Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    ۔ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    ۔ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    ۔ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    ۔ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    ۔ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔

    ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650
    ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔

    ۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔

    کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    ۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے

  • حکومت و اپوزیشن کی جنگ اور مہنگائی. تحریر: نوید شیخ

    حکومت و اپوزیشن کی جنگ اور مہنگائی. تحریر: نوید شیخ

    ملکی سیاست میں اکیسویں صدی کا اکیسیواں سال بہت سے حوالوں سے سرد و گرم رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ کے ساتھ مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رلائے۔ پھر کورونا کی عالمی وباء نے پاکستانیوں کو بھی عذاب میں مبتلاء کئے رکھا ہے ۔ پر لگتا ہے کہ نئے سال میں بھی سیاست کی گرم بازاری کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا جیسے پہلے تھا بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔

    ۔ کیونکہ کوئی چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کر کے اُس کے لیے رستہ بنایا جائے تو کسی دوسرے کی یہ خواہش ہے کہ اُس کے لیے ملک اور سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار کر کے آئندہ الیکشن کو آزادانہ کروایاجائے تو وہ راضی ہو گا۔ جبکہ جو اقتدار کے مزہ لے رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیل والے اُن کے ساتھ ہی کھڑے رہیں ۔ چاہے اُن کی کارکردگی جیسی بھی ہو اُن کی حمایت جاری رکھیں اور اُن کے مخالفین کو کوئی رعایت نہ دیں۔ ۔ اس وقت جہاں ہر خاص وعام کی زبان پر اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں جاری ہیں توعمران خان کی گفتگو بھی معنی خیز ہے ۔ دراصل جس دن عمران خان نے اپنے وزیروں اور ترجمان کے خصوصی اجلاس میں یہ راز فاش کیا کہ نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس دن اس بحث کو مزید تقویت مل گئی جو ملک میں کئی دن سے جاری تھی۔ حقیقت میں عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

    ۔ ان کا بیان یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں وہ اس سے باخبر ہیں۔ وہ جواب میں کیا کریں گے۔ اس کا اندازہ ان کے ردعمل سے لگایا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ کپتان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ فی الحال اس امتحان میں وہ کامیاب نہیں جا رہے۔ ان کا ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محسوس کر رہے ہیں وہ جنگ ہار رہے ہیں۔ اور جوابی لڑائی کے لئے ان کی حکمت عملی بھی کوئی ایسی نہیں جس پر کسی کو پریشانی ہو۔ حقیقت میں پاکستان میں تبدیلی ہار چکی ہے ۔ جس کی واضح مثال کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست اور پے درپے ضمنی انتخابات میں حکومتی شکست ہے ۔ یوں صحیح معنوں میں عوام نے تحریک انصاف کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ دراصل اپوزیشن وہ کام نہ کر پائی ہے جو تحریک انصاف نے بذات خود انجام دے ڈالا ہے ۔ آپ دیکھیں ۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا اثر یہ ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی آپس میں لڑ لڑ پاگل ہونے کو ہیں ۔ جس نے اس شکست کو مزید بڑا کر دیا ہے ۔ ایک جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد کے بھتیجے ارباب محمد علی نے گورنر کے پی شاہ فرمان کے احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ تو دوسری جانب یہ خبریں کہ گورنرخیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر نے میئر پشاور کا ٹکٹ سات کروڑ میں بیچا۔ تاہم میئر پشاور کی نشست کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار رضوان بنگش نے ٹکٹ کے عوض پارٹی قائدین کو رقوم دینے کی تردید کرتے ہوئے ارباب خاندان کو پارٹی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔

    ۔ اس سب کا پنجاب کے مقامی انتخابات میں جو اثر پڑنے جا رہا ہے اُس کی خبر شاید تحریک انصاف کو لانے والے کو بھی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اس طرح منتشر ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس طرح کسی تباہ شدہ جہاز کا ملبہ اور شاید اگلا انتخاب اس کا آخری انتخاب ہو۔ جس سے قبل اس پارٹی کے جہاز پر چڑھائے گئے مسافر ایسے جان چھڑانے کی تیاری میں ہیں ۔ جیسے ہمیں کابل کے ایئر پورٹ پر نظر آیا تھا۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی سیاست کارکردگی کی نہیں۔ بلکہ صرف الزامات کی سیاست ہے اور لوگوں کے کان اتنے سالوں سے وہی الزامات سن سن کر پک چکے ہیں۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں توڑ کر نئے عہدیدار لگائے ہیں۔ لیکن یہ وقت ٹیم کا نہیں۔ بلکہ کپتان کی تبدیلی کا آ چکا ہے۔ عوام اب مزید اس ناکام تجربہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی اس قابل رہے ہیں کیونکہ ان کی برداشت کی سکت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ پھر جو لوگ ڈیل کے دعوے کر رہے ہیں وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ڈیل کس کیساتھ اور کیا ہو رہی ہے؟ ن لیگ سے ، مولانا سے یا پھر پیپلزپارٹی سے ؟؟

    ۔ جہاں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جبکہ بہت سے سرگرم ن لیگی شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ وقت آنے پر مریم نواز، شہباز شریف کی تجویز کنندہ ہوں گی۔ فرض کریں اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لئے گرفتاری دینا ہو گی ۔ ضمانت کرانا ہو گی۔ سزا پر نظرثانی کے لئے دائر درخواستوں پر عدالتی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔نا اہلی ختم کرانا ہو گی۔ اس کے بعد الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان میں ممکن ہے ۔ ہماری ستر سالہ تاریخ ایسی چیزوں سے بھری پڑی ہے ۔ یوں جوں جوں نواز شریف کی یقینی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا ہے۔ حکومتی ترجما نوں کی فوج کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔ ویسے ان ترجمانوں کی تعداد کتنی ہے شاید خود حکومت کو بھی معلوم نہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچی ہوئی ہے ۔ کہ کچھ ہونا والا ہے ۔

    اس سب کے باوجود خبریں یہ ہیں کہ خود حکومتی پارٹی کے ممبران اسمبلی اپنا اپنا بائیوڈیٹا نواز شریف کے پاس پہنچانے کے لئے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں اور نواز شریف کی ہلکی سی نظر کرم کے منتظر ہیں۔ کیونکہ ان پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو بھی معلوم ہے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ یقینی شکست اور ضمانت ضبط کروانے کا ٹکٹ ہے۔ پھر جہاں مسلم لیگ ن کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔ تو زرداری صاحب بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کی نظریں بھی جنوبی پنجاب سمیت بلوچستان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اور ان کی بھی خواہش ہے کہ کسی طرح کوئی بات بنے ۔ اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی وفاق میں ابھر کر سامنے آجائے ۔ اس حوالے سے کہا تو بہت جا چکا ہے ۔ پھر ابھی گزشتہ ہفتہ ہی سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ فارمولے والے اُن کی مدد لینے آئے تھے کہ کس طرح ملک کو اس موجودہ بھنور سے نکالا جائے۔ جس پر اُنہوں نے فارمولے والوں کو کہا کہ پہلے عمران خان کو نکالو۔ یعنی ہر طرف ڈیل ہی ڈیل کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ ڈیل ہو چکی۔ یا ڈیل ہو رہی ہے۔ اسکرپٹ فائنل ہو چکا یا ابھی اُس پر کام ہو رہا ہے، ان سب سوالات پر ہر طرف بحث و مباحثہ جاری ہے۔ نام کوئی نہیں لے رہا۔ نام عمران خان نے بھی نہیں لیا کہ کون نواز شریف کی نااہلی کے خاتمہ کا رستہ نکال رہا ہے۔ ایاز صادق بھی کھل کر نہیں بتا رہے کہ کون غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ صحافی حضرات بھی نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اسکرپٹ کس کا ہے جس سے نواز شریف مطمئن ہیں۔

    ۔ یہاں یاد کروادوں کہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ اس نے ملک کی مقتدر قوتوں کے لئے کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا۔ ن لیگ نہ پیپلز پارٹی اور یہ بھی کہ یہ تبدیلی ن لیگ کو آن بورڈ لئے بغیر نہیں آسکتی۔ اس لئے حکومت کا سارا زور ن لیگ کو ملیا میٹ کرنے پر رہا۔ جس میں وہ ہر دوسرے کام طرح مکمل ناکام رہے ۔ دراصل اس تمام صورت حال کی بڑی اور بنیادی وجہ خراب حکومتی کار کردگی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف دینے میں حکومت اب تک ناکام ہے۔ ایسی بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے فائدہ اٹھانا اپوزیشن کا حق تھا اور اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود اس سے سیاسی فوائد حاصل کر لیے ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سب کو کچھ نہ کچھ دانا ڈالا ہوا ہے ۔ اور وہ شاید اس بار safe play کررہے ہیں کہ کوئی اگر آنکھیں دیکھائے تو ان کے پاس اس بار دوسرا آپشن موجود ہو ۔ مگر اپوزیشن کو بھی قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں اس وقت واضح طور پر اِن ہاؤس تبدیلی کیلئے حالات خاصے تیار ہیں ۔ تو اپوزیشن نے اگر کسی فوری تبدیلی کیلئے مقتدرہ کا دروازہ کھٹکھٹایا توعمران خان سے بھی زیادہ مصیبت میں پھنس جائے گی۔ اس تمام شور شرابے میں مارچ بہت اہم ہے ۔ اور آپ دیکھیں گے عنقریب بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔ ایسے ایسے معجزے بھی ہوں گے جن کا کبھی کسی نے خواب وخیال بھی نہ سوچا ہوگا ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست سب چلتا ہے اور سب کچھ ممکن ہے ۔ کیونکہ یہاں ڈیل اور ڈھیل کے بغیر کچھ ممکن نہیں ۔ ۔ یوں اب سیاسی گیند میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کیساتھ ساتھ آصف زرداری کے کورٹس میں ہے۔

  • سیاسی شعبدہ بازیوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، تحریر:نوید شیخ

    سیاسی شعبدہ بازیوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، تحریر:نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کہ ایک تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا دوسرا روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان ضرور دینا ہے جو عوام کے زخمی پر نمک پاشی کے مترادف ہو ۔ جہاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہنگائی پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز نہیں آرہے ہیں تو شہریار آفریدی بیرون ملک جا کر صحافیوں کو تڑیاں لگا رہے ہیں تو شبلی فراز قومی بھنگ پالیسی کا اعلان کررہے ہیں ۔ رہی بات علی امین گنڈا پور کی ۔ تو وہ ہر کسی کے ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔

    ۔ اب جب ایسی کارکردگی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوتو پھر وہ ہوتا ہے ہے جو آج لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شہبازگِل کے ساتھ ہوا ہے ۔ جہاں خاتون پروفیسرنے شہبازگِل سے ڈگری لینے سے انکار کردیا اور خاتون پروفیسر کا نام باربار پکارنے پر بھی وہ اسٹیج پرنہ آئیں۔ اس حوالے سے جب صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا گیا کہ خاتون پروفیسر نے ٹوئٹ کے ذریعے آپ سے ڈگری لینے سے انکار کیا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے۔ ویسے یہ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں مجھ تو ڈر ہے کہ کہیں جب یہ ووٹ مانگنے جائیں گےتو بات کہیں برابھلا کہنے سے جوتیاں اور گندے انڈے پڑنے تک نہ پہنچ جائے ویسے اس کا ایک مظاہرہ ہم آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں جب علی امین گنڈاپور پر ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی جب وہ سنجے دت کے طرح فائرنگ کرتے ہوئے ایک جگہ سے گزرے تھے ۔ اب تازہ تازہ جو علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان کو ٹارگٹ کیا ہے اس ہر جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللّٰہ نے علی امین گنڈا پور کوتسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو سیاست کے بجائے فلم انڈسٹری میں سلطان راہی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور آج کل اس لیے خوش ہیں کہ ان کے لیڈر نے بھنگ کی کاشت شروع کر دی ہے۔ بھنگ کے بعد آپ کو بلیک لیبل شہد استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بات تو ہے رسوائی کی ۔ پر مجھے امید ہے کہ جلد علی امین گنڈا درعمل میں مزید کوئی نئی بونگی ماریں گے ۔

    ۔ فی الحال تحریک انصاف کے لیے اچھی خبر نہیں آرہی ہے ۔ کے پی کے میں جو بلدیاتی الیکشن ہورہا ہے اس میں پی ٹی آئی کی حالت کافی پتلی ہے ۔ اسکی وجہ ہے ۔ جب فواد چوہدری کبھی کہیں گے کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف فضول مہم بنا دی جاتی ہے کہ جی قیمت میں اضافہ ہو گیا، اگر تین روپے قیمت ہے سات روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟
    تو کبھی کہتے ہیں کہ گیس ختم ہوگی اب سستی گیس نہیں ملے گی۔ ان بیانات اور حرکتوں کے بعد کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عوام کیوں پی ٹی آئی سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم کی طرح حکومتی وزراء جو مرضی دعوے کرتے رہیں۔ عالمی ادارے پاکستان کو مہنگائی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک قرار دے چکے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کی صف میں آکھڑا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حکومتی صفوں میں شامل مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ملک کی نصف آبادی غربت اور افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    ۔ پھر اپوزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین بھی پاکستان سے لندن پہنچ گئے ہیں ۔ وہ دو ہفتے لندن میں رہیں گے۔ جہاں وہ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان سے پہلے ایاز صادق بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور پچیس لوگوں کے حوالے سے خبر بھی زیر گردش ہے کہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ کیا جائے تو وہ پانسہ پلٹ دیں گے ۔ میں تصدیق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کہنے والے تو کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین شاید اسی سلسلے میں لندن پہنچے ہیں ۔

    ۔ ویسے اس وقت جہانگیر ترین نے بھی ساری ہی آپشنز رکھی ہوئی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تصویر بھی وائرل تھی جس کے بعد چہ مگویاں شروع ہوگئی تھیں ۔ میں آپکو یہ بتادوں کہ اس وقت ترین گروپ میں لگ بھگ 25 سے 30 قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں ۔ اور ان میں زیادہ تر electables ہیں ۔ ویسے چند ہفتے قبل ہی جہانگیر ترین یہ دعوی کر چکے ہیں ۔ کہ میری تاحیات انتخابی نااہلی ٹیکنیکل بنیادوں پر ہے۔ یہ جلد ختم ہو جائے گی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آنے والے الیکشن میں پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ ایک بڑا گروپ ہوگا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی رہے گا یا پرواز کرکے کس اور جگہ چلا جائے گا ۔ اچھا صرف جہانگیرترین ہی نہیں اپنی نااہلی کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں بلکہ محمد زبیر بھی مریم نواز کے حوالے سے دعوی کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن وہ لڑیں گی اور تمام کیس بھی ختم ہونگے ۔ اچھا مجھے غیب کا علم تو نہیں پر اگر زبیرعمر کہہ رہے ہیں تو یقینی طور پر وہ کسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہی کہہ رہے ہوں گے ۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات پنڈی اور اسلام آباد دنوں جگہ کافی اچھے ہیں ۔

    پھر اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایاز صادق اگر لندن جاکر اپنی رائے نوازشریف کو دینا چاہتے ہیں تو ان کا حق بنتا ہے، میرا خیال ہے عام انتخابا ت2022ء کے اوائل یا درمیان میں ہوں گے۔ ۔ فارمولہ بھی خواجہ آصف نے بتا دیا ہے کہ کیسے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔موجود حکومت کو نکالنا ہے تو تحریک عدم اعتماد سے نکالیں، کسی غیر آئینی طریقے سے ان کو نہیں نکالنا چاہیے۔ ان کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیں یا پھر پی ٹی آئی کے اپنے عمران خان سے داغا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ ڈالیں ۔ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں اس میں ممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ کیونکہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کہ وجہ سے پی ٹی آئی کی popularityمیں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اور اگلے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا بڑے جگرے والا کام ہے ۔ اس کی مثال میں آپکو دے دیتا ہوں جیسے لاہور این اے 133کے الیکشن میں جمشید اقبال چیمہ نے راہ فرار اختیار کی وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جیسے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹکٹیں دیتے ہوئے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی آپکے سامنے ہے کہ لوگ تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لے رہے تھے یہاں تک پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اب جو بلدیاتی الیکشن اور خانیوال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا رزلٹ سامنے آئے گا اس سے چیزیں مزید واضح ہوجائیں گی ۔ کہ حکومت وقت پورا کرے گی یا وقت سے پہلے انتخابات ہون گے ۔ دوسرا خانیوال میں ضمنی الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ بھی بنی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔

    پھر خانیوال میں ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے ٹی ایل پی کی پرواز کیا ہوگی یہ بھی معلوم ہوجائے گا کیونکہ علامہ سعد رضوی وہاں ایک تگڑا جلسہ بھی کر آئے ہیں ساتھ ہی انھوں نے اہلسنت کی تمام جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں کہ ہر جگہ مشترکہ امیدوار لائے جائیں ۔ اب یہ ٹی ایل پی فیکڑ ن لیگ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے یا پی ٹی آئی کو ۔۔۔ اس خانیوال کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے واضح ہوجائے گا ۔ اس لیے یہ الیکشن مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہوگا اس لیے یہ کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔ سیاسی شعبدہ بازیوں ۔۔۔ نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہم نے اپنی معیشت تو کیا سنبھالنی تھی۔ مقروض ہی ہوتے چلے گئے۔ قرضے اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لیے اور قرضوں کے اس جال سے کبھی نہ نکل سکنے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے ۔ ۔ لب لباب یہ ہے کہ ایک طرف حکمرانوں کے رنگین و سنگین بیانات ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی حالت زار دیدنی ہے۔ ۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح ناممکن ہوچکا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزی،گوشت اور دالوں جیسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو عوام اسے دوسرا آئینی دورانیہ انعام کے طور پر بخش دیتے ہیں ورنہ اسکے خلاف ووٹ ڈال کر اسکو تاریخ بنا دیتے ہیں ۔

  • ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ
    فرد ہو یا قوم، سب سے بڑی مجبوری، سب سے بڑی غلامی، معاشی غلامی ہوتی ہے۔ پاکستان کو غلامی کا ایسا پھندہ لگ گیا ہے کہ حالت یہ ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈالر اس ماہ کے آخر تک200تک پہنچ جائے گا اور اگلے بجٹ تک 220روپے تک کا ہوجائے گا ۔ پھر آئی ایم ایف کی شرائط پر جو منی بجٹ نافذ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے 360 ارب روپے کے ٹیکس اور تمام سبسڈیز کا خاتمہ وجائے گا ۔ ۔ مگر وزیراعظم روز کسی نہ کسی بہانے ٹی وی پر آکر ایک ہی راگ الپاتے ہیں کہ ۔ پاکستان سستا ترین ملک ہے ۔۔ پاکستان جلد ہی خطے کا بڑا اور لیڈر ملک بن کر ابھرے گا۔ صرف سردیاں مشکل ہیں، گرمیاں آتے ہی مہنگائی اور مشکلات کم ہو جائیں گی۔ وزیراعظم کی باتوں سے لگتا ہے انہیں آج بھی اس امر کا یقین ہے لوگ ان کی باتیں امید بھرے انداز میں سنتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ۔ کپتان کی ایسی ہر بات کے فوری بعد عوام پر مہنگائی کا کوئی نیا بم گرا دیا جاتا ہے اور ان کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ جاتی ہے۔

    ۔ میانوالی میں جلسے میں بھی یہ ہی گھسی پیٹی باتیں کی گئیں ۔ ۔ پر اب جو عوام ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے میانوالی میں بھی کپتان کی تقریر کے دوران پنڈال میں موجود ایک شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ یہ سب ” جھوٹی باتیں ہیں“۔۔ اس نوجوان کاکہنا تھاکہ چاچا عمران آپ نے مہنگائی بہت کردی، ہم بھوکے مرگئے ہیں، مہنگائی کم کرو، مہنگائی کم کرے۔ ۔ اچھا یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ۔ مستقبل قریب کے چند واقعات آپکو سنا دیتا ہوں ۔۔ پشاور میں جلسے کے دوران بھی ایک شخص ایسے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ ۔ اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کے ایونٹ کے دوران ایک نواجوان مائیک پکڑ کر تحریک انصاف کوآئینہ دیکھا چکا ہے ۔ ۔ پھر حالیہ کے پی کے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوران بھی علی امین گنڈاپور کے سامنے لوگ ڈٹ گئے تھے ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے باربار وعدوں کے باوجود حالات تشویشناک حد کو پہنچ چکے ہیں مگر حکومت کے معاشی ارسطو جلد بہتری کی اب بھی نوید سنا رہے ہیں۔ ۔ اسی جانب آج پی ٹی آئی کے اہم اتحادی ق لیگ کے پرویز الہی نے دوبارہ اشارہ کیا ہے کہ حکومت جان لے مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا تو ہر قسم کی پرفارمنس ختم ہو جائے گی۔

    ۔ دراصل عمران خان سب جانتے ہوئے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں تا کہ عوامی توجہ ان کی کارکردگی پر مرکوز نہ ہونے پائے اور لوگ ان کے بیانات کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہیں ۔ ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر اقتدار میں موجود لوگ خود بھی گلے گلے تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہر اس شخص کی سرپرستی کرتے ہیں جو کرپشن کیلئے تیار ہو۔ بڑے بڑے سکینڈلوں میں ملوث منفی شہرت کے حامل کو بلا بلا کر جس طرح بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا ہے موجودہ نظام کی کریڈبیلٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ۔ قرضے لے کر ایسے اڑائے جاتے رہے جیسے مال غنیمت اڑایا جاتا ہے۔ کوئی بتائے کوئی سمجھائے 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ آخر کہاں گیا۔ اس کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا، بس یہ ضرور کہا جاتا رہا کہ جانے والے حکمران لوٹ کر کھا گئے۔۔ پھر موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے بھی ایک اور بڑا خطرہ فارن فنڈنگ کیس ہے اِس حوالے سے DG Law کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہے جس میں پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ کیس میں بری الزمہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ ملوث ہونے کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ۔ جمعرات کو ان کیمرہ اجلاس بھی ہو چکا ہے ۔ یہ رپورٹ ایسی تلوار ہے جو پی ٹی آئی حکومت کے لیے تباہ کُن ثابت ہو سکتی ہے ۔۔ کیونکہ اس میں پی ٹی آئی کو بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ بارے بھی الزامات کا سامنا ہے ۔ ۔ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران خان اِس رپورٹ کی روشنی میں نہ صرف نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ حکمران جماعت کے بھی کالعدم ہو نے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ کیس کا سامنا کرنے کے بجائے تحریکِ انصاف راہ ِ فرار اختیار کرنے جیسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔۔ پھر وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو پچاس ہزار جرمانہ ہوا ہے مگرحکمران کچھ دیکھنے یا سننے کے بجائے انتخابات میں دھاندلیوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ تو الیکشن کمیشن نے سپیکر اسد قیصر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کردیا ہے۔۔ دراصل اسپیکر اسد قیصر کی ایک آڈیو زیر گردش ہے، جس میں وہ ووٹرز کو ترقیاتی منصوبے دینے کا وعدہ کررہے ہیں۔ ۔ اب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں اسد قیصر کو 13
    دسمبر کو ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا ہے ۔

    ۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ اپوزیشن نہ اتنی جوگی ہے اور اوپر سے آپسی اختلافات کا شکار بھی ہے ۔ ہر کسی کی اپنی رائے ہے ۔ تو کہیں ۔۔۔ چن ۔۔۔ الیکشن کمیشن نہ ۔۔۔ چاڑھ ۔۔۔ دے ۔ اور بازی مار لے ۔ ۔ کیونکہ آپ دیکھیں میاں صاحب کے حوالے سے خبریں گردش میں ہیں ۔ کہ نواز شریف تو پہلے ہی ٹکا سا جواب دے چکے ہیں کہ شوق پورے کریں ۔ عمران خان چاہے پانچ سال مکمل کروائیں یا اگلے پانچ سال مزید دے دیں ۔ لاڈلے سے جتنا بیڑہ غرق کروانا ہے کروالیں ۔ انکا موقف وہ ہی ہے ۔ کہ صرف صاف شفاف اور پولیٹکل انجئرینگ کے بغیر الیکشن ہون گے تو ہم سوچیں گے ۔ کیونکہ نواز شریف عمران خان کو کچھ نہیں سمجھتے ان کی نظر میں کپتان ایک پیادہ ہے اصل پھڈا تو کپتان کو لانے والوں سے ہے ۔ ۔ اب ایاز صادق کے بارے جیسے میں نے بتایا تھا کہ وہ ایک تجویز لے کر لندن پہنچے ہوئے ہیں ۔ آج یا کل میں ان کا quartine ختم ہونے والا ہے اور پھر نواز شریف سے ملاقات ہوگی ۔ تو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم رہتے ہیں یا پھر کوئی ڈیل مار لیتے ہیں ۔ فی الحال عوام کے لیے اس حکومت کا ایک ایک دن کرب کا گزر رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خدانخواستہ عمران خان اگر اگلے پانچ برس بھی اقتدار میں آگئے تو دن عوام کے نہیں پھریں گے انہیں مسلسل آئی ایم ایف کی سختیاں جھیلنا پڑیں گی کیونکہ انہوں نے اس کی شرائط کے آگے سر اوپر نہیں اٹھانا ۔ لہٰذا عوام چاہتی ہے کہ نیا سیاسی منظر بنے ۔ نئے چہرے جو قرضوں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں وہ آگے آئیں ۔ ۔ پھر یاد رکھیں ایسی معیشت کے ساتھ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو۔ عالمی سطح پرعزت بھی ہو۔ ہمیں کوئی دبانے کی کوشش بھی نہ کرے تو یہ دیوانے کے خواب ہی کہلائیں گے۔ ۔ اس لیے باقی سب کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا ہو گا کہ ملک کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ اگر مان لیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کچھ غلطیاں بھی کی ہیں تو اب ان کا کفارہ ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔کیونکہ وزیر اعظم عمران خان بھی اپنی تمامتر باتوں کے باوجود ایک روائیتی حکمران ثابت ہوئے۔

    ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اعداد وشمار جھوٹ نہیں بولتے ۔ آپ دیکھیں کرپشن سے پاک عمران حکومت کے دور میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 180 ملکوں میں 120 سے
    124ویں نمبر پر گرگیا ہے یعنی کرپشن میں مزید چار درجے اضافہ ہوا ہے۔ کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑنے اور چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرنے کے ایجنڈے پہ قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں 85.9فیصد عوام نے عمران حکومت کے احتساب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ بلکہ ان کی حکومت میں کرپشن اور بڑھ گئی ہے۔۔ آپ پولیس کو دیکھ لیں، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو دیکھیں، پاکستان ریلویز سمیت کسی بھی جگہ چلے جائیں کرپشن عام ہے۔ حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی عام آدمی کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ پر وزیراعظم اور وزراء پچھلے ساڑھے تین برسوں سے دلاسے پہ دلاسہ دیئے جا رہے ہیں، جیسے جلد ہی خوشحالی کے جھکڑ چلنے لگیں گے حالانکہ ابھی تو بربادی کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ کاش چند روز پہلے جیسے حکومت گرین لائن منصوبے کا کریڈٹ لے رہی تھی اس ملک کی تباہی کا بھی کریڈیٹ لے تو اس کے گناہوں کو کفارہ ہو جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولا ۔ یہ چیلنج تو اپوزیشن نے بھی کر دیا ہے کہ لنگر خانوں کے سوا عمران خان ایک منصوبہ دکھادیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ جو جتنی مرضی تنقید کرے مگر تحریک عدم اعتماد اور قبل از وقت انتخابات آئینی اور جمہوری راستہ ہے اور ملک درپیش تمام مسائل کا واحد حل نئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو level playing field ملے اور جسے عوام منتخب کریں اسے حکومت بنانے دی جائے۔ کیونکہ یاد رکھیں ”تبدیلی“ کی تبدیلی اگر اب نہ ہوئی تو کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • ناکام ترین تبدیلی  سرکار، تحریر: نوید شیخ

    ناکام ترین تبدیلی سرکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی سرکار حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ اس ناکام تجربہ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک کی معیشت زمین بوس ہے تو گوورننس زندہ درگور ہو چکی ہے۔ عوام کا نظام قانون پر اعتبار اٹھ چکا ہے ۔ کیونکہ ہر طاقت ور اس دور میں اپنی عدالت خود لگا کر بیٹھا ہوا ہے ۔ ۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ دیوالیہ ہوگیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریریں سنیں تو لگتا ہے زمین پر کھڑے ہو کر مریخ کی مخلوق سے مخاطب ہیں۔ دعوے ان کے یہ ہیں کہ غریب آدمی اوپر جا رہا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ غریب آدمی واقعی ہی اوپر جا رہا ہے ۔ بھوک سے مر کر ۔۔۔ حقائق یہ ہیں کہ امیر مقروض ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ساڑھے تین سال تو بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو نہیں ملے ۔ عمران خان کو جو حمایت میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ سے ملی وہ کسی کو نصیب نہیں ہوئی ۔ ۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیئں کہ وزیر اعظم کے دورہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کارڈ کی لانچنگ کی خبروں پر الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھا گیا جس میں انہیں دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ یونین کونسلز میں داخلے پر پابندی ہے ۔ کیونکہ بلدیاتی الیکشن کی تاریخ طے ہونے کے بعد کسی منصوبے کا افتتاح نہیں ہوسکتا ۔

    ۔ پر وہ کپتان ہی کیا جو کسی ضابطہ اخلاق ، آئین یا قانون کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ یہ بھاشن جتنے مرضی جھاڑیں پر ان کا ہر کام غیر قانونی اور غیر آئینی ہی ہوتا ہے ۔ آج بڑے دھڑلے سے عمران خان پشاور گئے ہیں اور حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے ۔ احساس راشن کارڈ ، صحت کارڈ ، پاکستان میں پیڑول سستا ہے ۔ ہم نے یہ کر دیا ہے ، ہم نے وہ کردیا ہے ۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنا دیا ہے ۔ پاکستان دنیا میں سستا ترین ملک ہے۔ کہہ کر چلے گئے ۔ اور بتا دیا کہ الیکشن کمیشن اور اسکے خط کی حیثیت اور اوقات ان کی نظر میں کیا ہے ۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے جو دھونس اور دھاندلی ان کے وزیر کر رہے ہیں الامان الحفیظ ۔۔۔ چند روز پہلے جو علی امین گنڈا پور نے اپنے بھائی فیصل امین کی کمپین کے دوران تڑیاں لگائی ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ۔ موجودہ حکومت کی آئینی مدت میں ابھی 20 ماہ کا طویل عرصہ باقی رہتا ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ اس حکومت نے یہ مزید وقت گزار لیا تو پتہ نہیں پاکستان کا کیا بنے گا ۔۔ دیکھا جائے تو پاکستان کے آئین کے مطابق حکومت کا دورانیہ پانچ سال ہے۔ لیکن آئین میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ اگر کوئی حکومت آ جائے تو پانچ سال پتھر پر لکیر ہیں۔۔ اب سننے میں آیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق پنجاب اور وفاق میں ان ہاؤس تبدیلی کا مشن لے کر نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن پہنچ چکے ہیں ۔ندن میں ایاز صادق نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور ان ہاؤس تبدیلی کیلئے انہیں قائل کریں گے ۔ ۔ ایاز صادق دراصل پیپلزپارٹی کے سید خورشاہ کے فارمولے کے خدوخال سے نواز شریف کو آگاہ کریں گے ۔ پھر ان ہاوس تبدیلی سے متعلق پیپلزپارٹی سے ہونے والے رابطوں کا ذکر بھی کریں گے ۔ ۔ ساتھ ہی ایاز صادق پاکستان تحریک انصاف کے 25 سے زائد ناراض ارکان اسمبلی کی فہرست بھی ن لیگی قائد کے حوالے کریں گے ۔ پارٹی قائد کی جانب سے گرین سگنل ملنے پر ناراض ارکان کو اپنے ساتھ ملایا جائے گا۔ بدلے میں ناراض حکومتی ارکان اگلا انتخاب مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے ۔

    ۔ یوں اگر نواز شریف قائل ہوگئے تو پھر ن لیگ پیپلزپارٹی سے مل کر ان ہاؤس تبدیلی کی تیاری کرے گی ۔ ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سکیم کامیاب ہوگی کہ نہیں ۔ میں بس یہ یاد کروادوں کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور اپنی ہی حکومت پر خوب گرج بھی رہے ہیں اور برس بھی رہے ہیں ۔ اس لیے اس میں تو کوئی ابہام نہیں ہے کہ بہت سے پی ٹی آئی والے پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ اگلا الیکشن اس کارکردگی کے ساتھ لڑنا انتہائی مشکل ہوگا ۔ ۔ ویسے لندن سے جو چوہا رپورٹیں آرہی ہیں ان کے مطابق اپوزیشن نے حکومت کو پارلیمنٹ کےاندرٹف ٹائم دینے کاارادہ کر لیا ہے۔ نوازشریف نے اِن ہاوس تبدیلی کے لیے گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔ نوازشریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کو آن بورڈ لانے کا ٹاسک بھی سونپ دیا ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت جو پہلے تحریک عدم اعتماد پر قائل نہیں تھی۔ اب تحریک عدم اعتماد لانے کی بات کر رہی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جب دو ہفتے پہلے شہباز شریف سے سوال پوچھا گیا کہ کیا پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے؟ توانہوں نے جواب دیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ ابھی بتایا یہ جا رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے مرحلہ وار تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا ہے ۔ کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ اِن ہاوس تبدیلی مرحلہ وار لائی جائے جس میں پہلے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک لائی جائے گی۔ پھر پنجاب اور آخر میں وفاق میں اگر کپتان نے وقت سے پہلے الیکشن کا اعلان نہ کیا تو ۔۔۔ ۔ فی الحال حالات کا تقاضا ہے کہ اس وقت پاکستان کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس پر بیرونی دنیا اور اپنے عوام بھی بھروسہ کریں۔ کوئی لاکھ اختلاف کرے مگر اس وقت عوام نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ یاد کررہے ہیں۔ بدقسمتی سمجھیں یا خوش قسمتی مگر یہی حقائق ہیں۔ ۔ اب اگر اسٹیبلشمنٹ بھی ان سے معاملہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تو شاید کوئی بہتری آ سکے ورنہ قیمہ والی مشین میں گوشت ڈال ہی دیا گیا ہے۔ اس کا ثابت نکلنا ممکن نہیں۔

    ۔ آپ خود دیکھ لیں این اے 133 لاہور میں پیپلز پارٹی نے 34000 ووٹ لیے ہیں۔ اتنے لوگ اب عمران خان لاہور میں کسی جلسے میں اکٹھے نہیں کر سکتے۔ اسی رزلٹ کو دیکھتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب میں پوری قوت کے ساتھ بلدیاتی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ اور لاہور سمیت پورے پنجاب میں پارٹی کو مضبوط کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1979
    کی طرح لاہورکے بلدیاتی الیکشن میں کلین سوئپ کریں گے۔۔ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب پی ٹی آئی بڑے جلسے نہیں کرسکتی ۔ کہ ابھی دو دن پہلے اسلام آباد میں کامیاب جوان کے ڈرامے کو کامیاب بنانے کے لیے جس طرح سرکاری تعلیمی اداروں سے طلبہ و طالبات کو جبری لایا گیا وہ بھی سامنے ہے ۔ جو سرکاری نوٹیفیکشن اور ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جس میں طلبہ نعرے لگا رہے ہیں۔ گلی گلی میں شور ہے ۔ عمران خان چور ہے ۔ اس کے بعد کچھ باقی رہ جاتا ہے ۔ ان میں شرم ہوتی تو ڈوب مرتے ۔ یاد رکھیں یہ وہ ہی پارٹی اور عمران خان ہیں جو ن لیگ کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ پٹواریوں کی مدد سے یہ جلسے کرتے ہیں ۔ میں آپکو بتاوں ایک نالائق اور نااہل حکومت کو کسی بھی وقت آئینی طریقہ سے گھر بھیجا جا سکتا ہے اور یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے ۔ یہ سب آئین پاکستان میں لکھا ہے ۔ تو اگر اپوزیشن آئینی طریقہ سے تحریک عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ تو اس نااہل اور نکمی حکومت سے عوام کو چھٹکارا مل سکتا ہے ۔ باقی جو اس تبدیلی سرکار نے ملک کا بیڑہ غرق کرنا تھا وہ یہ کر چکے ہیں ۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ مڈل کلاس ختم ہو گئی ہے ۔ مڈل کلاس غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی۔ غریب فقیر ہوگئے ہیں اور فقیر مجرم ۔ ۔ کل جو جو کچھ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوا ہے۔ اس کے بعد کوئی شک رہ گیا ہے کہ پاکستان مالی، معاشی، روایتی، سماجی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو گیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک تک اب حکومت کا نہیں رہا ۔ میری نظر میں بیرونی قرضوں کے نیچے دبی ہوئی قوم تین ماہ سے زیادہ ان حالات کا سامنا نہیں کر پائے گی۔ ۔ حکمرانوں کی زبان پر دنیا کو بھروسہ ہے نہ پاکستانیوں کو ۔۔۔ یاد رکھیں دنیا زبان و بیان کے بھروسے پر چلا کرتی ہے۔ اداکاری اور جھوٹ سے نہیں۔ ۔ دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو ماضی کی کرپٹ حکومتوں کا حصہ تھے اور دوسرے وہ جو بالکل نا تجربہ کار تھے لیکن گز گزلمبی زبانیں رکھتے ہیں ۔ ماضی میں 18 وفاقی وزارتیں رکھنے کی دعویدار تحریک انصاف کی قیادت نے تقریباً 60اہم عہدے اور وزارتیں اپنی پارٹی والوں کو دے رکھی ہیں اور اندرون ملک ہی نہیں باہر سے آنے والے اپنے دوستوں کو بھی اہم عہدے دے رکھے ہیں جن پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

    اب اس ناکام تجربہ کو ساڑھے تین سال گذر چکے ہیں اور نا تجربہ کاری اور نا اہلی کی وجہ سے اس حکومت نے ملک کی کشتی ایک ایسے بھنور میں پھنسا دی ہے۔ کہ اس دلدل سے نکلنا اب ناممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ ۔ اس لیے لوگوں کا ہر سروے ہر جگہ ایک ایک ہی مطالبہ ہے کہ کسی طرح ہماری اس تبدیلی سے جان چھڑوائی جائے ۔

  • پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ
    ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    ۔ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    ۔ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    ۔ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    2018ء انتخابات کے بعد عمران خان اقتدار میں ہیں اور ان کے مخالفوں کی ہر رات کانٹوں پر بسر ہو رہی ہے تو حکومت و اقتدار کے باوجود چین کی نیند عمران خان اور اس کے ہمدردوں کو بھی نصیب نہیں ہوئی ۔ اب اگلے ایک برس بارے کہا جا رہا ہے کہ یہ ہنگامہ خیز سیاست سے بھر پور ہوگا ۔ آج وزیراعظم عمران خان نے معروف امریکی اسکالر شیخ حمزہ یوسف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب سیاست میں آیا تو طاقتور لوگوں نے میری کردار کشی کی لیکن آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، میں نے 22 سال تک جدوجہد کی۔ پھر یہ بھی کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانا میری زندگی کا مقصد ہے۔ باتیں ہمارا کپتان بہت اچھی کرتا ہے مگر عمل اس کے بالکل الٹ کرتا ہے ۔ ان کی جو بھی کردار کشی ہوئی اس سے ہٹ کر عمران خان کے اس دور میں جو مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ پھر جو عمران خان اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں اور یہ کہتے تھکتے نہیں کہ ریاست مدینہ بناوں گا تو جو اس وقت ملک میں فرشتوں کی حکومت ہے اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔

    ۔ اس دور حکومت میں بھی کرپشن ویسے ہی خوب پھیلی پھولی ہے اور بڑھی ہے جیسے پہلا ہوا کرتی تھی ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس اس حوالے سے سب بڑا ثبوت ہے ۔ جس کے بارے شہباز گل کا دعوی تھا کہ یہ پرانے اعداد وشمار پر بنائی گئی ہیں ۔ مگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس وقت ہی حکومت کو جھوٹا قرار دیے دیا تھا ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کرپشن کے ریٹ دوگنا ہو چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ایک لمبی فہرست ہے جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں ۔ ۔ روالپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل ۔ ۔ حالیہ جو شوگر مافیا کے ساتھ سودے بازی ہوئی جس میں مافیا نے تقریباً ایک سو پچاس ارب کی دیہاڑی لگائی مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ۔۔ پھر کرونا فنڈ میں 40 ارب کا جو حساب ہی نہیں ملا ۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہوگی ۔۔ حلیم عادل شیخ ، عثمان بزدار، نورالحق قادری ،غلام سرور خان ، ڈاکٹر ظفر مرزا ، عامر محمود کیانی، زلفی بخاری ، فیصل واڈا، سبطین خان، مالم جبہ اراضی کیس، ہیلی کاپٹر کیس ، چینی ، آٹا ، گیس ، بجلی ، پیڑول ، ادویات اسکینڈل ، بی آر ٹی کون کون سے نام اور کون سے کون اسکینڈل گنواوں ۔۔۔

    ۔ اس حوالے سے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک نے کل ہی سلیم صحافی کے پروگرام میں بیٹھ کر انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری دفاتر میں انتہا کی کرپشن ہورہی ہے۔ انکا کہنا کہ کوئی نیا پاکستان نہیں ہے۔ وہی پرانا پاکستان ہے ۔ ضلعی دفاتر اور ترقیاتی کاموں میں کرپشن عروج کو پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کرپشن سے آگاہ کرنے کے لئے وقت مانگا تھا مگر وقت نہیں دیا گیا۔۔ پھر جو پی ٹی آئی کے ماتھے جھومر ہے اس کا نام ہے فارن فنڈنگ کیس۔۔ جس میں غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ہنڈی کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ پھر جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے۔ اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔ اکبر ایس بابر نے یہ معاملہ اٹھایا ہوا ہے ۔ اور پی ٹی آئی اس سے چیز سے کنی کتراتی ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی جانچ پڑتال نہ کرے ۔ اس لیے بار بار عدالتوں سے اسٹے لیا جاتا ہے ۔ ۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کا اعزاز یہ ہے کہ کوئی بھی ہائی پروفائل کیس اس حکومت کے دور میں منطقی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ کرپشن کے خلاف جنگ صرف میڈیا تک محدود ہے۔ اخبارات میں خبریں چھپتی اور چند دن بعد فراموش کر دی جاتی ہیں۔۔ اسکینڈل تو یہ بھی ہے کہ کپاس کی پیداوار نصف سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ پنجاب میں گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً دس من فی ایکڑ کم ہے۔ گنے کی فصل کے کسان کو پیسے زیادہ ملے کیونکہ فصل اور فی ایکڑ کاشت پچھلے سال سے کم تھی لیکن انہیں شاندار پیداوار قرار دیا جارہا ہے۔ جس طرح جی ڈی پی کی شرح کو اچانک بڑھانا اس حکومت کے کوئی کام نہیں آسکا اس طرح زرعی پیداوار کے غلط اعدادوشمار چینی اور آٹے کی قلت اور مہنگا ہونے سے روک نہیں پائے ۔

    ۔ دوسری جانب آئی ایم ایف والا معاملہ تو اس حکومت میں مذاق ہی بن کر رہ گیا ہے۔ عمران خان کی پرانی باتیں اب میں کیا یاد کرواں ۔ مگر جو سچ ہے وہ یہ ہے کہ جیسے حکومت لیٹی ہوئی ہے اور کشکول لے کر کھڑی ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے کبھی آصف زرداری اور نواز شریف کے کرپٹ ادوار میں بھی نہیں ہوا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے طے کی گئے شرائط کے مطابق منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔۔ اب حکومت نے 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول چھ کو ختم کرنا ہے ۔ پھر حکومت برآمدات کے علاوہ زیرو ریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لے گی ۔ مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6100 ارب روپے مقرر کرنےکا تجویز ہے جبکہ ترقیاتی پروگرام میں200 ارب روپے کمی کرنے کی تجویز بھی ترمیمی بل کا حصہ ہے۔ اب جلد ہی ترمیمی بل کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔۔ یہاں بس یاد کروادوں کہ مشیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی بتایا تھا کہ ہمارا مسئلہ مہنگائی ہے، لوگ پس گئے ہیں ۔ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد نیا ٹیکس لگائیں گے نہ بڑھائیں گے۔ ڈالر
    8،9 روپے نیچے آئےگا۔ جلد تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگی۔ آئی ایم ایف کو ٹیکس لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ شوکت ترین کتنا سچ اس ملک وقوم سے بولتے ہیں ۔ ۔ پھر مجھے یہ کہنے میں زرا برابر بھی ججھک محسوس نہیں ہوتی کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے جوہری اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف چونکہ امریکہ کے زیر اثر عالمی ادارہ ہے اور وہ امریکی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے قرض لینے والے ملکوں پر دباؤ بھی بڑھاتا رہتا ہے۔ حکومت پاکستان کو غیرملکی قرضوں پر انحصار کی بجائے خو د انحصاری کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی ایسا ماڈل موجود نہیں کہ کسی ملک کی آئی ایم ایف کے قرض سے معیشت ٹھیک ہوئی ہو بلکہ آئی ایم ایف کے قرض کے باعث معاشی تباہی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ویسے اس سے ملتی جلتی تمام باتیں جب عمران خان اپوزیشن میں ہوتے تھے تو خوب کیا کرتے تھے ۔ آپ دیکھیں ملائشیا کی معیشت کو آئی ایم ایف نے تباہ کر دیا تھا لیکن مہاتیر محمد کی بے باک لیڈرشپ نے آئی ایم ایف سے جان چھڑائی اور ملائشیا کو دوبارہ ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان بلندبانگ تقاریر تو کرتے ہیں لیکن وہ ان پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ ۔ تحریک انصاف حکومت کا توکوئی ترجیحی ایجنڈا ہی نظر نہیں آتا۔ پھر تماشا یہ ہے کہ قوم کوکفایت شعاری کا درس دینے والوں نے گزشتہ چار ماہ کے دوران صرف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 72کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ۔ کھانے پر 4کروڑ 39لاکھ روپے اور اوور ٹائم پر
    82 لاکھ،پٹرول پر 83لاکھ، 12کروڑ 87لاکھ اعزازی تنخواہوں کی مد میں اور دوروں پر 3کروڑ 48لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس لیے میں مجبور ہوں یہ کہنے پر کہ موجودہ حکمران بھی تبدیلی کے نام پر ماضی کی حکومتوں کا تسلسل ہیں۔ جو اقتدار سے لطف اُٹھانے کے سوا کچھ نہیں کررہے۔ ۔ اس حوالے سے آپ جماعت اسلامی کی سیاست سے متفق ہوں یا نہیں ہوں ۔ پر اسلام آباد میں یوتھ مارچ سے خطاب کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بات بالکل ٹھیک کی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کو تیس سال پیچھے لے گئی ہے۔ 2023ء میں عوام عمران خان کو آئینہ دکھائیں گے، جو نوجوان انہیں اقتدار میں لائے وہی بھگائیں گے۔۔ پھر کل مولانا نے لاڑکانہ میں اچھے خاصے مجمعے میں کافی دھواں دار بیٹنگ کی ہے ۔ ۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے ماتحت ہوچکا ہے۔ فاٹا اور کشمیر دونوں کا اس وقت کوئی وارث نہیں ۔ پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑینگے ۔ پھر یہ بھی کہا کہ ہمارا نوجوان بہت مظلوم ہے، اسکو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسا دے کر ایک کروڑ لوگوں کو بے روز گار کیا گیا ،پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا لیکن پچاس لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا گیا ،نعروں سے ملک نہیں چل سکتا ،جو حکومت خود دھاندلی کے ذریعے آئی وہ خود دھاندلی کے متعلق قانون سازی کروا رہی ہے حالانکہ اس مشین کو پوری دنیا مسترد کر چکی ہے۔ میں آپکو بتاوں کہ پی ڈی ایم میں مولانا فضل الرحمٰن اور قوم پرست جماعتیں تحریک کو فیصلہ کن مرحلے کی طرف لے جانا چاہتی تھیں لیکن مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے اس بارے میں مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت پی ڈی ایم کی جماعتیں مسلم لیگ ن کی سیاست سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر پا رہیں کیونکہ کبھی مسلم لیگ ن کی سیاست میں یک دم تیزی آجاتی ہے پھر اچانک اس میں ٹھہرائو آجانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کہیں کوئی بات چیت چل رہی ہے۔ اور شاید ان کو اس بات چیت کے نتائج کا انتظار ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق قوم پرست جماعتوں نے اس پر شکوہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنے میں پنجاب کی بھرپور شرکت ہی تحریک کو نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔ فی الحال میری نظر میں عوام ہر طرف سے پس رہے ہیں کیونکہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام دیکھائی دیتی ہے ۔

  • سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    وطن عزیز میں موضوعات کی کوئی کمی نہیں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ اب تو یہ ہماری تفریح بن چکی ہے جو ملتا ہے پوچھتا ہے۔ ”سناؤ کیہہ خبراں نیں“

    ۔ پر خبریں اچھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اس وقت چاروں جانب سے مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔ سیاست سے معیشت ، معیشت سے خارجہ محاذ اور حارجہ محاذ سے انصاف کی فراہمی تک پریشانیاں ہی پریشانیاں نظر آرہی ہیں ۔ ۔ عاصمہ جہانگیر پر ہونے والے کانفرنس اور وہاں ہونے والی باتوں سے حکومت اتنا ڈر گئی ہے کہ اب اس کو فنڈنگ کہاں سے آئی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کو استعمال کرنے اور اسٹیٹ بینک کو کہاگیا ہے کہ پیسوں کے sourceکا پتہ لگا لیں ۔ اچھی بات ہے ہونا چاہیئے ۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ عاصمہ جہانگیر پر اس ایونٹ کے کروانے والے منتظمین کو آگے آکر سب کچھ خود ہی حقائق سامنے رکھ دینے چاہیں ۔ اور حکومت کو بھی چاہیے کہ پی ٹی آئی پر جو فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے ۔ وہ فنڈنگ کہاں سے اور کس مد میں ملی یہ الیکشن کمیشن سمیت ملک وقوم کوبتا دینا چاہیئے ۔ ۔ یہ جو مانگے تانگے کے وزیر روز کوئی نہ کوئی شدنی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس نے پی ٹی آئی سمیت پورے ملک کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے ۔ یہ ہر کسی کو غدار ہونے تمغے بنٹتے پھرتے ہیں حالانکہ یہ خود سب سے بڑے لوٹے ہیں ۔ انھوں نے اتنی پارٹیاں بدل لی ہیں شاید اتنے غریبوں نے کپڑے نہیں بدلے ہوں گے ۔

    ۔ کون ہے جس کو یہ معلوم نہیں کہ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف پاکستان پر پابندیاں لگانا چاہتے ہیں۔کسی سے یہ چیز ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے خلاف داخلی و خارجی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں۔۔ چند روز قبل امریکہ نے مذہب و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک کی نئی فہرست جاری کی ہے۔اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل کیا گیا جبکہ کئی گنا انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب بھارت کو اس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔۔ پر یہ تو ہو گا ہی کیونکہ آپ کو یاد ہو تو کئی روز پہلے جب وفاقی وزیر اطلاعات خود میڈیا پر آکر کہہ رہا ہو کہ ریاست اور حکومت شدت پسندی کے خلاف اتنی تیار نہیں ہے جتنا انہیں ہونا چاہیے۔ تو پاکستان دشمنوں کو تو ہلا شیری ملے گی ۔ اب پتہ نہیں ان کا یہ کلپ کہاں سے کہاں پہنچا ہوگا ۔بھگتیں گے پاکستانی عوام ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں قومیں لوٹوں سے نہیں بنا کرتیں، منافق اور بددیانت لوگ قوموں کی تشکیل نہیں کر سکتے۔

    ۔ پھر ایک اور بہت ہی دلچسپ کھیل جاری ہے۔ جس نے عوام کو ٹی وی سکرینوں کے ساتھ چپکایا ہوا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے مقدمے سے لے کر آج تک بہت سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان دنوں اس سوال نے شدت اختیار کر لی ہے کیونکہ متواتر تین ایسے واقعات ہوئے ہیں پہلا سابق جج جسٹس شمیم رانا کا بیان حلفی ۔ پھر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کھل کر ملک کے نامور لوگوں کی جانب سے اس بات کا اظہار کہ پاکستان میں انصاف نہیں ہوتا ۔ پھر کل رات سے جو ثاقب نثار کی لیک آڈیو کلپ وائرل ہوا ہے ۔ اس نے پورے ملک میں بھونچال برپا کیا ہوا ہے ۔ ۔ اس سے ہٹ کر کہ یہ آڈیو صحیح ہے یا غلط ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے۔ یہاں سیاہ کو سفید کہا جا سکتا ہے۔ اکثریت کو بلڈوز کر کے اپنی مرضی کے نتائج نہیں لائے جاسکتے ہیں۔ کون ہے جو اس سے انکار کر سکے کہ اس ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ نظام موجود ہے۔ آج کی عدلیہ کیا کرتی ہے ۔ اس کا فیصلہ تو تاریخ کا مورخ کرے گا مگر ماضی میں عدلیہ کا جو کردار رہا ہے وہ تابناک نہیں ہے اور اس کا اظہار خود اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اسی کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انہو ں نے ایک نہیں کئی کیسوں کا حوالے دیا کہ کس طرح عدلیہ نے انصاف کو داغدار کیا ہے۔ فی الحال جو منظر کشی بنتی دیکھائی دے رہی ہے کہ متواتر ایسی خبریں اور چیزیں سامنے آرہی ہیں جس کا فائدہ نواز شریف اور مریم نواز کو ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس سب کے پیچھے کون ہے مجھے نہیں معلوم مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جو بھی ہو جائے شریفوں نے ابھی تک رسیدیں نہیں دیں ۔ آسان الفاظ میں اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی ایسی خبر نہیں ۔ جس پر کہا جائے کہ پاکستان کے لیے اچھی ہے ۔ سیاست ، معیشت ، انصاف اور گورننس ہر طرف زوال یہ دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس کا قصور وار کون ہے ۔ آپ نیچے کمنٹس میں لازمی بتائیں ۔ مگر میں اپنی رائے دے دیتا ہوں ۔ مہذب معاشروں اور یورپی جمہوریتوں میں جن کا عمران خان بہت حوالہ دیتے ہیں ۔ تمام مسائل کی ذمہ دار حکومت وقت ہی ہوتی ہے ۔ دوسری جانب مشیر خزانہ نے آج پریس کانفرنس کرکے اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ ۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں معاملات طے پا گئے ہیں ۔ مگر آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس ریفارمز جاری رکھے ۔ یعنی عوام کو تن کر رکھے ۔ کوئی ریلیف نہ دیا جائے ۔

    ۔ اب کیونکہ یہ بڑی ہی تابعدار حکومت ہے ۔ اور شوکت ترین نے تو بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیا ہے کہ اگلے چند ماہ اب بجلی کی قیمت بڑھا کر عوام کو جھٹکے دئے جائیں گے ۔ اس لیے اچھے بچوں کی طرح اس حکومت نے آج ہی بجلی کی قیمتوں میں چار روپے 75 پیسے بڑھانے کی سمری نیپرا کو بھیج دی ہے ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کپتان کی عقلمندی کی پیڑول کی قیمت نہیں بڑھائی تو خسارہ بجلی کی قیمت بڑھا کر پورا کر لیا جائے گا ۔ اس کو کہتے ہیں پرفارمنس ۔۔۔ ۔ پھر اب تو یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لٹر نہ ہو جائے۔ ۔ یاد رکھیں یہ وہ ہی حکومت ہے جس نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کریں گے ۔ ۔ فی الحال عوام کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری 4.8
    فیصد مزید بڑھے گی ۔ جس کے مطابق سال 2022ء پاکستان کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوگا اور اشیائے ضروری کی قیمتوں میں 8.5فیصد اضافہ جاری رہے گا۔ پچھلے دنوں عمران خان نے کہا تھا کہ ہمارے دور میں ملک سے غربت کم ہوئی ، غربت ان ممالک میں بڑھتی ہے جہاں حکمران چور ہوں ، وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ قانون کی بالا دستی والے ملک میں غربت نہیں ہوتی ۔ اب جب ملک کا وزیر اعظم یہ سوچ رکھتا ہوکہ اس کو ملک میں مسائل ہی نہ نظر آئیں تو حل کیسے ہوگا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے پاکستان میں غربت اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ممکن ہے کہ وزیر اعظم کو ان کے وزیر مشیر حقیقی صورتحال سے آگاہ نہ کرتے ہوں مگر ان کے عوام کے پاس آ کر اپنی آنکھوں سے حالات دیکھنے چاہئیں۔ معاشی اعتبار سے یہ تمام باتیں خوفناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ میں آپکو بتاوں پاکستان میں نوے فیصد آبادی لٹنے کے لئے ہے اور دس فیصد لوٹنے والے ہیں۔ مگر تاثر یہی دیا جاتا ہے یہاں ہر کوئی لوٹ مار کر رہا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ بھی اشرافیہ کی سوچی سمجھی سازش ہے کہ ملک میں آوے کا اوا بگڑا ہوا ہے تاکہ اپنے ناجائز کاموں کو ایک جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس ملک کے کروڑوں کسان، مزدور، سفید پوش مڈل کلاسیئے، چھوٹے موٹے دکاندار، قلم پیشہ ہنر مند، اساتذہ اور فنکار کرپٹ نہیں کیونکہ کرپشن ان کی زندگی کا چلن ہی نہیں وہ تو صرف کرپشن کے جبر کا شکار ہیں۔ ۔ میں آپکو بتاوں 1965تک پاکستان کا شمار تیزی سے ترقی کرنے ممالک میں ہوتاتھا۔ پے درپے داخلی سیاسی بحرانوں میں اسے ایسا الجھایا گیا کہ ترقی کی پٹری سے نہ صرف اترگیا بلکہ نااہلی کا دیمک اسے مسلسل چاٹنے لگا۔ اب سارا نظام کھوکھلا ہو چکا ہے ۔

    حقیقت میں عمران خان نے اس ملک کو سب سے بڑا ڈینٹ ڈالا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے پورے ملک کو ۔۔۔ میرے ۔۔۔ اور ۔۔۔ تمہارے ۔۔۔ میں بانٹ دیا ہے ۔ میڈیا سے شروع کریں تو یہ بھی حکومتی ، اسٹمبلیشمنٹ اور اپوزیشن کے کمیپوں میں بٹا ہوا ہے ۔ ہماری بیوروکریسی بھی ریاست کی نہیں اپنی اور اپنی سیاسی جماعت کی وفادار ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارا تاجر ، ہمارا صنعت کار ، ہماری تجارتی انجمنیں یہاں تک کہ ہمارا ریڑھی اور چنگ چی والا بھی سوائے اپنے مفاد اور اپنی پارٹی کے کوئی اور زبان نہیں سمجھتا۔ عدلیہ میں دیکھ لیں ، ڈاکٹرز میں دیکھ لیں ۔ ہر جگہ آپکو کپتان کی دی ہوئی یہ تفریق دیکھائی دے گی ۔ ۔ آج اس ملک میں جتنی polarization ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔