Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    وزیر اعظم نے مہنگائی میں پسی عوام کو ۔۔۔ ریلیف پیکج ۔۔۔ کے جھانسا دے کر ۔۔۔ تکلیف پیکج ۔۔۔ کا اعلان کر دیا ہے ۔۔ عمران خان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ کررہے ہیں ، کریں گے ،
    ہوجائے گا ۔ میری نظر میں ان کو تو دلاسہ بھی نہیں دینا آتا ۔۔ روتے یہ ہیں کہ میڈیا وہ مثبت رپورٹنگ کرے جو یہ چاہتے ہیں اور پی ٹی وی بن جائے ۔ خان صاحب باہر جائیں اور دیکھیں عوام بلبلا رہے ہیں ۔ عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں ۔ عوام مر رہے ہیں ۔ عوام کو نہ علاج میسر ہے نہ دوائی ۔ عوام کے گھروں پر بھوک وافلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔۔ ریلیف کیا دینا کپتان نے عوام پر یہ کہہ کر بجلی گرا دی ہے کہ گیس کا بحران آنے والا ہے اور پیڑول تو مزید مہنگا کیا جائے گا ۔ پر ان کے وزیر ، مشیر اور سوشل میڈیا ٹیمیں کپتان کی تقریر کو یوں سرخی پاوڈر لگا کرپیش کررہی ہیں جیسے عمران خان سے بڑا مسیحا اس قوم کو کوئی شاید ملا ہی نہیں ۔ حالانکہ میں نے کل کے وی لاگ بھی کہا تھا اور آج بھی کہوں کہ عمران خان اس قوم کے لیےموت کا فرشتہ بن چکے ہیں ۔

    ۔ آج حکومت اتنا شور مچا رہی ہے کہ انٹرنیشل مارکیٹ میں پیڑول کی قیمت 84فی بیرل تک پہنچ گئی ہم کیا کریں تو جناب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں یہ ہی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے اوپر تک گئی تھی ۔ لیکن پیڑول اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ اب آپ کہیں گے تب ڈالر سستا تھا تو یہ بھی بتا دیں کس نے روپے کی قدر گرائی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کی مثالیں دیتی ان کو شرم نہیں آتی کہ وہاں پر فی کس آمدنی کیا ہے یہاں کیا ہے ۔ وہاں سوشل سیکورٹی کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ۔ وہاں کا ہیلتھ کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ہے ۔ اوپر سے آپ یہ کہہ کر دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے عوام برداشت کرے اور حکومت کی مجبوریوں کو سمجھے ۔ نمک پاشی کرتے ہیں ۔ ان لیکچروں سے عوام کا کچھ نہیں بننا وہ رزلٹ مانگتے ہیں ۔ عوام کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں ۔ آنکھیں کھولیں ۔ اب تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے ۔ کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔ دنیا کے کسی وزیراعظم کی تقریر دکھا دیں ۔ جس نے اتنی ڈھٹائی کے ساتھ ٹی وی پر آکر مہنگائی کا دفاع اور مزید مہنگائی کا اعلان کیا ہو ۔ تین سال بعد بھی ان کو مزید ٹائم چاہیئے ۔ بس دکھ سہنے کے لیے عوام تیار رہیں اور ان کے وزیروں اور مشیروں کی گالم گلوچ بھی سنیں ۔ پھر بھی ان کو اچھا کہیں ۔ نصیب اس عوام کی پھوٹے ہیں ۔ جو ایسی حکومت ملی ہے ۔ پناہ گاہوں ، لنگر خانوں اور احساس پروگرام اچھی بات ہے میں اس پر تنقید نہیں کروں گا ۔ پر کیا حکومتوں کا یہ کام ہوتا ہے۔ حکومتیں تو روزگار کے مواقع مہیا کرتی ہیں ۔ ایسے اقدامات کرتی ہیں کہ لوگوں کی قوت خرید بڑھے ۔ ان کی ماہانہ آمدنی بڑھے ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ دو بڑے خاندانوں سے درخواست ہے کہ تیس سال کا چوری کیا پیسہ واپس کریں اشیاء کی قیمتیں آدھی کر دوں گا ۔ بڑی اچھی بات ہے ۔ ہونا چاہیئے ۔ پر سوال یہ ہے کہ کپتان نے اپنے اردگرد مافیاز کا کیا ۔۔۔ کیا ۔۔۔ کون کون سا مافیا گنواوں ۔ دوائی مافیا ، آٹا مافیا ، بجلی مافیا ، چینی مافیا ۔۔۔ آج کی سن لیں چینی 130روپے کلو کراس کر چکی ہے ۔

    عمران خان کی پارٹی کے جن لوگوں کے نام پینڈورا پیپرز میں آئے ان کے خلاف انھوں نے کیا کاروائی کی ۔ دوسروں کا بھی احتساب کریں مگر اپنے اردگرد بھی نظر دوڑائیں ۔۔ پھر لوٹی دولت تو کپتان نے پیٹ کاٹ کر نکالنی تھی ۔ پر برادشیٹ ہو ۔ شہباز شریف کو باہر سے صادق وامین ہونے کے سرٹیفیکٹ ملنا ہو ۔ اس حکومت کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ۔ اچھا ہوتا یہ بات کرنے سے پہلے یہ بتاتے کہ کتنی لوٹی رقم یہ باہر سے پاکستان واپس لائے ہیں ۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ ہم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ویلفیئر پروگرام عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ اس کام کے لیے سب سے زیادہ مبارکباد احساس پروگرام کی ٹیم کو دینا چاہتا ہوں جنہوں نے تین سال میں ڈیٹا اکٹھا کیا ۔۔ یہ خوش فمہی بجی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں خود ہی اپنی اور اپنی ٹیم کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ابھی عمران خان نے صرف 120 ارب روپے کا پیکج دیا۔ باقی سب وعدہ کیا ہے کہ دیں گے اور دو دن سے اس کا اتنا شور مچایا جا رہا تھا کہ پتہ حکومت کون سا تیر مارنے والی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ یہ تین کروڑ خاندانوں کے لیے ہے ۔ ۔ دوسری جانب اس حکومت کے وزیر ، مشیر، ایم این ایز ، ایم پی اپیز ۔۔۔ وفاق ، پنجاب اور کے پی کے تینوں کے ملالیں تو سالانہ ان کے خرچے 120ارب سے زائد ہی ہوں گے ۔ یہ 120ارب کا پیکج دے کر عمران خان نے وہ کام کیا ہے جس کو
    حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا کہتے ہیں ۔ دراصل عمران خان مہنگائی ریلیف پیکج عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور شرمناک کوشش ہے ۔ حقیقت میں پی ٹی آئی نے اقتدار میں آکر مہنگائی کی سونامی لانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ آپ دیکھیں وزیر اعظم عمران خان نے تاریخ کے سب سے بڑے پیکج میں صنعتکاروں سے اپیل کردی کہ اپنے منافع میں مزدوروں کو حصہ بنائیں ۔ یعنی حکومت نے سیدھا سا جواب دے دیا ہے کہ عوام حکومت سے نہیں سیٹھوں سے ریلیف مانگے ۔

    ۔ عمران خان فرما رہے تھے کہ جب ہمیں پاکستان ملا تب پاکستان کا خسارہ سب سے زیادہ تھا، قرضے بھی سب سے زیادہ تھے اور سود بھی ان قرضوں پر سب سے زیادہ دینا پڑا۔ تو جناب جب مشرف نے ملک سنبھالا تھا تو تب بھی حالات ٹھیک نہیں تھے ۔ پر انھوں نے کرکے دیکھایا ۔ اور یہ اتنا ہی بڑا ایشو تھا تو پہلے اپنی تقریروں میں قوم کو بتانا تھا کہ کس حالت میں پاکستان ملے گا تو یہ قوم کی تقدیر بدل سکیں گے ۔ سب کچھ پچھلی حکومتوں پر ڈالنا بڑا آسان ہے ۔ عمران خان کو ان تین سالوں کا حساب دینا چاہیئے کہ انھوں نے ان تین سالوں میں کیا ۔۔۔ کیا ہے ۔ مجھے تو نہیں دیکھائی دیتا کہ ایک دن بھی ان تین سالوں میں عوام نے سکھ کا سانس لیا ہو۔ پھر آج یہ بھی کہا کہ دوست ملک کی سپورٹ پر ان کے شکر گزار ہیں کیونکہ ان کی مدد سے روپیہ کو سنبھالنے میں مدد ملا۔ سعودی عرب، یو اے ای اور چین نے مشکل وقت میں مدد کی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ نواز شریف اور زردای دور کے ان بیانات اُٹھا کر دیکھ لیں اس وقت یہ کیا کہا کرتے تھے ۔ کہ مر جاوں گا قرضہ نہیں لوں گا کشکول نہیں اٹھاوں گا ۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا اب تو آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننے کو یہ حکومت تیار ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جیسے یہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے لیٹی ہوئی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔

    ۔ حقیقت میں چیزیں ان سے مینج نہیں ہورہی ہیں ۔ نہ ان کو گورننس کا پتہ ہے ۔ نہ معیشت کا ۔ نہ سیکورٹی کا ۔ بس جو زور چلتا ہے وہ میڈیا پر ۔۔۔ کہ اس کو تن کر رکھو ۔ یہ سچ نہ دیکھا پائے ۔ یہ سچ نہ بتا پائے ۔ ان کو لگتا ہے کہ میڈیا پر سب اچھا اچھا دیکھا کر عوامی غم وغصہ کو دبا لیں گے ۔ بھول ہے انکی ۔۔۔ پھر بلاول بھٹو نے عمران خان کے خطاب پر درعمل دیتے ہوئے چوٹ لگائی ہے کہ کراچی پیکج، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی طرح عمران خان نے آج بھی جو اعلانات کیے وہ عوام کے لیے لالی پاپ ہے ۔ میرے خیال سے وقت گزر چکا ہے ۔ اب لارے لپے نہیں چلنے۔ حکومت اب مزید کرونا ، عالمی کساد بازاری کے پیچھے نہیں چھپ سکتی ۔ مہنگائی سے پسے ہوئے عوام بھپرے ہوئے ہیں ۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپنے وزراء کو کہیں کہ حلقوں میں جا کر عوام کا سامنا کریں ۔ پر کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ کرسی ایک نشہ ہے جس کے پیچھے انسان ذلیل ہونا بھی برداشت کر لیتا ہے مگر کرسی نہیں چھوڑ سکتا ۔

  • صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے جتنے مرضی اجلاس ہو جائیں ، عمران خان جتنے مرضی دعوے کر لیں ۔ وزیر خزانہ جتنی مرضی خوشخبریاں سنا دیں ۔ جتنی مرضی بیرونی امداد مل جائے ۔ خطے میں ہم جتنے مرضی اہم پلیئر بن جائیں ۔ مگر عوامی مشکلات تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ معذرت کے ساتھ سخت الفاظ کا چناؤ کر رہا ہوں پر پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے لیے موت کا فرشتہ ثابت ہورہی ہے ۔ اس وقت نہ کسی کو کوئی آسرا ہو رہا ہے نہ ہی کسی کو کوئی سکون مل رہا ہے ۔ ڈینگی سے چلڈرن ہسپتال میں آج آٹھ ماہ کا بچہ موسی جان کی بازی ہار گیا ہے ۔ ڈینگی شتر بے مہار پھیلاتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ مگر حکومت ، اندھوں ، گونگوں اور بہروں کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ پھر دن دیہاڑے نو بینکوں پر سائبر حملے ہوتے ہیں ، رقم نکوالنے اور ڈیٹا چوری ہونی کی خبریں سامنے آتی ہیں ۔ مگر اسٹیٹ بینک میں نہ مانوں کی رٹ شروع کر دیتا ہے ۔ مشیر خزانہ شوکت ترین جہاں عوام کو ایک بار پھر بجلی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہیں ۔ تو عمران خان دلاسے دیتے دیکھائی دیتے ہیں کہ جلد مہنگائی سے متعلق ایک ریلیف پیکج کا اعلان ہوگا ۔ فی الحال عوام کے لیے خرشخبری یہ ہے کہ چینی اور ایل پی جی کی قیمت پھر بڑھ گئی ہے ۔ پناہ گاہیں اور لنگر خانوں کے ڈرامے کا ایک بار پھر ڈراپ سین ہونے والا ہے ۔ موسم بدل چکا ہے ۔ پھر بھی سرد موسم میں پناہ گاہوں کی دیواروں کے ساتھ لوگ آپکو سوتے دیکھائی دیں گے ۔

    ۔ آج بھی اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ایسے مزدور طبقے کی کمی نہیں ہے جو پارکوں،فٹ پاتھوں،گرین بلیٹس اور پلوں کے نیچے زندگی گزار دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے کہ ایک کمرے کا کرایہ ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ یہ کوئی بھکاری نہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے بڑوں شہروں میں دیہاڑی لگانے آتے ہیں ۔ اصل مہنگائی کا شکار یہ لوگ ہوئے ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے گھر والوں سے دور رہ کر گزاراکرنے پر مجبور ہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ ملک کی معاشی صورت حال ایسی نہیں کہ معاملات پلک جھپکتے ہی ٹھیک ہوجائیں لیکن حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کریں اور عوام کو آسانیاں فراہم کریں۔ احساس پروگرام اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ مگر رزلٹ صفر بٹا صفر ہے ۔ ۔ پھر ایک اور اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ کہ ملک میں بلین ٹری سونامی برپا کیا جائے گا ۔ آج لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس دیکھیں تو حقیقت معلوم ہوجائے ۔ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوچکا ہے ۔ کبھی یہ پہلا نمبر دہلی کا ہوا کرتا تھا ۔ یہ درخت کہاں لگے ہیں آپ بھی ڈھونڈیں میں بھی ڈھونڈتا ہوں ۔ آپ دیکھیں عمران خان کو ایک کمزور اور بے اثر اپوزیشن سے واسطہ پڑا تھا جو کسی بھی طرح عمران خان حکومت کیلئے کوئی خطرہ یا چیلنج نہیں ہے۔ پھر بھی عوام کے وہ معاشی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ اس حکومت کا اندھیر نگری چوپٹ راج دکھیں کہ ترجمان اور وزیر یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ تمام معاشی اشاریئے مثبت ہیں۔ یہ عوام میں بغیر سیکورٹی کے جا کر دیکھائیں تو تمام اشاریے تتر بتر ہوجائیں ۔ ان وزیروں اور بڑے افسروں کے لئے مہنگائی صرف میڈیا میں ہے جس پر یہ ایک نظر ڈال کر یہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تمام شاہ خرچیاں تو عوام برداشت کرتی ہے ۔ ان کو اپنی جیب سے پیڑول ڈلوانہ پڑے یا خرچہ کرنا پڑے تو لگے پتہ ۔۔۔۔

    ۔ ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ مہنگائی میں ماہانہ اضافہ 9.19فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اب ہر ماہ نو سے دس فیصد مہنگائی ہو اور حکومت کو عوام کی چینخیں سنائی نہ دیں ۔ تو پھر اس حکومت کو اندھا ، گونگا اور بہرہ ہی کہا جائے گا ۔ ۔ اس حکومت میں ٹیکسوں کی اتنی بھرمار ہے کہ اب صرف ہوا ، دھوپ اور بارش پر ہی ٹیکس باقی رہ گیا ہے۔ ویسے حکومت کی معاشی ٹیم کے بس میں ہو تو وہ ان نعمتوں پر بھی ٹیکس لگا دے۔ ۔ برطانیہ کے معتبر جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق 42 ملکوں میں پاکستان چوتھا مہنگا ترین ملک ہے۔ اس وقت پاکستان میں بندہ مزدور و ملازم ہی نہیں، بندہ صنعتکار اور بندہ تاجر کے اوقات بھی بہت تلخ ہیں۔ ۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین کو حقیقی مسائل کا کوئی ادراک ہی نہیں۔ ہمارے موجودہ گورنر سٹیٹ بینک اور دیگر آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ وہ اس سے پہلے کئی ممالک کی معیشتوں کو بے حال کر چکے ہیں۔۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وزیراعظم عوام کے حال سے بالکل بے خبر ہیں۔ غربت کا حال تو اُس سے پوچھیں کہ جس کے دودھ پیتے بچے کے لیے دودھ میسر نہیں۔ صرف تین روز پہلے بچوں کے دودھ کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی بچے ہیں جنہیں کم خوراک ملنے کی کئی برس سے خان صاحب شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب اُن کے دور میں بچوں کو کم از کم خوراک بھی نہیں مل رہی۔۔ کہتے ہیں جنازے میں رو نہیں سکتے تو رونے والوں جیسا منہ ہی بنا لو۔ان سے تو اتنا بھی نہیں ہوا۔

    ۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اس سے نمٹ نہیں سکتے تو عوام سے یک جہتی کے لئے دکھاوے کے لئے ہی سہی لینڈ کروزر اور مرسڈیز سے چھوٹی گاڑی پر آجاؤ۔ سرکاری ادارے گواہی دے رہے ہیں کہ ملک میں اس قدر مہنگائی پہلے کبھی نہ تھی۔ معیشت کو سمجھنے والے کہہ رہے ہیں یہ کم ہے مہنگائی اور بڑھے گی حال یہ ہے کہ غربت افلاس سے پریشان لوگ اپنے بچوں کو زہر دے کرخودکشیاں کر رہے ہیں اور کپتان تو کیا ان کی بی، سی، ڈی ٹیم کے بارھویں ،تیرھویں اور چودھویں کھلاڑی دو دو کروڑ کی سرکار ی گاڑیوں میں فراٹے بھر رہے ہیں ۔ کپتان کم ازکم عوام کے ساتھ رو نہیں سکتا لیکن ان کا دکھ سمجھ کر رونے والوں جیسی صورت ہی بنا لے ۔۔ اس حکومت نے اتنا مایوس کر دیا ہے کہ اب تو میری خواہش کہ کوئی اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرے کہ اقتدار پاتے ہی حکمران اپنے وعدے یکسر بھول کیوں جاتا ہے۔ اس کی نفسیات بالکل بدل کیوں جاتی ہے۔ پھر حکومت خود اپنے ہاتھوں سے نیب آرڈینس میں تیسری ترمیم کے ذریعے خود کو اور اپنی حکومت کو این آر او دے دیتی ہے ۔ ایسے احتساب کا گلہ پی ٹی آئی نے خود گھونٹ دیا ہے ۔ ساتھ ہی ایک اور آرڈینس سے پارلیمنٹ کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے ۔ اس آرڈینس کے چیدہ چیدہ مندراجات یہ ہیں کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں نیب کے چیئرمین کو سپریم کورٹ کے جج کی طرز پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کو دے دیا گیا ہے۔ یوں صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹا سکیں گے۔۔ نئی ترامیم کے تحت مضاربہ کیسز بھی واپس نیب کے حوالے کردیے گئے اور ان کیسز کو 6اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کردیا گیا۔ ۔ حالیہ ترامیم کے تحت منی لانڈرنگ ریفرنسز اور مضاربہ اسکینڈل کیسز بحال ہوگئے جس سے آصف زرداری، شاہد خاقان، مریم نواز، شہباز شریف کو کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا اور پہلے سے قائم تمام منی لانڈرنگ کیسز پہلے کی طرح چلتے رہیں گے۔۔ اب اس ترمیم کے بعد یہ تو واضح ہے کہ اپوزیشن کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ مگر جو درجنوں وزیروں اور پی ٹی آئی اراکین کے نام پینڈوار پیپرز میں آئے تھے ۔ ان سب کی موجیں ہیں ۔ کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے ۔ ۔ یوں صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ بھی اب دفن ہی سمجھیں ۔

    ۔ اپنی پیدائش سے اب تک ایک ہی ڈبہ فلم دیکھتا آرہا ہوں ۔ پہلے بھی اسے فلاپ فلم کہتا تھا اور اب بھی اسی پر قائم ہوں ۔ اس ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے انوکھانہیں ہے۔ ۔ یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے اقتدار کی کشتی اپنے ہی بوجھ سے ڈوبتی جارہی ہے اور یہ ہائبرڈ نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جس کا آغازبلوچستان میں جام کمال کی حکومت کی ”باعزت رخصتی“
    سے شروع ہو چکا ہے۔ جہاں تک وفاق اور پنجاب کامعاملہ ہے تو بات صرف اس ایک نکتے پر رکی ہوئی ہے کہ اپوزیشن عبوری تبدیلی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے تو بات absolutely not
    سے why not تک پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں حالات کااونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

  • خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی مصیبتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سب سےبڑی وجہ مودی ہے ۔ بی جے پی کے کرتوں ہیں ۔ ان کے اقلیتوں کے خلاف اقدامات ہیں ۔ سکھوں اور خالصتان پر میں نے بہت سے وی لاگز کیے ہیں مگر آج وہ دن آ گیا ہے کہ اب سکھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مزید بھارت کے ساتھ نہیں رہا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں سکھوں کے علیحدہ وطن خالصتان کے قیام کیلئے لندن میں ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی۔ مزے کی بات ہے کہ یہ ووٹنگ سرکاری عمارت کوئن ایلزبتھ دوئم میں ہوئی ۔ سرکاری عمارت کوئین ایلزبیتھ 2پر خالصتان کے جھنڈے بھی لگائے گئے ۔ اب لندن کے بعد برطانیہ کے دیگرشہروں میں بھی ووٹنگ ہوگی ۔

    سکھ رہنماؤں کا کہنا ہےکہ بھارتی دباؤ کے باوجود برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کی اجازت دی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ سکھ رہنما پرم جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی نگرانی غیر جانبدار کمیشن کر رہا ہے جبکہ سکھ رہنما پتوت سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے ریفرنڈم سے روکنے کیلئے مجھ پر جعلی مقدمات بنوائے۔ پھر سردار اوتار سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پنجاب پر قبضہ کر رکھا ہے اب سکھ اب اپنا آزاد وطن خالصتان بنا کر دم لیں گے۔۔ 50 ہزار سے زائد سکھوں نے اس ریفرنڈم میں حصہ لیا ہے ۔ یاد رکھیں یہ صرف لندن میں ہوئے ہیں ۔ برطانیہ کے باقی شہروں میں ابھی یہ ہونے ہیں ۔ تو ایک شہر کے حوالے سے اچھی خاصی تعداد ہے ۔ جس کے بعد اجیت ڈول اور مودی دونوں کے لیے یقیناً ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ آپ دیکھیں سکھوں کی آزادی کے سلسلے میں کینیڈا کی حکومت نرم رویہ رکھتی ہے۔ کینیڈا میں حالیہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں جہاں justin treudu کو کامیابی نصیب ہوئی وہاں اس دفعہ سکھوں کی کافی تعداد کینیڈا کی قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی ہے۔ justin treudu کو اپنی حکومت بنانے کے لیے سکھوں سے مدد بھی لینا پڑی۔۔ ویسے justin treudu تو پہلے ہی سکھوں کے حق میں ہیں جس سے بھارتی حکومت ان سے سخت ناراض ہے مگر وہ بھارت کی پرواہ نہیں کرتے۔

    ۔ بھارت کے بعد برطانیہ ، کینڈا اور امریکہ میں سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے اور یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جب آپریشن بلیو سٹار ہوا تھا تو یہ سکھ بھارت کو خیر آباد کہہ کر ان ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے ۔ پر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنی خالصتان تحریک کو مضبوط بھی کرتے آئے ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام بھی کرتے رہے ہیں ۔ چند روز پہلے خالصتان تحریک نے اپنا نقشہ بھی جاری کیا تھا ۔ اس کی بھی بھارت کو کافی مرچیں لگی تھیں ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں ۔۔ را ۔۔۔ کی سب سے بڑی موجودگی کینیڈا میں ہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بھارت کی سکھوں والی سٹیٹس نہ صرف پورے بھارت کے لئے غلہ پیدا کرتی ہیں بلکہ بھارتی فوج کیلئے سپاہیوں کی بھرتی کا سب سے بڑا مرکز بھی یہی اسٹیٹس ہیں۔۔ ان سٹیٹس کے ستر فیصد سے زائد نوجوان فوج کو جوائن کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس وقت سکھ انڈین آرمی کا پندرہ فیصد ہیں جبکہ مودی کا گجرات انڈین آرمی کو صرف دو فیصد جوان ہی دے پاتا ہے۔ یوں بھارت کی معیشت اور دفاع دونوں میں سکھ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ۔۔۔ را ۔۔۔ کو خالصتان کے حوالے سے بہت زیادہ سرگرم رہنا پڑتا ہے۔ پھر سینتیس برس پہلے آج کے دن بھارت بھر میں سکھوں کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی ہوئی تھی ۔ 31 اکتوبر 1984 کو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ اس قتل کے فوراً بعد دہلی میں سکھ قوم کے خلاف جنونی ہندوؤں نے ایک قیامت برپا کر دی اور صرف تین دن کے اندر چھ ہزار سے زیادہ سکھ خواتین اور بچوں کو زندہ جلا دیا۔ اس وقت کے مرکزی وزراء جگدیش ، ایچ کے ایل بھگت اور سجن کمار سمیت بہت سے حکومتی رہنماؤں نے بذاتِ خود سکھوں کی نسل کشی کے عمل میں حصہ لیا اور پورے بھارت میں سکھوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ ہو گئیں کہ ’’خشونت سنگھ‘‘ اور جنرل ’’جگجیت سنگھ اروڑا‘‘ کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کیلئے غیر ملکی سفارت خانے میں پناہ لینی پڑی مگر بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ان ہزاروں سکھ خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کو جائز ٹھہراتے یہاں تک کہا کہ جب کسی بڑے درخت کو کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ تو ارتعاش پیدا ہوتا ہی ہے اور درخت کی زد میں آنے والی گھاس پھوس ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں نے اس بھارتی بربریت کو فراموش نہیں کیا اور امریکہ میں قائم سکھ حقوق کی تنظیم ’’Sikhs For Justice‘‘ نے 31 اکتوبر 2013 کو مسز گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر دس لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مبنی رٹ پٹیشن اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHRC میں داخل کرائی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کو عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی ڈکلیئر کیا جائے۔

    ۔ دیکھا جائے تو سکھ کسانوں کے خلاف جو مودی نے محاذ گرم کیا ہوا ہے وہ بھی اس بات کی کڑی ہے کہ مودی چاہتا ہے کہ کسی طرح سکھوں کو کمزور کیا جائے ۔ تاکہ یہ خالصتان کا نام نہ لیں سکیں ۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے یہ تو ہو کر رہنا ہے ۔ کیونکہ جو ظلم اندرا گاندھی اور اسکے بعد آنے والوں نے سکھوں پر روا رکھا ہے ۔ اس کا کفراہ تو ادا کرنا ہی پڑے گا ۔۔ پھر جو پاکستان نے کرکٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کو پچھاڑا ہے اس کے بعد بھارت میں اس ہار کا بدلہ کشمیریوں اور باقی مسلمانوں سے تو لیا جا رہا ہے۔ ۔ پر بھارت کے لیے اصل درد سر سکھ بھی بنے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کی اس فتح پر اس دفعہ بھارتی سکھوں نے بھی شاندار جشن منایا ہے۔ سکھ اب کھلے عام پاکستان کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ دراصل بھارتی حکومت کی سکھ کش پالیسیوں سے بیزار ہیں۔ سکھ کسان اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ایک سال سے مسلسل دلی کے اردگرد مظاہرے کر رہے ہیں مگر مودی حکومت ان کے مطالبات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ مظاہرہ کرنے والے کئی سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔۔ بی جے پی کے ایک رہنما کے بیٹے نے جان بوجھ کر کئی مظاہرین کو اپنی گاڑی سے کچل دیا تھا اس واقعے کو اب ایک ماہ ہو رہا ہے مگر اب تک قاتل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ سکھ دراصل آزادی کے بعد سے ہی بھارت کے خلاف چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ ان کے ساتھ نا انصافی اور حق تلفی کا ہونا ہے۔ آزادی سے قبل گاندھی اور نہرو نے واضح طور پر ان کے لیے خالصتان کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ملک قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر بعد میں وہ اس سے مکرگئے اور اب خالصتان کا نام لینا بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم سکھ اپنے آزاد وطن کے لیے ماضی میں بھی کوشش کرتے رہے ہیں اور آج بھی وہ اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔

    ۔ آزاد خالصتان کا نعرہ بلند کرنے پر ہی بھنڈرا والا اور اس کے ساتھیوں کو امرت سر کے گولڈن ٹیمپل میں ٹینکوں سے حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اور گولڈن ٹیمپل کے تقدس کو نقصان پہنچایا تھا۔ سکھ اس قتل عام کو نہیں بھولے ہیں۔ اب سکھوں نے بھارتی پنجاب ، ہماچل پردیش اور ہریانہ پر مشتمل اپنے آزاد وطن خالصتان کو قائم کرنے کے لیے پھر سے جدوجہد شروع کردی ہے۔ خالصتان کی تحریک اڑتیس سال سے جاری ہے۔ اور اب اس نے وہ رفتار پکڑ لی ہے جس کے بعد کامیابی ان کا مقدر ٹھہرے گی ۔ میں ایک بات جانتا ہوں کہ اگر خالصتان واقعی وجود میں آگیا تو کشمیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ اس لیے پاکستان کو بطور ریاست سکھوں کی اخلاقی ، قانونی اور ہر طرح کی مدد کرنی چاہیئے ۔ اور اس سلسلے میں کسی بھی پریشر کا سامنا نہیں کرنا چاہیئے یہ وہ وقت جب پاکستان کو کشمیر کی طرح خالصتان پر بھی واضح موقف لینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ سکھ ہمارے بھائی ہیں ۔ ہماری زبان بولتے ہیں ۔ ان کا کلچر اور ہمارا کلچر سب سے زیادہ قریب ہے ۔ یہاں تک ہمارے دریا اور ندیاں بھی ایک ہیں ۔

  • لبیک کے ساتھ پھر وعدہ خلافی، تحریر: نوید شیخ

    لبیک کے ساتھ پھر وعدہ خلافی، تحریر: نوید شیخ

    تحریک لبیک نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت حالیہ بات چیت کے دوران طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔ ٹی ایل پی کا مارچ لاہور سے نکلنے کے بعد مرید کے میں رکا ہوا ہے اور پارٹی قائدین کا الزام ہے کہ انہوں نے جی ٹی روڈ کھول دی ہے لیکن حکومت نے اچانک جی ٹی روڑ کے دونوں اطراف کنٹینرز لگا کر دوبارہ جی ٹی روڑ بلاک کر دی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت معاہدے پر عمل نہ کرنے کی نیت رکھتی ہے۔ اب مرید کے اردگرد بھی حکومت ایسے اقدامات کررہی ہے جیسے لاہور میں کیے گئے تھے۔ بڑی تعداد میں کنٹینرز لگائے جارہے ہیں راستے بند کیے جا رہے ہیں ۔ خندقین تاحال کھودی جا رہی ہیں۔ ایک طرف مذاکرات چل رہے تھے تو دوسری جانب دریائے چناب کے پل کے اوپر بھاری مقدار میں ریت ڈالی جا رہی تھی ۔ اب مرید کے سے ٹی ایل پی کے رہنما حکومت کو متنبہ کررہے ہیں کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو پورے ملک میں مارچ ہو سکتے ہیں۔ ٹی پی ایل کے رہنما مفتی رضوی اور دیگر نے مرید کے میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی وعدہ خلافی کا سوچنے سے پہلے حکومت ہزار بار سوچ لے۔ اب اگر وعدہ خلافی ہوئی تو حالات کا ذمہ دار معاہدے کا اعلان کرنے والے عمران خان خود ہوں گے۔

    پھر رُکنِ شوریٰ تحریک لبیک پاکستان غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ پیچھے ہٹنے کا تصّور بھی نہیں ہے جب تک سارے معاملات اور مطالبات حل نہیں ہوتے اور سعد رضوی دھرنے میں آ کر دُعا کر کے ہمیں جانے کی اجازت نہیں دیتے ہم میدان میں رہیں گے۔ پھر پنجاب کے مختلف علاقوں سے نئے سرے سے ٹی ایل پی کے ورکرز کو گرفتار کرنے کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ نئے سرے سے مقدمات درج ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ نئے سرے سے انکو گھیرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اور اس وقت بس حکومت مزید تیاری کے لیے ٹائم حاصل کر رہی ہے ۔ ٹی ایل پی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ہماری اطلاعات تو یہ ہیں کہ حکومت نے ہمارے مزید کارکن گرفتار کر لیے ہیں لیکن ہم اپنے قائدین کے حکم کا انتظار کررہے ہیں اور ہم ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہیں۔ لبیک والوں کے لیڈران، پانچ ہزار ورکرز کے خلاف دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، اغوا، پولیس اور شہریوں کی گاڑیاں اسلحہ جلانے، چھیننے اور ڈکیتی کی چالیس ایف آئی آرز درج ہونے کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ آئی جی پنجاب نے صوبے کے سب سے قابل، فائٹر چھ پولیس افسران راولپنڈی بھیجنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ۔ یعنی پنڈی اسلام آباد میں معارکہ کی پوری تیاری ہورہی ہے۔

    دوسری جانب ٹی ایل پی دھرنے کے پیش نظر پاکستان ریلویز نے لاہور اور اسلام آباد میں مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کے دھرنے کے شرکا کو روکنے کے لیے صرف فیملیز کو ٹکٹس جاری کرنے کی ہدایت دے دی ہے ۔ ریلوے کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کسی بھی فردِ واحد کو سفر کا ٹکٹ جاری نہیں ہوسکے گا۔۔ پھر ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم اپنے وعدے پورے کرے تو حکومت بھی پورے کرے گی انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی جماعت سے تصادم نہ ہو اور یقین ہے کہ مذاکرات سے معاملہ طے پا جائے گا۔۔ تو داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے مطالبات پر عمل کرنے سے متعلق قانونی مسائل ہیں۔ تاہم بدھ کو یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان ملک واپس آ جائیں گے اور پھر وہ ان سے ملاقات کر کے انھیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ یعنی بال عمران خان کی کورٹ میں ہے۔ ۔ ویسے آج وزیر اعظم عمران خان اپنا تین روزہ سعودی عرب کا دورہ مکمل کرکے واپس آگئے ہیں ۔ اچھا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کی شوریٰ بے خبر ہے اس نے اعلان کیا ہے اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ آج رات تک اگر ہماری جانب سے کوئی پیغام نہ آئے۔ یا مکمل طور پر انٹرنیٹ بند ہو تو سمجھ لیںا کہ حکومت نے حالات خراب کر دیے ہیں اور آپریشن شروع ہوچکا ہے ۔ تو جب بھی ایسی حرکت ہو تو سب مرید کے کی طرف چل پڑیں ۔ ۔ اس وقت ملک بھر سے علماء اہلسنت جو ہیں وہ بھی تحریک لبیک کی حمایت میں سامنے آرہے ہیں اور ان کی جانب سے اپنے مریدین اور کارکنوں کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ وہ تحریک لبیک کے اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے مرید کے پہنچیں ۔ ۔ اسی حوالے سے سندھ سے تعلق رکھنے والے علماء اہلسنت جو تقریباً سو سے زائد ہیں وہ اعلان کرچکے ہیں ۔ مفتی منیب الرحمٰن ،پیر پگارااورسندھ بھر کے سیکڑوں علماء و مشایخ نے یہ بھی کہا ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ سابقہ تحریری معاہدوں سے پھر جانے والے نورالحق قادری اور شیخ رشید کو برطرف کیا جائے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ وفاقی حکومت اورپنجاب پولیس نے تحریک لبیک پاکستان پر جو مظالم ڈھائے ہیں۔ وہ ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی چوٹ دلوں اور روحوں پر تادیر محسوس کی جاتی رہے گی۔ ۔ انکا کہنا یہ ہے کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پاکستان میں اہلسنّت کے سب سے بڑے ادارے جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے ستر سالہ شیخ الحدیث علامہ حافظ محمد عبدالستار سعیدی پر بھی دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے جرم یہ ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی ان کے شاگرد ہیں اور تین سو کے قریب علماء ان کے درسِ حدیث کی کلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ ۔ یہ سب جھوٹے ثابت ہوئے ہیں ، اِن سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ۔ تو ٹی ایل پی کی شوریٰ نے ایک بار پھر یہ واضح کردیا ہے کہ جب تک ہمارے امیر علامہ سعد حسین رضوی نہیں آجاتے معاہدہ مکمل طریقے سے پورا نہیں ہوتا، تب تک ہم یہیں پر موجود ہیں۔۔ حکومت اپنا معاہدہ پورا کرے منگل رات تک کا ٹائم ہے نہیں تو بدھ کی صبح یہ مارچ اسلام آباد کی طرف نکل جائے گا۔

  • 23 سالہ نوجوان اریان خان  کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    جیسا کہ میں نے اپنی بتایا تھا کہ صرف شاہ رخ خان ہی نہیں بالی وڈ کے باقی تینوں خانز کے خلاف بھی اب کاروائیاں ہوگی تو آج اس سلسلے میں باقاعدہ پہلی اسٹوری منظر عام پر آگئی ہے ۔۔ پھر اس وقت شاہ خان کے گھر پر ایک سوگ کا سماں ہے ۔ دایولی سمیت تمام اس طرح کا ایونٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں ۔ ساتھ ہی کل شاہ رخ اپنے بیٹے اریان خان سے کیا بات چیت ہوئی اسکی بھی مکمل تفصیل سامنے آچکی ہے ۔ پھر شاہ رخ خان کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے والی کاجول کی منافقت بھی پکڑی گئی ہے ۔ سب سے پہلے اگر بات کی جائے کہ بالی وڈ سے خانز کا کیسے قلع قمع کیا جائے تو اس سلسلے میں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما نے بالی وڈ کے سپرسٹار عامر خان کے ایک اشتہار پر سخت اعتراض کردیا ہے۔ اور ان کے خلاف باقاعدہ ایک کمپین لانچ کردی گئی ہے ۔ ۔ دراصل یہ ایک اشتہار ہے جس میں عامر خان ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر لوگوں سے پٹاخے نہ پھوڑنے کی گزارش کر رہے ہیں ۔ اس اشتہار کو ٹائر بنانے والی ایک بھارتی کمپنی (Ceat) نے جاری کیا ہے۔ بھارت میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑا مسئلہ اور دیوالی کے موقع پر پٹاخے پھوڑنے سے خاص طور پر شہروں میں فضائی آلودگی میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے۔ کمپنی نے آلودگی کی روک تھام کے لیے اپنے اشتہار میں عامر خان کو استعمال کیا ہے۔۔ عامر خان اس اشتہار میں لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ گلی کوچوں اور راستوں میں پٹاخے داغنے سے گریز کریں ۔ ۔ اس پر بی جے پی نے الزام لگا دیا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہندوؤں کے خلاف اقدام کیا گیاہے ۔ اور جان بوجھ کر ہندوؤں میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔ اب عامر خان اور اس ٹائر بنانے والی کمپنی کے خلاف بھارت میں ایک طوفان برپا ہے ۔ عامر خان کوتو ہندو دشمن ، بھارت دشمن ، غدار پتہ نہیں کیا کیا کہا جا رہا ہے ۔ گودی میڈیا اور ٹویٹر پر ہندوتوا برئیگیڈ بھی اس سلسلے میں پیش پیش ہے ۔ ۔ بی جے پی نے تو کمپنی کے مالک کو خط بھی ٹھوک دیا ہے اور خوب دھمکیاں بھی لگائی ہیں ۔ ۔ خط میں لکھا ہے کہ ہندو مخالف اداکاروں کا ایک گروپ ہمیشہ ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور وہ کبھی اپنی برادری کے غلط کاموں کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ پھر بی جے پی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز یا بعض دیگر مسلم تہواروں کے موقع پر نماز کے نام پر مسلمان سڑکوں کو بلاک کرنا بند کر دیں۔۔ ہر روز مساجد کے میناروں پر رکھے۔ لاؤڈ اسپیکر سے اس وقت بہت زور زور کی آواز نکلتی ہے جب اذان دی جاتی ہے اور یہ آواز جائز حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

    جمعے کے دن تو یہ اور بھی طویل ہوتی ہے۔ اس سے آرام کے متمنّی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد، مختلف اداروں میں کام کرنے والے لوگ اور کلاس میں پڑھانے والے اساتذہ کو بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے۔ درحقیقت، متاثرین کی یہ فہرست بہت طویل ہے اور یہاں صرف چند کا ذکر کیا گیا ہے۔۔ یوں اشتہار کی آڑ میں بی جے پی نے اپنے سیاست چمکانے شروع کر دی ہے اور اس اشتہار کو ہندو مسلم فساد میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے ۔۔ یہ عامر خان کے ساتھ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ایسے اکثر واقعات ہوچکے ہیں ۔ یوں اگر یاد ہو تو اسی سال جب عامر خان نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور ترکی کی خاتون اول سے ملاقات کی تھی تو اس وقت بھی بھارتی میڈیا نے ان کی تصاویر کو بنیاد کر انو غدار کہنا شروع کر دیا تھا ۔ جبکہ بی جے پی کے لیڈروں نے عامر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ کیونکہ طیب ارداگان نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کا اس کا اصل چہرہ دیکھا یا تھا ۔ ۔ چند روز قبل ہی کی بات ہے ایک اور بی جے پی رہنما نے دیوالی سے متعلق کپڑا بنانے والی ایک کمپنی ۔۔۔ فیب انڈیا ۔۔۔ کے اس اشتہار پر اعتراض کیا تھا جس میں دیوالی کے جشن کے موقع پر نئے کلیکشن کے لیے اردو الفاظ استعمال کیا گيا تھا۔ ۔ حالانکہ کمپنی نے اس بات کی وضاحت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ کمپنی کا اشتہار محبت اور روشنی کے تہوار کے استقبال کے لیے ہے اور اس کا نیا کلیکشن بھارتی ثقافت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ہندو گروپوں نے کمپنی کے بائیکاٹ کی مہم چلا دی جس کے بعد کمپنی نے اشتہار ہٹا دیا۔۔ بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اکثر یہ کہتی ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور یہ ان کی تہذیب و ثقافت کی عکاس ہے لہذا اسے ہندوؤں کی رسومات اور ان کی تہذیب کو بیان کرنے کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔ تاہم ایک طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ لفظ ہندو خود اصل میں عربی اور فارسی سے ماخوذ ہے اور اردو لفظ ہے تو کیا ہندو اس لفظ کو ترک کر سکتے ہیں؟

    ۔ اریان خان کیس کی بات کی جائے تو بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ خان اور ان کی فیملی نے آریان کے جیل میں ہونے کے باعث اس برس دیوالی اور سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان کے گھر میں نہ تو کوئی تقریب ہوگی نہ ہی پارٹی ۔ یعنی شاہ رخ خان کا گھر اب مکمل سوگ میں ڈوب چکا ہے ۔ آریان کی رہائی میں تاخیر ’منت‘ کے رہائشیوں کیلئے اب ایک عذاب کی صورت اختیار کرگئی ہے۔۔ دوسری جانب گزشتہ روز جب پہلی بار بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے منشیات کیس میں گرفتار بیٹے آریان خان سے ملاقات کی۔ تو جیل میں ہونے والی اس 18 منٹ کی ملاقات میں بات چیت کا آغاز آریان نے معافی مانگ کر کیا جس پر شاہ رخ نے جواب دیا کہ مجھے تم پر بھروسہ ہے۔ جیل کے محافظوں کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کھانا صحیح سے کھا رہے ہیں کہ نہیں؟ اس پر آریان نے جواب دیا کہ انہیں جیل کا کھانا پسند نہیں آ رہا۔ اس پر شاہ رخ خان نے جیل حکام سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بیٹے کے لیے گھر کا کھانا بھجوا سکتے ہیں۔ جواب میں افسران نے کہا کہ انہیں اس کے لیے عدالت سے اجازت لینی پڑے گی اور اگر کورٹ اجازت دیتی ہے تو انہیں گھر کا کھانا مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے کے لیے کچھ مزید باتیں کیں۔ ۔ پھر شاہ رخ کی جیل کے باہر گاڑی تک جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔ ویڈیو میں انہیں مداحوں کے سامنے عاجزی سے ملتے۔ بار بار ہاتھ جوڑ تے اور ہاتھ ملاتے بھی دیکھا گیا۔ پر اس دوران شاہ رخ خان نے جیل کے باہر موجود میڈیا نمائندوں کے سوالات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔ میری نظر میں یہ بہت اچھا کیا ہے شاہ رخ خان نے کہ میڈیا کو زیادہ گھاس نہیں ڈالی کیوںکہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ ہی کچھ اور کرنا تھا اور جو ان کو ایجنڈا مودی کی جانب سے ملاہوا ہے انھوں نے اس کو ہی پروان چڑھانا تھا اور پھر ارناب گوسوامی جیسوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر خوب چینخنا اور چلانا تھا ۔ تو یہ تو بہت اچھا کیا ہے انھوں نے کہ بھارتی میڈیا کو منہ ہی نہیں لگایا ۔ ورنہ وہ جواب جو بھی دیتے مطلب اس کا الٹا ہی نکالاجانا تھا ۔ ۔ میں آپکو بتاوں مصیبت میں ہی پتہ چلتا ہے کہ کون آپکا دوست ہے اور کون دشمن ۔۔۔ یقیناً شاہ رخ خان اور ان کی فیملی کو بھی اس کا پتہ چل گیا ہو گا ۔ کیونکہ بہت سے ان کے قریبی اپنی زبانوں کو تالے لگائے بیٹھے ہیں ۔

    ۔ آپ دیکھیں آج اداکارہ کاجول نے اپنی فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گےکے 26 سال مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی پوسٹ شیئر کی۔ جس میں وہ اپنی محبت یعنی شاہ رخ خان سے مل جاتی ہیں۔ جو آخری سین ہے اس فلم کا ٹرین والا ۔۔۔ ۔ پر دیکھیں ان کو یہ فلم تو یاد ہے ۔ پر اس وقت جو شاہ رخ خان اور انکی فیملی ساتھ ہورہا ہے وہ دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کیسی دونمبری ہے ۔۔ اُن کی اس پوسٹ پر شاہ رخ خان کے مداحوں نے اُن کی خوب بجائی بھی ہے اور کلاس بھی لی ہے ۔ کہ اس وقت آریان خان جیل میں ہیں اور کاجول اپنے دوست شاہ رخ خان کو سپورٹ کرنے کے بجائے یہاں اپنی فلم کا جشن منارہی ہیں۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ شاہ رخ کو دوست کہنے کی دعوایدار کاجل نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کہ ان کے دوست شاہ رخ خان کس مشکل وقت سے گُزر رہے ہیں۔ اُن کے بیٹے کو ضمانت نہیں مل رہی ہے اور یہ خوشیاں منا رہی ہیں ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں قتل سے بڑا جُرم منشیات کا استعمال کرنا ہے۔ آئے روز آپ دیکھتے ہوں گے دن دیہاڑے سڑکوں پر اقلیتوں کو پورے پورے جہتے جان سے مار دیتے ہیں مگر نہ کوئی گرفتاری ہوتی ہے نہ کوئی ہمدردی کے دو لفظ بولتا ہے ۔

    ۔ اس وقت 23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد کی جارہی ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ بھارتی ادارے کس طرح قانون کی پاسداری کرتی ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی کی کئی مشہور شخصیات کے بچے معصوم لوگوں کا قتل کرنے کے باوجود بھی بچ گئے ہیں۔دور کیا جانا اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جو گجرات کا قصائی ہونے ہر فخر کرتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ پر پتہ نہیں کتنے معصوم لوگوں کا قتل ہے ۔ مگر کسی کی ہمت نہیں کہ وہ انگلی بھی اٹھائے ۔۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ بھارت میں مبینہ طور پر نوجوان لڑکیوں، عورتوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اُن کے مجرم آزاد گھومتے ہیں۔ ۔ لعنت ہے بی جے پی پر ، مودی پر ، آر ایس ایس پر اور طاقت کے اس ناجائز استعمال اور نا انصافی پر۔

  • بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    جہاں آج ایک بار پھر شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ضمانت خارج کر دی گئی تو جہنم واصل ہونے والے بھارتی فوجیوں کی بیویاں دوہائیاں دے رہی ہیں کہ "جے او کشمیر منگدے آں تے دے دو”

    ۔ اریان کو ضمانت کیوں نہیں دی جا رہی ہے ۔ شاہ رخ کے حوالے سے بات کی جائے تو ضمانت منسوخی کے بعد اب آریان خان کے وکیل نے ممبئی کی ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پر جو دیکھائی دے رہا ہے کہ یہ جس مرضی کورٹ میں چلے جائیں ان کو ریلیف نہیں ملنا ۔ کیونکہ اس حوالے سے ایک درخواست بھارتی سپریم کورٹ میں بھی گئی ہوئی ہے ۔ وہاں بھی کوئی خاص امید نہیں ہے کہ ان کی سنوائی ہو ۔ پر میں بتاوں شاہ رخ خان کو ریلیف مل سکتا ہے اور یہ ریلیف کوئی عدالت نہیں مودی دے سکتا ہے ۔ اور اس کے لیے شاید اب شاہ رخ کو نام بھی بدلنا پڑے گا اور مذہب بھی بدلنا ہوگا ساتھ آر ایس ایس اور بی جے پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرنا پڑے گی ، گنگا اشنان بھی کرنا ہوگا اور سنگھیوں کے ساتھ کنبھ کے میلے میں جا کر پوجا پاٹ بھی کرنا پڑے گی وہ بھی بیوی بچوں سمیت ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا کہ بھارت میں انصاف صرف بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہندوؤں کو ہی مل سکتا ہے ۔ ویسے شاہ رخ خان کی بیوی گوری خان ایسا اقدامات کر رہی ہیں کہ جس سے ہندوتوا کے پجاریوں کو ٹھنڈا کیا جاسکے جیسے انھوں نے اپنے گھر کے ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ اُن کے بیٹے آریان خان کو ضمانت نہ ملنے تک گھر میں کسی قسم کا کوئی میٹھا نہ بنایا جائے۔ گوری خان نے خود بھی 7 اکتوبر کو نَوراتری کے تہوار کے آغاز کے بعد سے کچھ بھی میٹھا کھانا چھوڑ دیا ہے۔

    ۔ پر میرا مشورہ ہے ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ معاملہ شاہ رخ خان کے نام کا ہے اس کے مذہب کا ہے ۔ جو مودی اور ہندوتوا کے پجاریوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ آپ دیکھیں ابھی بھی وہ ہی دونمبر قسم کی کہانیاں بھارتی میڈیا بتا رہا ہے جس کا نہ تو کوئی ثبوت ہے نہ ہی شہادت ہے ۔ آج بھی بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق این سی بی حکام کا کہنا ہے کہ آریان خان جب امریکا اور دبئی میں تھے تو اس دوران بھی وہ منشیات کا استعمال کیا کرتے تھے۔ پتہ نہیں یہ اریان کو خود اپنے ہاتھوں سے چرس کے سگریٹ بنا بنا کر دیتے تھے یا پھر یہ خود منشیات اریان خان کو سپلائی کرتے تھے ۔ کیونکہ اتنے وثوق سے تو پھر میڈیا نہیں اریان خان سپلائر یا ساتھی ہی بتا سکتا ہے ۔ پھر بھارتی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے آریان اور ان کی نئی فلم میں آنے والی ساتھی اداکارہ کی واٹس ایپ چیٹ بھی لیک کی گئی ہے۔ جس کے مطابق یہ دونوں منشیات سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں ۔ ابھی اس کا فرانزک ہونا باقی ہے ۔ مگر بھارتی میڈیا نے اس کو لے کر شاہ رخ خان کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ چیٹ ٹھیک بھی ہو تو جو کچھ بھی کیا اریان نے کیا شاہ رخ خان کہاں سے بیچ میں آگیا ۔

    اس کے علاوہ این سی بی کی جانب سے آریان خان کی منشیات فروخت کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کی آڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آریان کے وکیل اس پر کیا موقف دیتے ہیں کہ واقعی جس سے اریان خان کی بات ہو رہی تھی وہ کوئی ڈرگ ڈیلر تھا کہ نہیں یا یہ کس ریفرنس میں تھی ۔ سوال بنیادی پھر وہ ہی ہے کہ جس مقدار میں منشیات پکڑی گئی ہیں اس میں کسی کو بھی بھارتی قانون کے مطابق اتنے دن جیل میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ اول تو گرفتاری ہی ممکن نہیں ۔ پھر آپ دیکھیں کہ اریان کے پاس سے کچھ برآمد نہیں ہوا پھر شک کی بنیاد پر اس کو مسلسل کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں اور ایک کے بعد ایک ضمانت جو کینسل کی جارہی ہے ۔ اس میں اب کسی کو شک نہیں رہ گیا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما ہے ۔ کیونکہ اریان تو ایک بہانہ ہے اصل نشانہ شاہ رخ خان ہے ۔ اور یہ خفیہ ہاتھ مودی کا ہی ہے ۔ اس لیے مجھے تو لگتا ہے یا تو اب شاہ رخ خان باقاعدہ ہندو مذہب اختیار کرے گا یا پھر بھارت سے بھاگے گا ۔ ۔ دراصل مودی نے بھارت کو بری طرح پھنسا دیا ہے ۔ اندر سے بھی اور باہر سے بھی ۔

    ۔ اس وقت بھارت کے لیے المیہ یہ ہے کہ اس وقت وہ تین محاذوں پر پھنس چکا ہے ۔ اور یہ تینوں محاذ گرم ہوچکے ہیں ۔ ایک تو چین کے ساتھ لداخ کے محاذ پر ، ایک پاکستان کے ساتھ اور ایک مقبوضہ کشمیر کے اندر ۔۔۔ کشمیرمیں صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ کسی غیر کشمیری کو نہیں چھوڑا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوجی روز جہنم واصل ہورہے ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف کو کشمیر کا ہنگامہ دورہ کرنا پڑ گیا ہے ۔ کشمیر کی آزادی کے لیے اب بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اس کی واضح مثال اس بھارتی فوجی کی بیوی کا بیان ہے جو میں نے آپکو سنا ہے ۔ اس وقت مودی نے کشمیر کے چپے چے پر آپریشن میں معاونت کے نام پر خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین تعینات کردیے ہیں ۔ ضلع پونچھ اور راجوڑی میں قابض بھارتی فورسز کا آپریشن مسلسل دس دنوں سے جاری ہے۔ بھارتی فوج ، پولیس ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، این آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو سمیت دیگرپیراملٹری فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین سب وہاں موجود ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف منوج نروانے بذات خود وہاں پہنچے ہیں ۔ پر مجاہدین تو دور کی بات ان کا کوئی سراغ تک نہیں مل رہا ہے ۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ شروع دن سے کشمیریوں نے کسی بھی کالے قانون کو ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ۔ اب دیکھا جائے تو افغانستان کے حالات کا ان پر بہت اثر ہوا ہے اور اب انھوں نے دہشت گرد بھارتی فورسز کے خلاف ویسی ہی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے جو طالبان نے مسلسل بیس سال تک امریکہ اور اسکے حواریوں کے خلاف کی ہے ۔ کرنی بھی چاہیئے کیونکہ کبھی انہیں کشمیر سے بے دخل کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں تو کبھی کشمیریوں کو دوبارہ سے وادی کا شہری ثابت کرنے کے لئے کاغذات اکٹھے کرنے کا حکم دیا جاتاہے۔ اس وقت مودی سرکار نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل دے کر کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا خوفناک منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ یقینی طور پر اس پر کشمیریوں کو اشتعال تو آنا ہی تھا اس کا درعمل اب دیکھائی بھی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اپنی طاقت کے مطابق وہ جتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچا رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔ کشمیر میں ایک نئی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے ۔ کئی سیکٹرز میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے یہاں تک وہ پندرہ سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل کرچکے ہیں ۔ پھر کشمیری نوجوانوں نے غیر مقامی ہندووں کے خلاف کارروائی سے ایک پیغام دے دیا کہ کشمیریوں کواقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ روک دیا جائے۔ ورنہ نتائج کا ذمہ دار خود مودی ہوگا ۔ مودی درعمل کے طور پر وہ ہی پرانے حربے استعمال کر رہا ہے ۔ کہ اس نے پورے بھارت کی مشینری کو وادی میں جھونک کر طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا کھیل شروع کر دیا ہے ۔ گزشتہ دس دنوں میں 1500سے زائد کشمیری جوانوں کو گرفتار جبکہ دس سے زائد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اب یہ طاقت کے زور پر انسانی ، مذہبی اور سیاسی حقوق پامال کر رہی ہے ۔ پر ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں اور حربوں سے نہ تو پہلے کشمیریوں کے جذبہ شوق شہادت ، جذبہ ایمانی اور آزادی کی خواہش کو دبایا جا سکا ہے نہ اب یہ کیا جاسکے گا ۔

    ۔ الٹا بھارتی فوج شدید ٹینشن کا شکار ہے کہ اب موجود بگڑتے حالات کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں بھی ان کو ایک اچھی خاصی تعداد میں فوجی وہاں پر رکھنے پڑیں گے ۔ جبکہ دوسری جانب لداخ اور ارونا چل پردیش میں چین ان کی خوب پٹائی کر رہا ہے ۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی خود کشیوں کا نہ تھمنے والاسلسلہ لگاتار جاری ہے۔7
    اکتوبر کو ایک اہلکار نے ذہنی تناؤ کے باعث پھندے سے لگ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ 16اکتوبر کو ضلع کپواڑہ میں ایک اوراہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔ اس سے ایک روز قبل کپوارڑہ میں ہی ایک فوجی اہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر خودکشی کرلی تھی اس طرح ایک ہفتے کے دوران خود کشی کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد چار ہوگئی ہے ۔ ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر تین دن میں ایک فوجی خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران گیارہ سو سے زائد جوانوں نے خود اپنی جان لے لی۔ لیکن اس ہفتے خودکشی کرنے والے قابض بھارتی اہلکاروں کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کا ذمہ دار کشمیر میں موجودہ حالات کو کہا جا رہا ہے ۔ پر ایسا لگتا ہے کہ مودی کو بھارتی فوجیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس کے سر پر بس اگلا الیکشن سوار ہے ۔ ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ حالانکہ فوجی قیادت ان خودکشیوں کو روکنے اور فوجیوں کو ذہنی دبا ئوسے نکالنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ لیکن مرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پھر ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہر سال سینکڑوں فوجی اہلکار جنگ کے بغیر ہی مارے جاتے ہیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی دستوں کے حوصلے پست ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود کشمیر میں ناکامی سب سے بڑا سبب ہے۔ ۔ کشمیری مجاہدین اور بھارت کی شمالی ریاستوں میں لڑائی کی باعث بھارتی فوج کا مورال گرچکا ہے۔ ۔ جو حالات بن رہے ہیں مجھے تو لگ رہا ہے کہ جیسے افغانستان میں تبدیلی آئی ہے ایسے جلد مقبوضہ کشمیر میں بھی آئے گی اور انشااللہ ان کو بھی جلد آزادی نصیب ہو گی

  • شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے

    اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور مسلمان ہونے کی سزابھگت رہے ہیں؟

    ۔ کیونکہ جس طرح ان کے بیٹے آریان خان کی ضمانتیں کی درخواستیں بار بار مسترد کی جا چکی ہیں ۔ اس سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ پھر جو ان کے بیٹے کو لے کر شاہ رخ خان کی
    character assisnation کی جارہی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ جو شاہ رخ خان کے نام کو بھارت میں گالی بنایا جا رہا ہے وہ بھی پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ آگے چل کر میں آپکو تفصیل سے بتاؤں گا کہ کیسے بھارتی حکومت ، ادارے اور میڈیا جھوٹی خبروں کو شاہ رخ خان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ اور ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے ۔ ۔ حقیقت میں اس کیس نے نئے الزامات کو جنم دیا ہے کہ بھارتی حکومت ملک کے سب سے بڑے مسلمان اداکار کے بیٹے کو صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ہراساں کر رہی ہے۔ ۔ یاد رکھیں جب آپ کی ایک نہ چلے ۔
    ۔ جب آپ کا روپیہ پیسہ ، اثر رسوخ اور تعلقات بھی کام نہ آرہے ہوں اور سب سے بڑھ کر جب آپکو انصاف نہ ملنے کی امید ہو ۔ تو پھر لوگ دعاوں کے ذریعے منتوں مرادوں کی تکمیل کی جانب راغب ہوتے ہیں اب ایسا ہی شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان نے بیٹے آریان خان کی رہائی کے لیے منّت مان لی ہے۔۔ اسوقت شاہ رخ خان اور ان کی پوری فیملی آریان خان کی گرفتار ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف دہ اور مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ ساتھ ہی جو سلوک اس وقت بھارت میں ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے شاہ رخ خان اور فیملی شدید مایوس ہیں ۔

    ۔ جہاں شاہ رخ خان بیٹے کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تو گوری خان بیٹے کی رہائی کے لیے مسلسل دعائیں کر رہی ہیں۔۔ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ آریان خان کو جیل میں قیدی نمبر مل گیا ہے ۔ اب انہیں قیدی نمبر 956 کے نام سے پکارا جائے گا۔ مجھے تو یہ بھی ایک سازش اور پلان کا حصہ دیکھائی دیتا ہے کہ اریان کو اب اس نمبر 956کے ذریعے پکارا جائے اور یاد رکھا جائے ۔ ۔ جیل کے اندرونی ذرائع کے مطابق آریان خان جیل کا عام کھانا کھارہے ہیں لیکن اسے پسند نہیں کررہے ساتھ ہی انہیں باہرکا کھانا کھانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔۔ اس کے علاوہ جیل انتظامیہ کو آریان کی فیملی کی جانب سے ساڑھے چار ہزار روپے کا منی آرڈر موصول ہوا ہے جس پر 11 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔ یہ پیسے آریان کے کینٹین کے اخراجات کے لیے ہیں۔ جیل قوانین کے مطابق ایک قیدی کے لیے ایک ماہ میں صرف ساڑھے چار ہزار روپے کے منی آرڈر کی ہی اجازت ہے۔۔ دیکھا جائے تو آریان خان کی جیل میں زندگی انتہائی کربناک ہے کیونکہ شہزادوں کی طرح اپنے گھر میں رہنے والے آریان خان کو باتھ روم کے استعمال میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ۔ کیونکہ ممبئی کی سینٹرل جیل میں وہی پانی دستیاب ہے جو باتھ روم کے نلکوں میں آتا ہے۔ جیل کی دیواریں انتہائی گندی ہیں جن میں سے ہر وقت بو آتی رہتی ہے۔ جیل کے باتھ روم کے لاک بھی نہیں ہیں جب کہ باتھ روم کے باہر بھی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں جس کے باعث اپنی باری آنے پر ہی کوئی بھی ملزم اندر جاتا ہے۔۔ جیل میں چوہوں اور چھوٹے موٹے کیڑوں کی بھرمار ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو تنگ کرنے کے لیے بھی رات کو ایسے چیزوں کو چھوڑا جاتا ہے اور ان آوازوں کا استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلسل ایک ڈر کی کیفیت میں رہے ۔ اس وجہ سے جیل اریان خان کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے ۔ ۔ اس کیس میں اب تک 18 مرد اوردو خواتین سمیت بیس افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ تمام گرفتار ملزمان کو دیگر قیدیوں سے الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔ پر آپ بھارتی میڈیا کی دونمبری چیک کریں آپ نے ابھی تک ان 18 میں صرف اریان خان کے باپ شاہ رخ خان کا نام ہی سنا ہوگا باقی کس کا کون باپ ہے ۔ خاندان کیا کرتا ہے ۔ اس بارے بھارتی میڈیا مکمل خاموش ہے ۔ کیونکہ ان کا ایجنڈہ صرف اور صرف شاہ رخ خان کو ٹارگٹ کرنا ہے ۔ پھر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے متضاد اور مضحکہ خیز خبریں پھیلائی جارہی ہیں ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ شاہ رخ خان اور اسکے بیٹے کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں عدالت میں تو ثابت نہیں ہوسکتیں ۔ مگر اس موقع پر ایسی من پسند خبریں چلوا کر نارکوٹکس کنٹرول بیورو شاہ رخ خان کے امیج کو وہ نقصان پہنچا رہے ہیں جس کا ازالہ شاید کبھی نہ ہوسکے ۔

    ۔ سب سے پہلے تو متواتر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے یہ خبر چلوائی جا رہی ہے کہ آریان خان نشے کا باقاعدہ عادی ہے۔ بالکل کہا جا رہا ہے کہ وہ سرٹیفائیڈ نشی ہے ۔ میڈیا پر بھونڈے قسم کے گانے لگا کر اس پر مختلف رپورٹس کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر بیچا جا رہا ہے ۔۔ پھر دوسرا پراپیگنڈہ یہ کیا جا رہا ہے کہ آریان خان منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ میں ملوث ہیں یہاں تک اس کے اس کا لنک دؤاد ابراہیم تک سے جوڑا جا رہا ہے ۔ اور اس کو انوسٹی گیٹیو اسٹوریز کا نام دیا جا رہا ہے ۔ ۔ بغیر ثبوت کے آریان کی واٹس ایپ چیٹ کا بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ اس میں زیادہ مقدار میں منشیات کا انکشاف ہوا تھا جو کہ صرف ایک شخص کے استعمال کے لیے نہیں ہوسکتی۔ پھر بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آریان کی جانب سے این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر واکھنڈے سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ایسا انسان بن کر دکھائیں گے کہ ایک دن آپ مجھ پر فخر کریں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ آریان نے دوران معاشی اور سماجی طور پر کمزور افراد کی مدد کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے اور وہ غلط راستے پر اب کبھی نہیں جائیں گے۔ یوں اس طرح کا بیان اریان خان سے منسوب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے اریان خان نے اعتراف جرم کر لیا ہو کہ وہ نشہ بھی کرتے تھے ۔ خریدتے بھی تھے ۔ بیچتے بھی تھے ۔ پر یہ منجن بھارتی میڈیا پر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بیچا جا رہا ہے ۔ جب کہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے این سی بی کی پاس نہ تو ثبوت ہیں نہ کوئی گواہ ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں اریان کو حراست میں رکھنے کے لیے بھی این سی بی کی پاس کوئی ٹھوس توجیح نہیں ۔ پر کیونکہ اس وقت بھارت میں ہندو راج ہے تو کسی بھی مسلمان کو جیل میں ڈالنے کے لیے نہ تو کسی قانون کی ضرورت ہے نہ ہی کسی ثبوت کی ۔

    ۔ اب ان سب اور تمام کہانیوں کے پیچھے کسی کو شک ہے کہ این سی بی ، بی جے پی اور آرایس ایس کا ہاتھ کارفرما نہیں تو پھر یا تو وہ اندھا ہے یا پھر ہندوتوا کا پجاری ۔ ان کا اصل مشن یہ ہے کہ کسی طرح شاہ رخ خان سے وہ درجہ واپس لیا جائے کہ وہ اب بھارت کا مزید سپرسٹار نہ رہے ۔ اس کو اتنا گندہ کیا جائے کہ اس کا نام ایک گالی بن جائے ۔ اس تمام کھیل میں جہاں بھارتی حکومت اور ادارے ملوث ہیں ۔ مودی کا گودی میڈیا بھی اس ایجنڈے پر لگا ہوا ہے ۔ جو ہر طرح کا گند اور جھوٹ شاہ رخ اور اریان خان پر تھوپ رہا ہے ۔

    ۔ دراصل بھارت میں ہر برائی کی جڑ مودی ہے ۔ اور جب سے یہ وزیر اعظم بنا ہے ۔ کوئی امیر مسلمان ہو ، اثر رسوخ والا مسلمان ہو ، مشہور مسلمان ہو یا پھر کوئی عام غریب مسلمان ہو ۔ مودی کے شر سے محفوظ نہیں ۔ بھارت کو مسلمانوں کے لیے جہنم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ مودی جو کچھ کر رہا ہے اس میں بنیادی کردار آرایس ایس کی ٹریننگ کا ہی ہے کہ مودی نے بطور وزیراعلیٰ ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا اور نہ کبھی انکے قتل پر پشیمان ہوا اور نہ ہی کبھی مذمت کی۔الٹا مودی تو فخر کرتا ہے کہ اس کو butcher of gujaratکہا جاتا ہے ۔۔ مودی کا وزیراعظم بننے کے بعد بھی رویہ ویسا ہی ہے جو گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر تھا جو اسکے انتہا پسند ہونے کی واضح دلیل ہے۔ بھارتی ریاستی ادارے بالخصوص انصاف کا نظام بی جے پی حکومت میں عملی طور پر مفلوج ہے۔ کیونکہ ایک جانب جہاں اڈانی مودی حکومت کی برکت سے ہیروئن سمگلنگ کے کیس میں بھی بچ جاتا ہے ۔ تو شاہ رخ خان کا بیٹا کوئی جرم کیے بغیر بھی جیل میں گل سٹر رہا ہے ۔ آپ دیکھیں بھارت میں انتہاپسند ہندؤ روزانہ کسی نہ کسی مسلمان کو سٹرکوں پر گھیر کر نشان عبرت بنا رہے ہوتے ہیں ۔ پر آج تک نہ تو ان میں سے کوئی پکڑا گیا ہے نہ اسکو سزا ملی ہے ۔ الٹا آپ بھارتی جیلوں میں جا کر دیکھیں تو مسلمانوں سے یہ بھری پڑیں ہیں ۔ جنونی ہندو اس وقت مسلمانوں کے خون کے پیسے ہیں ۔ آسام والا معاملے میں دیکھ لیں ۔ اب تو مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھول گئی ہیں اور انھوں نے پورے مشرق وسطی میں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے مہم شروع کردی ہے۔

    ۔ کویت اسمبلی کے ارکین بھارتی حکام اور انتہا پسند گروہوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف مظالم کی مذمت کر رہے ہیں ۔ تو عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد الخیلی نے کہا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بھارتی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ بین الاقوامی برادری اس جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔۔ تو یہ ہے آج کا shinning indiaجہاں ہندو راج ہے ۔ ۔ جہاں کسی مسلمان ، سکھ ، مسیحی کا نہ مال محفوظ ہے نہ ہی جان ۔۔۔

  • امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ
    جہاں افغانستان سے امریکی انخلاکے بعد طالبان کے امریکا سے پہلے باضابطہ مذاکرات دوحہ میں ہوئے ہیں ۔ تو افغان طالبان کیجانب سے داعش پر ۔۔۔ اور داعیش کی جانب سے افغان طالبان پر حملے جاری ہیں ۔ ۔ اس وقت افغانستان میں تین طرح کی پراکسیز اپنا زور دکھا رہی ہیں۔ ٹی ٹی پی ۔ بی ایل اے ۔ داعیش اس میں سرفہرست ہیں ۔ پہلے اگر امریکہ طالبان مذاکرات کی بات کی جائے تو طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کامطالبہ کیا ہے ۔ جو کہ بالکل جائز مطالبہ ہے ۔ پھر ان کی جانب سے افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مگر اس وقت امریکہ کی دلچسپی امریکی شہریوں کے افغانستان سے بحفاظت انخلا، اغوا شدہ امریکی شہریوں کی بازیابی اور افغانستان میں انسانی حقوق میں ہے۔

    ۔ آپ امریکی دونمبری چیک کریں کہ اسکو افغانستان میں انسانی حقوق کی بڑی فکر لاحق ہے لیکن دہائیوں سے فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ امریکہ کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے لاڈلوں بھارت اور اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمت کرے۔ پھر امریکہ کا یہ نقطہ نظر بھی عجیب ہے کہ جب امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا تو پھر مذاکرات مذاکرات کا کھیل کیوں کھیل رہا ہے ۔ کھل کر سامنے آئے ۔ طالبان کو اپنا دشمن ڈیکلیئر کرے ۔ تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ یہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا خون خرابہ چاہتا ہے ۔ آخر کیوں امریکہ نے دنیا کو ایک نئی مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ کہ طالبان حکومت کو ابھی کوئی قبول نہ کرے ۔ یہ دنیا کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ دیکھا جائے تو امریکہ خود دنیا میں امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ پھر ان کی ملی بھگت دیکھیں کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طالبان حکومت کو امداد دینے کے معاملے پر بظاہرکسی ایک نکتے پر متفق دکھائی نہیں دئیے۔ یہ صرف ایک واردات ہے ۔ دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ افغانی بھوکے مریں ۔ اور طالبان حکومت مستحکم نہ ہونے پائے ۔ پھر امریکہ طالبان مذکرات کے حوالے سے جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ بات چیت میں فریقین نے داعش کو کنٹرول کرنا موجودہ افغان حکومت کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے ۔ اس حوالے سے سہیل شاہین نے مذاکرات سے قبل ہی بتا دیا تھا کہ افغانستان میں داعش خراسان کے مسلسل فعال ہونے کے بعد واشنگٹن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہو گا۔ اور مذاکرات صرف امریکا کی مرضی کے ایجنڈے پر نہیں برابری کی سطح پر ہوں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف ایک فریق اپنی ہی مرضی مسلط کرائے۔

    آپ دیکھیں یہ کیسا اتفاق ہے کہ ادھر امریکہ کی ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ wendy sharman پاکستان پہنچتی ہیں اور ادھرافغانستان کے لیے سب سے افسوسناک سانحہ رونما ہوجاتا ہے۔ پھر پاکستان کو کہا جاتا ہے کہ طالبان حکومت کو قبول نہیں کرنا ۔ مجھے تو اس داعش کی کاروائی کے پیچھے ۔۔۔ را ۔۔۔ کا ہاتھ دیکھائی دیتا ہے کیونکہ مسجد میں دھماکوں کا فائدہ بھارت کو ہی ہوا ہے ۔ کیونکہ ایک طرف اس کے بیانیے کو تقویت ملی ہے تو دوسرا امریکہ بہادر نے پاکستان پر افغانستان کو لے کر پھر پریشر بڑھا دیا ہے ۔ دراصل امریکہ سمیت اس کے اتحادی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر افغانستان کی معیشت روس اور چین جیسے مضبوط سہاروں اور پاکستان کی افرادی قوت اور عسکری امداد کے ذریعے بہتر ہونا شروع ہو گئی تو پھر ایران ، پاکستان ، تاجکستان اوراس سے ملحق وسط ایشیائی ریاستیں باہمی تجارت میں شامل ہو جائیں گی جس سے سی پیک کے راستے مزید وسیع ہو جائیں گے۔ چنانچہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی تکون افغانستان کے امن کو برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور یہی ان کا مشن ہے۔ پھر اب یہ راز نہیں رہا کہ کیرالہ ، اتر پردیش اور مہاراشٹر سے داعش کے لیے بھرتی ہوتی ہے اور بھارت ہی میں ان کی تربیت کے لیے بنائے گئے مراکز میں انہیں تربیت دینے کے بعد وسط ایشیائی ریاستوں اور دوسرے راستوں سے افغانستان میں داخل کرنے کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس کے سابقہ اہلکار پیش پیش ہیں۔ جن کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے داعش کی تخلیق کے متعلق اپنے انٹر ویو میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ پر ہے اور اس عالمی دہشت گرد گروہ کے بارے بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ حقیقت میں داعش کی تخلیق کے مقاصد اب کسی کے لیے راز نہیں رہے ۔ داعش اور بھارت اب ایک نام بن چکے ہیں۔ مگر امریکہ نے بھارت کو اپنا مستقبل کا اتحادی ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔ لیکن یہی داعش کا سر پرست اعلی بھی ہے۔ اگر ایک تخلیق کار ہے تو دوسرا اسے نفری اور اطلاعات فراہم کرتا ہے ۔ ان تینوں ملکوں کی مثلث یعنی امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کے مقاصد بڑے واضح ہیں کہ افغانسان ، پاکستان اورایران کوچین سے دوررکھا جائے۔ دراصل یہ امریکہ اسٹائل ہے کہ جن ممالک میں امریکی اور اتحادی قوتیں یلغار کے ذریعے اپنا تسلط قائم نہیں کر پاتیں ۔ وہاں داعش کا مہلک وائرس پھیلنا شروع ہو جاتا ہے ۔ عراق ، شام اور لیبیا میں جو کھیل کھیلا گیا اب وہ ہی کھیل افغانستان میں کھیلا جا رہا ہے ۔ اس وقت افغانستان کے امن کو سبو تاژ کرنے کی بھیانک سازش رچی جا رہی ہے ۔ جس کے بعد ممکن ہے پورا مغرب یہ چلانا شروع کر دے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو روکا نہیں جا رہا۔ ان پر پابندیاں لگاؤ ۔ ان کا سب کچھ بند کر دو ۔

    ۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے کہ جس دہشت گرد گروہ نے اپنی شناخت ۔۔۔ دولت اسلامیہ ۔۔۔ کے نام سے بنائی ہے اُس کو نہ تو بھارت میں آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلم کشی دکھائی دیتی ہے۔ نہ ہی گائے کے قریب سے گزرنے والے مسلمانوں کی انتہا پسند ہندوئوں کے ہجوم کے ہاتھوں المناک شہادت نظر آتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلمان مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں کون لوٹ رہا ہے؟ یہ بھی اسکو نظر نہیں آتا ۔ نہ ہی کبھی اسرائیل کے غزہ اور فلسطین میں جبر کے مناظر ان کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ داعش کا ہر حملہ اور اس کے بنائے گئے لشکر وں کا ظلم ایسے مسلمانوں ہی پر ہوتا ہے جو امریکہ کی غلامی سے دور بھاگتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گرد گروہ کو پناہ گاہیں کون دے رہا ہے؟ فنڈنگ کون کررہا ہے ۔ مدد کون فراہم کر رہا ہے ؟ اس کا بڑا آسان سا جواب ہے کہ آپ دیکھیں کہ ۔ داعش کس کے مقاصد پورے کر رہی ہے؟ یہ اسی طرح ہے کہ جیسے کسی سے بھی پوچھا جائے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف کس کا مشن پورا کر رہی ہے۔ پھر اس بارے میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کا دعویٰ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعشی جنگجوئوں کو امریکی افواج سپورٹ کررہی ہے۔ داعش سے نمٹنا صرف افغان طالبان کی ذمہ داری نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک ۔۔۔ پاکستان، ایران، چائنا، وسطی ایشیائی ریاستیں اور روس ۔۔۔ کے لئے اس ناسور کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ مستقبل قریب میں یہ پورے خطے کوایک نئے عذاب سے دوچار کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر آپکو یاد ہو تو دو ہزار سترہ میں سندھ میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی داعش ہی نے قبول کی تھی جس میں نوے کے قریب زائرین شہید ہوئے تھے۔ حال ہی میں بلوچستان کے ضلع مچھ، مستونگ میں حملوں کے پیچھے بھی داعش کا ہاتھ تھا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بھی یہ تنظیم اپنی موجودگی کا ثبوت دیتی رہی ہے۔

    دوسال قبل اس تنظیم نے افغانستان کی طرز پر پاکستان میں ’’دولت اسلامیہ ولایۃ ‘‘ کے نام سے اپنا فرنچائز کھولا تھا ۔ افغانستان میں پچھلے چند سالوں کے دوران جتنے بھی حملے ہوئے۔ اس کی ذمہ داری اعلانیہ طور پر اس تنظیم نے قبول کی ہے۔ تو اس کا قلع قمع کرنا صرف طالبان حکومت ہی نہیں خطے کے تمام ممالک کے لیے ضروری ہے ۔ ۔ آخر میں بس یہ بتا دوں کہ آپ امریکہ طالبان کے خلاف تمام پابندیوں کو ایک طرف رکھیں اور یہ دیکھیں کہ امریکہ ان لوگوں پر پابندیاں کیوں عائد نہیں لگاتا جو افغانستان کو لوٹ کر بھاگے ہیں اور امریکہ میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔۔ تازہ خبر ہے کہ افغانستان کے سابق وزیر دفاع عبدالرحیم وردک کے بیٹے داؤد وردک نے los angles میں 20.9 ملین ڈالر کی ایک عالیشان حویلی خرید لی ہے۔ داؤد وردک miami beach کے مہنگے ترین resort میں 5.2 ملین ڈالر کے ایک یونٹ کے مالک بھی ہیں۔ امریکہ کی اس خرید و فروخت پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ کیا پابندیاں صرف طالبان کے لیے ہی ہیں۔

  • نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ
    سب سے پہلے تو پاپی پاپا کے گرد شکنجہ تنگ ہو گیا ہے ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے آٹھ ملین پاؤنڈ کی برآمدگی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔۔ شریک ملزمان میں ملکہ جذبات مریم صفدر کو ساتھ سال قید، دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف پر عائد جرمانے کی رقم کی موجودہ قدر ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اب اس سلسلے میں نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مراسلے بھی جاری ہوچکے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نام موجود جائیدادوں میں موضع مانک میں 940کنال زرعی اراضی، موضع بدھوکی ثاہنی 299 کنال، موضع مل 103 کنال اور موضع سلطان میں 312 کنال اراضی شامل ہیں۔ ۔ موضع منڈیالی شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں قیمتی رہائشی بنگلہ نمبر 135 بھی برائے فروخت پراپرٹی میں شامل ہے۔ نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو گی۔ جبکہ جرمانہ کی مکمل رقم ریکور نہ ہونے کی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات تلاش کیے جائیں گے۔ یوں پاپی نواز شریف اپنے انجام کی جانب گامزن ہیں ۔ آپکو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے میں ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ نوازشریف اب دوبارہ واپس نہیں آئیں گے چاہے جو بھی جو کچھ مرضی کہیں ۔ پھر کہہ رہا ہوں ۔ یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں ۔ اب نوازشریف کا واپس آنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ تو قدرت کا انصاف ہے مکافات عمل ۔ پر موجودہ حکومت کے تیور اور حرکتیں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنازعہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس پر اتفاق رائے پیدا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی اعتراض سننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپوزیشن کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات ہوں گے۔ یعنی حکومت ڈنڈے کے زور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے زریعے ہی الیکشن کروائے گی ۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن جائے بھاڑ میں ۔ میں تواس پر یہ ہی کہوں گا کہ زبردستی کے فیصلے آمریتوں میں تو ہوسکتے ہیں جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ باقی آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس وقت ملک میں آمریت ہے یا پھر جمہوریت ، قوم یہ تماشا کئی دنوں سے دیکھ رہی ہے۔ حکومتی وزراء کا لہجہ دھمکی آمیز ہے۔ دھمکی آمیز لہجہ اس وقت ہوتا ہے جب دلیل کے ساتھ بات منوانے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنز کے پیچھے بھی وزراء ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے حکومت کی کوئی مج چرا لی ہے ۔ اداروں سے اس طرح کا کھلواڑ تحریک انصاف کے وزراء کی پرانی مشق رہی ہے اور بدقسمتی سے اب اس کا نشانہ الیکشن کمیشن بن گیا ہے۔اعظم سواتی ، بابر اعوان اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے کوئی بدمزاج تھانیدار اپنے ماتحتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ پھر پیٹرول کے بعد بجلی اب قہر بن کر عوام ٹوٹنے والی ہے ۔central power purschasing agency کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست دے دی گئی ہے ۔ درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر25ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ CPPA کا موقف ہے کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے۔ یوں اب بجلی کی قیمت میں دو روپے سات پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔

    پھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم کی جانب سے فوراً منظور کرلیا گیا۔ اس کہانی کی اصل اسٹوری یہ ہے کہ تابش گوہر پر مقامی ریفائنریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے جبکہ سی سی او اجلاس میں تابش گوہر نے ریفائنریز کے لئے پیشگی مراعات کی تجاویز بھی دی تھیں ۔ پر آپ دیکھیں ایسے اور بہت سے بہروپیے اس حکومت میں مختلف اداروں میں بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں جو کہ حقیقت میں مافیا کے ایجنٹ تھے ۔ پر جب یہ پکڑے گئے تو حکومت نے صرف ان کو گھر ہی بھیجا کبھی مکمل انکوئری یا سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا ۔ اگر حکومت نیب اور ایف آئی اے کو اپوزیشن کے ساتھ ان مافیاز کے ایجنٹوں کے پیچھے لگادیتی تو آج جو اپوزیشن کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے ۔ کبھی نہ ہوپاتی ۔ تابش گوہر جیسے لوگ وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے اداروں اور عام عوام کو اتنے ٹیکے لگوائے ہیں کہ عوام کا تبدیلی پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ۔ کیونکہ ہر بار جب شور زیادہ مچتا ہے یا یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ایجنٹ استعفی دیتے ہیں موج کرتے ہیں ۔ فائلیں ویسے ہی بند ہوجاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نام نہاد حکومت تین سال سے یہ ہی گل کھلا رہی ہے ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے اور کون نہیں ۔ ہر طرف اور ہر سیکٹر میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ۔ ملک میں کوئی ایسا وزیر نہیں جو کرپٹ نہ ہو ۔ پیسے اور دھونس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے ۔ جس مرضی سرکاری ادارے میں چلے جائیں پیسے کی چمک کے بغیر آپکو کوئی گھاس تک نہیں ڈالے گا ۔

    حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظام بیٹھ چکا ہے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے ختم ہو گئے ہیں ۔ اس وقت شاید ہی معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہو جو کپتان کی حکومت کے لگائے ہوئے زخموں سے چور نہ ہو۔ تحریک انصاف کے وزیر مشیر ہر چیز کے بارے میں فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کام پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پہلی بار عوام کی بھی بس ہوگئی ہے۔ اس بار کابینہ اجلاس میں دو تین لوگوں نے ہمت کرکے کپتان کے منہ پر ہی کہہ دیا ہے۔ کہ اس بار جو آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کا قصووار آپکا چہیتا عثمان بزدار ہے ۔ نہ کہ سندھ حکومت ۔ پرعثمان بزدار کپتان کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ اسی حوالے سے ایک خبر ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے بھی غریبوں کو زیادہ ہٹ کرنا شروع کر دیا۔ جیسے امیروں کو این آر او دے دیا گیا ہو ۔ خبر یہ ہے کہ اس سال کاریں بہت کم اور غریب کی سواری موٹر سائیکلیں بہت زیادہ چوری ہوئیں۔ صرف لاہور میں آٹھ ہزار چھیانوے موٹر سائیکل آٹھ مہینوں میں چوری ہو چکے ہیں۔ یعنی چور ڈاکو بھی ’’تبدیلی‘‘ سے ہم آہنگ ہو گئے۔ تبدیلی کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں۔ اور چوروں کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں ۔ ۔ ادارہ شماریات کے مطابق اشرافیہ ایلیٹ کلاس کی آمدنی بڑھی ہے اور بے تحاشا بڑھی ہے۔ جبکہ غریب ، لوئر مڈل کلاس ، مڈل آف دی مڈل کلاس کی آمدنی کم ہوئی ہے اور بے تحاشا کم ہوئی ہے۔ ۔ یہ جو بدزبان ۔ بدکلام اور بد گفتار وزیر اندھا دھند جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں تو بہت موجیں ہیں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں مختلف ممالک کی مہنگائی کی شرح چار فیصد سے آٹھ فیصد ہے ۔ مطلب بنگلہ دیش میں چار فیصد اور بھارت میں آٹھ فیصد مہنگائی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں 17فیصد ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں بتائے یہ عالمی بینک کے اعدادو شمار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تحفہ اس حکومت کے پاس ہے۔ شبلی فراز فرماتے ہیں کہ مہنگائی کے علاوہ باقی سارے اشاریے مثبت ہیں۔ اس سے حکومت کی پالیسی پتہ چل جاتی ہے کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مٹا رہی ہے۔ ایک اور خوشخبری سن لیں کہ ملکی قرضوں میں ایک مہینے کے دوران بارہ سو ارب کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ اب قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سو فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ اس حکومت کو نواز شریف کو دیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ حساب تو ان کو بھی دینا ہی پڑے گا آج نہیں تو کل ۔۔۔

  • شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ

    شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ

    شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ
    عمران خان سے نوازشریف اور نوازشریف سے میاں منشا تک ۔ پھر اعظم سواتی کے بعد پرویز خٹک بھی خبروں میں ان ہوگئے ہیں۔ ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے ۔ کہ منی لانڈرنگ ، کرپشن ، لوٹ مار کے آل شریف گرو ہیں ۔ اب اطلاعات کے مطابق شریف فیملی کے کارخاص،حصے دار، جانی یار ، منی لانڈرنگ کے بے تاج بادشاہ جسے دنیا میاں منشا کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ وہ اس وقت سخت مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ کیونکہ ان کے کرتوت ہی ایسے ہیں ۔

    اب یہ کالے کرتوت دنیا کے سامنے آگئے ہیں ۔ ایف آئی اے نے کافی تحقیقات کے بعد ایسی چیزیں اکٹھی کرلیں ہیں کہ جن کے بعد اب نہ تو شریفوں کا بچنا ممکن ہے اورنہ ہی انکے فرنٹ مین اور حصے دار میاں منشا کا ۔ کیونکہ اتنے بڑے ثبوتوں کوٹھکرایا نہیں جا سکتا ہے ۔ رہا معاملہ میاں نوازشریف کا تو وہ پہلے ہی مجرم ہیں‌۔ ایف آئی اے نے جو لیگل نوٹس بھیجوایا ہے ۔ اس کے مطابق رمضان شوگرملز اور دیگرشریف فمیلی کی شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے ذریعہ اربوں روپے ہیرپھیرکرکے قومی خزانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیاہے۔ اس نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہ ےکہ ایف آئی اے کے وہ افسران جن کو اس گینگ نے اس جرم عظیم کو تکمیل کے مراحل تک پہچانے کے لیے استعمال کیا اب وہ بھی کٹہرے میں لائے جائیں گے ۔ اس نوٹس میں ان افسران کے نام اورعہدے بھی بیان کئے گئےہیں۔‌ اس نوٹس میں میاں منشا سے کہا گیا ہےکہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آپ پرجرم ثابت ہوتا ہے لٰہذا قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے تفتیش بھی میں انکشاف کیا تھا کہ غیرملکی اثاثے شہزاد سلیم کے پاس محفوظ ہیں۔ چونیاں پاور، نشاط پاور سے قومی خزانے کو 80 ارب کا نقصان پہنچایا گیا ۔ دونوں پاور پلانٹ نشاط گروپ کی ملکیت ہیں۔ میاں منشا اور اُن کے بیٹوں پرمنی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے۔ میاں منشا نے 2010 میں برطانیہ میں سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب خریدا، جس کی خریداری کے لیے انہوں نے کروڑوں پاؤنڈز غیر قانونی طریقے سے برطانیہ بھیجے۔۔ میاں منشا کے خلاف پاکستان ورکر پارٹی کے چیئرمین فاروق سلہریا نے گزشتہ برس بھی ایک درخواست نیب میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میاں منشا نے 95ملین ڈالر منی لانڈرنگ کرکے پاکستان سے برطانیہ منتقل کئے ہیں۔ ایم سی بی بینک نشاط گروپڈی جی خان سیمن ٹآدم جی انشورنس اور نشاط پاور کمپنیاں میاں منشا کی ملکیت ہیں۔ نیب نے گزشتہ سال جون میں میاں محمد منشا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع بھی کی تھیں۔ ویسے نیب سے تو مجھے کوئی خاص امید نہیں ہے ۔ ساتھ ہی احتساب کے جتنے نعرے تھے وہ بھی زمین بوس ہوتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ پر میاں منشا مشکل کا ضرور شکار ہیں ۔ مگر اس ملک کی کہانی مجھے سے بہتر آپ جانتے ہیں کہ طاقتور لوگ کسی نہ کسی اسٹیج پر جاکر اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر سزاو جزا کے عمل سے بچ ہی نکلتے ہیں ۔ کیونکہ اس ملک کا نظام ہی کچھ ایسا بن چکا ہے ۔ جس بارے طاہر القادری تو بڑی کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ اس نظام سے کوئی بہتری نہیں آنی ۔ حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی سے ہی آئے گی ۔

    کیونکہ جو پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اس کردار وگفتار مختلف ہوتا ہے اور جیسے ہی انکو اقتدار ملتا ہے ۔ یہ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں ۔ بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں یہ کیا کہا کرتے ہیں اور کیوں کہا کرتے تھے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ تبدیلی سرکار آنے کے باوجود اس ملک میں ایک نہیں دو پاکستان ہیں ۔ ۔اس نئے پاکستان میں حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس چل رہے ہیں۔ ۔ کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن آف پاکستان کا شہری کو وزیراعظم کے تحائف کی تفصیلات دینے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے ۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمان صدیقی نے عدالت میں کہا کہ حکومت نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ملنے والے تحائف کلاسیفائیڈ ہیں ۔ ساتھ موقف اپنایا کہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے ایسے تحائف کی تفصیلات کے اجرا سے میڈیا ہائپ اورغیر ضروری خبریں پھیلیں گی بے بنیاد خبریں پھیلانے سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے جبکہ ملکی وقار بھی مجروح ہو گا۔ ویسے میں نے پہلی بار سنا ہے کہ تحائف بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ۔ دنیا کے کسی اور ملک میں ایسی کوئی مثال ہے تو مجھے ضرور بتائیے گا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ تحریک انصاف جوابدہی اور شفافیت سے کیوں ڈر رہی ہے ۔ حالانکہ کے نئے پاکستان کے حوالے سے عمران خان کی جتنی تقاریر میں سن سکا ہوں ۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ تو نئے پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا ۔ حقیقت میں عمران خان ریاست مدینہ اور فلاحی ریاست کی جتنی باتیں کیا کرتے تھے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف باتیں ہی ثابت ہورہی ہیں ۔ اب جو کابینہ ڈویثرن کہہ رہی ہے کہ تحائف کی تفصیلات بتانے سے پاکستان کے ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہونگے۔ ۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے گزشتہ سال ماضی کی حکومتوں کو بیرون ممالک دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا تھا ۔ پتہ نہیں نیا پاکستان بنانے والے احتساب سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں؟ سچ یہ ہے کہ دوسروں کی باری پر یہ انقلابی بن جاتے ہیں ۔ پھر پتہ نہیں وہ کون سے ملک ہیں کہ تحائف کی تفصیلات سامنے آنے سے ہمارے ان ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے ہیں ۔ مزے کی بات ہے کہ اعظم سواتی مخالفوں کے رازوں سے پردے تو خوب ہٹا رہے ہیں ساتھ شبلی فراز کو اپوزیشن کی کروڑوں کی گھڑیاں بھی دیکھائی دے رہی ہیں پر اپنا گریبان اس حکومت کو نہیں دیکھائی دیتا وہاں یہ نہیں جھانکتے

    پھر قانون کی بالادستی کی بات کرنے والی تحریک انصاف کے اہم رہنما اور وزیر دفاع خود ہی قانون کی عمل داری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے دکھائی دیئے۔ ۔ دراصل نوشہرہ تحریک انصاف کا گڑھ اور وزیر دفاع پرویزخٹک کا آبائی علاقہ ہے۔ پرویز خٹک ایک روز قبل اپنے حلقہ انتخاب میں جلسہ کررہے تھے۔ جلسے کے اختتام پر ان کے کارکنوں نے آتش بازی کی۔ لیکن پولیس نے آتش بازی سے رکوادی۔ تعجب تب ہوا جب پرویز خٹک نے ورکرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سٹیج سے اعلان کیا کہ آتش بازی کیوں روکی گئی۔ آتش بازی کی جائے، کسی افسر کی پرواہ نہ کریں۔ میں یہاں موجود ہوں دیکھتا ہوں ۔ دیکھتا ہوں کیسے آتش بازی کو روکا جاتا ہے۔۔ تو یہ ہے وہ ۔ صاف چلی شفاف چلی ۔۔۔۔ دو نہیں ایک پاکستان ۔۔۔۔ جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان ۔۔۔۔ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے ۔۔۔ آپ انکے ذرا الیکشن سے پہلے کے نعرے دیکھیں اور اب حرکتیں دیکھیں ۔ یہ اپنے ہی لگائے ہوئے نعروں ، کہی ہوئی باتوں ، دیے ہوئے منشور سے مذاق کررہے ہیں ۔ اب جب عوام ان کو جنرل الیکشن میں جھٹکا دے گے جیسے اس عوام نے تبدیلی سرکار کو ہر ضمنی الیکشن اور حالیہ کینٹ بورڈ الیکشن میں دیا ہے ۔ تو یہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیں گے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ ہماری ایک سیاسی تاریخ ہے ۔ جو بتاتی ہے کہ چوتھے سا ل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی بھی سویلین حکومت بند گلی میں پھنس جاتی ہے۔ جبکہ یہ حکومت ت ہر کام اپنے ہاتھ سے خراب کر رہی ہے ۔ ۔ محمد خان جونیجو ، یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کو چوتھے سال میں ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ ماضی کی تمام سویلین حکومتوں کی طرح اب عمران خان حکومت بھی چوتھا سال شروع ہوتے ہی بند گلی میں پھنستی جا رہی ہے۔ ۔ حکومت کے اہم وزراء ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کئی سیاسی اور غیر سیاسی محاذ کھول لئے ہیں۔ اس وقت میڈیا اور الیکشن کمیشن کے محاذ غیر سیاسی اور غیر ضروری ہیں۔ ۔ میڈیا کو کنڑول کرنے کے چکر میں الٹا نقصان ہوتا نظر آنا شروع ہوگیا ہے کہ اس معاملے پر حکومت کے حامیوں نے بھی حکومت کے خلاف بندوقیں تان لی ہیں ۔

    ۔ دوسرا یہ خواہش تو مجھے لگتا ہے کہ حسرت ہی رہ جائے گی ۔ لیکن مان بھی لیا جائے کہ اگر زور زبردستی سے الیکٹرانک ووٹنگ کروا بھی لی گئی تو وہ غدر مچے گا کہ اسے سنبھالنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر مہنگائی اور بے روزگاری نے حکومت کو ان علاقوں میں بھی غیر مقبول بنا دیا ہے۔ جو پی ٹی آئی کی جیت کا نشان سمجھے جاتے تھے ۔ یوں وزیراعظم عمران خان اور ان کے کئی وزراء فرانس کی ملکہ میری بنتے جا رہے ہیں کہ اگر روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں۔ ۔ بجلی کے بلوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس 5 تا 35 فیصد کا صدارتی آرڈیننس عمران خان حکومت کو بہت غیر مقبول بنا دے گا۔ پاکستان اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کرتا رہا ہے لیکن اتنی ظالمانہ شرائط والا معاہدہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا جس کے بعد بجلی اور گیس پاکستانی عوام کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ یوں آئی ایم ایف معاہدہ پاکستانی عوام کے سر پر ایٹم بم کی طرح پھٹا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کپتان کو بہت پہلے معلوم ہو گیا تھا کہ اُن کے دورِ حکومت میں عوام کو کبھی کوئی اچھی خبر نہیں ملے گی۔ اِس لئے انھوں نے پہلے ہی نصیحت کر دی تھی کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔