Baaghi TV

Author: نوید شیخ

  • ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    یوں لگ رہا ہے کہ حکومت نے عوام سے انتقام لینا شروع کردیا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں ڈالا ہے ۔

    ۔ وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں جو اضافہ کرنا تھا کر دیا مگر جس ڈھٹائی سے وزیروں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ابھی تو ہم نے عوام کا بہت خیال کر لیا ہے ۔ خطے کے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیڑول کی قیمت بہت کم ہے ۔ اسلیے شکر منائیں ۔ اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

    ۔ ان وزیروں کو میں آئینہ دیکھا دوں اور پوچھنے کی جسارت کروں کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں
    per capita income
    کیا ہے۔ زچی اور بچہ اموات کی
    ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان میں
    average life expentancy ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان کرپشن میں خطے کے ممالک میں کس نمبر پر ہے ۔ کاروبار کرنے کے حوالے سے پاکستان کے حالات کتنے اچھے ہیں ۔ ہماری جی ڈی پی خطے کو چھوڑیں جنگ زدہ افغانستان کے مقابلے میں کیا ہے ۔ ان سب چیزوں کا
    comparison
    بھی ہم کو خطے کے ممالک کے حوالے سے بتادیں تو ان کے پاک دامنی پر میں ایمان لے آؤں ۔ دراصل جھوٹ کا نہ سر ہوتا ہے نہ پاؤں ۔ بجٹ میں تمام اعلانات ، بیانات بلکہ پورا کا پورا بجٹ ہی ایک جھوٹ کا پلندہ تھا ۔ اب بھی معیشت آئی ایم ایف کے کہنے پر چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پیڑول اور دیگر اشیاء کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے عوام کو آئی ایم ایف کی جانب سے عید سے پہلے عیدی دے دی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے پیٹرول آج تک اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ جتنا آج ہوگیا ہے یہ بھی اس حکومت کا کریڈٹ ہے ۔

    ۔ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں ایل پی جی کی قیمت میں بھی
    5
    روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد سرکاری قیمت
    160
    فی کلو سے تجاوز کر گئی۔

    ۔ سب سے زیادہ مشیر اور وزیر خزانہ تو اس حکومت کے پاس ہی ہے وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ پٹرول اور ایل پی جی کی قیمت بڑھے تو عام آدمی کو فرق پڑتا ہے یا نہیں ۔ ابھی جو عید پر پردیسوں نے اپنے گھروں کو جانا ہے ان کو اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اور صرف پیٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا وہ کس کس کو متاثر کرے گا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو ٹرانسپورٹ یا کنوینس الاؤنس ملتا ہے۔ تھوڑا اوپر کا گریڈ ہو تو گاڑی یا پٹرول بھی ملتا ہے۔

    ۔ پولیس مدعی سے پٹرول کے پیسے لے لیتی ہے۔ چاک و چوبند دستوں نے کبھی پلے سے پٹرول ڈلوانا نہیں ہے۔ باقی وزیر مشیر تو اس عوام کو ویسے ہی جہیز میں ملے ہیں ۔ انکے پیڑول ، بجلی ، گیس کے بل اور عیاشیوں کا خرچہ بھی عوام نے برداشت کرنا ہے ۔ لہذا یہ جو باقی بچے کھچے اٹھارہ بیس کڑور عام آدمی ہیں ان کا اللہ مالک ہے۔ ان کی گدھا گاڑیوں کو پٹرول چاہیے بھی نہیں ہوتا۔

    ۔ عمران خان کی حکومت نے آتے ہی عزم ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کریں گے۔ پر یہ جھوٹے وعدے اور دعوی ہی ثابت ہوئے ۔

    ۔ آج سینیٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہی میں 147 ارب روپےکی ٹیکس چوری ہوئی ہے ۔ ۔ دوسری جانب کسی اور نہیں اس عوامی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 3 بنیادی اشیا مہنگی کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 17 روپے کا اضافہ کردیا۔ اب یوٹیلیٹی اسٹور ز پر چینی 68 کے بجائے 85 روپے کلو دستیاب ہوگی۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا مزید 150 روپے مہنگا کردیا گیا۔ یوں 20 کلو آٹا کا تھیلا 950 روپے کا ہوگیا ہے ۔ ۔ گھی کی قیمت میں بھی 90 روپے اضافہ کر دیا گیاہے ، ایک کلو گھی کا پیکٹ اب 170 کی بجائے 260 روپے فی کلو میں دستیاب ہو گا ۔

    ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ یوٹیلی اسٹورز پر غریب اور سفید پوش بندہ ہی جاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ حکومت کو غریبوں کی کتنی فکر ہے ۔

    ۔ پھل ، سبزیوں ، فروٹ ، بجلی اور گیس کے بلوں کا کیا رونا یہاں تو آٹا ، گھی اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ دراصل عوام نے سر پکڑ لیے ہیں ۔ کہتے ہیں ایسے نئے پاکستان سے تو پرانا پاکستان ہی بہتر تھا۔

    ۔ اس کارکردگی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں کہ کیوں اس حکومت کے وزیروں کو گندے انڈے اور ٹماٹر پڑ رہے ہیں ۔

    ۔ پر اس کے ردعمل میں جو کل علی امین گنڈا پور نے بیچ چوراہے کھڑے ہوکر سنجے دت اسٹائل میں فائرنگ کی ہے ۔ وہ اس ملک ، وہ قانون اور اس حکومت کو ووٹ دینے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔

    ۔ مجھے لگتا ہے آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو گاجر مولی سمجھ لیا ہے، جسے چاہے کاٹو یا بغیر کاٹے کھا جاؤ۔ اب تازہ ترین خبر یہ آئی ہے آئی ایم ایف نے بجلی ساڑھے تین روپے کے قریب مہنگی کرنے کی فرمائش کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے لائف لائن صارفین کو تین سو یونٹ کی بجائے دو سو یونٹ پر سبسڈی دی جائے۔

    ۔ سنا ہے ہمارے معاشی مینجروں نے اس پر غور شروع کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے صرف آئی ایم ایف کی ہدایات کو دیکھنا ہوتا ہے، عوام کی پروا نہیں ہوتی۔

    ۔ آئی ایم ایف عوام کو پیستی اور خواص کو نوازتی ہے، کیونکہ خواص کے پاس پیسہ ہو تو اس کا فائدہ سرمایہ دارانہ نظام کو پہنچتا ہے۔ عوام کے پاس ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    ۔ کبھی آپ نے سنا ہو آئی ایم ایف نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے وہ سرمایہ داروں پر ٹیکس دوگنا کرے، یا کبھی یہ کہا ہو بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں کو بڑھایا جائے۔

    ۔ وہ ہمیشہ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، گھی جیسی بنیادی اشیاء کو مہنگی کرنے کی فرمائش کرتا ہے، ان پر حکومت اگر کوئی سبسڈی دے رہی ہے تو اسے ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا ہے۔

    ۔ اس کا کیا مقصد ہے۔ اگر آئی ایم ایف کو صرف اپنے قرضے کی واپسی سے غرض ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کہیں ڈوب نہ جائے تو اسے ٹیکس جمع کرنے پر زور دینا چاہئے اور ان طبقوں پر ٹیکس لگانے کی شرط رکھنی چاہئے جو صاحبِ استطاعت ہیں، سرمایہ دار ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں اربوں روپے کماتے ہیں مگر نہیں آئی ایم ایف ایسا نہیں کرے گا، اس کی نظر معاشرے کے عام فرد پر ہو گی، شیدے، میدے، گامے اور ماجھے ساجھے کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنا اس کا مشن ٹھہرے گا۔ یہی وجہ ہے ہمارے ہاں جو بھی بجٹ بنتا ہے،وہ امیروں کا بجٹ ہوتا ہے۔

    ۔ نام تو غریبوں کا لیا جاتا ہے لیکن اس میں سرکاری مراعات امیروں کے لئے ہوتی ہیں۔ بجٹ میں پہلے ہی عام آدمی کا بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے کچومر نکال دیا گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف کی فرمائشوں کے سامنے حکومت ہاتھ جوڑے کھڑی نظر آتی ہے۔

    ۔ جس طرح کوئی اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا اسی طرح حکمران بھی اپنے کیے ہوئے اکثر فیصلوں کے نتائج سے لا علم ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلے کیا نتائج دیں گے اور ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد اور آگے پیچھے پھرنے والے وزیر اور مشیر گورننس کے نام پر کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں۔ مشورے دینے اور فیصلے کروانے والے اکثر تتر بترہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی اگلی منزلوں کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔

    ۔ عمران خان پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ اُن سے غلط فیصلے ہو جاتے ہیں ۔ اسی لیے بیشتر معاملات میں حکومت کو روزِ اول ہی سے سبکی اور جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔ جبکہ بعض مشیر اور سرکاری بابو کمالِ مہارت سے اہم ترین اور حساس نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم عمران خان کواپنے گرد گھما رہے ہیں۔

    ۔ اب آپ دیکھیں نہ راولپنڈی رنگ روڈ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ جس میں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کو کلین چیٹ دے دی گئی ہے ۔

    ۔ مزے کی بات ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی الائنمنٹ میں تبدیلی اور لینڈ ایکوزیشن کے معاملات میں بے ضابطگیاں بھی ثابت ہوچکی ہیں۔
    اب پتہ نہیں کون سے فرشتے یا جن تھے جنہوں نے یہ واردات ڈالی تھی ۔ اور یہ آٹا ، چینی ،پیڑول اور دیگر اسکینڈلز کی طرح ایک نیا معمہ بن گیا ہے۔ کہ کرپشن ہوئی مگر معلوم نہیں کس نے کی ۔ اور اب اتنے بڑے معاملے میں دو بے وقعت افسران کو ہی بلَی کا بکرا بنا کر معاملات کو سمیٹا جارہا ہے ۔

    ۔ آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اب تو یہی خواہش رہ گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی طرح آئی ایم ایف کو بھی انکار کر دیں صاف کہہ دیں اس سے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔

  • وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    قومی سیاست کا بڑا المیہ محاذ آرائی اور بداعتمادی ہے ، جب ایک سیاسی فریق دوسرے کو قبول کرنے کے بجائے سیاسی تعصب، نفرت ، الزام تراشی اور منفی طرزعمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا نتیجہ انتشار کی صورت میں ہی پیدا ہوگا۔

    ۔ آج پھر آزاد کشمیرمیں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نوازنے خوب تنقید کے نشتر چلائے ہیں اور کہا ہے کہ کشمیر بیچنے کی سازش امریکہ میں بیٹھ کر رچائی گئی ، کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈال کر 2 منٹ خاموشی کا کہتے ہیں۔ یہ جیت کر کشمیر کے پہاڑ بھی آئی ایم ایف کو بیچ دیں گے ۔ پلندری میں تو عمران خان پر یہ بھی الزام لگا دیا کہ وہ آزاد کشمیر کو ایک نیا صوبہ بنانا چاہیتے ہیں ۔ پھر عمران خان کو دھمکی دی کہ سن لیں ان کا یوم حساب قریب ہے ، آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام ان سے حساب لیں گے۔ ۔ میری نظر میں گندی زبان والے لیڈر اور حکومتی وزیر کشمیر پہنچے ہوئے ہیں اور کشمیر کا ماحول خراب کررہے ہیں۔ کیونکہ زبان درازی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ۔ ایسا لگتا ہے کہ آزادجموں وکشمیر انتخابی مہم ’جگت بازی‘ اور ’گالم گلوچ‘ کے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

    ۔ کیونکہ ہر مسئلے کی زمہ دار حکومت ہوتی ہے تو شروع حکومت سے ہی کرتے ہیں ۔ علی امین گنڈاپور الیکشن مہم کے آغاز میں ہی تنازعات کی زد میں آگئے تھے جب ان کی مبینہ طور پر پیسے بانٹنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ اس کے بعد وزیر موصوف اپنی تقریر میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر بھی خبروں کی زینت بنے رہے۔ پھر ان کی جانب سے
    500
    ارب روپے کے فنڈز کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، جو پی ٹی آئی الیکشن جیتنے کی صورت میں وہاں کی حکومت کو دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ۔ آزاد کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے سابق وزیراعظم ذوالقفار علی بھٹوکو غدار اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ڈاکو قرار دیا۔

    ۔ یوں یہ بدزبانی کشمیرسے پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ میں جو زبان استعمال ہوئی جو ہنگامہ ہوا ، جو الزامات لگے وہ باعث شرمندگی ہیں ۔
    علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھٹو کو غدار کہنا ایک نیا پنڈورا بکس کھولنے کے مترادف ہے ۔

    ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت تصادم کی نئی راہ کھول رہی ہے ۔ سینیٹ میں اپوزیشن بینچز سے جو نعرے لگے وہ بھی اس مقدس ایوان کی بے حرمتی ہے اور حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ۔

    ۔ اپوزیشن کی بات کریں تو عمران خان کو بزدل کہا جارہا ہے ۔ ن لیگ تو آزاد کشمیر کے اندر بھی دھاندلی کا عندیہ دے کر۔ ان الیکشنوں کو بھی متنازعہ کرنے پر لگی ہے ۔

    ۔ مریم نواز بھرپور انتخابی مہم تو چلا رہی ہیں۔ مگر جیت کے چانسز کم دیکھائی دیتے ہیں ۔ جو کچھ وہ روزانہ ارشاد فرما رہی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمران خاں نے کشمیر کو بیچ ڈالا۔ صرف ان کی جماعت ہی طوفان میں ہچکولے کھاتے کشمیریوں کو ساحل سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کے امیدوار فاروق حیدر نے فرمایا کہ مریم ہی کشمیر کو آزاد کرائیں گی۔

    ۔ جبکہ مظفر آباد کو فتح کرنے کے لیے عمران خان کی حکمتِ عملی وہی پرانی ہے، جو نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی تھی۔ کہ برادریوں کی حمایت رکھنے والے کروڑ پتیوں کو ٹکٹ جاری کیے جائیں۔ وہ کر بھی ایسا ہی رہی ہے ۔

    ۔ اب اس تمام دھما چوکڑی میں عمران خاں کشمیر کا رخ کرنے والے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ
    ۔ کیا وہ بھی بلاول اور مریم کی روش اختیار کریں گے؟ انہی پہ گولہ باری کریں گے۔ اگر وہ اس بچگانہ کھیل کا حصہ ہو گئے تو مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ کون لڑے گا؟
    ۔ ٹارچر سیل میں پڑے ہزاروں نوجوانوں اور کمسن بچوں کا، جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ کہاں ہیں اوران پہ کیا بیت رہی ہے۔

    ۔ ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ
    ۔ انتخابات کہیں بھی ہوں؟
    ۔ حکومت کوئی بھی ہو؟
    ۔ اپوزیشن کتنی ہی نالائق کیوں نہ ہو؟

    ۔ سیاسی جماعتیں کتنی ہی پارسا، قابل اور جمہوریت پسند کیوں نہ ہوں انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید کرنا، ایک دوسرے پر مختلف طرح کے الزامات عائد کرنا اور تابڑتوڑ حملے کرنا ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

    ۔ لیکن اس بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے لے کر اپوزیشن کی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت تک جو الزامات ایک دوسرے پر لگائے جا رہے ہیں اور جس گھن گرج کے ساتھ مخالفین کو کشمیر فروش ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کو آج بھی اپنی تاریخ اور تحریک کا اچھی طرح علم ہے۔ تاہم آج پاکستان سے ووٹ مانگنے کے لئے آزادکشمیر جانے والے لیڈر کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر سمجھانے اور آزادی حاصل کرنے کے گر بتانے سے زیادہ پاکستان میں اپنے مخالفین کو غدار ، ملک دشمن، چور، ڈاکو، کرپٹ وغیرہ ثابت کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں۔

    ۔ 25
    جولائی کو ہونے والے الیکشن میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا؟
    اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم تحریک انصاف جس نے پچھلے الیکشن میں صرف دو سیٹیں جیتی تھیں، اب
    ۔۔۔ تبدیلی فارمولہ ۔۔۔
    کی رو سے سب سے مقبول پارٹی ہے۔

    ۔ پی ٹی آئی نے عوامی رابطہ مہم پراب تک اتنا زور نہیں لگایا جتنا دوسری پارٹیوں کے ارکان اسمبلی اور الیکٹ ایبلز کو توڑنے میں لگایا ہے ۔

    ۔ اچھا یہ بھی ایک تاثر ہے کہ ن لیگ کے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے حقیقتاً آزادکشمیر کو مالی خود مختاری دلانے سمیت کئی اچھے کام کئے ہیں جن کے زور پر وہ پی ٹی آئی کو جھٹکا دے سکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی میں بھی کئی تجربہ کار لوگ موجود ہیں جو اپنی سیٹیں جیت سکتے ہیں مگر پانسہ پلٹنے کے لئے اسے مزید محنت کرنا ہوگی۔

    ۔ دوسری جانب حکومت کا ایک مشن شہباز شریف ہے ۔ اس حوالے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر حکومت کا خصوصی ٹارگٹ ہیں ۔ جبکہ حکومتی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ان کے خلاف شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ نااہلی سے بچ نہیں سکیں گے ۔ مسلم لیگ( ن) کا کہنا ہے کہ حکمران اپنی عدم کارکردگی کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ شہباز شریف چونکہ حکومت کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں اس لئے انہیں خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ دیکھا جائے تو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ احتساب ہے۔ آزادانہ اور شفاف احتساب نہ ہونے کے باعث اول تو یہ عمل آگے نہیں بڑھ رہا اور دوسری طرف یہ تاثر عام ہوتا نظر آتا ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں ، خصوصاً اپوزیشن تک محدود ہے۔ دیکھا جائے تو نیب نے احتساب کے لفظ کو ایک لطیفہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    ۔ اب اس ساری مارا ماری اور الزامات کی جنگ میں انتخابی اصلاحات کا معاملہ سیاسی طور پر خاصا ٹیڑھا ہوگیا ہے ۔ پہلے کچھ اُمید پیدا ہوچلی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اختلافات کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پر اب روز بروز تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔

    ۔ ابھی تک جماعت ِاسلامی کے سوا تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی انتخابی اصلاحات کی بیشتر تجاویز کو مستردکیا ہے۔ وہ نہ الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کے حق میں ہیں اور نہ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے پر راضی ہیں ۔
    کیونکہ تقریبا اسّی لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کی بھاری اکثریت حکومتی جماعت تحریک انصاف کی حامی سمجھی جاتی ہے۔ یوں دس پندرہ لاکھ اوورسیز نے بھی اگلے عام انتخابات میں ووٹ ڈال دیا توتیس سے چالیس انتخابی حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو فائدہ ہوگا۔

    ۔ دوسری طرف آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین قابل ِقبول نہیں۔ حکومت کی مجوزہ ترمیم کے تحت ووٹر فہرستیں بنانے کا اختیار الیکشن کمیشن کی بجائے نادرا کو مل جائے گا۔۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن اسکی مخالفت کررہے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ اس اقدام سے الیکشن کمیشن بے اختیار ہوجائے گا۔

    ۔ یوں انتخابی اصلاحات کا معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ صاف ستھرے الیکشن پر جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ بدقسمتی سے ہر الیکشن کے بعد ہارنے والی جماعتیں انتخابی عمل میں شدید دھاندلی کی شکایت کرتی ہیں۔ کبھی ووٹنگ سے پہلے دھاندلی کرنے کا شور مچتا ہے۔ کبھی ووٹنگ کے بعدپولنگ اسٹیشن پر گنتی اورریٹرننگ افسر کے دفتر میں نتائج مرتب کرنے میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

    ۔ ہمارا سیاسی کلچر ایسا گلا سڑا ہے کہ کوئی طریقہ اختیار کرلیا جائے شکست کھانے والا اپنی ہار تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ الیکشن صاف ستھرے اور منصفانہ ہوں بلکہ دشواری یہ ہے کہ اس ملک کے سیاستدان ہر صورت حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔۔ ہمارے سیاستدان جاگیردارانہ اور قبائلی مزاج کے حامل ہیں ۔ انکا خیال ہے کہ چودھراہٹ اور سرداری ہمیشہ ان کے پاس رہنی چاہیے۔ الیکشن تو محض رسمی کاروائی ہے۔۔ یہ بھی درست ہے کہ عملی سیاست سمجھوتوں اور کچھ لو، کچھ دو کے اُصولوں پر چلتی ہے۔ تحریک انصاف کو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کیلیے اپنی انتخابی تجاویز میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کی ہر بات کو رَد کرکے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔ تمام فریقوں کو ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔ ضروری نہیں کہ الیکشن کے عمل میں بہتری کی تمام کوششیں ایک ہی قانونی ترمیم کے ذریعے نافذ ہوجائیں۔

  • پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ ملک میں نوٹوں کی گڈیوں سے وزارتوں اور عہدے باٹنے کا سلسلہ بھی شروع گیا ہے ۔ کیونکہ سیاست کے اپنے اصول ہیں ۔ بیڈ گورننس ، سیاسی نا تجربہ کاری اور روز روز کی تنقید سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے سوچ لیا ہے کہ باقی ماندہ دو سالوں میں لوگوں کو نوازا جائے ، گلے دور کیے جائیں اور دوست بنایا جائے ۔ کیونکہ کہیں اگلا الیکشن اگر اپنے بل بوتے پر لڑنا پڑ گیا تو آسان کچھ نہیں مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔

    ۔ جہاں نوازشریف صاحب ایک بار پھر خاموش ہوگئے ہیں۔ پر ان کی کمی شہباز شریف پوری کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی جو کچھ بھی کرتا ہے۔ بڑے بھائی کے کہنے پر ہی کرتا ہے۔ اب شہباز شریف نے اپنے روایتی انداز دیکھانا شروع کر دیے ہیں ۔ یعنی مصالحت کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ شہباز شریف نے چاروں صوبائی صدور اور عہدیداروں کو حکومت کے خلاف متحرک ہونے کی ہدایات کے ساتھ لیگی نمائندوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اسمبلیوں میں حکومت کے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب ن لیگ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائی گئ ۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں پر احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو بھی ہدف تنقید بنایا جائے گا ۔ جبکہ جو سب سے اہم چیزہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے۔ ساتھ ہی منتخب لیگی ارکان کو ہفتے میں کم از کم دو دن اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی بھی سختی سے ہدایت کر دی ہے۔ آسان الفاظ میں اگلے الیکشن کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ عمران حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شہباز صاحب کو عدالت سے مبینہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے آئندہ دو مہینوں کے دوران سزا دلوا کر رہے گئیں ۔ اس میں شہزاد اکبر پیش پیش ہیں ۔ جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف اور ’’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘‘والی بات کی ہیڈ لائنز بنیں تو جو دبے لفظوں میں نئے انتخابات کا مطالبہ ہوا وہ بھی اہم ہے ۔ ۔ اگلے انتخابات میں ابھی بڑا وقت ہے لیکن اس بار سیاسی جوڑ توڑ قبل از وقت شروع ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جو مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ کرتے تھے اب بروقت انتخابات کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگ عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی بھی بات کر رہے ہیں۔

    ۔ کوئی ٹھوس خبر تو نہیں مگر چند اشارے ایسے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وہاں کے بااثر سیاسی خاندانوں سے معاملات طے کر رہی ہے۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہےکہ سندھ میں ساری سیاسی قوتیں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں گی ۔ اور یوں بھرپور پلاننگ کے ساتھ اگلی بار سندھ سے پیپلز پارٹی کا پتہ کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کچھ تو دعوی کر رہے کہ شاید پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم اور ق لیگ کی طرح مرکز یا صوبے میں حکومتی جماعت کا اتحادی بننا پڑے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ق کے ساتھ حکومت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں مسلم لیگ ق کی لیڈر شپ سے ملاقات بھی کی ہے۔ اور آج تو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں چودھری مونس الہیٰ کو وفاقی وزیر بنا کر ان کی دیرینہ خواہش کو پورا کر دیا گیا ہے ۔ اب کہنے والے تو کہہ رہے ہیں اور اسکا کریڈیٹ بھی زرداری کو ہی دے رہے ہیں کہ حکومت کو ڈر پڑ گیا ہے کہ اگلی بار ق لیگ پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا کر الیکشن لڑے گی تو سوچا یہ گیا کہ ق لیگ جو مانگتی ہے دے دو ۔ آخر الیکشن کا سوال ہے ۔

    ۔ ساتھ ہی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پنجاب سے مسلم لیگ ن کا ووٹ توڑنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں جبکہ میاں شہباز شریف اپنے ووٹ بینک کو بچانے اور اپنے الیکٹ ایبل محفوظ بنانے کے لیے تگ ودو میں ہیں۔ بلاول بھٹو کا امریکہ جانا بھی ہمارے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اسے آئندہ انتخابات میں امریکہ سے آشیرباد اور ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اس وقت اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی دوڑ جاری ہے البتہ اس دوڑ میں پیپلزپارٹی کی دال گلتی تو نظر آتی ہے لیکن مسلم لیگ ن بارے کہا جا رہا ہے کہ شاید انکی قبولیت کا ابھی وقت نہیں آیا۔ حکومت نے بھی ابھی سے آئیندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ حالیہ بجٹ میں انتخابی تیاریوں کی جھلک نظر آتی ہے تاہم اگلا بجٹ خالص انتخابی بجٹ ہو گا۔ اب دیکھیں آذاد کشمیر میں کیا ہوتا ہے تاہم سیاسی پنڈتوں کی پشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں بھی پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے مگر سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حالیہ حکومت کے باعث وہاں مسلم لیگ ن کی پوزیشن مضبوط ہے اور آج کل مریم نواز بڑے بڑے جلسے کرنے میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے جلسوں کے مقابلے میں تحریک انصاف ابھی تک کشمیر میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی۔ تحریک انصاف جوڑ توڑ کی سیاسی مینوفیکچرنگ میں مصروف ہے۔

    ۔ ہاں البتہ جو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور نوٹوں کی تھدیاں بانٹتے پکڑ گئے ۔اس سے تحریک انصاف کی مشہوری میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ پر آج چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے وفاقی وزیر علی امین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے کر اس مشہوری کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔

    ۔ اس سیاسی کھیل میں عوامی مسائل کا نظر انداز ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اسی جذباتی انداز میں تقریریں کرتے کرتے اصل سیاست جس کا مقصد عوامی فلاح و بہبود ہے اسے بھلا دیتے ہیں۔ ان دنوں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔

    ۔ کوئی پسند کرے یا نہیں ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے نمودار ہونے کے چند ماہ بعد ہی ہوئے انتقال پر ملال نے عمران حکومت کو بے پناہ اعتماد بخشا ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنے کے بجائے اب ایک دوسرے کو شرمندہ کررہی ہیں۔

    ۔ آج بھی اپوزیشن اپنے اپنے کیسز پر عدالت میں پیش ہوتی ہے لیکن کبھی حکومت کے ساتھ عام آدمی کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی اگر گیس، پانی بجلی کے بل جمع کرواتا ہے تو کھانے کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور ادویات کے لیے ادھار کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

    ۔ کراچی سے خیبر تک اور گلگت سے گوادر تک کوئی شخص ایسا نہیں جو مہنگائی سے تنگ نہ ہو۔ آج سب ایک ہی آواز میں حکومت کو کوس رہے ہیں۔

    ۔ پاکستان اس وقت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ نئے وفاقی بجٹ کے اثرات عوام کے لیے کرونا کی چوتھی لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں ہیں۔ دراصل آئی ایم ایف کی مرضی اور حکم نے ہمارے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسی اذیتوں کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

    ۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بیانات جاری کرنا بہت آسان ہے۔ بازاروں میں جا کر حالات کا جائزہ لینا اور عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت مہںگائی تو ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے کم نہیں کر سکتی لیکن اسے قوت خرید بڑھانے سے تو کسی نے نہیں روکا۔ حکومت ماضی میں پھنسی رہے گی تو نہ مہنگائی رکے گی نہ قوت خرید بڑھے گی اس کے نتیجے میں صرف عام آدمی پسے گا، کیا اس تبدیلی کے لیے لوگوں نے بلے پر مہر لگائی تھی۔

  • طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    اب تک طالبان کی افغانستان کی مسسلسل پیش رفت کیا ہے اور کیسے وہ چن چن کر اپنے دشمنوں کو عبرت کا نشان بنا رہے ہیں ۔ اب جیسا کہ کل خبر آئی تھی کہ بھارت طالبان کے خلاف قوتوں کو افغانستان میں اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔ آج طالبان نے قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر قبضہ کرکے یہ بدلہ اتار دیا ہے اور قونصل خانے پر قبضے کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی ہے۔ ویڈیو میں طالبان کو قندھار میں بھارتی قونصل خانے کے مختلف حصوں میں جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارتی سفارتکاروں اور سکیورٹی عملے نے اپنا سامان بھی پیک نہیں کیا۔ اور بھاگ گئے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت بیس سال تک افغانستان میں کئی طرح کے جنگی جرائم میں امریکہ کا مددگار رہا ہے ۔ اب افغانستان میں بھارت کی حالت عجیب سی ہو گئی ہے ۔ تین ارب ڈالر وہاں کھپانے والا بھارت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ طالبان کے ساتھ چین ، روس ، ترکی اور امریکہ وغیرہ سیدھی بات کر رہے ہیں اور پاکستان بھی۔ لیکن بھارت کی وزارت خارجہ کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے کیونکہ سب کو انکی اصلیت معلوم ہے ۔ اس وقت بھارت کی وزارت خارجہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج افغانستان ہے۔ بھارت کو فوری طور پر جس چیز نے تشویش کا شکار کیا وہ اس کے پائلٹوں کا معاملہ ہے۔ طالبان زمینی حملوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں لیکن فضائی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بیس برسوں کے دوران بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے پاس یہ معلومات موجود ہیں کہ طالبان ، معصوم بچوں اور عام شہریوں پر بمباری کرنے والے کئی پائلٹ بھارتی فضائیہ کے ہیں۔ طالبان نے اب تک برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم پائلٹوں کے متعلق ان کی پالیسی غیر مبہم ہے۔ اب یہ بھی خبریں ہیں کہ حالیہ دنوں سات یا آٹھ پائلٹ طالبان نے قتل کئے ہیں۔ ان میں کچھ بھارتی بھی ہیں۔ بھارت کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ اب تک بھارت اپنا بہت سا عملہ افغانستان سے نکال چکا ہے۔ ان میں زیادہ تر سفارتی کور میں کام کرنے والے انٹیلی جنس کے لوگ تھے۔

    ۔ یہ لوگ افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اب بھارتی سفارت کار ایسے پراپیگینڈہ کر رہے ہیں کہ طالبان امن دشمن ہیں اور غیر مہذب ہیں ۔ جبکہ بھارتی میڈیا کو تو ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان دشمنی کے پیچس لگ گئے ہیں ۔ بھارتی میڈیا اس وقت رو رہا ہے ، چینخ رہا ہے ، چلا رہا ہے ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے لئے افغانستان کی صورت حال مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور سیکرٹری خارجہ ہر وہ دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں جہاں سے طالبان کا گزر ہوا ہو ۔ مگر طالبان نے اب بھی اور پہلے بھی درپردہ رابطوں کی بھارتی کوششوں سے بیزاری کا اظہار کیا ہے ۔

    طالبان کے برسر اقتدار آنے سے بھارت افغانستان کی شکل میں ایک سٹریٹجک اتحادی سے محروم ہو چکا ہے۔ بھارت کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے۔ اور بھارت کو اس چیز کی بھی بہت تکلیف ہے کہ طالبان اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اس لئے پاکستان کو ایک اور دوست ہمسایہ مل گیا ہے ۔ پاکستان کا مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا۔ سی پیک اور وسط ایشیا تک جانے والے تجارتی راستے کھل سکتے ہیں۔ اس لیے بھارت کے لئے یہ تصور کرنا ہی ڈرونا خواب ہے کہ وہ ہارے اور فرار ہوتے لشکر کا سپاہی ہے۔ مودی ، جے شنکر اور اجیت ڈول کے پائوں تلے انگارے سلگ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے خطے میں پاکستان اور چین کے سوا سب سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور سب انہیں پاکستان کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ درحقیقت بھارت کو افغانستان میں خانہ جنگی سوٹ کرتی ہے کیونکہ اسے افغان سرزمین پر پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سازشیں مزید پروان چڑھانے کا موقع ملے گا۔ چنانچہ افغانستان کا عدم استحکام ہمارے عدم استحکام پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا یہ موقف بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرمایہ کاری ڈوبنے پر بھارت شدید مایوسی کا شکار ہے اور ایسے میں اُس کی بوکھلاہٹ قابل فہم ہے ۔

    بھارت پہلے امریکا کی ناک کے نیچے بدامنی پھیلاتا رہا ۔ افغانستان میں امن نہیں ہونے دیا ۔ اب روس ،ایران ،چین اور سب ممالک دیکھ رہے ہیں کہ بھارت عدم استحکام کیلئے اسلحہ پہنچارہا ہے ۔ خطے کے امن کیلئے ضرور ی ہے کہ بھارتی دوغلی گیم کو روکا جائے ۔ حقیقت میں بھارت افغانستان میں خانہ جنگی کروا رہا ہے ۔ بنیادی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھے ،امریکا کو بھارت پر نظر رکھنی چاہئے ،بھارت کے جہاز اسلحہ بھر بھر کر افغانستان آرہے ہیں اور دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کو نظر نہیں آرہے ۔یہ اسلحہ آتش بازی کیلئے نہیں لڑائی کیلئے جارہا ہے ،اقوام عالم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ،دنیا کو افغانستان میں خانہ جنگی نہیں ہونے دینی چاہئے ۔ کیونکہ اگر چاہے تو پاکستان بھی طالبان کو اسلحہ دے سکتا ہے۔ مگر افغانستان میں خانہ جنگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ افغانستان میں اگر امن لانا ہے تو کسی کو پراکسی نہیں بننے دینا چاہئے۔

    ۔ دوسری جانب طالبان نے شمالی اتحاد کا مرکز سمجھے جانے والے 100 اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ وہ اضلاع ہیں جہاں طالبان اپنے دور حکومت میں بھی قبضہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اب شمالی صوبے بدخشاں کے تمام اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ اس میں وہ ضلع فرخار بھی شامل ہے جو نائن الیون سے پہلے طالبان کے مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا مرکز تھا۔ شمالی صوبوں میں طالبان کی کامیابی کی بڑی وجہ یہاں ان کی تنظیم سازی اور یہاں موجود تاجک اور ازبک آبادی کو اپنی صفوں میں شامل کرکے اعلیٰ عہدے دینا ہے۔ اس کے علاوہ ان صوبوں میں افغان فوجیوں کو کابل حکومت کی طرف سے امداد نہ مل سکی ۔ بہت سے فوجیوں نے طالبان کی عام معافی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیار ڈالے اور طالبان سے نقدی اور کپڑے وصول کرکے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ طالبان نے اب افغان فوج اور عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تو ہم ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ ہماری حکومت سے عوام کو کوئی تشویش نہیں ہے۔ امریکہ کے خلاف جہاد میں عوام کی مدد سے امریکہ کو شکست دی ہے ۔ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان سے کوئی خوف نہ رکھیں۔ دراصل امریکی لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ جونہی امریکہ افغانستان سے جانے لگا ہے تو عوام بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینے لگے ہیں۔

    ۔ اب تک کی صورتحال کے بارے میں افغان طالبان کے دوحا میں موجود ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے اور اب صرف مرکز باقی رہ گیا ہے۔ جن اضلاع پر قبضہ کر رہے ہیں وہاں اپنا نظام بھی نافذ کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی شخصی یا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے جن حالات کی وجہ سے جہاد شروع کیا تھا وہ حق اورباطل کا معرکہ تھا۔ حق اور باطل کے معرکے کے آخر میں فتح حق کی ہوتی ہے۔ جو اقوام ہم پر حملہ آور ہوتی ہیں وہ ہماری روایات سے متصادم ہوتی ہیں اس لیے ظاہر سی بات ہے کہ ہم انہیں شکست ہی دیں گے۔ ہم اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم افراتفری نہیں پھیلائیں گے جس کی وجہ سے خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی طالبان نے ایک بار پھر کابل ائرپورٹ ترکی کے حوالے کرنے کی مخالفت کر دی ہے ۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انخلاء مقررہ تاریخ تک کوئی غیرملکی فوج قبول نہیں۔

    اس بیان کے بعد افغان حکومت نے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کیلئے اینٹی میزائل سسٹم نصب کردیا ہے ۔ افغان سکیورٹی فورسز کے ترجمان اجمل عمر شنواری نے کہا ہے کہ سکیورٹی سسٹم ہمارے غیر ملکی دوستوں نے دیا ہے ۔ یہ کافی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے ۔ اس لئے فی الحال ہمارے غیر ملکی دوست ہی اسے سنبھال رہے ہیں لیکن ہم اسے سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کررہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی عالمی ذمہ داریوں سے صرف نظر کیا ہے اور انتہائی عجلت میں افغانستان سے اپنی فوج واپس بلائی ۔ اس حوالے سے چین نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے اس عمل سے افغان عوام اور خطے کے دیگر ممالک پر ملبہ ڈال دیا حالانکہ اس ساری صورتحال کیلئے اصل قصور وار امریکی انتظامیہ ہے کیوں کہ اُسی پر تمام تر افغان مسئلے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں۔ وہ اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور مطلب نکلنے پر اجنبی بن جاتا ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک یقینا نئے سکیورٹی بحران سے نمٹ لیں گے لیکن دنیا امریکہ کو ہمیشہ ایک عجلت پسند ، مطلب پرست اور غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر یاد رکھے گی۔ امریکی منافقت کی انتہادیکھ لیجیے کہ بیس برس قبل افغان حکومت اس کی چہیتی جبکہ طالبان دہشت گرد اور خطے کے امن کیلئے ناسور قرار دیے جاتے تھے۔ پچھلے سال فروری کے مہینے میں قطرمیں طالبان سے معاہدہ کرکے امریکہ نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ طالبان کی افغانستان میں کیا اہمیت ہے

    اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے طالبان کے پانچ ہزار قیدی افغان حکومت کے جیلوں سے رہا کروائے۔ اس دوران امریکہ نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے تاریخی معاہدے کے وقت اشرف غنی حکومت کی شرکت ضروری نہیں سمجھا۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال میں پاکستان کو بہرحال اپنے مفادات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ اس وقت امریکہ بھی جارحانہ انداز ترک کرکے افغانستان میں امن کیلئے ہم سے ڈو مور کے تقاضے کر رہا ہے اور کابل انتظامیہ بھی پاکستان سے معاونت کی طلب گار ہے۔ جبکہ طالبان افغانستان میں ماضی کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں اور پوری آب وتاب کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں پر قابض ہورہے ہیں۔ افغان طالبان کا اعتماد اور لب و لہجہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ ابھی سے خود کو کابل کے اقتدار پر براجمان سمجھ رہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    کہا جاتا ہے کہ افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان ہے۔ جہاں برطانیہ اور روس نے شکست کھائی اور اب امریکہ کو ذلت آمیز شکست ہوئی ۔

    ۔ روس افغانستان سے ناراض ہے کہ ان کی وجہ سے سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ برطانیہ انہیں معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ افغانوں نے انہیں عبرتناک شکست دی تھی اور جب انگریز تاریخ کی کتابوں میں اس عظیم برطانوی سلطنت کا تذکرہ پڑھتے ہیں جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو وہ یہ پڑھ کر شرمندہ ہوتے ہیں کہ افغانوں نے انہیں ذلت آمیز شکست دی تھی۔ وہ بھی افغانوں کو نفسیاتی طور پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اب امریکہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے تو اسے خوب علم ہے کہ تاریخ اسے کن الفاظ میں یاد کرے گی۔ ۔ مگر امریکیوں کی ایک عادت ہے they are good manuplitators
    اب یہ توصاف پتہ چل گیا ہے کہ افغان حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ نہ ہی وہ کسی قابل ہیں کہ طالبان کا مقابلہ کر سکیں ۔ ان کی تو اپنی حالات یہ ہے کہ جتنی بھی ان کی 2 سے 3 لاکھ سیکورٹی فورس ہے ۔ اسکی تنخواہ اور دیگر اخراجات بھی امریکہ بہادر اٹھاتا رہا ہے ۔ اور اگر آج امریکہ یہ پیسہ دینا بند کردے تو ۔ شاید اشرف غنی اور افغان حکومت صرف دو سے تین ماہ ہی اپنی نکمی فوج کو تنخواہ دے سکیں ۔

    ۔ اب اس تمام صورتحال میں آپ دیکھ بھی رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے کہ امریکہ کی جانب سے رپورٹس بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی کہہ رہے ہیں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی بتا رہا ہے کہ افغان حکومت سمتبر کے بعد شاید بمشکل چھ ماہ بھی نہ چل سکے ۔ ۔ اب ایسا نظر آنا شروع ہوچکا ہے کہ امریکی افغانستان کو جان بوجھ کر ”لڑو اورمرو“ والی صورتحال میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ افغانستان تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغان طالبان کو یقین ہے کہ ان کا جوش و جذبہ انہیں فتح سے ہمکنار کرے گا۔۔ جبکہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ اپنی حکومت کو قانونی اور آئینی قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان کو ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور شرکت اقتدار کی کوئی ایسی صورت نکالنی چاہیے جس میں ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

    ۔ مگر سچ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کی قوت کے بل پر ہی قبضے کے بعد افغانستان میں حامد کرزئی اور اشرف غنی وغیرہ کی حکومتیں بنیں۔ یعنی ان کو جبری طور پر قابض طاقتوں کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ یہ حکومتیں کسی جمہوری طریقے سے اقتدار میں نہیں آئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ۔ اس وقت بھی ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کی کیا حیثیت ہے؟ ۔ ان کے انتخابات میں ووٹوں کا کتنا ٹرن آؤٹ تھا؟۔ اس وجہ سے یہ کہنا کہ جو حکومت طاقت کے ذریعے آئے گی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا ۔

    ۔ دوسری طرف اب یہ دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ امریکہ کا خیال ہے کہ جس نے بھی حکمران بننا ہے بن جائے جو بھی فیصلہ ہونا ہو جائے ۔ اور اگر طالبان حکومت قائم بھی کرتے ہیں تو وہ ڈالروں کے ذریعے اسے کنٹرول کر لے گا۔ کیونکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کی طرح طالبان حکومت کو بھی امریکی امداد کی ضرورت ہو گی۔ یعنی اگر طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتے خاص طور پر عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں تو انہیں امداد دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ گویا امریکی جو مقاصد اسلحہ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب ڈالروں کے ذریعے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    ۔ یقیناً پورا افغانستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایک فیصلہ کن مرحلہ اب آنے والا ہے۔ یہ مرحلہ ایک سال میں آتا ہے یادو سال میں، یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان میں بالآخر طالبان حاوی ہو جائیں گے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہیں کابل پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے، ابھی بتانا ممکن نہیں ہے۔

    ۔ ویسے افغان طالبان نے تو ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کردیا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے حالیہ تبصرے کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو دو ہفتوں میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ ۔ اس لیے اب افغانستان میں امن، مذاکرات کے ذریعے نہیں آئے گا، بلکہ جنگ کے ذریعے ہی آئے گا۔ آج جب آپ زمینی حالات کو دیکھتے ہیں تو یہ بات ٹھیک ہی معلوم ہوتی ہے۔۔ اچھی چیز یہ ہے کہ طالبان کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ اکیلے ملک پر حکومت نہیں کر سکتے۔ لہٰذا حکومت میں تاجک، ازبک اور ہزارہ شراکت ضرورت ہے اور سب سے امید افزا بات اس مرتبہ یہ ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس کی افغانستان کے بارے میں سوچ میں مطابقت ہے۔ 1996ء میں یہ صورت حال نہیں تھی۔۔ اسی لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ روس، چین، ایران اور ترکی نے بھی طالبان سے روابط بڑھائے ہیں۔

    ۔ اس تناظر میں دیکھیں تو طالبان رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی امدادی تنظیمیں کام جاری رکھیں، بین الاقوامی انسانی حقوق گروپس مشن بند نہ کریں۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان چین کو افغانستان کا دوست سمجھتے ہیں ، امید ہے کہ ملک کی تعمیر نو کیلئے جلد بیجنگ کیساتھ بات ہو گی ۔ اگر چینی سرمایہ کار اور ورکرز واپس آتے ہیں تو انہیں سکیورٹی کی ضمانت دیں گے ،چینیوں کی سکیورٹی ہمارے لئے بہت اہم ہے ۔ چین کیساتھ بات چیت ضروری ہے ، ہم نے کئی بار چین کا دورہ کیا، چین کیساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اور افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے دوست چین کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

    ۔ ایغور جنگجوؤں کے ذکر پر انہوں نے کہا کہ طالبان انہیں افغانستان میں پناہ نہیں دیں گے ،طالبان دوحہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد گروپ کو افغانستان میں قیام اور افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے زیر کنٹرول اضلاع کے سکول کھلے ہیں اور وہاں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنیکی اجازت ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے مالی معاونت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں کے ملازمین کو کابل حکومت نے تنخواہیں ادا کرنا بند کر دی ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی طالبان کے وفد نے یہ بات کہ ہے کہ ہمارا مقصد افغانستان کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرانا تھا،افغانستان میں کئی دارالحکومتوں کا محاصرہ جاری ہے،افغان فورسز کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ مل رہی ہے۔

    ۔ اسی کانفرنس میں طالبان رہنماؤں شہاب الدین دلاور اور سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام سرحدی علاقے اس وقت طالبان کے زیر اثر ہیں۔ ملک میں نیا نظام لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ، جس کے لئے افغانستان کی کئی شخصیات کے ساتھ بات چیت جاری ہے ، ایسا نظام تیار کرنا چاہتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور افغان روایات کے اتحاد پر مبنی ہو، دنیا کیلئے قابل قبول معاہدہ لائیں گے ، طالبان اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ افغان سر زمین پڑوسی ممالک سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ روس کو طالبان سے کوئی تشویش نہیں ہے ، ہمارا روس کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے ۔داعش کی افغان سرزمین پر موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ داعش کو اپنے زیراثر شمالی علاقوں سے باہر نکال دیا ہے ، اب داعش کی لیڈر شپ کابل میں بیٹھی ہے ، جہاں2600 داعش ارکان نے کابل انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ داعش والے غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو سب کیلئے خطرہ ہیں۔ ۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے افغان فضائیہ کے پائلٹس کی ٹارگٹ کلنگ شروع کردی گئی ہے ۔ چند ہفتوں کے دوران سات پائلٹس ہلاک کردیئے گئے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ افغان پائلٹس اپنے لوگوں پر بم گراتے ہیں اس لئے ماررہے ہیں۔ ۔ تو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بگرام ایئر بیس کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے حکم دیا کہ ایئر بیس میں موجود جیل کی حفاظت کیلئے پروفیشنل سٹاف تعینات کیا جائے۔اس جیل میں طالبان جنگجوؤں کو قید رکھا گیا ہے۔

    ۔ غزنی میں افغان فورسز اور طالبان کے مابین لڑائی جاری ہے جبکہ طالبان افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں داخل ہو گئے ہیں۔ شہر کے اندر کئی مقامات پر طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے ۔ قندھار جیل کے اطراف میں زیادہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔۔ دوسر ی جانب افغان حکومت نے کہا ہے کہ قندھار کے لوگ پریشان نہ ہوں، صورتحال کنٹرول میں ہے ۔ قندھار کے گورنر، ڈپٹی گورنر، پولیس چیف، سکیورٹی چیف، قبائلی لیڈر اور سپیشل فورسز سب فرنٹ لائن پر مقابلے کے لئے موجود ہیں، شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    ۔ جبکہ ہرات کے گوریلا سردار اسماعیل خان نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہرات کے محاذ پر جائیں گے اور صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیں گے ۔انہوں نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار کابل حکومت کو قرار دیتے ہوئے افغان فوج پر زور دیا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرے ۔ اسماعیل خان شمالی اتحاد کے ان اہم ارکان میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کی مدد کی تھی۔

    ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ افغانستان میں اگر امن آئے گا تو سول وار کے بعد ہی آئے گا۔۔ کچھ لو اور کچھ دوطالبان کا مزاج نہیں ہے۔ وہ ایک تحریک ہیں، جو افغانستان کو امارت اسلامیہ افغانستان بنانا چاہتے ہیں۔

  • طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    ۔ جیسے جیسے امریکی و مغربی افواج کا انخلا اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، افغان علاقوں میں کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے اور افغان طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آرہی ہے۔ طالبان نے افغانستان میں صوبہ ہرات کے سرحدی علاقے اسلام قلعہ پر قبضہ کرلیا ، یہ علاقہ ایرانی سرحد سے جڑا ہوا ہے ۔ جبکہ اس سرحدی علاقے میں افغان فوجی پسپائی اختیار کرتے ہوئے ایران میں پناہ کے لیے داخل ہوگئے۔

    ۔ اس سے پہلے طالبان نے وسط ایشیائی سرحدی ریاستوں سے جڑے صوبوں میں بھی بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا جس کے سبب افغان فوجیوں کو پسپائی اختیار کرکے وسط ایشیائی ممالک میں پناہ لینا پڑی تھی۔ اس افغان صورتحال پر پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس سے خطرناک صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ ایران کے سفیر نے الزام لگایا کہ امریکا نے پہلے شام، عراق میں داعش کو پالا اور اب افغانستان میں داعش کو لے کر آیا ہے۔ ایران مزید افغان مہاجرین نہیں لے سکتا اور نہ ہی لے گا۔ دوسری جانب ایران کے بعد طالبان قیادت مذاکرات کے لیے روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ گیا ہے۔طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔یہاں یہ ذہن میں رکھیں کہ طالبان کا وفد ایسے وقت روس پہنچا ہےجب روس کے اتحادی تاجکستان کے سرحدی علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہوگیا ہےاور تاجکستان نے اپنے 20 ہزار فوجی سرحد پر تعینات کردیے ہیں جبکہ روس کے وزیرخارجہ کا کہنا ہےکہ ان کا ملک تاجکستان میں موجود اڈے کو اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

    ۔ افغانستان کے بگڑتے حالات کے پیش نظر پڑوسی ملکوں کی جانب سے بھی سرحدوں پر سختی کردی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو حالات ایک بار پھر نوے کی دہائی کی جانب پلٹتے محسوس ہورہے ہیں جب امریکہ نے روسی شکست کے بعد افغان سرزمین کو خانہ جنگی میں دھکیل کر واپسی کی راہ لی تھی۔ پر اس وقت افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرنے والا بھارت نئی صورت حال سے پریشان ہوگیا جبکہ بھارتی میڈیا بھی بوکھلا گیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے ہرات میں بھارتی فنڈ سے بنے ڈیم پر قبضہ کر لیا جبکہ افغان حکومت اور طالبان نے بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید کردی۔ اب بھارت نے حالات کے پیش نظر کابل میں اپنے سفارت خانے کے علاوہ مزار شریف اور قندھار میں قونصل خانوں سے 500 کے قریب اسٹاف کو نکالنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کا زخم خوردہ بھارت اپنے پرانے حلیف تاجکستان کے ساتھ مل کر اکٹھی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ تاجکستان کا خیال ہے کہ وہاں پر موجود کالعدم حزب نہضتِ اسلامی کے لوگوں کو طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ایک نیا ولولہ ملے گا، جبکہ بھارت کی شمالی اتحاد کو لاکھوں ڈالر کی خفیہ عسکری امداد ضائع ہونے کا دکھ ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے افغانستان مین تین ارب ڈالر سے جو ترقیاتی کام کیے تھے وہ ساری سرمایہ کاری ضائع ہوگئی ہے۔ افغانستان میں بھارت دوستی اور پاکستان دشمنی کا جو پودا لگایا گیا تھا، اسے طالبان کی فتح نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔

    ۔ آپ دیکھیں پہلے دوستی و محبت کا یہ عالم تھا کہ افغانستان کی پارلیمنٹ کی عمارت جو بھارت نے بنائی تھی،اس میں 25دسمبر 2015ء کو افتتاحی تقریب میں نریندر مودی نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے آپ کو ہم سے دوستی سے روکے رکھا اور آج ہم پاکستان کو شکست دے کر آپ سے دوستی کی روایت کو زندہ کر رہے ہیں۔ اسی دن مودی اور اشرف غنی نے واجپائی کے نام پر اٹل بلاک کا افتتاح بھی کیا۔ آج وہ پانچ فیصد افغانستان جوکبھی طالبان حکومت کے خلاف بڑا میدانِ جنگ تھا، سب سے پہلے وہی طالبان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت اور تاجکستان کا خوفزدہونا لازم تھا۔ ساتھ ہی کچھ معلومات امریکہ نے جاری کی ہیں ۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغانستان میں مجموعی فوجی اخراجات 778 بلین ڈالر تھے۔ پینٹاگان کے مطابق سی 130 مال بردار طیاروں کی 984 پروازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 17074 فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجیسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔ پر اس جنگ کی کچھ تلخ حقیقتیں بھی ہیں ۔ امریکہ کی اس افغان وار میں دو لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں دو ہزار 442 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 67 ہزار ہے۔ ستائیس لاکھ افغان مہاجرین ایران،پاکستان اور یورپ میں آئے جب کہ چالیس لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہوئے۔

    ۔ یہ تو پوری دنیا میں’خدشہ‘ ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی فوج کا مکمل انخلا ہوتے ہی افغانستان پر طالبان کا راج قائم ہوجائے گا۔ ۔ یہی امارت اسلامیہ کا ترجمان ماہنامہ ’شریعت‘ کہتا ہے اس میں تو ان تیاریوں کی تفصیلات بھی دی جارہی ہیں کہ آزادی کے بعد امارت اسلامیہ کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ ان کے موجودہ سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک خالص اسلامی نظام کے سائے تلے ملک کی تعمیر نَو اور ترقی کے فوری اقدامات کیے جائیں۔عالمی سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار کیا جائے تاکہ ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے۔۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی یہ متفقہ پیش گوئی ہے کہ امریکی فوج کے جاتے ہی چھ ماہ کے اندر افغان حکومت زمیں بوس ہوجائے گی۔ پر میرے خیال میں تو چھ ماہ بھی نہیں لگیں گے بلکہ چند دن اور چند ہفتوں میں ہی اشرف غنی کی حکومت گر جائے گی ۔ کیونکہ افغان نیشنل آرمی کے فوجی بڑی تعداد میں منحرف ہورہے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ بہت سے افغان جو امریکی فوج اور انتظامیہ کی مدد کررہے تھے، ان سب کو تاجکستان میں پناہ دلوائی جارہی ہے۔ وہاں سے وہ امریکہ پہنچتے رہیں گے۔ طالبان کی اپنی اطلاع یہ ہے کہ ہر ماہ ایک ہزار سے پندرہ سو لوگ دشمن کی صفوں سے نکل کر ان میں شامل ہورہے ہیں۔ مجھ تو نظر آرہا ہے کہ 72سالہ اشرف غنی، 60سالہ عبدﷲ عبدﷲ اور 63 سالہ کرزئی یہ تو سب امریکہ میں پناہ گزیں ہوں گے۔ جبکہ مستقبل کی قیادت ملا محمد عمر کے صاحبزادے 30 سالہ ملا محمد یعقوب کے ہاتھوں میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

    ۔ کیونکہ آج بیس سالہ جنگ کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر صرف اور صرف ایک ہی قوت تھی اور ہے ۔۔۔۔جسے ’’طالبان‘‘ کہتے ہیں۔

  • بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بیچ میں اتوار آگیا تھا مگر چند دن پہلے کی بات ہے کہ بھارتی فواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دنیا کے سامنے اڑنے لگے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناThe man behind the gun always matters ۔ اب مسلسل ناکامیوں کے سبب بھارتی افواج کے دو بڑے آپس میں لڑ پڑے ہیں ۔۔ بپن راوت نے زمینی افواج کو برتر کہا ہے جبکہ بھارتی ائیر فورس کو معاون کہا ہے ۔

    ۔ اب یہ بپن راوت کی جانب سے ایئر فورس پر ایک ڈائریکٹ حملہ تھا تو بھارتی ایئر چیف نے بھی بیان داغ دیا ۔ اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کے بیان کی نفی کر دی۔ کہ بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو کبھی رافیل طیاروں میں کرپشن، پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے۔۔ حالانکہ شفاف تجزیہ کیا جائے تو بھارتی فوج ۔ ایئر فورس اور نیوی سب ہی ہر جگہ ہر معاملے میں ناکام ہی ہوئی ہیں ۔ ۔ ویسے ہم کو سی ڈی ایس بپن راوت کا شکرگزار ہونا چاہیئے اور دعا کرنی چاہیئے کہ ان کا یہ عہد یوں ہی سالوں سال چلتا رہا ہے ۔ کیونکہ ان کی بدولت ہی دنیا کو معلوم ہورہا ہے کہ بھارتی افواج کوئی منظم فورس نہیں بلکہ ایک ملیشیاء ہیں ۔ ۔ جہاں افسران کو جنگ لڑنا تو نہیں آتا مگر کرپشن کرنی آتی ہے ۔ جہاں یہ تو نہیں پتہ کہ جہاز اُڑانا کیسے ہے مگر رافیل ڈیل میں دیہاڑی لگانی آتی ہے ۔ جہاں افسران کو یہ تو نہیں پتہ کہ سرحد پر کھڑے جوان کوکھانے کے لیے سوکھی روٹی اور دال کیسے پہنچانی ہے مگر یہ پتہ ہے کہ اپنے سے جونئیرز اور انکی بیگمات کو جنسی ہراساں کیسے کرنا ہے ۔ ۔ تو میری نظر میں چاہے بپن راوت ہوں بھارتی ایئر چیف ہوں یا بھارتی نیوی تینوں ہی فیل ہیں ۔ کیونکہ بھارتی فوج نے لداخ میں مار کھائی تھی تو ابھی نندن پاکستان چائے پی کر گیا تھا ۔ تو بھارتی نیوی اپنے کھڑے جہاز اور submarinesکو ڈبونے میں مہارت رکھتی ہے ۔

    ۔ میں کچھ آپکو بپن راوت کے کارنامے گنوا دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے تو بپن روات کی سربراہی میں بھارت میں رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا سکینڈل سامنے آیا تھا ۔ جس سے انھوں نے اپنی ہی ایئر فورس کو 45 ہزار 696 کروڑ بھارتی روپے کا ٹیکہ لگایا تھا۔۔ تو یہ ان کے کرتوت ہیں ۔ دراصل ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو 6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازا گیا اور تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فضائیہ پہلے دن ہی ان جہازوں کو ان کی تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسترد کر چکی تھی۔ کیونکہ 1970 ء کے بعد سے MIG-21
    کے حا دثات میں 170 سے زیادہ پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ بلکہ اس کو میڈیا نے flying cofins کا نام دے دیا تھا ۔یوں مگ-21 کے فرسودہ بیڑے کی جگہ تیجا جہازوں کو متعارف کرایا گیا لیکن اب تک 60 فیصد تیجا گراؤنڈ ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت اور بھارتی ائیر فورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا اس پروجیکٹ کی ناکامی کا عکاس ہے۔ یوں بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری اپنی غیر معیاری پیداوار اور دہائیوں پرمحیط اپنی مسلسل نا کامیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بد نام ہے۔ دنیا میں خود کو چین کا متبادل اور مقابل متعارف کروانے والا ملک 26 سال میں اپنے تیار کردہ جہاز کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔ تو یہ کارکردگی بھارتی ایئر فورس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    ۔ دوسرا آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سی ڈی ایس بپن راوت ہی ہیں جن کہ miscalculationکی وجہ سے بھارتی افواج نے 2020میں چین کے خلاف ایک ناکام آپریشن کیا جس میں بھارتی فوج کے افسر سمیت پتہ نہیں کتنے جوان جان کی بازی ہار گئے ۔ چینیوں نے اٹھا اٹھا کر سیدھا اوپر سے نیچے پھینکا تھا ۔ اور اگر آپ کو یاد ہو تب کی اخباری رپورٹس کے مطابق یہ کلی طور پر سی ڈی ایس بپن راوت کا پلان تھا اور بھارتی آرمی چیف کو اس کا کچھ معلوم نہیں تھا ۔ اس آپریشن کی ناکامی کے بعد یہ سننے میں بھی آیا تھا کہ سی ڈی ایس بپن راوت اور بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے کی آپس میں ۔۔۔ توتو میں میں ۔۔۔ بھی ہوئی تھی ۔ چین سے مار کھانے کے بعد بپن راوت یہاں تک نہیں روکا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت جو امریکہ کے کواڈ گروپ میں شامل ہوا ہے یہ بھی بپن راوت کا کارنامہ ہے ۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہے کہ بھارتی فوج تو کسی صورت چین کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ تو امریکہ کا ہی آسرا ہو جائے مگر وقت نے طے کیا کہ یہ ایک بہت بڑا بلنڈر ثابت ہوا ۔ کیونکہ بپن راوت نے تو بس سوچا کہ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پتہ نہیں ان کو ٹیکنالوجی سمیت کیا کیا ملے گا ۔ جس سے یہ چین کا بھرکس بنا دیں گے ۔ پر بھارت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا بھارت کو معاشی طور پر کتنا دھچکا لگے گا ۔ چین نے بھارتی اشیاء پر مختلف طرح کی پابندی لگائی ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو معاشی طور پر کافی نقصان پہنچا ۔ اور بھارت چین کے منتے ترالے کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ چین نے جب سے لداخ کے علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ہے ۔ ساتھ ہی بھارت کو اپنی افواج اتنی بلندی پر رکھنے پر اچھا خاصا خرچہ بھی کرنا پڑرہا ہے اوراچھی خاصہ تعداد میں بھارتی افواج کو مستقل طور پر وہاں رکھنا پڑ رہا ہے ۔ یوں بپن راوت کی ایک غلطی جو اس نے شروعات میں ایک ناکام آپریشن کرکے کی اس کا نقصان اب تک بھارت اٹھا رہا ہے ۔

    ۔ پھر بپن راوت نے باوجود اس کے بھارت اندرونی طور پر کچھ نہیں بناتا ہے ۔ یہ آئیڈیا دیا کہ بھارتی افواج کو made in india equipmentاستعمال کرنا چاہیئے ۔ اس فارمولے نے ابھی اپنا اثر نہیں دیکھایا ہے مگر عنقریب آپکو اس کے اثرات بھی دیکھائی دینے لگیں گے ۔ کیونکہ یاد رکھیں خراب tejasبنانے میں تیس سے چالیس سال لگے ہیں اور ساٹھ فیصد تیجا گراونڈ ہیں ۔ پیسوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے ۔ تو یہ made in indiaاسلحہ بھارتی فوج کی ایک اور قبر بننے جا رہا ہے ۔ ۔ اچھا جس مقصد کے لیے بپن راوت کو ایک طرح سے extension دے کر سی ڈی ایس لگایا گیا تھا ۔ وہ مقصد پورا نہیں ہوا ۔ وہ یہ تھا کہ بھارتی فوج ، بھارتی نیوی ، بھارتی ایئر فورس کے آپریشنز کو یکجا کیا جائے ۔ یعنیinteroperabilityبنائی جائے ۔ اس میں تو وہ مکمل ناکام ہوگئے ہیں ۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت سے خوش نہیں ۔ بھارتی ایئر فورس چیف سے ان کا حالیہ پھڈا آپکے سامنے ہے ۔ یقینی طور پر انڈین نیوی کو بھی ان سے شکایات ہوں گی ۔ ۔ کیونکہ بپن راوت سمجھتا ہے کہ ایئر فورس اور نیوی آرمی کے supporting armsہیں ۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ یوں بپن راوت اپنی ہی فورسز کو ایک دوسرے کے سامنے لا رہا ہے ۔ اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے خلاف کر رہا ہے ۔ پھر بپن راوت جو cold star doctrine کی دھمکی دیا کرتا تھا وہ بھی پاکستان کب کا اٹھا کر بحر ہند میں پھینک چکا ہے ۔

    ۔ اس کے علاوہ آپکو یاد ہو یہ وہ ہی بپن راوت ہے جو two war frontsپر اکیلا لڑنے کے دعوے کیا کرتا تھا ۔ یعنی بیک وقت پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ ۔ اب گزشتہ ایک سال سے یہ چین سے معافیاں مانگ رہے ہیں مگر اب وہ ان کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے اور مذاکرات کے نام پر بھارتی افواج کو بھی exposeکررہا ہے اور بھارتی حکومت کے بھی ناک سے چنے چبوا رہا ہے ۔ یوں بھارتی افواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دُنیا کے اُڑانے میں بپن راوت کا کریڈٹ سب سے زیادہ ہے ۔آپ کا کیا خیال ہے ۔

  • تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    اب پتہ نہیں یہ افواہ ہے یا یہ خبر جان بوجھ کر گزشتہ دس پندرہ دنوں سے پھیلائی جا رہی ہے ۔ کہ عمران خان نے اپنے چند انتہائی بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد قبل از وقت انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ اور شاید اس سال کے آخر میں یا پھر اگلے سال کے آغاز میں نئے الیکشن ہو جائیں ۔

    ۔ یہ بھی دیکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان کے وزراء میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعے ایک نیا ’’بیانیہ‘‘ تشکیل دیتے نظر آرہے ہیں۔ جس میں اپوزیشن کو ہمشیہ کی طرح ’’چور اور لٹیرے‘‘کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اپنے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے کرنا تو بہت کچھ تھا مگر حالات ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتیں بگاڑ پیدا ہی بہت زیادہ کرگئی ہیں ۔ پر عمران خان ڈٹ گیا ہے ۔ وہ ان چوروں اور لیٹروں کے سامنے نہیں جھک رہا ہے ۔۔ یہاں تک کہ عمران خان امریکہ کیا ، بھارت کیا ، کسی کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے ۔ اور پھر وہ ہی جنرل مشرف والا فارمولا لگایا جاتا ہے کہ عمران خان کے لیے pakistan first ہے ۔ یہ مسلسل گزشتہ کئی روز سے انٹرویو دیے گئے ہیں جس کا واحد ایجنڈا امریکہ ، افغانستان اور بھارت تھا اس کے بعد سے ٹیم عمران خان کپتان کو ایسا رہنما ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا ناکہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا ۔۔۔جو نہ امریکہ کے آگے جھکتا ہے ۔ نہ مودی کی پرواہ کرتا ہے ۔ نہ کسی مافیا سے ڈرتا ہے ۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کی سنتا ہے ۔ اور نہ ہی پارٹی میں کسی بغاوت سے گھبراتا ہے ۔

    ۔ سچی بتاوں تو مجھے نہیں پتہ کہ عمران خان قبل ازوقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم نہیں کہ امریکہ کے سامنے وہ یوں ہی ڈٹے رہیں گے یا نہیں ۔ ۔ پر اس سب شور شرابے ، قصے کہانیوں اور سازشوں کے بیچ میں ایک مسئلہ ہے جس پر جان بوجھ کر کسی کی نظر نہیں جانے دی جارہی ہے ۔ وہ ہے روز بروز عوام کی زندگی اجیرن ہونا ۔ صرف بجٹ پیش ہونے اور بجٹ پاس ہونے کے آس پاس کے پندرہ دنوں میں پیٹرول دو دفعہ مہنگا ہوگیا ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر نہ کسی کے پاس تسلی بخش جواب ہے نہ یہ معلوم کہ یہ لوڈ شیڈنگ ختم کیسے ہوگی ۔ ۔ لوگوں اور میڈیا کو گول گول دوسری چیزوں میں گھمانے کا ایک گھن چکر جاری ہے ۔ دیکھا جائے تو اپنے اقتدار کے روز اوّل سے عمران حکومت بازار میں کسادبازاری لائی۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے۔ بجلی ، پیڑول اور گیس کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیائے کی بڑھتی قیمتوں نے صرف کم آمدنی والوں کی ہی کمر نہیں توڑی اچھے اچھوں کے چینخیں نکوا دی ہیں ۔۔ اگر ان حقائق کو سامنے رکھا جائے تو عمران خان کو قبل از وقت انتخاب بارے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

    ۔ کیونکہ اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ جب جب وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی سب سے مشکل چیلنج ہے اور ساتھ ہی یقین دلاتے ہیں کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔ تو گھی اور آئل کی قیمت میں سات روپے فی کلو اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۔ عوام نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو موقع ہی اس لیے دیا تھا کہ یہ مہنگائی سے نجات دلائے گی کرپشن کا خاتمہ کرے گی اور کڑا احتساب کرے گی ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو زبوں حال معیشت ملی تھی۔ پر اب حکومتی عوؤں کے مطابق اس میں مضبوطی آ چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ پر اب بھی حکومت کے پاس صرف ایک ہی جواب ہے کہ معیشت اس سے کہیں زیادہ تباہ ہو چکی ہے جس کا اندازہ کیا گیا تھا۔ مسلسل تین سال سے مہنگائی پر قابو پانے کی امید دلائی جا رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ نہ صرف قابو میں نہیں آ رہی بلکہ مزید بھی پھن پھیلائے جا رہی ہے۔ ادھر بیروزگاری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    ۔ مجھے تو یہ ایک لطیفہ لگتا ہے پتہ آپ اس کو کیسے لیتے ہیں ۔ اگر آپکو یاد ہو تو ان چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی اسمبلی میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔پتہ نہیں اب انھوں نے ٹیکس لگایا ہے یا نہیں پر ہر چیز اپنے آپ مہنگی ضرورہورہی ہے ۔ چاہے پھر وہ آٹا ہو ، چینی ہو ، دالیں ہو یا سبزیاں اور پھل ہوں ۔ ۔ کہا گیا تھا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا مگر بجٹ کے دوسرے دن انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی۔ بجٹ کے چوتھے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

    ۔ اس لیے اب عوام حکومتی گورننس اور وعدوں دونوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو حکومت انتخابات میں عوام سے خیر کی امید نہ رکھے۔ حکومت کو سرپٹ دوڑتے مہنگائی کے گھوڑے کو لگام ڈالنا ہو گی۔ کیونکہ ملکی معیشت کو حکمرانوں کی نظر سے دیکھیں تو سب اچھا کی نوید ہے۔جب کہ غریب طبقے کی آنکھوں سے دیکھیں تو ہر آنے والا دن زندہ رہنے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ایک مزدور، دیہاڑی دار، راج مستری، چھوٹا بلڈر، کسی دکان پر بارہ پندرہ سو روپے روزانہ کی ملازمت کرنے والے کے لیے ایک دن کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہیں، چائے پراٹھا کے دام بڑھ گئے، تھڑے پر ملنے والی چائے کا کپ تیس روپے کا ہوگیا ہے۔ مسالے مہنگے، دالیں، سبزیاں، ادرک، پیاز، دارچینی، الائچی، سونف، مچھلی، دودھ ، دہی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ کوئی خاتون خانہ ایسی نہیں ملے گی جو مہنگائی کے ہاتھوں تنگ نہ ہو، کاروبار ٹھپ، تاجر پریشان، نان، ڈبل روٹی کے ریٹ ہوشربا ہوگئے ہیں ۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ مٹن کو بھول گیا ہے کیونکہ بیف اور چکن بھی اس کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔۔ ان حالات میں جب لوگ اقتصادی ترقی، ڈالروں کی برسات جیسے بیانات سنتے ہیں اور اپنے شب وروز دیکھتے ہیں تو انھیں افسوس ہوتا ہے کہ ارباب اختیار زمینی حقائق سے کس قدر بے بہرہ ہیں، یا اتنے سنگ دل اور بے حس ہیں کہ انھیں پتا ہی نہیں کہ ملک میں غریب خانے، مسافر خانے، مفت کھانے کھلا کر ملکی معیشت یا اقتصادی نظام کے مضبوط قلعے نہیں بنا ئے جاسکتے۔ باتیں تو حکمران غربت کے خاتمہ اور ایشین ٹائیگر بننے کی کرتے ہیں لیکن اپنے عوام کو معاشی آسودگی نہیں دے سکتے۔ مہنگائی کے لیے جس ٹائیگر فورس کو لائے تھے، اس کا کسی کو علم نہیں ہے کہ کہاں گئی ٹائیگر فورس۔۔ اس حکومت سے عوام کو امیدیں تھیں، شاید اب بھی ہے لیکن کوئی تو ایسی خبر سنائی دے جس سے غریب کو یقین آجائے کہ وہ اچھے دن بھی آئیں گے۔ جس کے خواب عمران خان نے دیکھائے تھے ۔

  • پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم ابھی نندن کو پکڑ لیتے ہیں ۔ کلبھوشن یادو کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں مگر دنیا میں ہماری اس طرح سنوائی نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے ۔ دوسری جانب بھارت کوئی جھوٹا موٹا ڈرامہ بھی کرے تو سب پاکستان کی جانب انگلی اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ اس سلوک کی وجہ امریکہ ہے ۔ آگے چل کر بڑی تفصیل سے امریکہ کی کارستانیوں بارے بتاتا ہوں ۔ ۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جو گزشتہ کئی دنوں سے ڈرامہ بازی جاری ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کس کو نہیں پتہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ۔ اس وقت جو ملک کو مسائل درپیش ہیں یہ حقیقی طور پر امتحان کا وقت ہے ۔

    ۔ آپ دیکھیں بھارتی فضائیہ کی عمارت پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بڑی تگڑی کوششیں ہو رہی ہیں مگر کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ آج بھی اسمبلی میں بڑی تقریریں ہوئی ہیں ۔ شور شرابہ ہوا ہے ۔ مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ مودی اور بھارت کی شرانگیزیوں کا جواب دے دیتے ۔۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ سوال یہ اٹھا دیتے کہ جو ڈرون بھارت دیکھا رہا ہے ۔ یہ چھوٹے والے ڈرون ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بھی اس کی بیٹری لائف ہوئی تو 40 منٹ سے زیادہ ہوا میں نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ والا ڈرون کہیں آگیا ہے تو کہیں سے تو آپریٹ ہو رہا ہوگا ۔ کہیں جا کر یہ گرے گا بھی ۔ اس کو تو ڈھونڈو ۔ مگر کسی کا اپنی سیاست سے ہٹ کر توجہ ہو تو سوال کرے ۔ مودی کو جواب دے ۔ بھارت کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرے ۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو نہیں پتہ چلا ۔ کہ لاہور میں جو دھماکہ ہوا اس کے پیچھے بھارت اور RAW کا ہاتھ تھا ۔ قومی اسمبلی میں آج بڑی جذباتی تقریریں ہوئیں ۔ پر اس اہم موقع پر جس کو دنیا میں بھارت پلوامہ ٹو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔ ہماری پارلیمنٹ چپ ہے ۔ آخر کیوں ؟۔ لاہور تو لاہور ۔ کراچی سے بھی RAW کا ایک خطرناک نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے۔ پر کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو یہ توفیق ہوئی کہ حکومت دنیا کو کیوں نہ بتا سکی کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے ۔ ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کو پاکستان میں کسی دہشت گردی کے واقعے میں بھارتی خفیہ ادارے RAW کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ پاکستان ایسے بہت سے ثبوت اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کرچکا ہے جن کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کرتی۔ بھارت کی پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی بحریہ کا افسر کلبھوشن یادیو ہے جسے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔

    ۔ کیا یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اردگرد ہونے والے واقعات پر نگاہ رکھے اور ملکی مفاد میں سیاسی اختلافات کو بھلا کر پاکستان کی سلامتی اور بقاء کو اہمیت دیتے ہوئے مثبت طرز عمل اختیار کرے۔ ۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت مزید ایسی کوئی کارروائیاں کرے تاکہ وہ لاہور دھماکے میں اپنی ایجنسی کے ملوث ہونے کے معاملہ سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے ۔ لیکن ہمارے دفتر خارجہ کو اس سلسلے میں پوری توجہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور بھارت کے خلاف ملنے والے ثبوت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر کے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا چاہیے۔۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت سے ملاقات کا ایک اور ڈھونگ ناکام ہوگیا ہے۔ ۔ نریندر مودی اس وقت عالمی سطح پر شدید دباؤ میں ہیں۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو یا لداخ میں تیار بیٹھی چینی افواج، اگر پاکستان پھنسا ہوا ہے تو مسائل بھارت کے لیے بھی کم نہیں ہیں ۔

    ۔ کیونکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتر بنا کر خطے کا چوہدری بنے اور چین کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہو۔ لیکن بیچ میں کشمیر آجاتا ہے اس لیے یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے، تبھی مذاکرات کی میز سجائی جاسکتی ہے۔ پر ابھی تک بھارت کو چوہدری بنانے کی امریکہ کی خواہش بہت مہنگی پڑ رہی ہے ۔ ۔ حالت یہ ہے کہ quad اتحاد بنانے کے باجود ایشیا میں امریکی غلبہ زوال پذیر ہے حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے پرنظر رکھنے کے لیے کوئی ملک اڈے دینے کو تیا رنہیں۔ دراصل ایسے حالات بنانے میں امریکی حماقتوں کا بڑا ہاتھ ہے افغانستان میں بھارتی کردار کی ضد نے چین کو قبل ازوقت مقابلے پر آنے کی راہ دکھائی اور پاکستان کو بھی خفا کر دیا کیونکہ پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے اِس لیے اب یہ توقع کم ہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی کی طرح ایک دوسرے سے شیر وشکر ہوں۔

    ۔ اس حوالے سے عمران خان نے اپنے حالیہ چینی ٹی وی کو انٹرویومیں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کیا ہے۔ امریکی اتحاد میں بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ نا مناسب رویہ رکھا گیا مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ ڈالنا نا مناسب ہے۔ پاکستان پر جتنا بھی دباؤ ڈال لیں، پاک چائنہ تعلقات قائم رہیں گے۔ پاک چائنہ تعلقات ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ہیں۔ ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں دوری بڑھتی جا رہی ہے اور آگے یہ مزید بڑھنے کی جانب گامزن ہے ۔ وجہ بھارت ہے ۔ آپ دیکھیں جب افغان سرزمین پر بھارت کی موجودگی چین اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں توپھر امریکی کیوں ضد کرتے ہیں سمجھ نہیں آتی ویسے بھی بڑے رقبے، بڑی آبادی اور بڑی فوج کے علاوہ بھارت میں کوئی خوبی نہیں ۔ بھارت وہ میمنا ہے جسے دودھ پینے کے سوا کچھ نہیں آتا پہلے روس اور اب امریکہ کی طرف ہونے میں یہی خصلت کارفرما ہے بھارت کی بے جا حمایت امریکی غلبے کو زیادہ تیزی سے زوال کی گہرائیوں میں پھینک سکتی ہے۔

    ۔ دراصل دہشت گردوں کی سرکوبی کا علمبردار امریکہ اڈے لیکر اہم ممالک پر نظر رکھناچاہتاہے لیکن پاکستان ایسا کچھ کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں۔ دوسرایہ کہ پاکستان اب طالبان کے حمایتی یا مخالف گروہوں کولڑنے کے لیے میدان فراہم نہیں کرنا چاہتا اور وہ اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق افغانوں کو دینے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان اپنے لسانی یا نسلی مسائل کا حل بھی خود تلاش کریں لیکن امریکی خواہش ایسی نہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہے۔

    ۔ امریکہ کوشاید معلوم نہیں کہ حالات بدل چکے ہیں چین پر ہمسایہ ممالک تکیہ کرنے لگے ہیں جو امریکی اتحاد کی طرف قدم بڑھائے اُسے چین روکنے بھی لگا ہے بنگلہ دیش پر چین اسی نوعیت کا دباؤ ڈال چکا ہے جبکہ کم وبیش تین دہائیوں سے خاموش روس نے بھی عالمی کردار بڑھانا شروع کر دیا ہے اور عالمی امور میں امریکہ مخالف روش پرگامزن ہے۔ ۔ روسی صدر پیوٹن جلد پاکستان کا دورہ بھی کرنے والے ہیں ۔ ۔ ایران پہلے ہی خطے میں امریکہ مخالف بلاک کا پُرجوش حصہ ہے۔ جس سے نتیجہ واضح ہے کہ امریکی غلبے کا زوال شروع ہوگیا ہے اور جلد ہی عالمی منظر نامے پر واحد زمینی سُپر طاقت کے مدمقابل ایک سے زائد نئی طاقتیں آنے کا امکان ہے۔

  • مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے بھارت میں کرونا شور زراکم ہورہا ہے تو مودی نے پھر دوبارہ وہ ہی پرانا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ ہی حربے ، وہی پرانے طریقہ واردات اور وہ ہی اپنی اوقات دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ مودی ایک بار پھر پاکستان مخالف ، چین مخالف اور کشمیر مخالف جذبات کو ابھارنے کا گھناونا کھیل شروع کردیا ہے تاکہ بھارتی عوام کو پھر اس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جائے کہ ان کی نظر مودی کی کرونا پر نااہلی ، لداخ اور کشمیر ، جو اس نے بھارت کا معاشی بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ اس پر نہ جائے ۔

    ۔ یوں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کا الزام بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان پر عائد کر دیا ہے ۔ اور ایک بار پھر بھارت کی جانب سے war mongering
    جاری ہے ۔ حالانکہ جو حقائق ہیں وہ واضح اشارہ ہیں کہ یہ کام کسی اندر کے بندے جیسے RAWکا ایک نیا رچایا ہوا ڈرامہ ہے بلکل پلوامہ جیسا جس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا تھا ۔ اور اس کا بھی ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش جاری ہے ۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی آڑ میں مودی اور بھارت بڑی بڑی ڈیلیں کرنے کے درپے پر بھی ہے ۔ ۔ حالانکہ جو سوال بنتا تھا کہ مودی جی جنہوں نے بھارتی فضائیہ کو رافیل سے لے کر پتہ نہیں کون کون سے سسٹم اور ریڈار ۔۔۔ غریب بھارتیوں کے پیسے خرچ کر لا کر دیے ہیں ان کی کارکردگی کیا ہے ۔ آخری کیسے بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ڈرون حملے ہو گئے ۔ کیا سب بھنگ پی کر سوئے ہوئے تھے ۔ اور RAW کیا کر رہی تھی ۔ دراصل یہ وہ ہی معاملہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ ماضی کی طرح ان حملوں کا الزام پاکستان پر اس لیے عائد کیا جا رہا ہے کہ ایک جانب چین ، لداخ اور کشمیر کے معاملات مودی سے بالکل کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں تو دوسری جانب کرونا پر خراب کارکردگی اور معیشت کا مودی نے جنازہ نکال دیا ہے ۔

    ۔ دراصل مقبوضہ کشمیر کے جموں ائیر بیس پر پانچ منٹ کے وقفے سے ہونے والے دو زور دار دھماکے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ کشمیری عوام بھارت کے ہتھکنڈوں کے آگے جھکنے والے نہیں۔۔ ایک دھماکے سے بھارتی فضائیہ کے اڈے کی عمارت کی چھت اڑ گئی جبکہ دوسرا دھماکہ کھلی جگہ پر ہوا۔ دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ پورے جموں ڈویژن میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب ائیر فورس اسٹیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہو رہا تھا۔

    ۔ حریت پسندوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن مقبوضہ کشمیر پولیس چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائیہ کے اڈے پر بم گرانے کیلئے ڈرون استعمال کئے گئے۔ دھماکوں کے شبہے میں دو افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ سرکاری طور پر اگرچہ بتایا گیا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، صرف دو اہلکار زخمی ہوئے لیکن دھماکوں کے فوری بعد ایک سے زائد ایمبولینسوں کو جائے وقوعہ کے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا جس سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کافی جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں جنہیں چھپایا جا رہا ہے۔ قیاس آرائیوں کی بڑی وجہ میڈیا کو جائے وقوعہ میں داخلے اور رپورٹنگ کی اجازت نہ دینا ہے۔ جس سے یہ شبہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ یہ بھارت کی اپنی ایجنسیوں کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ بھارتی اخباروں میں شائع اور ٹی وی چینلز میں جو کچھ نشر ہو رہا ہے وہ صرف ائیر فورس اور پولیس کے دعوئوں پر مبنی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ پہلا ڈرون حملہ تھا ۔ پولیس کا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ کشمیری مجاہدین بارودی مواد کی منتقلی کیلئے ڈرونز کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب جموں شہرکے علاقے کالوچک میں فوجی مرکز کے قریب مزید دو ڈرونز آئے جن پر بھارتی فوجیوں نے گولیاں چلائیں اور اسکے بعد وہ ڈرون واپس چلے گئے، یہ واقعہ بھارتی فضایئہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کے ایک روز بعد پیش آیا ۔ دھماکوں کی اہمیت اس بنا پر اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ چند روز قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت نواز کشمیری رہنمائوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں نام نہاد انتخابات اور حلقہ بندیوں کے حق میں ان کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ جس میں مودی مکمل ناکام رہا ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت عرصہ دراز سے بھارتی جیلوں میں قید اپنی بے گناہی کی سزا بھگت رہی ہے۔ ان لوگوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا حق خود ارادیت اور آزادی مانگتے ہیں۔ اس جرم میں اب تک نہ صرف 80ہزار سے زائد کشمیری نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے سیاسی قائدین کی طرح بھارتی قید و بند کی صعوبتیں ایک طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں اور جو کشمیری قید نہیں ہیں وہ دنیا کے طویل ترین محاصرے میں ہیں۔ جس کو بھی سات سو روز گزر چکے ہیں بلکہ اب تو اس محاصرے کو دوسال مکمل ہونے والے ہیں ۔

    ۔ یہاں میں اپنے ان بعض نادان دوستوں کا بھی ذکر کردوں جو یہ توقع کر رہے تھے کہ مودی نے جو کشمیریوں کا اجلاس بلایا تھا اس میں اور کچھ نہیں تو کم از کم مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تو بحال کر دی جائے گی لیکن اس اجلاس میں نہ تو حقیقی کشمیری سیاسی قیادت کو جیلوں سے رہا کرکے مدعو کیا گیا نہ ہی کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی پر بات کی گئی۔ اس طرح یہ بے معنی اجلاس بھی ایک ڈرامہ اور گونگلوں سے مٹی جھاڑنا ہی ثابت ہوا۔۔ اس اجلاس میں مدعو کئے گئے چند معروف کشمیری قائدین نے بھی مودی سرکار کو ٹھینگا دکھایا۔ یوں یہ بے معنی اجلاس بے مقصد انجام سے دوچار ہوا جو مودی سرکار کی ناکامی کا باعث بنا۔۔ اب بھارتی تحقیقاتی اداروں کی جھوٹی تحقیق یہ ہے کہ پاکستان ڈرون کو جموں کشمیر میں کئی عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔ ۔ چلیں اگر یہ مان بھی لیں کہ ڈرون پاکستان کی طرف سے آئے تھے تو کنڑول لائن کے پاس تو بات سمجھ آتی ہے ۔ یہ اتنی دور جموں میں ڈرون کیسے پہنچے ۔ یہ سوال بھارت میں کوئی بھی حکومت اور فضائیہ سے نہیں پوچھ رہا ہے ۔ ۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کو اس میں بھی آئی ایس آئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ دراصل اس سب الزام تراشی کی وجہ ہے ۔ اب اسکا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ، بھارتیوں کو خوف میں مبتلا کرکے ۔ بھارت اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاری میں ہے ۔ ۔ بھارتی خبر رساں ادارے نے تو دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ بھارت نے اینٹی ڈرون سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کئی فوجی تنصیبات میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے لال قلعہ پر ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر پہلی بار اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا تھا۔ جس کا نامlaser based directed energy weaponتھا ۔ یہ سسٹم کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو لیزربم کے ذریعہ گرا سکتا ہے ۔ ایک اور سسٹم ہے جو کہ DRDO کے لگاتار ٹرائل پر ہے کہ کیسے microwave کے ذریعہ ڈرون کو گرایا جاسکے ۔ اس کو jaming system بھی کہا جاتا ہے ۔

    ۔ بھارت کے سی ڈی ایس بپن راوت بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ مستقبل کی جنگ کے لئے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ بھارت نے اس ضمن میں تینوں افواج کے اہم اڈوں پر اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسکے لئے بھارت نے اسرائیل سے بھی مدد لی ہے اور بھارتی بحریہ نے چھوٹے ڈرون سے نمٹنے کے لئے اسرائیل کو اینٹی ڈرون سسٹم کا 2000 سے زائد کا آرڈر کیاہے یہ اینٹی ڈرون سسٹم computerized ہے۔ اسکو بندوق کے اوپر بھی لگایا جا سکتا ہے اور کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو اس سسٹم سے فضا میں ہی تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔ حقائق یہ ہیں کہ بھارت میں کورونا نے جس طرح تباہی مچائی ۔ دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اور مودی کی اس ضمن میں کارکردگی جو رہی وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لی ہے کہ لاشیں جلانے کے لئے نہ شمشان گھاٹوں میں جگہ ملتی تھی نہ ان کی چتائوں کو جلانے کے لئے لکڑیاں دستیاب تھیں۔ دہلی، کلکتہ، ممبئی، امرتسر، چندی گڑھ، میزو رام، حیدرآباد سمیت اترپردیش اور راجستھان میں مودی سرکار کی ناکامی کا یہ عالم رہا کہ کورونا ویکسین تو کیا متاثرین کو آکسیجن تک میسر نہیں تھی۔

    ۔ لاکھوں بھارتی باشندے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ایڑیاں رگڑتے ہوئے ہلاک ہوتے رہے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود جھوٹا بھارتی میڈیا بھی مودی سرکار کی اس تاریخی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکا۔۔ چین کے ساتھ تنازع میں بھی بھارت کو لینے کے دینے پڑے اور مار الگ سے کھائی۔ پاکستان کے ساتھ پنجہ لڑانے کی کوشش بھی بھارتی ناکامی پر ختم ہوئی۔ اگر پاکستان اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہ کرتا تو بھارت ابھی نندن کو آزاد کرانے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا جو پاکستان پر حملہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس حماقت میں بھی بھارت کا منہ کالا ہوا۔ ۔ بھارتی معیشت مودی حکومت میں زوال پذیر ہے اور تجارتی گراف مسلسل نیچے گر رہا ہے۔ معیشت کی تباہی و بدحالی بھی مودی سرکار کی ایک اور بدترین ناکامی ہے۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری رہنمائوں کی جانب سے بھارت کو ٹکا سا جواب ملنے پر جموں دھماکوں کے ایک اور رخ کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی طرف اشارہ پاکستان کے عسکری ذرائع نے بھی کیا ہے۔ جس میں جموں دھماکوں کو بھارتی حکومت کا پلوامہ ۔ twoڈرامہ قرار دیا ہے۔ ان کا خدشہ بالکل درست ہے کیونکہ بھارت اس واقعے میں پاکستان کو ملوث کر کے وہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جنہیں وہ پلوامہ حملے کے ڈرامے کے بعد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا تھا۔

    ۔ پھر افغانستان کی بگڑتی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بھی وہ پاکستان کے خلاف جو امریکہ کو طالبان کے خلاف کاروائی کے لئے اڈے نہ دینے کا اعلان کر چکا ہے۔ کوئی نیا محاذ کھول سکتا ہے اس پس منظر میں جموں دھماکے دور رس اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ دشمن بھی اعلیٰ ظرف ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے بھارت ایسا نہیں بلکہ دوسری طرح کا پڑوسی اورمخالف ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بھارت کو جب بھی اندرونی یا بین الاقوامی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسی طرح کا کوئی ڈرامہ رچا کر الزام پاکستان پر اس لئے عائد کرتا ہےتاکہ اس ناکامی سے دنیا اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔