Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    پاکستان کی سات ہزار میں سے ساڑھے ہانچ ہزار کلومیٹر سرحدیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہیں جو کسی طور پر بھی محفوظ اور دوستانہ نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کے بری طرح براہ راست متاثر ہو گا۔ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بیٹھے گا بھی یا نہیں۔ ۔ دوسری جانب بھارت نے جموں،کشمیر اور لداخ پر غاصبانہ قبضہ کرکے جنونی بھارتی قیادت خطہ کے حالات کو لہو لہان کردینا چاہتی ہے۔ ۔ تیسری طرف (FATF) نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھ کر عالمی پریشر برقرار رکھا ہے۔ ۔ چوتھا اقتصادی طور پر پاکستان بدستور آئی ایم ایف کی کالونی بنا ہوا ہے۔۔ یہ بہت مشکل صورت حال ہے جس سے ملک کو بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ۔ اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت میں بھی ایسے لوگ ہیں اور اپوزیشن میں بھی ایسے لوگ ہیں ۔ جو اپنے اپنے کام سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ حکومت والوں کا لہجہ اپوزیشن کا سا ہے اور اپوزیشن کا حکومت کا سا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ہماری جمہوریت آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے بھاگنے میں لگی ہے۔ میری نظر میں اگر اس وقت پاکستان کا کوئی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو وہ ہے افغانستان کی موجودہ صورتحال ۔ کیونکہ آنے والوں سالوں اور دہائیوں میں جو بھی افغانستان کے حالات ہوں گے وہ پاکستان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوں گے ۔ مگر دوسری چیزوں کی طرح اس معاملے پر بھی ہمارے سیاستدانوں کو کچھ ادراک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے ۔ رہی بات عوام کی تو وہ بھی لگتا ہے صرف ٹک ٹاک بنانےاور دیکھنے میں لگی ہے ۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ ہمارے دروازے پر کیا مصیبت دستک چکی ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی بے ڈھنگا فیصلہ ملک کو ایک بار پھر شدید بحران سے دوچار کرے گا۔ قومی معیشت ویسے ہی کمزور ہے۔ کورونا وائرس نے بھی حالات کی خرابی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اب اگر افغانستان کے حوالے سے کوئی مہم جوئی ہوئی تو پاکستان کے لیے معاملات کو سنبھالنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بیانیے کا دور ہے اور انٹرنیشنل محاذ پر ہم ابھی تک وہ بیانیہ نہیں تشکیل دے پائے جو کہ دینا چاہیے تھا ۔

    ۔ آپ دیکھیں افغان فوج کا مورال گرا ہوا ہے اور اس معاملے میں افغانستان کے صدر پاکستان پر الزام تراشی کا موقع ضائع نہیں کر رہے۔ سوال یہ ہے کہ بیس سال تک امریکا اور اُس کے اتحادیوں سے بھرپور امداد پانے کے باوجود افغان فوج کو اب تک اتنا مضبوط کیوں نہیں کیا جاسکا کہ وہ اتحادی افواج کے بعد ملک کو بہتر طور پر سنبھال سکے؟ اب یہ سوال کوئی نہیں اُٹھا رہا ہے اور ایک بار پھر سارا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ اور شاید عنقریب آپکو پھر سے یہ سننے کو ملے کہ DO MORE ۔ پاکستان کے لیے ایک بار پھر فیصلے کی گھڑی آگئی ہے۔ اہم ۔۔۔ پیش رفت ۔۔۔ یہ ہے کہ پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کھل کر اور واضح پر سامنے آچکے ہیں کہ کسی بھی صورت میں پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ چاہے وہ طالبان کے لیے ہو یا پھر امریکہ کے لیے ۔ پاکستان افغانستان میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا مخالف بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان افغانستان میں خانہ جنگی نہیں چاہتا وہاں مستقل اور پائیدار امن چاہتا ہے اور اسکے لیے ہر حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ پاکستان افغانستان میں عوامی تائید سے بننے والی حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ یقینی طور پر یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے ۔ ۔ پر اصل مسئلہ عالمی طاقتوں کا ہے سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں ۔ کیونکہ چین اور روس کے مفادات اپنی جگہ ہیں امریکہ کے مسائل اور اس کی ضروریات اپنی جگہ ہیں اس میں یہ تو طے ہے کہ ان تمام ممالک کو ہر حال میں پاکستان کی ضرورت ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جائے تو جائے کہاں ۔ یعنی ایک آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ مگر اس حوالے سے دنیا کو قائل کرنا ، دنیا کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے ۔ جتنا ایک اچھا فیصلہ کرنا ہے ۔

    ۔ کیونکہ اس نئی جنگ کے پس منظر بہت سے ممالک اپنی دشمنیاں بھی نبھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کو چوکنا اور ہوشیار بھی رہنا ہے کہ کہیں افغانستان کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ پاکستان ان کی نئی
    battle groundنہ بن جائے ۔ کیا آپ نے نوٹس کیا ہے گزشتہ چند دنوں میں پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ کیا ایک بار پھر سے بڑے شہروں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان تمام چیزوں پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ان سدباب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ عمران خان کہتے ہیں کہ امریکا جس طور بھارت سے روابط رکھتا ہے بالکل اُسی طور پاکستان کو بھی جگہ دے۔ وزیراعظم شاید بھولتے ہیں کہ بھارت نہ صرف یہ کہ بڑی منڈی ہے بلکہ دنیا کو بڑی تعداد میں ورک فورس فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔ بھارت کسی بھی طاقت سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہے۔ بدقسمی سے ہم نہیں ہیں ۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اندرونی اختلافات اور تضادات سے جان چھڑانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ ۔ دوسری جانب بات سخت ہے پر آپ دیکھیں کہ پاکستانی سیاست کے کردار ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کو دن رات سیاسی حل تلاش کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔ امریکہ تک کو عقل کے ناخن فراہم کرنے کے لیے سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہی ناخن حکومت ، عمران خان ، نواز شریف ، زدراری یا دیگر اپنے استعمال میں لانے کو تیار نہیں ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں انتہائی اعتماد کے ساتھ یہ بات تو کر دی ہے کہ طالبان سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کابل پر قبضہ نہ کریں۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان وزیراعظم عمران خان کی بات مان لیں گے کیا طالبان، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروہ اپنے وہ اہداف ترک کر دیں گے۔ جن کے لئے وہ دہائیوں سے لڑ رہے ہیں؟۔ اس لیے اس چیز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ طالبان کی قوت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف وہ دارالحکومت کابل کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں اور دوسری طرف افغان قیادت امریکا کے در پر گری ہوئی ہے۔ معاملات بالکل واضح ہیں۔ ۔ افغان قیادت چاہتی ہے کہ امریکا اپنی افواج کا انخلا مکمل ہو جانے کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے سے ضامن کا کردار قبول کرے۔ طالبان پر قابو پانا تنہا افغان قیادت یا فوج کے بس میں نہیں ہے ۔ ایسے میں صدر اشرف غنی امریکا اور یورپ سے کوئی باضابطہ ضمانت چاہتے ہیں کہ طالبان کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کی جاتی رہے۔ ۔ پر سوال یہ ہے کہ امریکا کیوں چاہے گا کہ فوج نکالنے کے بعد بھی اس کا افغانستان کے معاملات سے کچھ تعلق رہے؟ اور بالخصوص ایسا تعلق جس میں ذمہ داری بھی نمایاں ہو؟ ۔ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ افغان حکومت کا انجام بھی سویت افواج کے انخلا ء کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کی طرح ہونے والا ہے ۔ اس کے بعد امریکہ کے تشکیل کردہ داعش و القاعدہ گروہوں کے افغان طالبان کے ساتھ تصادم کی صورت میں ایک بڑی خانہ جنگی کا خطرہ ہے ۔ جس کے شعلوں سے پاکستان سمیت افغانستان کے دیگر ہمسائے کسی صورت محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ شاید امریکہ کی خواہش بھی یہی ہے کہ افغانستان بدامنی کے دلدل میں دھنسا رہے۔ کیونکہ جتنا اس خطے میں انتشار ہوگا چین کے سی پیک اور روس کے مفادات کو نقصان پہنچاتا رہے گا ۔ تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں خانہ جنگی امریکہ کے مفاد میں ہے اور وہ حالات کو اس جانب ہی موڑ رہا ہے کہ افغانستان خوفناک اور خون خوار خانہ جنگی کا شکار ہو جائے ۔ ۔ کیونکہ جوبائیڈن کا یہ بیان بڑا معنی خیز اور پریشان کن ہے ۔ کہ ہم افغانستان سے جارہے ہیں۔ اب اپنی تقدیر کا فیصلہ افغانوں کو خود کرنا ہوگا۔ افغان قیادت کے لیے یہ ٹکا سا جواب راتوں کی نیندیں اڑانے دینے کو کافی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے پریشانی کا سامان ہوسکتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں حالات خراب ہیں۔ ۔ اشرف غنی کی قیادت میں وہاں کی سیاسی قیادت شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ اُس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا کہ مغرب کے مکمل انخلا کے بعد طالبان سے کیونکر نمٹا جاسکے گا۔

    ۔ اس لیے اب پاکستان کو افغانستان کے حوالے ہر فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ معمولی سی غلطی ایک بار پھر ہمیں داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار کرسکتی ہے۔ لازم ہوچکا ہے کہ ہر پالیسی بہت سوچ سمجھ کر اپنائی جائے اور کسی بھی فریق کو بے جا طور پر نوازنے یا اُس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ رکھنے سے گریز کیا جائے۔۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سٹیک ہولڈرز افغان معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسی پالیسی بنائیں کہ پاکستان نقصان سے بچ جائے ۔ ورنہ نوشتہ دیوار اب سامنے لکھا دیکھائی دینے لگا ہے ۔ کیونکہ پاکستان ایک بار پھر تاریخ دو راہے پر کھڑا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تمام فریق مطمئن و متفق نہیں ہونگے ۔ ورنہ امریکہ چلا جائے یا کوئی اور آ جائے۔ افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔

  • مودی کی نئی گھناؤنی چال. تحریر : نوید شیخ

    مودی کی نئی گھناؤنی چال. تحریر : نوید شیخ

    ۔ مودی کی زیرصدارت مسئلہ کشمیر پر نام نہاد آل پارٹیز کانفرنس ناکام ہو گئی ہے ۔ کیونکہ کانفرنس میں کشمیری کٹھ پتلی لیڈران عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی پھٹ پڑے ہیں اور انھوں نے بھارت کی کشمیر پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کا بھارت کے ساتھ اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ وادی میں نئی حلقہ بندیاں بھی ہمیں قبول نہیں۔

    ۔ اسی طرح سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کہا ہے کہ پانچ اگست کو غیرقانونی طریقے سے دفعہ 370 کو آئین سے حذف کیا گیا۔ ہم نے مودی سے کہا ہے کہ جب طالبان سے بات ہوسکتی ہے تو پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت کرنی چاہیے۔ ۔ حقیقت میں مودی سرکار نے عالمی دبائو کو ٹالنے کیلئے کشمیری لیڈران کو آل پارٹیز کانفرنس کا دانہ ڈالا مگر بھارتی کٹھ پتلی قیادت بھی کشمیر کی آزادی کے برعکس کوئی بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ جس ’’ریاست‘‘ کو اب ’’بحال‘‘ کرنے کی تیاری ہورہی ہے اسے لداخ سے الگ کردیا گیا ہے۔وہ دلی سے براہِ راست چلائی Union Territoryہی رہے گا یعنی
    ’’وفاق کے زیر انتظام‘‘ علاقہ۔۔ لداخ سے الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اب درحقیقت ایک صوبے کی حیثیت میں ’’بحال ‘‘ کیا جائے گا جو آئینی اعتبار سے بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح اس ملک کا
    ’’اٹوٹ انگ‘‘ہوگا۔۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت جموں وکشمیر کو فراہم ہوئی ’’خصوصی حیثیت‘‘ اب بحال نہیں ہوگی۔ اس طرح اپنے طور بھارت کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کو ’’حل‘‘ کردے گا۔

    ۔ یوں باقی ماندہ مقبوضہ کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں مرکزی حکومت کا مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر تعینات ہو گا۔ لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ قرار دیا گیا ہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔ بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ لداخ میں ہندو باشندوں کو ملک کے دوسرے علاقوں سے لا کر بسایا جائے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ نے اے پی سی میں جس واحد معاملے پر بات کی وہ مقبوضہ کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق مشاورت ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ حلقہ بندیاں اس طریقے سے کی جائیں کہ مخصوص علاقوں میں ہندو ووٹر اکثریت میں ہوں۔ بھارت حلقہ بندیوں کے معاملے پر الگ جبر کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارتی آئین کے تحت 2026ء سے پہلے نئی حلقہ بندیاں نہیں ہو سکتیں۔ مودی حکومت نے گزشتہ برس آسام میں جب مرضی کی حلقہ بندیوں کی کوشش کی تو اسے مقامی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب مودی اسی آئینی خلاف ورزی کو مقبوضہ کشمیر میں متعارف کرانے کی کوشش میں ہے تاکہ کشمیر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دیا جا سکے۔ بھارت اس طرح کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے گئے استصواب رائے کے وعدے کے متبادل کے طو پر بروئے کار لانے کا خواہاں ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے متعلق بھارت کے عزائم کسی لحاظ سے خیر پر مبنی نہیں۔

    ۔ صورتحال یہ ہے کہ دو سال کے دوران ہزاروں افراد کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لاکر کشمیر میں آباد کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف مسلسل آپریشن ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی املاک کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ باغات کو کاٹا جا رہا ہے اور دکانوں کو منہدم کرنے کی پالیسی اختیار کر کے روزگار تباہ کئے جا رہے ہیں۔۔ دوسری جانب افغانستان کی بدلتی صورت حال اور امریکی رویے میں تبدیلی نے مودی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ پاکستان سے کشمیر پر مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے۔ مودی مذاکرات سے قبل کشمیر کا معاملہ اس حد تک الجھا دینا چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بجائے مودی حکومت کے اقدامات زیر بحث رہیں۔ مودی کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کے لئے اے پی سی جیسے اقدامات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ یوں بھارت کا خیال ہے کہ یہ بین الاقوامی مداخلت کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ مودی چاہے جتنی بھی پلاننگ کرلے مگر یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ اس کے یہ منصوبے کتنے کامیاب ہوتے ہیں ۔ ۔ اس نام نہاد کانفرنس میں بھارت نواز آٹھ پارٹیوں کے 14رہنمائوں نے شرکت کی جبکہ کانفرنس میں کشمیریوں کی اصل نمائندہ حریت قیادت کو نظرانداز کردیا گیا۔

    ۔ جبکہ مودی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں انتخابات کے بعد کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جو کہ ایک ڈھکوسلا ہے ۔ دلاسا ہے ۔ بالکل ایسا ہی ہے کہ یہ کرلو تو ریاستی حیثیت بحال کر دیں گے ۔ یعنی مودی نے ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی سازش رچ دی ہے ۔ ۔ کیونکہ اگر کشمیریوں کو یہ بھارتی فیصلہ قبول ہوتا تو وہ کٹھ پتلی اسمبلی کے ہر انتخاب کے بائیکاٹ کا راستہ اختیار نہ کرتے اور نہ ہی وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھتے۔۔ اس طرح مودی سرکار کی کشمیریوں کو تقسیم کرنے کی سازش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ کشمیریوں کی منزل درحقیقت مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت کی بحالی نہیں بلکہ بھارتی تسلط سے آزادی ہے جس پر وہ کسی مفاہمت کیلئے تیار نہیں اور پاکستان کا بھی یہی دیرینہ اور اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل یواین قراردادوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ ۔ دوسری جانب حریت قیادت نے بجا طور پر بھارت اور دنیا کو باور کرادیا ہے کہ مودی کا رچایا جانے والا ڈرامہ کشمیروں کے زخموں پر نمک پاشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔۔ دراصل مودی کشمیریوں سے غداری کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ کیونکہ کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں اور پاکستان کی شرکت کے بغیر تنازعۂ کشمیر کے حل کیلئے کوئی بھی ملاقات یا مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتے۔ کشمیری عوام بھارت سمیت مودی پر اعتماد کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ کیونکہ مودی نے کشمیر کو جھنڈے ،شناخت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے اپنے زرخریدوں کی بھی تذلیل کی ہے جبکہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    ۔ کشمیری عوام اپنی دھرتی کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں وہ اب تک اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں جبکہ انکی مالی قربانیوں کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو ہرگز تیار نہیں جنہوں نے درحقیقت اپنا مستقبل قیام پاکستان سے بھی پہلے پاکستان کے ساتھ منسلک کرلیا تھا۔ اسی تناظر میں کشمیر اور پاکستان کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ الحاق ہی کشمیریوں کی منزل ہے اور انکی اس منزل کا حصول ہی دراصل تکمیل پاکستان ہے۔

    ۔ بھارت نے گزشتہ دوسال سے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگا کر مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کا عملی طور پر کچھ نہ کرنا اور کرفیو ہٹانے کے لیے بھارت پر دباؤ نہ ڈالنا عالمی بے حسی اور بے ضمیری کا ثبوت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی اور عالمی پلیٹ فارموں پر لابنگ کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو احساس دلائے کہ جب تک بھارت جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دیتا تب تک خطے میں امن و امان قائم نہیں ہوسکتا۔

  • پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    آج ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کوگرے لسٹ میں ہی رکھا ہے ۔ اور کہا ہے کہ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے ۔ مزید کرتا رہے ۔ اس حوالے سے حماد اظہر نے ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سے 26 نکات پر عمل کرچکا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر Dr. Marcus Pleyer نے کہا کہ اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی بھارت کی حوالے سے دونمبری تو آگے چل کر بتاتا ہوں ۔ پراس حوالے سے حماد اظہر نے کہا ہے کہ جلد اس پر بھی عمل درآمد کر لیا جائے گا ۔

    ۔ پر اس حوالے سے کچھ چیزوں اور معاملات کو دیکھنا بہت ضروری ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو جب بھی ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہونے والا ہوتا ہے تو کچھ اہم واقعات اور چیزیں رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جاتا ہے ۔ ۔ سب جانتے ہیں کہ انڈیا کی سازشوں کے نتیجے میں حافظ سعید کو اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جن کا نام ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں متعدد بار لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کے بعد ہر قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ جبکہ پاکستان نے حافظ سعید کو 2019 میں گرفتار کیا جبکہ اس سے پہلے انھیں ان کے گھر میں نظر بند اور واچ لسٹ پر بھی ڈالا ہوا ہے۔

    ۔ توعین اجلاس سے پہلے لاہور میں ایک دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے اور یہ خاص حافظ سعید کے گھر کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ بڑا معنی خیز واقعہ تھا ۔ اس کے پیچھے کون ہے اس کا سراغ تو یقینی طور پر ایجنسیاں لگا رہی ہوں گے ۔ عنقریب اس میں ملوث کردار کیفر کردار تک بھی پہنچ ہی جائیں گے ۔ پر اس واقعہ سے واضح ہوگیا ہے کہ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف میں پھنسا رہے ۔ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر خود کفیل نہ ہوسکے ۔ کوئی ہے جو مسلسل پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی طور پر سازشیں جاری رکھے ہوئے ۔ اس ہی بارے چند روز قبل وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بغیر کسی لگی لپٹی نام لے کر کہا تھا کہ انڈیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ اس حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے جسے سیاسی معاملات کو نمٹانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ تو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو بیان دیا تھا اس سے واضح ہو گیا تھا کہ معاملات پیچیدہ نظر آرہے ہیں۔ اور پہلے سے معلوم تھا کہ اس بار کوئی ریلیف نہیں ملنا ۔

    ۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں انڈیا کو قانونی طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ ساتھ ہی اس وقت جو ماحول بنا ہوا ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف جاتا ہوا ہی نظر آ رہاتھا۔ کیونکہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کو ایک سائیڈ پر بھی رکھ دیں تو دوسری جانب افغانستان والا معاملہ بھی آپ کے سامنے ہے ۔ ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے پاکستان بڑھتا ہوا پریشر بھی آپ کے سامنے ہے ۔ تو افغان صورتحال کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے فورم کو امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جانا آپ رد نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں کئی حکومتی نمائندے جیسے کہ معید یوسف، شاہ محمود قریشی اور یہاں تک کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے خود ایسے بیانات دیے گئے ہیں کہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا الزام پاکستان پر عائد نہ کیا جائے۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں سے یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ایسا کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف اس طرح کا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد ایف اے ٹی ایف اور اس جیسے دیگر فورمز کو پاکستان کے خلاف استعمال کیاجانا مقصود ہے ۔

    ۔ دوسری جانب جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی فورمز تکنیکی ہوتے ہیں۔ اور انھیں ویسے ہی رہنے دینا چاہیے۔ کیونکہ ایسا نہ ہونا ایف اے ٹی ایف کی اپنی ساکھ کے لیے صحیح نہیں ہے۔ ورنہ ایسے فورمز پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے جو کہ ہو رہا ہے کیونکہ سیاست استعمال ہو رہی ہے۔ مگر طاقت کا اپنا اصول ہوتا ہے ۔ اس چیز کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جس کو استعمال کرکے بڑے ممالک چھوٹوں کو سرنگوں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    ۔ اس حوالے سے پاکستان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا اور اپنا house in order کرنا بھی ضروری ہے ۔ سازشوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنی بے وقوفیوں پر بھی نظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے ایک نمائندہ یا ترجمان ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر غور کیا جائے تو ایک ہی وقت کئی حکومتی وزرا اس حساس موضوع پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔ یہاں تک فردوس عاشق اعوان بھی اس پر اپنی ماہرانہ رائے دیتی رہتی ہیں ۔ اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ کئی ترجمان اور وزراء اپنے اپنے نمبر ٹانگنے کی چکروں میں ایف اے ٹی ایف پر سیاسی بیانات کا جواب دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کو نیچا دیکھانے کے لیے بلاوجہ کے گڑھے مردے اکھاڑے جاتے ہیں ۔ جس سے ہمارا کیس عالمی برادری کے سامنے کمزور ہو جاتا ہے اور جو مخالفین ہیں ان کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    ۔ کیونکہ انڈین میڈیا میں خبریں اور تجزیے دیکھ کر اور پڑھ لیں آپکو واضح تصویر پتہ چل جائے گی کہ انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے۔ اس وقت بھی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے تو وہاں پرخوب خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کیا جا رہے ہیں ۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ادارے اور قیادت بھارت کی اس کوشش کو ناکام بنا چکے ہیں کہ پاکستان بلیک لسٹ میں رہے لیکن اب بھارت چاہتا ہے کہ مزید سوالات اور اعتراضات ہوں۔ اور پاکستان پھر سے پیچھے کے طرف جائے اور گرے سے نکل کر کسی طرح بلیک لسٹ میں شامل ہو ۔ یوں ہم ایف اے ٹی ایف کے گھن چکر میں پھنسے رہیں ۔

    ۔ کیونکہ آپ گذشتہ تین برسوں سے انڈیا کے ذرائع ابلاغ اور اعلیٰ حکام کے بیانات دیکھ لیں ۔ ساتھ ہی انڈین سفارتکار ایشیا پیسیفک گروپ اور ایف اے ٹی ایف دونوں جگہ پاکستان کے خلاف لابینگ کرتے رہے ہیں ۔ پاکستان ایشیا پیسیفک گروپ کا تو رکن ہے لیکن وہ 40 رکنی ایف اے ٹی ایف کا رکن نہیں جہاں حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔ انڈیا اس کا ایک رکن ہے۔ جس کا وہ اس صورتحال میں فائدہ اٹھاتا ہے ۔ ۔ دوسرا سازشی تھیوریوں پر بھی کم دھیان دینا چاہیئے جیسے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انڈیا کے علاوہ فرانس بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاہم بعد میں پاکستانی وزارت خزانہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ انٹرنیشنل ۔۔۔ کوآپریشن ریویو گروپ ۔۔۔کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے فرانس پاکستان کا ایک فعال پارٹنر ہے جو تکنیکی معاونت اور ہدایات فراہم کرتا رہتا ہے۔ اسی کے پس منظر میں وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ افواہوں پر مبنی یا سسنی خیز خبریں شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے ہمارے بین الاقوامی تعاون اور ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔۔ دیکھا جائے تو ایف اے ٹی ایف کی اس وقت رہ جانے والی سفارشات پر پاکستان نے بھرپور کام کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعتراضات آتے رہے ہیں ۔ ان کا بھی پاکستان جواب دیتا رہا ہے اور آگے بھی دیتا رہے گا۔ اس لیے پاکستان کا یہ خیال تھا کہ پاکستان سے مزید کام کرنے یا ’ڈو مور‘ کی تلوار ہٹا دینی چاہیے۔ بالکل جائز خواہش تھی ۔

    ۔ مگر دنیا میں معاملات ایسے نہیں چلتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی شفارشات پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے بڑی شدید لابنگ اور بہترین سفارت کاری کی ضرورت بھی ہے۔ اور اس حوالے سے ایک فوکل پرسن کا ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔ ۔ کیونکہ جب ایف اے ٹی ایف کے سربراہ
    Dr. Marcus Pleyer سے سوال پوچھا گیا کہ کیا باقی ماندہ ایک آئٹم پورا کرنے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا یا منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایکشن پلان پر بھی عمل در آمد گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک آئٹم جو کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سزاؤں سے متعلق ہے اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق کا جائزہ لے گی۔ ۔ دوسری جانب اس موقع پر اردو نیوز کے نامہ نگار وسیم عباسی نے بھارت میں یورینیم کے لیک اور بھارت کے جائزے پر سوال کیا جس پر ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کا کہنا تھا۔ میں یورینیم سے متعلق میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہوں مگر جب تک ہم ان کا جائزہ نہ لے لیں تب تک اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ تو اس سے آپ اس فورم کی baisness
    کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ۔ گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔ تو ہم کو vigilant رہنے کی بھی ضرورت ہے اور عقل وفہم کا استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے ۔ ۔ ہم کو یاد رکھنا چاہیے اس بارے میں جہاں انڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز آنے والے دنوں میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے۔ وہیں امریکہ بھی اس تمام تر صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے۔ اور افغانستان کا غصہ پاکستان پر نکالنے کی راہ تلاش کر رہا ہے ۔

  • آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آج کافی دنوں بعد بڑی خبریں ہیں ۔ آج تمام چیزیں کھول کر آپ سامنے رکھوں گا کہ زرداری کا مشن لاہور کیا ہے ۔ کیسے جنوبی پنجاب محاذ دوبارہ سرگرم ہونے والا ہے ۔ پی ٹی آئی نے اگلے الیکشن کے لیے کن چالیس لاکھ ووٹروں سے امید باندھ لی ہیں ۔ اور دو سال پہلے ہی جنرل الیکشن کی تیاری کیوں شروع ہوگی ہے ۔

    ۔ مگر ان سب چیزوں پر بات کرنے سے پہلے چند آج کی خبریں ہیں ۔ آئل ٹینکر والے احتجا ج رہے ہیں جس سے کئی شہروں میں پیٹرول کی قلت ہوسکتی ہے ۔ فلور ملز والے احتجاج کررہے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ لاہور اور فیصل آباد میں آٹے کی قلت ہوسکتی ہے اور ریٹ اوپر جا سکتا ہے ۔ پھر سندھ میں گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے ۔ لاہور میں واسا نے پانی کے بلوں میں
    45
    فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ آئل ٹینکر والے اور فلور مل والے بھی اضافی ٹیکسوں کی ہی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ حالانکہ بجٹ دیتے وقت کہا گیا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے ۔ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ابھی بجٹ نے پاس ہونا ہے مگر اس کے ثمرات عوام تک پہنچانا شروع ہوگئے ہیں ۔

    ۔ سیاست کی بات کریں تو کچھ ہفتے پہلے اپوزیشن میں جو جوش و خروش پیدا ہوا تھا۔ اب وہ سرد پڑ گیا ہے ۔ لے دے کر شہباز شریف ہی دیکھائی دیتے ہیں ۔ مریم نواز کی گھن گرج بھی اب ختم ہوگئی ہے ۔ وہ بھی تب ہی میڈیا کو اپنا درشن کرواتی ہیں جب کوئی پیشی ہو ۔ ورنہ سب سے سستی شائد خاموشی ہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کبھی کبھی میڈیا پراپنا چہرہ دکھاتے ہیں لیکن ہیں وہ بھی خاموش ہی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب لوگوں کو دیکھانے کے لیے ہو اور اندر کھاتے ایک بڑی پلاننگ چل رہی ہے ۔

    ۔ مگر ن لیگ اور پی ٹی آئی سے ہٹ کر ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت بھی ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی ۔۔۔ ۔ اس تمام منظر میں مفاہمت کے بادشاہ اور سیاست کے جادوگر سابق صدر آصف زرداری آئندہ انتخابات میں سرپرائز دینے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ ۔ زرداری کی پرویز الٰہی سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو ان کے عزائم اور مستقبل کے سیاسی نقشے کا پتہ دیتی ہے۔ میڈیا پر ذرائع کے حوالے سے شائع شدہ اندرونی کہانی کے مطابق دوران ملاقات آصف زرداری نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرکے کہا ۔۔۔ آپ ہمارے بھی اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی ہیں۔ فرق تو پتا چل گیا ہوگا؟ عمران خان کبھی سیاستدان نہیں تھے، خان کو لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں، اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب کو سرپرائز دے گی۔ جلد جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گی۔ ۔ اس موقع پر پرویز الٰہی نے بھی بلاول بھٹو کی تعریف کی اور کہا کہ قومی اسمبلی میں متعدد مرتبہ بلاول بھٹو کی تقریر سنی بہت میچور بات کرتے ہیں۔۔ اس گفتگو سے حساب لگائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اگلے الیکشن کی تیاری میں کمر کس چکے ہیں۔

    ۔ اب یہاں زرا رک جائیں ایسا نہیں ہے کہ عمران خان یا پی ٹی آئی اس پلاننگ سے غافل ہے یا ان کو پریشانی نہیں ہے ۔ یہ جو تارکین وطن کو ووٹ کا حق اور ای ووٹنگ کا شور ہے اس کے بڑے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کیونکہ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 88 لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ان میں اضافہ بھی ہوا ہو گا ۔ اور کمی بھی ہوئی ہو گی ۔ ان میں چند لاکھ پاکستانی وہ بھی ہوں گے جن کے کاغذات کا مسئلہ ہو گا ۔ جو بطور ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر سکیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں تو کم و بیش چالیس سے پچاس لاکھ نئے ووٹر تو ہوں گے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ ۔ اب گزشتہ الیکشن میں کُل ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکیاون ہزار ووٹ پاکستان تحریک انصاف نے حاصل کئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ چھیانوے ہزار ووٹ حاصل کیے تھے ۔ اسی طرح سے پاکستان پیپلز پارٹی نے انہتر لاکھ ایک ہزار ووٹ حاصل کئے تھے ۔۔ یوں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ووٹ میں چالیس لاکھ کا فرق ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے اٹھاون لاکھ جبکہ پی ٹی آئی سے ننانوے لاکھ ووٹ پیچھے ہے۔ ۔ اب اگر مقبولیت میں کمی بیشی کا حساب سامنے رکھیں تو شہروں میں مہنگائی کے باعث تحریک انصاف کا ووٹ بینک ضرور متاثر ہوا ہے۔ ۔ تو اس جمع تفریق کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر اُمیدوں کا محور سمندر پار پاکستانی ہیں۔ اس لیے یہ حکومت ہر حال میں جائز ناجائز طریقے سے ان کو ووٹ کا حق اور سسٹم میں شامل کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ صرف یہ ہی ایک واحد صورت باقی رہ گئی ہے جس کے بدولت وہ دوبارہ حکومت بنا سکتے ہیں ورنہ تو جو کارکردگی ہے اس بنیاد پر تو شاید اس بار پی ٹی آئی کے پی کے میں بھی حکومت نہ بنا سکے ۔ ۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتیں بھی ہر قیمت پر انتخابی اصلاحات میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ ووٹ بینک کہاں جانا ہے اور یہ فیصلہ کس کے مفاد میں ہوگا ۔ ۔ اب جو بات زرداری کررہے ہیں کہ وہ جنوبی پنجاب میں نقب لگائیں گے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سالوں میں محض سیکرٹریٹ کا لالی پاپ دیا گیا ہے ۔

    ۔ اگرآپ کو یاد ہو تو جس وقت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنا کر جنوبی پنجاب کے سیاستدان تحریکِ انصاف سے بالواسطہ طور پر منسلک ہوئے تھے تو تحریکِ انصاف کی ایک لہر موجود تھی۔ لوگ ایک نئی سیاسی جماعت کو آزمانے کے موڈ میں تھے۔ تبدیلی کا نعرہ اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ اس پر جنوبی پنجاب سے تحریکِ انصاف کو ایک بڑی فتح ملی تھی۔ پر اب صورتحال یہ ہے کہ شاید تحریک انصاف جنوبی پنجاب سے اپنی جیتی ہوئی نشستیں حاصل نہ کر سکے۔

    ۔ زرداری نے اس چیز کو پڑھ لیا ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان مجبوری میں اس حکومت کی طرف سے وعدے وفا نہ ہونے پر نئی منزلوں کی طرف اڑان بھریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان کی بڑی تعداد ان کے ساتھ آسکتی ہے۔ ۔ اس کا اشارہ جہانگیر ترین نے بھی صحافیوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات میں دیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو آپشن نہیں کہا تھا لیکن مسلم لیگ ن سمیت تمام آپشنز کھلی رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔۔ یہاں آپکو یاد کروا دوں کہ جنوبی میں زیادہ تر electables ہیں ۔ جن کو الیکشن جیتنے کے لیے کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ ہی electables جب ن لیگ میں گئے تھے تو ان کی حکومت بن گئی تھی اور جب یہ ہی گزشتہ الیکشن میں ہجرت کرکے پی ٹی آئی میں گئے تو ان کی حکومت بن گئ تھی ۔۔ شاید اسی لئے زردری کو یہ امکان نظر آتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب سے صوبائی اسمبلی میں نقب لگائی جا سکتی ہے۔ ایسا ہوگیا تو یہ ایک بہت بڑا کرشمہ ہوگا۔۔ سندھ کی نشستوں کے ساتھ پنجاب اور کے پی سے کچھ نشستیں اگر پیپلز پارٹی کو مل گئیں تو اگلے الیکشن میں مرکز میں پیپپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں ان کی توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب ہے۔ جہاں تک ۔۔۔ کے پی کے ۔۔۔ کی بات ہے تو ماضی بتاتا ہے کہ کے پی کے عوام کسی بھی حکومت کو زیادہ عرصہ تک مسلط نہیں رہنے دیتے۔۔ یوں جنوبی پنجاب اور کے پی کے سے اگر آصف زرداری کی توقعات پوری ہو جائیں تو اگلے الیکشن میں وفاق پر کنٹرول کا خواب پورا کرنا آصف علی زرداری صاحب کی سیاسی جادوگری کیلئے مشکل مہم نہیں ہوگی۔ یوں اگر پیپپلز پارٹی اگلے الیکشن میں 90کے قریب سیٹیں لینے میں کامیاب ہوجائے تو وہ جوڑ توڑ کرکے ، ق لیگ ، جے یو آئی دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر بآسانی وفاق میں حکومت بنا سکتی ہے ۔

    ۔ اس لیے فی الحال جنوبی پنجاب کے امیدواروں پر ’’باریک بینی سے کام‘‘ شروع کئے جانے کی اطلاعات نے حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچائی ہوئی ہے ۔ اب لگتا ہے کہ وہ بات جو عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سوچی مگر دبا لی۔ اس نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے عمران خان کی جماعت اندر خانے کام کرنے میں مصروف ہے ۔ یوں تحریک انصاف کو وعدے پورے نہ کرنے پر جنوبی پنجاب میں جو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کا جو ووٹ بینک متاثر ہوگا۔ اس کا اندازہ اگلے الیکشن میں ہوجائے گا ۔

  • مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو ہفتے سے مختلف افواہوں اور قیاس آرائیوں کے درمیان مودی نے اچانک مقبوضہ کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے جو کل دلی میں ہو گا۔
    ۔ بھارت نواز پیپلز الائنز میں شامل سبھی جماعتوں نے طے کیا ہے کہ وہ اس اجلاس میں شریک ہوں گے ۔ اس اجلاس کا اصل مقصد کیا ہے ۔اس کی تشہیر نہیں کی جا رہی ہے۔ مگر جان بوجھ کر حریت پسندوں کو اس اجلاس سے دور رکھا گیا ہے ۔

    ۔ یہ درست ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت نے کبھی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پر اگر دیکھا جائے تو چند روز پہلے انڈیا پاکستان کے درمیان اچانک جنگ بندی ہوئی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں مدد کر رہا ہے۔ اب انڈیا اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی تاجکستان میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی میٹنگ میں ایک ساتھ ہوں گے۔

    ۔ اس لیے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کشمیر کے بارے میں پس پردہ کچھ ہو رہا ہے۔ ابھی اس مرحلے پر اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے۔ اسے ریاست سے مرکزی علاقہ بنانے اور دوسرے سبھی معاملات میں کشمیر کی قیادت یا عوام کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ جس کے سبب بین الاقوامی سطح پر انڈیا پر تنقید بھی ہوئی اور پریشر بھی بڑھا ۔ خاص طور پر ابھی بھی انٹرنیشل فورمز پر جو بھارتی سفارت کاروں سے جو سب سے پہلا سوال ہوتا ہے وہ مقبوضہ کشمیر بارے ہی ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو اکثر موقعوں پر سبکی کا سامنا بھی رہا ہے ۔

    ۔ اس لیے اس آپشن کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مودی بات چیت کا راستہ کھول کر شاید اب دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر میں صورتحال معمول پر ہے۔ سیاسی عمل شروع ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتوں کے اشتراک سے ریاست میں انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تو اس طرح کے اقدامات سے بھارت کو نکتہ چینی کا جواب دینے میں آسانی ہو گی۔

    ۔ دوسری جانب مودی حکومت نے کشمیر کے منظر نامے سے حریت پسندوں کو کامیابی کے ساتھ سائیڈ پر کر دیا ہے۔ یاد رکھنے کی چیز ہے کہ اب بات چیت حریت پسندوں سے نہیں بلکہ ہند نواز جماعتوں سے ہو رہی ہے اور یہ جماعتیں زیادہ خود مختاری اور دوسرے سوالات کے بجائے کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے جیسے سوالات اٹھائیں گی۔۔ جیسا کہ محبوبہ مفتی نے پہلے تو نہ کی کہ وہ نہیں جائیں پھر ہاں کردی کہ وہ جائیں ۔ اور میڈیا ٹاک میں یہ بھی کہا کہ ہمیں آئین نے جو حق دیا اور جو ہم سے لے لیا گیا۔ اس کی بحالی کا ہم مطالبہ کریں گے۔ ۔ فاروق عبداللہ نے بھی کشمیر کی 5 اگست 2019 سے پہلے والی پوزیشن بحال کرنے کی بات کی ہے ۔۔ کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو بھی کشمیر کے سابق وزیر اعلی کے طور پر اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پر انھوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ریاست کے طور پر بحالی اس اجلاس کا سب سے اہم موضوع ہو گا ۔

    ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نریندر مودی لداخ سے کاٹے ہوئے ’’جموں وکشمیر‘‘ کا ’’ریاستی تشخص‘‘ بحال کرنے کا عندیہ دے۔ مگر اس تشخص کی ’’بحالی‘‘ کا اصل مقصد مگر یہ ہوگا کہ لداخ سے کاٹے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ’’صوبائی‘‘ حیثیت بحال کی جائے۔ ایسی بحالی کے لئے ’’ریاستی‘‘ یعنی صوبائی اسمبلی کے انتخاب ہوں ۔ مقبوضہ کشمیر میں محصور ہوئے بے بس ولاچار بنائے شہری ان میں حصہ لیں۔
    ’’اپنے نمائندے‘‘ چنیں تاکہ لداخ سے طاقت کے زور پر الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے ’’مقامی اور صوبائی‘‘ معاملات کو براہ راست دہلی سے چلانے کی ضرورت نہ رہے۔ اور نام نہاد ’’منتخب صوبائی حکومت‘‘ ہی یہ فریضہ سرانجام دے۔ تو اس حوالے سے پاکستان کو گہری نظر بھی رکھنا ہوگی اورہوشیار بھی رہنا ہوگا ۔ کیونکہ مودی ایک نئی ’’گیم‘‘ کھیلنے کی تیاری میں ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی تیاری میں ۔ اس لیے اس گیم کا حقیقت پسندی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ویسے بھارت اپنا پورا زور لگا چکا ہے کہ کشمیر کے مسئلے وہ اپنا ذاتی مسئلہ قرار دے کر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ تاہم بھارت سے وابستہ دنیا کے تمام تر کاروباری مفادات کے باوجود عالمی سطح پر کشمیر کو ایک تنازع ہی تسلیم کیا جاتا ہے اور اب تو مقبوضہ وادی میں بھارتی دہشت گردی کا معاملہ تصویری خاکوں ہی نہیں بلکہ میڈیا کی رپورٹ کے ذریعے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے کشمیری اپنے حق کے حصول کے لئے لازوال جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ۔ اگر جائزہ لیا جائے تو مودی سرکار نے اپنی تمام تر قوت اقلیتوں کی نسل کشی میں لگا دیں اس سلسلے میں مقبوضہ وادی پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہزار سے زائد لوگ غائب کئے گئے اس سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے گرفتار کرکے غائب کر دیئے گئے ۔

    ۔ بے بسی اور خوف کے سائے میں جیتی کشمیری خواتین کسی ایسے مسیحا کی منتظر ہیں جو آئے اور انہیں اس خوف سے باہر نکالے کہ اب انکا سہاگ بھارتی فوج کی گولیوں سے محفوظ ہے۔ ۔ مقبوضہ کشمیر کی مجبور اور لاچار خواتین دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین سے انصاف مانگ رہی ہیں۔وہ دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں۔سہاگ اجڑ جانے کے بعد انکی مشکالات اور تکالیف کو سمجھا جائے اور بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے ساتھ جو ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں اقوام متحدہ میں بیٹھی خواتین اس پر خاموشی کیوں ہیں۔۔ بھارت نے 74 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ، کشمیری جان و مال اور عزت کی قربانیاں دے کر الحاق پاکستان کے لیے وفاداری کی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ عالمی طاقتیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی ادارے ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بدترین کرفیو سے پوری طرح باخبر ہیں لیکن صرف معمولی مذمت جیسے بیانات کے سوا کچھ نہیں۔۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ مغرب ویسے تو دنیا بھر میں ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر شور مچاتا ہے لیکن بھارت نے تقریباً سات سو روز سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے پوری وادی کو ایک جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکنے کے باوجود یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ پاکستان کے لیے جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے بھول کر پاکستان آگے بڑھ جائے گا۔ یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور پورے خطے میں امن کا قیام اس مسئلے کے حل سے جڑا ہوا ہے۔

    ۔ بھارت کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا ہی ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اس نے اب تک جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ جمایا ہوا ہے ۔ مگر بھارت کے ہتھکنڈوں سے نہ تو کشمیری اپنے حق سے دستبردار ہوئے ہیں اور نہ ہی پاکستان نے ان کے حق میں آواز بلند کرنا چھوڑا ہے۔۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے 1947 ء سے لے کر اب تک ہمارا واضح اور دو ٹوک موقف رہا ہے۔ اور آج بھی یہ ہی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کیا جائے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو قابو کرنے اور پورے خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کروائے کیونکہ جتنی مرضی تجارت شروع ہوجائے ۔ جتنی مرضی امن کی آشائیں آپ چلا لیں ۔ جتنے مرضی ثقافتی طائفے یہاں وہاں کربھیج دیں ۔ کشمیر مسئلے کے حل ہوئے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ اور پر امن تعلقات ہرگز قائم نہیں ہوسکتے۔

  • روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    جو موجودہ حالات چل رہے ہیں قدرتی امر ہے کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات اب مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے زیر اثر جو ممالک ہیں ۔ عنقریب انکا ایک نیا بلاک بنتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے دنیا میں کافی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہوں گی ۔

    ۔ جب بھی ایسا ہوا تو یقینی بات ہے کہ اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل اپنا دائرہ اثر کھو دیں گے ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اس وقت بڑی تیزی سے دنیا ایک نئی دنیا بننے جا رہی ہے ۔ جہاں طاقت کا منبہ دو طاقتیں یا تین یا چار بھی ہو سکتی ہیں ۔ ہر خطے اور ہر علاقے کی اپنی ترجیحات ہوں گی ۔ مفادات ہوں گے ۔ ہر کسی کا اپنا انٹرنیٹ ، اپنی ٹیکنالوجی ، اپنی زبان ، اپنے قانون اور اپنے ہی اصول ہونگے ۔

    ۔ اس لیے فی الوقت تو امریکہ اور مغربی طاقت کا سورج بڑی تیزی سے غروب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پر ایک چیز جس کے بارے ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ مغرب جیسی سازش شاید ہی کوئی کرسکتا ہو ۔ اس میں یہ ماہر ہیں ۔ اور آج اس وی لاگ میں ۔ اس ہی بارے میں آپکو بتاوں گا ۔

    ۔ کہ کیسے امریکہ واقعتا چین اور روس کے مابین پائے جانے والے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن نے ایک فون کال کے دوران ، دونوں ممالک کے مابین جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد رکھی گئی ۔

    ۔ لگ ایسا رہا ہے کہ بائیڈن کی نئی انتظامیہ نے روس فوبیا کو چھوڑ دیا ہے اور ماسکو سے اتحاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی طاقت میں اضافہ کو امریکہ چین کے ہمسایہ میں بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو قائم کرکے زائل کیا جا سکتا ہے ۔

    ۔ حالیہ جوبائیڈن اور پیوٹن کی ملاقات میں بھی امریکہ یہ ہی کرنے کی کوشش کرے گا ۔ کہ روس کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا جائے اور بدلے میں روس کم ازکم چین والے میں معاملے میں نیوٹرل ہوجائے ۔ چپ ہو جائے ۔ کیونکہ اکیلے اکیلے چین یا روس کا مقابلہ کرنا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے زیادہ آسان ہے ۔ یہ وہی برسوں سے آزمودہ فارمولا ہے ۔ divide and rule والا۔ ابھی تک تو امریکہ اس سلسلے میں کامیاب ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔

    ۔ مگر یاد رکھیں طاقت کے اپنے اصول ہیں ۔ روس کا یہ خوف کہ وہ چین کے مقابلے میں کمتر حیثیت کا ہے ۔ مستقبل میں چین کے ساتھ تعاون کو روک سکتا ہے۔ روس میں واقعی کچھ لوگوں کو خوف لاحق ہے کہ چینی معیشت پر زیادہ انحصار ماسکو کو مراعات دینے پر مجبور کردے گا جس پر اب تک تو روس نے مزاحمت کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر روس کو لگا کہ اسے غیر منظم طور پر کسی محکوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ یا اگر چین کو لگتا ہے کہ اسے مغرب کے ساتھ کسی ناپسندیدہ تصادم میں گھسیٹا جارہا ہے۔ اور روس ساتھ نہیں دے رہا ۔تو یہ مفاہمت ختم بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ پھر آپ دیکھیں ہیں تو یہ دونوں ممالک ہی بڑے gaints اور شاید ٹیکنالوجی میں روس چین سے آگے ہی ہے ۔ مگر دوسری جانب چین کاروبار میں کافی آگے ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو مستقبل قریب میں اگر کوئی ایسا بندوبست ہوجاتا ہے کہ اس خطے میں چین اور روس کی اجارہ داری ہوگی تو اس کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہی ہوگا کہ جنوبی ایشیا ہو ، فار ایسٹ ایشیا ہو ، یوریشیا ہو ۔ اس میں کس ملک کی کمپنی کیا کام کرے گی ۔ کس کو کیا ٹھیکہ ملے گا ۔ تو یہ ایک ایسی چیز اور معاملہ ہے جس کو وقت سے پہلے امریکہ expliot کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اور یوں امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب روس کے اندر موجود بہت سے سکالرز کا خیال یہ ہے کہ یہ بندوبست چین اور روس میں پہلے طے ہوچکا ہے کہ نئی دنیا میں روس تحفظ فراہم کرے گا یعنی سیکورٹی۔۔۔۔

    ۔ اور اسکے ذریعے اپنی طاقت اور پیسے میں اضافہ کرے گا جبکہ چین کاروبار کرے گا ۔ اور بنیادی طور پر چین کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا روس کے اپنے مفاد میں ہے۔ جبکہ Carnegie Moscow Centerکے ڈائریکٹر Dmitri Trenin
    کے الفاظ میں چین کے ساتھ دوستی کا متبادل روس کے لئے تباہی ہوگی۔۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ ایک دفعہ مغرب نے چین والا معاملہ حل کرلیا تو اس کا اگلاٹارگٹ یقینی طور پر روس ہی ہوگا ۔۔ اسی لیے پچھلے کئی سالوں میں ماسکو اور بیجنگ اپنے تعلقات کو ایک اعلی سطح پر لے گئے ہیں ۔ روس اپنا جدید ترین ہتھیار جیسے سکھوئی 35 جیٹ لڑاکا۔ ایس 400 میزائل سسٹم چین کو فروخت کررہا ہے۔ یہ چین اور روس کے تعلقات کی قربت کا علامتی ڈسپلے ہے۔ مزید یہ کہ دونوں نئے محاذوں میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جن میں مشترکہ ہائی ٹیک منصوبے شامل ہیں ۔ اس میں Tianwan میں روسی فرم Rosatom کے ذریعہ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر اور Xudapu
    جوہری بجلی گھر شامل ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک نیا مسافر طیارہ ، CR929 بھی تیار کریں گے اور قمری خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف رکھیں گے۔ ان پیش رفتوں کے اچانک الٹ جانے کا تصور کرنا مشکل ہے ، جس کو حاصل کرنے میں برسوں لگے۔

    ۔ پر سازش اور مغرب ان دوںوں کا پرانا ساتھ ہے ۔ میرے حساب سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا ہوگا ۔ اور جیسے کواڈ گروپ ، جی سیون اور اب نیٹو کے ذریعے چین پر پریشر بڑھا رہا ہے اس سے تو لگتا کیا ہے بلکہ صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کا اگلا وار یہ ہو گا کہ کسی طرح عالمی سطح پر چین پر sanctions لگوائی جائیں چاہے ۔ پھر چاہے شکنکیانگ والا معاملہ ہو ، تائیوان والا معاملہ ہو ، وباء والا معاملہ یا انسانی حقوق والا معاملہ ہے ۔ کسی بھی ایشو کا اٹھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس زور اور شد ومد سے جوبائیڈن اس پر توجہ دے رہے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جلد دنیا کو بتایا جائے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا وائرس ہے اور اسکے پیچھے چین تھا یا اسکی لیبارٹری تھی ۔ اور اس کو بنیاد بنا کر چین کھڈے لائن لگایا جا ئے ۔ پر جو بھی اقدام چین کے خلاف اٹھایا گیا اس پر اگر روس خاموش رہا ہے یا چین کے دوست ممالک خاموش رہے تو چین سے نبٹانا آسان نظر آتا ہے ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ابھی تک نیٹو ، جی سیون یا کواڈ گروپ کی طرف سے جو بھی بیانات آئے ہیں اس پر چین کے حق میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ امریکہ کا پلان بھی یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اتنا گرد اور جھوٹ پھیلاؤ ۔ ساتھ ہی سب کو چپ رکھو ۔ پھر جو چاہے ۔ جیسے مرضی چین سے ڈیل کرو ۔ اس پر پابندیاں لگاؤ یا اس کے خلاف اقدامات کرو ۔ تو اس تمام صورتحال میں امریکہ اور مغرب کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے تعلقات پر بھی بڑی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

  • مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    ابھی ایک دن گزارا نہیں تھا کہ مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ کر دیا گیا ہے ۔ G7 بارے تو میں آپکو گزشتہ ویڈیو میں بتا چکا ہوں ۔ اب نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران بھی چین کو مستقل سکیورٹی چیلنج قراردیا گیا ہے ۔ اب نیٹو نے پہلی بار چین کے فوجی مقاصد کے بھرپور مقابلے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

    ۔ اس وقت لگ ایسا رہا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف میڈیا وار تو آغاز کر دیا ہے کیونکہ جیسے وہ ہر فورم پر اپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ چین کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے ۔ جیسے ہر فورم پر امریکہ یہ نہیں بھولتا کہ وباء ، انسانی حقوق ، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تائیوان کا ذکر لازمی ہو ۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے ۔ تو میرے حساب سے اس وقت چین کو میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ایک جارحیت کا سامنا ہے ۔ اب وہ اس کو counter کیسے کرتا ہے یہ دیکھنا ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں مغربی ذرائع ابلاغ اس وقت بڑے طریقے سے ایک مقصد کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور چین کو ایک نیا دشمن ایک نیا خطرہ بنا کر دنیا کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی عوامی رائے کو اس حوالے سے mouldکیا جاسکے ۔ ایسا ہی یہ ممالک سب سے پہلے روس کے ساتھ پھر افغانستان ، لیبیا ، شام اور عراق کے معاملے میں کرچکے ہیں ۔

    ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا یہ کہنا بھی بڑا معنی خیز ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی دوبارہ متحرک ہوچکے ہیں۔ جمہوریتیں اور آمریتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔۔ جمہوریت اور آمریت والا تو ایک منجن ہی ہے حقیقت میں یہ ممالک کسی بھی اور ملک کو اتنا مضبوط اور مستحکم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے کہ وہ ان کے اثر و رسوخ سے باہر نکل جائے۔ چین اور روس اس وقت بالعموم دنیا کے تمام ملکوں اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنارہے ہیں جس سے ان کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی بھی طور قبول نہیں۔

    ۔ اس تمام صورتحال میں دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے بھی مسائل میں اضافے روز بروز بڑھتے دیکھائی دے رہے ہیں کیونکہ جس طرح چین کو لے کر دنیا میں polarizationبڑھتی جارہی ہے ۔ اور جو پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی چین اور روس کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں تو پاکستان بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ ہم چین کے اہم اتحادی ہیں تو اس حوالے سے پاکستان پر پریشر کے ساتھ ساتھ سازشوں میں بھی اضافے کا اندیشہ ہے ۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ۔ کیونکہ سی پیک one belt one roadمنصوبے کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جس تیزی سے گزشتہ کئی ماہ سے امریکی اور مغربی ممالک کے highest dignitaries پاکستان کے دورے کرر ہے ہیں اس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ چین بھی یقینی طور پر زیر بحث آیا ہوگا۔

    ۔ دیکھا جائے تو معاشی اور دفاعی دونوں جانب سے پاکستان پھنسا ہوا ہے ۔ ایک جانب بھارتی جارحیت تو دوسری جانب افغانستان کی روز بروز بگڑتی صورتحال ہمارے سامنے پھن پھیلائے کھڑی ہے ۔ سونے ہر سہاگہ معاشی مبجوریوں کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک ، یورپی یونین اور امریکہ کے محتاج بھی ہیں ۔ آئی ایم ایف کی قسط نہ ملی تو ملک نے چلنا نہیں اور یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ہماری تجارت رکی تو تب بھی ہم کو بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے تو آنے والے دنوں میں خوفناک منظر دیکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان کو ایک بار پھر سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ اس میں بھی کوئی بحث نہیں ہے کہ چین ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک ہے اور ہمارے سرد و گرم کاساتھی بھی ہے ۔ ہر عالمی فورم اور معاملے میں چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ پاکستان کی جغرافیائی صورت حال کو دیکھا جائے تو بھارت جیسے مکار دشمن کے ہوتے ہوئے چین کی ہمسائیگی نعمت سے کم نہیں۔ چین جب تنہا تھا تو اس وقت پاکستان نے اس کا کھل کے ساتھ دیا تھا ۔

    ۔ ساتھ ہی سی پیک ایسا منصوبہ ہے جس پر تقریباً قومی اتفاق رائے ہے اس کے لئے چین نے جو پیکج دیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اور یہ آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی حکومتوں کے دور میں تسلسل سے چلتا آرہا ہے ۔ اب آنے والے دنوں میں خصوصی طور پر امریکہ کی جانب سے پریشر بڑھتا دیکھائی دے رہا ہے کہ with us or against us
    تو پاکستان کے لیے صورتحال کافی tricky ہوچکی ہے ۔ یقینی طور پر پاکستان اس وقت کسی کی بھی مخالفت مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اگر تفصیل میں جائیں تو چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیٹو رہنماؤں کا کہنا تھا کہ چین اپنی جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہا ہے اور روس کے ساتھ عسکری تعاون کر رہا ہے۔ بیجنگ کے تیزی کے ساتھ جوہری میزائل بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیاگیا ۔ ۔ نیٹو کے سربراہ jens stoltenbergجینس سٹولٹنبرگ نے توتنیہہ کی ہے کہ چین نیٹو کی عسکری اور تیکنیکی صلاحیتوں کے ’قریب‘ پہنچ رہا ہے۔ ۔ جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین اور روس کی جانب سے لاحق نئے چیلنجوں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ روس اور چین ہماری توقعات کے مطابق نہیں چل رہے ۔ جوبائیڈن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چین کو کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو بھرپور رسائی دینی چاہیے۔ کیونکہ شفافیت کے بغیر ایک اور وبا پھیل سکتی ہے۔

    ۔ جرمن چانسلر anglina merkhal نے چین کو حریف قرار دے دیا۔ تو فرانسیسی صدر mackron کا کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد ہے، جبکہ چین سے تعلقات صرف فوجی نہیں۔ دوسری جانب چین نے نیٹو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چین کی امن ترقی پر بہتان لگا رہے ہیں۔ اور زور دیا کہ چین کسی کے لیے چیلنج نہیں پیش کرے گا لیکن اگر کوئی چیلنج ہمارے قریب آیا تو ہم ہاتھ باندھ کر بیٹھے بھی نہیں رہیں گے۔ درحقیقت چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی وقت کے ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور نیٹو کو خدشہ ہے کہ چین یورپی ممالک کی سکیورٹی اور ان کے جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو چین کے افریقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بھی پریشان ہے۔ اصل میں چاہے یہ نیٹو ہو یا جی سیون ممالک یا
    quadگروپ ان سب کے پیچھے تو امریکہ ہی ہے ۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جی سیون کی طرح نیٹو 30 یورپی اور شمالی امریکی ممالک کا ایک انتہائی اہم اور طاقتور سیاسی اور عسکری اتحاد ہے جو امریکی عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔ اب سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نیٹو کا ایجنڈا 2030 روس اور چین کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے؟

    ۔ اس حوالے سے نیٹو سیکٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس کے اپنے پڑوسیوں یوکرین اور جارجیا سے تعلقات ٹھیک نہیں، وہ سائبر اور ہائبرڈ حملے کر رہا ہے، یہ وہ چیز ہے جس نے ہمارے اور روس کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، ہم اسے دیکھ رہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو تبدیل بھی کر رہے ہیں۔ ہم علاقے میں اپنی فوجی موجودگی اور اپنے دفاعی اخراجات میں
    2014 سے مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، یہ ہمارے 2030initiative کا اہم حصہ ہے۔۔ دوسری جانب چین کے بارے میں نیٹو سیکٹری جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے دروازے پر آچکا ہے، ہم اسے سائبر اسپیس، افریقا اور سرد علاقوں میں دیکھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہمارے انفرااسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نئے نیوکلیئر اور جدید ہتھیار بنارہا ہے، اس کا بھی رویہ جنوبی چین سمندر میں زبردستی والا ہے۔ اس نے ہانگ کانگ میں جمہوری process پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس کا رویہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں، وہ نئی artifical intelligence کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دبا رہا ہے۔

    دراصل امریکا سمیت چند ملکوں کے مذموم مقاصد بے نقاب ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عالمی وبا کے باعث دنیا کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے تمام ملکوں کو اتحاد اور تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی مگر اس کے بجائے امریکہ اپنی سیاست کے ذریعے دنیا کو تقسیم کر رہا ہے ۔ اس مصنوعی محاذ آرائی اور کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے عالمی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے تھی ۔ مگر ایسا نہ ہورہا ہے نہ ہونے کی امید ہے ۔

  • چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    کل امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، جاپان اور اٹلی نے جی سیون کے پلیٹ فارم سے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ جس کے بعد ایک بار پھر مغرب اور مشرق آمنے سامنے آچکے ہیں کیونکہ اس میں واضح ٹارگٹ چین اور روس تھا ۔ جبکہ چین پر تو ایک طرح سے مغرب نے charge sheet لگانے کی کوشش کی ۔ کہ چین سے وائرس کیسے شروع ہوا ۔

    چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم کیوں ہورہا ہے ۔تائیوان اور بھارت کے حوالے سے چین کا رویہ جارحانہ ہے ۔چین کے نظام میں شفافیت نہیں ہے ۔ اور سب سے اہم چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو بڑے کھلے الفاظ میں نشانہ بنایا ہے ۔ اب انھوں نے چین کے مقابلے میں ایک نیا منصوبہ لانے کا اعلان کیا اور اس OBOR (One Belt One Road)منصوبے کے مقابلے میں بڑے جارحانہ انداز میں پیش کیا جارہا ہے ۔ اس پر چین کی جانب سے تو بہت ہی سخت درعمل سامنے آیا ہے ۔ دراصل جی سیون ممالک نے ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے سرمایہ کاری کے ایک ایسے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد چین کے بڑھتے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر رہنماؤں نے چین کے خلاف سٹریٹیجک مقابلے کے موضوع پر بات چیت کی ہے جس کے بعدbuilt back better world ya B3W یعنی عالمی سطح پر تعمیر نو کے ایک نئے منصوبے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

    ۔ اب جی سیون کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک 400 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ترقی پذیر دنیا میں انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ بیجنگ نے دنیا کے کئی ممالک میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے مغرب کا ماننا ہے کہ چین نے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو مقروض کیا ہے اور وہ یہ قرض واپس نہیں کر سکیں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چین پر سنکیانگ صوبے میں جبری مشقت اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی الزام عائد کرتے ہیں۔اس جی سیون کے اعلامیہ میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو اس سال کے آغاز میں امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا نے چین کے خلاف مل کر مختلف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان میں سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے افسران کے خلاف سفری پابندیاں، اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا شامل تھا ۔ چند ہفتے قبل بھی امریکہ نے مزید چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا ۔ اور کئی چینی کاروباری حضرات پر مختلف نوعیت کی پابندیاں لگائی تھیں ۔ جبکہ چین نے اپنے خلاف لگنے والی پابندیوں کے جواب میں یورپی حکام پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

    ۔ چین نے حالیہ اعلامیہ کے بعد جی سیون کے عالمی رہنماؤں کو ورننگ دی ہے کہ وہ دن گئے جب چھوٹے ممالک کے گروہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چھوٹے، بڑے، مضبوط، کمزور، امیر اور غریب ہر طرح کے ملک برابر ہیں۔ اور یہ کہ عالمی امور پر تمام ممالک کی مشاورت کے بعد فیصلے ہونے چاہئیں۔

    ۔ یہ درحقیقت ایک پلان کا حصہ ہے کیونکہ امریکی صدر جوبائیڈن اپنے پیش رو ٹرمپ کی طرح سمجھتے ہیں کہ مغربی طاقتوں کو فوری طور پر چین کے خلاف اتحاد مضبوط کرنا ہوگا۔ مگر جوبائیڈن کا طریقہ واردات ٹرمپ سے مختلف ہے ۔ جوبائیڈن اچھی اچھی باتیں کریں گے ۔ امیج اپنا اچھا رکھیں گے ۔ مگر چین کے خلاف سازش کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیں گے ۔ سیاسی ، معاشی اور دفاعی ہر جانب سے چین کو کاری ضرب لگانے کی کوشش کریں گے ۔۔ مغرب کے خیال میں صدر بائیڈن کا build back better world منصوبہ چین کی ایک ایسی سکیم کا حریف بنے گا جس کی مدد سے کئی ملکوں میں ٹرین، سڑکیں اور بندرگاہیں بنائی گئی ہیں۔ میرے خیال سے امریکہ بڑی ہوشیاری اور تیزی سے چین کا راستہ بند کرنے پر لگا ہوا ہے ۔ اگر آپ دیکھیں تو اس کی ابتداء وباء کے پھوٹنے کے بعد چین پر لگنے والے الزامات تھے ۔ امریکہ کی چین کے خلاف ٹریڈ وار تھی ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے امریکہ نے چین کے خلاف QUADگروپ کو منظم کیا ۔ بہت سے ایسے ممالک جہاں چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت بندگاہیں تعمیر کر چکا ہے یا کررہا ہے ۔ ان سب کو امریکہ نے کسی نہ کسی طرح engage کر لیا ہے یا کرنے کی کوشش میں ہے ۔ اس کی واضح مثال پاکستان ہے ۔ ایران ہے ، سری لنکا ہے اور بنگلہ دیش ہے ۔ جن پر اس وقت امریکہ کا سخت پریشر ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ چین کے منصوبے سے الگ ہوجائیں ۔

    ۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ مختلف محاذوں پر ناکامی کے بعد امریکہ اپنے اصل ازلی اتحادیوں کے ساتھ چین کے سامنے کھل کر آچکا ہے کہ اب اس کا مقابلہ کیا جائے گا ۔ کہ کسی طرح مشرق کے غلبے کو روکا جائے ۔۔ اس وقت مغرب اور مشرق کی ٹکراؤ کی کیفیت اتنی شدید ہوچکی ہے کہ آپ دیکھیں ویکسین کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کہ مغرب یعنی یورپ اور امریکہ میں چینی اور روسی ویکسین لگانے والوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ جس نے وہاں آنا ہو pizferلگوائے یا پھر astrazenca ۔ یعنی اب اس ویکسین پر نیا ڈرامہ شروع ہوگیا ہے۔
    مالی منافع اور کمپنیوں کے جھگڑے نے دنیا تقسیم کردی ہے۔۔ اس تمام معاملے کو تجارتی اور عالمی تھانیداری سے ہٹ کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ جس کو کہتے نا clash of civilizations اس وقت دنیا واضح طور پر دوحصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ابھی تک تو معاملہ زبانی کلامی اور اقدامات تک ہی محدود ہیں ۔ پر آگے چل کر یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایک بہت بڑا war theatre تیار کیا جا رہا ہے ۔ اور کسی بھی جنگ سے پہلے جو صف بندیاں ہوتی ہیں وہ کی جا رہی ہیں ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو امریکہ چین والے معاملے پر جو میں نے گزشتہ ویڈیو کی تھی اس میں بڑی تفصیل سے بتایا تھا کہ اس سال کے لیے امریکہ تاریخی بجٹ 6 ٹریلین ڈالرز کا رکھا ہے ۔ جس میں
    1.5 ٹریلین ڈالر صرف پینٹاگون یعنی دفاع پر خرچ ہوگا ۔ جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے ۔ دراصل امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مغربی اقدار غالب ہیں۔ اور دنیا پر ان کو ہی حکمرانی کاحق ہے ۔ کیونکہ یہ پاک صاف جمہوریت سے لبریز اور اعلی انسانی اقدار کی حامل ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب دنیا کو چینی سرمایہ کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ کہ جو سنکیانگ میں ہو رہا ہے جو تائیوان سے چین برتاؤ کر رہا ہے ۔ جس طرح چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے ۔ جو چین میں جبری مشقت لی جاتی ہے ۔ اس لیے چین کا معاشی غلبہ کسی طور پر ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ مساویانہ مقابلے سے روکتا ہے۔۔ سننے میں مغرب کا یہ پراپیگنڈہ بہت اچھا لگاتا ہے ۔ پر اگر دیکھا جائے جس کی جانب چین بھی اشارہ کرتا ہے ۔ کہ مغرب کا دوغلا پن جب کشمیر ہویا فلسطین یا شام یا لیبیا یا افغانستان یا عراق وہاں پر آکر عیاں ہوجاتا ہے ۔ اور دنیا میں گزشتہ صدی اور اس صدی میں جتنا بھی خون خرابہ اور جنگیں برپا کی گئی ہیں بلکہ تھوپی کئی گئی ہیں وہ سب مغرب کی پیدا کردہ ہیں ۔ اس لیے امریکہ یا جی سیون ممالک جو کہہ رہے ہیں وہ صرف چین کے مقابلے کی بات نہیں بلکہ دنیا کے سامنے ایک مثبت متبادل پیش کرنا ہے۔ اور دنیا کو یہ باور کروانے کی ایک ناکام سی کوشش دیکھائی دیتی ہے کہ مغرب ہے تو ایک بھڑیا مگر انصاف پسند بھڑیا ہے ۔ جو بھیڑ بکریوں کو مارتا ضرور ہے مگر کسی قانون کے تحت ۔ پھر چاہے وہ آئی ایم ایف ہو ورلڈ بینک ہو یا اقوام متحدہ یا پھر سیکورٹی کونسل ہو ۔ جس سے اجازت لو ، قرارداد پاس کرواو اور بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی ملک پر weapons of mass destructionکا الزام لگا کر اس کو برباد کر دو ۔

    ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں کہ عالمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مغرب کیسے رقم خرچ کرے گا ۔ کیونکہ جمہوریت میں کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی عوام کا دیا ہوا ٹیکس دوسرے مملکوں میں انفراسٹکچر پر خرچ کرے ۔ ابھی تک صرف یہ ہی بات واضح ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے کے لیے مغربی طاقتوں کے اندر ایک نیا عزم پیدا ہو گیا ہے۔ اور یہ تمام مغربی ممالک چین کا راستہ روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

  • بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ غلط دعووں پر اور غلط اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ خامیوں کی تو ایک لمبی فہرست ہے اسکی مکمل تفصیل بھی بتاوں مگر کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں وہ بتانا بھی ضروری ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے آبی تحفظ کو بجٹ میں اہمیت دیتے ہوئے حکومت نے 91 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جو گزشتہ سال کی نسبت 20 ارب زیادہ ہیں۔ اس سلسلے میں تین بڑے ڈیم داسو، دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ ایسے پروجیکٹس ہیں جو جب مکمل ہوگے تو یقیقناً اس کے ثمرات ملیں گے۔ ۔ متوقع امپورٹس 55 ارب ڈالرہیں جو پچھلی سال سے 6
    سے 7ارب ڈالرزیادہ ہیں۔ بینکوں پر کیش ود ہولڈنگ ختم کرنا بھی صحیح قدم ہے۔

    ۔ موجودہ بجٹ میں چار سے چھ ملین گھرانوں کو نچلے طبقے سے اٹھایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہر شہری گھرانے کو پانچ لاکھ تک بغیر سود کے قرض دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کاشت کار گھرانے کو ہر فصل پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا بغیر سود قرض فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹریکٹر اور مشینری کے لیے بھی دو لاکھ کا بلا سود قرض دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ان سب گھرانوں کو اپنا گھر بنانے کیلئے بیس لاکھ روپے تک کے سستے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ ہاؤسنگ شعبے کیلئے حکومت کم آمدنی والے گھروں کو اپنا گھر خریدنے یا بنانے کیلئے 3 لاکھ سبسڈی ادا کرنا جاری رکھے گی۔ اس مد میں حکومت نے 33 ارب روپے سبسڈی کی مد میں رکھے ہیں۔اسی طرح سبسڈیز کا تخمینہ430 ارب روپے سے بڑھا کر682
    ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    ۔ یہ بھی اچھی چیز ہے کہ کل سے کافی تنقید کے بعد حکومت نے فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کر دیا ہے ۔۔ کم از کم اجرت بیس ہزار تک بڑھانے کا اقدام خوش آئند ہے حالانکہ مہنگائی کے حساب سے اس کو تقریباً ڈبل ہونا چاہیے تھا ۔ تاہم اس بیس ہزار اجرت پرعمل درآمد کس حد تک ہوتا ہے اسے دیکھنا پڑے گا۔۔ ابھی بھی بہت سارے غیر رسمی شعبے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں اور شاید حکومت انہیں ٹیکس نیٹ میں لا کر اپنا ٹیکس زیادہ کرنا چاہتی ہے مگر ایسے اقدامات اس بجٹ میں دیکھائی نہیں دیے جس کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے۔ مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا ہے ۔

    ۔ بنیادی طور پر یہ ٹیکس چوری کے حوالے سے لگایا جاتا ہے اور صوبوں کو اس میں حصہ نہیں ملتا۔ 2018میں یہ 150ارب روپے تھا جبکہ اس بجٹ میں آئندہ سال کے لیے 610ارب روپے کا پیٹرولیم لیوی کا ہدف رکھا گیا ہے جو عوام کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی ہے اور جس سے واضح ہے کہ پیٹرول کے نرخ بڑھائے جائیں گے اور اس کے بعد اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ بجٹ بنیادی طور پر عمران خان صاحب کے دس نکاتی ایجنڈے کے بھی یکسر متضاد ہے۔ انھوں نے دعوی کیا تھا کہ سو دنوں میں عدل و انصاف پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردیں گے۔ پیٹرولیم لیویز صفر اور جی ایس ٹی 17سے 7فیصد پر لے آئیں گے۔ آج کے بجٹ میں ان نکات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی پالیسی کو دیکھا جائے تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔ اس بجٹ میں 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں جن میں سے 70 فیصد ایسے ٹیکسز شامل ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے کے خدشات بھی ہیں۔ حالانکہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس بل پیش کرنے سے ایک روز قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ٹیکس لگیں گے نہ بجلی مہنگی ہو گی ۔ قوم کو بتانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ کہ آئی ایم ایف کی بات نہیں مانی۔

    پر آپ دیکھیں ادارہ شماریات کے مطابق ہمارے ملک میں ”گدھوں“ کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود ”گدھے“ اور بھی ہیں۔ لیکن ابھی بہت لوگ بچ گئے اور وہ اب مزید گدھا بننے کو تیار نہیں ہیں ۔ اس لیے جو شروع میں کہا تھا کہ یہ سب اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہے ۔ شوکت ترین صاحب بھی یہی کام کررہے ہیں ۔ اس وقت تقریبا تمام اشیائے پر نئے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں یعنی چینی پر اب ریٹیل سطح پر نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں چینی کی قیمت میں فی کلو7 روپے اضافہ ہوگا جبکہ صنعت کاروں اور اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ افراد پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اب جب سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ممبر اسمبلی اور سینیٹرز اپنے لیے کچھ نہ کرتے تو بڑی کفایت شعاری سے اس حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ میں 100کروڑ سے زائد اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اب پارلیمنٹ ہاؤس کے لئے مجموعی طور پر9 ارب سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ کاش جیسے ان کو اپنے مسائل کا ادراک ہے ایسے ہی عوام کے مسائل کا ادراک ہوتا تو چیزیں مختلف ہوتیں ۔ ہرحکومت یہی کہتی ہے کہ ہمیں تباہ شدہ معیشت ملی ۔ پھر آئی ایم ایف سے قرض لیتی ہے اور گروتھ ظاہر کرنا شروع کرتی ہے۔ مگر جب اگلی حکومت آتی ہے تو وہ پھر یہی راگ الاپتی ہے۔ یہ ساتویں حکومت ہے جو ایسا کررہی ہے۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس مہنگائی میں اضافہ اور افراط زر بھی بڑھا ہے ۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی تر قی کے اعداد وشمار اور جی ڈی پی کی گروتھ بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی تھی ۔

    ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری value added اور high techانڈسٹری میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لے دے کر real state اور construction انڈسٹری پر زور ہے جس کی مدد سے چالیس انڈسٹریز میں انقلاب کا گمان ہے۔ دنیا بہت تیزی سے بدل گئی ہے اور بدل رہی ہے۔ ہم اپنی معیشت کو اگر دنیا کے value added اور high techتقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کریں گے۔ خود پسندی کے خول سے نہیں نکلیں گے تو ہمیں ہر سال آئی ایم ایف کی ضرورت پڑتی رہے گی اور ہم ہر بجٹ پر یہی سنتے رہیں گے کہ غریب اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور یہ کہ متبادل پلان دے دیا ہے۔ میرے حساب سے مسلم لیگ (ن) کے دور میں پیش ہونے والے بجٹ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ بجٹ بھی سیٹھوں کے لیے ہے اور غر یب آدمی مسلسل پٹے گا ۔ اس بجٹ میں بھی وہی مجبوریاں اور وعدے شامل ہیں جو سالہا سال سے پیش ہونے والے budgets کا حصہ رہے ہیں۔ ۔ عجیب قحط کا دور ہے، قحط محض یہ نہیں ہوتا کہ اناج نہ ہو،فصل نہ ہو ۔ دراصل قحط وہ ہے کہ اللہ کی تمام نعمتوں کی فراوانی ہو مگر انسانوں کی پہنچ میں نہ ہوں۔ آج ہرکھانے، پینے ، اوڑھنے والی چیزوں کے انبار لگے ہیں مگر لوگوں کی پہنچ سے دور ہی نہیں ناممکن ہیں۔ بجٹ دنیا بھر کے ملکوں میں سال میں ایک بار آتا ہے۔ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کے بعد ماہانہ اور پھر روزانہ بجٹ آتا ہے۔ جتنے معاشی تجزیہ کار ہیں سب کے سب حقیقت کے برعکس تجزیے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ تندرست ہی کیا جو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے۔ وہ معاشی تیزی ہی کیا جس میں زندگی تو زندگی موت بھی مہنگی ہو جائے۔ دراصل پاکستان کے عوام ، وسائل اور اکثریت کو انتہائی اقلیت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ بس آزادی ہے تو قانون شکنوں اور بدعنوانوں کو ورنہ ہر طرف قحط کا راج ہے۔ قانون کی حکمرانی کا، اخلاقیات کا قحط ، انسانی اقدار کا قحط ، مثبت سوچ کا قحط حتیٰ کہ انسانیت کا قحط اور آزادی کا قحط ہے۔ جب پولیس کسی شخص سے پرسنل ہو، حکمران پرسنل ہوں جہاں انصاف کرتے ہوئے عدالت اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے وہاں معاشرت کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

  • ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ
    یوں تو ہم سب پلاسٹک اور کاربن کے اخاراج کے خطرات سے آگاہ ہیں اور دنیا بھر میں اس کی آلودگی کو کم کرنے پر کام بھی کیا جارہا ہے۔ تا ہم ماحول کو نقصان پہنچانے والی ایک چیز ایسی ہے جس سے ہم سب بے خبر ہیں۔ ماحول کے لیے نقصان دہ اس شے کا ہم بے دریغ استعمال کر رہے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان کی تیاری کے لیے قیمتی درختوں کو کاٹا جاتا ہے۔ وہ چیز ہے پیپر اور ٹشو پیپر ۔

    ۔ دراصل جب نوے کی دہائی میں کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب کاغذ کا استعمال بہت کم ہوجائے گا کیوں کہ خط و کتابت اور دستاویزات الیکٹرانک شکل میں ہوں گی ۔ لیکن یہ اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ ہمارے دفاتر اور گھروں میں جتنا کاغذ اور ٹشو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر ماحول کے ماہرین کو شدید تشویش لاحق ہے۔۔ چلیں کچھ اعداد وشمار دے دوں کہ دنیا میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے مقابلے میں امریکی سات گُنا زیادہ کاغذ استعمال کرتے ہیں ۔ کمپیوٹر پر ٹائپ کیے ہوئے کاغذات کے پرنٹ نکالنا تو محض ابتدا ہے۔ پیکنگ میں، سگریٹ میں، ٹشو پیپر اور ٹوائلٹ پیپر میں، غرض بے تحاشا کاغذ استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جس کام کے لیے لوگ لوٹا اور پانی استعمال کرتے ہیں۔ مغربی معاشروں میں کاغذ یعنی ٹوائلٹ پیپر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے کاغذ اور ٹشو پیپر کی اتنی زیادہ مانگ سے تباہی آ رہی ہے۔ دس ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم جنگلات کو کاٹ کر ان کے درختوں سے ٹوائلٹ پیپر بنا رہے ہیں۔

    ۔ جنگلات کا اس طرح صفایا کرنے سے دنیا میں جتنی گرمی بڑھتی ہے اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے تمام ٹرکوں، بسوں، ہوائی اور بحری جہازوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ ہے۔ یورپ اور ایشیا میں بیشتر ٹوائلٹ پیپر استعمال شدہ کاغذ سے بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے امریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انہیں تین پلائی والا ٹائلٹ پیپر چاہیئے۔ چاہے اس کے لیے دنیا کے قدیم جنگلات ختم کیوں نہ ہو جائیں۔۔ ہم جو ٹِشوز خریدتے ہیں بھلے وہ تازہ کاغذ کے گُودے سے بنیں یا recycle گُودے سے وہ حاصل ان درختوں سے ہی کیا جاتا ہے جنہیں بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ درخت کاٹنے کا عمل جنگلات کو ختم کرسکتا ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جانور اور پودے اپنی جنگلی حیاتیات کھوسکتے ہیں اور پانی آلودہ ہوسکتا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ٹشو پیپر بنانے والے پلانٹس کو انتہائی کثیر مقدار میں پانی اور بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ فضاء کو آلودہ کرتے ہیں اور زہرآلود فضلا دریا یا پانی میں بہاتے ہیں۔ ٹِشوز سے ماحول کو لاحق خطرات سیکڑوں گُنا تب بڑھتےہیں جب انہیں سفید بلیچ کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی چیز جیسے کہ لوشن وغیرہ کا اضافہ کیا جاتا ہے اور کارڈ بورڈ اور پلاسٹک میں پیک کیا جاتا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں امریکا میں ٹوائلٹ پیپرز کے بے تحاشہ استعمال نے کینیڈا کے جنگلات کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کیونکہ امریکا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے لیے کینیڈا میں موجود جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔ کینیڈا کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو سالانہ2 کروڑ 80 لاکھ کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے برابر کاربن جذب کرتے ہیں۔ تاہم امریکا میں ٹشوز کی بے تحاشہ مانگ کی وجہ سے ان جنگلات کو بے دریغ کاٹا جارہا ہے۔ 1996 سے اب تک 2 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ رقبے پر موجود درختوں کو کاٹا جا چکا ہے۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے 20 فیصد صرف امریکا میں استعمال ہورہے ہیں، دوسری جانب امریکیوں کو نرم ملائم ٹشوز بھی درکار ہیں جن کے لیے ٹشوز بناتے ہوئے اس میں دیگر مٹیریل استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں نے ٹشو بنانے کے لیے ماحول دوست اقدامات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وجہ ایک ہی ہے نرم ٹشوز کی مانگ میں اضافہ۔

    ۔ امریکی ہر سال 255ارب36کروڑ ڈِسپوزایبل ٹشوز استعمال کرتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر ٹِشوز کی سالانہ مانگ میں 2021 تک4 فیصدتک اضافہ ہوجائےگا۔ ان میں فیشل ٹِشوز، ٹوائلٹ پیپر، پیپر ٹاول اور نیپکنز شامل ہیں۔ جس کے حساب سے چین کی مانگ میں 40فیصد، لاطینی امریکا کی مانگ میں 15فیصد اورمغربی یورپ کی مانگ میں11سے12فیصد اضافہ متوقع ہے۔۔ ماہرین کے مطابق ٹشوز بناتے ہوئے اگر اس میں استعمال شدہ recycle مٹیریل کی آمیزش کی جائے تو یہ عمل درختوں کی کٹائی میں کمی کرے گا تاہم ایسے ٹشوز سخت اور کھردرے ہوتے ہیں۔۔درخت جو کئی کئی برس بعد جوان ہوتے ہیں دراصل ہم انہیں ٹشو پیپر کی شکل میں ایک لمحے میں کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ جیب میں رومال جیسی معمولی چیزنہ رکھنے کے بجائے ٹِشو پیپرکا استعمال ہمارے ماحول کوبے دردی کے ساتھ اجاڑ رہا ہےجس کا ہمیں قطعی کوئی ادراک نہیں ہے ۔ پیپرز اور ٹشو پیپرز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماحول دوست ذرائع اپنانے ہوں گے ورنہ ہماری زمین پر موجود تمام درخت ٹشو پیپرز میں بدل جائیں گے۔