Baaghi TV

Author: News Editor

  • کراچی پولیس آفس حملہ:وزیراعظم کا جام شہادت نوش کرنیوالوں کوشہداپیکج دینے کااعلان

    کراچی پولیس آفس حملہ:وزیراعظم کا جام شہادت نوش کرنیوالوں کوشہداپیکج دینے کااعلان

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر حملے میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو شہدا پیکج دینے کا اعلان کیا ہے۔

    شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید 2 پولیس، ایک رینجر اہلکار اور ایک سویلین کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی بھی کی جب کہ آپریشن میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو شہدا پیکج دینے کا اعلان کیا۔

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تینوں افواج، رینجرز، پولیس سمیت مشترکہ آپریشن میں شریک تمام فورسز کو خراج تحسین کرتا ہوں، ایک گھنٹے طویل آپریشن میں فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور مستعدی کا مظاہرہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشنل تیاری، پولیس کی استعداد میں اضافے پر فوری توجہ دینا ہوگی، دہشتگردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پوری ریاستی قوت اور اشتراک عمل کو بروئے کار لانا ہو گا۔وزیراعظم نے حملے کے زخمیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    یاد رہے کہ کل شامکراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

     

     

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا

  • پولیس کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کریں گے: آئی جی خیبرپختونخوا

    پولیس کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کریں گے: آئی جی خیبرپختونخوا

    پشاور: آئی جی کے پی کے اختر حیات گنڈا پور نے کہا ہے کہ صوبے میں گزشتہ چار ماہ میں کالعدم تنظیموں نے پولیس پر 62 حملے کیے جن میں پولیس افسران سمیت تقریباً 300 اہلکار شہید ہوئے۔

    پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی کے پی کے نے کہا کہ سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ میں اصلاحات اور تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا ہے، شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس فورس کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کیے جائیں گے۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    انہوں نے کہا کہ مسلح تنظیموں نے رات کو پولیس پر حملے کیے جس سے پولیس کو زیادہ نقصان ہوا ہے، چیکنگ نظام کو بہتر بنانے کے لیے پولیس فورس میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی جب کہ پولیس فورس کو سہولتوں کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی پر زیادہ فنڈ خرچ کیا جائے گا۔

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    ہائی الرٹ اور چیکنگ سخت کردی گئی ہے، ایمبولینسز، پولیس و دیگر وردی میں ملبوس اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں کو چیک کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔کراچی پولیس پر حملے کے تناظر میں اسلام آباد پولیس کے تمام افسران کو خود اپنےعلاقے میں رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جڑواں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں اور اندرون شہر چیکنگ کو بڑھا دیا گیا ہے۔

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    پولیس کی جانب سے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ دوران سفر اپنے ضروری شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور چیکنگ میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔حکام کی جانب سے تمام اہم عمارات اور ریڈ زون میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے اور ڈیوٹی پر مامور تمام اہلکاروں کے مکمل حفاظتی یونیفارم میں ہونے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

  • کراچی پولیس آفس پرحملہ:تمام شہدا کے نمازجنازہ ادا،عمارت بھی کلیئرقراردی گئی

    کراچی پولیس آفس پرحملہ:تمام شہدا کے نمازجنازہ ادا،عمارت بھی کلیئرقراردی گئی

    کراچی:کراچی پولیس آفس میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے ناکام حملے میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ پولیس آفس کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔کلیئرنس آپریشن میں شریک اہلکاروں نے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد اللہ اکبر کے بلند نعرے بھی لگائے۔

    واضح رہے کہ آپریشن کے دوران رینجرز کے سب انسپکٹر تیمور اور پولیس اہلکار غلام عباس سمیت چار افراد شہید ہوئے تھے، جب کہ انیس زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں میں رینجرز کے لیفٹیننٹ کرنل جواد، ایس ایس یو کے ڈی ایس پی حاجی عبد الرزاق بھی شامل ہیں۔

    ڈی آئی جی سیکیورٹی مقصود میمن کے مطابق تین دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، سندھ پولیس ایسے حملوں سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

    کراچی میں پولیس آفس پر حملے میں شہید ہونے والے رینجرزکے سب انسپکٹر تیمور کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔ رینجرز ہیڈ کوارٹر میں وزیراعلیٰ سندھ، کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سميت دیگر افسران نے شرکت کی۔ شہید کی میت تدفین کیلئے شجاع آباد ملتان روانہ کردی گئی

    ڈی آئی جی سیکیورٹی مقصود میمن کے مطابق تین دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، سندھ پولیس ایسے حملوں سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

    کراچی پولیس چیف آفس پر حملے کے بعد آپریشن میں ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی۔ ایک کا تعلق لکی مروت اور دوسرے کا شمالی وزیرستان سے ہے۔دہشت گرد شام سات بجے کے قريب پولیس کی وردیوں میں عقبی راستے سے پولیس آفس ميں داخل ہوئے۔ دہشت گردوں کے پاس نیلے رنگ کے بیگز موجود تھے۔ کھجوریں اور چنے لے کر آئے تھے۔ پاک افواج کے کمانڈوز، رینجرز اور پولیس نے آپریشن میں حصہ لیا۔

    کرائم سین یونٹ نے دہشت گردوں کی گاڑی کا معائنہ مکمل کرلیا۔ سفید رنگ کی گاڑی سے دومیگزین بھی ملے ہیں۔ گاڑی سے بی ایس آر چھ سو چھتیس نمبرکی ایک اور نمبرپلیٹ ملی۔ کار نمبر اے ایل ایف زیرو فور تھری جس شہری کے نام پر رجسٹرڈ ہے وہ گاڑی بیچ چکا ہے، جس نے خریدی اس نے بھی آگے بیچ دی۔ مگر نئے مالک نے اپنے نام ٹرانسفر نہیں کروائی۔ گاڑی کے چوری ہونے یا چھینے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر مرحوم کے بلند درجات اور اہل خاندان کے صبرکے لیے دعا کی اورکہا کہ سندھ حکومت شہید سب انسپکٹر کے اہل خانہ کا ہر طرح خیال رکھے گی۔سندھ حکومت شہید سب انسپکٹر کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد شہید سب انسپکٹر کی میت آبائی علاقے ملتان شجاع آباد روانہ کردی گئی، جہاں آبائی قبرستان میں شہید کو سپرد خاک کردیا جائے گا۔

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    یاد رہے کہ کل رات کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا

  • ملک بھر میں شب معراج آج انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

    ملک بھر میں شب معراج آج انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

    ملک بھر میں شب معراج آج شب ِہفتہ 18 فروری کو انتہائی عقیدت اور احترام سے منائی جائے گی، اس موقع پر خصوصی محافل میں واقعہ معراج کی فضیلت بیان کی جائے گی۔

    ستائیس رجب کی شب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا، جب حضرت جبرائیل براق لے کر نبی آخرالزماں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسولﷺ ، آپ کا رب آپ سے ملاقات چاہتا ہے، حضواکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوئے۔

    اس مقدس سفر کے دوران آپﷺ مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ کو آسمانوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرانے کے لئے لے جایا گیا، وہاں رسول اکرمﷺ کو جنت اور دوزخ بھی دکھائی گئی۔ آپﷺ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی کرائی گئی، اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی ۔

    شب معراج کے موقع پر ملک بھر میں مساجد کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے، آج رات مساجد میں خصوصی محافل اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے، لوگ نوافل ادا کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں، علمائے کرام واقعہ معراج اور اس کی فضلیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

  • زرداری پر قتل کی سازش کا الزام،شیخ رشید پرفردجرم عائد کرنے کا فیصلہ

    زرداری پر قتل کی سازش کا الزام،شیخ رشید پرفردجرم عائد کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد :سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق کیس میں عدالت نے شیخ رشید پر فردجرم عائد کرنے کیلئے 2مارچ کی تاریخ مقرر کردی۔سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے کی ، اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کیخلاف چالان پیش کردیا۔

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ نےتھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست واپس کردی ، جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ درخواست سیشن جج کی عدالت میں جمع کرائیں ،میرا اختیار نہیں ہے ، عدالت نے شیخ رشید پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 2مارچ کی تاریخ مقرر کردی ۔

    دوران سماعت شیخ رشید نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک کانفرنس میں شریک ہونا ہے ، پندرہ مارچ کی تاریخ دے دیں ، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے آرڈرز ہیں ، چالان آگیا ہے ،لمبی تاریخ نہیں دے سکتے ، عدالت ٹرائل شروع ہوجائے تو پھر دیکھ لیں گے ۔

    شیخ رشید کی لال حویلی کا ایک اور یونٹ ڈی سیل

    اسی حوالےسے بات کرتے ہوئےسابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے موجودہ حکومت کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، اب صرف سپریم کورٹ ہی پاکستان کو بچا سکتی ہے۔

    اسلام آباد میں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہا ہے کہ 2 تاریخ کو فرد جرم عائد کی جائے گی ، اللہ نہ دبائے تو شیخ رشید کبھی نہیں دبے گا، یہ ان لوگوں کے جہاز استعمال کرتے ہیں جنہوں نے عوام کا خون چوسا ہے، انہوں نے یہاں مجھے دھکا دے کر گرایا، مجھے ہتھکڑیاں لگائی گئیں، منہ پر کپڑا ڈالا گیا، 16 بار وزیر رہا ہوں، پھر بھی باہر نکل کر ان کو معاف کردیا، میں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، یہ شیخ رشید کو نہیں جانتے ۔

    سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں ، انہوں نے طے کرلیا ہے کہ مرکز اور صوبے کے الیکشن اکٹھے کرائیں گے، اب صرف سپریم کورٹ ہی پاکستان کو بچا سکتی ہے ، امید ہے سپریم کورٹ الیکشن کرائے گی۔شیخ رشید نے کہا کہ ان کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ عمران خان کو ختم کرو، آصف زرداری چوروں اور کرپٹوں کا بادشاہ ہے ، امید ہے سپریم کورٹ نیب کے چوروں کو نہیں چھوڑے گی۔

  • دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کسی بھی چیز کا جواب نہیں ہے، اسےرکنا چاہیئے۔امریکا کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی جانب سے17 فروری بروز جمعہ کو جاری بیان میں کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کےحملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کراچی پولیس آفس پر دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی چیز کا جواب نہیں، اسے رکنا چاہیے۔ اس موقع پر نیڈ پرائس نے دہشت گردی میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    دوسری جانب کراچی پولیس آفس حملے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں متاثرہ علاقے میں جانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی۔اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے کہا کہ ہم امریکی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں، متاثرہ علاقے میں جانے سے گریز کریں، دوستوں اور اہل خانہ کو اپنی حفاظت کے بارے میں مطلع کریں۔

    کراچی دہشت گردی: ملتان کا رینجرز سب انسپکٹر اور لاڑکانہ کا پولیس ہیڈ کانسٹیبل بھی…

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کے حملے میں دو پولیس اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

  • بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    کوئٹہ: بلوچستان میں سیلاب کو گزرے 6 ماہ ہونے کو آرہے ہیں لیکن بلوچستان حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی جامع پلان سامنے نہ لاسکی جس کے باعث متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔بلوچستان میں گزشتہ سال جون سے اگست کے دوران مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ 700 سے زائد صحت مراکز حکومتی توجہ کے منتظرصوبے میں مجموعی طور پر تین لاکھ 46ہزار مکانات متاثر ہوئے جن میں ڈھائی لاکھ مکانات مکمل طور پر گرگئے تھے جب کہ 96ہزار سے زائد مکانات کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

    سیلاب سے متاثرہ مکانات کی مرمت کیلئے اخراجات کا تخمینہ 200 ارب روپے کے لگ بھگ بتایاجاتا ہے، صوبائی حکومت کی جانب سے تخمینہ لگائے جانے کے بعد 2 ماہ کا عرصہ بیت گیا لیکن حکومت متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی واضح روڈ میپ نہیں دے سکی ہے جس کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کا مالی بحران ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت کو وفاق سے سیلاب متاثرین کیلئے رقم نہیں ملی جب کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو ملنے والی رقم کی عدم فراہمی سے صوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔

  • کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس (کے پی او) پر حملے سے متعلق تفتیش جاری ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے کے وقت تین چوکیوں میں سے کسی میں بھی کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس سے ملحقہ پولیس لائن صدرکوارٹرز میں داخلےکا کوئی سکیورٹی گیٹ نہیں، پولیس لائن کے کوارٹرز میں پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ رہائش پذیر ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد مبینہ طور پرکے پی او میں عقبی دیوار کود کر داخل ہوئے، کل حملےکے وقت تینوں چوکیوں پر کل کوئی نہیں تھا،کے پی او کی عقبی دیوار پر خاردار تار ٹوٹی ہوئی دیکھی گئی ہے،کے پی او کی مرکزی شاہراہ پرسی سی ٹی وی کیمرا نہیں صرف اطراف میں ہیں۔ دہشت گرد جس کار میں آئے تھے وہ صدر تھانے میں موجود ہے اور اس سے متعلق شواہد جمع کرلیےگئے ہیں۔

    کراچی: شاہراہ سے متصل صدر پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ

    یاد رہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ عمارت کا معائنہ کیا گیا ہے

  • کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی:پولیس ہیڈ آفس پردہشتگرد حملےسےچند گھنٹے قبل آئی جی سندھ غلام نبی میمن نےسینٹرل پولیس آفس کے واچ ٹاور پرخود جاکرمورچےاورعقبی ایمرجنسی گیٹ کی سکیورٹی چیک کی اور ہدایات جاری کیں۔سی پی اوذرائع کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سندھ پولیس کے ہیڈ آفس کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آئی جی سندھ غلام نبی میمن اکیلے ہی سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کی طرف پہنچ گئے۔

    آئی جی سندھ نے ریلوے لائن کی طرف کے ایمرجنسی داخلی دروازے کو چیک کیا اور وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں جس کے بعد وہ سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کا معائنہ کرتے ہوئے عمارت کے واچ ٹاور تک پہنچ گئے۔

    غلام نبی میمن نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر ریلوے لائن کی طرف کے عقبی حصے کو دیکھا اور وہاں پر سکیورٹی خدشات ظاہر کرتے ہوئے واچ ٹاور پر مزید اسنائپرز تعینات کرنے کا حکم دیا۔ سی پی او ذرائع کے مطابق اس دوران سینٹرل پولیس آفس کے انتظامی پولیس افسران بھی پہنچ گئے اور انہوں نے آئی جی سندھ کی ہدایات کے مطابق سکیورٹی سخت کرادی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے جمعہ کو پولیس دفاتر کیلئے سخت سکیورٹی خدشات ظاہر کیے گئے تھے تاہم حملہ آوروں نے سندھ پولیس ہیڈ آفس کی بجائے شام کو کراچی پولیس ہیڈ آفس پر حملہ کیا۔

  • کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی: بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔باپ کے قاتل کو 14 سال سے زائد عرصے کے بعد بیٹی نے تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا، ملزم کی گرفتاری کراچی پولیس کی مدد سے عمل میں لائی گئی جبکہ کراچی منتقلی کے لیے قانونی تقاضے پورے کئے جارہے ہیں۔

    ملزم کو 2009 میں عدالت نے مفرور قرار دیا تھا اور 2022 میں ملزم کاقومی شناختی کارڈ اورپاسپورٹ بھی بلاک کردیا گیا تھا۔26 اگست 2008 میں میٹھادر تھانے کی حدود میں واقع اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کی بلڈنگ نمبر 2 کی دسویں منلز پر اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ریجنل چیف محمد احمد امجد کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا تھا جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔

    رینجل چیف کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا مقدمہ نمبر 2008/298 مقتول ریجنل چیف کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) اور عینی شاہد محمد عارف کی مدعیت میں میٹھادر تھانے میں درج کیا گیا تھا، مقدمے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے سینئر منیجر سید تقی شاہ کو نامزد کیا گیا تھا پولیس نے جائے وقوع سے گولیوں کے خول، پستول اور عینی شاہدین کے بیان قلمبند کرنے کے بعد ریجنل چیف کے قتل میں ملوث ملزم کی تلاش شروع کردی تھی۔

    29 جنوری 2009 کو کیس کے انویسٹی گیشن آفیسر نے واقعے سے متعلق اپنی مکمل تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی جس پرعدالت نے ملزم کو مفرور قرار دے دیا تھا جبکہ 29 جنوری 2010 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج جنوبی 4 نے ملزم کے تاحیات ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کیس کو ملزم کی گرفتاری سے مشروط کر دیا تھا۔

    29 اکتوبر 2010 کو معززعدالت نے ایف آئی اے اور نادرا حکام کو حکم دیا تھا کہ ملزم کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے جس پر نادر احکام نے 24 نومبر2022 کو ملزم کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے سے متعلق اخبارات میں اشتہار جاری کرایا تھا۔

    ڈسٹرکٹ سٹی انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق ملزم سید تقی شاہ ریجنل چیف محمد احمد امجد کو قتل کرنے کے بعد یو اے ای فرار ہوگیا تھا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی اور ریجنل چیف کے قتل کے 14 سال سے زائد عرصے کے بعد یو اے ای میں ہی ملازمت کرنے والی مقتول کی بیٹی ماہم امجد نے اپنے والد کے قتل میں ملوث ملزم کو شناخت کرلیا۔

    مقتول کی بیٹی نے ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کو 18 نومبر 2022 کو ایک درخواست ارسال کی جس میں مقتول کی بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد کا قتل یو اے ای میں مقیم ہے جس پر ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایس پی انویسٹی سٹی کو انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی۔

    ایس پی انویسٹی سٹی نے ملزم کی سفری (ٹریولنگ) ہسٹری حاصل کی تو معلوم ہوا کہ ملزم 24 اکتوبر 2008 کو لاہورسے یو اے ای فرار ہوا جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے متعلقہ حکام سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی جس پر ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیا گیا۔

    25 جنوری 2023 کو انٹرپول کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ریڈ نوٹس جاری کیے جانے کی صورت میں ملزم سید تقی شاہ کو یو اے ای میں گرفتار کرلیا اور انٹرپول نے درخواست کی ہے کہ گرفتار ملزم کی حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات 30 دنوں کے اندر ارسال کیے جائیں جس پر پولیس حکام نے 3 روز میں حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ حکام کو ارسال کر دیے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے یواے ای میں گرفتار ملزم جلد کراچی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا، پولیس حکام کے مطابق ملزم سید تقی شاہ نے مبینہ کرپشن کی انکوائری کرنے پر ریجنل چیف محمد احمد امجد کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔