Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا  امتحان، تحریر: نوید شیخ

    میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    خبریں تو بہت ہیں لیکن اس حکومت کے لیے مسئلہ نمبر ون میڈیا بنا ہوا ہے ۔ آج کی بھی خبریں اور وزراء کے بیانات صرف یہ ہی تھے کہ کیسے بے لگام میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ یہ حکومت اپنی کارکردگی ، وزراء اور مشیروں کا احتساب کرنے کو تیار نہیں ۔ پر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

    معیشت کو ٹھیک کرنے اور پاکستان کو پتہ نہیں کیا بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اعلی کارکردگی سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 170روپے کے قریب پہنچ گیا ۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں 1کھرب ڈوب گئے ہیں ۔ جی ہاں ایک کھرب روپے ۔ یہ وہ خبر ہے جو حکومت سمجھتی ہے کہ فیک نیوز ہے ۔ ایسے جب پیڑول ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے تو حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بھی فیک نیوز ہے ۔ بجلی آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی حکومت فیک نیوز کی نظر دے دیکھتی ہے ۔ حقیقت اور کھرا سچ یہ ہے کہ یہ حکومت ہی فیک ہے۔ اس کے کنڑول میں نہ تو اس کے اپنے وزیر ہیں نہ ہی بیوروکریٹ ۔ اور مافیاز تو اس حکومت کو استعمال کرتے ہیں ۔ ان کو کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس میں نہیں یہ سچ آپ بتائیں گے تو آپکو غداری سے لے کر پٹواری جیالے سمیت پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیے جائیں گے ۔ آپکو کہا جائے گا کہ آپ بھارت چلے جائیں ۔ آپ ایجنٹ ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور کرائم بڑھ رہا ہے ۔ آپ کہیں گے کہ عثمان بزدار اورمحمود خان ٹکے کا کام نہیں کررہے۔ تو یہ اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں آپکے پیچھے لگا دیں گے جو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپکو لعن طعن کریں گے ۔ یہ آپکو لفافہ کہیں گے ۔ یہ آپکو ننگی گالیاں دیں گے ۔ یہ آپکی ایسی کردار کشی کریں گے کہ آپ اپنی ہی نظروں میں گر جائیں گے ۔

    مجھے یہ کہتے ہوئے رتی برابر بھی نہ خوف ہے نہ ڈر ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال پی ٹی آئی نے کیا۔ بلکہ باقی جماعتوں نے ان کی دیکھا دیکھی میڈیا سیل بنائے ۔ یہ واحد جماعت تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکائونٹس سے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے۔ ملک کے اندر مختلف اہم لیڈروں نے سوشل میڈیا کے اپنے اپنے سیٹ اپ بنائے ۔ جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی تنظیم کے سوشل میڈیا کے سیٹ اپس اس کے علاوہ تھے ۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فیک ٹرولنگ سے مجھے کوئی فرق پڑے گا تو یہ غلطی پر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز حکومتی پارٹی خود پھیلاتی ہے ۔ میرا کام ہے یہ بتانا کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ کن اذیتوں میں مبتلا ہیں ۔ اور میں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ۔ آپ جا کر میری گزشتہ ویڈیوز دیکھیں لیں ۔ کمنٹس پڑھ لیں ساری کہانی آپکو معلوم ہوجائے گی ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن اسکینڈلز سے لے کر بری گورننس کو ایکسپوز کیا جب وہ حکومت میں تھے ۔ ہم آج بھی کئی کیس اس دور کے بھگت رہے ہیں ۔ ہم پر حملے ہوئے ۔ ہم نوکریوں سے نکالے گئے ۔ لفافے لینے ہوتے تو نواز شریف سے زیادہ کون دے سکتا تھا ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اکیلے مریم کے میڈیا سیل کو ٹکر دیے رکھی ۔ تو میں اور میری ٹیم ان سے نہیں ڈری تو یہ جو جھوٹی ٹرولنگ میری کی جارہی ہے ۔ یا مجھے اور میری ٹیم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں میں سچ بولوں گا ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان

    ہ مالشیوں اور پالشیوں کی تو ہی دور میں ہی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ میں یہ نہیں کروں گا ۔ یہ میں بتادوں کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے میڈیا کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ۔ اگر یہ قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ صرف اخبار نہیں اور الیکٹرونک چینلز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کالے قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔ شائد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بارعوام نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے بے دریغ اور بلا جھجک الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پیسے لینے کی سنگین تہمت عائد کی ہے۔ کیا وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے ۔ اپوزیشن سمیت سب عوام اس الزام پر ہل کر رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اُس سیاسی جماعت کا نام بتائے جس نے الیکشن کمیشن کو بطورِ رشوت پیسے دیے ہیں۔ اس پرحکومتی وزیر کہتے ہیں کہ ہم کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خلاف میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں آٹا ، چینی ، گھی ، بجلی ، دوائیوں ، پیٹرول مافیا پر اس حکومت کے بیانات اور فیک نیوز کی ایک داستان ہے جس پر اگرکوئی کتاب لکھنے بیٹھے تو صحفے کم پڑجائیں ۔ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں ۔ قانون بنا دے کہ ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے ۔ آج بھی تمام حکومتی وزیر ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ حکومت کو غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جب کہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کیسے لگائیں گے کہ فیک نیوز کونسی ہے؟ کیا فیک نیوز وہ ہوگی جسے حکومت کہہ دے کہ یہ فیک نیوز ہے۔ یعنی حکومت جسے سچ قرار دے، وہ ہی سچ ہو گا۔

    ویسے بھی کون سا صحافی ہے جو چاہے گا کہ وہ فیک نیوز دے ۔ اس ملک میں خبر کی حرمت کی خاطر صحافیوں نے صرف ماریں نہیں کھائیں اپنے گلے تک کٹوائے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی شکل بگاڑنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ۔ اُن سے کون واقف نہیں۔ کئی چینل و اخبارات سخت مالی دباؤ کا شکار ہوکر بند ہوگئے ہیں ہزاروں صحافی بے روز گار ہوگئے اور کئی ادارے مقروض ہوگئے۔ پاکستان صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 138ویں پوزیشن سے145ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے خود ایک فیک نیوز کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اس حکومت میں جو جتنا جھوٹ بولے ۔ جو جتنے اچھےطریقے سے مخالفین کو لتراڑے اس کو اتنا ہی اچھا عہدہ مل جاتا ہے ۔ اس حکومت نے چن چن کر بدتمیز ، اخلاق سے گری گفتگو کرنے والوں ، رنگ بازوں اور نااہلوں کی فوج کو جمع کر رکھا ہے ۔ جس کا کام بس روز دن میں دس دفعہ میڈیا پر آکر لوگوں کی کردار کشی کرنا ہے ۔یعنی جتنا لُچا اتنا اُچا۔ میڈیا پر اس قدر پابندیاں تو شاید ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں لگی تھیں جتنی آج لگائی جا رہی ہیں ۔ لہٰذا حکومت، عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ کیونکہ نہ یہ حکومت صدا رہنے ہے ۔ نہ عہدے صدا رہنے ہیں ۔ نہ کرسی صدا رہنی ہے ۔ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ اس خواہش کا عملی اظہار پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی کر دیا تھا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران بھی خان صاحب کی حکومت ملکی میڈیا کو زیرکرنے اور اپنے ڈھب پر کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہے۔ کئی صحافی اور میڈیا ورکرز لمبے حکومتی ہاتھوں کا ہدف بنے ہیں۔ یہ میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ساری قیادت اور ملک کی نمایاں وکلا تنظیموں نے بھی میڈیا ورکرز کے اس احتجاج میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ وعدہ کہاں تک ایفا ہوتا ہے

  • را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی تاریخ میں ویسے تو ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بہت بڑے بڑے بلنڈرز کیے ہیں ۔ ناکامیوں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ پر سب سے پہلے جو افغانستان میں بھارت کے ساتھ ہوا ہے اسکو آپicing on the cakeکہہ سکتے ہیں ۔ ۔ اب جو بھارت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر میں ان کے سیاسی دفتر میں رابطہ کیا ہے ۔ یہ شکست کا ثبوت ہے ۔ ویسے کوئی خاص دال گلتی بھی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ بھارت نے پہلے دن سے افغانستان میں لنگڑے گھوڑے پر جوا لگایا ہوا تھا ۔ مشورہ کس کا تھا ۔ raw کا ۔ سوال یہ ہے جو بھارتیوں کو مودی اور rawسے پوچھنا چاہیئے کہ مذاکرات ابھی تو شروع نہیں ہوئے ۔ یہ دو تین سال سے جاری تھے ۔ تب انھوں اپنے آپکو کیوں نہیں بدلا ۔ بھارت تو روز اول سے طالبان کو اپنا دشمن نمبر ون سمجھتا رہا ہے ۔
    adviceکس کی تھی ۔ اجیت ڈول اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کی بھئی ۔۔۔ ۔ پھر اشرف غنی ہو ۔ یا شمالی اتحاد والے ان پر خوب پیسہ بھی لگایا گیا ۔ پر یاد رکھیں جب آپ ریس میں لنگڑے گھوڑے پر پیسہ لگا بیٹھتے ہیں تو پھر پیسہ تو ڈوبتا ہی ہے ساتھ آپکی عزت اور ساکھ بھی ساتھ ہی جاتی ہے ۔ تو میں افغانستان کے معاملے میں خاص طور پر rawکا شکر گزار ہوں ۔ جنہوں نے اتنا اچھا کھیلتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں بھی ذلیل کروایا اور مزید یہ آنے والے دنوں میں کروائیں گے ۔ کیونکہ ہم چاہیں بھول جائیں طالبان کو یاد رہے گا کہ کیسے rawنے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچائے ۔ یہ وہ کسی صورت نہیں بھولیں گے ۔ اب بھی جو بھارتی میڈیا rawکے اشاروں پر گند ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے دیکھا جائے تو یہ بھارت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کرے گا ۔ اس کوئی فائدہ بھارت کو نہیں پہنچنے والا۔

    ۔ پھر طالبان نے امریکہ کو چت کر دیا ہے تو اگر rawکے اجیت ڈول اور افسروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بلیک میل یا فائدہ اٹھا لیں گے تو ان کی بھول ہے ۔ اس وقت بھارت جس تنہائی کا شکار ہے شاید ہی کبھی ہوا ہے ۔ یاد کریں یہ وہ ہی بھارت ہے جو کہا کرتا تھا پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیں گے ۔ پر پاکستان کی دنیا بھر میں خوب آو بھگت ہورہی ہے ۔ بھارت کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے ۔ ۔ را ۔۔۔ کے مزید بلنڈرز بتانے سے پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کئی سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی ۔ اب امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دیں گے اور آج یہ سچ ثابت ہوچکا ہے ۔ تو یہ ہوتی ہے انٹیلی جنس ۔۔۔ والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی ۔ نہ ہی اجیت ڈول کو یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کےساتھ ہوا کیا ہے ۔ یہ ان کی سوچ سے بھی آگے کی چیزیں ہیں ۔ ۔ اب آپکو ایک سال پیچھے 2020 میں لیے چلتا ہوں ۔ چین چپ کر آیا ۔ بھارتیوں کی بینڈ بجائی ۔ بندے مارے ۔ علاقوں پر قبضہ کیا ۔ مگر ۔۔۔ بھارت کی نمرون انیٹلی جنس ایجنسی ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ لداخ میں پٹائی کے بعد جو بھارت بدحواس دیکھائی دیا ۔ اور جو اس کی شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب جگ ہنسائی ہوئی اس کی ایک ہی وجہ تھی ۔۔۔ را ۔۔۔ کی ناکامی ۔

    ۔ اس کے بعد سال 2019 بھی بھارت کی ناکامی اور نامرادی کا سال ثابت ہوا ۔ اس سال فروری میں پلوامہ حملہ ہوا جس میں 40 بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ اب یہ میں نہیں اس واقعے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر ، ستیہ پال ملک ، سابق وزیر مملکت دفاع ، جتیندر سنگھ ، اور ممتاز قانون ساز ، گالا جے دیو وغیرہ نے انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ یعنی Rawکا failure تھا ۔ اس وقت مودی نے ۔۔۔ را۔۔۔ کو بچانے کی پوری کوشش کی اور اسی دھن پر زور دیتے رہے کہ پاکستان نے اس پروگرام کو ترتیب دیا تھا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب کو معلوم ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ کی ایک غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے مودی نے دوسری غلطی کی اور پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتا ۔ اور بھارت ایئر فورس پوری دنیا میں ننگی ہوگی ۔۔ مگر پلوامہ پر ۔۔۔ گلف نیوز۔۔۔ نے لکھا تھا کہ جب 2500 فوجیوں کو لے جانے والی 78 بسیں حملہ زدہ علاقے سے گزرتی ہیں تو کچھ منصوبہ بندی اس سے پہلے ہوتی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ منصوبہ بندی تھی ہی نہیں ۔ قافلہ ایک قریبی قطار میں آگے بڑھا ۔ escortکرنے والی گاڑیاں نہیں تھیں ۔ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ قافلے کا اگلا ، پیچھے اور درمیان والا حصہ پیچھے ریڈیو سے مسلسل رابطے میں تھا کہ نہیں ۔ جب بمبار کار ایک سڑک سے ہائی وے میں شامل ہوئی تو کسی کو پتہ نہیں چلا اور ٹارگٹ بس سے ٹکرانے سے پہلے بھی کسی ایک سپاہی کی طرف سے کوئی الرٹ نہیں جاری کیا گیا ۔

    ۔ اب پھر واضح کردوں ۔ یہ میں نہیں کہہ رہا یہ دنیا کہہ رہی ہے ۔ لیکن اُس وقت بھی نہ تو ہندوستانی میڈیا اور نہ بھارتی سیاستدانوں نے مانا کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کی کارنامے تو پتہ نہیں ہیں کہ نہیں ۔۔۔
    بلنڈرز بہت ہیں ۔ مزے کی بات ہے اس واقعہ کے بعد اجیت ڈول نے دوچار بالی وڈ فلمیں بنوائیں۔ اور کھایا پیا سب ہضم ۔۔۔ 2016کی بات کریں ۔ تو اس سال بھی rawکو دو بڑی ناکامیوں کو سامنا کرنا پڑا۔ ایک پٹھان کوٹ اور دوسرا ۔۔۔ اُڑی ۔۔۔ حملہ ۔ اس پر تو بھارتی میڈیا کیا ۔ سرکردہ سیاست دان میں چلا اُٹھے تھے کہ یہ ایک intelligence failure ہے ۔ پھر بھی اجیت ڈول جو ہیں وہ ڈنگیاں مارنے سے باز نہیں آیا اور اس نے سرکار کے خرچے پر بالی وڈ سے درجنوں فلمیں بنوا کر سبکی کو دور کروانے کی کوشش کی ۔ پر سچ کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ۔۔۔ اُڑی اور پٹھان کوٹ ۔۔۔ حملوں میں بھارتی فورسز کو کوٹ تو پڑی ہی تھی ۔ پر ساتھ بھارت کی preimier intelligence agency ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اکتوبر 2005 اور 2011 دہلی بم دھماکے اور 1993 ، 2002 کے دوران ممبئی میں بے شمار دہشت گرد حملے ہوئے ۔ پھر 2003 ، 2006 ، 2008 اور 2011 کے دوران چار واقعات را کی انٹیلی جنس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔2010 اور 2012 میں پونے شہر پر دو بار حملہ ہوا ۔ اکتوبر 2013 کو بہار میں ایک انتخابی جلسے کے دوران بم دھماکے ہوئے ۔ جولائی 2013 میں بہار میں پھر دھماکے ہوئے ۔ مارچ
    2006 اور دسمبر 2010 وارانسی دھماکے ، مختلف بھارتی ریاستوں میں مسلسل بدامنی اور دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں علیحدگی پسند تحریکیں اس حقیقت کی کافی گواہی ہیں کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ اپنے گھر کو پہلے ترتیب دینے کے بجائے اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں دخل اندازی اور مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اچھا یہ تو کچھ بھی نہیں ۔

    ۔ پھر نومبر 2008 میں ممبئی حملے ہوئے ۔ ممبئی کے تاج ہوٹل میں کئی لوگوں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔ جس نے پورے بھارت کو دنگ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ اس دن 11 مقامات پر بیک وقت حملے کئے گئے۔ اور حملہ آور بحیرہ عرب سے آئے۔ ممبئی حملوں نے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ، کم از کم 174 افراد ہلاک ہوئے ، جن میں نو حملہ آور بھی شامل تھے۔ پر ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ سے کسی نے نہیں پوچھا ۔ کہ اتنی بڑی کاروائی ہوگئی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی ۔ پر اس بار پھر ایک ہی کام کیا گیا کہ ملبہ پاکستان پر ڈالو اور بالی وڈ کی فلمیں بناو۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را۔۔۔ کی عزت بچا لی گئی ۔ ۔ اسکے بعد بھارتی پارلیمنٹ پر 2001 میں حملہ ہوا جس کا ذکر ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے۔۔۔ نے ایک اور قومی سلامتی کی غلطی کے طور پر کیا۔اس نے زور دے کر کہا تھا ۔۔۔ پارلیمنٹ پر حملہ reality televison تھا ۔ جس کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ پھر بھارت کے لیے بدقسمت سال 1999بھی تھا ۔ جب کارگل جنگ کے موقع پر بھارت کی خوب ٹھکائی ہوئی ۔ جب پاکستانی شیر جوانوں نے بھارت کو دھول چٹائی اور دنیا بھر کے سامنے ثابت کر دیا کہ بھارتی فوج اسکی خفیہ ایجنسیوں کی اوقات کیا ہے ۔

    ۔ پھر اسی سال ۔۔۔ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہوجاتا ہے ۔ جس کو ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے ۔۔۔ نے اپنے ملک کی قومی سلامتی اسٹیبلشمنٹ کی ایک بڑی سکیورٹی ناکامی کہا ۔ اس وقت بھی بھارت کے
    so called spy master نے چھ دن بعد ہائی جیکروں کی جانب سے بھارتی جیلوں میں بند تین لوگوں کی رہائی کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ ذلت کی گہرایوں میں جا گری ۔ پر ان دنوں معاملوں پر بھی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بالی وڈ فلمیں ہی بنوائیں اور جھوٹی سچی تاریخ لوگوں کو سنوائی ۔ ۔ پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ 1991میں راجیو گاندھی کو بھی بچا سکتا تھا ۔ پھر ناکام رہا ۔ کیونکہ نہ تو ان کی ٹریننگ ہے نہ ہی اہلیت ۔ ساتھ ہی بھارتی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے تامل ٹائیگرز کو جتنی مرضی سپورٹ دی ۔ پرآخر میں وہاں سے بھی بھارت رسوا ہو کر ہی نکالا تھا ۔ ۔ اندرا گاندھی کے دور کی بات کی جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل ہونے سے بھی نہیں بچا پائی ۔ حالانکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے سازش کا پہلے سے علم تھا۔ یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ ہی تھی ۔ جس نے بھارت میں 1975 کی ایمرجنسی لگوائی جس کا اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا ۔۔ تاریخ نے بعد میں ثابت کیا کہ یہ ایمرجنسی ایک مہلک غلطی تھی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ اندرا گاندھی کو ان کی عوامی حمایت اور مقبولیت کے بارے میں غلط اندازے دے رہی تھی۔ جون 1984 میں سکھوں کے خلاف ۔۔۔ آپریشن بلیو سٹار ۔۔۔ کے دوران ۔ را ۔۔۔ ایک بار پھر ناکام ہوگئی کیونکہ وہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل یں سکھ کمانڈر بھنڈرانوالے کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکی۔ اس ۔۔۔ را ۔۔۔ کی جانب سے پانچ گھنٹے کی کارروائی کے بارے میں سوچا گیا تھا جو کہ بعد میں پانچ دن تک بڑھ گئی ۔ اور سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے انڈین آرمی کو ٹینک لانے پڑے۔ اس کے نتیجے میں فوج کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔ ۔ را ۔۔۔ کے اس غلط اندازے کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بعد میں بھاری قیمت چکانی پڑی اور ان کے سکھ محافظوں نے انہیں گولیاں ماریں ۔ ۔ تو یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کے کارنامے نہیں کرتوت ہیں ۔ بھارت کے ٹیکس دینے والی عوام کو چاہیئے کہ وہ اس بارے اپنی حکومت سے بھی اور اس جاسوس ایجنسی کا بھی احتساب کرے کہ یہ کیا گل کھلاتی رہی ہے ۔ ماضی میں بھی اور اب بھی ۔ ۔ پھر بھارت کی انٹیلی جنس ناکامیوں کا اصل جھومر تو 1962میں ہوا ۔ کیونکہ ہندوستان کو کبھی شبہ تک نہیں تھا کہ چین حملہ کرے گا ، لیکن اس نے ایسا کیا۔

    ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے یقین دہانی کہ چین کبھی بھی حملہ نہیں کرے گا اس چیز نے بھارتی فوج کو تیار ہی نہیں ہونے دیا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بھارت کو خوب مارپڑی ۔ اس جنگ میں تین ہزار سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ سولہ سو سے زائد لاپتہ ہوئے اور تقریباً چار ہزار چینی فوج نے جنگی قیدی بنا لیے ۔ جبکہ مقابلے میں چین کے صرف
    722 فوجی ہلاک ہوئے اور 1697 زخمی ہوئے۔

    ۔ پھر ہندوستانی سیاسی قیادت بیرونی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی دوڑتی دیکھائی دی ۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ، جواہر لال نہرو نے مایوسی میں امریکہ کو دو خط لکھے تھے۔ جس کے تحت لڑاکا طیاروں کے 12 سکواڈرن اور جدید ریڈار سسٹم کی درخواست کی گئی۔ نہرو نے یہ بھی کہا کہ ان طیاروں کو امریکی پائلٹوں کے ذریعے اُڑایا جائے جب تک کہ ہندوستانیوں کو ان کی جگہ لینے کی تربیت نہ مل جائے۔ یہ درخواستیں کینیڈی انتظامیہ نے مسترد کر دی تھیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے ہندوستانی افواج کو غیر جنگی مدد فراہم کی اور ہوائی جنگ کی صورت میں بھارت کی مدد کے لیے کیریئر“USS Kitty Hawk” کو خلیج بنگال بھیجنے کا ارادہ کیا۔۔ دراصل اس وقت بھی بھارتی ایجنسیوں نے شدنی چھوڑی تھی کہ تبت میں 1959 کی بغاوت ہوئی تو نئی دہلی نے دلائی لامہ کو پناہ دینے ٹھان لی ۔ جس کے بعد یہ واقعہ ہوا ۔ اور چین نے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد کروادیا ۔ یوں اس جنگ کی ہار کا دکھ لیے ہی نہرو اس دنیا سے چلے گئے ۔

    ۔ دراصل دیکھا جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ کی ناکامیوں سے پوری کی پوری ایک تاریخ بھری پڑی ہے جس کی قیمت بھارت نے ہمیشہ ادا کی ہے ۔ مگر بعد میں بھارتی حکومت نے صرف فلمیں ہی بنوائیں ہیں ۔ اس لیے امید ہے جلد مودی ، راج ناتھ سنگھ اور اجیت ڈول افغانستان سے آخری 150سے 200بھارتی کیسے نکالے اس پر بھی کوئی فلم بنوا ہی دیں گے ۔

  • ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ،تحریر: نوید شیخ

    ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ،تحریر: نوید شیخ

    افریقہ میں ivory coastایک چھوٹا سا ملک ہے ۔ مگر یہاں پر ایک ایسا جزیرہ ہے جو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ جہاں سیاحوں کا جم گھٹا لگا رہتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تیرا ہوا جزیرہ ہے ۔ آپ اس کو سمندر میں جہاں مرضی لے جائیں اور جو مرضی نظارے کریں ۔ یہ انسان نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ۔ دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا جزیرہ ہے۔ یہ عابدجان lagon
    کے مرکز میں واقع ہے۔ ۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ جزیرہ پانی کی خالی بوتلوں سے بنا ہے اور اس میں تمام وہ سہولیات موجود ہیں ۔ جو کسی اچھے اور بڑے ہوٹل میں ہوتی ہیں ۔ بلکہ یہ کسی بڑے ہوٹل سے بھی زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ ماحول دوست ہے ۔ یہاں تک کہ انسانی فضلہ بھی اس جزیرے پر recycle کیا جاتا ہے ۔پھر جو کچھ آپ کسی ہوٹل میں انجوائے کرتے ہیں اور اس میں کر سکتے ہیں جیسا کہjackozi poolrelaxations areasbarsResturantWIFIAC۔ یہ ہوٹل واقعی ایک مصنوعی جزیرہ ہے جو تیرتا ہے۔ اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگی منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مصنوعی جزیرہ یا ہوٹل کو تعمیر کرنے میں 8 لاکھ خالی پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال ہوا ہے ۔

    ۔ جس شخص نے اس کو تعمیر کیا ہے وہ ایک فرانسیسی ہے اس کا نام ہے ۔Eric Beckerاور اب یہ اس وقت ایک کامیاب کاروبار کر رہا ہے ۔ericکا کہنا ہے کہ اس جزیرہ کو بنانے میں چھ سال لگے ہیں ۔ 2018میں یہ مکمل ہوا تھا ۔ یہ تیرتا جزیرہ ایک ہفتے میں 100سے زائد لوگوں کی مہمان داری کرتا ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے ماحولیاتی ادارے ، میگزین اور نیوز چینلرز اس شخص پر ڈاکیومینٹری بنا چکے ہیں ۔ کیونکہ اسکا یہ آئیڈیا ایک جانب تو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا رہا ہے دوسرا اس آئیڈیا کی وجہ سے coastal lineکی صفائی ہورہی ہے ۔ eric
    مسلسل beachesسے کچرا خود بھی اکٹھا کرتا ہے اور اس میں اسکی لوکل لوگ مدد بھی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس پلان اس جیسے اور بہت سے جزیرے بنانے کا ہے ۔

    ۔ اب جو مقامی باشندے ہیں وہ eric beckerکو “Eric plastic jug”کہہ کر پکارنا شروع ہوگئے ہیں ۔ ivory coast پر Mr. Eric Becker آئے تو کوئی کام دھندہ کرنے مگر ان کو یہاں گند اور غلاظت ہی دیکھائی دیا ۔ ایک کے بعد ایک تیرتی ہوئی خالی بوتل انکو پانی میں دیکھائی دیتی تھی۔ پھر ایک دن اس نے اسی کوڑے کرکٹ کو استعمال کرکے ایک جنت نما تیرتے ہواجزیرہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس نے اپنے غیر معمولی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی تقریبا ہر چیز بیچ دی۔ شروع میں لوگ اس کو پاگل اور بے وقوف سمجھتے تھے ۔ پر جب یہ جزیرہ بن گیا تو سب حیران بھی ہوئے ۔ اور یہ ہی حیرانی ericاوراسکے جزیرے کی شہرت کا باعث بنی ۔۔ اس جزیرے کی تعمیر میں اس کا پہلا قدم اتنا زیادہ تیرتا ہوا کچرا ڈھونڈنا شامل تھا جتنا کہ وہ اپنے ہاتھ میں اٹھا سکتا تھا – ۔ اس کو بنانے کے لیے eric becker نے تیرتی ہوئی ہر چیز کو اکٹھا کیا۔ پلاسٹک کی بوتلیں ، polystyrene scraps, tap shoes وغیرہ ۔ یہ ایک محنت طلب مشق تھی جو بالآخر اس معاملے میں مہارت کی صورت اختیار کر گئی ۔

    ۔ اس جزیرے کی عمارتیں پلاسٹک سے بنے پنجروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئیں۔ اس کے بعد انہیں لکڑی اور سیمنٹ کی ہلکی پرت سے ڈھانپ دیا گیا۔ جس سے پوری چیز لکڑی کی تعمیر کا تاثر دیتی ہے ۔ پلاسٹک کا فضلہ صرف زمین کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 260 میٹر لمبا circular bridge کشتیوں کے لیے ساحل کا کام کرتا ہے۔ اس کا کل وزن 200 ٹن ہے۔

    ۔ اس جزیرہ میں موجود عمارت کو توانائی فراہم کرنے کے لیے سولر پینل اور جنریٹر نصب کیے گئے ہیں ۔ پینے کے پانی کے لیےعمارت کو زمین سے جوڑنے کے لیے پائپ لگائے گئے ہیں۔ جزیرے میں ایک بار ریستوران ، دو سوئمنگ پول ، ایک چھوٹا سا پل ، گھروں میں دو کھلے بنگلے ، مختلف درخت ، اور ایک walk way ہے جو تیرتے ہوئے ڈھانچے کے مرکز سے باہر نکلتا ہے ۔ جو 1000 مربع میٹر پر محیط ہے۔۔ اس resortپر لوگوں کو کشتی کے ذریعے جزیرے پر لایا جاتا ہے۔ اس جزیرے پر ایک دن کا کرایہ 100ڈالر چارج کیا جاتا ہے – جس میں کھانا اور فیری ٹرپ بھی شامل ہے -۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مختلف قسم کا جزیرہ ہے۔ نہ صرف اس کی تیرتی فطرت کی وجہ سے ، بلکہ اس کے بنیادی مواد کی وجہ سے بھی۔ یہ مصنوعی جزیرہ ایک حقیقی تجسس ہے ۔ ۔ اگر دیکھا جائے تو eric نے صرف ایک آئیڈیا سے سوچ کا انداز بدلنے کے ساتھ ساتھ ۔ بڑھتی آلودگی سے نمٹنے کا ایک ایسا فارمولہ دے دیا ہے جس سے دنیا بھر کی آبی گزرگاہوں ، جھیلوں ، ندی نالوں اور جزیروں کو نہ صرف صاف کیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ اس پلاسٹک فضلے سے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں بنائی جاسکتی ہیں ۔ جو فائدہ بھی دے سکتی ہیں اور کارآمد بھی ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ خوبصورتی یہ ہے کہ ہم پلاسٹک کی بوتلوں سے کسی آلودگی کو کسی اچھی چیز میں بدل دیں۔ plastic waste recycling plants بنائے جاسکتے ہیں ۔ جوبہت سے چیزیں بنانے میں کام آسکتا ہے ۔ جب آپ پلاسٹک کی بوتلوں سے جزیرے بنا سکتے ہیں تو کشتیاں بھی بنائی جاسکتی ہے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں ہونگی یقینی طور پر جو بنائی جاسکتی ہوں ۔ ایک چیز جو میں نے بھی اور آپ نے بھی اکثر گھروں میں دیکھی ہو گی کہ لوگ پلاسٹک کی بوتلوں کو پودے لگانے کے لیے بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے بہت سی turtorial videos بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں ۔ Eric Becker کی ایک کہاوت ہے کہ “One man’s trash is another man’s treasure,”یعنی "ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ ہے”۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ eric نے ماحول کو صاف کرنے اور ناممکن کو ممکن کرنے کے علاوہ بہت لوکل لوگوں کو روزگار بھی مہیا کر دیا ہے اور اس چھوٹے سے آئیڈیا کی بدولت اور اس کے جزیرے کی بدولت ivory coast کو دنیا بھر میں مشہور کروادیا ہے ۔

    ۔ سبق ہم سب کے لیے یہ ہے کہ انسان اس دنیا کو بہتر بنانا چاہے تو صرف ایک پلاسٹک کی خالی بوتل ہی کافی ہے

  • حکومت ہر محاذ پر ناکام ، تحریر:نوید شیخ

    حکومت ہر محاذ پر ناکام ، تحریر:نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔ جلسے جلوسوں، احتجاجوں اور مظاہروں سے نہ تو اسے کوئی فرق پڑتا ہے نہ حکومت ان کو اتنی اہمیت دیتی ہے ۔ کیونکہ حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔۔ اب اس صورتحال میں پی ڈی ایم دوبارہ سے احتجاجی تحریک شروع کرنے جارہی ہے ۔ یہ تھوڑا سمجھ سے باہر ہے ۔

    ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ایک جانب وکلاء احتجاجی تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کی پولیس سے مڈبھیڑ شروع ہو چکی ہے۔ مہنگائی اور گورننس کی تو کیا بات کرنی ۔ اس کو چھوڑ ہی دیں ۔ یہ ہماری سیاسی اشرافیہ کامسئلہ ہی نہیں ہے ۔ پر اس سب کے باوجود حکومت کو کوئی فرق پڑتا نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ کسی سے بھی پوچھ لیں حکومت اپنے پیروں پر مضبوط کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ پر اپوزیشن جماعتوں کے جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم اپنی تحریک کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پی ٹی ایم میں دراڑ تو کافی عرصے پہلے کی پڑی ہوئی ہے ۔ س حوالے سے حکومت کو مریم نواز اور نواز شریف کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ کہ انھوں نے ناممکن کو ممکن کر دیکھایا ۔ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے بغیر پی ڈی ایم ایسی ہی ہے جیسے کھیر میٹھاس کے بغیر ہو۔ اب آپ دیکھیں جہاں حکومت پی ڈی ایم کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے تو پیپلزپارٹی والے تو ان کی بینڈ بجاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    ۔ اب پی ڈی ایم کا حالیہ کراچی جلسہ تو کافی بڑا تھا ۔ اسلام آباد مارچ کا بھی اعلان ہوچکا ہے ۔ شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان ، نواز شریف اور دیگر نے بلند و بانگ دعوے بھی خوب کیے ہیں ۔ مگر قوم دوبار پہلے بھی ان کی احتجاجی تحریکوں اور اسلام آباد پر چڑھائی کو دیکھ چکی ہے ۔ اس لیے حکومت سے شکایتیں اپنی جگہ پر اپوزیشن کی کارکردگی بھی کوئی خاص خاطر خواہ نہیں رہی ۔ یوں پی ڈی ایم بارے یہ کہنا کہ آج بھی یہ ایک مقبول سیاسی اتحاد ہے تو مجھے اس پر کچھ خاص بھروسہ نہیں رہا ۔ ایک سیاسی تحریک کے لئے جو ایندھن چاہیے ہوتا ہے ۔ وہ اس وقت موجود ہے اور یہ خود حکمرانوں نے فراہم کیا ہے۔ پر اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں کے پاس ایک لگثرری ہوتی ہے کہ یہ جب چاہیئں یہ کہہ کر موقف بدل لیتے ہیں کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا ۔ تو اس بار بھی ممکن ہے کہ یہ پی ڈی ایم والے سجی دیکھا کر کھبی مار جائیں اور عوام یوں ہی منہ تکتے رہ جائیں ۔ تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ورکرز وغیرہ تو نکلیں گے ۔ خوب ہلہ گلہ بھی ہوگا ، تقریریں بھی ہوں گی ۔ میڈیا پر برینگنگ نیوز کے پھٹے بھی چلیں گے ، تجزیے بھی ہوں گے ۔ مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ حکومت جہاں کھڑی تھی وہاں ہی کھڑی رہے گی اور پانچ سال عزت کے ساتھ پورے کر گی ۔ بلکہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بن جائیں جو اپنے پانچ سال پورے کرے ۔ اس طرح کرکٹ کے ساتھ ساتھ وہ سیاست میں بھی ایک نیا ریکارڈ بناتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ آپ پراپیگنڈہ کہہ لیں ۔ میڈیا ہینڈلنگ کہہ لیں ۔ عمران خان کی حکومت اس معاملے میں کامیاب ضرور دیکھائی دیتی ہے کہ لوگوں کو اب بھی اس سے امیدیں وابستہ ہیں ۔ چاہے مہنگائی ریکارڈ توڑ رہی ہے ۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔ گورننس کی صورتحال خراب ہے ۔ پر اس سب کے باوجود ابھی تک عوام اپوزیشن کے بیانیے کو own کرتے دیکھائی نہیں دیتی ۔ الٹا سوشل میڈیا پر تو اکثر خوب تنقید کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ یوں لوگ ابھی بھی ملک لوٹنے والوں اور احتساب کے قصے پھنسے دیکھائی دیتے ہیں ۔ حالانکہ احتساب ہوتا کہیں دیکھائی نہیں دیتا ۔ اور شاید لوگوں نے یہ بھی کڑوی گولی سمجھ کر نگل لی ہے کہ جہاں تین سال عثمان بزدار اور محمود خان کے ساتھ گزارا کر لیا ہے اگلے دو سال بھی کر لیں گے ۔ کہ ایک بار اس حکومت کو پانچ سال پورے کر ہی لینے دیں ۔ پھر ان سے کارکردگی کا حساب مانگیں گے ۔ پھر ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم اپنا تمام اخلاقی جواز تب کھو بیٹھتی ہے جب نواز شریف تقریر کرنے آتے ہیں ۔ ان کی توپوں کو جو رُخ اسٹبلشمنٹ کی جانب ہوتا ہے ۔ اس سے ہر بار شہباز شریف کی جانب سے کی ہوئی محنت پر پانی تو پھر ہی جاتا ہے ۔

    دوسرا آپ لاکھ توجیہات دے دیں لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ نوازشریف بیماری کا بہانہ کرکے باہر بیٹھے رہیں اور خواہش ان کی ہو کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں یا ان کی پارٹی کو حکومت مل جائے ۔ اس سوشل میڈیا کے دور میں لوگوں کو یوں بے وقوف بنانا ممکن نہیں ۔ میرے خیال میں اگر نواز شریف یوں دن دیہاڑے بیماری کا بہانہ کرکے نہ بھاگتے اور پاکستان میں ہی رہتے تو ن لیگ کی سیاست کو زیادہ فائدہ پہنچتا ۔ باہر جا کر انھوں نے ایک تو حکومت کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ سیاسی پوائنٹ سکورننگ کریں ۔ پھر جو وہ کبھی کافی پیتے ، چل قدمی کرتے ، پیزے کھاتے ، پولو میچ دیکھتے اور کبھی نواسے کی شادی پر ہٹے کٹے دیکھائی دیتے ہیں تو پھر لوگوں نے تو سوال کرنے ہی ہیں ۔ یعنی اب نوازشریف کے پاس چاہے کہنے کو بہت کچھ ہو۔ پر لندن میں بیٹھ کر کچھ بھی کہنے کا ہر اخلاقی جواز وہ کھو چکے ہیں۔

    ایک حوالہ مریم نواز کا بھی ہے ۔ آپ دیکھیں جہاں جہاں مریم گئیں ۔ اس چیز کا بیٹرو غرق ہی ہوا ۔ چاہے ن لیگ کی اپنی حکومت ہو ۔ گلگت بلتسان ، کشمیر اور ضمنی الیکشن ہوں ۔ غرض جس جس معاملے میں مریم نواز آگے ہوئیں وہاں وہاں ن لیگ کو سبکی ہوئی ۔ دیکھا جائے تو پی ڈی ایم کا زوال بھی لاہور جلسے سے ہوا ۔ کیونکہ یہ کافی مایوس کن کارکردگی تھی ۔ لوگ بہت کم تعداد میں آئے ۔ جس کا نقصان پی ڈی ایم کی تحریک کو ہوا ۔ لوگوں نے اس وقت ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ مریم نے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ اب کی بار یہ مریم کو ہٹا کر شہباز شریف کو آگے تو لےآئیں ہیں ۔ پر لگتا نہیں ہے کہ اکیلے شہباز شریف خود کچھ کر پائیں گے ۔ کیونکہ مریم اور نواز شریف نے اپنی spoilerکا کردار ادا کرنے والی جبلت سے رکنا نہیں ۔ پر اس سب میں مولانا فضل الرحمان کی پوزیشن دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے تو سب سے اہم بیان اور حوالہ شیخ رشید کا ہی دیا جاسکتا ہے ۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں studentsکی آمد سے کسی کا کچھ بنے یا نہ بنے ۔ مولانا فضل الرحمان کو البتہ ریلیف ملتا دیکھائی دیتا ہے ۔ یقیناً ان کے قد کاٹھ میں بھی مزید اضافہ ہوا ہے ۔ جس کا فائدہ ان کو آنے والے الیکشن میں ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کچھ تو یہ کہہ بھی رہے ہیں کہ شاید 2023کے بعد کے پی کے یا بلوچستان میں سے کسی ایک صوبے میں مولانا حکومت بھی بنا لیں ۔ مگر یہ چیز ابھی قبل ازوقت ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ پی ڈی ایم کا اس وقت کوئی چانس نہیں ہے کہ وہ حکومت کوکوئی ڈینٹ ڈال سکے ۔ ہاں البتہ جنرل الیکشن میں شاید یہ کوئی نقب لگانے میں کامیاب ہوجائیں تو علیحدہ بات ہے ۔ اس لیے مجھے پی ڈی ایم کا یہ نیا ریلا حکومت گرانے سے زیادہ الیکشن تیاری لگتا ہے ۔ حکومتی محاذ پر دیکھا جائے تو وزیرِ اعظم عمران خان ،حکومتی وزیر و مشیر اورپی ٹی آئی کے حامی ،سب کے نزدیک ملک ترقی کررہا ہے اور پی ٹی آئی حکومت گذشتہ ادوار میں قائم ہونے والی حکومتوں سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے ملک چلا رہی ہے۔یہ بہت حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی ہے کیونکہ جب آپ کو ہر چیز ہی ٹھیک دیکھائی دے گی تو آپ بہتری کیا لائیں گے۔ حالانکہ کوئی عوام سے ان کے دل کا حال پوچھے تو وہ بتائیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ۔

    ۔ یوں اگر موجودہ حکومت کے اِن تین برس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ ایک جو سب سے بڑا مسئلہ اس حکومت کا رہا ہے کہ وہ یہ ہے کہ عمران خان ہر مسئلہ پر تجزیہ تو پیش کرتے رہے مگرمسئلہ کے حل کی جانب بڑھتے دکھائی نہیں دیے۔ پھر جن مسائل کی کی طرف بڑھنے کی کوشش بھی کی تو وہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو کر رہ گیا۔ بعض سماجی سطح پر جنم لینے والے اَلمیوں پر ایسے سخت بیانات اور ایسا ردِعمل دیا کہ خود کو فریق بنابیٹھے۔ اس کی مثال ہزارہ برادری پر ٹوٹنے والی قیامت کی دی جاسکتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اِن تین سالوں میں منصوبے ضرور بنائے ہیں۔ پر ان پر عمل نہیں کرسکے۔ جیسے وزیر اعظم نے ہسپتال تعمیر کیے،سڑکیں بنائیں،پُل بنائے ،ٹرانسپورٹ کا نظام درست کیا، تعلیمی ادارے قائم کیے ،فیکٹریاں کھڑی کیں،زراعت کے شعبے کو ترقی دی ،نوجوانوں کو نوکریاں دیں،بے روزگاری کا خاتمہ کیا،غربت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بیانات کی حد تک تو ہوا ہے ۔ گراونڈ پر کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔ دیکھا جائے تو حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ہی اپنی گیم کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ عوام سیاست سے بیزار ہوچکے ہیں۔ یوں حکومت تین سال کاجشن منا چکی ہے اب اگلے دوسال مکمل کرنے پر ’’عظیم کامیابی‘‘کا جشن منایا جائے گا اور اپوزیشن اپنے رٹے جملوں کو دُہرائے گی اور سمجھے گی کہ عوام کی ترجمانی کا خوب حق ادا کیا۔

  • بھارت پاکستان سے ایک بار پھر ہار گیا !!!.تحریر: نوید شیخ

    بھارت پاکستان سے ایک بار پھر ہار گیا !!!.تحریر: نوید شیخ

    افغانستان کے بارے عموما لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہاں پر امریکی ، اسکے اتحادیوں اور طالبان کے مابین ایک جنگ وجدل جاری تھی ۔ یعنی صرف دو حریف تھے ۔

    ۔ پر رکیں ۔ کہانی میں زرا twist ہے ۔ افغان سرزمین پر دو ممالک اور بھی تھے جو ایک دوسرے سے نبر آزما تھے ۔ ایک بھارت اور پاکستان ۔۔۔ ۔ سب سے پہلے اگر کسی دل میں یہ خیال ہے کہ بھارت افغانستان میں ڈولیپمنٹ کرنے کے لیے بیٹھا ہوا تھا ۔ وہاں ڈیم بننا اور انکی پارلیمنٹ کی بلڈنگ بننا، سڑکیں بننا ہی اسکا کام تھا ۔ تو میں اسکی سادگی پر ہنس ہی سکتا ہوں ۔

    ۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ اتنے شاید بھارتی افغانستان میں نہیں تھے ۔ مگر انکے کونسل خانے افغانستان کے ہر شہر میں تھے ۔ پھرشہر بھی وہ جو پاکستانی سرحد کے قریب ہوں ۔ بھارت کی چالوں بارے تو پاکستان کو پہلے ہی پتہ تھا ۔ اور ہمارا دفتر خارجہ اس بارے بھارت کو دنیا میں ایکسپوز بھی کرتا رہا ہے ۔ ٹی ٹی پی سے لے کر بی ایل اے اور اس جیسی دیگر تنظیموں ۔۔۔ ان کا سب کا ماسٹر مائنڈ بھارت تھا ۔ ۔ اب یہ جو آہ وبکا بھارت میں جاری ہے اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ حقیقت میں پاکستان نے بھارت کو افغانستان میں چت کر دیا ہے ۔ ۔ اس وقت سہیل شاہین ہوں ، ذبیح اللہ مجاہد ہوں ، یا شہباب الدین دلاور سب بھارت کو باری باری اسکی افغانستان میں اوقات اس لیے دیکھا رہے ہیں ۔ کہ بھارت اب نئی گیم کھیلانا شروع ہوگیا ہے ۔

    ۔ بھارت اب دنیا کو یہ باور کروانے کے چکروں میں ہے کہ پاکستان اورافغان طالبان مل کر بھارت پر حملہ آور ہوں گے ۔ کبھی یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ مسعود اظہر طالبان سے ملے ہیں تو کبھی ان کو امر اللہ صلاح انقلابی لیڈر دیکھائی دینا شروع ہوجاتا ہے ۔ وجہ صرف ایک ہے ۔ جو طالبان نے کلیئر کر دی ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونا دیں گے ۔ اس کا دکھ سب سے زیادہ بھارت کو ہے ۔ ۔ یہ تین بلین ڈالرز کا اس کو اتنا دکھ نہیں ہے ۔ اصل سرمایہ کاری اس کی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے والی ڈوبی ہے ۔ ۔ اب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دراصل بھارت افغان فورسز کو ٹریننگ دیتا ہی نہیں تھا ۔ یہ کرتے کچھ یوں تھے ۔ ان افغانوں کو electکرتے تھے جن کا تعلق پاکستان اور افغانستان دونوں سے ہوتا ۔ پھر انکو بھارت لے جا کر ۔ ان کو پاکستان کے خلاف کاروائیاں کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ۔ ذہن سازی کی جاتی ۔ اور جب کوئی ایسا مشن ہوتا تو ان کو افغانستان بھیج دیا جاتا ۔ اور یہ وہاں سے پاکستان پہنچ کر اپنا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچاتے ۔ اس میں امراللہ صالح نے بھارت کا پورا پورا ساتھ دیا ۔ کیونکہ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا ۔ یوں بھارتی ۔۔۔ را۔۔۔ اور این ڈی ایس کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کا مغربی بارڈر بھی destablizeکرنے میں لگی ہوئی تھی ۔ پر اب اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان اس امتحان میں بھی سرخرو ہوچکا ہے ۔ اس طرح ایک اور محاذ پر پاکستان نے بھارت کو شکست فاش دے دی ہے ۔

    ۔ یہ فتح بھی ان گمنام جوانوں اور سپاہیوں کے نام ہے جن کو کوئی نہیں جانتا ۔ کیونکہ یہ جنگ ٹینکوں اور طیاروں اتار کر نہیں لڑی گئی ۔ پس پردہ رہ کر کام کرنے والوں نے جیتی ہے ۔ یہ کام انٹیلی جنس ایجنسیز اور سفارت کاروں نے کیا ہے۔ ۔ اسی لیے کابل میں سابقہ ہندوستانی سفیر گوتم نے طالبان کے قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغان چہرے کے ساتھ پاکستان کی پیش قدمی ہے۔۔ اب دنیا بھی اس بات کو مان رہی ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں فتح ملی ہے اور انڈیا افغانستان میں بیس سال لگا کر بہت لوگوں کی ذہن سازی کرکے 14 قونصل خانے کھول کر، ہزاروں افغان طالب علموں کو وظیفے دے کر اور سب سے زیادہ یہ کہ تین ارب ڈالر خرچ کرکے بھی ہار گیا ہے اور اب اس کی حکومت جو ایک سکتے کی کیفیت میں ہے۔ آئندہ کے لیے وہ راستے ڈھونڈ رہی ہے۔ ۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ ابھی مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اس وقت بھارت ان کوششوں میں ہے کہ کسی طرح ان ٹی ٹی پی والوں کو طالبان سے منحرف کرکے داعش کی چھتر چھایا میں لیا جائے ۔ اور پھر وہاں سے نئی گیم کا آغازکروایا جائے ۔

    ۔ جہاں طالبان اپنے آپ کو ایک سخت گیر ملیشیا سے زیادہ سیاسی قوت بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ اب انکے خلاف افغانستان کے اندر سے ہی نئی سازش رچی جارہی ہے ۔ جس میں
    ISIS-Kکو ایک ایسی طاقت بنانے کی کوشش جاری ہے ۔ جس میں TTP سمیت تمام طالبان مخالف طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا ۔ اگر یہ ہوجاتا ہے تو یہ خطے میں ایک اور نئے گھناونے کھیل کا آغاز ہے۔۔ حالانکہ دیکھا جائے تو افغانستان میں جنگ تو ختم ہوچکی ہے ۔ امن آچکا ہے ۔ اب یہ نئے سرے سے پھر سے جنگ کی شروعات کرنے کی کوشش کی جاری ہے ۔ ۔ جوبائیڈن بھی دنیا کو بتا رہا ہے کہ بہت زیادہ یہ اسلامک اسٹیٹ والے افغانستان میں آگئے ہیں۔ یہ اور حملے بھی کریں گے ۔ اس لیے ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے ۔ ۔ اب رک جائیں سوال یہ ہے کہ داعش یا اسلامک اسٹیٹ کو افغانستان میں چلا کون رہا ہے ۔ تو 8 اکتوبر 2020 کو فارن پالیسی میگزین نے لکھا تھا کہ انڈینز اور سینٹرل ایشیائی لوگ اسلامک اسٹیٹ کا نیا چہرہ ہیں۔۔ یہ لکھتا ہے کہ شام میں جاری عالمی جہادی تحریک میں بھی ہندوستانی اور وسطی ایشیائی لوگوں کا ایک اہم رول تھا۔۔ اقوام متحدہ کی جون کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا سے پہلے کچھ مہینوں میں آٹھ سے دس ہزار جہادی جنگجو وسط ایشیائی ریاستوں سے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ طالبان اور زیادہ تر اسلامی ریاست خراساں میں شامل ہوئے۔

    ۔ اب یاد کریں وہ اسٹوری جس میں بھارتی بینک دہشتگردی کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث نکلے تھے۔ پھر اجیت ڈول کے بیانات کو ملا لیں تو ساری کہانی آپکو خود سمجھ آجائے گی ۔ ۔ نئی گریٹ گیم شروع ہو چکی ہے ۔ یہ BRI اور greater euroasia partnership vs B3W بھی ہے ۔ اور روس چین ایران پاکستان بمقابلہ امریکہ نیٹو اور بھارت بھی ہے۔ ۔ دیکھا جائے تو اگر طالبان دیگر دہشت گرد گروہوں کو عالمی دہشت گردی سے نہیں روک پائے تو پھر عالمی طاقتیں وہی کریں گی جو داعش کے خلاف انہوں نے عراق اور شام میں 2014ء میں کیا۔ بوٹ زمین پہ رکھے جائیں نہ جائیں لیکن ہوائوں سے گولہ باری جاری رہ سکتی ہے۔

    ۔ اس لیے طالبان اور اُن کی تاریخ ساز فتح پھر واضح طور پر حملہ آور کا ہدف معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے کہ جب وہ فتح کے ثمر سمیٹ اور سنبھال رہے ہیں اور حکومت سازی کی شکل میں اپنی بےمثال عسکری، سیاسی اور سفارتی کامیابیوں کے بعد پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔

    ۔ دشمن کا ارادہ مکمل بےنقاب ہے کہ انہیں یہ نہ کرنے دیا جائے اور پھر سے جنگ و جدل میں اُلجھا دیا جائے ۔ ۔ باوجود اس کے کہ وہ عام معافی کا اعلان کر چکے اور ان کی تبدیلی بھی واضح ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پُرامن افغانستان کے دشمن کی یہ آخری کوشش کتنی کامیاب ہوتی ہے؟ ۔ خدشات و خطرات تو بہت ہیں، کابل ایئرپورٹ حملوں کے بعد پورے افغانستان ہی نہیں خطے کے ممالک میں بھی تشویش کا درجہ پھر بہت بلند ہو گیا ہے۔۔ اس وقت ہم پاکستانیوں کو دعا کے ساتھ اپنی کوشش تو کرنی ہی ہے کہ بے پناہ مشتعل یا انتہائی مایوس ہو کر امریکی انتظامیہ، نیٹو اور خود طالبان کوئی غلط فیصلہ نہ کرلیں۔ ۔ اس حوالے سے پاکستان کے فیصلہ ساز ناصرف یہ کہ اپنی انفرادی صلاحیتوں کو مکمل بروئے کار لائیں بلکہ دوستوں کے اشتراک سے ’’پُرامن و مستحکم افغانستان‘‘ کے لئے سفارتی کوشش اور باہمی مذاکرات کو کامیاب کروایا جائے ۔ کوئی راہ نکالی جائے۔ بلیم گیم اور مہلک شک و شبہ سے بچا جائے۔۔ اِس مرتبہ پاکستان اپنی مرضی سے یہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ یاد رکھیں اسلام آباد پر کوئی کچھ مسلط نہیں کر سکتا بلکہ بڑے بڑے کرداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پاکستان سے تعاون لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔

    ۔ سانحہ کابل ایئر پورٹ کے حوالے سے امریکہ نے ہنگامی اور تشویشناک صورت حال میں پاکستان سے تعاون کی جو درخواست کی اور پاکستان نے اسے فوری تسلیم کرکے جو ہنگامی انتظامات کئے ہیں وہ دونوں ملکوں میں افغان مسئلے کی پیچیدگیوں کو طوالت سے پیدا ہونے والے باہمی اعتماد میں ہوئی کمی اور شک و شبہات کو دور کرنے میں معاون ہوں گے لیکن پاکستان کے شہروں کراچی، اسلام آباد، ملتان اور فیصل آباد میں امریکی فوجیوں یا شہریوں اور دوسرے غیر ملکیوں کی آمد اور ہوٹلز میں قیام کو محفوظ بنانا پاکستان کے لئے بڑا انتظامی چیلنج ہے۔

    ۔ خصوصاً داسو کے چینی انجینئروں پر ہلاکت خیز خود کش حملے، جوہر ٹائون کے بم دھماکے اور گوادر میں چینی ماہرین پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یہ سہولت اور مہمان نوازی ریاستِ پاکستان کے لئے چیلنج ہی نہیں ایک بڑا انتباہ بھی ہے۔ ۔ اس حوالے سے سارا انحصار صوبائی حکومتوں کے سیکورٹی انتظامات پر ہی نہیں خود وفاقی حکومت اور ہمارے سیکورٹی اداروں کو مکمل الرٹ رہنا ہوگا۔ ۔ فی الحال میرے خیال میں خطے کے تمام ممالک اگر مل کر رہے تو یہ داعشی دہشتگردی صرف وقتی چیلنج ہے اور انشاء اللہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا۔

  • امریکہ نے کیا غلطیاں کیں ؟؟ طالبان اچھے کیوں ہیں ؟؟ طعنے دینے والوں کو صاف جواب

    امریکہ نے کیا غلطیاں کیں ؟؟ طالبان اچھے کیوں ہیں ؟؟ طعنے دینے والوں کو صاف جواب

    ۔ اچھا ایک چیز جو میں کمنٹس میں ، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پرمسلسل دیکھ رہا ہوں کہ لوگ بہت طعنے دے رہے ہیں کہ شاید ہم طالبان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ مشورے دے رہے ہیں کہ اتنے اچھے آپکو طالبان اور ان کا نظام لگتا ہے تو افغانستان چلے جائیں تو ۔ میں آپکو بتاوں ہو کیا رہا ہے ۔

    ۔ ہم بھی اور بھی کئی لوگ کئی دنوں سے کہہ رہے تھے کہ یہ نظر آرہا ہے کہ طالبان نے افغانستان پر غلبہ حاصل کرکے وہاں حکومت بنا لینی ہے تو ہم نے رپورٹ تو کرنا ہے جو دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اور فورس آتی ہے اور وہ طالبان کو ہٹاتی ہے تو ہم وہ بھی رپورٹ کریں گے ۔ تو اس چیز کو ذہن میں رکھیں ۔ اب اچھی چیزیں سامنے آرہی ہیں تو اچھا ہی رپورٹ کریں گے ۔ جب بری آئیں گی تو بڑا بھی رپورٹ کریں گے ۔۔ دوسرا جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم بڑے خوش ہیں طالبان سے اور وہ اتنے ہی اچھے ہیں تو آپ وہاں چلے جائیں تو اس کی مثال کچھ یوں ہے ۔ کہ ہم تو فن لینڈ سے بھی بڑے خوش ہیں ۔ ہم تو ناروے سے بھی بہت خوش ہیں ۔ بڑے اچھے ملک ہیں ۔ بڑے خوبصورت ملک ہیں ۔ انسانی حقوق کا ان ملکوں میں بہت خیال رکھا جاتا ہے ۔ لیکن ہم وہاں نہیں جاتے ۔ تومیری نظر میں یہ بیکار کی باتیں ہیں ۔ جو لوگوں کو خوشی ہورہی ہے ۔ جو memesبن رہی ہیں ۔ لطیفے چل رہے ہیں ۔ پرانے آڈیو اور ویڈیو کلپس اس حوالے سے وائرل ہورہے ہیں وہ لوگوں کو یہ خوشی نہیں کہ طالبان جیت گئے ہیں ۔ طالبان نے معرکہ سر کر لیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ ہار گیا ہے ۔ اس کے بڑے بول زمین بوس ہونے پر لوگ خوش ہیں ۔ وہ جو امریکہ کہتا تھا کہ either you are with us or against usاس پر خوش ہورہے ہیں کہ امریکہ زلیل ورسوا ہوکریہاں سے نکالا ہے ۔

    ۔ اسی لیے اب تو جوبائیڈن بھی کہہ رہا ہے ۔ کہ افغانستان کو درست طور پر سپرپاورز کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہم نے گزشتہ 20 سالوں میں دیکھا، اس سے ثابت ہو گیا کہ وہاں فوجی طاقت سے کوئی تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔ یعنی اب امریکہ مان گیا ہے کہ اس کی پالیسی غلط تھی ۔ بش نے غلط حملہ کیا افغانستان پر ۔ ۔ تو آج سے چالیس سال پہلے جو rambo
    کی فلم آئی تھی ۔ اس میں اس نے کہا تھا اس وقت ان کو سن لینا تھا ۔ کہ افغانستان سپر پاور کا قبرستان ہے ۔ اب وہ جو سارے لوگ اعتراض کر رہے تھے اور تنقید کررہے تھے وہ جا کرجوبائیڈن کو برا بھلا کہیں ۔ ۔ اس چیز پر بات کریں نہ یہ کہ امریکی کتنے موقع پرست ہیں کہ اپنی تمام ہار کی ذمہ داری جوبائیڈن نے افغان فوج پر ڈال دی ہے ۔ کہ مجھ کو افغان لیڈر شپ کہہ رہی تھی کہ ہم لڑیں گے یہ کریں وہ کریں گے ۔ مگر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ تو ہمارا کیا قصور ۔ ۔ تو امریکہ ، اسکے حمایتوں اور امریکی انتظامیہ کو ذرا آئینہ دیکھا دوں کہ یہ جو مغرب کا رونا دھونا ہے کہ بندوق کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرناجائز ہے۔تو جب افغانستان پر حملہ ہوا ، عراق پر حملہ ہوا ، لیبیا پر حملہ ہوا وہاں امریکہ نے کیسے تبدیلی لانے کی کوشش کی ۔ ۔ بندوق کی زور پر ۔۔ تو یہ لاجک اپنی موت آپ مر جاتی ہے ۔ اور عراق یا لیبیا میں کون سے weapons of mass destruction مل گئے ۔ ساتھ ہی ایران نے کتنے ممالک پر حملہ کر دیا ہے جو پابندیاں لگائی گئیں ۔ جبکہ دیکھا جائے تو امریکہ نے ہی کیا دو دفعہ نیو کلیئرحملے ۔

    ۔ اب آپ خود سوچیں کہ آپ کی پالیسی جو ہے وہ کتنی دیر پا اور دوراندیش ہے ۔ اب یہ امریکہ اور مغرب نے سوچنا ہے ۔ ہم تو ویسے ہی third world country ہیں ۔ ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔ کیوبا ، ویتنام ، عراق ، ایران ، لیبیا ، شام ہر جگہ امریکہ کو مار پڑی ہے ۔ تو رہنے دو نہ یار ۔ امریکہ نے ہمیشہ صرف تباہی کی ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو چکی ہے ۔ اب اس کے اخلاقی جواز یا غیر اخلاقی جواز کی بحث اپنی اہمیت کھو چکی ہے ۔ کچھ لوگ اسے آج مان لیں گے اور کچھ کل ۔ ۔ جیسا کہ چین اور روس نے طالبان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا اعلان کردیا ہے تو ایران کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست سے امن کا راستہ ہموارہوگیا ہے ۔ یہاں تک کہ ترکی نے کابل ائیرپورٹ کی سکیورٹی سنبھالنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔ یعنی وہ بھی اب پیچھے ہٹ گیا ہے ۔ امریکہ بھی green signal دے چکا ہے کہ وہ بھی طالبان کی حکومت کو مان لے گا اگر طالبان اسکو کچھ تسلیاں کروادیں ۔

    ۔ اچھا یہ اب حقیقت ہے کہ طالبان کے جیتنے میں اور طالبان کی گورننس میں زمین آسمان کا فرق ہوگا ۔ اس بار آپ دیکھیں تو طالبان بہت کوشش کر رہے ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ پہلے والے طالبان نہیں ہیں ۔ اس سلسلے میں بہت سے ایسے اقدامات بھی کرتے دیکھائی دے رہے ہیں جیسے عورتوں کے متعلق ، دیگر فرقوں کے حوالے سے ، داڑھی کے حوالے ۔۔۔ ۔ چلیں دو چیزوں کا فرق آپکو بتاتا ہوں کہ کابل ایئرپورٹ کا انتظام وانصرام امریکہ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے ۔ وہاں آپ دیکھ لیں کیا ۔ قیامت کا منظر برپا ہے ۔ کہ بیچارے وہ افغانی جو ان کی غلامی کرتے رہے جو ان کو سپورٹ کرتے رہے وہ جہازوں سے نیچے گر رہے ہیں۔ ان کو امریکی وہاں پر گولیاں مار رہے ہیں ۔ پر دوسری جانب وہ اپنے پالتو کتوں تک کو جہازوں کی سیٹوں پر بیٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔ اور یہ کوئی مفروضہ یا سنی سنائی خبر نہیں ہے مستند افغان میڈیا رپورٹ کر رہا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب کابل کی سڑکوں پر سکون ہے۔ کاروبار ، سکول سب کچھ کھلا ہے ۔ محرم کے حوالے سے شعیہ کمیونٹی کو اجازت ہے کہ وہ جلوس نکالے ۔ ۔ طالبان رہنما مختلف ہسپتالوں کا دورہ کر رہے ہیں ڈاکٹرز کو کام جاری رکھنے اور تحفظ کی یقین دہانی کروارہے ہیں ۔ تاجر برداری سے مل رہے ہیں ان کو بھی تسلی دے رہے ہیں کہ آپ افغانستان چھوڑ کر نہ جائیں۔ ۔ ایک دن پہلے لوٹ مار کے حوالے سے خبر آتی ہے اگلے ہی روز وہ مسلح افراد گرفتار ہو جاتے ہیں جو طالبان کے نام پر لوٹ مار کر رہے تھے۔ ۔ یہاں تک کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کہہ رہے ہیں کہ طالبان سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔۔ تو طالبان کافی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے سے متعلق ہر پراپیگنڈہ کا اثر زائل کریں اور دنیا کو بتائیں کہ اب وہ نوے کی دہائی والے نہیں ۔ یہ بھی بدل چکے ہیں ۔ ۔ پر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ان کی مرکزی سوچ بدل جائے گی ۔ مرکزی سوچ تو وہ ہی ہے ان کی ۔ کہ طالبان افغانستان کو بنائیں گے تو وہ ہی اسلامی امارات ۔ جس کے لیے وہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں ۔ ۔ میری نظر میں مغربی میڈیا یا ممالک اس وجہ سے خوف زدہ ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں ایک نفراسٹکچر بنا دیا ہوا ہے ۔ جیسے سٹرکیں ، پل ، ایئر پورٹس وغیرہ ۔ افغانستان کے خزانے میں بھی کوئی چار بلین ڈالرز ہیں ۔ اور اب افغانستان پر ایک آنے کا قرضہ نہیں ۔ تو اگر وہ پانچ سات بلین ڈالرز قرضہ بھی لے لیتے ہیں اور وہ چار بلین اپنا بھی لگاتے ہیں تو حقیقت میں تو افغانستان ایک لش پش جگہ بن جائے گی ۔ ۔ ایسا ہوجاتا ہے تو افغانستان طالبان کی قیادت میں ایک ماڈل مسلم ریاست بن جائے گی ۔ دراصل یہ چیز مغرب کو خوف زدہ کرتی ہے ۔ کیونکہ یوں ہو گیا تو ہر مسلمان کہے گا کہ ریاست ایسی ہونی چاہیے کیونکہ انکا system of justice عام آدمی کو apeal کرتا ہے ۔ کیونکہ عام آدمی کو آپ جتنا مرضی قانون سمجھا لیں ۔ پڑھا لیں ۔ وہ کہتا ہے کہ یار مجھے چالیس سال ہوگئے ہیں ۔ میرے بزرگ بھی فوت ہوگئے ہیں لیکن ہماری زمین کا مقدمہ وہیں ہے ۔ تو اس کو نہیں سمجھ آتی یہ بات ۔

    ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ والا سسٹم خراب ہے اور طالبان والا اچھا ہے ۔ یا طالبان کا خراب ہے اور یہ والا سسٹم اچھا ہے ۔ ۔ بات کی جائے تو یہ درست ہے طاقت کا توازن اس وقت طالبان کے حق میں ہے۔ لیکن صرف طاقت کے بل بوتے پر طالبان، افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتے، کیونکہ خود امریکہ اور نیٹو ممالک اس حکمت عملی میں ناکام ہو چکے ہیں۔۔ بیس سال پہلے اور آج کے طالبان میں فرق یہ ہے کہ اس بار وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ بیس سال پہلے وہ جنگ و جدال کو ہی ہر مسئلے کا حل سمجھتے تھے۔۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان کے طالبان نے خانہ جنگی سے گریز اور اپنے رقیبوں ، دشمنوں کو عام معافی دینے کا جو اقدام اٹھایا ہے۔ وہ ایسا اقدام ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ساری دنیا، طالبان کی اس دریا دلی اور ”نئی بصیرت“ پر حیران ہے۔ خدا کرے یہ سلسلہ یوں ہی آگے بڑھے اور افغانستان کے نئے حکمران افغان عوام کے خیر خواہ ہی ثابت ہوں ۔

  • افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان کے حوالے سے اتنی خبریں ہیں کہ ہر پانچ منٹ بعد خبر پرانی ہو جاتی ہے ۔ ہاں البتہ ایک قدر ان خبروں میں مشترک ہے کہ یہ خبریں اشرف غنی ، مودی اور جوبائیڈن کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

    ۔ اشرف غنی کے گرد تو ویسے ہی گھیرا روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے ۔ پر اب تو امریکہ کو بھی لالے پڑے ہوئے ہیں کہ پتہ نہیں جب طالبان کابل پر قبضہ کریں گے تو کابل میں اس کے سفارت خانے کا کیا حشر کیا جائے گا ۔ مودی کی بات کی جائے تو بھارت کی تنصیبات اور جنگی آلات سمیٹے اور لپیٹے جا رہے ہیں۔ کہیں ہیلی کاپٹر تو کہیں بھارت کے جنگی جہاز طالبان قبضے میں لے رہے ہیں ۔ اب اس غم میں امریکہ ہو یا بھارت یا پھر ان کی کٹھ پتلی غنی حکومت سب پاکستان کو مودر الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ ہمارے وجہ سے یہ افغانستان میں رسوا ہوگئے ذلیل وخوار ہوگئے ۔

    ۔ ایک لمحے کے لیے چلیں ایسا مان بھی لیں تو پھر بھی امریکہ ، بھارت اور نیٹو ممالک کو ڈوب مرنا چاہیئے کہ پاکستان ہاتھوں دنیا کی سپر پاورز کو شکست ہوگی ۔۔ سی آئی اے ، ایم آئی 6 ، موساد ، را ۔۔۔۔ ان سب ایجنسیوں کو بھی ڈوب مرنا چاہیئے اگر ایسا ہے تو ۔۔ ان تمام ممالک کی فوج کو بھی چوڑیاں پہنچ لینی چاہیئے ۔ اور ان تمام فرسٹ ورلڈ ممالک کی عوام کو اپنی حکومت کو گریبان سے پکڑ لینا چاہیے کہ انھوں نے ہم کو دنیا میں بدنام کروا دیا ۔۔ کہ بیس سالہ جنگ ، 2.3ٹریلین ڈالرز اور دو لاکھ چالیس ہزار ہلاکتوں کے باوجود افغان حکومت بیس دن بھی طالبان کے سامنے نہ کھڑی ہوسکی ۔

    ۔ اور اگر اس سب کے پیچھے پاکستان ہے تو پھر امریکہ سمیت اس کے تمام حواریوں کو کسی صورت سپر پاور رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیئے ۔ جو ایک ملک کی سازش کی وجہ سے ٹریلین ڈالر خرچ کر، بیس سال لگا کر بھی جنگ نہیں جیت سکے ۔ میں آپکو بتاوں کہ یہ سب مغربی میڈیا کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اور اپنی شکست کو مان لینے کی بجائے ۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی ایک مذموم سازش ہے ۔ سچ یہ ہے کہ امریکہ جو ٹریلین ڈالر افغانستان میں لگا کر گیا ہے وہ سب ہوا ہو چکا ہے ۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جو افغان فورسز کو ٹریننگ دی ۔ وہ ایسی ہے کہ وہ صرف سرنڈر کرنا جانتے ہیں ۔ ابھی تک تین لاکھ تو دور کی بات کسی بھی جگہ تین ہزار افغان فوجی بھی طالبان کا سامنا کرتے دیکھائی نہیں دیے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغان حکومت اور افغان فوج کرپشن میں نمبرون ہے ۔ جو اسلحہ اور پیسہ ان کو ملتا تھا ۔ وہ افغان فوج تک پہنچتا ہی نہیں تھا ۔ یہ بابر سے باہر ہی بیچ دیا کرتے تھے ۔ اب وہ طالبان کے پاس جاتا تھا کہاں جاتا تھا یہ کام سی آئی اے کا تھا وہ پتہ لگاتی ۔کہ americi tax payerکا پیسہ کہاں غائب ہورہا ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ طالبان جس بھی شہر جا رہے ہیں کوئی مذمت ہوہی نہیں رہی ہے ۔ اشرف غنی حکومت کے گورنر یا تو دوسرے ملکوں میں بھاگ رہے ہیں یا پھر طالبان سے معاہدے کررہے ہیں اور جان بخشی کروا رہے ہیں۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ افغان طالبان نے بڑے شہروں پر قبضہ کیا تو مزاحمت ہی نہ ہوئی اور ان کی مقامی انتظامیہ یہ کہتے ہوئے بری الذمہ ہوتی گئی کہ علاقے کے معززین نے خون ریزی سے بچنے کیلئے فوج ہٹانے کی درخواست کی تھی جو قبول کر لی گئی۔ ۔ پھر افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ تو ملک سے فرار ہوئے ہی ہیں ۔ یہاں تک وہ احسان فراموش نائب صدر امراللہ صالح جیسے لوگ جو صبح شام پاکستان کے خلاف غلاظت بکتے تھے ۔ اب وہ بھی دم دبا کر کابل سے بھاگ چکے ہیں ۔ اب اطلاعات ہیں کہ وہ تاجکستان سے بیٹھ کر ویڈیو پیغام میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ یعنی جلتے ہوئے جہاز سے جیسے چوہے نکل نکل کر بھاگتے ہیں وہ صورتحال بنی ہوئی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہر شہر میں طالبان کا استقبال کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرپٹ افغان حکومت سے لوگ تنگ تھے ۔ افغان صحافی ہیں bilal sarwayانھوں نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان ہرات کی 207ظفر کارپس میں مہمانوں کی طرح داخل ہوئے ، چائے پی ، قبائلی عمائدین ساتھ تھے ۔ ایک بھی گولی نہیں چلی اور سب نے سرنڈر کر دیا ۔۔ اس صورتحال میں مغرب اور بھارت گھبراہٹ میں اپنے لوگوں کو تو افغانستان سے نکال ہی رہے ہیں ۔ ساتھ ہی مغربی میڈیا اور بھارتی میڈیا بھی بوکھلاہٹ کا شکار دیکھائی دیتا ہے ۔ ایک ایسے انجانے خوف کا شکار دیکھائی دیتا ہے کہ طالبان جب آئیں گے تو پتہ نہیں کیا کریں گے ۔ اب اس ڈر میں وہ مفروضوں پر مبنی ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ کیا جائے ۔ اب دو خبریں ہیں ایک کہ طالبان کی تیز پیش قدمی کے پیش نظر امریکہ نے تین ہزار اہلکار افغانستا ن بھیجنے کا فیصلہ کر لیاہے ۔ ان تمام اہلکاروں کو اگلے24سے 48 گھنٹوں کے دوران کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر تعینات کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی اگر افغانستان میں ایئر پورٹ کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہوئی تو ایک انفینٹری بریگیڈ کویت میں بھی تعینات کیا جائے گا ۔ جبکہ امریکی فوج اور ایئر فورس کا ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ یونٹ قطر میں بھی تعینات کیا جائے گا۔

    ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آسان الفاظ میں یہ سمجھیں کہ امریکہ اور طالبان کا معاہدہ ختم ۔ مجھے فی الحال اس خبر کی خبریت پر شک ہے ۔ کیونکہ امریکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ہاں اشرف غنی اور بھارت کو وقتی خوشی اور حوصلہ دینے کے لیے یہ خبر ٹھیک لگتی ہے ۔ یا کیا پتہ امریکہ اشرف غنی کو تسلی دینے کی کوشش کی ہو کہ ڈٹے رہو اور مرتے رہو ۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ اور سیکرٹری آف ڈیفنس نے اشرف غنی سے بات کی ہے کہ وہ مستعفی ہوں تاکہ طالبان کو مذاکرات کے لیے راضی کیا جا سکے ۔

    ۔ تو جس چیز سے میں آغاز کیا تھا کہ گروانڈ پر تو امریکہ ، بھارت ، نیٹو اور تمام اتحادی ممالک افغانستان میں ہار چکے ہیں اور اب صرف ایک بیانیے کی جنگ جاری ہے ۔ اور ان سب کا مودا ایک ہی ہے کہ افغان جنگ ہاری ہے تو پاکستان کی وجہ سے ۔۔۔ یہ سب ایک ڈھکوسلا ہے ۔ فریب ہے ، دھوکہ ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے ۔۔ صورتحال یہ ہے کہ طالبان مزید پانچ صوبائی دارالحکومتوں غزنی، ہرات،قلعہ نو ،لشکر گاہ اور قندھار پر قبضہ کرچکے ہیں ۔ ۔ بغیر مزاحمت پسپائی پر افغان حکومت نے غزنی کے اپنے ہی گورنر محمد داؤد لغمانی کو کابل آتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے ۔ افغانستان کا تیسرا بڑا شہر اور صوبائی دارالحکومت ہرات بھی طالبان کے قبضے میں ہے ۔ طالبان ٹوٹل انیس کے قریب صوبوں پر قبضہ کر چکےہیں ۔

    ۔ حالات یہاں تک بگڑ چکے ہیں کہ صدر اشرف غنی نے دارالحکومت کابل کو بچانے کیلئے خطے کے ممالک اور غیرقانونی مسلح ملیشیا گروپوں سے بھی التجا کر رہے ہیں۔ کہ آؤ اور ہماری مدد کر دو ۔ ۔ اس وقت افغان حکومت ، امریکہ اور بھارت کے لیے ہر چیز الٹ سمت میں جا رہی ہے اور طالبان امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ افغانستان پر قابض ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی روکنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔۔ شمال سے مغرب ہر طرف آپکو طالبان کا ہی جھنڈا دیکھائی دے گا ۔ یہاں تک اسماعیل خان جیسے وار لارڈ بھی طالبان کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور سرنڈر کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ افغان فوج کی پسپائی کے مناظر کو دیکھیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر وہ تحریک نہیں۔وہ جذبہ نہیں۔ جو طالبان کے جذبے کا مقابلہ کر سکے۔ ۔ افغان فوجی مرنا نہیں چاہتے ۔ طالبان کو دیکھتے ہی دوڑیں لگا دیتے ہیں۔ یہ بات ہے بھی بالکل درست ۔ آخر کیوں وہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلی حکومت کیلئے اپنی جان کی قربانی دیں۔

    ۔ عجیب بات ہے کہ صدر اشرف غنی تین لاکھ پچاس ہزار فوجیوں پر مشتمل طاقت کے ہوتے ہوئے پرانے وارلارڈز سے التجائیں کر رہے ہیں کہ میدان میں اتریں اور حکومت کو بچائیں۔ وہ عوام میں بھی جہاں ممکن ہے۔ اسلحہ تقسیم کر رہے ہیں اور تلقین فرما رہے ہیں کہ طالبان کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی فوج وہ بھی مغربی طاقتوں کی تربیت یافتہ اور ان کی مسلح کردہ کہاں گئی؟ ۔ مغربی سٹریٹجک منصوبہ سازوں، دفاعی مفکروں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے دانشوروں کو یہ چیزیں اور سوالات اپنی حکومتوں سے پوچھنے چاہیئے ۔ نہ کہ ہم کو موردالزام ٹہرانا چاہیئے ۔۔ ان کو پوچھنا چاہیے کہ بیس سالہ مغربی جنگ نے افغانستان میں کتنے لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا؟

    ۔ چلیں لاکھوں افغانوں کی ہلاکت کی خبروں کی صداقت پرشک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خود امریکی ذرائع چالیس ہزار طالبان کو موت کے گھاٹ اتارنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ رات کو دیہاتیوں کے گھروں میں گھس کر حملہ کرنے اور چادر و چاردیواری کی روایتی حرمت کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کو کیا افغان بھول پائیں گے؟ ۔ اور کیا کابل میں متعین امریکہ کے اشاروں پہ ناچنے والوں کو افغانستان میں خون خرابے کا ذمہ دار قرار نہیں دیں گے؟ ۔ میرے خیال سے افغان حکومت کو بات اس وقت سمجھ آ جانی چاہئے تھی جب صدر ٹرمپ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ خود براہ راست طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ کابل کی طرف سے سہما سا احتجاج اور درخواستیں کہ دیکھیں ۔۔۔۔ہمارا کیا بنے گا۔ امریکہ کے فیصلے کو تبدیل نہ کر سکے۔

    ۔ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ صدر اشرف غنی کو ملا۔ وہ بھی تو طالبان سے بات چیت کو معنی خیز بنا سکتے تھے۔ پر اقتدار کی خواہش اندھا کردیتی ہے۔ آخری وقت تک لڑنے کی جرأتمندی کے بیکار نعرے گھڑنے سے زمینی طاقت کا توازن تو نہیں بگاڑا جا سکتا۔

    ۔ امن معاہدہ ہو یا طالبان کابل کا گھیرائو کرکے دبائو ڈالیں۔ لکھ لیں اشرف غنی کو امریکہ میں پناہ لینا ہی پڑے گی۔ جیسے ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوج کے حامی جہازوں میں لاد کر امریکہ اور دیگر ملکوں میں لائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کسی دن سنیں گے کہ صدر غنی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

  • نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ایک ایک کرکے اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کے اردگرد کے لوگ اب سامنے آرہے ہیں اور جو انکشافات ہورہے ہیں ۔ اس کے مطابق کوئی شک نہیں ہے کہ ظاہر جعفر ایک وحشی ، بے غیرت اور ظالم انسان ہے ۔

    ۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ظاہر جعفر کے قریبی دوست اس کے اس مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر نے اپنے بھائی حمزہ پر بھی ایک بار گلف اسٹک سے حملہ آور ہو چکا ہے ۔ پھر یہ شخص اپنی ماں پر بھی تشدد کر چکا ہے ۔ برطانیہ میں بھی ایک لڑکی پر تشدد کر چکا ہے جس کے نتیجے میں یہ برطانیہ سے نکالا گیا ۔ ۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہے ۔ اور یہ شخص اتنی شراب نوشی کرتا تھا کہ ہوش کھو بیٹھتا تھا ۔ ۔ اس شخص کی شخصیت ایسی تھی کہ یہ گندے لوگوں میں رہا کرتا تھا ۔ اس کے دوست بھی اسی قماش کے تھے ۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نور مقدم کی دوست ہیں زہرا ۔۔۔ کو بھی سفاک قاتل گندے میسج کرتا تھا ۔

    ۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو مختلف لوگ اپنے وی لاگز اور صحافی ٹویٹ کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مجھے کسی نیت پر شک نہیں ہے ۔ مگر میرا ماننا یہ ہے کہ یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ پاگل ہے ۔ تو ان تمام صحافیوں کو میں یہ کہوں گا کہ جانے انجانے میں ان سے غلطی ہو رہی ہے ۔ ان کو سمجھنا چاہیئے کہ ظاہر جعفر کے دوست اور ماں باپ جو اب بہت صاف ستھرے اور معصوم بن رہے ہیں یہ جان بوجھ کر ایسی چیزیں سامنے لارہے ہیں کہ ظاہر جعفر کو جب عدالت میں کیس چلے تو ریلیف ملے ۔ حالانکہ یہ open and shutکیس ہے کہ ایک معصوم بچی تشدد ہوتا ہے وہ بے دردی سے قتل کر دی جاتی ہے ۔ اور موقع واردات سے مجرم ، قاتل پکڑا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی آلہ قتل بھی برآمد ہوجاتا ہیں ۔ پھر بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس کس چیز کا انتظار کررہی ہے ۔ اور یہ ہی بات نور مقدم کے دوست اور باقی لوگوں کے ذہن میں بھی ہے ۔ کہ اگرچہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا لیکن وہ اسے سزا دینے میں تاخیر کر رہے ہیں۔۔ اس روز روز کے ریمانڈ سے کیا ہو گا؟ جب تمام شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف مقدمہ چلائیں تاکہ اسے جلد سے جلد سزا ہو۔۔ یہ بھی اہم چیز ہے کہ پولیس نے ابھی تک دہشتگردی کا مقدمہ اس گھناونے شخص کے خلاف درج نہیں کیا ہے ۔ حالانکہ معاشرے میں جو اس سے دہشت کی فضا قائم ہوئی ہے ۔ یہ ہونا چاہیے تھا ۔

    ۔ پھر یہ چیز بھی اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ جب ظاہر جعفر کو پولیس عدالت لے کر جا رہی تھی تو پولیس والا کہہ رہا تھا کہ بڑا معصوم بچہ ہے ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پولیس کو اس کے خاندان نے کوئی چمک تو نہیں دیکھا دی ہے جو پولیس والے اس سفاک قاتل معصوم بچہ کہہ رہے ہیں ۔ ساتھ ہی جب یہ عدالت میں لایا گیا تو یہ بالکل ٹھیک اور نارمل دیکھائی دیا ۔ کیا پولیس کسی قاتل کے ساتھ ایسا رویہ رکھتی ہے ۔ آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں یہاں تو چھوٹے چھوٹے کیسوں میں پولیس ملزم کی کھال اتار کر رکھ دیتی ہے ۔ تو پھر اس کیس میں کیوں اتنا رحم اور اچھے الفاظ کا چناؤ پولیس کو یاد آرہا ہے ۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن عطا الرحمان ہی بہتر بتا سکتے ہیں ۔ کیا کہیں اس کیس کو جان بوجھ کر تو نہیں آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جا رہے کہ فائدہ ظاہر جعفر کو ملے سکے ۔ اور لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو بھول جائیں ۔

    ۔ ابھی اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ظاہر جعفر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ وڈیو میں شادی کی ایک تقریب میں ملزم باری باری لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ پولیس اس ویڈیو کے ذریعے ملزم کے دوستوں کے اس گروپ سے سے رابطے کی کوشش کرے گی۔ جس سے ملزم کے 27 سالہ نور مقدم کا سفاکانہ انداز میں سر تن سے جدا کرنے کا پس منظر سامنے آ سکے گا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پولیس تو گونگوں سے بھی چیزیں اگلوا لیتی ہے ۔ مجرم ان کے ہاتھ میں اس سے انوسٹی گیشن نہیں کی جا رہی ہے ۔ بلکہ چیزوں کو گول گول گھمایا جا رہا ہے ۔

    ۔ پھر پولیس نے ملزم کا بیرون ممالک انگلینڈ اور امریکہ سے بھی کرمینل ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے متعلقہ اداروں سے رابطے کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ اچھی چیز ہے ۔ پر کیا آپ کو نہیں معلوم کہ یہ تفصیلات آنے میں کتنے دن لگیں گے۔ حالانکہ نور مقدم کے وکیل آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ نور کے خاندان پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ معاملات کو کورٹ سے باہر
    settle کرلیا جائے ۔ یعنی دیت اور قصاص کے تحت ۔ تو ہماری پولیس کو ذرا اپنے ہاتھ پاؤں تیزی سے چلانے چاہیں ۔ اور اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے ۔ اوراس قاتل سے بالکل وہ ہی سلوک کرنا چاہیئے جس کا یہ حق دار ہے ۔ یہ نہیں کہ یہ امیر ، انگریزی بولتا ہے تو ہم اس کو معصوم بچہ کہیں ۔ یہ سفاک قاتل ہے جس نے ساری واردات پوری پلاننگ سے کی ہے ۔ کیونکہ 19 جولائی کو اسکا ٹکٹ تھا امریکہ جانے کا اور یہ ایئر پورٹ گیا بھی وہاں سے یہ واپس آیا اور اگلے دن نور کا قتل کر دیا ۔ ملزم کے گھر سے اس کا پاسپورٹ اور بیرون ملک جانے کے لیے لیا جانے والا ٹکٹ بھی بازیاب ہوا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ملزم ظاہر جعفر کے والد نے گرفتاری کے بعد کہا ہے کہ وہ نور کے والد کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور وہ ان سے درخواست کریں گے۔ کہ یہ ایک بہت ہی گھناؤنا جرم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ انصاف ہو۔

    ۔ بڑی اچھی بات کی ہے مگر یہ ان کو اب کیوں یاد آئی ہے ۔ دراصل ابا جی اب پکڑے گئے ہیں تو بول رہے ہیں ہمیں پتہ نہیں تھا ماں باپ کو ان کا بیٹا کس قسم کا ، کس قماش کا اور کس کردار کا حامل ہے ۔ حالانکہ اس واقعہ کے دوران بھی گھر کے ملازم باربار کال کرکے بتا رہے تھے ۔ کہ ان کا بیٹا کیا کر رہا ہے ۔ کاش ان معصوم والدین کو اس وقت خیال آیا ہوتا اور یہ اپنے ملازمین کو حکم دیتے کہ بیٹے کو پکڑ کر ذبردستی کسی کمرے میں بند کردیتے ۔ قابو کر لیتے ۔ لڑکی کو کسی طرح گھر سے باہر نکل دیتے ۔ بھاگا دیتے ۔
    ظاہرجعفر اس گھر میں اکیلا تھا اور ملازم چار تھے اور ظاہر کوئی عثمان مرزا جیسا بہت موٹا تازہ بھی نہیں ۔ چار ملازم باآسانی اس کو قابو کر سکتے تھے ۔

    ۔ دوسرا میرا یہ پوائنٹ ہے کہ ظاہر جعفر کی ماں کو جب پتہ چل گیا تھا تو اس نے پولیس کو بلانے کی بجائے کسی اور کو کیوں بلایا ۔ اگر ظاہر جعفر کی ماں نے ہی بروقت پولیس کو اطلاع دی ہوتی اس معصوم بچی کی جان بچ سکتی تھی ۔ کیونکہ اگر ظاہر جعفر کی نشوں کی لت اور باقی تمام ہسٹری کو صحیح مان بھی لیا جائے۔ تو پھر تو یہ چیز ذہن میں آتی ہے کہ ماں باپ کو بالکل معلوم تھا کہ ان کا بیٹا کس حد تک گر سکتا ہے اور کیا کر سکتا ہے ۔ اس لیے میری نظر میں ظاہر جعفر کی ماں باپ بھی کم مجرم نہیں ہیں جو انھوں نے انتظار کیا کہ ایک معصوم پھول کو کچل دیا جائے ۔ ۔ کیونکہ نور دو دن سے ظاہر جعفر کے حس بے بجا میں تھی ۔ اس نے بھاگنے کی بھی کوشش کی ۔ یہ بات بھی ملازموں نے ماں باپ کو بتائی ۔ پھر ان ماں باپ کے دل میں رحم نہیں آیا کہ ان کا بیٹا کسی کی بیٹی کے ساتھ کیا ظلم اور زیادتی کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ دیکھیں جب نور مقدم اور ظاہر جعفر کے مشترکہ دوست نور کو بچانے کے لیے ظاہر جعفر کے گھر پہنچے تو نوکروں نے ان کو گھر میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ ۔ اس کیس میں اگر ملازمین ہی پولیس کو بروقت اطلاع دے دیتے تو قتل روکا جا سکتا تھا۔

    ۔ یہ سب اب بڑے معصوم بن رہے ہیں چاہے ظاہر جعفر کے ماں باپ ہوں ، ملازمین ہوں یا ظاہر کے دوست ۔ پر سچ یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے پولیس کو نہیں بتایا کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔ دیکھا جائے تو ہمسایوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پھر پولیس پہنچی ۔ یعنی نہ ملازمین ، نہ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، نہ ہی اس کے دوست حالانکہ ماں باپ اور ملازمین کو پل پل کا پتہ تھا کہ اندر کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، ملازمین ، دوست اب سب اپنے آپ کو بہت پاک صاف اور جو معصوم ثابت کر رہے ہیں ۔ میری نظر میں یہ بھی اس گھناونے واردات کاحصہ ہیں کیونکہ یہ چپ رہے ۔ دیکھتے رہے ۔ سنتے رہے ۔ اور قتل ہونے دیا ۔

  • افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے بُرا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانوں کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ افغان عمل کی کامیابی میں ہم اپنا بنیادی کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم اس پورے عمل کے ضامن ہر گز نہیں ہیں اور بالآخر یہ فیصلہ افغان فریقوں ہی نے کرنا ہے کہ انہوں نے آگے کس طرح چلنا ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں امن کا افغانستان میں امن و استحکام سے براہِ راست اور گہرا تعلق ہے۔

    ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ۔۔۔ دم ٹیڑھی ہی رہتی ہے ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ افغان حکومت اور خاص طور پر بھارتی کٹھ پتلی اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ اب اپنے تازہ بیان میں اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت چاہتا ہے۔
    پاکستان کا کوئی سیاست دان اپنے ملک میں طالبان کی حکومت کا خواہاں نہیں ہے لیکن وہ ہمارے لیے طالبان کی حکومت چاہتے ہیں،پاکستان کا تمام میڈیابھی طالبان کی حمایت کرتا ہے۔

    ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کبھی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور کبھی کہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں کو روکنے کے لیے پاکستان افغان حکومت کی مدد کرے اور کبھی یہ خواہش کرتے ہیں کہ پاکستان افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اُنہیں کچلے۔

    ۔ اب روز اشرف غنی کو صرف پاکستان کی یاد آرہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اشرف غنی اب کیوں اپنے
    buddy
    بھارت سے رابطہ نہیں کرتا ۔ کیوں نہیں ڈیمانڈ کرتا ہے کہ بھارتی فوج کابل میں کھڑے ہوکر انکا دفاع کرے ۔ کیوں نہیں یہ کہتا ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ آئے اور اس کی حکومت کو طالبان سے بچائے ۔

    ۔ سچ چاہے کڑوا ہو ۔ پر سچ یہ ہے کہ افغان حکومت کو تو نہ اب کہیں سے پیسہ مل رہا ہے نہ مدد ۔ اور افغان حکومت کی فوج ایسی ہے جیسے ہیجڑوں کی فوج ہو۔ اب یہ سارا ملبہ بھارتی ایماء پر پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔ اور صرف ریاست پاکستان ہی نہیں پاکستان کے سیاستدانوں اور صحافیوں تک کو لعن طعن کررہا ہے ۔ جو اس جانب اشارہ ہے کہ افغان حکومت معاملات کو کنڑول کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے اور طالبان روکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔

    ۔ میں آپ سب کو یاد کروادوں کہ حامد کرزئی سے لے کر اشرف غنی تک یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کھلی چھٹی دی ہوئی تھی ۔ یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنے ملک میں ٹریننگ سمیت ہر قسم کی مدد دی ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ہیں ۔ اور اس کے پیچھے افغان اور بھارتی حکومت تھی ۔ ہم نے دہشت گردی کی طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے۔

    ۔ 2014ء
    میں آرمی پبلک سکول پر بزدلانہ حملے میں تحریک طالبان، را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے۔ یہ حملہ افغانستان میں پلان ہوا، اس کے بعد جیسے ریاستِ پاکستان کے صبر کی انتہا ہوگئی۔ چن چن کردہشت گردوں، ان کے آلہ کاروں اور سلیپر سیلز کو ختم کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ پاک افغان باڈر کو سیل کرنے کے لیے باڑلگانے کا کام شروع ہوا۔

    ۔ مغربی سرحد پر حفاظتی باڑ کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے، نوے فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے۔ باقی بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔ پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام بہت تیزی سے جاری ہے اس کے علاوہ سرحد پر سینکڑوں حفاظتی چوکیاں تعمیر کی گئیں۔ بارڈر کنٹرول سسٹم اپ گریڈ کیا گیا اور وہاں جدید بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر تمام کراسنگ پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع میں ایف سی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    ۔ اور اب جو پاکستان کا موقف ہے وہ اصولی موقف ہے کہ افغانوں نے خود مل کر فیصلہ کرنا ہے کہ کس کی حکومت ہوگی افغانستان میں ۔ اس سے زیادہ پاکستان کیا کرے ۔

    ۔ پھربھی یہ افغان حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہی ہے ۔ ابھی حالیہ افغان سفیر کی بیٹی والا معاملہ ہی دیکھ لیں ۔ کیسے انھوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی حالانکہ لڑکی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی ۔

    ۔ جیسے اشرف غنی نے سفیر کو واپس بلایا ہے اگر اتنی ہی اس افغان حکومت اور اشرف غنی میں غیرت ہے تو پھر یہ تین ملین افغان مہاجرین جو اب بھی پاکستان میں رہ رہے ہیں ان کو واپس لے جاتی ۔

    ۔ آپ دیکھیں پاکستان پھر بھی دل بڑا کرکے افغان حکومت کے ساتھ
    cooperate
    کررہا ہے مگر ۔۔۔ جیسا کہ شروع میں کہا تھا کہ یہ
    ۔۔۔۔ کی دم سیدھی نہیں ہوتی ۔ یہ ہی حال اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ ہمسایے میں کچھ بھی ہورہا ہو اس کا اثر اپنے گھر تک آتا ہی ہے ۔ کاش کہ ہم ہمسایوں کے معاملے میں خوش نصیب ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے، ایک طرف ازلی دشمن ہے تو دوسری طرف ایک ایسا ملک جس میں امن کا قیام خواب معلوم ہوتا ہے۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔
    ہمیشہ افغانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، کتنے ہی افراد چمن باڈر کراس کے ہر روز پاکستان آتے ہیں۔
    یہاں اپنا علاج کراتے ہیں۔
    ضرورت کی اشیا خریدتے ہیں۔
    کتنے ہی افغان باشندے یہاں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پُرسکون زندگی گزار سکیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ ان کے درد کو سمیٹا، انہیں چھت اور روزگار دیے۔ آج بیشمار افغان باشندے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور پاکستان میں عزت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

    ۔ مگر افغان قیادت ہے کہ وہ پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔

    ۔ پاکستان اب بھی اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے۔ تاہم افغان حکومت کے تیور کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ بھارت کے ایما پر وہ شاید ہم سے اچھے سفارتی تعلقات کے خواہاں نہیں ہے۔ افغان سرکاری میڈیا پر پاکستان کے خلاف نغمے نشر ہو رہے ہیں،یہ نغمے
    RTA
    (ریڈیو ٹی وی افغانستان)
    کے ویریفائیڈ ٹویٹر اکائونٹ سے ٹویٹ بھی کیے گئے جس سے پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ پھر بھی پاکستان نے افغان لیڈرزکی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اور میزبانی کی پیشکش کی لیکن افغان صدر اشرف غنی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ ملتوی ہو گئی۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح بھی ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایئر فورس نے افغان آرمی اور افغان ایئرفورس کو سپن بولدک میں طالبان کو نکالنے کے لیے فضائی آپریشن کرنے پر سخت نتائج اور ردعمل کی دھمکی دی۔ یہ سراسر جھوٹی خبر ہے، افغان نائب صدر نے ثبوت دینے کا دعویٰ تو کیا مگر اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا۔ پاکستان ایئرفورس نے ایسا کوئی بیان دیا اور نہ ہی پاک ایئرفورس کا افغان فورسز کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا۔

    ۔ آج بھی افغانستان میں ایک خونی دن گزارا ہے ۔ صدراتی محل میں راکٹ حملے کئے گئے ۔ حملے کے وقت صدارتی محل میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی جارہی تھی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مجھے تو یہ بھی ایک ڈرامہ لگتا ہے کہ طالبان کو کسی طرح بدنام کیا جائے گا یہ تاثر دیا جائے کہ عید پر بھی یہ خون خرابہ کر رہے ہیں ۔ اس حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے عید کی نماز کے بعد صدارتی محل میں خطاب کیا اور پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا ۔

    ۔ جبکہ امریکا سمیت 16 ممالک اور نیٹو نے طالبان سمیت افغان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس عید پر امن کیلئے اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کیلئے جنگ بندی کریں۔

    ۔ادھر طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومتی فورسز سے شدید جھڑپوں کے بعد کابل کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ ارزگان کے ضلع دہراؤد پر قبضہ کر لیا ہے اور صوبائی انتظامیہ نے طالبان کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے ۔ شمالی صوبے سمنگان میں افغان فورسز نے میں ضلع درہ سوف کا قبضہ چھڑوالیا ہے ۔

    ۔ قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن فدا محمد نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے سپن بولدک میں میرے دو بیٹوں کو ہلاک کردیا۔۔ تخار کے دارالحکومت طلوقان میں لڑائی کے دوران پولیس چیف شدیدزخمی ہوگیا۔ ادھر قندھار میں عمائدین کی کوششوں سے 8 روزہ جنگ بندی ہوگئی۔

    ۔ دوسری جانب اشرف غنی نے کل ہرات کا دورہ کیا،صو بے کے تمام اضلاع پر طالبان قابض ہیں جبکہ ہرات شہر طالبان کے محاصرے میں ہے ۔ دورے کے دوران اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہاکہ طالبان جنگ ہارچکے ہیں،وہ اہم عوامی عمارات کو تباہ کررہے ہیں۔

    ۔ جو دیکھائی دے رہا ہے کہ طالبان اورلسانی و قومیتی گروہوں اور مقامی جنگجو گروپوں کے درمیان جنگیں شروع ہوگئیں تو یہ پورے خطے کے امن پر اثرانداز ہوں گی۔ پاکستان مزید مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے دونوں اطراف کے ہمسایے ہمارے خیرخواہ نہیں ہیں۔

    ۔ مگر پھر بھی پاکستان امن کا داعی ہے اس لیے پاکستان نے دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افغان دھڑوں کے مابین حالیہ مذاکرات خوش آئند ہیں ۔

  • پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    گزشتہ دنوں پاکستان میں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کا تعلق تو اس خطے کی بدلتی صورتحال سے ہے مگر یہ ہوئے پاکستان میں ہیں ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک داسو میں حملہ ہوتا ہے۔ جس میں متعدد چینی ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ جس کے بعد یقینی بات ہے کہ چین کی جانب سے بیانات بھی آنے تھے ۔ بہت ہی سخت بیانات آئے ۔ پریشر بھی آیا ۔ یہاں تک کہ چین کی ایک خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم بھی پاکستان میں آئی ۔ اس حوالے سے حکومت کے ہاتھ پاؤں بھی پھولے دیکھائی دیے ۔ یہاں تک کہ شاہ محمود قریشی خصوصی طور پر چین گئے اور چینی قیادت کو اعتماد میں لیا ۔

    ۔ پھر چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ اگر پاکستان داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی ماہرین پر حملہ کرنے والے مجرموں کو نہیں پکڑ سکتا تو چین اپنی سپیشل فورسز کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے۔

    ۔ پھر یہ خبریں بھی آئیں کہ داسو ڈیم بنانے والی چینی کمپنی نے پاکستانی ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور کام بند کر دیا گیا ہے ۔ جس کے بعد یہ چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ دشمن پاکستان اور چین کے درمیان دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ پھر واپڈا کے اعلی حکام سمیت حکومت پاکستان نے قائل کیا تو یہ نوٹس واپس لے لیا گیا ۔ اب داسو واقعے کے بعد سول انتظامیہ، واپڈا اور چینی کمپنی نے باہمی مشاورت سے تعمیراتی کام چند دنوں کے لیے معطل کردیا ہے ۔ کام بند کرنے کا مقصد حفاظتی اقدامات کو ازسرنو منظم کرنا بتایا گیا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھاگتے دوڑتے بھی دیکھائی دیے ۔ متعدد پریس کانفرنسیں بھی کیں ۔ یہ بھی اعادہ کیا کہ جلد ملزموں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا ۔

    ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز کی بریفننگ میں بتایا کہ پاکستانی آرمی اور دیگر ایجنسیز کے 15اہلکار تحقیقات کیلئے ہیلی کاپٹر پر داسو پہنچے ۔ یہ بھی کہا کہ سی پیک اور ڈیم کے پراجیکٹس پر کوئی حرف نہیں آنے دیا جائے گا، چین کی حکومت جانتی ہے کہ ہم اپنی قوت سے زیادہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ۔ مزید یہ بتایا کہ ہم نے چین سے کہا ہے کہ وہ دفتر خارجہ سے مل کر کام کریں ۔۔ اب اس حوالے سے ابھی تک تو کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے مگر یہ واضح ہے کہ پاکستان پر چین کی جانب سے اس حوالے پریشر بہت ہے ۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے سی پیک کو ذرا بریکس لگ گئی ہیں ۔ اس حوالے سے بھی چین پاکستان کو تنقیدی نظر سے دیکھ رہا ہے ۔ پھر اگر بین الاقوامی امور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے بڑے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں ۔ پاکستان کے چین کے ساتھ معاملات تو شاید دوبارہ ٹریک پر آجائیں ۔ مگر یہ واضح ہے کہ اس میں ملوث کرداروں اور ممالک کو آنے والوں دنوں میں اہم پیغام اور موثر جواب ضرور دیا جائے گا ۔ اب یہ پاکستان کی جانب سے ہوتا ہے یا چین کی جانب سے مگر یہ ہوگا ضرور ۔ اگر سیاسی طور پر دیکھاجائے تو اندرونی طور پر بھی حکومت پر پریشر بڑھ رہا ہے کیونکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ داسو حادثے نے ہمیں شرمندہ کردیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو اس واقعے پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔
    چینی ورکرز کے حوالے سے پاکستان میں پہلے بھی کئی واقعات ہوتے رہے ہیں مگر موجودہ صورتحال میں ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ اب پاکستان پر امریکہ کے بعد چین کی جانب سے
    do moreکا پریشر بڑھے گا ۔ کیونکہ یہ دیکھنا شروع ہوگیا ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں خانہ جنگی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے اور جو پاکستان کے دشمن ہیں ، چین کے دشمن ہیں ۔ سی پیک کے دشمن ہیں وہ اس موقع کو استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کر یں گے ۔

    ۔ دوسرا ایک اور بہت اہم واقعہ ہوا ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے لیا ہے ۔ اور حکم دیا ہے کہ 48گھنٹوں میں ملزمان کو پکڑا جائے ۔ کیونکہ دن دیہاڑے کہیں اور نہیں پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد سے افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہو جاتی ہے پھر حیران کن طور زخمی حالت میں ملزمان اس کو پھینک کر چلے جاتے ہیں ۔ ۔ اس کی تفصیل میں آپکو بتاوں تو کہ اسلام آباد کے ایف سیون مرکز کی جناح سپر مارکیٹ سے افغانستان کے سفیر نجیب اللہ خیل کی 26 سالہ بیٹی سلسلہ علی خیل کو دن ڈیڑھ بجے اغواءکیا گیا اور شام کو 7 بجے زخمی حالت میں بلیو ایریا تہذیب بیکری کے پاس پھینک دیا گیا۔ ۔ یعنی ساڑھے پانچ گھنٹے وہ اغواءکاروں کے پاس رہیں اور اس دوران ان پر تشدد کیا گیا اور تشدد کر کے انہیں بلیو ایریا میں پھینک دیا گیا۔۔ اس کے بعد افغان سفیر کی بیٹی کو زخمی حالت میں پمز ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔ اس معاملے کی کوہسار پولیس سمیت دیگر ادارے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ۔ پہلے پہل یہ خبر پاکستان کے کسی چینل میں نہیں چلائی گئی اس کی وجہ خطے کے کشیدہ حالات ہیں اور سب کو معلوم تھا کہ اس خبر کے بڑے گمبھیر نتائج ہو سکتے تھے۔ پھر جب افغان حکومت اور انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے اس اسٹوری کی بھرپور کوریج ہوئی اور بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ شروع ہوا تو مجبوراً ہمارے وزیروں ایکشن لینا پڑا اور میڈیا کو بھی یہ اسٹوری چلانا پڑی ۔

    ۔ اس معاملے پربھی اب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا موقف آگیا ہے ۔ اس حوالے سے بڑے اہم سوالات بھی انھوں نے اٹھائے ہیں کہ افغان سفیر کی بیٹی نے خود ٹیکسی بک کی تھی۔ اس سے پہلے کسی سفیر کے اہلخانہ کے یوں پرائیویٹ ٹیکسی ہائر کرنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ پہلے کہا گیا کہ ٹیکسی موبائل فون سے بک کرائی گئی لیکن پھر کہا گیا کہ فون گھر پر تھا، ایک موقف یہ بھی آیا کہ مبینہ اغوا کار موبائل فون اپنے ساتھ لے گیا۔ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے میں دو ٹیکسیوں کا ذکر ہے۔ ایک ٹیکسی وہ ہے جس میں تشدد کیا گیا جب کہ دوسری وہ ٹیکسی ہے جس نے افغان سفیر کی بیٹی کی مدد کی۔ اس ٹیکسی ڈرائیور کو 500 روپے انعام بھی دیا گیا۔

    ۔ شیخ رشید نے یہ بھی کہا ہے کہ کیمرہ اور ویڈیوز کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلیں ، مارکیٹ میں آئیں وہاں سے ٹیکسی لے کر شاپنگ کیلئے کھڈا مارکیٹ میں اتریں ، کھڈا مارکیٹ سے ایک اور ٹیکسی لی ۔ ہماری فوٹیج کے مطابق یہ راولپنڈی گئیں ،راولپنڈی کے شاپنگ مال اتریں ، ان کے اترنے کی فوٹیج موجود ہیں ، اس کے بعد یہ تیسری ٹیکسی پر دامن کوہ اتریں ،یہ راولپنڈی سے دامن کوہ کیسے پہنچیں اس پر کام ہو رہا ہے ، یہ ایف سکس سے گھر جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایف نائن جانے کو اہمیت دی ۔ ۔ شیخ رشید نے یہ بھی بتایا کہ دوسرے ٹیکسی ڈرائیور کو ٹریس کرلیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، مزید کارروائی افغان سفیر کی بیٹی کے تحریری بیان پر کی جائے گی۔ ان کے مطابق فی الحال اس واقعے کا کوئی دوسرا پہلو نظر نہیں آتا۔

    ۔ اب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جب یہ لڑکی بازیاب ہوئی تو اس کے دوپٹے کے ساتھ ایک ٹیشو پیپر اور پچاس روپے کا نوٹ بندھا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ ۔۔۔ اگلی باری تمہاری ہے ۔۔۔

    ۔ اب یہ ایک کھلی دھمکی ہے اگر آنے والے دنوں میں اس حوالے سے افغان سفیر کو کچھ ہوتا ہے یا کسی اور کو کچھ ہوتا ہے ۔ تو پاکستان کے لیے شدید مسائل ہوسکتے ہیں ۔ ہم پر انگلیاں اٹھ سکتی ہیں ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان کے خلاف بین الاقوامی طور پر خوب پراپیگنڈا ہو رہا ہے ۔ کہ ہمارے ہسپتالوں میں زخمی طالبان کا علاج ہو رہا ہے۔ افغان حکومت کبھی ہماری ایئر فورس پر الزام لگاتی ہے تو کبھی ہم پر کہ پاکستان سے افغانستان میں جنگجو جارہے ہیں ۔

    ۔ بھارت اس خبر کو لے کر ہمیشہ کی طرح ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہا ہے ۔ اس واقعے پر بھی بھارت نے پرانی فوٹیج لگا کر پروپیگنڈا کیا اور عالمی میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں تک کہ ایک fakeتصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر پیش کیاگیا ۔ اور اس معاملے کو دیکھتے ہوئے افغان سفیر خود میدان میں آئے اور انہوں نے تصحیح کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی درست تصویر شیئر کی اور سا تھ پیغام بھی جاری کیا۔ کہ کسی اور کی تصویر سوشل میڈیا پر غلط پوسٹ کی گئی تھی ، حالانکہ میں اسے بالکل بھی نہیں جانتا ہوں۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس خطے اور ہماری اہمیت بڑ ھ چکی ہے ۔ جو مجھے سمجھ آتا ہے کہ ان واقعات کو سرانجام دینے والوں کا مقاصد یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد پاکستان بھی محفوظ نہیں رہا ہے ۔
    اس حوالے سے جو کرنے کا والے کام ہیں کہ سب سے پہلے تو تمام غیرملکیوں پر نظر رکھی جائے ۔ اپنی اندرونی سیکورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے ۔ جتنے بھی ہائی پروفال لوگ ہیں ان کی سیکورٹی میں اضافہ کیا جائے ۔ کیونکہ جو دشمن ہے اس مقاصد صاف دیکھائی دے رہاہے کہ وہ اس بدلتی صورتحال میں پاکستان کو بدنام کرناچاہتا ہے ۔ اور یقینی طور پر وہ ایسی چیزوں کو ٹارگٹ کرے گا جس سے بڑی خبر بنے اور انٹرنیشل میڈیا اس کو اٹھائے ۔ حکومت اور وزیروں کو بھی چاہیے کہ damage controlکرنے سے بہتر ہے کہ damage ہونے ہی نہ دیا جائے ۔ ۔ اب اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ افغانستان کی وجہ سے صرف پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ بھی غلط ہے اور صرف تصویر کا ایک رخ ہے ۔ ۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایران اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے علاوہ روس اور چین نے بھی افغانستان میں بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آپس میں صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں۔

    ۔ تاجکستان کے بعد ایران نے بھی افغان جنگ کے ممکنہ اثرات کو اپنے اپنے ملکوں میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے سرحدوں پر فوجیں جمع کر دی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سرحد بندی کر چکا ہے ۔ باڑ لگا چکا ہے ۔ روس کا ماننا ہے اور وہ کہہ بھی رہا ہے کہ افغانستان کی وجہ سے پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پھیل جانے کا حقیقی خطرہ موجود ہے ۔ اس لیے اب چین، روس، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ہاں دوبارہ خدشات جنم لینے لگے ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی اتحادی اپنی ناکامی یا پھر خانہ جنگی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے جارہے ہیں۔ ادھر افغان حکومت امریکہ کی بے وفائی کے تذکرے کی ہمت یا اپنی ناکامیوں کے اعتراف کی بجائے سب الزام پاکستان کو دے رہی ہے۔ پاکستان، روس، ایران اور چین اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ اس مرحلے پر طالبان کو ناراض کرنے کا رسک لیں یا پھر ان کی ضد کے آگے سرنڈر کر دیں۔ کہ وہ افغانستان کو پھر سے امارات اسلامی افغانستان بنادیں ۔ ایک اور چیلنج اس خطے کے تمام ممالک کے لیے یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کی طرح امریکہ بکھر گیا ہے اور نہ اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اس کی فوج افغانستان سے نکل رہی ہے لیکن امریکہ نہیں نکل رہا۔ افغانستان کو چلانے کے لئے پیسہ اب بھی امریکہ ہی دے گا۔ سوویت یونین کی طرح وہ لاتعلق نہیں ہوگا بلکہ کچھ فاصلے پر خلیج میں اس کے بیس سے زائد فوجی اڈے موجود ہیں۔

    ۔ یعنی امریکہ فوج نکال کر بھی خطے کی مینجمنٹ کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اب اس کا بنیادی ہدف چین ہے۔ وہ افغانستان سے فوج کو نکال کر اسے چین اور روس کے لئے درد سر بنانا چاہے گا۔

    ۔ ساری پیش رفت ایسے انداز میں ہو رہی ہے کہ جس سے شک جنم لے رہا ہے کہ خود امریکہ کی خواہش ہے کہ طالبان افغانستان پر قابض ہو جائیں یا پھر یہاں پر بدترین خانہ جنگی ہو جائے۔ جنوب کی بجائے چین اور وسط ایشیائی ریاستوں سے متصل صوبوں میں کئی اضلاع پر بغیر مزاحمت کے طالبان کے کنٹرول نے اس تھیوری کو مزید تقویت بخشی ہے ۔ ۔ یوں جیسے جیسے امریکی فوجی انخلا اپنے اختتام تک پہنچ رہا ہے۔ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوششوں کا فوکس اب علاقائی ملکوں کی طرف شفت ہو رہا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں جنگ کے شعلے تیز ہوئے تو ان کی حدت سب سے زیادہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں ہی محسوس ہو گی۔

    ۔ تو میری نظر میں صرف پاکستان ہی نہیں ۔ ایران ۔ روس ، چین اور سینڑل ایشیاء بھی خطرات سے دوچار ہے ۔ کیونکہ belt and road intiative اور سی پیک ان تمام ممالک سے لنک ہونا ہے ۔ جو امریکہ اور مغرب کو کھٹکھتا ہے ۔