Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    معیشت تو حکومت کے لیے پہلے دن سے مسئلہ تھا لیکن کئی سال انہوں نے یہ کہہ کر گزار لئے ہیں کہ یہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ دلیل بھی کافی کمزور ہو گئی ہے اور مہنگائی نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔ ۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گھی، دال، انڈے، دودھ، دہی، گوشت اورچائے سمیت 27 اشیاء مہنگی ہوچکی ہیں۔ یوں صرف گزشتہ سات دنوں کے دوران مہنگائی میں 1.07 فیصد مزید اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 18.34
    فیصد تک پہنچ گئی ہے۔۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر عمران خان اعلان کرتے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے آٹا، چینی اور گھی بآسانی دستیاب ہوگا جنھیں عوام کی سہولت کے لیے ہر گلی محلے میں نصب کیا جا رہا ہے۔ عوام جائیں، معمولی سی رقم ڈالیں اور مقررہ مقدارمیں آٹا، چینی اور گھی نکال کرگھروں کو لے جائیں۔ مگرلگتاہے کہ ان مشینوں سے بھی کرپٹ سیاستدان ہی نکلیں گے۔ روبوٹ ہی نکلیں گے۔ پھر حکومتی وزیر جیسے فرخ حبیب جتنے مرضی دعوے کر لیں ٹویٹس کردیں کہ ایکسپورٹس ایسی بڑھ گئی ہیں کہ پتہ نہیں پی ٹی آئی نے کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ۔ پر سچ یہ ہے کہ معاشی اعشاریئے مسلسل منفی جا رہے ہیں اب ڈالر 177 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پھر جیسے ہی سردی کا زور بڑھا ہے گیس بالکل غائب ہوگی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہ ۔۔۔۔ الٹا شہباز گل سمیت حماد اظہر اپنی نااہلی ماننے کے بجائے شاہ زیب خان زادہ سے اڈا لگا کر بیٹھ گئے ہیں کہ سب اچھا ہے ۔ کہ میڈیا ان کے خلاف سازشیں رچ رہا ہے ۔

    ۔ اس وقت شاید ہی کوئی ہو جو حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لے رہا کیونکہ کارکردگی ہی ایسی ہے ۔ بڑے بڑے کالم نگار اور اینکرز حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں بول رہے ہیں ۔ بالکل وہ بھی جو حکومت کے سب سے بڑے حمایتی تھے ۔ وجہ یہ ہے کہ عوام بلبلا رہے ہیں۔ پھر بھی باہر سے آئے ہوئے ترجمان بضد ہیں کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور کپتان روز چوکا چھکے لگا رہا ہے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے عوام کے چھکے چھڑا دیے ہیں ۔ ۔ دعویدار تو یہ ریاست مدینہ کے ہیں پر آئے دن شرح سود میں اضافہ کرکے ملکی معیشت کو ریورس گئیر لگا رہے ہیں ۔ اب ایک بار پھر تیزی سے شرح سود بڑھائی جارہی ہے۔۔ ان کی ورداتوں پر سے پردہ میں ہٹا دیتا ہوں۔ فیصلہ آپ خود کر لینا ۔ پچھلے دنوں جب چینی کے ریٹ چند دن کے لیے ڈیڑھ سو روپے فی کلو سے اوپر چلے گئے تو شوگر مافیا نے ان چند دنوں میں کم از کم 60ارب روپے کما لیے تھے۔ اور پھر جب اس سال کے آغاز میں آٹا بحران لایا گیا تو اُس وقت بھی مافیا نے 100ارب روپے سے زائد کما لیے تھے۔ اس کے علاوہ جب پٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا تب بھی ایک رپورٹ کے مطابق 130ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا گیا۔
    ۔ یہ ہے تبدیلی
    ۔ یہ ہے مافیا کے خلاف کاروائیاں
    ۔ یہ ہے ریاست مدینہ
    ۔ یہ ہوتا ہے سمارٹ ورک
    ۔ یہ ہوتا ہے وژن ۔ اب سمجھ آئی ۔۔۔
    ۔ یہ ہے نیا پاکستان ۔۔۔ جہاں سے اربوں روپے کمانا اتنا مشکل نہیں رہا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو سمارٹ ورک آتا ہو۔

    ۔ آج ساڑھے تین سال بعد یہ حالت ہے کہ حکومت کو لانے والے بھی خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ مسئلہ صرف معاشی محاذ پر ہی نہیں۔ بلکہ ہر محکمہ ہر ادارے میں ریسوس گیئر لگ چکا ہے ۔ معاشی کے بعد سیاسی ماحول کی بات کی جائے تو وہ بھی منفی اشارے دے رہا ہے۔ تمام تر حربوں اور نیب کے استعمال کے باوجود ن لیگ سمیت پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک بھی قائم ودائم ہے ۔ ساتھ ہی حکومت کے دعوے کے ان کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکلوائیں گے ۔ یہ ایک دھیلا بھی نہیں نکلوا پائے ہیں ۔ الٹا براڈ شیٹ سمیت برطانیہ میں ریاست پاکستان کو بےعزت کروابیٹھے ہیں ، پھر عالمی،علاقائی اور داخلی حالات کے باعث اسٹیبلیشمنٹ بھی اب اپوزیشن سیاسی جماعتوں سے بات کرنے پر مجبور ہے۔ مگر اب تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا، دراصل سیاست دو اور دو چار کا کھیل نہیں بلکہ سیاست بہت وسیع اور پیچیدہ کھیل ہے۔ کرپشن کے علاوہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف یہ بھی بڑی دلیل دی جاتی ہے کہ بڑی جماعتوں میں موروثیت حاوی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے باریاں لگائی ہوئی تھیں یعنی دو پارٹیوں کا نظام بھی قابل قبول نہیں حالانکہ ان کی اپنی جماعت میں جو موروثیت ہے وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ۔ جو عمران خان نے دسیوں بار چلے ہوئے کارتوس اپنے جماعت میں اکٹھے کیے ہوئے ہیں اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔ پھر اپوزیشن تو ابھی سے کہہ رہی ہے حکومت نے ووٹنگ کے طریقہ کار کو بدل کے دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ہے، چلیں آج کی سن لیں آج جہاں پی ڈی ایم نے پشاور میں پاور شو کیا تو مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے شہزاد اکبر، زلفی بخاری اور شہباز گِل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے باقاعدہ قانونی کاروائی کی نوید سنادی ہے ۔ پھر یہ کہہ کر تو حکومت کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے کہ وزارت داخلہ کی توجہ کہیں اور ہے۔ جہاں شیخ رشید وزیر ہوں وہاں کا حال کیا ہوگا۔ ان کا اشارہ حریم شاہ اور شیخ صاحب جو گفتگو بارے تھا جو سامنے آئی ہے ، پھریہ کہہ کر شہزاد اکبر کو بھی خوب رگڑا لگایا کہ جس دور میں چینی 55روپے تھی اس کے کیس بنا دیے۔ اب سو روپے ہے تو کچھ نہیں کیا۔

    ۔ اب مولانا فضل الرحمان تو کوئی رعایت نہیں دے رہے ہیں انھوں نے تو کہہ دیا ہے کہ عمران خان غیروں کے ایجنٹ تو ہوسکتےہیں عوام کے نمائندہ نہیں۔ پھر کشمیر ، قانون سازی ، مہنگائی ، ریاست مدینہ ، آئی ایم ایف سمیت کون سی ایسی چیز تھی جس پر انھوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا ۔ تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مہنگائی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشویشناک بات وزیراعظم اور وزراء کا جھوٹ بولنا ہے۔ ایوان کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب انتخابی عمل میں ترمیم کے باوجود یہ بات وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ ای وی ایم کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کا حکومتی مقصد باآسانی پورا ہو جائے گا کیونکہ ایک طرف اگر اپوزیشن کو تحفظات ہیں تو الیکشن کمیشن بھی پوری طرح مطمئن نہیں بار ایسوسی ایشنوں میں بھی اِس حوالے سے مخالفت اور بے اطمینانی موجودہے ۔ مسئلہ implementationکا ہے ۔ اس وقت ای وی ایم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن واضح طور پر تذبذب کا شکار ہے ۔ مجھے نہیں لگتا یہ ہو پائے گا ۔ کیونکہ سیکرٹری الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کا پابند نہیں۔ اس پر الیکشن کمشن حکام کے مطابق ووٹنگ مشین متعارف کرانے سے پہلے 14تجرباتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔ تین یا چار پائلٹ پراجیکٹ مکمل کرنا ہوں گے۔ پھر انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہو گی وہاں ووٹنگ مشین کیسے کام کرے گی۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ ووٹنگ مشین کو انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں تاہم یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمشن کا عملہ الیکٹرانک مشین میں موجود نتائج کس طرح پریذائیڈنگ افسر یا الیکشن کمشن کو ارسال کرے گا۔

    ۔ پھر ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخاب کے لیے تین لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کو مدعو کیا تھا۔ پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔ اب پارلیمنٹ سے قانون سازی ہونے کے بعد اصولی طور پر الیکشن کمشن اس طریقہ کار کو مسترد نہیں کر سکتا۔ پر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاخیر کا بہانہ ضرور بنا سکتا ہے ۔ یوں اب یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن نے اس مشین کا استعمال نہ کیا تو پھر پی ٹی آئی الیکشن کو نہیں مانے گی ۔ ہار گئی تو وہ دھاندلی کا شور مچائے گی ۔ پر اگر اس مشین کے ذریعے الیکشن کروایا جاتا ہے تو جہاں بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں آئندہ انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تو شہباز شریف بھی ای وی ایم کو شیطانی مشن قرار دیتے ہیں اِن حالات میں پہلی بار انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ ملک میں اس وقت اضطراب اور ہلچل کی جو کیفیت ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ سٹیک ہولڈر مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ کسی تبدیلی کی صورت میں انہیں مکمل تحفظ اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو اور حالیہ سالوں میں ان کے کئے کرائے پر پر مٹی ڈال دی جائے۔ دیکھا جائے تو اس وقت اپوزیشن، آزاد میڈیا، ججوں، وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی نے مل کر ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جس میں حکومت کی ہر حرکت اس کے وبال جان بن رہی ہے ۔ یاد رکھیں قدرت کا قانون حرکت میں آنے کے لیے کسی اجلاس اور مشورے کا پابند نہیں ہوا کرتا۔ آج ہر شعبہ، ہر ادارہ بے توقیر ہے۔ یہ موجودہ حکمرانوں کا تحفہ ہے کہ ہر شعبہ زندگی کے لوگ باہمی طور پر گھتم گھتا ہیں۔ ۔ عمران خان سنگاپور، ترکی، چین، ریاست مدینہ، سعودیہ، ارطغرل، بابر، صلاح الدین ایوبی نہ جانے کتنی کہانیاں اور فلمیں اس عوام کو دیکھا چکے ہیں ۔ اب عوام حکمرانوں کو فلم دیکھنے نہیں ۔۔۔ دیکھانے کی موڈ میں ہے

  • کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جہاں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہیں سماجی و نفسیاتی مسائل اور جرائم کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے آج پہلے دو خبریں آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ پھر آگے بات کریں گے ۔ ۔ سب سے پہلے بات کریں تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے درالخلافہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاون میں دن دیہاڑے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر ڈاکو تین کروڑروپے مالیت کا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں پھر ملزمان نے خواتین اور بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے ۔ دوسری وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈاکو مسلم لیگ ن کی سینیٹر کا گھر لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ڈکیتی کی واردات اسلام آباد کے پوش علاقہ ایف ٹین میں واقع سینیٹر نزہت عامر کے گھر ہوئی۔ یہاں بھی نامعلوم مسلح افراد نے اسلحہ کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنایا ۔ دراصل پی ٹی آئی نے حقیقی تبدیلی یہ برپا کی ہے پورےملک میں ڈکیتیاں معمول بن گئی ہیں۔ اب تو ہر کوئی انتظارکررہا ہوتا ہے کہ کب ہماری باری آئے گی۔ ۔ یہ عثمان بزدار اور عمران خان کی ان تھک محنت اور کوششوں کا پھل ہے ۔ جو انھوں نے پولیس میں اتنے تبادلے کیے ہیں ۔ کہ محکمہ پولیس صرف transfer and posting کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کے بعد ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کیسے ٹھیک رہ سکتی تھی ۔ اس وقت سٹریٹ کرائم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ عوام کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں ۔ اور بس ایک ہی دعا کر رہے ہیں کہ یا اللہ ان نااہل حکمرانوں سے جان چھڑا دے ۔ ۔ کیونکہ عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حصے میں صرف ڈبل ایکس مہنگائی ، اہل اختیار کی بے حسی اور خالی خولی دعووں اور وعدوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔

    ۔ مسائل کو حل کرنے کے ان کے طریقوں پر ذرا غور فرمائیں ۔ مہنگائی ہوگئی ہے تو شرح سود بڑھا دو، تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے تو روپے کو گرادو، عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہے تو عالمی اداروں سے قرضہ لے لو۔ ٹیکس لگانا ہے تو ایسے لگا ئو کہ مراعات یافتہ طبقے کا بال بیکا نہ ہو۔ تحریک انصاف وہ سب کام کررہی ہے جس سے اشرافیہ کو فائدہ پہنچے لیکن اصرار یہ ہے کہ این آر او نہیں دینا اور عوام مزید صبر کریں ۔ مہنگائی و بے روزگاری کی چکی میں پستے عوام کے شب و روز تلخ ہو چکے ہیں۔عوامی غم و غصہ برداشت سے باہر ہے۔ کیونکہ عمران خان نے بننا تو پاکستان کو ملائیشیا یا سنگاپور تھا ۔ پر بنا افغانستان دیا ہے ۔ بلکہ اس سے بھی بدتر کر دیا ہے ۔ کیونکہ مہنگائی کی شرح یہاں افغانستان سے بھی زیادہ ہے ۔ ویسے جب ریاست اپنی مالی اور مالیاتی خودمختاری آئی ایم ایف کے پاس رہن رکھنے پہ مجبور ہو جائے ۔ تو اندازہ لگا لیں کون لوگ اس ملک پر مسلط ہوچکے ہیں ۔ پھر حکومتی وزراء کا وتیرہ بن گیا ہے کہ وہ اپنی ہر ناکامی کو ماضی کے حکمرانوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جائیں۔ منجن وہ یہ بیچتے ہیں کہ ملک پر دو پارٹیوں کی دہائیوں تک حکومت رہی ۔ اس کے اثرات پورے نظام پر موجود ہیں اور انتظامی خرابیاں بھی اسی کی وجہ سے ہیں۔ اس وجہ سے اب تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔ حالانکہ تبدیلی آرہی ہے ۔ کبھی عوام میں جا کر یہ پوچھیں تو انکو لگ پتہ جائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ قوم ہمارا ساتھ دے جلد خوشخبری سنائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا یہ خوشخبری قوم کے لیے کم ہے کہ وہ آٹا ، چینی اور بجلی کے بعد گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کررہی ہے ۔ آپ دیکھیں سردیاں آ تی ہیں تو گیس چلی جاتی ہے، گرمیاں آتی ہیں تو بجلی چلی جاتی ہے، کوئی وباء پھیلتی ہے تو ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے، رمضان المبارک کا آغاز ہوتا ہے تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ سچ یہ ہے جس کو حکومت اور حماد اظہر جھٹلاتے ہیں کہ پچھلے دور میں قدرتی گیس کی کمی کو دور کرنے کے لیے قطر سے ایل این جی کی درآمد کے معاہدے کئے گئے اور ملک میں بروقت اس کی درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں اس کی ترسیل کا نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں موجودہ حکمرانوں سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ جن اوقات میں ایل این جی کی خریداری کے سستے سودے کیے جا سکتے تھے۔ تب یہ کر لیتے اور اب جو مہنگے داموں میں ایل این جی کی خریداری کے سودے کیے وہاں ملکی ضرورت کے مطابق 14کارگوز منگوانے کے بجائے صرف 12کارگوز کے سودے کرنے میں بمشکل کامیاب ہو سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ابھی جب کہ سردیوں کا پوری طرح آغاز بھی نہیں ہوا ہے ملک بھر میں گیس کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔

    ۔ اس وقت گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چند دنوں میں تین سو روپے سے زائد اضافے کے ساتھ لکڑی اب نو سو نوے روپے فی من فروخت ہو رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں چند روز قبل تک سترہ سو روپے میں ملنے والا گھریلو سلینڈر کی قیمت تین ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے گیس فراہم کی جا رہی ہے اس دوران بھی پریشر نہایت کم ہوتا ہے۔ پھر دیہاتی علاقوں میں تو سرے سے گیس بند ہی کر دی گئی ہیں ۔ یہاں تک اندسٹری بھی رو رہی ہے کہ گیس نہیں مل رہی ۔۔ سچ یہ ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی ویژن ہے نہ وزراء کو عوامی مسائل کا ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ تین سال میں عام آدمی کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ ۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کو نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے کم از کم دس سال مزید چاہئیں ۔ جو کہ میری نظر میں صرف ای وی ایم ہی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لکھ لیں خدانخواستہ یہ اگلے دس سال بھی مل گئے تو کپتان نے کَٹوں، وَچھوں، مرغیوں اور انڈوں کے ذریعے ہی ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اور انھی سے سارے قرضے اُتار کر آئی ایم ایف پر لعنت بھیجنی ہے ۔ پھر بننی ہے کپتان کی ریاستِ مدینہ ۔۔ ہمارے آج کے مرکزی حکمران چند شیلٹر ہومز اور کچھ لنگر خانے بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم ریاستِ مدینہ پر عمل پیرا ہیں ۔ ۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں نے سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کے قصے تو عوام کو بہت سنائے اورمتعدد اعلانات بھی کیے کہ لُوٹی رقوم ہر صورت میں واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرواؤں گا۔ ہُوا مگر کیا؟ جواب ہم سب کے سامنے ہے۔

    ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ جب حکمرانوں کا اپنا حال یہ ہو کہ توشہ خانے کا حساب دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو کسی اور سے کیا خاک پیسہ نکلوانا ہے انھوں نے ۔ ہمارے حکمرانوں کو بس اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور آئندہ کے انتخابات بھی اپنے حق میں رکھنے کا جنوں ہے۔ اب اگر لوگ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کے دور کو یاد کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ نواز شریف یا آصف زرداری ان کے رشتہ دار ہیں بلکہ وہ ان کی دی ہوئی ڈیویلپمنٹ اور سہولتوں کو یاد کرتے ہیں۔ آپ جو مرضی کہہ لیں ۔ جتنی مرضی گزشتہ ادوار پر تنقید کرلیں ۔ اس کے باوجود گزشتہ دور اس دور سے لاکھ درجے بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں عوام کہہ رہے ہیں ۔ دراصل یہ ہی تو اس ملک کے ساتھ المیہ ہوا ہے کپتان نے وہ کارکردگی دیکھائی ہے کہ اب لوگ کپتان کے علاوہ کسی کو بھی قبول کرنے کو تیار ہیں ۔ چاہے وہ چور ، لٹیرا یا ڈاکو ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ عمران خان محض بیان بازی کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور عوام کو یہ دونمبری سمجھ آگئی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ یہ قرضے اب کی بار رکنے کے نہیں۔ یہ صرف اور صرف بڑھنے کے لیے ہیں ۔ کسی میں بھی جرات نہیں کہ یہ حقیقت بتا سکے۔ یہ حکومت پاکستان کی خود مختاری پر توسودا کررہی ہے ۔ پر لوگوں میں انوسٹ نہیں کررہی ، ترقیاتی کاموں پر زیادہ خرچہ نہیں کررہی ، تو لوگوں کا معیار زندگی کیسے بہتر ہوگا اور یوں جب لوگ ہنر مند نہیں ہوں گے، تو ہماری ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی۔ ہم ایک طویل دلدل میں پھنس چکے ہیں، ہم نے جو بیانیہ بنایا تھا، وہی آج ہمیں ڈس رہا ہے ۔ دنیا بہت بدل چکی ہے اور ہماری کوئی بھی تیاری نہیں۔ اس لیے جو بدحالی اب کے بار آئی ہے اس نے خان صاحب کو تو کیا خود اس کے پیچھے کھڑی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا دیا ہے۔ یاد رکھیں حکمرانی کا شوق اور اقتدار کے مزے لوٹنا ایک ایسی خواہش اور تمنا ہے جو بہت سارے لوگوں کے دلوں میں مچلتی رہتی ہے۔ تاہم حکمرانی کے اُمور چلانا اور ماضی میں کیے جانے والے اپنے دعوؤں اور نعروں کو عملی جامہ پہنانا اور عوام کی توقعات پر پورا اُترنا آسان نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکمرانی کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے بلند ویژن کے ساتھ ہر لمحے، دانائی اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک لحاظ سے تنے ہوئے رسے پر چلنا پڑتا ہے۔ ہماری بدنصیبی اور بدقسمتی ہے کہ ہمیں ایسے حکمران اور ایسی حکومتیں نصیب ہوتی رہی ہیں جنہوں نے نہ تو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے کچھ کام کیا نہ ہی ملک میں پائی جانے والی بد عنوانی، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسی بُرائیوں اور مہنگائی در مہنگائی جیسے عفریت کو ختم کرنے میں کوئی پیش رفت دکھائی۔

    ۔ اس لیے اگر وزیر اعظم جناب عمران خان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو سوائے اس کے کہ اس کے بار ے میں صفر +صفر+صفر = صفر0+0+0 = 0 کہا جائے، اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں بنتا۔۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جناب عمران خان کے دورِ حکومت میں مملکت اور ریاست پاکستان کی جو درگت بنی ہے۔ اس کی قیامِ پاکستان سے لے کر پچھلے ادوارِ حکومت تک کوئی مثال نہیں ملتی۔ ۔فی الحال تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ملک کتنا پیچھے چلا گیا ہے اس کا صحیح اندازہ آنے والے وقتوں میں ہوگا۔

  • سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سب سے بڑی خبر جو ہے وہ یہ کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو آج رہا کر دیا گیا ۔ کوٹ لکھپت جیل سے وہ سیدھا مسجد رحمت العالمین پہنچے ۔ جہاں ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ٹی ایل پی کی لیڈرشپ اور کارکنان بڑی تعداد میں وہاں پہنچ چکے تھے ۔ بڑے ہی رقت آمیز مناظر تھے ۔ کارکنان بڑے ہی پرجوش تھے ۔ فضا لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونجتی رہی ۔ اس موقع پر اتنی گل پاشی کی گئی کہ علامہ سعد رضوی کی گاڑی ہی کیا سٹرکیں تک پھولوں کی پتیوں سے بھر گئیں ۔۔ پھر سعد رضوی سب سے پہلے اپنے والد تحریک لبیک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے مزار پر گئے ۔ وہاں پر خصوصی دعا مانگی گئی۔ اس وقت بھی بڑی تعداد میں لوگ چوک یتیم خانہ پر موجود ہیں اور اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر ہیں ۔

    حافظ سعد رضوی ، ٹی ایل پی کی تمام لیڈرشپ سمیت جتنے بھی کارکنان جنہوں نے لاٹھیاں ، گولیاں ، تشدد اور گرفتاریاں برداشت کیں۔ ان کی فتح کا دن ہے ۔ ان کے عظم اور ثابت قدمی کی وجہ سے ہی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور ٹی ایل پی شاید ہی کوئی مطالبہ ہوجو منظور نہ کرواپائی ہو ۔ کارکنان بھی رہا ہوگئے ، گرفتار لیڈر شپ بھی رہا ہوگئی اور پاپندی بھی ختم ہوگئی ۔ دیکھیں جب آپ حق پر ہوں تو پھر آپ نہ ڈرتے ہیں نہ پیچھے مڑتے ہیں ۔ میں نام نہیں لینا چاہتا ۔ پر آج ان تمام وزراء کو اپنی شکل آئینے میں دیکھنی چاہیئے ۔ اور اگر کہیں چلو بھر پانی ملے تو ڈوب مرنا چاہیئے کیونکہ ان کی تمام سازشیں کہ ملک میں خون خرابہ ہو ناکام ہوگئی ہیں ۔ ساتھ ہی ان وزراء جیسے شاہ محمود قریشی ، علی محمد خان عقیل کریم ڈھیڈی ، مفتی منیب الرحمان سمیت اداروں کو خصوصی مبارک باد کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا ۔

    ۔ اس وقت جو ٹیمپو بنا ہوا ہے ۔ اگر ٹی ایل پی صحیح طریقے سے capitalize کرجاتی ہے ۔ تو یقین مانیے تحریک لبیک عنقریب پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہوگی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چاہے حکومت اور اتحادی جماعتیں ہوں یا پھر اپوزیشن جماعتیں کبھی ان کے لیے ہمدردی کا بول نہیں بولا ۔ حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ یہ حق پر ہیں ۔ کیونکہ میں ان کو شروع سے فالو کر رہا ہوں ۔ جو لوگوں کی پہلے تو ان سے عقیدت ہے۔ وہ اپنی جگہ ۔ پر لوگ مانتے ہیں کہ یہ سچے لوگ ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور جو تحریک لیبک والے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ان کے قد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ پھر جو بھی لوگ پولیس کے یا پھر ٹی ایل پی کے جن کی جانیں گئیں ۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے ۔ پہلے تو معاہدہ پر انھوں نے خود عمل نہیں کیا پھر جان بوجھتے ہوئے ہیں علامہ سعد رضوی کو گرفتار کیا ۔ حالانکہ حکومت جانتی تھی کہ اس کے بعد ملکی سطح پر احتجاج کیا جائے گا ۔

    ۔ ساتھ ہی جو حالیہ لانگ مارچ کے دوران بھی حکومت کا رویہ کوئی ٹھیک نہیں تھا ۔ ایک جانب آپ مذاکرات نہیں کر رہے تھے تو دوسری جانب شہر شہر بند کیا ہوا تھا ۔ خندقین کھود کر ۔ کنٹینر لگا کر ، انٹرنیٹ اور فون حکومت نے بند کیے ۔ اس سے جو اربوں اور کھربوں روپے کا کاروبار متاثر ہوا ۔ جو لوگوں کو کوفت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا اس سب کی قصور وار حکومت ہے ۔ ۔ کسی کو اچھا لگے یا برا ۔۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ علامہ سعد رضوی عنقریب پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ بن کر چمکے گا ۔ اور ان کے کارکنان اور جماعت بڑے بڑوں کی ضمانتیں ضبط کروا دے گی ۔

  • اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    ان دنوں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں شاید اسی کے ممکنہ انجام کو بھانپ کر ہماری سیاسی قیادت ایک بار پھر سے سرگرم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس وقت اپوزیشن کی باڈی لینگوئج ان کے پرجوش اور پر اعتماد ہونے کا پتہ دے رہی ہے۔ تو دوسری جانب وزرا اور حکومتی ارکان ماضی کے چونچلوں کے برعکس مرجھائے ہوئے ہیں ۔ بلکہ چڑیل کے مطابق بہت سے شعبدہ بازوں نے تو دوسری جماعتوں سے رابطے کرنا بھی شروع کر دیے ہیں ۔ کیونکہ یہ اپنے علاوہ کسی کے ساتھ سچے نہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جب پیچھے مڑکردیکھیں گے تو بہت سے ایسا وزراء اور مشیر غائب ہوں گے ۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ عمران خان کو رگڑا لگا رہے ہوں اور کپتان کو کرپٹ خان ثابت کر رہے ہوں۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ اس وقت ملک ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور یہ بالکل کھل کر اور واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ تبدیلی سے مراد حکومت کی تبدیلی ہے۔ اس وقت حکومت کے لیے نہ صرف حکومت کرنا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اب حکومت کا بچنا مشکل ہوگا۔ شہباز شریف ، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کے آپسی رابطے بڑھتے جارہے ہیں۔ آج بھی بلاول مولانا فضل الرحمان سے ملنے ان کی رہائش گاہ گئے ۔ اس موقع پر بلاول نے مولانا سے کہا ہے کہ آپ بزرگ سیاست دان ہیں، تین نسلوں سے ہمارا رشتہ ہے، پارلیمان کے ذریعے ہی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ مولانا کا کہنا تھا کہ ہم جعلی حکومت کو بہت جلد گھر بھجیں گے، دھاندلی زدہ حکومت کو اصلاحات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ۔ آپ حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکستیں کو دیکھیں تو یہ اپوزیشن کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ ویسے حکومت کوتو آئے روز ہر محاذ پر شکست ہی ہورہی ہے۔ عمران خان کے دیے گئے ظہرانے میں صرف 70 سے 75لوگ آئے ۔ اس خبر نے تو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ مجبوراً رات کے اندھیرے میں اکیلا اکیلا اب ایم این ایز سے ملا جا رہا ہے۔ کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قومی اسمبلی کے اجلاس محض اس وجہ سے مؤخر ہوتے رہے ہیں کہ حکومتی بنچوں پر کورم کو یقینی بنانے والے 86اراکین موجود نہیں ہوتے تھے۔

    یوں تین سال میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کسی محاذ پر شکست دینے کے قابل ہوئی ہے۔ اب لوگ تو سوال کر رہے ہیں کہ کوئی تو طاقت تھی جو پہلے ارکان کو حاضر کر دیتی تھی لیکن اس بار عمران خان کے پاس وہ طاقت نہیں تھی۔ اس لیے ان کے اپنے ارکان ہی نہیں آئے۔ ان کے اتحادیوں نے بھی اب زبانیں کھولنی شروع کر دی ہیں ۔ آپ دیکھیں وہ اتحادی جوکوئی بات نہیں کر سکتے تھے ۔ وہ اب کھلم کھلا اختلاف کر رہے ہیں۔ یہ نئی تبدیلی ہے ۔ پھرعمران خان چاہے اپوزیشن لیڈروں سے ہاتھ ملائیں یا نہ ملائیں ۔ ان کے مشیرو ترجمان جتنے مرضی سخت بیانات دیتے رہیں ۔ پر آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔ جس میں اپوزیشن لیڈر سے انتخابی اصلاحات بل سمیت دیگر اہم قوانین پر اتفاق رائے کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ لفظ اپیل پر غور کریں ۔ اب کیا عوام یہ سمجھے کے عمران خان اور پی ٹی آئی اپنے ذاتی مفادات کے لیے کرپٹ ٹولے کے سامنے ڈھیر ہوگئی ہے ۔ یا لیٹ گئی ہے ۔ یعنی جب بات اپنے آپ پر آجائے تو سب کچھ جائز ہوجاتا ہے ۔ ویسے چاہے آپ دنیا جہاں کی مثالیں دیتے رہیں کہ سیاست کیسے ہوتی ہے ۔ اخلاقیات کیا ہوتی ہیں ۔ کتنا عجیب ہے کہ وہ کپتان جو اقتدار کو جوتی کی نوک پر رکھنے کی بھاشن دیا کرتا تھا اب کرسی بچانے کے لیے شہباز شریف کے پیر پکڑنے کو بھی راضی دیکھائی دیتا ہے ۔ پر میں ایک بات جانتا ہوں کہ وہ کپتان ہی کیا جو یوٹرن نہ لے ۔ پارلیمنٹ کی اندر بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے درمیان نیا سیاسی رومانس بھی دیکھنے کومل رہا ہے۔ ۔ جب کہ مزاحمت یا ٹکراؤ یا سڑکوں کی سیاست جس میں لانگ مارچ بھی شامل ہے میں نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ پہلا وار ایسا لگتا ہے کہ چیئرمین سینیٹ پر ہونے والا ہے ۔

    ۔ پھر جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے اس پر کھیل کافی دلچسپ ہے۔ جے یو آئی ف تو اعلانیہ طور پر کسی بھی طرح کی ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں۔ آج بھی مولانا نے یہ ہی بات کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو ختم کرکے نئے عام انتخابات کرانے کے مطالبے پر قائم ہے۔ مسلم لیگ ن بشمول مصالحتی گروپ بھی ایسے کسی اقدام کا ہرگز حصہ نہیں بننا چاہتا جس سے عمران خان کو عدم مقبولیت کی موجودہ سطح پر بھی سیاسی شہید بننے کا موقع ملے۔ پیپلز پارٹی مرکز سے پہلے پنجاب میں تبدیلی چاہتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجاب میں یہ کھیل کھیلنے کے بعد ہم مرکز کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اہم افراد پنجاب میں تبدیلی کے حامی نہیں۔ اس کھیل میں بڑی رکاوٹ بھی نواز شریف اورمریم نواز ہیں۔ شریف خاندان کسی بھی صورت میں پنجاب کی سطح پر چوہدری برادران کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن یہ بھی سمجھتی ہے کہ عام انتخابات سے قبل پنجاب اور مرکزمیں تبدیلی کی صورت میں معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کا سارا غصہ نئی حکومت پر پڑے گا اور ہم بھی کوئی بڑا معاشی ریلیف لوگوں کو نہیں دے سکیں گے۔اس لیے ان کے بقول درست حکمت عملی یا آپشن نئے انتخابات کا راستہ ہی ہوسکتا ہے ۔ پر ایک چیز جس پر اپوزیشن ایک پیج پر دیکھائی دیتی ہے کہ ۔ ان کا ہدف عمران خان ہے۔ اس لیے اب نشانہ عمران خان ہی ہوگا۔ باقی سب باتیں ختم ہو گئی ہیں۔ فی الحال عمران خان کے پاس اپوزیشن کی کسی سیاسی چال کا جواب نہیں ہے ۔ اگر ایک طرف سڑکوں پر میدان سجے گا تو دوسری طرف پارلیمنٹ میں میدان سج گیا ہے۔ بہر حال موجودہ فتح کا کریڈٹ شہباز شریف کو ہی جاتا ہے۔ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں آنے والے دنوں میں سب کو معلوم ہوجائے گا ۔ پھرحکومت کی اہم اتحادی ایم کیو ایم اور ق لیگ کے گلے شکوے بھی بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔ واضح طور پر سیاسی فضا میں ایک تبدیلی محسوس کی جارہی ہے جو کہ کسی صورت بھی حکومت کے لیے مثبت نہیں ہے ۔ آپ دیکھیں یہ ایسی منفرد حکومت ہے کہ اس کے اتحادی بھی آنکھیں دکھاتے ہیں اور کبھی کبھار تو اپنے وزراء ہی آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اتفاق رائے کی طرف نہیں بڑھتے۔ نجانے کیوں حکومت نے یہ تماشا لگا رکھا ہے۔ اگر زبانوں کا استعمال کم کر کے دماغوں کا استعمال بڑھایا جائے، بولنے کے بجائے سننے کو ترجیح دی جائے تو یقینی طور پر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے۔ لیکن حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ انہوں نے کوئی سیدھا کام بھی سیدھے طریقے سے نہیں کرنا بلکہ ہر وقت تنازعات میں الجھے رہنا ہے۔۔ میں پہلے بتا رہا ہوں کہ حکومت کو تیار رہنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، سیاست میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اتحادی بھی منہ موڑ لیتے ہیں، اتحادیوں کا موڈ بدل گیا تو کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔ ویسے جو حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتی وہ مہنگائی سمیت دیگر مسائل کیسے حل کر سکتی ہے۔ دوسری جانب جہاں آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 176 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تو وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومت کے تین سال کے دوران پاکستان کے کل قرضوں میں 16 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مسائل کی ایک دلدل ہے جس میں پاکستان دھنستا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اب مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پی ٹی آئی اپنے پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں ۔ پر ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا عوام یا غریب لوگ بھی عمران خان کے یہ پانچ سال پورے کریں گے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

    ۔ آج ملک بھر میں عوام انتہا درجے کی مہنگائی اور بے حساب بیروزگاری کے ہاتھوں زچ ہوکر جھولیاں اٹھائے آسمان کی جانب آنکھیں جمائے نظر آتے ہیں۔ ۔ پھر بہت سے لوگ مجھے جب ملتے ہیں تو گلہ کرتے ہیں کہ آپ ہمیشہ مسائل بتاتے ہیں کبھی حل بھی بتا دیا کریں تو ۔۔۔ احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے فی خاندان دے کر نہ تو ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی معاشی ترقی۔ البتہ ملک مزید مقروض ہوتا جائے گا۔ اس سے بہتر ہے کہ عوام کو ہر مہینے یا تین ماہ بعد مچھلی دینے کے بجائے کانٹا اور دیگر سامان دے کر مچھلی پکڑنا سکھایا جائے۔ یعنی چھوٹے کاروبار کروائے جائیں۔ تاکہ غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس حوالے سے’’اخوت‘‘ سے رہنمائی لینی چاہیے۔ جس نے لاکھوں افراد کو برسرروزگار کر دیا ہے۔ اور اس کے وسائل بھی محفوظ ہیں۔ حکمرانوں کو مجموعی طور پر خوددار بننا ہوگا۔ عالمی اور قومی اداروں سے بھیک مانگنے اور دوسروں کا حق اور مال ہڑپ کرنے کے بجائے حرام و حلال اور جائز و ناجائز کا خیال رکھنا ہوگا۔ یاد رکھیں اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ حکمران ہیں ۔ چاہے وہ موجودہ ہوں یا پرانے ۔۔۔ یہ جب مسند اقتدار پر بیٹھتے ہیں تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اپنے خاندان ، اپنی پارٹی، اپنے دوست اور اپنی ذات سے باہر ان کو کچھ دیکھائی ہی نہیں دیتا تو ملک اور عوام کے حالات کیسے بہتر ہوں گے ۔ یوں سب سے بڑا مسئلہ حکمرانوں کی نیت کا ہے ۔ اس لیے ایک بات تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگ تبدیلی سے تنگ آ چکے ہیں۔ جہاں بھی جاؤ لوگوں کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت گھر کب جائے گی

  • حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    جس حساب سے حکومت کے صفوں میں تھرتھرلی مچی ہوئی ہے۔ اس سے تو محسوس ہوتا ہے کہ یوم حساب قریب ہے ۔ جو کبھی عمران خان دوسروں سے حساب مانگا کرتے تھے ۔ اب زبان زدعام ہے اور اس حکومت سے ساڑھے تین سالوں کا حساب مانگا جانے لگا ہے ۔ پھر ایک جانب جہاں پی ڈی ایم نے ملک بھر میں جلسے اور جلوس نکالنا شروع کر دیے ہیں۔ تو پی ٹی آئی نے بھی جلسے کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ آج مولانا نے کراچی میں تو پی ٹی آئی نے کرک میں کھڑاک کیے ہیں ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ حکومت خود جلسے کر رہی ہے۔ اسے تو اپنے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ سونے ہر سہاگا وفاقی وزراء نے خاص طور پر اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف محاذ گرم کرنا شروع کردیا ہے ۔ اب جو کل سے لے کر آج تک وفاقی وزراء کے بیانات میری نظر سے گزری ہیں ۔ اس کے بعد محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ عوام کے بعد حکومت نے بھی گھبرانا شروع کر دیا ہے ۔ جیسے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ساری اپوزیشن تھکے ہوئے پہلوانوں پر مشتمل ہے، ان کو طاقت کی گولیاں چاہئیں، یہ کھڑے ہوتے ہیں پھر گر جاتے ہیں۔ تو اسد عمر نے میڈیا پر سخت تنقید کی اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے ڈالی کہ میڈیا والے پی ڈی ایم والوں کے سہولت کار ہیں۔ پھر یہ بھی کہا کہ ان کو میرا پیغام ہے۔ لانگ مارچ کا سوچنا بھی نہ ۔ یہاں آو گے تو بڑی کٹ پڑے گی۔

    پھر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ لوٹا ہوا مال بچانے کےلئے پھر سب ایک ہورہے ہیں۔ نوازشریف تابوت میں تو آسکتے ہیں۔ زندہ آئے تو جیل جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی مدت پوری کریں گے۔ تومراد سعید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن والے موسمی بیماری ہیں، یہ سردیوں میں نکل آتے ہیں۔ پھر پرانے کھلاڑی شیخ رشید اور نئے نئے وزیر فرخ حبیب نے بھی خوب شگوفے چھوڑے ۔ ویسے یہ گنے چنے وزیر ہیں ۔ پرباقی سب اس بے یقینی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ ملک میں سب اچھا نہیں اور کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ جو اب بھی یہی کہے جا رہے ہیں کہ عمران خان اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ اب مسئلہ یہ نہیں کہ پانچ سال پورے کرنے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کن حالات میں پورے کرنے ہیں اور پانچ سال بعد عوام کے پاس کیا منہ لے کر جانا ہے۔ یہ وزیروں کے بیانات اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینا ایک جانب پر اسی افراتفری میں نیب کی طرف سے ایک بار پھر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی اطلاعات سامنے آگئی ہیں ۔ یاد رکھیں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور لوگ اس کو حکومت کی حالیہ ایوان میں شکست سے جوڑ رہے ہیں ۔ اس پر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہبازشریف کا نام ایک نہیں، دو نہیں، تین چار دفعہ ای سی ایل میں ڈالیں ۔ عمران خان بس آٹا، چینی،بجلی،گیس،دوائی مافیا کو آرڈیننس لا کراین آر اودیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ حکومت اب جان چکی ہے کہ ان کی عوامی مقبولیت اس حد تک گر چکی ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام انہیں مسترد کر دیں گے۔ اس لیے حکومت اپنے لیے سدباب کے طور پر نیب کو رول بیک کرنے کا قانون لا رہی ہے۔ پھر پرویز الٰہی بھی دل میں موجود شکوے زبان پرلے آئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم وفاق کا ساتھ نبھا رہے ہیں ۔ یہ ہمارا ساتھ نہیں نبھا رہے ۔ اب ان بیانات اور سیاسی منظر نامے کے بعد حکومت کا گھبرانا تو بنتا ہے ۔ یوں عمران خان حکومت کو فی الوقت ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا اسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ بس چھوٹ گئی ہے ۔ اب پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے تباہی ہی تباہی دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ چینی کا بحران ختم نہیں ہوا تھا کہ آٹے کا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئندہ پیر سے اوپن مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی شدید قلت کا خدشہ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں، ہر سال کوئی نہ کوئی وجہ بناکر کبھی آٹے، چینی تو کبھی ٹماٹر، پیاز کی مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ جس کا سارا فائدہ منافع خور اور ذخیر ہ اندوز اٹھاتے ہیں اور عام آدمی خسارے میں ہی رہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں حکومتی رِٹ کہیں نظر نہیں آتی البتہ مہنگائی کا نوٹس لینے کے اعلانات بارہا میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    ۔ یوں بگڑتی معاشی صورتحال، مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مزید بے قدری اور حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا مثبت نتیجہ آنے میں تاخیر کی وجہ سے صرف دباؤ ہی نہیں بڑھ گیا ہے۔ لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے ۔ اب لوگ اس حکومت کی تبدیلی کی بات یوں کررہے ہیں جیسے کپڑے بدلتے ہوں ۔ کیونکہ عوام اب تھک چکے ہیں اور امیدیں دم توڑگئی ہیں۔ اس لیے اب ہر دوسرا بندہ یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت دلدل میں پھنس چکی ہے اور ساحل تک آنے سے پہلے ہی ڈوبنے کے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی لوگ تو قیاس کر رہے ہیں کہ گزشتہ ماہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے بعد پیش آنے والے واقعات اور حالات کے نتیجے میں عمران خان اپنی بڑی حمایت کھو چکے ہیں اور اب یہ چند ماہ کی کہانی رہ گئی ہے کہ حکومت شاید چلی جائے۔ اب چاہے یہ قیاس آرائیاں درست ہیں یا نہیں لیکن عمران خان اور ان کی حکومت کیلئے درپیش چیلنجز انتہائی سنگین ہیں۔ حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سی باتیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ گراونڈ پر سب اچھا نہیں ہے۔ سیانے کہتے ہیں، جب اپنے بھی آنکھیں دکھانے لگیں تو سمجھو حکومت کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ معاملات کسی اور طرف جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں ایک مقبول حکومت کے ساتھ کبھی ایسے معاملات نہیں ہوتے۔عوامی سطح پر جس حکومت کو مقبولیت حاصل ہو، اُسے کوئی آنکھیں نہیں دکھاتا، خود اسٹیبلشمنٹ بھی اُس کے بارے میں محتاط رویہ رکھتی ہے۔عمران خان کو شاید علم نہیں کہ خود اُن کے ارکانِ اسمبلی اس وقت عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہیں درحقیقت عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں زچ آئے ہوئے عوام کو لمبی لمبی تقریروں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کو معاشی شعبے میں کوئی ریلیف نہ دے سکے۔ یہ ناکامی موجودہ حکومت ایسی گلے پڑی ہے کہ اب طوق بن گئی ہے۔ تقریباً ساڑھے تین برسوں میں کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں ہوا،جس سے عوام کوئی سُکھ کا سانس لے سکے۔ تاہم اسلام آباد کے حالات میں ایک واضح ہلچل نظر آ رہی ہے۔ اپوزیشن کا اس طرح متحرک ہونا اور ایک دوسرے سے مل جانا بھی غیر معمولی بات ہے۔کل تک ایک دوسرے کی شکلیں نہیں دیکھنا چاہتے تھے،اب ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف وہ حکومت جس کے وزیراعظم کہتے ہیں وہ اپوزیشن سے ہاتھ تو ملانا نہیں چاہتے اب سپیکر اور وزراء کے ذریعے اُسی اپوزیشن سے تعاون کی بھیک مانگ رہی ہے۔ کوئی بعید نہیں ان حالات میں اپوزیشن یہ شرط بھی رکھ دے کہ وزیراعظم آ کر اُن سے مذاکرات کریں۔ تب وہ قانون سازی میں تعاون کریں گے،ایسا ہوا تو وزیراعظم کے لئے اپوزیشن سے ہاتھ ملانا مجبوری بن جائے گی۔

    ۔ پھر عمران خان نے جس طرح2018ء میں انتخابات جیتنے کے لئے جو الیکٹیبلز کے پیوند لگائے تھے اُس کے نتائج وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ بلکہ لوگ تو قبل از وقت ہی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر فرض کریں پی ٹی آئی پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے یا حکومت وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ تو کیا تحریک انصاف میں یہ سب لوگ رہیں گے۔ جو اب ہیں ۔ کیا اس جماعت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے گا۔ کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے ثابت کیا ہے۔ مشکل حالات میں بھی لوگ اُن کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے تو اپنے دور میں ارکانِ اسمبلی آنکھیں دکھاتے اور فارورڈ بلاک بنانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ اب تو حالات بھی ایسے ہیں کہ خود تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نجی دوستوں کی محفلوں میں کہتے ہیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ میری نظر میں وقت تیزی سے گزر چکا اور گزر رہا ہے ۔ اب بھی اگر اہل اقتدار اسی طرح مدح سرائی کے نشے میں لت ہو کر تقریروں سے عوام کا پیٹ بھرتے رہے اور عملی طور پر کام نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ان کا نام لیوا بھی کوئی نہ ہو گا۔ فی الحال حکومتی کشتی کے سوار اپنا سامان اتار رہے ہیں اور نئے مسافر تیاری پکڑ رہے ہیں۔۔ افسوس کہ کچھ کر کے کسی انجام سے دوچار ہونا الگ بات تھی۔ موجودہ حکمران تو محض رنگ بازی، شعبدہ بازی، جھوٹ، منافقت، بدعنوانی، ہوس اقتدار اور محسن کشی کی دلدل میں ایسے اترے کہ عبرت بن گئے۔ اب حقیقت یہی ہے کہ حکمرانوں ہی نہیں ان کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ہے جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ میرے خیال سے ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ملک کو موجودہ نازک بحرانوں سے نکالنے کے لئے آزاد انہ ،غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کی ضرورت ہے

  • تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مشکل وقت میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔ کاش وہ ایسا بیان پاکستانی عوام کے بارے بھی دے دیں ۔ کیونکہ ان کی مشکلات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ حالانکہ انھوں نے کپتان کو ووٹ دیا ۔ انہوں نے ان کو وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کیا ۔ انہوں نے عمران خان کی ہر بات ، ہر دعوے ، ہر وعدے پر یقین کیا ۔ کاش عمران خان اس مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ پر یہ ایک سیراب محسوس ہوتا ہے ۔ خواب لگتا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اردگرد انھیں مافیاز کو اکٹھا کیا ہوا ہے جس سے نجات کے لیے اس عوام نے ملک کی دوبڑی جماعتوں کو پس پشت ڈال کر خیبر سے لے کر کراچی تک تحریک انصاف کو چنا تھا ۔ پر دکھیاری عوام کے ساتھ ہاتھ ہوچکا ہے ۔ پر یاد رکھیں جب یہ عوام عمران خان کے ساتھ ہاتھ کریں تو پھر یہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی انتقام کے آگے تو بڑے بڑے سورما اور ظالم و جابر حکمران ذلیل وخوار ہوچکے ہیں ۔ جس طرح انھوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اس کے بعد عنقریب ایسا ہی حال عمران خان اور ان کی پارٹی کا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں اس وقت سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ سیاسی محاذ بھی گرم ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کو بلوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ کل تک دبکنے والی اپوزیشن اب شیر کی طرح دھاڑ رہی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور دیگر مسائل نے بھی حکومت کو جکڑ لیا ہے۔ ایک مشکل ختم ہوتی نہیں کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ چینی نے تو جان ہی نکال لی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول سب ہی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک صفحہ بھی لگتا ہے کہ پھٹ گیا ہے۔ جس کے اپنے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں تو پورے ملک میں کرائم ریٹ بڑھ چکا ہے پنجاب کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈکیتیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ صرف پنجاب ہی نہیں اسلام آباد جیسا سیف سٹی بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر ہے۔ یہاں تک کہ چند روز پہلے تو ڈاکوؤں نے سیکیورٹی کمپنی کی وہ گاڑی بھی دن دہاڑے دیدہ دلیری سے لوٹی جو بینکوں میں کیش پہنچاتی تھی ۔ کیونکہ ایک رپورٹ کے مطاطق پاکستان انسانی بہبود یعنی انسانی زندگی کی بہتری میں صرف یمن۔ افغانستان اور شام سے بہتر ہے۔

    ۔ میری اس حکومت سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے غریب پر کچھ رحم کرو، آپ تو عمر بن خطاب کی مثالیں دیتے رہے ہو ۔ پر لگتا ہے کہ اب تو غریب کی صرف اللہ ہی مدد کرے تو کرے حکومت نے تو بھوک سے مار دیا ہے ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں اگر قرضے لئے جاتے تھے تو قوم کو ترقیاتی منصوبہ جات بھی دکھائی دیتے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ پالیسی ٹھیک تھی یا غلط تھی ۔ مگر حالیہ برسوں میں جو قرضے لئے گئے ہیں، ان کے بدلے میں عوام کو سوائے شدید ترین مہنگائی کے اور کیا ملا؟ تیس ہزار ارب سے سنتالیس ہزار ارب تک قرضوں کو پہنچنا عمران خان کا ہی کارنامہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کی کتنی کرپشن کپتان نے پکڑی ؟ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو اخلاقاً انکو کو الزام عائد کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ کیا دوسروں کی عزتوں کو بلاجواز و ثبوت اچھالنا بد اخلاقی کی زمرے میں نہیں آتا؟ جو وہ روز اخلاقیات کے بھاشن قوم کو دیتے ہیں۔ یہ عمران خان کا ہی اپنا فرمان ہے کہ برائی وزیراعظم اور وزیروں سے شروع ہو کر نیچے تک جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے اردگرد کرپٹ ، چور اور دیہاڑی باز ہیں پرعمران خان صادق وامین ہیں ۔ آج جس طرح یہ حکومت اعظم سواتی اور فیصل واڈا والے معاملے میں ننگی ہوکر سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو سارے بھرم ہی ختم کردیے ہیں ۔ واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان کو ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اپنی پارٹی ، اپنے لوگوں کی حکمرانی پسند ہیں ۔ چاہے وہ نہ صادق ہو نہ امین ہو ۔ حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے تیرہ صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا تھا ۔ کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے۔ اور جیسے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا تھا ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ پر عمران خان کو یہ نہ دیکھائی دیا نہ سنائی دیا ۔

    ۔ بہرحال کپتان کو کسی دلیل سے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی وہ اپوزیشن کی دھمکیوں یا عوام کی بدعاوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔ وہ تو اپنی دھن کے بندے ہیں۔ جو من میں آئے کر گزرتے ہیں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپوزیشن جتنا بھی احتجاج کر لے کپتان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ ان کو ملک میں کوئی برائی ۔۔۔ برائی دیکھائی ہی نہیں دیتی ۔ ایسا بے فکر وزیراعظم اور ایسی بے اثرحکومت شاید ہی اس ملک میں پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ اب جنہیں چور کہا جاتا تھا وہ تو کب کے رخصت ہوگئے ہیں لیکن بجلی اور گیس کے بل پہلے کی نسبت نہ صرف بہت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں بلکہ ان میں اضافے کی رفتا بھی کم نہیں ہورہی۔ یہی عمران خان کہتے تھکتے نہیں تھے کہ مہنگائی تب ہوتی ہے جب وزیراعظم کرپٹ ہو۔
    ۔ آپ دیکھیں حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دو روپے 53پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے۔ جس سے تیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ ستمبر کے لئے ہے جو نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ دیکھی جادوگری آپ نے ان کی اعلان اب کیا ہے وصول پچھلے مہینے کےبلوں میں کیا جائے گا ۔ اسی لیے تو دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ آج قوم یہ تمام سوال پوچھ رہی ہے۔ ابھی تو مسجدوں کے منبروں سے سوالات اٹھنا شروع ہوئے ہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ چوکوں ، چوراہوں ، تقریبات ہر جگہ ان سے پوچھے جائیں گے ۔ لوگ ان کے گریبان پکڑیں گے ۔ یہ بڑے ہوشیار اور چالاک بنتے ہیں آپ دیکھیں ڈسکہ کی منظم دھاندلی کے جو باقاعدہ ثبوت سامنے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں اکیلی فردوس عاشق اعوان ہی ملوث تھی؟ کیا وہ محض تنہا اپنے طور اتنی بڑی بڑی چھلانگیں مار سکتی تھیں ؟ سچ سامنے آنا چاہیے کہ اوپر سے ہدایات جاری کرنے والا تلقین شاہ کون تھا؟ عثمان بزدار ، پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کے بغیر یہ ممکن تھا ۔ بالکل نہیں تھا ۔ ڈسکہ میں دھاندلی اس حکومت پر سب سے بڑی چارج شیٹ ہے ۔ کیونکہ عمران خان تو صاف شفاف الیکشن کے سب سے بڑے داعی ہیں ۔ یوں تین سال بعد نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نئے پاکستان کا ہر باسی پُرانے پاکستان کی تلاش میں نظرآرہا ہے۔ عوام تو عوام ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خواص کی بھی اپنی ایک الگ سوچ ہوتی ہے اور ہمارے ان خواص کو ملک کی معاشی صورتحال کا پتہ ہوتاہے ۔ وہ حتیٰ الامکان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات جیسے بھی رہیں۔ ان کی ذاتی معیشت ترقی کرتی رہنی چاہیے۔ اس لیے وہ اپنی معیشت کو درست رکھنے کے لیے ملک کی معیشت کو داؤ پرلگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً جب بھی ضرورت پڑتی ہے عوام کی روز مرہ ضرورت کی کسی چیز پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی یوٹیلٹی بل اچانک بڑھ جاتا ہے ۔ لیکن امراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ سرکار کے ملازم بلکہ عوام پر لگائے گئے انھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کو اپنی تنخواہوں۔ الاونئس اور دیگر مراعات میں استعمال کرکے شاہانہ لائف اسٹائل برقرار رکھتے ہیں اور ان کی موجیں یوں ہی لگی رہتی ہیں ۔ ان کی سج دھج وہی رہتی ہے جوہمیشہ سے تھی لیکن اب یہ سج دھج ملک کی توفیق اور استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام دعا مانگ رہے ہیں کہ کوئی عالم غیب سے آئے اور اس لوٹ مار کو بند کر دے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جس ملک کے حکمران بیرونی ممالک سے وصول کردہ تحفوں کی تفصیلات بتانے کو قومی راز اورقومی سلامتی گردانتے ہوں۔ سوچیں وہ اور انکے ساتھ کیا فلم ہیں ۔

    ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی ہاتھ روکنے والا ہی نہیں ہے تو کیوں نہ بڑا ہاتھ مارا جائے اور جہاں تک ضمیر وغیر ہ کا تعلق ہے تو یہ مر چکا ہے۔ اس وقت بالکل واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر طبقے پر کم ٹیکس لگائیں ۔ تاکہ وہ اپنی بچت، یا پھر منافع کو اپنے کاروبار میں وسعت پر لگائے۔ اسی لیے اس حکومت نے امیر طبقہ کو کھربوں روپے کی رعائتیں بھی دی ہیں۔ اللہ نہ کرے وہ دن آئے ۔ کہ ہمارا حال لبنان ، وینزویلا یا سوڈان جیسا ہُو۔ پر یہ چل اسی ڈگر ہر رہے ہیں ۔ جہاں افراطِ زر کی شرح سینکڑوں فیصد میں ہے۔ ۔ یہ تو ہماری زراعت میں اتنی جا ن ہے کہ وہ ہمیں پوری طرح ڈوبنے نہیں دے رہی ۔ کھانے پینے کا سامان ملک میں اتنا موجود رہتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی جیسی تیسی چلتی رہتی ہے۔ ورنہ اس حکومت نے کسر کوئی نہیں چھوڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل اور کرم ہے کہ یہ ملک کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، ہر آنے والا حکمران اپنا چورن بیچ کر چلا جاتا ہے،کوئی قرض اتارنے اور ملک سنوارنے کی بات کرتا ہے تو کوئی نیا پاکستان اور ریاست مدینہ کے خوب دکھاتا ہے۔ ایک ہم عوام ہیں جو خواب دیکھے جارہے ہیں۔

  • گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل پاکستان کو اپنی حکومت میں ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ مگر تبدیلی حکومت کے اقتدار کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور عوام ابھی بھی اس ریاست کی تلاش میں ہیں جس میں حق دار کو جلد انصاف مل جائے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال آج جو کچھ سپریم کورٹ میں ہوا ہے اور جو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کی دہائیاں ہیں ۔ وہ ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے پر تو پیپلزپارٹی ، ن لیگ سمیت بہت سوں کو پہلے ہی بہت سے تحفظات تھے ۔ پر جو عدالت کے باہر اے پی ایس شہدا کے والدین نے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو معافی دینے والی حکومت کون ہیں؟ انہیں صبر نہیں انصاف چاہیے۔ شہدائے اے پی ایس کے والدین کے وکیل امان اللّٰہ نے جو عدالت میں کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں، ریاست سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔

    ۔ ایک والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بچہ یہ کہتے شہید ہوگیا کہ اس کی ماں دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی۔ مظلوموں کی ان دہائیوں نے دل دہلانے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں ۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ جیسے اپوزیشن ٹی ٹی پی والے معاملے پر حکومت کے خلاف کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ جو کچھ آج عدالت میں ہوا ۔ جو پوائنٹس اٹھائے گئے پھر جو لواحقین نے گفتگو کی۔ کیا اس کے بعد ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔ کیونکہ دیکھنے کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اتنے پاکستانی بھارت کا مقابلہ کرتے شہید نہیں ہوئے جتنے ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں ۔ پھر اس سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان جو بنا ۔۔۔ اس کا کیا بنا ؟؟ پر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسکے وزراء کو چیزوں کا زیادہ ادارک نہیں ہے ۔ کہ پاکستان کس مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ آج بھی اتنے اہم کیس میں عمران خان کی عدالت پیشی کے دوران فواد چوہدری اور شیخ رشید سیاست کرنے اور شرارت کرنے سے باز نہ آئے ۔ جہاں فواد چوہدری میڈیا کو یہ بتا رہے تھے کہ جب سانحہ ہوا تو اس وقت وزیر اعظم نواز شریف تھے ۔ تو شیخ رشید کی پرانی کیسٹ پھر چل پڑی کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ معاملہ مظلوموں کا انصاف دینے کا تھا ۔ ویسے فواد چوہدری کو یہ تو یاد رہا کہ نوازشریف وزیراعظم تھے یہ بھول گئے وزیر اعلی پرویز خٹک تھے اور پوری پی ٹی آئی ڈی چوک پر ناچ رہی تھی ۔ پھر ان تین سالوں میں عمران خان نے کون سا ایسا تیر چلا لیا ہے جو پانچ سال پورے کر لینے پر عوام نے پھر ان کو ووٹ ڈال دینا ہے ۔

    ۔ ویسے کل اپوزیشن جماعتوں نےقومی اسمبلی میں مل کر اکثریت کے معاملے میں حکومت کو شکست دے دی تھی جس کے باعث حکومت آئینی ترمیمی بل پیش نہ کرسکی۔ کیونکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد حکومتی اراکین سے زیادہ تھی ۔ اس لیے کاش آج یہ وزیر شہداء کے لواحقین کے لیے دو ہمدردی کے بول ہی بول دیتے ۔ تو زیادہ اچھا تھا ۔ ویسے اس تمام معاملے پر پی ٹی آئی کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے آگیا ہے ۔ جب یہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف یا یوسف رضا گیلانی کو عدالت بلاتی تھی تو یہ خوب تعریفوں کے پل باندھا کرتے ہیں اب یہ ہی لوگ سوشل میڈیا پر عدالت کو malign کرنے کی کمپین چلا رہے ہیں ۔ کہ وزیراعظم عمران خان کو بلایا کیوں ؟ سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ناکام ترین حکومت عوام پر ایسا عذاب بن گئی ہے کہ ناانصافی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ یہ عالم آچکا ہے کہ لوگ ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اذانیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں تو کئی ریکارڈ توڑے ہی تھے، وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے انتقامی کاروائیوں، غیر اصولی سیاست، انتخابی دھاندلیوں، قوانین بذریعہ صدارتی آرڈیننس جن میں کئی غیر آئینی اور جموریت کو سبوتاژ کرنے کے نیت یے اس کے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    ۔ عمران خان کی خوبصورتی یہ ہے کہ بطور اپوزیشن جن حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے تھے اقتدار میں آکر ان سے نجات کی بجائے انہی کو من و عن اپنا لیا ہے۔ بلکہ گزشتہ ادوار کے وہ لوگ اپنی کابینہ میں شامل کر لیے جن کو وہ چور ، ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا کہا کرتے تھے ۔ پھر وزیر اعظم عمران خان روز انصاف کی فراہمی ، کرپشن اور احتساب پر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ۔ پر سب جھوٹ ہے اور سب نظر کا دھوکہ ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ خود کیشوں کی تعداد میں ہی اضافہ نہیں ہو رہا دیگر اخلاقی جرائم بھی منہ زور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایک افراتفری کا عالم ہے اور غریب عوام اب چینی جیسی ہر گھر کی روز کی ضرورت سے بھی محروم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر بجٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ مہنگائی نہیں ہوگی مگر بجٹ پاس ہوتے ہی حکومت مہنگائی خود بڑھا دیتی ہے۔ ہمیشہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا جب کہ ہر حکومتی جھوٹ کا سب سے پہلا اثر ہی عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی جھوٹ بولا جاتا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں غلط بیانیوں، گمراہ کن دعوؤں سے ملک کو جہنم بنا دیا گیا ہے اور نئے نئے ریکارڈ قائم کرا دیے گئے ہیں۔ غیر ملکی امداد اور قرضے پہلے کی نسبت دگنے ہوچکے ہیں۔ پر ہمیشہ صرف یہ بیچا جاتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جہاں جاتا ہے تقریر اور پرسنلٹی کا جادو سب کو رام کردیتا ہے۔ آخر عوام اس چیز پر کتنا کو خوش ہوں ۔ خان صاحب اپنی اپوزیشن کے دنوں میں جس سونامی کا ورد روزانہ کیا کرتے تھے وہ شاید یہی سونامی تھی ۔ جس میں ایک زرعی ملک جو گندم ۔ چینی ۔ چاول اور کپاس میں مکمل طور پر خود کفیل اور خود مختار تھا ۔ آج وہ تمام اجناس بیرون ملک سے امپورٹ کر رہا ہے۔ بمپر فصل ہونے کے باوجود ہم اتنے سخی ہوچکے ہیں کہ اپنی فصلیں اور پیداوار تو افغانستان اسمگل کردیتے ہیں اور خود اپنے لیے زرمبادلہ خرچ کرکے چینی اور گندم بڑی مقدار میں درآمد کررہے ہیں۔ ہمارا دشمن جس قسم کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا ہم نے آج اپنے پاکستان کو اُس مقام پر پہنچادیا ہے۔ ہم نے اپنے تمام بڑے بڑے منصوبے اب گروی رکھنا شروع کردیے ہیں۔ ایئرپورٹ اور موٹروے سمیت بہت سے پروجیکٹ اگر نہ ہوتے تو ہم اپنی کون سی چیز گروی رکھ کے یہ قرضے حاصل کرتے۔ اب صرف نیوکلیئر پروجیکٹ باقی رہ گیا ہے جس پر دشمنوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اللہ وہ دن نہ لائے جس دن قوم صبح جب خواب غفلت والی نیند سے بیدار ہو تو اُسے پتا چلے گا کہ ہمارا یہ اثاثہ بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔۔ اُس وقت ہمارے یہ حکمراں شاید یہی کہتے ہوئے دکھائی دینگے کہ ایسے ایٹم بموں کا کیا فائدہ جن کے ہوتے ہوئے قوم بھوک سے نڈھال ہورہی ہے اور وہ اُس کے کام نہ آئیں۔ روپیہ بنگلہ دیش تو کیا خطہ کے کسی اور کمزور ملک کی کرنسی سے مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ چالیس سالوں سے تباہ حال افغانستان کی کرنسی بھی ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ پٹرول آج بھی وہاں ہم سے کم قیمت پر دستیاب ہے۔ طالبان کو جس حال میں حکومت ملی ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اُن کا وہ رونا دھونا نہیں سنا جو ہماری اس حکومت نے ساڑھے تین سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اپنی ہر غلطی اور ناکامی کو پچھلی حکومتوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ ہم نے تو نیب قوانین میں مزید ترمیم کرکے جو تھوڑا بہت اس کا بھرم تھا وہ بھی ختم کردیا ہے ۔ شکریہ تو بنتا ہے اس بات پر کہ اس وقت عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ کیوں کہ یہاں پر جس کا جو دل کررہا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ گلہ کریں تو کس سے اور گریبان پکڑیں تو کس کا۔ صبح و شام چیزوں کے ریٹس مختلف ہیں اور وہ کس ریشو سے بڑھ رہے ہیں اور کیوں بڑھ رہے ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔ قانون سازی اور آرڈیننس سازی میں جو کمالات عمران خان کی حکومت دکھا رہی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا نیب چیئرمین کی مدت میں توسیع کا، بلدیاتی الیکشن کا معاملہ ہو، اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ ہو یا نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا ہر بار نیا کٹا ہی کھولا گیا ہے ۔

    وزیراعظم عمران خان مدد لینے دوست ممالک اور قرض کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے جتنے خلاف تھےاب وہ اتنے ہی دھڑلے اور دیدہ دلیری سے ان کے پاس جاتے ہیں اور ایسا کرنے پر ایسی ایسی وجوہات پیش کرتے ہیں کہ لوگ سر پکڑ لیتے ہیں۔ آج معیشت کو دیکھ لیجئے، مہنگائی کا انڈیکس دیکھ لیجئے، کرپشن کے حوالے سے ملک کی رینکنگ دیکھ لیجئے، ایمانداری کے حوالے سے رپورٹیں پڑھ لیجئے۔ صحت کے حوالے سے دیکھ لیجئے۔ ہر چیز حکومت کامنہ چڑا رہی ہے ۔ ایک جانب ڈینگی کنڑول نہیں ہورہا تو ڈینگی بخار کے لیے جو گولی ہے آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے وہ مارکیٹ سے غائب ہے۔ میڈیا یہ رپورٹ کرکر کے پاگل ہوگیا ہے ۔ مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی ۔ حکومت نے اب مہنگائی کنڑول کرنے کا حل یہ نکالا ہے کہ SPI (Sensitive Price index)کا ہفتہ وار دیٹا ہی بند کر دیا ہے ۔ کہ نہ پتہ چلے گا کہ کتنی مہنگائی بڑھی ہے ۔ نہ کوئی رپورٹ کرے گا ۔ یعنی پھر نہ کوئی حکومت کو برا بھلا کہے گا ۔ پھر حکومت میں جو رتن شامل ہیں ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون کس کا ترجمان ہے۔ کیوں کہ ان کے اپنے وزیر اور مشیر اپنی حکومتی پالیسی سے نابلد نظر آتے ہیں اور ہر ایک کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ۔ اب ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود ان کی باتوں اور بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ ملک یہ نہیں بلکہ گزشتہ حکومتیں چلا رہی ہیں اور وہ صرف ان پر بیانات دینے کا فریضہ سر انجام دینے پر مامور ہیں۔ ہم سب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان نے بائیس سالہ جدوجہد میں سب سمجھ لیا ہے کہ مسائل کیا ہیں اور ان کو حل کیسے کرنا ہے۔ اور یہ سب ہم نے بلاوجہ نہیں سمجھا بلکہ ہمیں بار بار یہ باور کرایا گیا کہ روزانہ ملک میں اتنے ارب کی کرپشن ہوتی ہے جو ان کے آنے سے رک جائے گی۔ یہ بتایا گیا کہ ان کے پاس کام کرنے والی ٹیم بالکل تیار ہے جس میں ایسے قابل اور ایماندار لوگ ہیں۔ جو نہ کسی نے کبھی دیکھے ہوں نہ ان کے بارے کبھی سنا ہوگا ۔ ہمیں بتایا گیا کہ نوے دنوں میں یہ ہوجائے گا، دو سال میں یہ ہوجائے گا اور پانچ سال بعد نہ جانے ہمارا ملک ترقی کی کون سے زینے پر قدم رکھ چکا ہوگا۔ پر سچ یہ ہے کہ ملک کو اس حال میں پہنچا دیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والا کوئی حکمراں بھی اُسے سنبھال نہ سکے اور پھر قوم کے پاس موجودہ حکمرانوں کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہے۔ ویسے بھی کچھ لوگوں کی نظر میں موجودہ حکمرانوں کا کوئی متبادل ہی موجود نہیں ہے۔

  • بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    خطے میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم ۔۔۔ ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں ۔ حالانکہ بھارت کی اپنی حالت کافی پتلی ہے ۔ معیشت سے لے کر ہر چیز کا بٹھہ بیٹھا ہوا ہے ۔ مگر جنونی مودی کے سر پراکھنڈ بھارت کا بھوت سوار ہے ۔ اس وقت کوئی دن ایسا نہیں جا رہا جب بھارت کو اپنے بارڈرز سمیت انٹرنیشنل سطح پر ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہو۔ کبھی پاکستان تو کبھی چینی بھارتی فوجیوں کی خوب تواضع کرتے ہیں ۔ تو کبھی کشمیری ، نکسلی ، ماؤ اور دیگر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو اب یوں لگتا ہے کہ مودی کے آنے کی وجہ سے شکست بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے میدان سے لے کر کھیل کے میدان تک بھارت کو صرف مار ہی مار پڑی رہی ہے ۔ پر انڈیا امریکی آشیرباد اور طاقت کے زعم میں اس خطہ میں جو کھیل کھیل رہا ہے۔ اسکے نتائج اس خطہ کو ہی نہیں۔ پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ اسوقت ہندوستانی قیادت پاگل ہوچکی ہے دنیا جہاں کا اسلحہ خرید رہی ہے اور بڑی تیزی سے امریکہ فرانسیسی اور اسرائیلی ساختہ اسلحہ سرحد کے ساتھ ساتھ لگایا جا رہا ہے ۔ جس میں میزائل ، ڈرون ، نئے طیارے اور پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کسی نئی جنگ کی تیاری میں ہے ۔

    ۔ بھارت کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان نے بھارت میں ہونے والی افغان سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے خطے میں پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا ریاستی موقف کیا ہے ۔ ہم بھارت بارے کیا سوچتے ہیں اور انڈیا کااصل چہرہ ہے کیا ۔۔۔ کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بغل میں آپ نے چھری رکھی اور منہ سے رام رام کہہ رہے ہوں۔ پھر بھارت افغانستان میں قیام امن کا کسی طور پر بھی سٹیک ہولڈر نہیں ہے۔ الٹا خطے میں بگاڑ اور بد امنی کی تما م راہیں ہندوستان سے نکلتی ہیں۔ ہندوستان کی جنونی سرکار کے منصوبوں کی کامیابی کی راہ میں اگر کوئی ملک سامنے کھڑا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان اپنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا اس کی سلامتی کونسل، یورپی یونین ہو یا عرب لیگ، ہر جگہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوؤں نے قیام پاکستان کے روزِ اول سے ہی پاکستان کو ناکام ریاست بنانے اور ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے کبھی اثاثہ جات کی تقسیم پر، کبھی دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر، کبھی سیاچن، کبھی کارگل اور اب افغانستان کے مسئلے پر ہندوستان پاکستان کو نیچا دکھانے کی کاوشیں کر رہا ہے۔ افغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت سرکار ایک بار پھر افغانستان کے حوالے سے لیڈ لینے۔ بلکہ پنگا لینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے پر اس کی دال نہیں گلنی ۔ سیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ پر یاد رکھیں پاکستان کی شرکت کے بغیر اس کانفرنس کی حیثیت اور ساکھ قائم نہیں ہو سکے گی پاکستان نے اس لئے اس میں شرکت سے انکار کر کے ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔

    ۔ پر آپ مودی کی دونمبریاں تو چیک کریں ایک جانب یہ افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے تو دوسری جانب طالبان کے ڈر کو بھارت میں الیکشنز میں خود بیچا جا رہا ہے ۔ اگر آپک یاد ہو تو چند روز پہلے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ تھا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ یہاں تک اس فراڈیے نے تو افغانستان پر فضائی بمباری تک کی دھمکی لگائی تھی ۔ تو اب بھارت کس منہ سے افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے ۔ چلتے چلتے میں یوگی ادتیہ کو بھارت کی اوقات بتا دوں ۔ کہ گزشتہ ایک ہزار سال سے افغانستان سے آنے والے بنا کسی طیارے ، ٹینک کے میزائل اور جدیدہتھیاروں کے کئی مرتبہ گھڑسوار اور پیدل مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ بھارت کو روند چکا ہے۔ محمود غزنوی سے لیکر احمدشاہ ابدالی تک افغانستان سے آنے والے لشکروں نے راس کماری سے لے کر بنگال تک دہلی سے لے کر کرناٹک تک کو فتح کیا اور یہاں اپنی حکومت قائم کی۔ خاندان غزنوی ہو یا لودھی ، غلاماں ہوں یا خلجی، تغلق یا غوری یا مغل یہ سینکڑوں برس ہندوستان کے فاتح اور حکمران رہے۔ ۔ اگر آدتیہ یوگی اس تاریخی حقیقت سے آگاہ ہوتا تو کبھی ایسی بڑ نہ مارتا جس کے جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنا۔ آدتیہ یوگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بدبخت شخص کو مسلمانوں سے اسلام سے نفرت ہے۔ یہ واقعی بہت بڑی بات ہے کہ دہلی ، آگرہ ، ڈھاکہ ، کلکتہ ، بہار، حیدر آباد ، لکھنو، بنارس ، تلنگانہ ، کیرالہ اوڑیسہ تک پھیلی کسی بھی ہندو ریاست میں یا ان کے مہاراجوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے ہی دیس میں اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے ہزاروں میل دور افغانستان سے آنے والے ان مٹھی بھر مسلانوں کا مقابلہ کر کے انہیں نست ونابود کر دیتے۔الٹا لاکھوں کے لشکر، ہاتھی گھوڑوں ، اونٹوں کے باوجودیہ ہندوستانی ریاستیں ہر بار مسلمانوں کے حملے میں کاغذ کی کشتی کی طرح برساتی پانی میں بہہ جاتیں۔ یوگی ڈھونگی شایدبھول رہا ہے کہ مرہٹوں جن کی طاقت پر ہندوستانیوں کو بہت گھمنڈتھا وہ بھی بار بار زیر ہوئے۔ چھپ کر مسلم حکمرانوں پر حملے کرتے رہے مگر انہیں بھی پورے ہندوستان پر کبھی حکومت کرنا نصیب نہیں ہوئی۔ وہ ڈاکوئوں کی طرح آتے اور چوروں کی طرح بھاگ جاتے رہے۔ حتیٰ کہ پانی پت کے میدان میں لاکھوں مراٹھے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر احمد شاہ ابدالی نے مراٹھا سامراج کا خواب چکنا چور کر دیا تھا ۔ کیا یہ سب حقائق صرف فسانے ہیں ۔ کیا یو گی ڈھونگی نے کبھی تاریخ نہیں پڑھی۔ اگر پڑھی ہوتی تو ضرور اس سے سبق سیکھتے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک شرانگیز ملک ہے جو امن قائم نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے لئے ہونے والی کسی بھی کوشش کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے کیونکہ وہ اکھنڈ بھارت والے اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی بنیاد پر علاقے کی تھانیداری کا خواہشمند ہے جس کے لئے اسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ اسی لیے بھارت کے ہمسایہ ممالک اور اس خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک ہمیشہ بھارت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس وقت بھارت اعلانیہ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی دھمکیاں دیتا نظر آتا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستان مخالفت کی وجہ سے ہی ماضی میں افغانستان کو سپورٹ کیا ۔ وہاں پاکستان مخالف عناصر کی مالی امداد کر کے انہیں خوب پالا پوسا مگر جب سے افغان طالبان نے حکومت سنبھالی ہے۔ بھارت کی ساری سرمایہ کاری نالی میں بہہ گئی ہے۔ اب اسے خطرہ ہے کہ اگر طالبان حکومت افغانستان میں مضبوط ہوئی تو اس کا اثر مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمانوں کی تحریک آزادی پر بھی پڑے گا اور افغان طالبان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اور کشمیریوں کی حمایت کریں گے۔ آپ دیکھیں پاکستان دشمنی میں مودی سرکار اس حد تک چلی گئی ہے کہ روسی وزیر کے بقول اب پاکستان کے انکار کے بعد بھارتی امریکہ کو فضائی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے لگے ہیں۔ جہاں سے امریکہ افغانستان میں ڈرون حملے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ ویسے ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے امیدہے بھارت سرکار ماضی کے واقعات سے ضرور سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھارت میں مسلم کش فسادات کروا کر اگر بھارتی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دبا دیںگے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ صرف کشمیر کی مثال ہی کافی ہے جہاں 72سالوں سے بھارت اپنی لاکھوں مسلح افواج کے بل بوتے پر ہر ممکن جبر و تشددکے باوجود ان آزادی پسند کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہیں کچل سکا تو وہ بھلا بھارت میں پھیلے 20 کروڑ مسلمانوں کو کیا بربادکرے گا۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش جاری رہی تو پھر یہ داستان خودبھارت کی بربادی پر ہی ختم ہو گی۔ یہ ہم نہیں کہتے زمانہ کہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے۔

    ۔ یہ بھی سچ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور دلت ہندوئوں سمیت کسی بھی اقلیت کو جان مال کا تحفظ حاصل نہیں اور ان کی مذہبی آزادیاں نہ صرف غصب کی جا چکی ہیں بلکہ انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت ہندو انتہاء پسندوں کے حملوں اور دوسری پرتشدد کارروائیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ ان انتہاء پسندوں کو بھارت کی مودی سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی ہند سرکار سے نفرت کرتے ہیں مودی سرکار کی ہندو توا نے دیگر اقلیتوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے سکھ، خالصتان بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت کے 630 اضلاع میں سے 220 اضلاع پہ اس وقت آزادی پسندوں کا قبضہ ہے۔ کشمیر کے علاوہ بھارت کی درجنوں ریاستوں میں 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ ۔ ناگالینڈ، مینرد ورام، منی پور اور آسام سے لیکر بہار،آندھرا پردیش، مغربی بنگال اس وقت بھارت کے لیے سردرد بن چکے ہیں۔ آدھا بھارت فوجی چھاونی بن چکا ہے یہاں جگہ جگہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارتی فوج کے مظالم یا بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شور مچاتی ہیں تو بھارت کی سرپرست عالمی طاقتیں انھیں خاموش کرادیتی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے دور میں اب کچھ بھی چھپنا ناممکن ہو چکا ہے۔ آسام میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے قتل پر عرب سوشل میڈیا پر انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایسی مہم چلی کہ جو پھر پھیلتی ہی چلی گئی۔ پھر مودی جس بھی ملک جاتا ہے وہاں بھارت اور اسکے خلاف احتجاج شروع ہو جاتا ہے ۔ کبھی سکھ ، تو کبھی کشمیری تو کبھی ماؤ تو کبھی نکسلی خوب بیرون ملک بھی مودی کی بینڈ بجاتے ہیں ۔ ویسے مودی کسی بھی ملک کا پہلا سربراہ ہے جسے اپنے ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی اتنی ہی زلالت کا سامنا رہتا ہے۔ پھر ایک رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے ہندو آبادی کو خطرناک حد تک ہندوتوا ذہنیت کے نشے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہندوتوا قوتیں مسلمانوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانا اپنا مقدس فرض سمجھتی ہیں۔ ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ انہیں قتل کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے عروج کے دوران بھارتی مسلمانوں پر وائرس پھیلانے کا الزام لگایا گیا تاکہ بھارت میں نظام صحت کی تباہی کو چھپایا جا سکے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہاپسندوں نے تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ مہم شروع کر رکھی ہے۔

  • ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ایک جانب پیٹرول ، چینی اور بجلی کے بعد آٹا بحران سر اٹھا رہا ہے تو دوسری جانب موجودہ حالات کو عنیمت جانتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے کمر کس لی ہے ۔ اب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ خوب احتجاج کیا جائے ۔ بلکہ دسمبر میں لانگ مارچ بھی پلان کیا جا رہا ہے ۔ رہی بات حکومت کی تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا قابل اور ذہین شخص ہی نہیں ہے جو موجود حالات میں پی ٹی آئی کی کشتی کو پار لگا دے ۔ الٹا ایسے بیانات اور اقدامات مزید کیے جار ہے ہیں کہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہو ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک نہایت ہی بھونڈا اور مضحکہ خیز قسم کا پرپیگنڈہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پتہ نہیں کس افلاطون کا یہ آئیڈیا ہے ۔ پر یہ بری طرح پٹ گیا ہے ۔ کہ اورسیز پاکستانیوں سے مہنگائی پر صبر کرنے کےبھاشن دلوائے جائیں ۔ اس پر لوگ حکومت کو مزید لعن طعن کر رہے ہیں بلکہ اس پر بھی حکومت کے خلاف میمز کا طوفان شروع ہوچکا ہے ہونا بھی چاہیے ۔ کیونکہ اورسیز پاکستانیوں نے تو پاؤنڈزیا ڈالر میں کما کر روپوں میں خرچ کرنے کا مزہ دیکھا ہوا ہے مگر وہ روپوں میں کما کر ڈالر کی قیمتوں سے اشیاء خریدنے کا دکھ نہیں جانتے۔ پھر عمران خان پانچ سال کا حوالہ تو ایسے دے رہے ہیں جیسے ابھی ان کے اقتدار کی مدت پانچ سال باقی ہے ۔ حالانکہ وہ ساڑھے تین سال گزار چکے ہیں اور بمشکل ڈیڑھ سال باقی ہے۔ اب ان کا یہ فرمانا پانچ سال بعد دیکھیں گے غربت کم ہوئی یا زیادہ عوام کو مزید اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔ ان کو یاد نہیں ہوگا میں پر یاد کروادیتا ہوں کہ ساڑھے تین برسوں میں وہ کبھی سال اور کبھی چھ ماہ بعد تو کبھی تین ماہ بعد اچھے دنوں کی نوید سناتے رہے ہیں۔ یہاں تک عطااللہ عیسا خیلوی نے بھی اچھے دن آئیں گے ۔۔۔ پر گانا بنا دیا تھا ۔۔۔ اب پتہ نہیں اب وہ ان برے دنوں پر بھی کوئی بناتے ہیں یا نہیں ۔ کیونکہ اچھے دن تو نہیں آئے بلکہ الٹا برے دنوں میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ وزیر اعظم در اصل پاکستانی عوام کو تکلیف اور آئی ایم ایف کو ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ آپ دیکھیں بجٹ کے بعد صرف تین مہینوں میں پیٹرول ڈیزل بجلی گیس، ایل این جی ، دوائیوں ، اشیائے خورد نوش اور مختلف ٹیکس کے مد میں تقریبا 475ارب روپے عوام کے جیب سے نکلوائے ہیں ۔ پھر2018 میں جی ڈی پی 5.8تھی اور اگلہ ٹارگٹ تھا کہ آئندہ چند سالوں میں 7.8تک لیجایا جائے گا ۔ پر عمران خان جن کے پاس پتہ نہیں کتنے تجربہ کار لوگوں کی ٹیم تھی انھوں نے 5.8 سے جی ڈی پی کو نیچے گرا کر 3.7 تک کردیا ۔ پھر 2018 میں ایکسپورٹ 28 بلین ڈالر تھی اور ٹارگٹ تھا
    40 بلین ڈالر تک لے جانا کا ۔ پر عمران خان نے ان ایکسپورٹس کو 28 بلین ڈالرز سے نیچے لا کر 25 بلین ڈالرز تک لے گرا دیا ۔ یہ ہے اس حکومت کی جادوگری ۔۔

    ۔ پھر حکومت کا مشیر خزانہ بتاتا ہے کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں نے 29 ارب نہ بھیجا ہوتا تو معیشت ختم تھی ؟ اس سے واضح ہوگیا کہ اس حکومت کا انحصار بیرونی قرضے، بیرونی امداد اور بیرونی وسائل پہ ہے اسکے پلے کچھ بھی نہیں۔ نہ ان کے پاس پلان ہے نہ ہی یہ ملک کواندسٹرلائزیشن کے طرف ڈالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ الٹا انھوں نے تو پرانے چلتے کاروبار بند کروادیئے ہیں ۔ تو یہ ہے وہ کارکردگی ۔ جس پر عمران خان اور ان کی پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ اگلا الیکشن بھی جیتیں گے ۔ اور عوام ان کے گلے میں ہار بھی ڈالیں گے ۔ معذرت کے ساتھ تبدیلی کا جنون اب صرف ان لوگوں میں زندہ ہے جن کا جیب خرچ ابھی تک والدین دیتے ہیں یا وہ پاکستانی جو چھٹیاں گزارنے یا کسی فوتگی یا پھر کسی شادی پر ہی پاکستان آتے ہیں ۔ یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے اور یہ بھی اگر چند ماہ گرمیوں میں پاکستان آگئے تو حکومت کو گالیاں ہی نہیں پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہے گے ۔ اس لیے پی ٹی آئ والوں سے بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہ کریں یہ صرف آپ کے سامنے ڈٹے ہوتے ہیں۔ اکیلے میں یہ بھی خود کو کوستے ہی ہیں ۔ پھر دیکھا جائے تو اس حکومت نے مہنگائی ختم کرنے کی ساری امیدیں ہی ختم کر دی ہیں وزیر اعظم نے عملاً ہاتھ نہیں کھڑے کئے ۔ ان کی باتوں سے یہی لگتا ہے وہ ہار مان گئے ہیں۔ کیونکہ آج پھرعمران خان نے وہ گھسا پیٹا بیان دیا ہے کہ کورونا سے عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان مہنگائی کے اعتبار سے دیگر ملکوں کے مقابلے میں اب بھی بہتر ہے۔ پھر انہوں نے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے اٹک میں جو گفتگو کی وہ ایک بے بس حکمران کی تقریر تھی۔ جو ہار مان چکا ہو جو صرف یہ بتا رہا ہے میں نے یہ معلوم کیا، وہ معلوم کیا، جس سے دیکھائی دیا کہ چینی مافیا کے آگے انھوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں ۔ اب اگر حکومت ایک مافیا کے سامنے بے بسی کا اظہار کرے گی تو باقی مافیاز خودبخود اپنے دانت تیز کر لیں گے۔

    ۔ پھر منصوبہ بندی کا یہ عالم ہےکہ پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاوں کو یہ نہیں معلوم کہ ملک میں ایل این جی کب اور کتنی امپورٹ کرنی ہے۔ یوں حکومت جلد عوام پرگیس اور بجلی کی کمی کا بحران بھی نازل کرنے والی ہے۔ یہ مذاق نہیں ہے کہ جن چیزوں مثلا آٹا،چینی ،کاٹن میں پاکستان خود کفیل تھا خان صاحب کی حکومت اربوں ڈالر ان اشیا کی درآمد پر خرچ کررہی ہے۔ حالات یہی رہے تو ملک میں غریب نام کا کوئی شخص زندہ نہیں ملے گا۔ اس وقت تو یہ لگ رہا ہے حکومت عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔ آج ہر شخص یہ دہائی دے رہا ہے صرف بازاروں ہی میں نہیں سرکاری دفاتر میں بھی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ بیورو کریسی جتنی بے لگام اور بے خوف آج ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ سرکاری افسر عوام کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہے ہم بہت تھوڑے دنوں کے لئے تعینات ہوتے ہیں، جتنی لوٹ مچا سکتے ہیں مچا لیں اس کے بعد ٹرانسفر تو ہونا ہی ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف بھی ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے ۔ ان کو امید ہوچلی ہے کہ قبل ازوقت الیکشن ہوسکتے ہیں اور پھر اگلی باری ان کو بھی مل سکتی ہے ۔ یا کم ازکم نئی حکومت میں حصہ تو مل ہی جائے گا ۔ آج اگرپی ٹی آئی کی فلم کوپیچھے گھما کردیکھا جائے تومعلوم ہوگاکہ کس کس طرح عوام کو بے وقوف بنایا گیا تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈ ر جو جو کچھ کیا تھا۔ آج قدرت وہی کچھ انہیں دکھا رہی ہے۔ ۔ دھاندلی دھاندلی کا شور یہ مچاتے تھے اب پتہ چلا ہے کہ حکومت میں آکر پی ٹی آئی خود دھاندلی میں ملوث ہوگئی ہے ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے بعد تو اپوزیشن کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے کہ عمران خان بھی استعفی دیں اور قانون کا سامنا کریں۔ کیونکہ یہ ہی پوائنٹ لے کر تو عمران خان نے کئی بار اسلام آباد پرچڑھائی کی تھی ۔ اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس پر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کے سرمائے کی طرح لوگوں کے ووٹ اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار بھی لوٹنے اور چھننے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ڈسکہ رپورٹ آگئی ہے اور ووٹ چوری ثابت ہوچکی ہے۔ عمران نیازی بتائیں اب کس چیز کا انتظار ہے۔ اب کارروائی کی جائے۔ نواز شریف کی طرح وزیراعظم ہو کر قانون کا سامنا کرنے اور پیشیاں بھگتنے کے لئے بڑا دل گردہ چاہئے، اگر عمران نیازی طاقتور ہیں تو خود کو قانون کے نیچے لائیں۔
    ہم انتخابی اصلاحات، الیکڑانک ووٹنگ مشین اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان، عوام اور آئین کے خلاف سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کو غلام بنانے کا موجودہ حکومت کا سیاہ منصوبہ ناکام بنائیں گے۔

    ۔ یہ بیان سن کر ایسا نہیں لگتا کہ ماضی اپنے آپ کو دھرا رہا ہے ۔ عمران خان جو ماضی میں کہا کرتے تھے اب اپوزیشن بھی وہ ہی کہہ رہی ہے وہ ہی زبان استعمال کررہی ہے ۔۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آئیں گے ۔ یہ چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں اور نیب سے اپنے اوپر فائلیں بند کروالیں ۔ جب ان کے پاس حکومت کی طاقت نہیں ہوگی تو بند فائلیں بھی کھول جائیں گی ۔ تب پتہ چلے گا کہ اس دور میں مافیاز کیوں اتنے پھلے پھولے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ عمران خان صاحب کی باتوں اور دعووں سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت یا تو ڈیلیور کرے یا پھر جگہ خالی کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی حالت اس گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہے جسے ایک دھکا کافی ہے۔ کیونکہ عوام میں حکومت کی حمایت کم نہیں بلکہ ختم ہوگئی ہے۔

  • ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    حکومت نے رات کے آخری پہر مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ستائی ہوئی پاکستانی عوام پر ’پٹرول بم‘ایسا مارا ہے جیسے کبھی1965 میں بھارت نے پاکستان پر شب خون مارا تھا ۔ آٹھ روپے اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔۔ ابھی دو روز پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے لیے ’ ریلیف پیکج‘
    بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تکلیف پیکج کا اعلان کیا تھا ۔۔ عندیہ تو عمران خان نے پہلے ہی دے دیا تھا مگر اس بار تو پندرہ تاریخ کا بھی انتظار نہیں کیا گیا ۔ شاید اس ماہ کی پندرہ کو پھر اس حکومت کا عوام کو ٹیکہ لگانے کا پلان ہے ۔ ۔ یہ اس حکومت نے عوام پر ایک ماہ میں تیسرامہنگائی بم گرایا ہے ۔ ان کے اس فیصلے سے سفید پوش طبقہ کتنا متاثر ہوگا اور اب جو مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا ۔ اُس کا انکو اندازہ ہی نہیں ۔ یہ بس بدمست ہاتھی کی طرح جنگل تباہ کیئے جارہے ہیں اور کوئی انکو روکنے والا نہیں۔ تاہم ایسے حالات میں بھی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے پانچ روپے تک لا چکی۔ اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ ہائے دیکھا کتنی عوام دوست حکومت ہے ۔

    ۔ عمران خان جو ہالینڈ کے وزیراعظم اور یورپ کی مثالیں دیا کرتے تھے خود تو کپتان ایک دن بھی سائیکل پر دفتر نہیں گئے ، مگر عوام کو سائیکل پر لے آئے ہیں ۔ یہ ہے وہ تبدیلی ۔۔۔ ۔ حکومتی ترجمان اور عمران خان خطہ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے- پر کل بھارت میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول پانچ روپیہ اور ڈیزل دس روپیہ فی لیٹر ڈیوٹی گھٹا کے سستا کر دیا جبکہ ہماری تبدیلی سرکار نے عوام کو مزید کچلنے کے لئے پٹرول اور ڈیزل مذید مہنگا کیا۔۔ اصل فرق تو ان موٹر سائیکل سواروں کوپڑتا ہے جن کونہ فری پٹرول ملتاہے اور نہ ہی بدلوانے کیلئے کوئی پرزہ۔ یہی حال ان عام شہریوں کا ہے جنھوں نے اپنی محنت کی کمائی سے گاڑی خریدی ہوئی تو ہے پر اب وہ ان کے لئے وبال جان بنی ہوئی ہے۔۔ میری بات نوٹ کر لیں انھوں نے پیڑول کیا ، ڈالر ، چینی ۔۔۔ ہر چیز کی ڈبل سنچری کروانی ہے ۔ انھوں نے غریب کو جینے کا کوئی حق نہیں دینا ۔ یہ غریب مکاؤ مہم پر نکلے ہوئے ہیں ۔ ۔ حکومت نالائقی، نااہلی اور کرپشن کی ہر حد پار کر چکی ہے ۔ آپ دیکھیں کل ایک بار پھر پنجاب حکومت نے پولیس میں تیس سے زائد تبادلے کر دیئے ہیں ۔ کیا یہ کوئی گورننس ہے ۔ ایسے نظام چلائے جاتے ہیں جیسے یہ چلا رہے ہیں ۔ قوم تو تمام امیدیں چھوڑ چکی ہے اب تو وہ یہ بھی نہیں پوچھتی کہ اچھے دن کب آئیں گے۔ ہاں البتہ ہر کوئی یہ ضرور پوچھتا ہے کہ اس تبدیلی سے کب جان چھوٹے گی ۔

    ۔ پھر حکومت کے چینی کی قیمت میں کمی کے سب وعدے الٹے ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ اس معاملے میں حکومت اور مافیا دونوں ملے ہوئے ہیں ۔ حکومت چینی جان بوجھ کر امپورٹ نہیں کررہی ۔ تو چینی مافیا والے کرشنگ سیزن سے پہلے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ یہ گزشتہ حکومتوں کو ڈاکو کہا کرتے تھے ۔ مگر یہ تو خود سب سے بڑے ڈکیت ثابت ہورہے ہیں ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں شوگرمل مالکان کو265 ارب روپے کااضافی منافع پہنچایاگیا ہے ۔ صرف اس سال کے 10 ماہ میں 67ارب روپے کااضافی منافع دیا گیا ۔ اب سمجھ آئی کہ یہ مافیاز کیوں نہیں پکڑے جاتے ۔ کیونکہ سب کچھ تو حکومت خود کروارہی ہے ۔ مافیاز ان کے اندر موجود ہیں ۔ اس لیے تو نیب کے ہاتھ پاوں باندھے گئے ہیں کہ وہ صرف اپوزیشن کو ہی پکڑ ان کی طرف نظر نہ اٹھا سکے ۔ ۔ آپ دیکھیں پنجاب کے سابق معاون خصوصی خوراک جمشید اقبال چیمہ نےتین ہفتے قبل گنے کی بمپرفصل کی خوشخبری دی تھی اورکہاتھاکہ نومبرسے چینی80 روپے کلوملے گی۔ حالات یہ ہے کہ اب 150 میں بھی نہیں مل رہی ہے ۔ ۔ پھر حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل کی قیمت میں 65 روپے فی کلو جبکہ گھی 53
    روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ عوام یاد رکھے یہ وہ اشیاء ہیں جن پر وزیراعظم نے دو دن پہلے ریلیف کا اعلان کیا تھا۔ میری نظر میں تو چینی سبسڈی کی طرح ریلیف پیکج بھی مافیا کھا جائے گا۔ کیونکہ یہ سبسڈی احساس پروگرام کے تحت ملنی ہے ۔ نہ کوئی رجسڑ ہوگا نہ کسی کو ملے گی ۔ پھر اس پیکج کے تحت اندازً ایک خاندان کو ماہانہ ایک ہزار روپے کا ریلیف ملنا ہے۔ یہ کسر تو حکومت پیڑول کی قیمت بڑھا کر پوری کردی ہے ۔ یعنی کان ایک سائیڈ سے نہیں تو دوسری سائیڈ سے پکڑ لو ۔

    ۔ اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان دو کروڑ افراد کا ملک ہے جن کے لئے وزیر اعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کیاہے؟ کیا باقی کے بیس کروڑ افراد کو کسی ریلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ملک میں چالیس فیصد آبادی یعنی آٹھ کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر وزیر اعظم کو صرف دو کروڑ نظر آئے اور اس ریلیف کا آغاز بھی کہیں دسمبر کے وسط میں جا کرہوگا۔ ۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ پنتالیس فیصدگرا ہے تو میری اور آپ کی جیب میں پڑا ایک سو روپے کا نوٹ پچپن روپے کا رہ گیا ہے۔ ۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شے کی ٹرانسپورٹیشن لاگت میں تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کے خشک جنگل کو آگ لگ گئی۔۔ جنرل سیلز ٹیکس کے اطلاق نے اس ملک میں عام آدمی کاجینا محال کردیا ہے، اس ایک ٹیکس میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس رہا ہے، یعنی وہ لوگ بھی ٹیکس ادا کرنے کو مجبور ہیں جنھیں حکومتی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ ۔ عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں اور مہنگائی خطے کے دیگرممالک سے کم ہے۔ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں مہنگائی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ تین سال کے دوران میں فی کس آمدنی بھی ریکارڈ 13.51 فیصد تک گر گئی جبکہ ملک میں غربت بھی بڑھ گئی ہے۔

    ۔ ان سے پہلے دور حکومت بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں اعداد وشمار بتارہے ہیں ۔ ۔ پاکستان میں 2018ء میں فی کس آمدنی 1480 ڈالر تھی، 2020ء میں پاکستان میں فی کس آمدنی 1280 ڈالر رہی۔ ایک اور اہم فیکٹر کی مدد سے مہنگائی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح 10.74 فیصد ہے۔ یہ شرح خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں مہنگائی کی شرح 6.62 فیصد ہے، بنگلہ دیش میں مہنگائی کی شرح 5.69فیصد ہے، سری لنکا میں مہنگائی کی شرح 6.15 فیصد ہے، چین میں مہنگائی کی شرح صرف 2.4 فیصد ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدنی تین برسوں میں خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ یعنی 13.51 فیصد گر گئی، ان تین سالوں میں ہم آگےجانے کی بجائے پیچھے گئے ہیں ۔ ۔ عمران خان قوم کو ایف بی آر کی
    37فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی نوید سنا کر ایف بی آر افسروں کو شاباس کے سرٹیفکیٹ اور بونس تو دے رہے ہیں۔ پر سچ یہ ہے کہ یہ سب براہِ راست ٹیکسز ہیں جو بجلی،گیس کے بلوں اور پٹرول سے براہِ راست اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔۔ پتہ نہیں عوام نے ان کو ووٹ دے کر کیا غلطی کر دی ہے کہ یہ صرف عوام کو ہی تن رہے ہیں ۔ حالات یہ ہیں کہ یہ عوام کی چیخیں بھی نہیں سننا چاہتے ۔ ایک ایک خاندان کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10لاکھ تک ہسپتالوں سے ریلیف دینے کا جنازہ نکل چکا ہے، کوئی ہسپتال ہیلتھ کارڈ پر ریلیف دینے کے لئے تیار نہیں،50
    لاکھ گھروں کے لئے قرضے دینے کا منصوبہ بھی منگوا کر دیکھ لیں۔ ایک کروڑ نوکریاں بھی توجہ کی منتظر ہیں، دیگر ممالک کی مہنگی مصنوعات کے ساتھ دیگر ممالک کی سہولیات اور سروسز کا بھی جائزہ کروا لیا جائے۔ اس وقت وزیراعظم یوٹیلٹی سٹور پر ریلیف ختم کر چکے ہیں۔ اور پٹرول سے دو سو ارب دو ماہ میں عوام سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت جو بجلیاں عوام پر گرا رہی ہیں ۔ اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ نااھل حکومت کی رخصتی کا وقت قریب ھے۔ اس حکومت کی تمام توجیہات اور صفیائیں جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔

    ۔ اپوزیشن بھی پتہ نہیں کہاں دھنیا پی کر سوئی ہوئی ہے ۔ اپنے مفادات کے لیے تو یہ لانگ مارچ ، دھرنا پتہ نہیں کیا ۔۔۔ کیا کرلیتے ہیں ۔ اب جب عوام کی روز ہی بینڈ بجائی جارہی ہے تو یہ بس بیانات اور ٹویٹس پر گزارا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ جیسے اس حکومت نے گزشتہ ایک ماہ کے اندر پاکستانی عوام پر مہنگائی بم گرائے ہیں اب تک تو اپوزیشن کو پہیہ جام ہڑتال سے لے کر حکومت کے بائیکاٹ کی مہم شروع کروا دینی چاہیئے تھی ۔ ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی اور اس کا ہاتھ اس حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے گربیانوں تک بھی پہنچ جائے گا ۔ جس طرح حکومت اپنی کاروائیاں ڈال رہی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ ایسا عنقریب ہو جائے گا ۔ بس ایک چنگاری لگنے کی دیر ہے ۔