Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ویسے تو بھارت خطے میں ایشین ٹائیگر بن کر نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی ناکوں چنے چبوانے کا خواہشمند ہے مگر زمینی حقیقت پر غور کیا جائے تو حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ بھارتی الیکشن ہوں یا پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار۔ بھارت نے ہمیشہ بمبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ جیسے گھناونے کھیل کھیلے اور اس کے فورا بعد بھارتی میڈیا اپنے ٹوپی ڈرامے شروع کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھارت کو دنیا کی ہیبت ناک جنگی طاقت اور تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیتا ہے۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    1948 کی کشمیر جنگ ہو ۔ 1965 کی جنگ ہو۔ کارگل ہو۔ سرحدی جھڑپیں ہوں یا حالیہ فلاپ ایئر سڑائکس بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے ۔ یہاں تک کہ جنگ کے محاذ پر بھی مار کھائی اور انفارمیشن وار فیر میں بھی مار کھائی۔ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے بلکہ بھارتی فوجی خود بھی بدحالی کا شکار ہے. یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اوسطا سالانہ 113 اور ماہانہ 9 اہلکاراپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ ان کی کسمپرسی اور مورال کا فقدان ہے۔ اکثر بھارتی فوجیوں کو جنگی محاذ پر کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی تک نہیں مل پاتی ۔ بھارتی ہواباز پاکستانی ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے ۔ کبھی انکا سربجیت پکڑا جاتا ہے تو کبھی ابھی نندن چائے پینے یہاں چلا آتاہے۔کیونکہ
    The tea is fantastic
    بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے روز اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ اتنے فوجی فلاں نہتے نوجوان نے مار دیے ۔ توکبھی فوج کے کمیپوں میں گھس کر مجاہدین نے قیامت برپا کر دی۔ جوکہ بزدل بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے ذلت آمیز سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے چالیس فیصد میزائل تجربات کی ناکامیاں ان کی نا اہلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    کاش ۔۔۔ پاکستان کو عبرتناک سبق کی دھمکیاں دینے والا بھارتی میڈیا خواب خرگوش سے باہر آ کر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے کرشمات دیکھے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گےاور یہی میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔دہلی،کولکتہ ، مدراس ، ممبئی سمیت شاید ہی بھارت کا کوئی شہر۔ قصبہ ۔ ٹکڑا یا جزیرہ ہو جو پاکستانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو۔ بھارت کی
    Cold start doctrine کو پہلے ہی پاکستانیtactical nuclear arms کی بدولت
    old start doctrine بن چکی ہے ۔ جس کا اعتراف بھارتی فوج کے چیف وی کے سنگھ پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ پاکستانی مسلح افواج کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی راز نہیں ۔ پاکستانی فوج کے اخراجات بھارتی فوج کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔ مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ پاک فوج ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔ جس طرح پاک فوج نے سوات۔ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا ہے پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاک افواج ایک battle hardened فوج ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ماہرین کے مطابق اگر بڑی جنگ چھڑ جائے تو بھارت جنگ میں مصروف اپنی فوج کو زیادہ سے زیادہ 10 روز تک اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد اسلحہ اور آلات بہت پرانے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے جہاز اڑتے تابوت ہیں جواکثر اپنے وزن سے آپ ہی گرتے رہتے ہیں . یہ جہاز کسی بھی لحاظ سے ایف سولہ تو ایک طرف جے ایف 17تھنڈر کا ہی مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پائیلٹ موجود ہیں۔ ہیومن ریسورس اور ٹریننگ کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کی فوج کا کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    اگر بھارتی نیوی پر نظر ڈالی جائے تو آپ کو آئے روز خبریں ملیں گی کہ وہ اپنے ہی جہاز اور آبدوزوں کو اُڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بھارتی نیوی کے شرمناک اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی انکی کھڑی نیوکلیئر آبدوز چھوٹی سی غلطی کے سبب سمندر برد ہو جاتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتااور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ بلوچستان میں دہشتگردی ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کروانے کی سازش ہر معاملے کے پیچھے بھارت ہی نظر آتا ہے ۔ ان تمام محاذوں پر بھی بھارت کے مقدر میں سبکی ہی ہے ۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ
    ” انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا”
    بے شک اس فوج کی وجہ سے ہی یہ ملک محفوظ اور قائم ودائم ہے ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

  • تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

    سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

     

    عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

     

    حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔

    اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

     

    حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔

    ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
    شکریہ تحریک انصاف
    شکریہ عمران خان
    اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    سردار عثمان بزدار نے پولیٹیکل سائنس مں ایم اے کا ہوا ہے۔عثمان بزدار 2002 سے 2008 تک مسلم لگ۔ ق۔ مشرف دور مں تونسہ کے تحصل ناظم ۔ دوہزار ترہ میں مسلم لگا ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا . مگرپیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے۔پھر 2018 میں عثمان بزدار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ بن گئے۔گزشتہ جنرل الیکشن میں عثمان بزدارتونسہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پہلی ہی باری میں صوبے کے سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد ہو گئے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ پرچی نکالی گئی ہے۔کسی کا اندازہ ہے کہ کسی دعا یا استخارے کے نتیجے میں یہ وزیر اعلی بنے۔ مگراس بات کو تو عقل ماننے کو تیار نہیں کہ عثمان بزدار کو پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کی بنا پر وزیر اعلی بنایا گیا۔چلیں وجہ جو بھی ہو۔اگر ان کے9 سے 10 ماہ کی کارکردگی کا موزانہ سابق وزراء اعلی سے کیا جائے تو بزدارکا دور شایدپنجاب کی تاریخ کا سب سے خراب اوربدترین دور ہے۔اس میں کسی کوکوئی شک و شبہ نہیں کہ عثمان بزدار نالائق اور نااہل ہیں ۔ بظاہر تو عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کے سربراہ ہیں ۔مگر ایسی طاقت کا کیا فائدہ جب آپکو استعمال کرنی ہی نہ آتی ہو۔شاید اگلے چا ر سالوں تک عثمان بزدار اپنے اختیارات کو استعمال کر نا سیکھ جائیں مگر تب تک پنجاب کا بٹھہ ضرور بیٹھا جائیں گے۔کیونکہ کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں جووہ اپنے حلقے کے عوام کے لیے اب تک کر سکے ہوں تو پورے پنجاب کے لیے انھوں نے کیا کرنا ہے۔پنجاب کے سیاسی کلچر میں کمزور اور مسکین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لوگ طاقتور اور مضبوط حکمران چاہتے ہیں۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    سونے پر سہاگہ کہ عثمان بزدار نے اپنے دفاع کے لیے ترجمانوں کا پورا دستہ تیار کر لیا ہے . یعنی 38 ترجمان مقرر کر لے ہیں. اتنے پنجاب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں۔ان ترجمانوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔وہ اس لیے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ہی صفر بٹاصفر ہے۔ صاف بات ہے پنجاب کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے خود بھی شعوری طور پر انکو قبول نہیں کیا ہے ایک جانب تو ان کو وزیر اعلی پنجاب لگا دیا دوسری جانب پارٹی کے ورکر اور لیڈر خود ان کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پنجاب کوئی بلوچستان نہیں، پنجاب کوئی کے پی نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا صوبہ نہں بلکہ ساٹھ فیصد پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے موثر اور بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کمزور وزیر اعلیٰ کیسے کامیا ب ہو سکتاہے۔

    عثمان بزدار کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جتنا باہر کاٹتا ہے اتنا ہی اندر کاٹتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مخالفین کو جائز و ناجائز گندا کرنے کے لیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ان کی باری ہے۔
    ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ ہو۔ سانحہ ساہوہال ہو۔ ہیلی کوپٹر کا استعمال ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کے پروٹوکول کا معاملہ ہو۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ہوں۔ شہروں مں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر ہوں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو۔ ساہیوال ہسپتال مں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ہوں۔ اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو۔ بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ہوں۔مارکیٹ پرائس کمیٹیاں ہوں۔عثمان بزدار کے اپنے حلقے تونسہ میں بغرر بورڈ اور متعلقہ افراد کی منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم ہو۔لیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ ہو۔ ہر امتحان مں پنجاب حکومت فیل ہی ہوئی ہے اور اس سب کی ذمہ داری صرف اور صرف عثمان بزدارکی ہے۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    عثمان بزدار کا موازنہ اچھا یا برا شہباز شریف سے ہی کیا جائے گا۔ اوراب تک کارکردگی میں شہباز شریف عثمان بزدار سے لاکھ درجے بہتر ہی تھے۔پنجاب میں اگر کوئی تحریک انصاف کو کمزور کر رہا ہے تو وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہی ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار عمران خان کے نمبر ٹو ہیں۔وہ عمران خان کے بعد سب سے اہم ہیں۔ شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر اب اتنے اہم نہیں جتنے سردار عثمان بزدار اہم ہیں۔وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کے بارے میں بار بار فرماتے ہیں. وہ شہباز شریف کی طرح لوٹ مار نہیں کرے گا۔یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مگر ممکن ہے عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کو مالی طورپر نقصان شہباز شریف کی لوٹ مار سے زیادہ ہو جائے۔

    مزید پڑھئے: رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    عوام کو عثمان بزدار نے دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں . نہ ہی کوئی کا م ہوا ہے پہلے کی طرح بدحالی عوام کا مقدر دیکھائی دے رہی ہے۔ ویسے ہی لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ بے روزگاری۔مہنگائی اور فاقوں مں اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ہی جاگر داری اور طاقت کا نظام قائم ودائم ہے۔پہلے سے بھی زیادہ صرف میڈیا اور ٹویٹر پر جعلی کارکردگی جاری وساری ہے۔ عملی کام صفر ہیں۔پہلے کی طرح ہی ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ پہلے ہی کی طرح صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے۔ یہ ہے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی.

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان مسلمانوں کے لیے سب سے متبرک مہینہ ہے ۔ اسی ماہ میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔مگر پاکستان میں ہر سال اس ماہ میں لڑائی جھگڑے اور دیگر غلط کاموں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس ماہ میں شیطان تو قید ہو جاتاہے مگر ہمارانفس آزادہوجاتاہے ۔ بے شک بابا بلھے شاہ نے درست فرمایاتھا کہ – میری بُکل دے وچ چور – یعنی میری چادر میں ہی چور چھپا ہے۔

    رمضان آتے ہی سب نماز،تروایح، باقاعدہ قرآن پاک تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں . مساجد میں حاضری میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو جاتاہے ۔ داڑھیاں بڑھا لی جاتی ہیں۔ہاتھ میں تسبیح اورسر پر ٹوپیاں بڑے اہتمام سے پہنی جاتی ہیں۔جو کہ بہت اچھی بات ہے ۔مگر جھوٹ،چغل خوری، سود ، حرام کمانا، ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،جعلی دوائیاں، رشوت لینا ، رشوت دینا،چوری چکاری،دھوکہ دہی،لعن طعن کرنا نہیں چھوڑتے ۔کسی کا حق مارنا ہو تو ہم میں سے کو ئی پیچھے نہیں رہتا۔ بھائی بھائی کاحق مار لیتا ہے بیٹا باپ کو مار دیتا ہے بھائی بہن کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے ۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    بڑے بڑے رئیس۔ امیر کبیر۔ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو سحری اور افطاری کروا کر نیکیاں تو کماتے ہیں مگر اپنے ورکروں کو وقت پر تنخواہ دیتے وقت ان کو موت پڑ جاتی ہے۔امیر تو پھر امیر ہیں- عام آدمی بھی کچھ کم نہیں ۔ورکر طبقہ روزہ رکھ کر اگر کام پر آہی جائے تو ایسا محسوس کروا تا ہے کہ جیسے اس کا کام پر آنا احسان ہو ،روزہ رکھ کر کام میں ڈنڈی مارنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا ، گالی گلوچ کرنا اُس نے سب روضے کے نام پر حلال کر لیا ہے۔

    دکان دار جہاں افطاریاں کرواتے ہیں وہیں قوم شعیب علیہ السلام کے وطیرہ پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ ناپ تول میں کمی، مہنگائی، ملاوٹ پہلے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ نیکیوں کے ساتھ ساتھ سیزن بھی تو سمیٹنا ہے۔ دوکانداروں کے لیے رمضان کی برکتیں ایسی ہوتی ہیں کہ باقی گیارہ مہینوں کے برعکس صرف اس ماہ میں ہر چیز دو گنا،تین گنازیادہ قیمت پر بیچی جاتی ہے۔جگہ جگہ گھٹیا تیل سے بنے پکوڑے، سموسے ، جلیبیاں، گلے سڑے پھلوں والی فروٹ چاٹ روزہ رکھ کر دھڑلے سے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں ۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    صدقہ ، زکوة، خیرات دیتے وقت ذاتی تشہیر پر زورزیادہ رہتا ہے ۔فیس بک ،ٹویٹر، اخبارات ایسی تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں جس میں کبھی کوئی راشن تو کبھی عیدکے کپڑے غربیوں میں تقسیم کررہا ہوتا ہے۔ مسجدوں کی رونقیں خوب بحال کی جاتی ہیں ہر کوئی اس تیزی میں رہتا ہے کہ ہر حال میں نماز باجماعت ادا کی جائے ۔مگر کوئی یہ فکر نہیں کرتاکہ دن بھر اس نے روزہ رکھ کرکیسے کیسے دونمبریاں کی ہیں ۔ کتنے جھوٹ بولے ہیں ۔کتنے لوگوں کا حق مارا ہے ۔رمضان کے آخری عشرے میں جب ہر کوئی عید کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدتا ہے ۔ لاری اڈوں پر پردیسیوں کا رش بڑھ جاتا ہے ۔ تب کاروباری حضرات اپنے ریٹس ایسے بڑھاتے ہیں جیسے یہ عید ان کی زندگی کی آخر عید ہو۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو آدمی روزہ رکھتے ہو ئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(صحیح بخاری،جلدنمبر 1،صفحہ نمبر:255)

    رمضان کا مقدس مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم کھانے پینے سے ہاتھ روک کے اپنے اردگرد بسنے والے غریبوں،مسکینوں اور بے سہاروں کا خیال کریں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ پاک اپنے حقوق تو معاف کردے گا مگر جو دھوکا،مکر و فریب ، چور بازاری اور منافع خوری ہم اپنے بھائیوں سے کرتے ہیں وہ اللہ پاک ہر گز معاف نہیں کرے گا۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ہے کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔
    کیونکہ ملاوٹ کرنے والا انسانوں کو دھوکہ دیتا ہے اور ایک دھوکہ بار شخص منافق تو ہو سکتا ہے مومن نہیں ۔
    مگر معاشرے میں جہاں دوسری برائیوں کو برائی نہیں سمجھا جاتا وہاں ملاوٹ بھی آجکل کا روبار کا لازم جزو بن چکا ہے ۔ دودھ ۔ گوشت۔ گھی ۔ آٹا۔ دالیں ۔ مرچیں ۔ چائے کی پتی ۔ غرض ہر چیز میں ملاوٹ کرکے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے ملاوٹ کے ایسے ایسے گھنآنے طریقے اپنائے جاتے ہیں عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ ملاوٹ کرتے وقت حلال اور حرام کے تصور کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ گڑوں کی گندگی سے چربی نکال کر بیوٹی سوپ ۔ کپڑے اور برتن دھونے کے صابن کی تیاری میں بڑی بڑی فیکڑیاں ملوث ہیں ۔ حرام جانوروں کا گوشت دوسرے گوشت کے ساتھ ملا کر فروخت کرنا تو عام سی بات ہو گئی ہے ۔ جب ٹی وی لگاو ایسی خبریں نظر آتی رہتی ہیں ۔ گوشت کا وزن بڑھانے کے لیے جانور کے دل میں پانی بھرنا بھی قصائیوں کی روٹین کا حصہ ہے ۔ برائیلر مرغیوں کی خوراک کی تیاری میں جانوروں کا خون ۔ آنتین اور غیر حلال مادوں کے استعمال کا سب کو پتہ ہے ۔ مگر برائیلر کھانا سب کی مجبوری ۔۔۔ کیوں ؟

    پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    دودھ میں پہلے گوالہ پانی ملاتا تھا جس سے دودھ پتلا ہو جاتا اور ملاوٹ پہچان لی جاتی تھی ۔ مگر اب گوالہ اتنا سائنٹیفک ہوگیا ہے کہ ایک کلو دودھ میں بلیچنگ پاوڈر، یوریا اور دوسرے زہریلے مادے ڈال کر ایک من دودھ اتنا گاڑھا تیار کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے خالص دودھ بھی شرما جا ئے ۔ کہا جاتا تھا زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مردہ سوا لاکھ کا ۔ مگر پاکستان میں یہ مثال ہر جانور پر ٹھیک بیٹتھی ہے جہاں مردہ جانور چاہے حلال ہو یا حرام ضائع نہیں جاتا ۔ بلکہ اسکی آنتوں ، ہڈیوں اور دیگر اعضاء کو ابال ابال کر ان میں سے ساری چربی نکال لی جاتی ہے جس سے تیار ہونے والا خالص تیل اور دیسی گھی فوڈ ایسنز ڈال کر بازار میں کھلے عام ملتا ہے ۔
    مرچ اور مصالحے جن کے بغیر ہمارے کھانوں میں مزہ نہیں ہے ان میں لکڑی کا برادہ ۔ اینٹوں کا چورہ تو ملایا ہی جاتا تھا مزید یہ کہ انھیں سیمنٹ کی بوریوں کو کاٹ کر بنائے گئے لفافوں میں بھر کر فروخت کیا جا تا ہے ۔ اس طرح سیمنٹ کا فلیور بھی ہمارے مصالحوں میں شامل ہو جا تا ہے ۔ چائے کی پتی میں بھی پرانی استعمال شدہ پتی ۔ خون اور رنگ ملا کر مقدار کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ ابالنے پر رنگ بھی زیادہ آنا شروع ہوجا تا ہے ۔


    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پرانی ادرک اور لہسن کو تیزاب سے دھویا جاتاہے جس سے وہ نہ صرف تروتازہ نظر آتی ہے ۔ بلکہ اس کا وزن بھی کافی بڑھ جاتا ہے ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ آج کل زہر بھی خالص نہیں ملتا تو غلط نہ ہو گا کیونکہ کاشتکاروں کو کیڑے مار ادویات میں پانی بھر کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے جس سے کیڑے تو نہیں مرتے البتہ فضل ضرور مر جاتی ہے ۔
    بے حس ناجائز منافع خور راتوں رات امیر سے امیر تر بننے کے نشے میں ناقص سے ناقص مضر صحت اجزائ کی ملاوٹ سے گریز نہیں کرتے ۔ انھیں نہ قانون کا ڈر ہے نہ خوف خدا انکا ضمیر بالکل مردہ ہو چکا ہے اور وہ پاکستان کی نسلیں برباد کرنے پر تلے ہو ئے ہیں ۔
    یہ سب کچھ اتنا حیران کن اور ناقابل یقین ہے کہ دل تسلیم ہی نہیں کرتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ سب کچھ کوئی کیسے کرسکتا ہے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور راتوں رات امیر بننے کے چکر میں ہم سب مرنا بھول چکے ہیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں