Baaghi TV

Author: News Editor

  • او آئی سی کومسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کےتحفظ کےلئےاپنا کردار ادا کرناچاہئے:مریم اورنگزیب

    او آئی سی کومسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کےتحفظ کےلئےاپنا کردار ادا کرناچاہئے:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسلامو فوبیا کے مسئلے سے نمٹنے کی کاوشوں کو تیز کرنے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مسلم اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے او آئی سی کے کردار کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کا گھنائونا رجحان کم نہیں ہوا، جنوبی ایشیاءمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور جرائم گہری تشویش کا باعث ہیں، بھارت میں بے گناہوں کا قتل، فرقہ وارانہ فسادات اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر اسلام کی منفی تصویر کشی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، ہمیں سچائی پر مبنی خبروں کے ذریعے جعلی خبروں کا مقابلہ کرنا ہوگا، پاکستان اور نائیجیریا جیسے او آئی سی کے کئی رکن ممالک دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے سب سے زیادہ دوچار ہیں، پاکستان میں حالیہ سیلاب سے تقریباً 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، متاثرہ ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ کو بڑھایا جائے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزیہاں او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس کے 12 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں 57 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس کے اجلاس کے دوران پرتپاک اور فراخدلانہ مہمان نوازی پر ترکیہ کے عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ سوشل میڈیا کا دور آنے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے او آئی سی نے نمایاں کوششیں کی ہیں، ہم ذرائع ابلاغ اور پبلک پالیسی پر او آئی سی ایکشن پروگرام 2025ءکے ساتھ اپنی بھرپور وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں، اس ضمن میں ہم او آئی سی کے رکن ممالک کی استعداد کار میں اضافہ اور بہترین طریقے استعمال میں لانے کے پختہ عزم پر بھی کاربند ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے او آئی سی کے رکن ممالک کو درپیش چند بڑے چیلنجز اور ان سے نمٹنے میں میڈیا کے کردار کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، حال ہی میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ پاکستان کا ایک تہائی سے زائد رقبہ زیر آب ہے، 33 ملین سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے، 10 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ لاکھ سے زائد افراد امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے باعث 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ریلیف و بحالی کا کام انجام دیا، ہم عالمی برادری بالخصوص او آئی سی کے رکن ممالک کے مشکور ہیں جنہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب موسمیاتی ناانصافی کی ایک بڑی مثال ہے جس کا آج بہت سے ممالک سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان اور نائیجیریا جیسے او آئی سی کے کئی رکن ممالک دنیا میں سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہیں حتیٰ کہ ہمارا ملک میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک میں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی برادری کی جانب سے بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے فوری، اجتماعی اور فیصلہ کن کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرے اور کلائمیٹ فنانسنگ کو بڑھایا جائے۔ اسلامو فوبیا کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلامو فوبیا کا گھنائونا رجحان کم نہیں ہوا، ہمارے خطے، جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور جرائم بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث ہیں۔ ہماری کوششوں کے باوجود ہندوستان میں بے گناہوں کا قتل، منصوبہ بندی کے تحت فرقہ وارانہ فسادات اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا میں اسلام کی منفی تصویر کشی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کی نمائندہ تنظیم ہونے کی حیثیت سے او آئی سی انفرادی طور پر اس کوشش کیلئے صف اول کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مسلم اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے اس ضمن میں چند سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اطلاعاتی استعماریت کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ایک نیا انفارمیشن رجیم قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مسلم ممالک میں آزاد میڈیا ہے جس نے اسلام کے تشخص کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں جگہ بنا لی ہے لیکن مسلم ریاستوں میں اطلاعاتی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم ریاستوں کو اسلام اور مسلم معاشروں کے بارے میں غلط تصورات سے نمٹنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سے نمٹنے کے لئے زیادہ جمہوریت کے مزید فروغ، زیادہ عوامی شرکت، اجتماعیت میں اضافے اور اظہار رائے کی آزادی پر توجہ مرکوز کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ حساس مگر عالمی سطح پر نمایاں ہونے والے یہ موضوعات ہمارا ہدف ہونے چاہئیں جنہیں مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف غلط اور گمراہ کن نیت سے استعمال کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں فیک نیوز کا سچی خبروں کے ذریعے مقابلہ کرنا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی سے سوشل میڈیا پر رجحان بنانے والے طریقوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنانا ہوگی، ہمیں عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کی راہ ہموار کرنا ہوگی، روبوٹس سے عوامی رائے پر اثراندا ہونے کے ہتھکنڈوں سے نمٹنا ہوگا، ٹرولز کی جگہ حقیقی رائے شماری اور آگہی کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، ایسے قوانین کی ضرورت ہے جس کے تحت نفرت پھیلانے اور دھوکہ دہی کرنے والوںکی نشاندہی ہو اور انہیں سزا مل سکے، ان اقدامات کے ساتھ ساتھ بنیادی آزادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کا عالمی دن منانے کی قرارداد کی منظوری بڑا قدم ہے، ہمیں اس قرارداد سے پیدا ہونے والی تحریک کی رفتار اور دائرے میں وسعت لانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ”او آئی سی“ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کرتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کے لئے خصوصی نمائندے کا تقرر کریں، اسلاموفوبیا کے لئے نمائندہ خصوصی کے تقرر کا فیصلہ اسلام آباد میں او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کے اجلاس میں منظور کردہ قرار داد میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی قیادت میں ماہرین کا پینل تشکیل دیا جائے جو اسلامو فوبیا کے واقعات سے نمٹنے کے لئے تنظیم کو تجاویز دے۔ اس پینل کے ذریعے اسلامو فوبیا کا نشانہ بننے والوں کی حمایت کی جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کشمیری اور فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رکن ممالک کے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری اور فلسطینی عوام کے مصائب اور جرات مندانہ جدوجہد کی زیادہ سے زیادہ کوریج جاری رکھیں جو بھارتی اور اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں مسلسل جارحیت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کا میڈیا منظم خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیوں کی حقیقت اور شدت سے دنیا کو ترجیحی بنیادوں پر آگاہ کرے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی کوششوں کے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن اور طویل المدتی ترقی کے لئے پاکستان کی جدوجہد کا بھرپور ادراک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کو اسلام اور اس کی تعلیمات کی حقیقی تصویر پیش کرنے، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے اور انتہاءپسندی و دہشت گردی کو مسترد کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر میڈیا ٹولز اور آپشنز کو استعمال کرنے کی کوششوں کو مربوط کرنا چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس ضمن میں سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں او آئی سی کے رکن ممالک میں میڈیا تنظیموں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنی چاہئے، ہمیں اسلام کی حقیقی روح کے مطابق غلط معلومات کے تدارک اور رواداری جیسی اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے مشترکہ اسلامک میڈیا ایکشن انسٹیٹیوشنز قائم کرنے چاہئیں۔

    انہوں نے کہا کہ ”او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کا ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن“ غلط معلومات اور اسلامو فوبیا کے تدارک کے لئے اجتماعی کوششوں کی قیادت کرے۔ یہ رکن ممالک سے صحافیوں کا انتخاب کر سکتا ہے اور متعلقہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے تحقیقی صحافت اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے جموں و کشمیر اور فلسطین کے دوروں کا اہتمام کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو ثقافتی اور میڈیا وفود کے تبادلوں کے لئے ٹھوس اہداف اختیار کرنے چاہئیں، ہم اپنی ثقافتوں اور عوام کی باہمی افہام و تفہیم کیلئے سکرین ٹورازم کی بڑی صلاحیت بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا اور سائبر اسپیس کے دور میں غلط معلومات اور اسلامو فوبیا پر ایک ورکنگ گروپ قائم کرنا چاہئے، ورکنگ گروپ تجربات کو شیئر کرنے اور ان مسائل پر تفصیل سے بات کرنے کے مقصد کے ساتھ باہم نشست کے طریقہ کار کے تحت کام کر سکتا ہے، پلیٹ فارم کو بہترین طریقوں کو بروئے کار لانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ورکنگ گروپ کے پہلے اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کرتا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس با معنی غور و خوض غلط معلومات اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں اور باہمی تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا،عمران خان کی 30سےزائد مفتیان اورجید علمائےکرام سےگفتگو

    دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا،عمران خان کی 30سےزائد مفتیان اورجید علمائےکرام سےگفتگو

    اسلام آباد:دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا،عمران خان کی 30سےزائد مفتیان اورجید علمائےکرام سےگفتگو ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مجھے دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا، انہوں نے نااہلی کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ توشہ خانہ کا کیا کریں گے؟ آخر میں تحائف بیچنے ہی پڑیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ اس بار ہم بہت تیاری کے ساتھ لانگ مارچ کیلیے آرہے ہیں، حکومت کچھ بھی کرلے عوام کے سمندر کو نہیں روک سکے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں چوری اور کرپشن کو روکنا عمران خان کے علاوہ کسی کی ذمہ داری نہیں؟ توشہ خانہ کا کیا کریں گے؟ آخر میں بیچنے ہی پڑیں گے نہ‘۔ میں چیلنج کرتا ہوں نااہلی کا فیصلہ عدالت میں نہیں ٹھرے گا کیونکہ اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثابت کرسکیں گے، ، الیکشن کمیشن بزد ل اور ڈرپوک ہے فیصلے نہیں کرسکتا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بلاول بھٹو کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا کیونکہ اُس نے زندگی میں ایک دن بھی کام نہیں کیا، بھارت کے وزیر خارجہ کے مقابلے میں بلاول بچہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور زرداری نے بھی توشہ خانہ سے گاڑیاں لیں، نواز شریف نے 17 فیکٹریاں بنائیں، یہ توشہ خانہ کیس میں عدالت کو ایک چیز نہیں بتاسکے اور نہ ہی اپنی بے گناہی ثابت کرسکے۔

    عمران خان نے کہا کہ جو بائیڈن نے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ملک قرار دیا، کہاں ہے سفارتکاری، مجھے دو تہائی اکژیت نہ ملی کو حکومت نہیں لوں گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سائفر میں صاف لکھا ہے کہ عمران خان کو ہٹا کر شہباز شریف کو وزیر اعظم لے کر آؤ۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ 6 تاریخ کو مراسلہ آتا ہے کہ 7 تاریخ کو عدم اعتماد آ جاتی ہے، نواز شریف کی واپسی سے ہمارا فائدہ ہوگا۔

    عمران خان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے نکلنے میں ہماری ٹیم نے بہت محنت کی، مسلم لیگ ن اور پی پی کو کرپشن کی وجہ سے ہٹایا گیا، اب مافیا نے ملک کو کنٹرول کرلیا۔

    قبل ازیں سنی اتحاد کونسل پاکستان اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں سنی اتحاد کونسل سے وابستہ 30 سے زائد جید مفتیانِ کرام کے وفد نے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سینیٹر شبلی فراز بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں ملکی صورتحال، لانگ مارچ اور انتخابات کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ عمران خان نے صاحبزادہ حامد رضا کی بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے کوششوں کو بھی سراہا۔

    سنی اتحاد کونسل پاکستان اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے 30 مفتیان کرام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف دوبارہ اقتدار میں آکر ملک میں نظام مصطفیﷺ کا عملی نفاذ کرے۔’علما کرام نوجوان نسل میں امن پسندی بیدار کرنے کیلیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں‘

    عمران خان نے مفتیانِ کرام کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انبیاء کرام علیہ السلام کے ناموس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی ہونی چاہیے، پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لیے دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ محب وطن قوتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، مستحکم پاکستان عالم اسلام کی ضرورت ہے، علماء نوجوان نسل میں امن پسندی بیدار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، مغربی قوتیں مسلمانوں کے جذبہ عشقِ رسول سے خائف ہیں۔

    مفتیان کرام کے وفد نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے متعلق عمران خان کی تاریخی قرارداد کی او آئی سی کے اجلاس سے منظوری اور 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کا عالمی دن قرار دینا عظیم کارنامہ ہے، تعلیمی نصاب میں قرآن و سنت، ناظرہ، ترجمہ قرآن لازمی، رحمتہ اللعالمین اتھارٹی کا قیام اور دنیا بھر میں اسلام کا درست تشخیص اجاگر کرنے اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا مقدمہ اقوام متحدہ میں لڑنا قابل ستائش اقدامات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دوبارہ اقتدار میں آکر ملک میں نظام مصطفیﷺ کا عملی نفاذ کرے کیونکہ تمام مسائلِ کا حل نظام مصطفیﷺ کے نفاذ میں مضمر ہے۔علاوہ ازیں صاحبزادہ حامد رضا نے عمران خان سے ون آن ون ملاقات کی۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں لانگ مارچ اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کی گئی۔

    صاحبزادہ حامد رضا نے عمران خان کو یقین دلایا کہ ہم اہل وفا لوگ ہیں اور تحریک انصاف اور عمران خان کے سیاسی اتحادی ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں تحریک انصاف کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔حامد رضا نے مزید کہا کہ عمران خان کی حقیقی آزادی کی تحریک میں ان کا ساتھ دیتے رہیں گے، سنی اتحاد کونسل نے اپنی تنظیمات اور کارکنانِ کو لانگ مارچ میں شرکت کی ہدایات جاری کردی ہیں، ہر محاذ پر سنی اتحاد کونسل تحریک انصاف کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  • پتہ نہیں عمران خان نے مجھےکیوں نکالا:سابق گورنرپنجاب چوہدری سرور کی معصومانہ گفتگو

    پتہ نہیں عمران خان نے مجھےکیوں نکالا:سابق گورنرپنجاب چوہدری سرور کی معصومانہ گفتگو

    لاہور:سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی رکن قومی اسمبلی سے مستعفیٰ ہونے کے حق میں نہیں تھا۔نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی سے مستعفیٰ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

    چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ عمران خان کو سرور فاؤنڈیشن کا نام لیکرمس لیڈ کرتے تھے، گورنر کے دفتر کو فاؤنڈیشن کیلئے پیسہ اکٹھا کرنے کا الزام لگتا رہا۔

    اسلام آباد پولیس نے میری رہائش گاہ پررات ساڑھے 12 بجے چھاپہ مارا ہے،چھاپوں سےنہیں…

    سابق گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین سے پچھلے ہفتےایک شادی میں ملاقات ہوئی، جہانگیرترین سے کہا باتیں چل رہی ہیں میں اور آپ کوئی جماعت بنارہے، مزید کہا کہ سیاسی طور پر کہہ چکاہوں دسمبرتک فوکس سیلاب متاثرین پر ہے۔چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ خوابوں میں بھی نہیں تھاکہ عثمان بزدار وزیراعلیٰ بنیں گے، پارٹی کا کوئی رکن عثمان بزدار سے خوش نہیں تھا۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کا استعفیٰ وزیراعظم کے دفتر سے ملا تھا، استعفیٰ پہلے میرے سیکرٹری کے پاس آنا چاہیے تھا، عثمان بزدار کو بلا کر ان سے استعفے کی تصدیق کی تھی، عثمان بزدار نے کہا وزیراعظم ہاؤس سے حکم ہے استعفیٰ قبول کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ سائفر سے متعلق مجھے علم نہیں تھا، تمام جماعتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ ملنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سمیت کسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے، پی ٹی آئی کیلئے پنجاب کے صدر کا امیدوار تھا مگر پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات ملتوی کرادیے گئے۔ اب پی ٹی آئی کاحصہ نہیں،آزادپنچھی ہوں۔

    چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ گورنر کے عہدے سے ہٹانے پر حیرت ضرور ہوئی تھی، عمران خان کوکہاتھاکارکرگی سےمطمئن نہیں ہیں تواستعفیٰ لےلیں۔ نہیں معلوم کس وجہ سے گورنر کے عہدے سے ہٹایا گیا۔

  • شمالی وزیرستان: سرحد پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ،ایک جوان شہید

    شمالی وزیرستان: سرحد پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ،ایک جوان شہید

    راولپنڈی :خیبرپختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں سرحد پار افغانستان سے دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا ایک جوان شہید ہوگیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے سرحد پار افغانستان سے نے حسن خیل سیکٹر پر فوجی چوکی کونشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 32 سالہ سپاہی وقارخان کاتعلق صوابی سے تھا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک فوج کی جانب سےد ہشتگردوں کو بھرپور جواب دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان افغان سرزمین کودہشتگردی کیلئےاستعمال کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ پاکستان مسلسل افغانستان سے بارڈر منیجمنٹ کو مؤثر بنانےکی درخواست کرتارہاہے۔

    ترجمان کے مطابق پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنےکیلئےپرعزم ہے اور ایسی قربانیاں عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • ماضی میں گیٹ نمبر4 اورعدلیہ کے ذریعے وزرائے اعظم گھر بھیجے گئے، بلاول بھٹو

    ماضی میں گیٹ نمبر4 اورعدلیہ کے ذریعے وزرائے اعظم گھر بھیجے گئے، بلاول بھٹو

    لاہور:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان پہلے وزیراعظم تھے جنہیں جمہوری طریقے سے گھر بھیجا گیا۔لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب سے میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کسی بھی وزیراعظم کو ہٹانے کا جمہوری طریقہ عدم اعتماد ہے، عمران خان سلیکٹڈ وزیراعظم تھا لیکن ہم نے جمہوری طریقے سے گھربھیجا۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں گیٹ نمبر4 اور عدلیہ کے ذریعے وزراعظم گھر بھیجےگئے۔ ہمیں عدلیہ اور گیٹ نمبر4 کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کسی وزیراعظم کا احتساب کرنا ہو توجمہوری طریقے سے ہو۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے معیشت کو نقصان پہنچایا، جس کا بوجھ آج پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں، ہم نے پاکستان کی معیشت کو بچایا، عوام کو مشکلات سے بچایا، ہم نے سیاسی قیمت ادا کرکے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

    وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا تو سیلاب آگیا، سیلاب متاثرہ علاقوں میں آب بھی لوگ پریشان ہیں، گلگت بلتستان سے سندھ تک پاکستان سیلاب سے متاثر ہوا، ہم سب نے مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی ہماری ترجیح ہونی چاہیئے لیکن ایسا نہیں ہے، ہم بحالی کے مرحلے میں داخل ہوں گے تو پاکستان کو مثال بنائیں گے، میری اپیل ہے سیاسی ایشوز میں سیلاب متاثرین کو نہ بھولیں۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم ملکر پاکستان میں جمہوریت کا دفاع کریں گے، ہم کوشش کریں گے نئی نسل کو انتہاپسندی سے بچاسکیں، مذہبی اور سیاسی انتہاپسندی کا مقابلہ کریں گے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ بھارت ،امریکا اور یورپ میں بھی سیاسی انتہاپسندی کا مقابلہ کیاجاہارہاہے، پاکستان میں اسلام آباد کا گھیراو سیاسی انتہاپسندی کے نشانے پر ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جمہوریت پریقین رکھتی ہیں، عاصمہ آج ہوتیں تو پوچھتیں کہ ڈیل کرکے وزیرخارجہ تو نہیں بنے؟ میں انہیں جواب دیتا کہ بالکل نہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا اسپیکر قومی اسمبلی کے نام خط

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا اسپیکر قومی اسمبلی کے نام خط

    اسلام آباد:پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا اسپیکر قومی اسمبلی کے نام خط،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی سے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ اور آئی جی اسلام آباد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف اسد قیصر نے موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور آئی جی اسلام آباد کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اسد قیصر نے اپنے خط میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم این اے صالح محمد کو قواعد و ضوابط کے خلاف گرفتار کیا گیا، اور توہین آمیز طریقے سے ان کے گلے میں تختی لٹکا کر تصویر جاری کی گئی۔

    فیض آباد:پولیس تشدد، پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواست پرمقدمہ درج نہ ہوسکا:رکاوٹ…

    تحریک انصاف کے رہنما نے خط میں مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی پولیس نے پوری دنیا میں پارلیمان کی بدنامی اور توہین کی، اسپیکر قومی اسمبلی ایوان کے سربراہ کے طور پر فوری نوٹس لے کر کارروائی کریں۔

    دودن قبل21 اکتوبر کو اسلام آباد پولیس نے الیکشن کمیشن کے باہر فائرنگ کے واقعہ میں ملوث تحریک انصاف کے مستعفی رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان اور ان کے سیکیورٹی پر مامور خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کیا۔

    مقدمہ ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں اقدام قتل اور پولیس کے ساتھ مزاحمت کی دفعات بھی شامل کی گئیں

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    ایف آئی آر میں مستعفیٰ ایم این اے صالح محمد خان اور ان کے گن مینز تصدق علی شاہ اورشاہ زیب ملزم نامزد کیے گئے۔

    21 اکتوبر کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی نااہلی کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی صالح محمد کے محافظ اور خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکار نے الیکشن کمیشن کے باہر سرکاری رائفل سے ہی فائرنگ کی تھی۔

    اسلام آباد پولیس نے دو گارڈز کو گرفتار جبکہ ایم این اے کو حفاظتی تحویل میں لے لیا جبکہ پولیس نے فائرنگ کرنے والے اہلکار کی سرکاری رائفل بھی قبضے میں لے لی۔

  • اقلیتوں سے بہتر سلوک اور احترام دین اسلام کا خاصہ ہے: چودھری پرویز الٰہی

    اقلیتوں سے بہتر سلوک اور احترام دین اسلام کا خاصہ ہے: چودھری پرویز الٰہی

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، اقلیتوں سے بہتر سلوک اور احترام دین اسلام کا خاصہ ہے۔

    دیوالی کے تہوار کی مناسبت سے وزیراعلیٰ آفس میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، چودھری پرویز الٰہی مہمان خصوصی تھے نے ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ساتھ مل کر کیک کاٹا اور پاکستان میں مقیم ہندو برادری کو مبارکباد دی جبکہ ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کو اجرک کا تحفہ دیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس نے میری رہائش گاہ پررات ساڑھے 12 بجے چھاپہ مارا ہے،چھاپوں سےنہیں…

    اس موقع پر وزیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیوالی پر ہندو برادری کی خوشیوں میں شریک ہیں، اقلیتی برادری کے طلباء کو سرکاری تعلیمی اداروں میں میٹرک سے پی ایچ ڈی تک سکالر شپ دیئے جا رہے ہیں، اقلیتی برادری کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 2 فیصد کوٹہ مقرر کیا ہے، ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کیلئے ہدایات جاری کر دی ہیں، اقلیتی طلباء کیلئے ایجوکیشنل سکالر شپ سکیم میں 50 فیصد سنٹرل پنجاب، 35 فیصد، جنوبی پنجاب شمالی پنجاب کے طلباء کو 15 فیصد دیئے جا رہے ہیں، میٹرک سے اعلیٰ تعلیم تک 50 فیصد نمبر حاصل کرنے والے ا قلیتی طلباء کو 50 ہزار روپے تک سکالر شپ دے رہے ہیں۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شرکت سے رواداری اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کو تعلیم کیلئے مساوی مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔

  • اسمبلیوں میں اکھاڑپچھاڑکےبعدسینیٹ میں جوڑتوڑشروع  :صادق سنجرانی کےخلاف عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار

    اسمبلیوں میں اکھاڑپچھاڑکےبعدسینیٹ میں جوڑتوڑشروع :صادق سنجرانی کےخلاف عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق ملک کے حکمران اتحاد کی بڑی جماعتوں پی پی پی اور ن لیگ میں صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار ہے، اور اس پر سینیٹرز سے دستخط کرائے جا رہے ہیں، پی پی اور ن لیگ نے ریکوزیشن پر دستخط کر دیے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس نے میری رہائش گاہ پررات ساڑھے 12 بجے چھاپہ مارا ہے،چھاپوں سےنہیں…

    ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن کے حوالے سے ن لیگ اور پی پی کی جانب سے سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں۔

    فیض آباد:پولیس تشدد، پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواست پرمقدمہ درج نہ ہوسکا:رکاوٹ…

    جن پارٹیوں سے رابطے ہو رہے ہیں ان میں ایم کیو ایم پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی، جی ڈی اے، ق لیگ، پی کے میپ، اور اے این پی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر چیئرمین سینیٹ کا عہدہ پیپلز پارٹی کو ملے گا، یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    یاد رہے کہ صادق سنجرانی دوسری بار تحریک عدم اعتماد کا سامنا کریں گے، ان کے خلاف پہلی تحریک عدم اعتماد یکم اگست 2019 کو لائی گئی تھی، جو ناکام ہو گئی تھی۔

  • بھارت کیخلاف میچ میں شکست، وزیراعظم، مریم نواز کی شاہینوں کی حوصلہ افزائی

    بھارت کیخلاف میچ میں شکست، وزیراعظم، مریم نواز کی شاہینوں کی حوصلہ افزائی

    لاہور:وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 12 مرحلے میں بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی پر قومی ٹیم کی تعریف کی ہے۔

    بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو شکست دے دی، بھارت نے کوہلی اور پانڈیا کی شاندار بیٹنگ کی بدولت 160 رنزکا ہدف آخری گیندپر حاصل کیا، کوہلی 82 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔

     

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ شاندار کوشش ٹیم پاکستان، بہترین گیم۔ان کا کہنا تھاکہ آج کا میچ اچھا ہوا اور پاکستان نے جیت کے لیے اچھی کوشش کی ہے۔

    میچ پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے ٹوئٹ کیا کہ بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ہارنے میں میں کوئی شرم کی بات نہیں، کوشش کرنا اہمیت رکھتا ہے اور ہم نے آج آپ کو کوشش کرتے دیکھا۔

    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ آج کا میچ بڑا سنسنی خیز تھا اور کچھ بھی ہوسکتا تھا، ٹیم پاکستان اگلے مقابلے کے لیے تیار رہو۔

    یاد رہے کہ آج ٹی 20 ورلڈ کپ کے ہائی وولٹیج میچ میں بھارت نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 وکٹ سے شکست دے دی۔بڑے ایونٹ کے بڑے معرکے میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دیتے ہوئے خود فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

  • غلط منصوبہ بندی میچ ہارنے کا سبب بنی:ٹیم مینجمنٹ کونظرثآنی کرنی چاہے:ماہرین وشائقین کرکٹ

    غلط منصوبہ بندی میچ ہارنے کا سبب بنی:ٹیم مینجمنٹ کونظرثآنی کرنی چاہے:ماہرین وشائقین کرکٹ

    لاہور:غلط منصوبہ بندی میچ ہارنے کا سبب بنی:ٹیم مینجمنٹ کونظرثآنی کرنی چاہے:ماہرین وشائقین کرکٹ کی طرف سے پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھارت کے ہاتھوں شکست پرماہرانہ رائے اور تجاویز دی ہیں

    پاکستان کی شکست پرشکستہ دل ماہرین کرکٹ اور شائقین کرکٹ کا خیال ہےکہ آج پاکستان کے ہارنے کی ویسے تو بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن بنیادی طور پر دوبڑی وجوہات ہیں

    پاکستان ٹیم کے ذمہ داروں کوشاید پاکستان کی بیٹنگ لائن کا درست اندازہ نہیں جسے پہلے لانا چاہیے تھا وہ بعد میں بھیجا گیا اور جو بعد میں بھیجا جانا چاہیے تھا اس سے اوپننگ کروا کرٹیم کوشکست سے دوچار کیا گیا ہے

    ماہرین کا خیال ہے کہ پہلی بار افتخار کو کھل کرکھیلنے کا موقع ملا ہے اور اس نے بہتر انداز سے اپنی اہلیت ثابت کی ہے اورزبردست کھیلا ہے

    ماہرین کرکٹ اور شائقین کرکٹ کا خیال ہے کہ ہمارےہاں رضوان کو ٹاپ لیول کا کھلاڑی قرار دیا جاتا ہے لیکن 2 میچز کے علاوہ اس نے پاکستان کو کون سے دوسرے کوئی میچ جتائے، اہل رائے کا یہ بھی کہنا تھا کہ رضو ان کے خلاف ہندوستانیوں کا زبردست آف سائیڈ پلان تھا۔جووہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے

    میلبرن:ٹی20 ورلڈکپ کےسپر12مرحلہ:بھارت کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ:14 اوورز کے اختتام…

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاہین شاہ آفریدی فٹ نہیں ہیں اور ان کے رن اپ نے کریز تک پہنچنے کے لیے جواور جس طرح منظرسامنے آیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کو زبردستی ٹیم میں شامل کیا گیا ، شائقین پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا جبکہ علم بھی تھا کہ وہ کھیل نہیں پائے گا پھربھی اس کو شامل کرکے کس کو خوش کیا گیا

    نواز کے کھیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک سپنرکو کھیلنا اور چھکے مارنا بہت آسان ہوتا ہے پتہ نہیں پھر اس موقع پرغیرمتوقع فیصلہ کیوں کیا گیا

    شائقین کرکٹ اورماہرین کرکٹ کہتے ہیں کہ آصف علی تیز رنز بنانے کے حوالےسے ٹیم میں ہیں پھر بھی آٹھویں نمبر پر آئے اور شاداب اور نواز دونوں باؤلنگ آل راؤنڈرز نے آصف سے پہلے بیٹنگ کی یہ ناقص منصوبہ بندی نہیں تو اور کیا ہے

    ٹی20 ورلڈکپ:سپر12مرحلہ:سنسنی خیزمقابلے کے بعد بھارت نے پاکستان کو شکست دے دی

    ماہرین کرکٹ اور شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی بیٹنگ لائن میں بہت سی خامیاں دیکھی ہیں، سب سے بڑی اور پہلی بات تو یہ ہےکہ پاکستان کی اننگز کی 9ویں گیند تک پاکستانی بلے بازوں کو 8 گیندوں کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیسے کھیلنا ہے اور پھربڑی مشکل سے 9ویں گیند بلے سے جاٹکرائی جس سے بلے بازوں پر سے خوف کچھ کم ہوا اوراگریہ حال تھا تو وہ کیسے بھارتی باولروں کو آسانی سے کھیل سکتے تھے

    بھارت نوازایمپائرنگ:بھارت کیخلاف آخری اوور میں نواز کی نوبال متنازع ہوگئی، سابق…

    پاکستان کے فاسٹ باولروں نے اچھی باولنگ کی ، خاص کر حارث روف کا ذکرکرنا ضروری ہے اس نے بھی اچھی باولنگ کی ، جس پر کوہلی صرف 6 رنزبنا سکے ، ماہرین کرکٹ اور شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ محمد نواز نے اچھی کوئی خاص باولنگ نہیں کی بلکہ الٹا نو بال بھی ان کے کھاتے میں پڑ گئی جو پاکستان کی شکست کا سبب بنی

    ان سب باتوں اور آرا کو پیش کرتے ہوئے ماہرین کرکٹ اور شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اگلے میچوں کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرنی ہے،