرانے اسٹائل میں ہی اپوزیشن کو ڈیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اب وہ حکومت میں ہیں اور دیگر جماعتیں اپوزیشن میں ہیں ۔ ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو بلاول بھٹو زرداری نے دھواں دار پریس کانفرنس کی ہے ۔ جس میں وہ کافی غصہ میں بھی دیکھائی دیئے ۔ مگر غصے کے باوجود انھوں نے کسی نازیبا لفظ کا استعمال نہ کیا ۔ مگر چھوڑا انھوں نے کسی کو نہیں ۔۔ گزشتہ روز کی کپتان کی دھمکیوں کا بڑا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے باور کروا دیا کہ اگر بندوق کی بات ہوگی تو چلائی تو کبھی نہیں مگر ایسا نہیں کہ وہ چلا نہیں سکتے ۔ بلاول نے یہ بھی یاد کروایا کہ عمران خان کے والد اکرام اللہ نیازی کو کرپشن الزامات پر نوکری سے نکالا گیا ۔ پھر اس بات کو بنیاد بنا کر انھوں نے کہا کہ۔ عمران خان کو شرم نہیں آتی، اپنی والدہ کے نام پر اسپتال کے پیسے پر ڈاکا ڈال کر اپنی پارٹی چلائی، امریکی عدالت نے آپ کے خلاف فیصلہ سنایا ہے لیکن آپ دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہو۔۔ پھر بشری بی بی کو بھی نہیں چھوڑا اور کہا کہ میں نے کبھی بھی خاتون اول کے بارے میں کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی لیکن خاتون اول کی کرپشن کے بارے میں جو باتیں کی جا رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں کوئی ٹرانسفر اور پوسٹنگ اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک خاتون اول کو پیسے نہ دیے جائیں۔
    ۔ جبکہ مولانا کے حوالے سے کہا کہ ہمارا مولانا کی فیملی سے 1971 سے سیاسی اختلاف ہے لیکن میں نے کبھی بھی مولانا فضل الرحمان کے خلاف غلط زبان استعمال نہیں کی۔ آپ کو شرم نہیں آتی کہ آپ مولانا فضل الرحمان کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔

    ۔ بلاول کے بعد اپوزیشن کی جانب سے دوسرا بڑا حملہ ن لیگ کی طرف سے ہوا ۔ مریم نواز نے عمران خان شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری جماعت کے بخیے ادھڑ رہے ہیں اور اس کی ذمہ دار نہ اپوزیشن ہے اور نہ کوئی ملکی یا غیر ملکی سازش۔ اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں، آپ کی گندی زبان ہے، آپ کا تکبر اور غرور ہے اور اپنے ممبران کو احترام نہ دینا ہے۔ اب بہت دیر ہو چکی۔ آپ کی خالی دھمکیاں اب کسی کام کی نہیں۔
    ۔ غصہ، اشتعال، دھمکیاں، گالیاں، زبان درازی، گھبرا گئے ہو نا ۔۔۔
    ۔ تم نے پاکستان کو تباہی و بربادی کے گڑھے میں پھینک دیا ہے ۔
    ۔ مزید سازش کا واویلا کر کے تم قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
    ۔ تمہارا کارنامہ یہ ہے کہ تم نے پاکستان کو اندرونی طور پر تباہ و برباد اور بیرونی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ اپنا انجام دیکھ کر گھبراؤ نہیں- ڈرامہ بازی بند کرو۔۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے زرا شائستہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو اپنا انجام نظر آنے لگا ہے جس کے باعث وہ چور چور کا واویلا مچا کر غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ گھٹیا سیاست کر رہے ہیں ۔ ۔ تو اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران نیازی نے اپنی تقاریر میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔ ان کے ساتھیوں کو چاہئے کہ جب کچھ ایسا کہنے لگیں ان کے منہ پر ٹیپ لگا دیں ۔ ۔ دراصل آج بلاول اور مریم سمیت دیگر نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ جو سمجھتے ہیں اپوزیشن ڈر جائے گی اور پیچھے ہٹ جائے گی۔ ایسا نہیں ہوگا ۔ اور اگر عمران خان اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی کوشش کریں گے تو رہتے وہ خود بھی شیشیے کے گھر میں ہی ہیں باقی بھی پتھر مارسکتے ہیں۔۔ دیکھا جائے تو گزشتہ کئی روز سے عمران خان کافی جارحانہ انداز میں اپوزیشن کو باونسرز مار رہےتھے ۔ مگر آج اپوزیشن نے بھی میدان عمل میں آکر کپتان کو چوکے چھکے لگا دیے ہیں۔ ۔ کیونکہ جس طرح آج اپوزیشن نے آکر حملہ کیا ہے اب عمران خان اپنے بیانات کے حوالے سے بیک فٹ پر نہ گئے تو نقصان زیادہ ان کا ہی ہوگا ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ پیچھے نہیں جائیں گے بلکہ مزید غصہ دیکھانے کی کوشش کریں گے ۔ مگر اس بار حالات ان کے لیے سازگار نہیں ہیں ۔ ۔ کیونکہ جب بلاول یا مریم یا شہباز یا مولانا ۔۔۔۔ عمران خان کی بیگم بشری بی بی ، والد گرامی ، شوکت خانم ہسپتال اور انکی بہن پر بات کریں گے تو یہ چیزیں پھر میڈیا پر بھی ڈسکس ہوں گی ۔ اور جب یہ وہاں ڈسکس ہوں گے تو یہ چیزیں عمران خان کو بہت دکھی کریں گی ۔ ۔ مراد سعید سے پریس کانفرنس کرواکر اس کو کور اپ کرنے کی کوشش تو کی ہے ۔ مگر یہ مراد سعید کے بس کی بات نہیں کیونکہ اپوزیشن کی تمام لیڈر شپ نے خود سامنے آکر عمران خان کو جواب دیا ہے ۔

    ۔ یوں اپوزیشن صرف ڈرائنگ روم کی سیاست میں ہی نہیں عمران خان کو ٹف ٹائم دے رہی ہے بلکہ بیانیہ کی جنگ میں بھی خوب رگڑا لگا رہی ہے ۔ اس وقت دیکھنے اور سمجھنے کی یہ بھی ضرورت ہے کہ وہ لوگ جو کپتان کی وفاداری کادم بھرتے تھے ۔ خاص طور پر عمر ایوب ، خسرو بختیار ، غلام سرور ، اعظم سواتی ، اعجاز شاہ ، فخر امام وغیرہ ۔۔۔ ایسی ناموں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ یہ بالکل منظر سے غائب ہیں ۔ اب یہ نہ تو کوئی پریس کانفرنس کررہے ہیں ۔ نہ ٹی وی شوز میں جارہے ہیں ۔ ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ یہ وہ کردار ہیں۔ جو موسم بہار ہو تو سب سے آگے یہ ہوتے ہیں اور جب موسم خزاں کا ہو تو یہ اردگرد تو دور کی بات یہ بھی شائبہ نہیں ہونے دیتے کہ یہ اس مشکلات میں گھیری سیاسی جماعت کے وزیر ہیں ۔۔ آخر میں یہ بھی بتا دوں کہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی ایک ہی حملہ میں دو وکٹیں گرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے ۔ ۔ پھر ترین گروپ میں تنازعات کی بہت سے خبریں گردش کررہی ہیں ۔ اس میں پی ٹی آئی والوں کی زیادہ کارستانی ہے ۔ حالانکہ صورتحال یہ ہے کہ ق لیگ کی دوبارہ انٹری کے بعد ممکن ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلی ق لیگ کا ہو ۔ اور اسپیکر ترین گروپ کا یا پیپلزپارٹی کا ۔ آج اس حوالے سے بھی تمام چیزیں تقریباً فائنل ہوجائیں گی ۔ ۔ میری چڑیل کے مطابق جس طرح اپوزیشن نے پلاننگ کی ہے اگر ویسا ہوگیا تو ۔ نیا صدر پیپلزپارٹی سے ، اسپیکر جے یوآئی ف سے ، وزیر اعظم ن لیگ سے اور وزیر اعلی ق لیگ سے آتا دیکھائی دے رہا ہے ۔