Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ پاکستان تحریک انصاف کا تو امتحان ہے ہی ۔ مگر اس قوم کے لیے بھی ایک امتحان ہے ۔

    ۔ یہ تو کل قومی اسمبلی کے ایوان سے معلوم ہوجائے گا کہ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں مزید کتنا اضافہ ہوگا ۔ کل 22کروڑ پاکستانیوں کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اس
    8000ارب روپے کے بجٹ میں امراء کی ناز برداری کے لئے مزید کیا کیا کچھ ہے۔کیونکہ عوام تو پہلے سے ہی مشکل حالات کا شکار تھے آئندہ بھی اچھے کی کوئی امید نہیں ہے۔۔ کیونکہ جب وزیر خزانہ شوکت ترین یہ کہتے ہیں کہ چینی کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 58 فیصد بڑھی اور پاکستان میں 20 فیصد قیمت میں اضافہ ہوا، تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ وہ شوگر مافیا کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں نہ کہ عوام کا ۔

    ۔ شوکت ترین نے توآج یہ بڑھک مار دی ہے کہ آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ ہم اور ذرائع سے ریونیو بڑھائیں گے۔ پر میں آپکو بڑی تسلی سے اور تصدیق سے بتا رہا ہوں یہ بیان دل کو بہلانے کے لیے تو بہت اچھا ہے ۔ مگر اصل حقیقت یہ نہیں ہے ۔ ۔ کیسا عجیب نظام ہے کہ حکومت نئی آٹو پالیسی متعارف کرنے سے پہلے تو آٹو انڈسٹری کے تمام مافیاز سے مشاورت کرتی ہے ۔ ایسا ہی شوگر مافیا کے ساتھ کرتی ہے ۔ آٹا مافیا ، ادویات مافیا ۔ جس بھی مافیا کا نام لیں اس کی مرضی کے بغیر نہ تو کوئی پالیسی آتی ہے نہ ہی کوئی قانون بنتا ہے ۔ مگر جن کے ووٹ لے کر یہ آج پروٹوکرل والی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے اور اتراتے پھرتے ہیں ۔ ان ووٹروں کے مفادات کا بالکل خیال نہیں رکھتے ۔ نہ ہی ان کے مستقبل کے فیصلے کرتے ہوئے ان سے مشاورت کرتے ہیں ۔ ۔ اربوں روپے مالیت کا بلاواسطہ ٹیکس ایک بار پھر غریب عوام پر عائد کیا جائے گا۔ تباہی سرکار مہنگائی، بےروزگاری، غربت کاذمہ دار آئی ایم ایف کو ٹھہرا رہی ہے۔ پر یہ سب کچھ بدترین گورننس کو چھپانے کا ڈرامہ ہے ۔ 90 دن میں نیا پاکستان بنانے والوں کو 1000 دن ہو گئے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان۔۔ سرکار اب بجٹ اجلاس میں مشکوک اعداد و شمار پیش کرےگی۔۔ کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی منتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بجٹ ہم اپنی مرضی سے پیش کریں گے۔ دراصل وزیر خزانہ شوکت ترین اور آئی ایم ایف کے نمائندوں کے مابین مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ تقریباً مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب وزیراعظم صاحب اگلے ہفتے آئی ایم ایف کے صدر سے میٹنگ کریں گے۔

    ۔ حقیقت میں حکومت نے عوام کو دکھ کے علاوہ کچھ نہیں دیا ہے ۔ ملک میں بجلی ہے نہیں ہے ۔ ریٹ بڑھا دیئے گئے ہیں ۔ فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس ڈیزل پر چلائے جا رہے ہیں۔
    سعودی عرب اور کویت بھی ڈیزل کے پلانٹ نہیں چلاتے لیکن پاکستان میں چل رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں اتنی مہنگی بجلی بنائی جا رہی ہے ۔ گردشی قرضہ 150 فیصد بڑھ گیا ہے ۔ عوام آج بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں۔ سکولوں میں بچے بے ہوش ہو رہے ہیں۔ وزارت توانائی میں ساتویں وزیر مقرر کئے جاچکے ہیں۔ اب اس حکومت کو نااہل نہ کہیں تو کیا کہیں ۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر پیش کر کے عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی اقساط کے حصول کے لیے پاکستان کو منی بجٹ پیش کرنا پڑسکتا ہے۔ پھر عوام کو بتایا جائے گا کہ ہم تو آپ کی بہتری چاہتے ہیں، سارا قصور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا ہے۔ وہی ملک میں مہنگائی کا ذمہ دار ہے۔۔ اس وقت فرٹیلائزر پر سیلز ٹیکس دو فیصد ہے۔ اسے بڑھا کر دس فیصد کر دیا جائے جس سے 32 ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا ہو گا لیکن اس سے عام آدمی کے لیے خوراک مزید مہنگی ہو جائے گی یعنی حکومت جو اگلے سال مہنگائی کی شرح آٹھ فیصد تک لانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ سب ڈھکوسلا ہے ۔اس کے علاوہ rude oil کی در آمد پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔ جس سے ایک اندازے کے مطابق 85 بلین روپے ٹیکس اکٹھا ہو سکے گا۔ اس سے ہوگا کیا تیل مہنگا ہوگا ۔ اور تیل مہنگا ہونے سے سب کو پتہ ہے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی ۔

    ۔ ایک اور غریبوں کے لیے جو فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے تجویز دی ہے کہ بینکوں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے جس سے تقریباً دو ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے گا۔ اس سے ہوگا یہ کہ جو غریب ، بزرگ ، بیوائیں ۔ قومی بچت کے بینکوں سے کچھ منافع کما کر گزر بسر کر رہے ہیں۔ ان کے حالات مزید تنگ ہوجائیں گے ۔

    ۔ پھر ایک نیپرا آرڈیننس ہے جس کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے ۔ اس آرڈیننس کے تحت اپریل 2021ء سے جون 2023ء تک پانچ اعشاریہ پینسٹھ روپے فی یونٹ ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا جس سے 884 بلین روپے صارفین کی جیبوں سے نکالنے کا پلان ہے ۔ ۔ حکومت کا اس سلسلے میں موقف ہے کہ یہ اضافہ اس صورت میں کیا جائے گا جب حکومت سستی بجلی پیدا کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام ہو جائے گی۔ پر یہاں پر ایک سوال ہے کہ جب یہ حکومت کسی بھی سیکٹر میں کوئی کارکردگی نہیں دیکھا پائی تو یہاں کیا تیر مار لینا ہے ۔ تو سمجھیں یہ آپکو دینا ہی ہوگا ۔ ۔ وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف کی چھٹی رِیویو میٹنگ ہونی ہے جس میں پاکستان کو مزید ایک بلین ڈالر قسط دینے پر غور کیا جائے گا۔ تو یاد رہے کہ نیپرا آرڈیننس کی منظوری، قرضوں کے حجم میں کمی اور ٹیکسز میں اضافے کے وعدوں کی تکمیل کے بغیر ایک ارب ڈالر قسط ملنا ناممکن ہے۔

    ۔ حکومت 4000 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دینے کا اعلان تو کرچکی ہے۔ جب کہ ٹیکس کا 80 فیصد indirect taxation سے وصول کیا جاتا ہے اور direct taxation 20 فیصد سے بھی کم وصول ہوتی ہے۔ جاگیرداروں، بڑے سرمایہ داروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں سے دولت ٹیکس اور ان کے منافع پر ٹیکس نہیں وصولا جاتا۔ بلکہ عوام کی ہر ضرورت اور خورونوش کی اشیا پر ٹیکس عائد کردیا جاتا ہے۔۔ جب اشیا ضرورت کی فیکٹریوں کی پیداوار پر ٹیکس لگے گا تو فیکٹری مالکان اشیا کی قیمت بڑھا دیں گے۔ پھر ہول سیلرز بھی اس کی قیمت بڑھائے گا اور پرچون فروش بھی قیمت میں اضافہ کرے گا۔ آخر کار ان ٹیکسوں کا تمام تر بوجھ عوام کے کاندھوں پر آئے گا۔ اس طرح سے حکومت کا یہ کہنا کہ عوام کے استعمال کی اشیا پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔ سب جھوٹ ، سب دھوکہ ، سب ایک فراڈ ہے ۔۔ اب سب پی ٹی آئی والے مجھے طعنے دیں گے ۔ ٹویٹر ، فیس بک ، یوٹیوب پر برا بھلا کہیں گے ۔ مگر میں بتاؤں کہ دور چاہے پیپلز پارٹی کا ہو یا ن لیگ یا پی ٹی آئی کا میرا کام ہے اپنےviewers کو حق وسچ بتانا ۔ ہاں جب جب یہ حکومت اچھا کام کرے گی وہ بھی بتاؤں گا مگر جب یہ کام ٹھیک نہیں کریں گے تو میں ان کو بھی exposeکروں گا کیونکہ مجھے ہے ۔۔۔ حکم اذان ۔۔۔

  • مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    ثابت ہوچکا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کو کسی طرح بھی عوامی اور انقلابی نہیں کہا جاسکتا ۔

    ۔ خان صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ right person for the right job مگر اب ہر جگہ صرف ایک مافیا ہی کو مواقعدیا جا رہا ہے ۔ ایک مافیا کو ہٹا کر دوبارہ پھر موقع ہی مافیا کو ملتا ہے ۔ ۔ دراصل اس ملک میں اشرافیہ کا ایک چھوٹا سا طبقہ سیاست اور حکومت میں آتا ہے اور اربوں روپوں کی لوٹ مار کرتا رہتا ہے۔۔ سب جانتے ہیں ۔ کہ اس حکومت میں سب اچھا نہیں ہے اور عوام سے کرپشن کے خاتمے کے جووعدے کیے تھے ابھی تک یہ حکومت ان پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو وزیر اعظم پہلے بھی کہا کرتے تھے اب بھی روزانہ کسی نہ کسی انداز میں کہتے ہیں کہ حکمران کرپٹ ہوں تو ملک دیوالیہ ہوجاتے ہیں۔ سربراہان ریاست اور ان کے وزراء بدعنوان ہوتے ہیں تو ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ جب نچلی سطح کے حکام رشوت لیتے ہیں تو اس سے عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ عمران خان تو اس سلسلے میں امریکی صدر کے ایک اقتباس کا حوالہ بھی دے چکے ہیں کہ اسلوب حکمرانی میں اور کرپشن کے تدارک کے لیے بد عنوان عناصر کو کٹہرے میں لانا پڑتا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ ان تین سالوں میں اس معاملے میں بہتری نہیں ہوئی پر اس سلسلے میں مزید ابتری جاری ہے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو موجودہ حکومتی سیٹ اپ کا تعلق بھی اشرافیہ سے ہے اور ایک مافیا لوٹ مار کر رہا ہے۔ کبھی چینی مافیا ، آٹا مافیا اور کبھی پلاٹوں کی خرید و فروخت کی آڑ میں عوام کا پیسہ ہڑپ کرنے والا مافیا عوام پر مسلط ہو چکا ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل سب کے سامنے ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ دیکھا جائے تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ سرکاری محکموں میں کرپشن اور رشوت میں اضافہ ہوا ہے۔

    ۔ اب وزیراعظم کے لاشعور میں یہ بات چپک گئی ہے کہ حکمرانوں کی کرپشن ملک کی بدحالی کا اصل سبب بنتی ہے۔ مگر جب بھی کبھی ان کے کسی وزیر یا مشیر پر الزام لگتا ہے تو بس دیکھاوا کے لیے ان کی وزارت بدل دیتے ہیں ۔

    ۔ مولانا مودودی کا مشہور جملہ ہے ۔ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں۔ درست بات ہے ۔ کیونکہ ایک غلطی دوسری کو جنم دیتی ہے اور اس سے تیسری غلطی پھوٹتی ہے۔ اسی لئے سیانوں نے یہ جملہ تخلیق کیا کہ غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔ پر آپ دیکھیں عمران خان ایک کے بعد ایک موقع دے دیتے ہیں اپنی ٹیم کو ۔ اب اگر ایک وزیر ایک وزارت میں پرفارم نہیں کرسکا تو کیسے ممکن ہے دوسری میں پرفارمنس دے ۔

    ۔ اس وقت عوامی میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور پڑھے لکھے لوگ موجودہ سیٹ اپ کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کہ نہ ان کے پاس نوکری ہے نہ ہی ان کو اپنا مستقبل تابناک دیکھائی دیتا ہے ۔

    ۔ پر وزیر اعظم تواپنی موجودہ طرز حکمرانی کے باوجود اس قدر پر امید ہیں کہ اگلی حکومت بنا کر پاکستان کو تیزی سے اوپر لے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ یہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ ۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ کبھی چین یا امریکہ کی۔ کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی scandinavian ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔

    ۔ ریاستِ مدینہ کی بات کی جائے تو اس میں امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے اپنے کندھے پر اناج کی بوری رکھ کر اُس بیوہ کے گھر پہنچائی جس کے بچے بھوکے تھے لیکن پاکستانی ریاستِ مدینہ کے سربراہ کے پاس اناج کی بجائے صرف ایک جملہ ہے ۔
    ’’گھبرانا نہیں‘‘

    ۔ 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرنے والوں نے ہزار دِن گزار دیئے لیکن سبق پھر وہی ہے ’’گھبرانا نہیں‘‘۔ مفلسوں کی معیشت پیٹ سے شروع ہو کر پیٹ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ اُنہیں growth rate جیسے چکر دینے کی بجائے روٹی دے دیں وہ آپ کا گُن گانے لگیں گے۔ اِس وقت مزدور سڑکوں پر، کسان سڑکوں پر، کلرک سڑکوں پر، اُستاد سڑکوں پر،
    پینشنر سڑکوں پر، ڈاکٹر سڑکوں پر اور آپ اُنہیں growth rate کا سبق رٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا آپ کو خود بھی ’’ککھ‘‘ پتہ نہیں۔

    ۔ زمینی سفر پر آگے پیچھے پروٹوکول گاڑیوں کی طویل قطاریں اب بھی نظر آتی ہیں ۔ چاہے وزیر اعظم ہوں ، وزیر ہوں یا مشیر ۔ ابھی تازہ تازہ وزیر مملکت فرخ حبیب کے پروٹوکول کی ٹک ٹاک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ یاد کروادوں عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے فرمایا تھا کہ ہالینڈ کا وزیرِاعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے۔ وہ بھی سائیکل پر ہی وزیرِاعظم ہاؤس جایا کریں گے لیکن گزشتہ ہزار دنوں میں اِس کی نوبت نہیں آسکی ہے ۔

    ۔ اب حکومت گیارہ جون کو بجٹ پیش کر رہی ہے۔ اِس بجٹ کے بعد سیاسی جماعتیں 2023ء کے عام انتخابات میں مصروف ہو جائیںگی۔ اگر حکومت نے عوام کی اشک شوئی کے لیے کوئی حربہ استعمال کرنا ہے تو اِسی بجٹ میں کر سکتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف کہاں سے اور کیسے دے گی۔ خزانہ خالی ہے ۔ آئی ایم ایف کا دباؤ الگ ہے اور کہیں سے بھی پیسے ملنے کے امکانات معدوم ہیں ۔ ایسے میں اگر تحریکِ انصاف کے چوتھے وزیرِ خزانہ اُلٹے بھی لٹک جائیں تو ’’عوامی بجٹ‘‘ نہیں بنا سکتے۔ اِس لیے اُمید ہے کہ بجٹ کے بعد وزیرِخزانہ شوکت ترین کی بھی چھُٹی ہو جائے گی۔ اور ملبہ ان پر ڈالا جائے گا کہ یہ معیشت کو نہیں چلا سکے ۔ مہنگائی کی وجہ شوکت ترین ہیں ۔۔ تحریک انصاف نے اپنے تین سالہ دَورِحکومت میں اتنے منجن بیچے ہیں کہ اُن کا نام گینیزبُک میں آنا چاہیے۔۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا منجن، بجلی دو روپے یونٹ اور پٹرول 45
    روپے لٹر کرنے کا منجن، باہر پڑے 200 ارب ڈالر واپس لا کر قرض داروں کے مُنہ پر مارنے اور بھیک نہ مانگنے کا منجن، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر خودکُشی کرنے ، پروٹوکول نہ لینے، چھوٹی کابینہ رکھنے، گورنر ہاؤسز پر بلڈوزر چلانے اور وزیرِاعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا منجن، نئی فیکٹریاں لگانے اور نیا پاکستان بنانے کا منجن، غریب کو روزگار فراہم کرنے اور فری علاج کا منجن۔ سب سے بڑھ کر این آر او نہیں دوںگا اور چوروں کو نہیں چھوڑوں گا کا منجن جس نے قوم کے مُنہ میں ’’چھالے‘‘ ڈال دیئے ہیں۔ کیونکہ اب کرپشن کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔

    ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘
    کے دَورِحکومت میں ہر روز کرپشن کا کوئی نیا سکینڈل۔ مالم جبّہ اور بی آر ٹی سکینڈلز ماضی کے دھندلکوں میں گُم ہو چکے ہیں ۔ ایک ارب درخت لگانے کے دعوے پر چیف جسٹس آف
    پاکستان جسٹس گلزار احمدنے فرمایا تھا کہ اُنہیں تو پشاور میں درخت نہیں صرف گردوغبار نظر آیا۔

    ۔ بات اب اس حکومت کے کَٹوں، وَچھوں، انڈوں اور مُرغیوں جیسے منصوبوں سے کہیں آگے نکل چکی ہے ۔ اب اس حکومت کے گرد گھیرا ڈالے منصوبہ ساز اربوں کھربوں کے ٹیکے لگا رہے ہیں ۔

    ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بجٹ کے بعد عام انتخابات کی گہماگہمی شروع ہو جائے گی۔ اگر تحریکِ انصاف کی حکومت عام انتخابات تک قائم بھی رہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کون سا
    ’’منجن‘‘بیچیں گے

  • ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    یہ تو سب جانتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ہر حکمت عملی باہمی رضا مندی سے طے ہوتی ہے جب ڈرنے ڈرانے کا وقت آتا ہے تو نواز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ڈیل کرنی ہو، لین دین یعنی آفر آئے تو پھر محمد شہباز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ شہباز شریف کی رہائی کے پیچھے تو سب ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی پلان ہے جس کی وہ تو رازداری کر ہی رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کھلم کھلا عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کے طور ان کا نام لینا شروع کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے اصل کہانی آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔

    ۔ ابھی آپ سیاست کے رنگ دیکھیں کہ جیسے سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو گلے لگا لیا ہے جب کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لئے پی ڈی ایم کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔

    ۔ بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف اور مریم کو طعنے دے رہے ہیں مگر انھوں نے ساتھ ببانگ دہل یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کے موقف کو ہی مسلم لیگ (ن) کا
    ’’بیانیہ‘‘ سمجھتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے عبوری مدت کے لئے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ۔ اس لیے یہ قابل غور چیز ہے کہ جب سے شہباز شریف متحرک ہوئے ہیں مسلم لیگ(ن) کے جارحانہ بیانات میں کمی آ گئی ہے۔ ۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اب عمران خان شکستہ حال پی ڈی ایم سے خوفزدہ نہیں بلکہ شہباز شریف کی ’’پھرتیوں‘‘ سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے مسلم لیگ ن سے قابل قبول شخصیت شہباز شریف ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اندر بھی طاقت ور عناصر جو خود وزارت عظمی کے منصب پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں شہباز شریف کی راہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ اگر شہباز شریف ایک بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے اور قومی حکومت کے اس منصوبے کا چوہدری نثار علی خان بھی حصہ بن گئے تو پھر ان کو ہٹانا ممکن نہیں ہو گا۔

    ۔ اب یہ بات برملا کہی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بننے کی راہ میں حائل نہیں۔ اسی لیے وہ عبوری مدت کے لئے قومی حکومت کے قیام کی تجویز کی منظوری حاصل کرنے کے لئے لندن جانا چاہتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ اشارہ دینے والوں نے نہ صرف اشارہ دے دیا ہے بلکہ دو حرفی بات کہہ دی ہے کہ ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی لیکن اگر تبدیلی کی خواہش ہے تو پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لائیں۔ دوسری طرف سے جواب ملا ہے۔ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کی جائے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی نہیں لانی بلکہ باہر سڑکوں پر مظاہرے ریلیاں اور مناسب طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے لیکن ابھی الیکشن کرانے ہیں تو کرا لیں ہم تیار ہیں۔

    ۔ مگر شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ اپنی شیڈو کابینہ بنائی جائے۔ سیاسی جلسے جلوسوں، ریلیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

    ۔ جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے پہلے دس وزارء کی شیڈو کابینہ کی فہرست بنا کر ڈیوٹیاں بھی لگادی ہیں کہ دو سال میں ایسی پلاننگ کریں کہ ہم حکومت لیتے ہی ملک میں انقلابی اقدامات کر سکیں۔ ۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ سسٹم میں موجود بیوروکریسی کے لوگ روازنہ کی بنیاد پر رپورٹ اپنے سابق سینئر کو دے رہے ہیں۔
    ۔ ویسے یہ حقیقت تو خود عمران خان کی تسلیم کردہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت تو مل گئی لیکن ان کی سرے سے تیاری ہی نہیں تھی۔ لہٰذا یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جس کو حکومت دیں، ساتھ تیاری کا بھی کہیں۔ ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ وزیراعظم عمران خان کیوں چینخ چلا رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج سے کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت گرانے میں اُس کی مدد کرے۔ وہ یہ طعنے کیوں دے رہے ہیں کہ ایک طرف یہ لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف منتخب حکومت کو گرانے کے لئے فوج کی مدد مانگتے ہیں۔ آپکو سمجھ آجانی چاہیئے ۔ جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے تو اس کے پیچھے کیا سوچ ہے ۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ یا عملی اقدامات، یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، کبھی چین یا امریکہ کی، کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی سکنڈے نیوین ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر وہ کون سا نظام ہے جو عمران خان لانا چاہتے ہیں۔ ان کی تان دو باتوں پر آکر ٹوٹتی ہے، ایک یہ کسی کو NRO نہیں دوں گا اور دوسری کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔

    ۔ آئے دن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور ان کے کرداروں کو محفوظ راستہ بھی دیا جاتا ہے۔کچھ ابھی تک ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور کچھ پتلی گلی سے نکل گئے ہیں۔

    ۔ شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کی کوشش تو تحریک انصاف کی حکومت نے بھرپور کوشش کر کے ناکام بنا دی یا کم از کم التوا میں ضرورڈال دی ہے ۔ مگر شہباز شریف کی تھیوری یا ڈاکٹرائن نے بہت سوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    ۔ مسلم لیگ ن کے بیشتر لیڈروں کی طرح شہباز شریف کا بھی یہی خیال لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو سپورٹ نہ کرے تو عمران خان الیکشن نہیں جیت سکتے۔ شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لیڈروں کے خیال میں اگر ن لیگ کوانتخابی میدان میں کھیلنے کا برابر موقعہ ملا تو وہ تحریک انصاف سے بہت بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

    ۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن ہے ہی یہی کہ مقتدرقوتوں کے ساتھ براہ راست ٹکرائو سے گریز کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے جائیں اور کبھی دو قدم پیچھے ہٹ ، کبھی دائیں بائیں ہو کر ، ضرورت پڑنے پر دو قدم آگے بڑھ کرتخت وتاج حاصل کرنے کی سیاست کی جائے۔ ۔ یہ شہباز شریف کا پرانا نظریہ اور سٹائل ہے۔ مسلم لیگ ن پر سب سے مشکل اور سخت وقت جنرل مشرف کی وجہ سے آیا۔ اس وقت بھی ان کی یہ سیاست کام آئی اور بعد میں جب نواز شریف کی واپسی ہوئی تب بھی یہ سیاست کام آئی ۔

    ۔ مگر گیند پہلے بھی میاں نواز شریف کی کورٹ میں تھی، اب پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کچھ عرصہ کے لئے پیچھے ہٹ کر خاموش رہنا پسند کریں گے؟ ۔ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، پہلی بار عمران خان کی حکومت پریشان اور خوفزدہ نظر آئی ہے۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن نے خان صاحب کو چکرا دیا ہے ۔ نواز شریف کے بیانات کے برعکس شہباز شریف کی مفاہمت انہیں اپنی حکومت اور سیاسی مستقبل کے لئے زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔ ۔ بہرحال اپوزیشن کے پاس اس وقت سب سے بہترین موقع یہ ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں حکومت کو سخت مقابلے سے دوچار کر دے،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے،اس سے اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی بھی بڑھ جائے گی۔

  • چین ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ ایک قوت، تحریر، نوید شیخ

    چین ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ ایک قوت، تحریر، نوید شیخ

    چین اب ابھرتی ہوئی طاقت نہیں رہا۔ بلکہ یہ ایک قوت بن چکا ہے جو کئی طریقوں سے امریکہ کو تمام معاملوں میں ٹکر دے رہا ہے۔

    ۔ تین چار چیزیں ایسی ہیں جو امریکہ کی جانب سے گزشتہ دنوں میں چین کے خطرے کو بھانپتے ہوئے کی گئیں ہیں ۔ اور منظر کافی واضح ہو گیا ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک تو ابھی کی خبر ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت اور عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے جوبائیڈن انتظامیہ نے اسٹریٹجک مسابقتی ایکٹ
    2021 امریکی سینیٹ میں پیش کردیا ہے ۔ اب اس بل کے تحت اگلے چار سال تک ہر سال 300 ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔
    ایکٹ میں معیشت، ٹیکنالوجی، سیکورٹی سمیت متعدد شعبوں میں چین کو امریکا کا اسٹریٹجک حریف قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں رہنا چاہیے۔ کیونکہ امریکا اور اُس کے اتحادی ممالک پورے ایشیا بحرالکاہل میں نیوی گیشن اور تجارتی آزادی کے لیے بِلا روک ٹوک رسائی برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب اس بل سے چند روز قبل ہی جوبائیڈن کا ایک اور نیا حکم نامہ آیا تھا جو محسوس ہوتا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے دور کا تسلسل ہے ۔ جس میں 31چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی تھی ۔ اب اس نئے حکم نامے کے بعد امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد 59 ہو گئی۔ ۔ پھر گزشتہ ہفتہ ہی جوبائیڈن نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ دیا ۔ جس کی مالیت 6ٹریلین ڈالرز تھی ۔ ریپبلکن سینیٹر Lindsey Graham نے اسے “انتہائی مہنگا” بجٹ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔۔ مگر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ بجٹ امریکی عوام میں براہ راست سرمایہ کاری ہے اور اس سے ہماری قوم کی معیشت مستحکم ہوگی اور طویل مدتی مالی صحت میں بہتری آئے گی۔

    ۔ دراصل امریکہ کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں۔ کہ وہ اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں پھیلا رہا ہے آخر عالمی تھانیداری قائم رکھنے کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔

    ۔ اس بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پینٹاگون کے لیے 1.5ٹریلین ڈالرز کی رقم مختص کی گئی۔ جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ڈبل ہے ۔ ۔ اب اگر عالمی فوجی اخراجات کو دیکھا جائے تو اس میں امریکا کا حصہ تقریبا چالیس فیصد ہے ۔ امریکا نے 2020ء میں فوجی مقاصد کے لیے 2019ء کے مقابلے میں 4.4 فیصد زیادہ رقوم خرچ کیں اور ان کی مالیت 778 بلین ڈالر رہی ۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ جس تیزی سے امریکہ اسلحہ کی تیاری میں لگاہوا ہے یا جس طرح امریکہ دفاع پر پیسے خرچ کر رہا ہے اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی جا رہی ہے ۔ جیسے کوئی بڑی جنگ ہونے والی ہے ۔ جس کی امریکہ نے پہلےہی تیاری شروع کر دی ہے ۔

    ۔ کیونکہ یہ صرف جوبائیڈن ہی نہیں ان سے پہلے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی فوجی اخراجات میں مسلسل تین سال تک اضافہ ہی ہوتا رہا۔
    حالانکہ اس سے قبل جب باراک اوباما امریکا کے صدر تھے۔ تو ان کی صدارت کے مجموعی طور پر آٹھ سالہ دور میں امریکی فوجی بجٹ سات سال تک مسلسل کم ہوتا رہا تھا۔

    ۔ تو لوگوں کا یہ سوال کرنا بجا دیکھائی دے رہا ہے کہ کچھ تو ہے جو امریکہ اب خوب دفاع پر پیسہ لگا رہا ہے ۔ جبکہ آپ دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہر جگہ مسائل ہی مسائل دیکھائی دیتی ہے ۔ اور امریکہ بہادر مشرق وسطی سے لے کر فارایسٹ ایشیاء ، جنوبی ایشیاء ، افریقہ اور پھریورپ تک میں مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔

    ۔ عالمی منظر نامے پر کہیں چین امریکہ کے سامنے کھڑا ہے تو کہیں روس اس کو آنکھیں دیکھا رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ اگر غور کریں تو دنیا بھر میں اب علاقائی طاقتیں امریکی اتھارٹی کو چیلنج کرتے دیکھائی دیتی ہیں ۔

    ۔ پر ایسا نہیں کہ امریکہ کو یہ سب معلوم نہیں ہے ۔ امریکہ کو بدلتے ہوئے حالات دیکھائی بھی دے رہے ہیں اور وہ اپنی پوری کوششوں میں بھی لگا ہوا ہے کہ کسی طرح یہ دنیا
    unipolar
    ہی رہے اور
    multi polar
    نہ بنے ۔

    ۔ آپ دیکھیں جیسے جیسے امریکہ کرونا سے
    recover
    کررہا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنا اصل رنگ و روپ دیکھانے لگا ہے ۔ ابھی اس کا حالیہ منظر دنیا اسرائیل اور فلسطین والے معاملے میں دنیا دیکھ چکی ہے ۔ اب آنے دنوں میں بھارت کو مکمل طور پر چین کے سامنے لانے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ اس حوالے سے جو بھارت کے ہمسایہ ممالک ہیں ان پر امریکہ اپنا اثر رسوخ جماتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے ۔ چاہے پھر وہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا سری لنکا ۔ ان سب کو امریکہ نے اپنی
    stick
    دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ جبکہ
    carrot
    وہ اب صرف بھارت کو ہی دے رہا ہے ۔

    ۔ ابھی فی الحال سفارتی محاذ پر چین کو امریکہ ہر جگہ
    engage
    کرنے کی کوششوں میں ہے مگر کچھ بعید نہیں کہ جلد کوئی
    diaster
    رونما ہوجائے ۔ کیونکہ حادثے رونما ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔

    ۔ میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں چین بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھا ہوا ہے ۔ جس طرح امریکہ چین پر وار کر رہا ہے اب چین کی زبان میں بھی تلخی آنا شروع ہوچکی ہے ۔ ابھی حالیہ جوبائیڈن کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق دوبارہ تحقیقات کا حکم دینے پر چین نے سخت موقف اپنایا کہ امریکا کو نہ ہی سچ کی پرواہ ہے اور نہ ہی وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق سنجیدہ سائنسی تحقیقات میں دلچسپی ہے۔

    ۔ یہاں تک کہ امریکہ کی تحقیقات کے جواب میں الٹا چینی وزارت خارجہ نے میری لینڈ میں واقع امریکی تحقیقاتی لیب میں وائرس بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ
    Fort Detrick
    تجربہ گاہ سمیت پوری دنیا میں موجود امریکا کی
    200
    سے زیادہ لیبز میں ایسے کونسے خفیہ راز پوشیدہ ہیں، اس حوالے سے امریکا پوری دنیا کو جواب دہ ہے۔

    ۔ اب جب سے جوبائیڈن نے انکوئری والا اعلان کیا ہے ۔ حالیہ ہفتوں میں دنیا میں اس پراپیگنڈہ کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔

    ۔ دوسرا امریکہ کواڈ گروپ کو چین کے خلاف بطور ہیتھیار استعمال کرنے کے چکروں میں ہے جبکہ اس کواڈ گروپ کی وجہ سے چین اور آسٹریلیا کے تعلقات کشیدگی کی جانب گامزن ہیں ۔

    ۔ straits of malacka
    کے حوالے سے تفصیلی وی لاگز میں کر چکا ہوں ۔ بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند میں بھی چین کے مشکات پیدا کرنے کی مکمل تیاری ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان پر بھی ہم نے دیکھا ہے کہ کافی پریشر کو بڑھایا جارہا ہے ۔ اس کی ایک کڑی تو یہ ہے کہ ابھی تک امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر اعظم عمران خان سے باضابطہ کوئی بات نہیں کی ہے ۔ جب کہ اس سے پہلے روایت تھی کہ جو بھی امریکہ صدر ہوتا وہ ٹیلی فون پر کم ازکم اپنے اتحادی سے بات کرتا تھا ۔

    ۔ جہاں امریکہ خطے میں اپنے نئے اتحادی تلاش کررہا ہے تودوسری جانب چین ایشیاء میں
    strong
    معاشی سٹریٹیجک پارٹنرشپ قائم کررہا ہے ۔ سی پیک میں چین ایران اورافغانستان کو شامل کرنا چاہتاہے ۔

    ۔ اگر آپ معاشی لحاظ سے دیکھتے ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق قوت خرید کے اعتبار سے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ جبکہ
    nominal GDP
    کے اعتبار سے دیکھیں تو چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ لیکن دوسری بڑی ہونے کے باوجود بھی چین اور امریکی معیشت میں سات ٹریلین ڈالر کا فرق ہے۔ حالانکہ امریکہ میں یہی جی ڈی پی صرف پنتیس کروڑ آبادی کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ چین کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ کے قریب ترین اگر کسی ملک کی معیشت ہے تو وہ چین ہی ہے اور اگر کوئی ملک یہ فرق تیزی سے کم کرتا جا رہا ہے تو وہ بھی چین ہی ہے۔ کیونکہ دیکھائی دے رہا مزید چند سالوں کی بات ہے کہ چین امریکہ کو پچھاڑ دے گا ۔

    ۔ کیونکہ ایک طرح سے دیکھیں تو چین امریکہ سے بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ وہ یوں کہ امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے جو اپنے جی ڈی پی کا 97 فیصد قرضے کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ جبکہ چین اپنے جی ڈی پی کا صرف تیرہ فیصد بیرونی قرض کی مد میں ادا کرتا ہے۔ چین کے پاس foreign reserves3.3 ٹرلین ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

    ۔ چین کا دفاعی بجٹ دو سو پندرہ ارب ڈالر ہے جو امریکہ کے مقابلے بہت کم ہے۔ لیکن اس کے باوجود چین امریکی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں اپنے ہتھیاروں کو اپنی صلاحیت سے تیار کرتا ہے۔

    ۔ چین کے نئے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ اور اس منصوبے سے جڑے سی پیک جیسے دوسرے پراجیکٹس نے امریکہ کے سپرپاور سٹیٹس کیلئے ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ گو کہ چین ایسا تاثر نہیں دیتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو چین کی معاشی اور دفاعی ترقی کو روکنا ناممکن ہو گا۔ کیونکہ اس منصوبے کی حفاظت کیلئے چین کو عالمی طور فوجی اڈوں کا جال بچھانا پڑے گا جس کی ایک مثال افریقہ ملک جبوتی میں چین کا پہلا فوجی اڈا ہے۔ ایسا ہی وہ بنگلہ دیش ۔ سری لنکا ، میانمار ، پاکستان اور ایران میں بھی کرنا چاہتا ہے ۔

    ۔ سیاسی لحاظ سے دیکھیں تو چین اقوام متحدہ کی سب سے طاقتور باڈی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور عالمی سطح بڑا فیصلہ چین کی مرضی کے بغیر پاس نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے اپنے شمالی اور مغربی ہمسایوں سے اچھے تعلقات اس کی طاقت ہیں۔ جبکہ جنوب میں بھارت سے خراب تعلقات اور مشرقی سمندر میں جزائر کی ملکیت پر کئی ممالک سے تنازعات چین کی کمزوری ہیں۔ لیکن چین اپنی فوجی اور معاشی طاقت سے سمندر میں نئے جزائر اور فوجی اڈے بنا رہا ہے۔ یہ ہی وہ چیزیں ہیں جو امریکہ کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں ۔
    ۔ دراصل امریکہ اس وقت دنیا میں say کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے اور اپنے پرانے کردار کو بحال کروانے کے لیے وہ تڑیاں بھی لگا رہا ہے ۔ دھونس بھی استعمال کر رہا ہے اور پریشر بھی بڑھا رہا ہے ۔ پر دیکھتے ہیں کہ امریکہ اپنا پرانا وقار اور قد کاٹھ بحال کروا پاتا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ چین ، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کی شکل میں اس وقت کئی قوتیں امریکہ کے ساتھ سینگ پھسانے کو تیار دیکھائی دیتی ہیں ۔

  • افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل ایک مرتبہ پھر انتہائی غیریقینی صورت حال سے دوچار نظرآتاہے۔ بین الافغان مذاکرات پچھلے دومہینوں سے تعطل کاشکار ہیں جس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ فریقین کے درمیان پرتشدد کاروائیوں میں بے پنا اضافہ ہورہا ہے ۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو مارنے کی اطلاعات آرہی ہیں ۔ طالبان نے توحالیہ ہفتوں کے دوران اپنی کاروائیوں میں اتنی شدت لائی ہے کہ ملک کے کئی صوبوں میں انہوں نے زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

    ۔ دیکھا جائے توپچھلے بیس برسوں کے دوران افغانستان پہلی مرتبہ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

    ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پاکستان کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں شیخ رشید نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاک افغان باڈر پر باڑ مکمل کر لی جائے گی ۔ کیونکہ افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت کے پہلے سے ہی کم امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ۔ آئندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی بریک تھرو کے حوالے سے زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔

    ۔ اس سے پہلے پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔

    ۔ دوسری جانب طالبان بھی اس امید پر امن معاہدے کے زیادہ خواہشمند نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان کا اندازہ یہ ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز میں ملک سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

    ۔ یہ بات اب عیاں ہوچکی ہے کہ عیارامریکہ کوافغان حکومت اورنہ ہی طالبان عزیز ہیں بلکہ اپنے مفادات اس کی اولین ترجیح ہیں ۔ کیونکہ دوحہ قطر مذاکرات کی کوئی منزل نہیں ملی اس لیے امریکا نے اس بات چیت سے خود کو الگ کرتے ہوئے انخلا کا یکطرفہ فیصلہ کرکے خطے میں ایک عظیم کنفیوژن پیدا کردی ہے ۔

    ۔ افغانستان میں سب سے خوفناک منظرنامہ خانہ جنگی کا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ امریکا خود بھی خانہ جنگی چاہتا تھا یا پھر اسے فرار کی اس قدر جلدی تھی کہ اس نے کئی پہلوؤں پر غور ہی نہیں کیا۔

    ۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کی تاریخ ایسے وقت پر دی جب افغان فریقوں کے درمیان استنبول میں مذاکرات ہونے والے تھے۔ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے قیام پر بات ہونا تھی اور امن کے لیے یہی سب سے اہم نکتہ تھا لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے استنبول نہ جانے کا اعلان کیا۔

    ۔ بائیڈن کے غیر مشروط انخلا کے اعلان کے بعد طالبان قیادت نے فیصلہ کیا کہ مکمل فوجی انخلا تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دراصل اس فیصلے کے پس پردہ یہ سوچ تھی کہ غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد کابل پر قبضہ مشکل نہیں ہوگا۔ بائیڈن انتظامیہ کے بغیر سوچے سمجھے اعلان نے خانہ جنگی کا امکان بڑھا دیا ہے۔ اس لیے اب نئے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔

    ۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں نئی خانہ جنگی کا خواہاں ہو کیونکہ اس خانہ جنگی سے روس اور چین کو نئے محاذ پر توجہ دینا پڑے گی اور امریکا خطے میں اپنے عزائم کو پروان چڑھانے اور چین کی فوجی و اقتصادی ترقی روکنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کے قابل ہوجائے گا۔

    ۔ ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ کابل ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں جانے کی صورت میں افغانستان میں تمام سفارتی مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں، آسٹریلیا پہلے ہی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے جبکہ امریکا سمیت تمام اہم ملکوں کے سفارتی عملے میں کمی کی جاچکی ہے۔ اگر سفارتی مشن بند ہوگئے تو افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی دھچکا لگے گا۔

    ۔ افغان فورسز کو اب تک امریکی افواج کی فضائی مدد حاصل تھی جو طالبان کو پیش قدمی سے روکے ہوئے تھی۔
    11
    ستمبر کو جب انخلا مکمل ہوجائے گا تو یہ مدد بھی ختم ہوجائے گی جبکہ افغان فضائیہ کا امریکی اور نیٹو مددگاروں کے بغیر قابل پرواز رہنا بھی محال نظر آتا ہے۔

    ۔ ایسی صورتحال میں افغان فوجیوں کا وفاداری بدلنا اور جنگی سرداروں یا طالبان کی اطاعت قبول کرنا ممکنہ منظرناموں میں شامل ہے۔

    ۔ امریکا فوجیوں کے انخلا کا
    44
    فیصد عمل مکمل کر چکا ہے۔ دراصل جس رفتار سے انخلا کا عمل جاری ہے اس نے بھی پاکستان کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

    ۔ افغانستان میں اہم ہوائی اڈے بگرام ایئر بیس پر امریکی فوج اور رسد کا سب سے زیادہ دارومدار تھا وہ بھی خالی کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پندرہ سے بیس دنوں تک بگرام بیس افغان فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔

    ۔ امریکا شاید جولائی یا اگست تک انخلا کا عمل مکمل کرلے اور کابل میں صرف اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے تھوڑی سے فوج چھوڑ جائے۔

    ۔ اسکے بعد نظر آرہا ہے کہ طالبان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کریں اور کابل کی طرف دبائو بڑھائیں۔ دوسری طرف پاکستان میں اندرونی اور سرحدوں پر سیکورٹی خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے مزید پناہ گزین پاکستان کی جانب آنے کا امکان ہے ۔ اور ہماری معیشت تو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

    ۔ حقائق یہ ہیں کہ افغانستان سیکیورٹی کا ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہو سکتا ہے، افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی دہشت گرد بھی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے شرپسند عناصر گٹھ جوڑ کر لیں۔

    ۔ افغان حکومت کی ہچکچاہٹ، داخلی کمزوریوں، مخاصمت، وژن کی کمی اور جنگجو دھڑوں کے دباؤ نے فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے ۔ اسی لیے طالبان کے تیور بھی بدلے ہوئے ہیں ۔ اب وہ فرنٹ فٹ پر نظر آتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت افغانستان میں
    30
    فیصد سے زیادہ علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے اور یہ سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ افغان حکومت کا عمل دخل
    40/45
    فیصد علاقے تک محدود ہے۔

    ۔ اس لیے کہتا ہوں کہ اس وقت اشرف غنی کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔ وہ مغربی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں ہیں امریکیوں کے نکلتے ہی اگلے دن کابل حکومت گِرے نہ لیکن آخر کارہونی تو ہو کر رہے گی۔

    ۔ اس وقت مغربی افواج کی مدد کرنے والے بہت سے افغانی مغربی ویزوں کے متلاشی نظر آتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندانوں کوطالبان حکومت سے بچا کر یورپ اور امریکا میں آباد کر سکیں۔

    ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان سے حیران کر دینے والی خبریں آ سکتی ہیں۔

    ۔ اس لیے افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے۔

    ۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کی گزشتہ تاریخ دہرانے کا ارادہ کیا ہے جس کے بعد افغانستان میں خون خرابے کا بازار گرم ہواتھا۔

    ۔ اس بار پھر امریکہ افغانستان کو آگ میں جھونک کرجارہا ہے اور یہ ایسے وقت اور حالات میں کیا جارہا ہے کہ نہ تو امن معاہدے پر فریقین کی جانب سے عمل ہورہا ہے اور نہ حالات میں بہتری کی کوئی کرن نظر آرہی ہے۔

    ۔ کیونکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان نئی تلخیاں جنم لے چکی ہیں اور خطے میں امریکا کے نئے فوجی اڈوں کے امکانات پر طالبان بھی کسی ملک کا نام لیے بغیر دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔ یہ ایسا منظرنامہ ہے جو عدم استحکام کو مزید گہرا کرسکتا ہے اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔

    ۔ کابل انتظامیہ میں بھی پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد بیٹھی ہے جن میں ایک اشرف غنی کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب بھی ہیں۔ پچھلے دنوں حمد اللہ محب نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا اور پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ اس پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیر کے ساتھ رابطوں اور کام کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے۔ اس کے علاوہ امراللہ صالح اور اس جیسے کئی عہدے دار ہیں جو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں۔

    ۔ دراصل یہ بھارت نواز سیاستدان اور سیکیورٹی عہدے دار ہیں۔ بھارت کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان بارڈر پر لگائے رکھے۔

    ۔ اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کو اپنی جگہ بنانی اور مضبوط کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سیکیورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دار ہو بلکہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ بھی کرسکے۔

    ۔ کیونکہ امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد جاپان اور بھارت کو افغانستان میں اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی ماضی میں افغانستان کے ساتھ کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں رہی، کابل کی موجودہ انتظامیہ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے بیرونی مالی اور فوجی مدد پر انحصار کرنا پڑے گا اور امریکا خطے میں نئے چار فریقی اتحاد کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔

    ۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت کو بہت سوچ سمجھ اور غیر معمولی مہارت سے قدم اٹھانے ہوں گے۔ دور اندیش قیادت ایسے ہی موقعوں پر بہترین فیصلے کرکے قومی قیادت کی اہل کہلا سکتی ہے۔ چیلنجز بہت ہیں۔خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں،خدا کرے پاکستان سُر خرو ہو۔

  • پائلٹ بھی قصائی بھی :کورونا کی وبا سے بے روزگارہونےوالے پائلٹوں کی کہانی ان کی زبانی

    پائلٹ بھی قصائی بھی :کورونا کی وبا سے بے روزگارہونےوالے پائلٹوں کی کہانی ان کی زبانی

    دبئی :پائلٹ بھی قصائی بھی :کورونا کی وبا سے بے روزگارہونےوالے پائلٹوں کی کہانی ان کی زبانی ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھرمیں کورونا وبا کی تباہ کاریوں‌ نے اس قدرگہرے اثرات چھوڑے ہیں کہ دنیا خود حیران ہے کہ اس سے پہلے کبھی تاریخ نے یہ دن نہیں دیکھے

    ذرائع کے مطابق جہاں کورونا وبا سے دنیا کے باقی معاملات متاثرہوئے ہیں وہاں فضائی صنعت بھی متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکی ،

     

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ایسے ہی متاثرہ پائلٹوں میں جنوبی افریقہ کے پائلٹ بھی شامل ہیں جو اس وقت دبئی میں قصائی کی دوکان پرنوکری کرکے اپنا اورگھر والوں کا پیٹ کس طرح پال رہے ہیں ،

    ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی شرم محسوس نہیں کی کہ وہ پائلٹ ہوکرکسی قصائی کی دوکان پرکام کرتےہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں کام کرکے بڑا سکون ملتا ہے اوروہ یہاں رزق حلال کماکراپنا اوراپنے اہل خانہ کا پیٹ پال رہےہیں‌

  • پہلی مربتہ چین امریکہ کے سامنے سینہ تان کرکھڑا ہوگیا:ایسی دھمکی دی کی واشنگٹن بھی کانپ اٹھا

    پہلی مربتہ چین امریکہ کے سامنے سینہ تان کرکھڑا ہوگیا:ایسی دھمکی دی کی واشنگٹن بھی کانپ اٹھا

    بیجنگ :پہلی مربتہ چین امریکہ کے سامنے سینہ تان کرکھڑا ہوگیا:ایسی دھمکی دی کی واشنگٹن بھی کانپ اٹھا،اطلاعات کے مطابق پہلی بار بیجنگ نے واشنگٹن کو انتہائی سخت انتباہ کیا ہے کہ امریکہ کو چینی کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو چینی کمپنیوں کو دبانے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    چین نے اپنی 59 کمپنیوں پر عائد کی گئی امریکی پابندیوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ چینی کمپنیوں کو دبانے والی پابندی کی نام نہاد فہرستیں ختم کردے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ امریکہ نے 59 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کرکے جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔چینی کمپنیوں پر پابندی امتیازی سلوک اور غیر منصفانہ عمل ہے۔

    چینی حکومت ترجمان وانگ وین بین نے امریکی پابندیوں کو عالمی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کے استحکام کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

     

  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا کلبھوشن یادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات لگے ۔ کلبھوشن یادو عرف مبارک حسین پٹیل نے ان تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا۔ جس پر کلبھوشن کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ شروع میں تو بھارت کلبوشن کی گرفتاری پر لاتعلقی کا ظاہر کرتا رہا۔ اور اسے اپنا شہری تک تسلیم کرنے سے انکاری رہا۔ پھر جب پاکستان نے ٹھوس ثبوت پیش کیے ۔ کلبوشن کا ویڈو پیغام سامنے آیا کہ وہ بھارتی نیوی کا سرونگ افسر ہے اور را کے خفیہ مشن پر پاکستان کا امن و امان برباد کرنے کیلئے خفیہ طور پر جعلی نام سے پاکستان میں سرگرم ہے تو بھارت کو کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا ہوتا نظر آیا ۔ پھر بھارت نے تسلیم کیا کہ ۔ کلبوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا سابق کارندہ ہے۔ اس کے بعد بھارت بھاگا بھاگا عالمی عدالت جا پہنچا ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف تین اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا ۔ جبکہ کلبوشن پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث رہا۔ اور ان واقعات میں کئی پاکستانی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا موقف انتہائی مضبوط تھا۔ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کو 3/1 سے فتح حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیلئے مندرجہ ذیل چار چیزیں مانگی تھیں۔
    قونصلر رسائی
    جاسوسی اور دہشتگردی کے الزامات سے بریت
    سول کورٹ میں ٹرائل
    کلبھوشن کی بھارت کو حوالگی
    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کو چار میں سے صرف ایک چیز دی ہے۔ عدالت نے کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی کا حق دیا ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی جاسوس پاکستان کے پاس ہی رہے گا اور یہیں اس کے کیس پر نظر ثانی کی جائے گی جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر نظر ثانی کا کہا ہے لیکن یہ حکم نہیں دیا کہ اس کا ٹرائل بھی دوبارہ ہوگا اور نہ ہی ری ٹرائل کیلئے سول کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ صرف اس کی سزائے موت پر نظر ثانی کا کہا ہے۔ آج عالمی عدالت کے فیصلے کے پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ کلبوشن یادو ہندوستان کا جاسوس بیٹا ہے۔ جو امن پسند ملک پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہو ئے پکڑا گیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑ ہے مانگا انھوں نے کچھ تھا اور ملا کچھ ہے ؟ آج ریاست پاکستان ۔ اداروں اور پاکستانی قوم کی فتح کا دن ہے۔

    ویسے تو بھارت کی مکاری کی مثالیں تاریخ کے صفحات پہ درج ہیں۔ بھارت ہمیشہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوششیں کرتا رہا ہے مگر اس بار اس کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔ بھارتی حکومت اپنے ہی عوام کو بھی الو بنا رہی ہے ۔۔ کہ ہم کیس جیت گئے۔ جیت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    بھارتی میڈیا بھی فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دیتے ہوئے بغلیں بجانے میں مصروف ہے ۔ جیسا پہلے وہ جھوٹی سرجیکل سٹرائکس میں خوشی سے پاگل ہو گئے تھے۔ پھر جب ہم نے ان کا ابھی نندن پکڑا تو عقل ٹھکانے آئی۔ اور بھارتی میڈیا نے رنگ بدلتے ہوئے انسانی ہمدردی کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اب ایک بار پھر بھارتی میڈیا نے مودی کو سر پر بیٹھا لیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ بھارت ۔ اسکی ایجنسیاں اور ادارے دوسرے ملکوں میں دہشتگردی اور جاسوسی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بھارت پورے خطے اور ہمسائے ممالک کوdestablize کررہا ہے ۔
    We exposed india internationally & caught their monkey red handed
    آج پاکستان کو عالمی عدالت۔ اقوام عالم اور سفارتی سطح پر ایک بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ انشااللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کو کشمیر کے مقدمہ میں بھی شکت فاش ہو گی ۔
    پاک فوج زندہ باد ۔۔۔
    پاکستان زندہ باد ۔۔۔
    دشمنان وطن مردہ باد ۔۔۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

    ‎@naveedsheikh123