Baaghi TV

Author: News Editor

  • سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ایشوز کیا ہیں؟ وہ کس کرب میں مبتلا ہیں؟ انہوں نے جینا ہے ،روزانہ روٹی کا انتظام کرنا ہے، علاج اور بچوں کو تعلیم دلوانی ہے ۔زندگی کی ضروریات کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوام کو نہ تو آئین اور نہ ہی قانون کی پیچیدگیوں سے دلچسپی ہے نہ سوشل میڈیا کی نورا کشتیوں ،کردار کشیوں سے کوئی غرض ہے ۔ان کے روزانہ کے بنیادی مسائل ہر روز ان کی چوکھٹ پر دستک دیتے ہیں سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں اور الزام تراشیاں کتنی ہی بڑھتی چلی جائیں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیا کمال کا اتفاق ہوتا ہے۔

    آمدہ قومی انتخابات کے لئے سیاسی نورا کشتیاں جاری ہیں آج کی مہنگائی کا ملبہ کسی ایک سیاسی جماعت پر نہیں ڈالا جا سکتا اس کے ذمہ دار سابقہ حکومت سے ہٹا کر ایک دوسرے کی آڈیو ، ویڈیو پر تبصروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور آج کی اس سیاست میں اداروں معزز ججز صاحبان کو بھی نہیں بخشا جا رہا ۔حیرت ہے ملک و قوم کو مسائل کے گرداب میں پہنچا کر آج ایک دوسرے پر گھٹیا اور غلیظ زبان سمیت آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل شروع کر دیئے گئے ہیں۔ ان حرکات سے پاکستان بطور ریاست اور اس ریاست کے مستقبل نوجوانوں کا کیا ہوگا؟ اج کے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں جس گھوڑے پر سوار ہیں ان کی ان حرکتوں سے کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔

    فیصلہ ساز اداروں کو وطن عزیز اور عوام کی خاطرہ موجودہ شور شرابے معاشی اور ایک مقروض ملک کی خاطر نواز شریف، عمران خان، پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی جماعتوں کو اس ملک و قوم کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کروانے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضد، انا اور ہٹ دھرمی کو دفن کرنا ہوگا ملک کے بہتر مستقبل اور ملک کے وسائل پر بھرپور توجہ دینا ہوگی اس ملک و قوم کی نوازشریف ، عمران خان اور بلاول بھٹو سمیت دوسری جماعتوں کو تعمیر وطن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں اور نہ ہی عمران خان کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے اور نہ دیگر خداراہ اس ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لئے فیصلہ ساز ادارے اپنا کردار ادا کریں اور سیاسی جماعتیں بھی اس ملک پر رحم کریں سیاسی عدم استحکام، معاشی گراوٹ سماجی انتشار کیا اس ملک کا مقدر ہیں؟

  • الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا،جبکہ وہ وقت مانگ رہا ہے،ایسانہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا،جبکہ وہ وقت مانگ رہا ہے،ایسانہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انتخابات کو 90 دن میں ہونا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ 90 دن ختم ہور ہے ہیں، الیکشن کمیشن آخر کر کیا رہا ہے؟ الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا ہے اور وہ اس کے لیے بھی مزید وقت مانگ رہا ہے۔

    پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    سپریم کورٹ میں سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کے کیس کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کی طلبی سے متعلق استفسار کیا اس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی طبیعت ناساز ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے تقرر و تبادلے کے لیے رابطہ کس نے کیا؟ الیکشن کمشنر الیکشن ایکٹ کی کس شق کے تحت خود ہی یہ حکم دے سکتے ہیں کہ تقرر و تبادلے کردو؟

    عدالت نے کہا کہ انتخابات کو 90 دن میں ہونا ہے، ہر گزرتے وقت کے ساتھ 90 دن ختم ہور ہے ہیں، الیکشن کمیشن آخر کر کیا رہا ہے؟

    سماعت کے دوران سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی جانب سے بار بار بولنے پر جسٹس منیب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات کرنے کے دوران مجھے ٹوکنے کی جرات نہ کریں۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے بنیادی قانون معلوم ہے، اس پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ بنیادی قانون پتا ہونے سے آپ وکیل نہیں کہلائیں گے۔

    عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا ہے، 90 روز ختم ہونے کو ہیں اور الیکشن کمیشن مزید وقت مانگ رہا ہے، الیکشن کمیشن کا کام ہی شفاف الیکشن کرانا ہے، اس کے لیے بھی وقت مانگ رہے ہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے 90 دنوں میں انتخابات نہ کرانے کے خلاف درخواست پر سماعت سے انکارکردیا اور سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا کیس نمٹا دیا۔

  • پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    لاہور:پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا جس کی نقول چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کو بھی بجھوائی گئی ہیں۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد میں نے گورنر پنجاب کو 90 روز کی آئینی مدت کے دوران انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ کے تعین کی نشاندہی کی، الیکشن کمیشن نے بھی گورنر پنجاب سے انتخابات کی تاریخ کے تعین کا تقاضا کیا جس پر گورنر پنجاب نے جوابی خط میں موقف اختیار کیا کہ اسمبلی ان کے دستخطوں سے تحلیل نہیں ہوئی اس لیے آئینی طور وہ انتخابات کی تاریخ دینے کے پابند نہیں۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو گورنر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے تعین کے احکامات صادر کیے، لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر گورنر اور الیکشن کمیشن کے مابین ناقابل جواز تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا، آئینی فرائض کی انجام دہی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں ناکامی آئین سے صریح انحراف ہے، آئین سے انحراف کی راہ روکنے کیلئے سربراہِ ریاست کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔

    سپیکر نے اپنے خط میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا آرٹیکل 57(1) آپ کو انتخابات کے انعقاد کے آئینی تقاضے کی انجام دہی کے اختیارات سونپتا ہے لہٰذا آپ آئین سے مزید انحراف کی راہ روکنے کیلئے فوری طور پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

  • ترکیہ میں 5.1 شدت کا ایک اور زلزلہ

    ترکیہ میں 5.1 شدت کا ایک اور زلزلہ

    انقرہ: ترکیہ کے جنوبی علاقے میں 5.1 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق زلزلے کے جھٹکے شام اور لبنان میں بھی محسوس کیے گئے۔ ترکیہ اور خطے کے دیگرممالک میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.1 تھی اور اس کا مرکز ترکیہ کی جنوبی ریاست حاطے میں تھا۔

    زلزلے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ترکیہ اور شام میں 10 روز قبل آنے والے ہولناک زلزلے میں اب تک 42 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

     

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سےتباہی کے بعد اقوام متحدہ (یو این) نے ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے 1 ارب ڈالرامداد کی اپیل کر دی ہے۔اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے شام کے زلزلہ متاثرین کیلئے بھی 40 کروڑ ڈالرز کی امداد کی اپیل گئی تھی۔

    ترکیہ اور شام میں زلزلہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 37,000 سے تجاوز

    یو این ایڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شام اور ترکیہ کے زلزلہ متاثرین ناقابل بیان مصیبت سے گزر رہے ہیں، ہمیں اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ انہیں وہ مدد مل رہی ہے جس کی انہیں اس وقت سخت ضرورت ہے۔

    ترک زلزلہ متاثرین کے لیے10ارب 8 کروڑروپے عطیہ کرنے والےپاکستانی کون ہیں:دلچسپ…

    واضح رہے کہ دونوں ممالک میں زلزلے سے مجموعی اموات 42 ہزار تک پہنچ چکی ہیں، زلزلے کے نتیجے میں ترکیہ میں اموات کی تعداد 36 ہزار 187 جبکہ شام میں مجموعی اموات 5 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    ادھر کل انقرہ میں صدارتی محل میں وزیراعظم کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے صدر اردوان سے تباہ کن زلزلے سے جانی ومالی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔وزیراعظم ترک عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے دو روزہ دورے پر ہیں، صدارتی محل پہنچنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان کا استقبال کیا۔

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ٹویٹر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اپنے بھائی صدر طیب رجب اردوان سےملاقات کی ہے، صدر اردوان کو اپنی مستقل حمایت کا یقین دلایا۔ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یقین ہے صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ تباہی سے مضبوطی سے نکلے گا۔

    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل

    ترکیہ روانگی سے قبل ٹویٹر پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترک بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے ترکیہ کا دورہ کر رہا ہوں۔ترکیہ اور پاکستان ایک قوم ہیں جو دو ملکوں میں بستے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں، ترکیہ اورشام میں زلزلے کے نقصانات سے نمٹنا کسی ایک حکومت کی استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ کوئی بھی ملک چاہے کتنا ہی وسائل سے مالا مال ہواس پیمانے کی تباہی سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مشکل کا شکار انسانیت کی مدد کیلئے آگے آئے۔

  • وزیراعظم کےدامادکی ضمانت میں توسیع،حمزہ شہبازکی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور

    وزیراعظم کےدامادکی ضمانت میں توسیع،حمزہ شہبازکی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور

    لاہور: احتساب عدالت نے وزیراعظم کے داماد کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی جب کہ حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے داماد ہارون یوسف کی عبوری ضمانت کی درخواست کی سماعت احتساب عدالت نمبر 9 کے جج قمر الزماں نے کی، جس میں عدالت نے عبوری ضمانت میں یکم مارچ تک توسیع کردی۔ عدالت نے شریک ملزم سید طاہر نقوی کی عبوری ضمانت میں بھی یکم مارچ تک توسیع کر دی۔

    نیب کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہارون یوسف اور سید طاہر نقوی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے، مگر ان کے پرانے وارنٹ گرفتاری ابھی منسوخ نہیں ہوئے۔کیس میں ان کے بطور بے نامی دار کردار کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں۔ تفتیش کے لیے مہلت دی جائے۔ عدالت نے جائزہ رپورٹ جلد مرتب کرنے کا حکم دے دیا۔

    واضح رہے کہ ہارون یوسف اور سید طاہر نقوی نے احتساب عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے ۔

    دریں اثنا احتساب عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی۔ عدالت نے حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور کر لی۔

  • پنجاب اسمبلی انتخابات: الیکشن کمیشن نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کی منظوری دے دی

    پنجاب اسمبلی انتخابات: الیکشن کمیشن نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کی منظوری دے دی

    لاہور :پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کی منظوری دے دی ۔
    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن اب سے کچھ دیر بعد لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کرے گا ، الیکشن کمیشن کوانتخابات کی تاریخ کے اعلان کا آئینی اختیار حاصل نہیں ، لاہور ہائی کورٹ نے بھی گورنر سے مشاورت کرنے کا فیصلہ دیا ۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست بھی دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، متفرق درخواست میں الیکشن کمیشن عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد میں پیش مشکلات پر راہنمائی طلب کرے گا ۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کو لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے وجوہات بتائی جائیں اور گورنر سے مشاورت کی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ انتخابات آئین میں وضع کردہ مینڈیٹ کے مطابق 90 دن کے اندر ہی ہوں گے۔

    اس سے پہلے کہا جارہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ سپریم کورٹ میں بھی اپنے اس موقف کا بھرپور دفاع کرے گا کہ آئین کے تحت یا قانون کے تحت کمیشن کو یہ مینڈیٹ حاصل نہیں کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد و شفاف انتخابات کرانے کیلئے بیوروکریسی میں رد و بدل کے اختیارات کے حوالے سے کمیشن کے موقف کا دفاع کرنے کے علاوہ، الیکشن کمیشن نے جمعرات کو یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ میں ایک سول متفرق درخواست دائر کرے گا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے 10 فروری 2023 کو سنائے گئے فیصلے پر عملدرآمد میں کمیشن کو پیش آنے والی مشکلات میں رہنمائی طلب کی جائے گی۔

  • آڈیو لیک:چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ زورپکڑگیا

    آڈیو لیک:چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ زورپکڑگیا

    اسلام آباد: آڈیو لیکس معاملات میں ایک بارپھرسریم کورٹ پر دباوبڑھ گیا ہے، اس حوالے سے عوام الناس کی طرف سے یہ مطالبہ زورپکڑرہا ہے کہ اتنے بڑے معاملے کوصرف سپریم کورٹ ہی حل کرسکتی ہے ، اس سے پہلے پاکستان بار کونسل نے مبینہ آڈیو لیک پر چیف جسٹس پاکستان سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔پاکستان بار کونسل نے اعلامیے میں کہا ہے چیف جسٹس پاکستان وائرل آڈیو کے حوالے سے جانچ پڑتال اور تحقیقات کرائیں، ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ ججز کسی سیاسی جماعت کو فائدہ دے رہے ہیں یا ان کے ترجمان ہیں، ججز کو کسی سیاسی معاملے پر ریمارکس سے اجتناب برتنا چاہیے۔

     

     

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ اعلیٰ عدلیہ کے تشخص کے حوالے سے شدید تشویش ہے، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا کنڈکٹ غیر جانب دارانہ ہونا چاہے، ایسے تاثر سے عوام میں عدلیہ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کے ساتھ عدلیہ کے تشخص کو نقصان ہوگا۔

    آڈیولیکس کی تحقیقات کیلئے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات عائد

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ ججز کو کسی آئینی عہدے کا تمسخر اڑانے والے ریمارکس سے اجتناب برتنا چاہیے، اگر یہ آڈیو جعلی ہے تو اس کو تیار اور وائرل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، اگر یہ آڈیو اصلی ہو تو آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔

    آڈیولیکس میں ملوث افراد کون ہیں، اور وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ،رانا ثنااللہ نے بتا…

    ادھر اس معاملے پر مبینہ آڈیو لیک پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی اور صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کا بیان سامنے آیا ہے۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے چوہدری پرویز الٰہی اور عابد زبیری کی مبینہ آڈیو لیک جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    اس حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ آڈیو میں کوئی غلط بات نہیں کی گئی، محمد خان بھٹی کیس پر وکیل سےگفتگو کو ٹیپ کر کے غلط رنگ دیا گیا، محمد خان بھٹی 10 دن سے لاپتا ہیں، ان کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے۔

    چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا ن لیگ کی قیادت عدلیہ کے ادارے کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے پرویز الہٰی کے ساتھ لیک آڈیو سے متعلق بیان میں کہا کہ میرے حوالے سے آڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

  • اداکارہ سوارا بھاسکر نے مسلمان بھارتی سیاستدان سے شادی کرلی

    اداکارہ سوارا بھاسکر نے مسلمان بھارتی سیاستدان سے شادی کرلی

    ممبئی: خوبرو بالی ووڈ اداکارہ اور سماجی رُکن سوارا بھاسکر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھارت کی سیاسی پارٹی سماج وادی کے رُکن فہد احمد سے شادی کر لی۔

    وِیرے دی ویڈنگ اسٹار سوارا بھاسکر نے سوشل میڈیا پر بھی اپنی شادی کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنی قریبی دوست فہد احمد سے کورٹ میرج کر لی ہے جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

    سوارا بھاسکر نے سوشل میڈیا پر فہد احمد سے شادی کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم اکثر کسی ایسی چیز کو ڈھونڈتے ہیں جو ہمارے بےحد نزدیک ہوتی ہے ہم پیار ڈھونڈ رہے تھے لیکن ہمیں دوستی پہلے مل گئی اور پھر ہم نے ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیا۔ فہد ضِرار احمد میرے دل میں خوش آمدید، اس میں تھوڑی افراتفری ہے لیکن یہ تمہارا ہے۔‘

    اداکارہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں انہیں فہد احمد کے ساتھ کورٹ میرج کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس سے قبل اداکارہ نے مہندی کی تصاویر بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی تھی۔

    یاد رہے کہ سوارا بھاسکر اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں وہ اکثر حکومت مخالف بیانات کے باعث سُرخیوں کاحصہ بنی رہتی ہیں۔سوارا نے کرینہ کپور کے ساتھ فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ میں بھی اہم کردار نبھاتی نظر آئیں تھیں جبکہ اس سے قبل وہ کئی بھارتی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔

  • سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں نقل پرعمر قید ہوگی:اعلان ہوگیا

    سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں نقل پرعمر قید ہوگی:اعلان ہوگیا

    نئی دہلی: بھارت میں سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں نقل پر عمرقید کی سزا کا قانون منظور کرلیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں آن لائن یا آف لائن نقل، دھوکہ دہی یا پرچہ آؤٹ کرنے پر مجرم کو عمر قید اور اس کام میں ملوث تنظیموں کو 10 کروڑ روپے جرمانے تک کی سزا دی جاسکے گی۔

    قانون کو ابتدا میں آرڈیننس کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی امتحان دینے والا شخص کسی مسابقتی امتحان (آن لائن یا آف لائن) میں دھوکہ دہی کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے یا دوسرے امیدوار کو دھوکہ دینے میں مدد دیتا ہے یا غیر منصفانہ طریقوں میں ملوث ہوتا ہے تو اسے کم از کم تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے تک کی سزا دی جائے گی۔

    جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں امتحان دینے والے کو مزید نو ماہ قید بھگتنا ہوگا۔ اگر یہ حرکت دوسری بار ہوئی تو مجرم کو کم از کم 10 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے مزید 30 ماہ قید بھگتنا ہو گی۔گجرات میں پیپر لیک ہونے کی وجہ سے 2014 سے لے کر اب تک اسکول ٹیچرز اور جونیئر کلرکوں کی بھرتی کم از کم نو بار منسوخ کی گئی ہیں۔ دیگر بھارتی ریاستوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔

  • جاسوس غبارہ گرانے پرچین سےمعافی نہیں مانگیں گے:امریکی صدر

    جاسوس غبارہ گرانے پرچین سےمعافی نہیں مانگیں گے:امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکا کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا جاسوس غبارہ مار گرانے پر چین سے معافی نہیں مانگے گا۔

    بھارتی پولیس نے پاکستان کا جاسوس غبارہ پکڑنے کا دعویٰ کردیا

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر جو بائیڈن نے دعویٰ کیا کہ چین غبارے کو جاسوس کے لیے استعمال کررہا تھا تاہم شمالی امریکا میں مار گرائے گئے تین اجسام کسی ملک کے لیے جاسوسی نہیں کررہے تھے۔

    پی آئی اے طیارہ،غبارہ بھارت نے تحویل میں لے لیا

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ غبارے کے معاملے پر چینی ہم منصب شی جن پنگ سے بات کریں گے۔ ہم کوئی نئی سرد جنگ نہیں چاہتے تاہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔جو بائیڈن نے کہا کہ بائیڈن نے کہا کہ کوئی غلط سوچ نہ رکھے۔ اگر کوئی چیز امریکی شہریوں کے لیے باعث خطرہ بنے گی تو اسے مارگرایا جائے گا۔

    امریکہ کیجانب سے چین کا "جاسوسی غبارہ” گرا نے پر چین کا ناراضگی کا…

    چین نے غبارے کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کی تردید کی ہے۔ چین کے مطابق غبارہ موسم کی معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور اپنے راستے سے بھٹک گیا تھا۔ چین کا غبارہ بحر اوقیانوس کے اوپر 40 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا جب اسے امریکی جنگی طیارے نے مار گرایا تھا۔